Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat  (Episode 37)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

ہانیہ۔۔۔! آہان کے پکارنےپے وہ اسکی جانب مڑی۔

جو آج بہت خوش تھی۔ آج وہ نور فاطمہ سے ملنے جا رہی تھی۔ فاٸنلی اس شرط پے آہان اسے ملوانے لے جا رہا تھا۔ کہ وہ یہ بات راز رکھے گی۔ جب کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ اسے نہ بتا سکا۔ وہ جانتا تھا۔ وہ نور سے بہت پیار کرتی ہے۔ اور یہ سچ۔۔۔ اسے تکلیف پہنچاۓ گا۔

ہممم۔۔۔ ؟؟ وہ ڈراٸیو کرتے آہان کی جانب مڑی۔ جبکہ چہرہ ہشش بشاش تھا۔

کیا۔۔ تممجھ سے الگ ہونا چاہتی ہو۔۔؟ ہمارا رشتہ ختم کر دینا چاہتی ہو۔۔؟؟

کیا ہوا۔۔؟؟ چپ کیوں ہو۔۔؟ وہ جو مسلسل اسکے بولنے کا انتظار کررہی تھی۔ اسے خیالوں میں گم دیکھ چونکایا۔

میں نے خلع کے پیپرز بنوا لیے ہیں۔ آپ اور ہانیہ دونوں کل ہی آفس آجاٸیے گا۔ ہانیہ سے میری بات ہوچکی ہے۔ اسے کوٸ اعتراض نہیں۔

نہیں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔! ابرش کی بات یاد کرتے وہ گہرا سانس خارج کر گیا۔

کچھ ہی دیر میں وہ مطلوبہ جگہ پہنچ گۓ۔ جبکہ فیروز بھی انکا پیچھا کرتا وہاں پہنچ چکا تھا۔ اور موباٸل پے میر ہادی کو بھی اطلاع دے چکا تھا۔

وہ اسی وقت آفس سے نکلا۔ اسکا دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا۔ کہ بس کچھ قدم دور ہے اسکی بہن۔

بہت پرجوش انداز میں وہ گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔بنا کسی سیکیورٹی کے۔ لیکن آزماٸش بھی باقی تھی۔

ابھی وہ آدھے راستے پہنچا ۔ کہ ادکا راستہ روک لیا گیا۔

شاہان اور اسکے ساتھ اسکا بیٹا تھا۔ اور ساتھ تین غنڈے۔

میر باہر نکلا۔ کہ بنا اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیٸے۔ شاہان کے آدمی نے پیچھے سے اسکے سر پے بھاری وار کیا۔

میر کو اپنا سر گھومتا ہوا دکھاٸ دیا۔

سر پے ہاتھ رکھے بہتے خون کو دیکھا وہ مڑا تھا۔

کہ شاہان کے ایک اور آدمی نے اسکی کمر پے وار کیا۔ اور وہ زمین پے جا گرا۔ اسکے منہ سے خون کی بوندیں گریں تھیں۔

جبکہ بے ہوش ہونے سے پہلے اسکی نظروں کے سامنے نور کا چہرہ تھا۔

بس۔۔۔ بہت ہے اتنا۔۔۔ ! اسکی یہ حالت دیکھ اب ابرش کو خود احساس ہوگا۔ کہ اس نے مجھے کتنا ہلکے میں لیا تھا۔ اب اسے پتہ چلے گا شاہان کیا کر سکتا ہے۔

باپ بیٹا ہنستے ہوۓ اپنے آدمیوں کے ہمراہ وہاں سے نکل گۓ۔

میرہادی۔ جو مارشل آرٹس جانتا تھا۔ ہانیہ کو ٹریینگ دے چکا تھا۔ ہانیہ کے ساتھ مل کے۔ اس نے کتنے مجرموں کو سزا دلواٸ تھی۔ جو دس پے بھاری تھا۔

آج وہ۔۔ چند غنڈوں سے بنا لڑے ہی ہار گیا تھا۔

شاید ۔۔ وہ خود سے ہار گیا تھا۔ وہ جیتنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنے اندر کے میر سے ہار گیا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

یونہی لیٹے لیٹے آنیہ کی آنکھ لگ گٸ تھی۔ لیکن برا سا خواب دیکھا۔ تو جھٹ سے اٹھ گٸ۔

یااللہ خیر۔۔۔۔! سب ٹھیک ہوں۔

دل پے ہاتھ رکھے وہ باہر آٸ تھی۔

اچانک سے اسکا دھیان میر کی جانب چلا گیا۔

دو دن سے اسکی کال بھی نہیں آٸ تھی۔ نہ ہی کوٸ میسج۔ جبکہ کشش سے روزانہ ہی بات ہوجاتی تھی۔ اور انہی کی زبانی میر کے بارے میں بھی پتہ چل جاتا تھا۔

لیکن نجانے کیوں آج اسکا دل بہت بے چین ہوا تھا۔ میر کی بے تحاشا یاد آنے لگی تھی۔

دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے اسنے میر کو کال کر ہی دی۔

کال جا رہی تھی۔ لیکن کوٸ رسپانس ہی نہیں ملا۔ ایک دو بار تین بار۔۔ لیکن بے سدھ۔

یہ۔۔ ایسا کبھی نہیں کرتے۔ تو آج۔۔؟؟

وہ پریشان ہوٸ۔

میر۔۔۔؟۔ کیا واقعی ۔۔مجھ سے ناراض ہوگۓ ہیں۔۔؟؟ آنیہ کو اپنی دھڑکن رکتی محسوس ہوٸ۔

کہ اسی لمحے میر کے نمبر سے کال آتی دیکھ اسکے چہرے پے مسکان سج گٸ۔

ہیلو۔۔۔؟؟ بہت خوشی سے بولی تھی۔ لیکن آگے کسی انجان شخص کی آواز سنتی وہ چونکی تھی۔ اور جو اس نے کہا۔ اس بات نے تو اسکے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ اسے اپنے دل بند ہوتا محسوس ہوا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

وہ رہی تمہاری دوست۔۔۔ ! جاٶ۔۔۔ اور مل۔لو اس سے۔۔۔!

آہان نے دور سے ہی گارڈن کیجانب اشارہ کیا۔ جہا ں یک لڑکی پھولوں کے پاس رخ پھیرے کھڑی تھی۔

ہانیہ دھڑلتے دل کے ساتھاس جانب قدم بڑھاۓ۔

پاس جاتے وہ ٹھٹھکی تھی۔

نوری۔۔۔؟ دھیمی آواز میں پکارا۔ وہ جو محویت سے پھولوں ک بناوٹ دیکھ رہی تھی۔ ایک دم سے پلکیں اٹھاٸیں۔

نوری۔۔۔۔؟؟ بس کرجاٶ۔۔ یہ۔۔ حیدر نامہ بند کردو اب۔۔۔!

نور کو پنے اردگر بازگشت سناٸ دی۔

نوری۔۔۔؟؟ میری طرف دیکھو۔ ہانیہ نے ابکی بار قدرے اونی آواز میں کہا۔

نورکا دل بہت سخت دھڑکا۔

نوری۔۔۔ ایک تم۔۔ اور ایک تمہاری محبت۔۔۔؟؟ حد ہی ہے۔

نور کی آنکھوں کے سامنے حیدر کا چہرہ لہرایا تھا۔

اور ایک لمحے کی دیری کیے بنا اندر بھاگ گٸ۔ جبکہ ایک بار بھی پلٹکے نہ دیکھا ۔

اسے۔۔۔اسے کیا ہوا۔۔؟؟ اس نے۔۔ اس نے مجھے یکھا بھی نہیں۔۔۔! ہانیہ کو حیرت ہوٸ۔ بلکہ شدید جھٹکا لگا۔

وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے۔۔۔! ایک سال۔۔۔ سلطان جیسے گینگسٹر کی قید میں رہتے۔۔ وہ جس ازیت سے دوچار ہوٸ ہے۔ یہ صرف وہی جانتی ہے۔ وہ اپنا ماضی میں ہی رہ رہی ہے ابھی۔

آہان نے اسکے پاس آتے اسکے بہتے نسوٶں کو فیکھتے نرمی سے کہا۔

جبکہ وہ بھی تک شاک میں تھی۔

وہ۔۔۔۔ ٹھیک ہوجاۓ گی ناں۔۔؟؟ بہت امید سے پوچھا۔

ہم سب مل کے کوشش کریں گے تو ضرور ہوجاۓ گی۔۔۔

اورتمہیں یہاں لانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ۔۔۔؟

ابھی آگے بات کرتا کہ کال پے وہ رکا۔

دوسری طرف شان تھا۔

آپ کو ہیڈ کوارٹر بلوایا ہے۔ یو ایس بی لے کے۔

شان نے فوراً اطلاع دی۔

ٹھیک ہے۔ آہان ہانیہ کو لیے وہاں سے نکلا۔

مجھے یہیں چھوڑ جاٶ۔۔ میں نور کے ساتھ۔۔؟؟

ہانیہ کا دل نہ چاہا نور کو چھوڑ کے جانے کا۔

ہم دوبارہآٸیں گے۔ ہانیہ۔۔۔ ابھی جانا ضروری ہے۔

آہان نے اسکی بات کاٹی اور اسے لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔

اپنی گاڑی سے یو ایس بی نکالی۔ اور اسے اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ اٹیچ کیا۔ سارا ڈیٹا جی میل کے ذریعے اس نے تمام ڈیٹا اپنی آٸ ڈی پے ٹرانسفر کرتا گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔ ابھی وہ آدھے راستےمیں پہنچا تھا۔ کہ اسے گاڑی روکنا پڑی۔ اسکی گاڑی کے سامنے ٹہنیاں اور جھاڑیاں پڑی تھیں جس نے رکاوٹ کھڑی کی تھی۔ رکاوٹ ہٹاتا۔ وہ واپس گاڑی کی جانب آیا۔

جبکہ بم کی ٹک ٹک اسکی گاڑی کی سپیڈ کے ساتھ جڑ چکی تھی۔ اور اس بات سے وہ دونوں قطعی لاعلم تھے ۔

گاڑی آہیستہ چلاٶ۔ ہانیہ نے ٹوکا۔

موباٸل پے آتی کال پے آہان نے بلیوٹوتھ آن کیا ۔

کیا ہوا۔۔؟؟ آہان نے گاڑی ڈراٸیو کرتے تیزی سے پوچھا۔

سر۔۔۔! گاڑی کی بریکس کے ساتھ بم۔۔اٹیچ ہے۔ سپیڈ ایک ہی رکھیں۔ ورنہ بلاسٹ ہو جاۓ گا۔

شان کی آواز پے آہان کو لگا وہ شاید سننے میں غلطی کر گیاہے۔ لیکن یہ سچ تھا۔ وہ بری طرح ڈسٹرب ہوا تھا۔ اور بری طرح پھسا تھا۔

سر۔۔۔! میری انسٹرکشنز کو فالو کریں۔ ٹیم آپ کے پیچھےپہنچنے والی ہےلیکن۔۔ پرابلم یہ ہے کہ سلطان کے آدمی بھی آپ کے پیچھے ہیں۔

شان کی آواز پے وہ زرا چوکنا ہوا۔

ہمممم۔۔۔ صحیح۔ آہان بس اتنا ہی کہ پایا۔

وہ شان کی بتاٸ ہوٸ انسٹرکشنز پے گاڑی پہاڑی علاقہ کی طرف موڑ گیا۔

تا کہ بم پھٹنے سے انسانی نقصان نہ ہو۔

آہان۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ ہانیہ کو کچھ گڑبڑ لگی۔

ہانیہ۔۔ لسن۔۔۔! اب وقت آگیا ہے۔۔ کہ مجھے۔۔ سپاٸ گرل کی ضرورت ہے۔

آہان نے تمہید باندھی۔

میں کچھ سمجھی نہیں۔ ہانیہ کا دل دھڑکا۔

گاڑی میں بم ہے۔ جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔

واٹ۔۔۔؟إ ہانیہ چلاٸ تھی۔

ہانیہ۔۔۔! پوری بات سنو۔۔۔! تم گاڑی سے کود رہی ہو۔ سمجھی۔

پہاڑی علاقہ پے آہان کو گاڑی چلانے میں دشواری ہو رہی تھی۔

نو۔۔۔ نیور۔۔۔! ہانیہ نے نفی میں س ہلایا۔

ہانیہ سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں۔

یہ یو ایس بی۔ ڈیڈ تک پہنچانی ہے۔ ہر حال میں۔

ایک یو ایس بی اسکی جانب بڑھاٸ۔

جسے ہانیہ نےلرزتے ہاتھوں سںے تھام لیا۔ اور نم آنکھوں سے آہان کو گاڑی کو بمشکل سنبھالتےدیکھا۔

ہانی۔۔۔! اس یو ایس بی کی حفاظت کرنا۔ ۔ اس میں ملک دشمنوں کے تمام راز ہیں۔ جو ڈیڈ تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔ تم۔۔۔ سمجھ رہی ہو ناں۔۔ میری بات۔۔! اسکیجانب ایک نظر دیکھا۔

چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔ یہ کسی حال میں دشمنوں کے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے۔

آہان نے دھیمے لہجے میں سمجھایا۔

ہانیہ جیسےکہوں گا کود جانا۔۔۔!

نہیں۔۔۔ تمہیں چھوڑ کے نہیں کودوں گی۔ ہانیہ نے صاف نہ کیا۔

میری فکر مت کرو۔۔ ہانیہ۔۔۔! اس وقت اس ملک کی خاطر جان بھی چلی جاۓ تو پرواہ نہیں۔ اور جو تمہیں زمہ داری دی ہے اسے پورا کرنا۔

تم سلطان کے آدمی سے بچ کے رہنا۔ اور ہماری ٹیم بھی بس پہنچنے والی ہے۔ یہ۔۔۔۔!

آہان نے بلیو ٹوتھ اپنےکان سے نکال کے اسکے کان میں لگایا۔ وہ رو دی تھی۔

اس سے تم ٹیم سے رابطہ رکھو گی۔

ہانیہ سپیڈ۔۔ کم ہو رہی ہے۔۔ تمہیں کودنا ہوگا۔

آہان نے اسے ہوش دلایا۔

آہان۔۔۔! تمہیں چھوڑ کے نہیں جانا۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ تمہیں کچھ ہوگیا تو۔۔؟؟

اچھا ہےنا۔۔جان چھوٹ جاۓ گی تمہاری۔۔۔

ایک تمسخر تھا لہجےمیں۔ ہانیہ نے آنسو صاف کرتے رخ پھیرا ۔

چلو۔۔۔ وقت آگیا ہے۔۔ بچھڑنے کا۔۔۔!

آہان نے اسکیجانب کا دروازہ کھولا۔ جو کسی چیز سے زور سے ٹکرایا۔ اور ٹوٹ گیا۔

ہانیہ آہان کے ساتھ جڑ کے بیٹھی تھی۔

ہانیہ۔۔۔ جمپ۔۔۔! آہان نے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔

ہان۔۔۔۔! وہ اسکےکان میں دھیمے سے بولی تھی۔ کہ آہان ایک لمحے کو ساکن ہوا تھا۔

مجھے۔۔ تم واپس چاہیے۔۔۔!ہر حال میں۔۔۔! میں انتظار کروں گی۔

کہتےہی اسکے گال کو چوما تھا۔ اس نے۔ اور بنا اسکی جانب دیکھے جمپ لگاٸ تھی۔ جہاں وہ گری تھی۔ وہاں گھاس تھی۔ وہ لڑھکتی ہوٸ دور جا گری تھی۔ لیکن اسے کم ہی چوٹیں لگیں تھیں۔

دوسری طرف ہانیہ کی بات پے وہ اپنے دل میں دھڑکن کا انتشار محسوس کر رہا تھا۔

گاڑی پہاڑی کے اوپر تھی۔ اور ایک دم سے پہاڑی سے نیچے گرتی دکھاٸ دی ہانیہ نے منہ پے ہاتھ رکھتے اپنی چینخ کا گلا گھونٹا۔

گاڑی بم دھماکے سے اڑی تھی۔ ہر طرف دھواں اور آگ پھیل گٸ تھی۔

اس طرح عاشقی کا اثر چھوڑ جاٶں گا۔۔۔

تیرے چہرے پے اپنی نظر چھوڑ جاٶں گا۔۔۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *