Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 01)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 01)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
آج لڑکے والے آرہےہیں۔ سبھی تیاریوں میں مصروف تھے۔ پیرزادہ منشن کوبہت خوبصورتی سے روشن کیا گیا تھا ۔
کرتے بھی کیوں نہ۔۔۔؟؟ پیرزادہ منشن کے سب سے بڑے بیٹے ابتسام علی پیرزادہ کی بڑی بیٹی کا رشتہ جو طے ہونا تھا۔ بہت ہی اونچے خاندان سے رشتہ جڑنے جا رہا تھا۔ مکمل ارینج میرج۔۔۔
آنیہ ابتسام پیرزادہ ۔ ابتسام اور ابرش کی بڑی بیٹی۔ شہزادیوں جیسا حسن آن بان رکھنے والی نرم و نازک سی دھیمے مزاج والی دکھنے میں باپ جیسے نین نقش تو ۔۔ دھیما مزاج اپنے نانا جیسا۔۔۔ ماں باپ کی فرمانبردار اور سب کی آنکھوں کا تارا۔ گھر کی سب سے بڑی بیٹی آنیہ ابتسام۔۔
آج اسکا رشتہ طے ہو رہا تھا ۔
ابی جان نے پیرزادہ منشن کو کیا خوب ہی سجایا تھا۔
اپنی پڑپوتی کا رشتہ طے کرنے جا رہی تھیں۔
اب وہ کچھ کمزور ہوگٸ تھیں۔ لیکن۔۔۔ ان کا دبنگ انداز آج بھی پیرزادہ منشن میں گونجتا تھا۔ کہ سبھی سہم جاتے۔
کہتےہیں ناں۔۔۔ امیری ہو تو بڑھاپا بھی دیر سے آتا ہے۔۔ کہنے کو وہ پردادی تھیں۔ لیکن۔۔ بڑھاپے نے ان پے کم ہی اثر کیا تھا۔اور ماشاءاللہ سے سارے بچے ان کی بہت عزت کرتےاور پیار دیتے تھے۔
مٹھاٸیاں کہاں رکھی ہیں؟ عروش نے ملازمہ سے عجلت میں پوچھا۔
عروش ارتسام ۔ اس گھر کے چھوٹے بیٹے ارتسام کی بیوی۔ جن کے دو بیٹےتھے۔
دونوں ہی بالترتیب آنیہ سے پانچ اور چھ سال چھوٹے تھے۔
اس وقت آنیہ کے رشتے کی خوشی سب ہی کر رہے تھے۔اور آنیہ تو اسکوبالکل اپنے بیٹوں کی طرح عزیز تھی۔
جی۔۔ بس فاٸز چچا لانے والے ہیں۔۔ بلونے آنکھیں مٹکاتے ہوۓ کہا۔ کہنے کو تو پیرزادہ منشن کی ملازمہ تھی۔ لیکن ناز نخرے بھی پیرزادہ منشن میں رہنے والوں کی ہی طرح کے تھے۔
لڑکے والے آنے والے ہوں گے۔ ابی جان نے کوٸ کمی بیشی دیکھی تو ناراض ہوجاٸیں گیں۔ جاٶ جا کے پتہ کرو۔ عروش نے وقت دیکھتے بلو سے کہا۔ اور آگے بڑھ گٸیں۔
تیزی سے سیڑھیاں اترتی وہ نیچے آٸ تھی۔ وہ پیرزادہ منشن کی تتلی تھی۔ ہنستی مسکراتی کھیلتی کودتی ہر ایک کو خوش رکھنے اور اپنی زات میں مگن رہنے والی آنیہ سے تین سال چھوٹی ہانیہ ابتسام ۔ جو تھی تو اپنی بہن کا پرتو۔۔ لیکن کونفیڈینس میں اس سے بہت آگے۔ اس کے ہر انداز میں تیزی تھی۔ خوبصورتی میں اپنی ماں ابرش مجیب شمس کی کاپی تھی ۔
جتنی آنیہ ٹھنڈے مزاج کی تھی۔ ہانیہ اتنی ہی غصیلی اور سخت مزاج۔
جہاں آنیہ نے باپ کے نین نقش چراٸے تھے۔ وہیں آنیہ نے باپ کا غصہ اور شدت پسندی کو اپنے اندر ڈھالا تھا۔
غرض ماں کی کوٸ عادت دونوں نے نہ اپناٸ تھی۔
ماشاءاللہ۔۔۔ پیرزادہ منشن کو آج پہلی بار اپنے پورے ہوش و حواس میں اتنا سجا سنورا دیکھ رہی ہوں۔۔! ویسے ابی جان۔۔۔۔! لاسٹ ٹاٸم کب سجایا تھا۔۔ اس منشن کو ۔۔؟؟
سیب باسکٹ سے اٹھا کے کھاتے وہ وہیں صوفے پے براجمان ہوتی ابی جان سے بولی تھی ۔
بہت دفعہ سجایا ہے اس منشن کو بیٹا۔۔۔! ابی جان ماضی میں کھو سی گٸیں۔
بیٹے جب ڈاکٹر بن کے لوٹے۔۔۔۔۔۔ دلہنوں کی طرح نہ صرف منشن کو سجایا۔ بلکہ پورا اٸیر پورٹ تک دلہنوں کی طرح سجایاگیا تھا۔ سب کو تحفے تحاٸف سے نوازا گیا تھا۔ لیکن۔۔۔ نظریں کھا گٸیں۔۔۔ایک بیٹا فوت ہوگیا۔۔۔ برین ٹیومر سے۔ اور بڑا بیٹا۔۔۔ علی۔۔۔ تیسرے بیٹےکی پیداٸش پے ایک کار ایکسیڈینٹ میں بیوی سمیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ابیجان۔۔۔! آپ بس اب خیالوں میں ہی رہتی ہیں ۔۔۔ واپس آجاٸیں۔۔ مہمان آنے والے ہوں گے۔۔۔ ! اینڈ گڈ لک ماٸ سویٹ ہارٹ۔۔ !
پیار سے انکے گلے لگتی وہ انکو ماضی سے باہر نکال لاٸ تھی۔ انکے چہرے پے مسکراہٹ رینگ گٸ تھی۔
ہانیہ کے جانے کے بعد ماضی پھر سے پنکھ پھیلانے لگا۔
اگر ماضی سے لے کے اب تک بہت کچھ کھویا تھا۔ تو بہت کچھ پایا بھی تھا۔ انہوں نے کسطرح اکیلے تینوں پوتوں کو انکی فیملی سمیت سنبھالا تھا۔ یہ وہی جانتی تھیں۔
جی انکے تیسرے پوتے ارحام علی پیرزادہ ۔۔ اور انکی محبوب بیوی لمظ۔ دونوں ہی بیٹے ۔۔۔۔۔ کی پیداٸش کے بعد گاٶں جا بسے تھے۔ انہیں گاٶں میں رہنا زیادہ پسند تھا۔ ارحام کو رنگوں سے عشق تھا۔ اور اب تو وہ بہت بڑا پینٹر بن چکا تھا۔ ہر طرح کی پینٹنگ وہ چند لمحوں میں ہی بنا لیتا تھا۔ اس نے گاٶں کی بڑی حویلی میں رہاٸش اختیار کی ہوٸ تھی۔ اکثر انکا شہر پیرزادہ منشن جانا ہوتا رہتا۔ لیکن گاٶں چھوڑنے کو وہ دونوں ہی عشق کے متوالے تیار ہی نہ تھے۔
![]()
![]()
میراحقِ وراثت![]()
![]()
![]()
![]()
تین گاڑیاں آگے پیچھے پیر زادہ منشن میں داخل ہوٸیں تھیں۔ کہ ایک بار عام آنکھ دیکھتی گنگ رہ جاٸے۔
شان بان اور خوب ٹھاٹھ باٹھ لیے وہ میر فیملی تھی۔
میر تاج سکندر کی فیملی۔ سب سے پہلے اور آگے کی گاڑی سے وہی اترے تھے۔ ان کے ساتھ انکی ہی گاڑی میں موجود ان کے بیٹے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بہو اترے تھے۔
ساتھ میں ملازم اور ملازمہ بھی تھے۔ جو ڈھیروں سامان کے ساتھ اترے تھے۔ مٹھاٸ کے ٹوکرے اور دیگر سامان کے ساتھ تاج سکندر بڑے کروفر سے آگے بڑھے تھے۔
جبکہ دوسری گاڑی سے چلبلی سی اور ہنس مکھ ہم سب کی پیاری کشش افضال سکندر تھیں۔ اپنے اکڑو شوہر میر یامین سکندر کے ساتھ۔ جو کہ اب چھ ہوٹلز سے نو ہوٹلز کے مالک بن گۓ تھے۔ جن میں سے کچھ فاٸیو سٹار کی رینج میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ دونوں ہی ایک ساتھ چلتے چاند سور ج کی جوڑی لگ رہے تھے۔ کشش نے میر یامین کا بازو تھاما۔ تو یامین نے اسے گھورا۔ جبکہ اسکی گھوری پے کشش نے اسے آگے سے مزید گھوری سے نوازا۔ اور اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
جبکہ تیسری گاڑی میں کشش اور یامین کا اکلوتا بیٹا۔۔۔ میر ہادی سکندر ۔ باپ سے بھی زیادہ اکھڑ مزاج ضدی مغرور اور سخت دل۔ جبکہ خوبصورتی وراثت میں ملی تھی۔ آج ماں کی خواہش کوپورا کرنے کے لیے اس رشتے پے راضی ہوتا فیملی کے ساتھ لڑکی دیکھنے آیا تھا۔ جبکہ لڑکی دیکھنےمیں بالکل بھی انٹرسٹ نہیں تھا۔ اسکا بس ایک ہی خواب تھا۔ باپ کے ہوٹلز کو ترقی کی اونچاٸیوں پے پہنچانا۔ اور تاج ہوٹلز کی کامیابی کا سہرا میر ہادی کو ہی جاتاتھا۔ جو باپ سے بھی زیادہ جنونی اور شدت پسند واقع ہوا تھا۔
سبھی ایک ساتھ اندر کی جانب بڑھے۔
بیٹے کو سمجھا دیں۔۔۔میر۔۔۔! وہاں اچھے سے پیش آٸیں ۔
دھیرے سے کان میں کہتی وہ وہ یامین کو زچ کر گٸ۔ سارے راستے وہ یہ بات کوٸ دس دفعہ کہہ چکی تھی۔
آپ کا بیٹا۔۔ہے۔۔۔! آپ کی زیادہ سنتا ہے۔یہاں تک بھی آپ کے کہنے پے آگۓ صاحبزادے ۔ آگے بھی آپ ہی گاٸیڈ کر دیں۔ اور مجھے اس بات سے کنارے پے ہی رکھیں ۔ یامین نے صاف اپنا دامن بچایا۔
وہ ان ماں بیٹے کے بیچ کم ہی آتا تھا۔
ماں انتہا کی ضدی تو بیٹا۔۔۔ سوا سیر تھا۔ اور وہ ان دونوں کے بیچ ہمیشہ پستا ہی آیا تھا۔
ہادی۔۔۔! بیٹا۔۔! میری بات سنیں۔۔! دھیمے سے ہادی کو پکارا۔ اور اسے لیے ایک طرف ہوٸیں۔
اسے پیار سے سمجھاتیں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ یامین کی نظریں اپنی کشش پے ہی ٹکیں تھیں۔ اسکے ہونے سے ہی اسکی زندگی میں رونق تھی ۔ وہ خود اور اسکی زندگی کس قدر پھیکی تھی۔ یہ سبھی جانتے تھے۔ لیکن ۔۔ کشش سے شادی کے بعد اسکی زندگی رنگوں سے بھر گٸ تھی۔ وہ شوخ چنچل شرارتی سی
ہر پل ہنستی خوش رہتی۔ اور زندگی کو بھرپور طریقے
سے انجواٸے کرتی یامین کو زندگی کا مطلب سمجھا گٸ تھی۔
کہاں کھو گۓ۔۔۔؟ چلیں بھی۔
کشش نے یامین کو خیالوں سے چونکایا۔ وہ بیٹے کو اچھے سے سمجھا کے مطمین ہوتی اب اسکےپاس آٸ تھی۔
اب سب اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کہ فون پے آتی کال سنتا ہادی وہیں گارڈن میں رک گیا۔
ان سب کا پیرزادہ منشن میں بہت پیارے انداز میں اور دل سے استقبال کیا گیا تھا۔
سبھی بہت پیار سے آپس میں مل رہے تھے۔
کشش اور ابرش کی دوستی آج رشتہ داری میں بدل رہی تھی۔ اور آنیہ کو بہو بنانے کا کشش کا سر توڑ ارمان آج پورا ہو رہا تھا۔ وہ بے انتہا خوش تھی۔ من چاہی بہو پالینے پے۔ خوشی اسکے ہر انداز سے ظاہر ہو رہی تھی۔
دادا جی نے ایک بھرپور نظر پورے پیزادہ منشن پے ڈالی۔ اور نظر گھومتی ہوٸ سامنے بڑے صوفے پے براجمان ابی جان پے جا ٹکیں۔ دادا جی کے دیکھنےپے وہ جو دادا جی کو ہی الجھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں فوراً سے نظریں پھیریں۔
ایسا کیوں لگ رہاہے۔۔؟ جیسے انہیں پہلے بھی کہیں دیکھ چکی ہوں۔۔۔؟؟ ابی جان نے دماغ پے زور ڈالا۔ لیکن۔۔انہیں یاد نہ آیا۔ یہی حال دادا جی کا بھی تھا۔ لیکن یادداشت ان کی بھی کمزورہوچکی تھی۔ عمر کا تقاضا تھا۔
بڑی امی۔۔۔! یہ کشش ۔۔ہیں۔۔۔! میری بیسٹ فرینڈ اینڈ ۔۔۔آنیہ کی مما۔۔۔! کشش نےتعارف کروایا تھا۔
کتنےبچے ہیں ماشاءاللہ آپ کے؟ سویرا بیگم نے محبت سے پوچھا۔
جی دو بیٹیاں ہیں۔آنیہ اور ہانیہ۔۔۔! ابرش مسکرا کے بولی۔ اسکی مسکراہٹ آج بھی جان لیوا تھی ۔ سیڑھیاں اترکے نیچے آتے ابتسام نے نوٹ کیا تھا۔ لیکن اسکی بات پے اسکا چہرہ سپاٹ ہوا۔
دو بیٹیاں۔۔ اور ایک بیٹا بھی ہے۔ آہان ابتسام۔ سلام کرتا وہ مزید گویا ہوتا ان سب کو ایک لحے کو چونکا گیا۔
اچھا اچھا۔۔۔۔! ماشاءاللہ کیا کرتے ہیں آپ کے بیٹے؟ سویرا بیگم کے اگلے سوال پے ابرش کے چہرے پے ایک سایہ سا لہرایا تھا۔
انجینٸرنگ کر رہےہیں۔ آہان۔۔۔ ہانیہ بیٹی نے ماس کمیونیکیشن میں ایڈمشن لیاہے۔ اور ماشاءاللہ سے آنیہ ہماری ڈاکٹر بن رہی ہیں۔ ابتسام کے لہجےمیں اپنے سب بچوں کے لیے ڈھیر سارا پیار تھا۔
کشش تھوڑا گڑبڑاٸ تھی۔ کیونکہ ابرش نے کبھی کسی بیٹے کا زکر نہ کیا تھا۔
میں۔۔۔ آنیہ کو لے کے آٸ۔ ابرش وہاں سے دامن بچا کے اٹھ گٸ۔ اور کچن میں آکے خود پے کنٹرول کیا۔ جو کہ مشکل لگ رہا تھا۔ پر اسے خود پے ضبط رکھنا تھا۔ اسکی بیٹی کے مستقبل کا سوال تھا۔
سب کھانے پینے کے لوازمات پے ایک تنقیدی نظر ڈالتی وہ آنیہ کے روم کی جانب بڑھی۔ جہاں وہ چھوٸ موٸ سی تیار کھڑی تھی۔
لاٸیٹ گرین کلر کا لانگ فراک اور چوڑی دار پجامہ فل بازو پہنے وہ کانو ں میں گولڈ اینڈ ڈاٸمنڈ کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہنے ناک میں چھوٹی س ڈاٸمنڈ نوز پن لگاۓ وہ آنکھوں میں کاجل کی ایک لکیر سجاۓ بالو ںکو باندھے سرپے اچھے سے دوپٹہ اوڑھے آٸینےکے سامنے کنفیوز سی کھڑی تھی۔
ماشاءاللہ میری چاند سی بیٹی للہ نیک نصیب کرے۔ ابرش نےپیار سے آنیہ کا ماتھا چوما۔
مما۔۔۔ ! مجھے۔۔۔ عجیب سا لگ رہا ہے۔۔۔! آنیہ گھبراٸ سی بولی۔
نہجں ۔۔میری جان گھبرانا کیوں ۔۔۔؟؟ایک نہ ایک دن ت بچیوں کو اپنے گھر رخصت ہونا ہوتا ہے۔۔۔! ابرش کا لہجہ نم پڑ گیا۔
مما۔۔۔! لیکن۔۔۔لڑکی کا تو کوٸ گھر ہی نہیں ہوتا۔۔۔! آنیہ کی بات پے ایک پل کو ابرش چپ س ہوگٸ۔ وہ باٸیں سالہ لڑکی اسے کیا سبق پڑھا گٸ تھی آج۔
درواشے پے ہوتی دستک سے دونوں چونکیں۔
بیگم صاحبہ نیچے سب بلا رہے ہیں۔ بلو نے دروازے سے منہ اندر نکالتے کہا۔ اور واپس مڑ گٸ۔
ہر گھر ہی عورت کا ہوتا ہے۔۔۔۔بس عورت پے ہے کہ وہ کیسے اپنا بناتی ہے سب کو ۔۔۔!
ابرش نے اسکا دوپٹہ ٹھیک کرتے اسے ساتھ لیا ۔ اور آگے بڑھی۔
جیسے ہی ابرش آنیہ کو لیے سیڑھیاں اتری۔ سب کی نظریں اس طرف اٹھیں۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے میر ہادی کی نظر بھی اس طرف اٹھی تو پلٹنا ہی بھول گٸ۔ زندگی میں پہلی بر کوٸ لڑکی ایسی دکھی جو سیدھا دل میں اتری تھی۔ ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔
پر تھا تو میر ہادی۔۔۔ کیسے کسی پے اپنے جذبات آشکار ہونے دیتا۔۔۔۔۔؟؟
دونوں نے بیک وقت سبکو اجتماعی سلام کیا۔ تو ایک لمحے کو سبھی نے ان دونوں کی طرف باری باری دیکھا۔
آجاٸیں ۔۔ہادی۔۔۔! کشش نے پیار سے بیٹے کو پکارا اور اسکا تعارف کروایا۔
میر ہادی اور آنیہ ابتسام آمنے سامنے صوفوں پے براجمان ہوۓ تھے۔ میر ہادی نے ایک نظر اس پری پیکر چہرہ پے ڈالی اور ساتھ ہی ہٹا لی۔ جبکہ آنیہ کی اتھل پتھل ہوت سانسیں اسے پلکیں اٹھانے سے بھی انکاری تھیں۔
کشش پہلےبھی آنیہ سے مل چکی تھی۔ فیملی کے ساتھ آج پہلی بار یہاں آٸ تھی۔
جبکہ ابتسام اور میر یامین سکندر کی اکثر بزنس سرکل میں ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ ۔ زیادہ اچھے سے نہ سہی ۔۔لیکن۔۔۔ ایک دوسرے کو جانتے ضرور تھے۔ اور جان پہچان اب رشتہ داری میں بدلنے والی تھی۔ تو انکی ازواج کی وجہ سے۔ انکی دوستی کی وجہ سے۔ جبکہ اس سب کا سارا کریڈیٹ کشش کو جاتا تھا۔
ابتسام ہافی سے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے۔ جبکہ نظریں بار بار ابرش کے سنجیدہ چہرے پے جا کے ٹھہر جاتیں۔ ابتسام نے اسے دوبارہ مسکراتے نہیں دیکھا تھا ۔
کھانا لگ گیا ہے۔ آجاٸیں سب۔ عروش کے پکارنے پے سبھی چونکے۔ اور کھانے کی ٹیبل کی جانب بڑھے۔ ابرش نے بہت اچھی دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ میر فیملی ان کے رکھ رکھاٶ سے بہت متاثر ہوٸ۔
پھر کیا خیال ہے ۔۔۔ کیسا لگا آپ کو ہمارا ہادی۔۔؟؟
کشش نے پیار سے ہادی کی طرف دیکھتے ابرش اور ابتسام کی جانب پہلا سوال کیا۔
ماشاءاللہ بہت پیارا اور نیک بچہ ہے۔ ابرش کی خاموشی پے ابتسام کو ہی بولنا پڑا۔
پھر۔۔۔ ہم یہ رشتہ۔۔پکا سمجھیں۔۔۔؟؟ کشش کو تو ہر پل ہی جلدی ہوتی تھی۔
یامین اسے ہوا کے گھوڑے پے سوار دیکھ رخ پھیر گیا۔
وہ ایسی ہی تھی شروع سے۔۔ رشتے کروانے میں ماہر۔ اسکا بس چلتا تو میرج بیورو کھول لیتی۔۔ بس یامین نے ہی قابو کیا ہوا تھا۔
ابرش نے ابی جان ک طرف دیکھا۔ ابی جان مسکرا دیں۔
ہمیں کوٸ اعتراض نہیں۔۔۔ ماشاءاللہ سے دونوں بچوں کا اگر نصیب ایک دوسرے کے ساتھ لکھا ہے۔ تو اللہ ہم سب کے حق میں بہتر کرے۔ ابی جان نے اپنی رضامندی دے دی۔ سب نے یکجا آواز میں آمین کہا۔
اب برش کی نظریں ابتسام پے ٹکیں تھیں۔ کہ وہ کیا کہتا ہے۔
ابتسام نے ایک نظر بیوی کو دیکھا اور یامین سے مخاطب ہوا۔
ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔ اللہ دونوں بچوں کے نیک نصیب کرے۔ کہتے ہوۓ وہ ابرش کو مطمین کر گیا تھا۔
تو دیر کس بات کی ہے۔۔۔؟
لیں منہ میٹھا کریں۔ کشش نے فوراً مٹھاٸ آنیہ کے منہ میں سب سےپہلےڈالی۔ سبھی نےایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ آنیہ کی ہتھیلی پسینے سے بھر گٸ تھی۔
اچھا لگے ہاتھ یہ بھی بتا دیں۔۔۔ بارات کب لاٸیں۔۔۔؟؟
کشش کے اچانک پوچھنے پے جہاں سب نے چونک کے اسے دیکھا وہیں یامین نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔ یہ نہیں سدھرنے والی۔
کشش۔۔۔! شتہ طےہوگیا ہے۔۔۔! باقی سب بھی آہیستہ آہیستہ ہوجاۓگا ۔۔ ابرش نے بظاہر مسکراتے کہا۔ جبکہ وہ کشش کی جلد باز طبعیت سے اچھے سے واقف تھی۔
نہیں۔۔۔ اب جب رشتہ۔۔ہو گیا۔۔۔ہے۔۔۔ چلو۔۔۔ کوٸ فنکشن ہی ہوجاۓ۔۔۔ چھوٹا موٹا۔۔۔ منگنی وغیرہ۔۔۔ ! کشش نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے اپنی راٸے دی۔ جبکہ میر ہادی ماں کی سپیڈیں دیکھ سخت بوکھلایا ہوا تھا۔ اس نے صرف رشتے کی ہامی بھری تھی جبکہ اسکی ماں ہتھیلی پے سرسوں جما رہی تھی۔
منگنی سے بہتر ہے۔۔۔ نکاح کر لیا جاۓ۔ رخصتی بعد میں۔
بات ہو کشش کی۔۔ تو دادا جی کیسے رد کر سکتے تھے۔۔؟ وہ تو انکی آنکھوں کا تارا تھی۔
واہ دادا جی۔۔۔ ! دل خوش کر دیا۔۔۔ کیا خیال ہے آپ سب کا۔۔۔؟
نکاح زیادہ مناسب ہے۔۔۔۔! اسلام میں بھی منگنی کا کوٸ کونسپٹ نہیں۔ نکاح سب سے بہتر ہے۔
ابتسام کی بات پے ابرش کے ماتھے پے بل پڑے ۔ جبکہ کشش تو اپنی بات پوری ہونے پے خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔
آنیہ عروش کے ساتھ ہاں سے ہٹ گٸ تھی۔ اسکا وہاں بیٹھنا محال ہو رہا تھا ۔ کسی کی نظروں کی مسلسل تپش اسے اپنے اوپر محسوس ہو رہی تھی۔
ساری بات ٹھیک ہے۔ لیکن۔۔۔ اتنی جلدبازی کی کیا ضرورت ہے کشش۔۔۔؟؟؟ ابرش نے اعتراض کیا ۔
یار ابر۔۔۔! جلد بازی کس بات کی۔۔۔؟؟ میرا ہادی۔۔ اور آنیہ۔۔ دونوں بچے سب کے سامنے ہیں۔۔ اور ویسے بھی نیک کام میں دیری کیسی۔۔۔؟؟ میری خواہش ہے۔۔۔ پلیز ۔۔مان جاٶ۔۔۔! کشش نے دھیمے سے اسے کہا۔ اور ساتھ پیار بھری سرگوشی بھی کی۔ ابرش کو بھی اسکی مانتے ہی بنی۔
دعاۓ خیر ہوٸ۔ اور باہمی رضا مندی سے اگلے جمعہ کی تاریخ نکاح کے لیے فکس کر دی گٸ۔
یہ بھی صحیح ہے۔۔ آہان بھی تب تک آجاۓ گا۔ ابتسام کے کہنے پے ابرش کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔ جسے کن اکھیوں سے ابتسام نے نوٹ کیا تھا۔
![]()
![]()
میرا حقِ وراثت![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
آج تمہاری سسٹر کا رشتہ پکا ہو رہا ہے۔ اور تم۔۔یونی آٸ ہو۔۔۔؟؟ بہت بڑا دل بھٸ تمہارا۔۔۔
فضا نے ہانیہ سے کہتے ایک چیٸر پے بیٹھتے کہا ۔
تو۔۔۔؟؟ سبھی کے رشتےہوتے ہیں۔۔ سب کی شادیاں ہوتی ہیں۔ تو اس میں کونسی نٸ بات ہے؟
لیز کا پیکٹ کھول کے کھاتے ہانیہ نے لاپرواہی سےکہا ۔
سبھی ہوں گے گھر ۔۔۔! سواۓ تمہارے۔۔۔! یار بہن کی خوشی میں ہی شامل۔ہوجاتی۔۔۔اپنے جینجو سے ہی مل لیتی۔ فضا نے مسکراتے کہا۔
مل لوں گی۔ ۔۔۔وقت آنے پے۔۔۔ اور بہن کی خوشی میں خوش ہوں۔۔۔ اسکےلیے فیصلہ گھر والوں نے لینا ہے۔ میں نے نہیں۔۔! لاپرواہ انداز۔ فضا تو عش عش ہی کر اٹھی۔ تبھی فضا کا بھاٸ زبیر وہاں آگیا۔
کیسی ہو ہانیہ۔۔۔؟؟ فارملانداز سے پوچھا۔ جبکہہانیہ نے بس سر ہلانے پے ہی اکتفا کیا۔
چلیں گھر۔۔۔؟؟ فضا ک جانب دیکھتا وہ مخاطب ہوا۔ تو فضا کھڑی ہوگٸ
اوکے ڈٸیر ۔۔۔! کل۔ملتے ہیں۔ فضا اس سے ملتی زبیر کے ساتھ بار نکل گٸ۔ جبکہ ہانیہ اتھ جھاڑتی اٹھی۔ اور نظر بچا کے وہاں سے اپنی منزل کی طرف چھلاوے ک طرح غاٸب ہوگٸ۔
![]()
میرا حقِ وراثت![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔! اللہ نے آپ کی بھی سن لی۔
یامین نےگھر آتے ہی میر ہادی کو مبارک باد دی۔
مما۔۔۔! آپ نے رشتہ کرنے کا کہا تھا۔۔ یہ نکاح۔۔۔؟ ہادی کے ماتھے پے بل پڑے۔
بیٹا۔۔۔! یہ میری خواہش ہے۔۔۔! وہی معصومیت بھرا چہرہ۔
مما۔۔! آپ کی خواہش پے ہی اس رشتے کے لیے تیار ہوا تھا۔ لیکن۔۔۔ آپ تو بہت جلد بازی کررہی ہیں۔
ہادی مطمن نہ ہو سکا۔
ہادی۔۔! اب بات ہوگٸ ہے۔۔ نکاح کے لیےسب راضی ہیں۔۔ تو آپ مجھے دکھی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔ میں فون کر کے منع کر دوں گی ۔ آپ خوش رہیں۔۔ شاید۔۔۔ میں ہی جلد باز ہوں ۔۔۔ہمیشہ کی طرح اموشنل بلیک میلنگ۔ یامین سر نفی میں ہلاتا روم میں چلا گیا۔
جانتا تھا۔ اب ہادی نے ماں کومنانا تھا۔ اور سب کشش کی مرضی سے ہی ہونا تھا۔ کوٸ بھی اس گھر میں کشش کی بات سے اختلاف نہیں کر سکتا تھا۔
بھی اسکی خوشی کو مدنظر رکھتے تھے ۔ اور بیٹا تو تھا ہی ماں کا۔۔۔!
روم میں آتے وہ کلاٸ سےگھڑی اتارتا بےاختیار مسکرایا۔
آپ کوں اکیلے اکیلےمسکرا رہے ہیں۔۔؟؟ کشش نے آڑے ہاتھوں لیا۔
بہت بڑی ڈرامہ باز ہو۔۔ یار۔۔۔! یامین کے چہرے پے مسکراہٹ تھی۔
بیوی آپ کی ہوں تو۔۔۔ ؟؟؟ بات ادھوری چھوڑ شوہر کو دیکھا۔ تو اس نے فوراً سے اسے اپنے قبضے میں لیا۔
کیا کہا۔۔۔؟؟ پھر سے کہنا۔۔۔؟؟ اس پے گرفت مضبوط کرتے وہ اسکے کان کی لو کو چھوتے بولا تھا۔ شادی کے اٹھاٸیس سال گزر جانے کے بعد آج بھی انکی محبت ویسی ہی تھی۔ بلکہ یامین کی محبت میں مزید شدت آگٸ تھی۔
وہی۔۔۔ جو آپ نے سنا۔۔۔! لگتا ہے۔۔بڑھاپے میں جا کے کان خراب ہوگۓ ہیں۔۔؟؟ سناٸ کم دینے لگا ہے۔۔ ہے ناں۔۔۔؟؟ کشش نے مذاق بنایا جو پھر اسے بہت مہنگا پڑا تھا۔




ابرش کے روم میں آنے پے خاموش بیٹھے سوچ میں گم ابتسام پے جا ٹکیں۔ لیکن پھر اسے اگنور کرتی لوشن اٹھاتی ہاتھوں اور بازو پےلگانےلگی۔
ابتسام نے پھر بھی اس پے توجہ نہ دی۔ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔ اور ابرش کو یہ ہضم کہاں ہونا تھا۔ زور سے لوشن اٹھا کے ٹیبل پے پٹخا۔ تو ابتسام نے ایک گہری نظر اس لال پیلی ہوتی دلبر پے ڈالی۔
لیکن اگلے ہی لمحے ہٹا لی۔ وہ جذبات کی رو میں بہنا نہیں چاہتا تھا۔ اور جو ابرش نے کیا۔ اسے فراموش بھی نہیں کر سکتا تھا۔
آپ نے بہت غلط کیا ابر۔۔۔۔! لہجہ دکھی تھا۔
آپ کو میں اب بھی صحیح لگوں بھی نہیں۔
پاس ہی بیڈ پے بیٹھتے دکھی دل سےکہا۔
آپ کو۔۔۔ آہان کا وجود کیوں چھپانا پڑا۔۔۔؟؟ وہ بھی ہمارا بیٹا ہے۔۔۔۔ اسکی طرف رخ موڑتےکہا۔
نہیں۔۔۔! وہ آپ کا بیٹا۔۔ ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ میرا نہیں۔۔۔! ابرش قطعی انداز میں بولی تھی۔
آپ۔۔۔ اتنے چھوٹے دل کی مالک تو نہ تھی۔۔۔؟؟ اتنا چھوٹا۔۔ ظرف تو نہ تھا آپ کا۔۔۔ ؟ ابتسام کو دکھ ہوا۔ ابرش نے منہ کے رخ پھیر لیا۔
شوہر بیوی ۔۔۔ کا رشتہ ایسا نہیں۔۔۔ کہ ایک فیصلہ کرے ۔ اور دوسرے کو پتہ بھی نہ ہو۔۔۔؟؟
وہاں سے اٹھتے بولی۔
شوہر اور بیوی میں کچھ ہو نہ ہو۔۔۔ اعتبار لازمی ہوتا ہے۔۔۔
ابتسام بھی دکھ سے اٹھتا وہاں سے ٹیبل کے پاس جا کھڑا ہوا۔ کہ ہاتھ لگنے سے پانی کا گلاس زمین بوس ہوتا ٹوٹ گیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ چوٹ تو نہیں لگی۔۔؟؟؟ بےچینی سے ابتسام کے پاس آتے اسکا ہاتھ تھاما۔
ابتسام نے ایک دکھی نظراس پے ڈالی۔
اب بھی پیار کرتی ہو۔۔؟ سوال غیر متوقع تھا۔ ابرش نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں صرف اور صرف جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
اختلاف اپنی جگہ۔۔۔۔ اور۔۔پیار اپنی جگہ۔۔۔! اختلاف ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں۔۔۔ کہ پیار کرنا چھوڑ دوں۔۔۔؟؟ الٹا اسی کی جانب دیکھتے ضبط سے کہا۔
تو ابتسام کے صبر کا دامن چھوٹا۔ اور اسکے چہرے پے جھکا۔ کتنے سالوں کی تشنگی تھی۔ جو اسکے اندر وقت گذرنےکے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ صرف ایک وجہ تھی۔
اور وہ وجہ۔۔۔ آہان ابتسام تھا۔ کون تھا۔۔؟؟ کہاں سے آیا تھا۔
