Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 10)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 10)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
زبیر کو بھی باقی دو کے ساتھ ایک ہی ٹھکانے پے قید کرتا مطمین ہوتا وہ اب گھر کی طرف روانہ ہوا تھا ۔
وہ تینوں ہی بے حال اور بے ہوش تھے۔ و جب تک ہوش میں آنہیں جاتے تھے ۔ ان سے کچھ بھی پتہ چلنا ناممکن تھا۔
آہان انہیں شان کے حوالے کرتا خود گھر کی جانب روانہ ہوا۔
جہاں وہ آتش فشاں بنی اسکے کمرے کا ستیاناس کر چکی تھی۔
آہان جانتاتھا ۔ غصہ کہیں تو اتارنا تھا۔ سب کچھ بکھرا پڑا تھا۔
ڈریسنگ سے سب کچھ نیچے گرا تھا۔ اسکے مہنگے پرفیومز اس وقت زمین بوس ہوۓ اپنی قسمت پے اشک بہاتے پورے کمرے کی فضا کو معطر کر گۓ تھے۔
ان سب چیزوں اور کانچ سے بچتا بچاتا وہ واش روم کی جانب بڑھا۔
Youhavetopayforthisaniaibtesam.
شاور لیتا وہ ہمکلامی سے بولا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ڈٸیر ڈیڈا۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔
ہانیہ کی پرجوش آواز پورے لاٶنچ میں گھوم رہی تھی۔
ابتسام آج اپنی چلبلی بیٹی کو یوں اپنے لیے سرپراٸز پارٹی ارینج کرتا دیکھ سراپاۓ حیرت تھا۔ لیکن یہ خوشی کافی خوشگوار تھی۔ وہ اکثر ابتسام سے کتراتی تھی۔ آہان کی وجہ سے۔
کیونکہ وہ جانتی تھی۔ آہان کو اس منشن میں لانے والا اسکا باپ ہے۔ وہ کہاں سے آیا۔۔۔۔؟ وہ کون ہے۔۔ اسکے ڈیڈ سب جانتے ہیں۔ اور وہ اب نیا پلان بناتی ڈیڈ کے قریب ہونا چاہ رہی تھی۔ تاکہ آہان کا پتہ اس منشن سے صاف کر سکے۔
جبکہ سامنے ہی فریش فریش سا نیلی ٹی شرٹ اور جینز میں کھڑا اپنے چہرے پے طنزیہ مسکراہٹ لیے اس لڑکی کے نٸے ڈرامے ملاحظہ کر رہا تھا۔
ابتسام کو کیک کھلاتے ہی پھر سے سب نے شور کیا۔
بے اختیار ہی ہانیہ کی نظر اس پے اٹھی۔
اسکا دیکھنے کا انداز۔۔ اوپر سے اسکے بھرے بھرے مسلز وہ مکمل ایک وجیہہ اور بھرپور پرسنلٹی کا حامل شخص تھا۔ کوٸ بھی لڑکی آسانی سے اس پے فدا ہوجاتی۔ لیکن ہانیہ کو وہ ایک اکھ نہ بھاتا تھا۔ آہان کو دیکھتےہی اسکے اندر نفرت کی شدید لہر دوڑتی تھی۔
ارے آہان بیٹا۔۔۔! کم۔۔۔! ابتسام نے اسے سب سے الگ اور دور کھڑا دیکھا تو پیار سے پکارا۔
وہ چہرے پے مسکراہٹ سجاۓ ان سب کی جانب بڑھا۔
آہان نے بھی ابتسام کو برتھ ڈے وش کیا۔ اور کیک کا ایک ٹکڑا کھلایا ۔
ابتسام نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ وہیں ہانیہ جل بھن گٸ۔
لو یو ڈیڈ۔ ! آہان دل سے کہتا ابتسام کو پرسکون سا کر گیا۔
لویو ٹو بیٹا۔۔۔! اپنے ساتھ کھڑا کیے وہ اب اس سے اور باقی سب سے باتقں میں مشغول ہوگۓ تھے۔ ہانیہ ایک طرف ہوتی وہاں سے واک آٶٹ کر گٸ۔
بالکنی میں جاتے ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتارتے نجانےکیوں آنکھیں بھر آٸیں۔
آٸ لو یو ڈیڈا۔۔۔۔! آپ کی ہانیہ بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہے۔۔ لیکن۔۔شاید آپ کو کبھی دکھاٸ نہ دے۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں باپ سے گلہ کرتی بالکنی سے نیچے دیکھنے لگی ۔ کہ اسی وقت ایک نقاب پوش وہاں سے ہانیہ کو اپنی طرف دیکھتا اور پھر ایک دم سے وہاں سے بھاگتا ہوا دکھاٸ دیا۔
یہ۔۔۔یہ کون تھا۔۔۔؟ ہانیہ کو کچھ صحیح نہ لگا۔ برقی قمقموں میں شام کے ڈھلتے ساۓ میں وہ اسے ٹھیک سے دیکھ نہ پاٸ۔ لیکن پھر بھی اسے جاننا تھا۔ اسی لیے وہاں سے نیچے کی طرف بھاگی۔
منشن سے باہر نکلتے اس نے ساری طرف نظر دوڑاٸ ۔ لیکن وہ نقاب پوش غاٸب ہوچکا تھا۔
کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ وہ یہی سوچتی الٹے قدم پیچھے لیتی۔ یکدم رکی تھی۔
وہ کسی سے ٹکراٸ تھی۔ فوراً پلٹ کے دیکھا۔ تو ناک کی سیدھ میں وہ فولادی بندہ اپنے بالکل پیچھے کھڑے پایا۔
تم۔۔۔؟؟ ہانیہ کو اسے دیکھ ماتھے پے بل پڑے۔
اتنے اندھیرے میں یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ آہان کو اسکا یہاں آنا ہضم نہ ہوا تھا۔
تم سےمطلب۔۔؟ میں جہاں جس وقت مرضی جاٶں۔۔۔! ہانیہ تپ کے بولی۔
ہمممم۔۔۔۔ ! لیکن۔۔۔ بار بار میرے راستے میں کیوں آتی ہو۔۔۔؟؟ آہان نے سنجیدہ انداز میں پوچھا۔
تمہارا راستہ۔۔۔؟؟کیا تمہارا راستہ چیچہ وطنی سے ہو کے جاتا ہے جو میں س راستے میں آتی ہوں۔۔۔۔؟؟ تمسخر بھرے ناداز میں کہتی اس نے قدم گیٹ سے اندر کی جانب بڑھاۓ۔ کہ آہان نے اسے باو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔ہانیہ کے ماتھےپے بل پڑے۔
میرےکمرےمیں توڑ پھوڑ کرنے کا پرمٹ ملا تھا تمہیں۔۔؟؟ دانت پیستے ہوۓ بولتا وہ ہانیہ کے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کر گیا تھا۔ یہی تو وہ چاہتی تھی۔ اسے غصہ دلانا۔ طیش دلانا اس کا خون جلانا۔
بس۔۔۔۔ اتنے سے گھبرا گۓ۔۔۔۔؟؟ ابھی تو اور بھی بہت کچھ فیس کرنا پڑے گا۔ مسٹر آہان۔۔۔!
بہت نفرت کرتی ہوناں۔۔ مجھ سے۔۔۔؟؟ آہان نے سرد لہجے میں پوچھا۔ کہ ایک لمحے کو ہانیہ کو چپی لگ گٸ۔ لیکن اگلے ہی پل اپنے اندر کے کسی بھی جذبے کو اٹھنے سے پہلے وہ سلا چکی تھی۔
شدید۔۔۔ نفرت۔۔۔ شاید۔۔۔نفرت سے بھی بڑھ کے کچھ ہے تو وہ تم سے کرتی ہوں۔۔ اپنا بازو غصہ سے چھڑاتی وہ سختی اور نفرت سے کہتی اندر کی جانب بڑھ گٸ۔ جبکہ آہان وہیں کھڑا اسکے الفاظ پے اپنے اندر اٹھتا درد ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
درد رکتا نہیں ایک پل بھی۔۔۔۔
اسی لمحے ابرش کی گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوتی دکھاٸ دی ۔ آہان وہیں کھڑا رہا۔
ایک دم سے بارش کی بوچھاڑ نے اسے بری طرح بھگو دیا تھا۔ جبکہ وہ ہر احساس سے عاری وہاں کھڑا سڑک کو دیکھ رہا تھا۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔ آہان ہے۔۔؟؟ گاڑی سے نکلتے حیرت سے چوکیدار سے پوچھا۔
جی ۔۔بی بی جی۔۔۔!
یہ بارش میں وہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔؟؟ ابرش کو اسکی فکر ہوٸ۔
جاٸیں بلا کے لاٸیں۔۔۔! ابرش نے سختی سے کہا۔ جبکہ خود پلر کیاوٹ میں ہوتی بارش سے بچتی وہیں کھڑی آہان کو اندر آتا دیکھنےلگی۔
ابرش کے پاس آتا وہ حیرت کے تاثرات چہرے پے سجاۓ انہیں دیکھنےلگا۔
اتنی تیز بارش میں یو ں کھڑے ہونے کا مقصد۔۔۔؟ خان بابا۔۔۔۔ ان سے کہیں ۔۔ اندر جاٸیں۔
ابرش پہلے اس سرپھرے کو دیکھتے بولی۔ اور ساتھ ہی چوکیدارکو مخاطب کرتے خود بھی اندر کی جانب قدم بڑھا چکی تھی
آہان کے لیےیہ احساس ہی دلکش تھا۔ کہ ابش نے اسکی پرواہ کی۔ اسکے چہرے پے ایک مسکان سج گٸ تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ڈیڈ ۔! آپ فکر نہ کریں۔۔ کل میر ہادی اور میں آجاٸیں گے۔ کشش آنٹی نے خود کہا ہے۔ کہ کل چلیں جاٸیں۔ آنیہ باپ کو وش کرتے اب اپنے بارے میں بتا رہی تھی۔
چلیں۔۔یہ بھی صحیح ہے بیٹا۔ ۔۔ آپ اور میرہافی ایک ساتھ آٸیں گے۔ تو ہمیں خوشی ہوگی۔ ابتسام نے مسکراےکہا۔
بیٹی کو اپنے گھر خوش اور پرسکون دیکھ انکے دل سے کتنا بوجھ سرکا تھا۔ وہ لفظوں میں بیاں نہیں سکتے تھے۔
جی۔۔۔۔ڈیڈ۔۔۔! آپ کی مما سے بات نہیں ہوٸ کیا۔۔۔؟
اچانک یاد آنے پے پوچھا۔
بیٹا۔۔۔! آج تو۔۔۔ لگتا ہے۔۔ بہت بزی ہیں۔۔ آپ کی مما جان۔۔۔!
ڈیڈ۔۔۔! وہ آج میری طرف آٸیں تھیں۔ ۔۔۔ کافی چپ پ سی تھیں۔۔ شاید۔۔ پریشان۔۔۔!لیکن زیادہ دیر نہیں رکیں۔۔! مجھے کافی ٹینس لگیں۔
وہ آنیہ کی بات سنتا ابھی کچھ کہتا کہ ابرش کو روم میں داخل ہوتا دیکھ چپ ہی رہا۔
بیٹا۔۔۔! آپ سے صبح بات ہوگی۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ ابتسام نےکہتےکال کاٹ دی ۔
خود کو بچاتے بھی ابرش کچھ حد تک بھیگ گٸ تھی۔ اسی لیے بیگ ایک طرف رکھتے سیدھا کبرڈ کی جانب بڑھی۔
اور اپنے لیے ڈریس نکالنے لگی۔ جبکہ ابتسام کو یکسر نظر انداز کرگٸ۔ جو کہ ابتسام کو اچھا خاصا چبھا تھا۔
معلوم نہیں تھا۔۔۔محبت کو ختم ہونے کے لیے صرف چوبیس سال ہی کافی ہوتے ہیں۔۔ لیکن شاید۔۔ محبت کو مٹنے میں ۔۔۔ چند سال ہی بہت ہیں۔ چوبیس سالوں میں تو ہر نقش ہی مٹ جاتا ہے۔۔۔
ابرش نے کبرڈ پے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ وہ وہیں اسکے قریب کھڑا اپنی مخصوص پرفیوم کے ساتھ اسکے حواس معطل کر رہا تھا۔
آپ کا گفٹ ۔۔۔۔! ابتسام کی بات کو نظر انداز کرتی وہ ایک پیکٹ اسکی جانب بڑھا گٸ۔
ابتسام نے شاکی نظروں سے اسے دیکھا۔
جب وش نہیںسکیا تو گفٹ کا کیا کرنا۔۔؟؟ ناچاہتے ہوۓ بھی گلہ زبان پے آگیا۔
اب۔۔۔ اس عمرمیں۔۔ کونسا سلیبریشن کرنی ہوتی ہے جو۔۔۔؟؟ کبرڈ بند کرتی وہ نظریں چراتے بولی تھی۔
میں نے وش کرنے کا کہا ہے۔۔۔! ابتسام نے اپنی بات پے زور دیا۔
کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ میرے وش کرنے یا نہ کرنے سے۔۔۔؟؟ ابرش کا لہجہ تلخ ہوا۔ ابتسام بس اسے دیکھے گیا۔
شاید۔۔۔ اب ۔۔۔میرے ہونے یا نہ ہونے سے بھی آپ کو فرق نہیں پڑتا۔
ایک کرب کا عالم تھا۔ ابرش نے دہل کے ابتسام کی طرف دیکھا۔
آپ۔۔۔۔آپ کا دماغ درست ہے۔۔۔؟ کیا۔۔۔ کیا فضول بولےجا رہے ہیں۔۔۔؟؟ ابرش کا میٹر ہی گھوم گیا اسکی بات پے۔
یہی سچ ہے۔۔ابر۔۔۔! پھیکی ہنسی ہنستا وہ پلٹا تھا۔ کہ ابرش آنسو اور غصہ ضبط کرتی اسکے مدمقابل کھڑی ہوٸ۔
آپ۔۔۔ایک کام کریں۔۔ مجھےایک ہی بار گلہ گھونٹ کےمار دیں۔ یہ قطرہ قطرہ۔۔ سزا ۔۔۔ مجھے منظور نہیں۔۔۔!
سزا تو میں کاٹ رہا ہوں۔۔۔ اکیلےپن کی ۔۔۔ ہجرکی ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی سانسیں چل رہی ہیں۔
دوبدو جواب دیتا وہ ابرش کو اپنے قریب کر گیا۔
جبکہ اسکا رونا اسے اندر تک تکلیف دے رہا تھا۔
آپ۔۔۔ ؟؟ ابرش گلہ روندھ جانےکی وجہ سے کچھ بول ہی نہ پاٸ۔
ششییییییی۔۔۔۔۔! ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑے کھڑا وہ آنکھیں موند گیا۔
ابرش کےگالوں پے بہتے آنسو بنا آنکھیں کھولے وہ اپنی انگلیوں کی پوروں پے اٹھا چکا تھا۔
مت دو اور سزا۔۔۔۔ ! اس دل میں سہنے کی ہمت نہیں رہی۔ ابتسام کا لہجہ بھی روندھ گیا۔
آپ۔۔۔ مجھے۔۔۔ باٸیس سال کا ہجر دے چکے ہیں۔۔ ابتسام۔۔۔! آپ نے مجھ پے کبھی بھروسہ کیا ہی نہیں۔۔! بھروسہ ہوتا تو۔۔۔مجھے ساری سچاٸ بتاتے۔ مجھ سے چھپاتے نہ۔۔۔! اتنے عرصے کا گلہآج زبان پے آہی گیا۔
اگر یقین ہوتا تو۔۔۔یہ سب کہنے کی نوبت نہ آتی۔
ابتسام کی آنکھیں پل میں سرد ہوٸیں تھیں۔ اور خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔
اعتبار نہ ہوتا تو آج یہاں نہ ہوتی۔۔۔! رخ پلٹ کے کہتے اپنے درد کو دھیرے دھیرے اپنے اندر اتارتے وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی تھی۔
لیکن ہم توپاس ہوکے بھی دور ہیں آج بھی۔۔۔ میلوں دور۔۔۔ ابتسام بھی اپنے اندر کے درد کو ضبط کیے رخ پھیر گیا۔
ادھر بھی ادھر بھی۔۔۔
یہاں بھی وہاں بھی۔۔
دونوں طرف لگی یہ آگ۔
دونوں طرف جگی یہ پیاس۔۔۔
ہم تم۔۔۔
ہم تم۔۔کتنے دور۔۔۔۔۔دور۔۔۔دور۔۔۔
کتنے پاس ۔۔۔کتنے دور۔۔۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
وہ چِپ کچھ بھی نہیں بتا رہی۔۔۔ مطلب۔۔ وہ اتنا شاطر اور چالاک شخص ہے۔۔۔کہ اس نے چِپ اتار دی ہے۔ ہمارا یہ وار بھی بے کا رگیا۔
اسوقت انکا سردار انتہاٸ غصہ میں تھا۔
اسکا مطلب جانتا ہے تم۔۔۔؟ وہ لڑکی اپنا کام پورا نہیں کر سکی۔ سردار غصہ میں آتا چلایا ۔
سردار۔۔۔! اسے ایک موقع اور دے دیں۔ وہ اپنا کام۔۔۔؟؟ سامنے کھڑا شخص منت کرنے لگا۔
تم۔جانتا ہے۔۔ ہمارے کام میں دوسرا چاننس نہیں ہوتا۔ اور اب وہ لڑکی اسکی نظر میں بھی آگٸ ہے۔۔ اسکا م رن ا۔۔۔ ضروری ہے۔۔۔! سردار سوچتے ہوۓ سرد لہجے میں بولا۔
نننہیں۔۔۔ نہیں۔۔ سردار۔۔۔ معاف کردیں۔۔ بس ایک موقع۔۔۔؟؟ وہ شخص بری طرح گھبرایا۔
فیصلہ ہوگیا ہے۔۔۔ اب تم سوچ لو۔۔۔۔! اسے م ارن ا ہے۔۔ یا اسکے ساتھ مرن ا ہے۔۔۔
کمر پے ہاتھ باندھے وہ سفاک انداز میں بولا تھا۔
وہ لڑکی اس شخص کی محبت تھی۔ اور جس دھندے میں وہ ساتھ تھے۔ اس میں ہر لمحہ م وت سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ اور آج اسکی محبت اسکا شکار ہو رہی تھی۔ اور وہ بے بس تھا ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اپنے والدین کے گھر جانے پے سب لڑکیاں خوش ہوتی ہیں۔۔ آپ کے چہرے پے پریشانی کیوں ہے۔۔؟؟ میر ہای کو آنیہ کا خاموش انداز کچھ سمجھ نہ آیا۔ تو ڈراٸیونگ کے دوران پوچھ ہی بیٹھا ۔
نہیں۔۔ تو۔۔۔؟؟ ایسی کوٸ بات نہیں۔۔۔ وہ جو پینڈیٹ کےبارےمیں سوچ رہی تھی۔ ایک دم سے بوکھلاٸ۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔؟ اچانک سے اسکے دماغ میں سوال کوندا۔
ہممممم۔۔۔۔! موڑ کاٹتے ایک نظر آنیہ کو دیکھا۔
اس پینڈنٹ سے آپ کی کونسی یاد جڑی ہے۔۔۔؟
جھٹکے سےگاڑی رکی ۔ میر ہادی کا چہرہ یک دم سرخ ہوا تھا۔ چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔ ماتھےپے بل پڑے تھے۔ گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی۔ لیکن خاموشی ہنوز برقرار تھی۔
آنیہ کی سوالیہ نظریں میر ہادی کے چہرےپے ٹکیں ہوٸ تھیں۔
پیرزادہ منشن کے گیٹ کےاندر گاڑی داخل ہوتی دیکھ آنیہنے گہرا سانس خارج کیا۔ مطلب میر ہادی بتانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اور وہ دوبارہ پوچھنے والی بھی نہیں تھی۔
اندر داخل ہوۓ تو سب نے بہت پیارے طریقے سے استقبال کیا۔
پگ پھیرے کی رسم تھی آج ۔ اور سبھی نے میر ہادی کو وی آٸ پی پروٹوکول دیا ۔ جبکہ میر ہادی جس کا موڈ اچھا خاصا خوشگوار تھا۔ راستے میں پینڈٹ والی بات پے اسکا موڈ پہلے جیسے بحال تو نہ ہوسکا ۔ لیکن کافی حد تک دماغ سے نکل گیا۔
جیجو جی۔۔۔! آپ کے ہوٹل کے چرچے تو پورے پاکستان میں ہیں۔۔۔ ہمیں بھی کبھی دعوت دیجیے ۔۔ ہم بھی مین برانچ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہانیہ کی زبان پے کھجلی ہوٸ۔
جب آپ چاہیں ۔آپ آسکتی ہیں۔۔۔ بلکہ آپ سب۔۔۔ آٸیں۔۔۔ آپ سب کی اسپیشل دعت کا اہتمام کیا جاۓ گا۔
میر ہادی نے مسکراتے ہوۓ اس پیاری سی لڑکی کی بات کا جواب دیا۔
ہاٶ۔۔ کیوٹ۔۔؟؟ ہانیہ نے دل سے تعریف کی۔
ارے بیٹا۔۔۔! ہانی کی عادتہے مزاق کرنے کی۔۔! ابرش نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہانیہ کو ٹوکا۔
رے نہیں آنٹی ۔۔۔ ان فیکٹ۔۔۔کل ہی آپ لوگ آٸیں۔ مجھے بہت اچھا لگے گا۔ میر ہادی نے دل سے کہا ۔
آجاٸیں سب۔۔۔ کھانا لگ گیا ہے۔۔۔ عروش او لمظ نے مسکراتے سب کو ڈاٸینگ ٹیبل پے آنے کی دعوت دی۔ سبھی اٹھتے ہوٸے ڈاٸننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گۓ۔
ایکسکیوز می۔۔۔! موباٸل پے آتی کال پے میر ہادی ایک طرف ہوتا کال رسیو کر گیا۔
جی۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔! آپ یہ ہینڈل کر لیں۔ باقی کی ڈیٹیلز مجھے میل کر دیں۔ میں چیک کر لوں گا۔
کال بند کررتا وہ پلٹا۔ تو آنیہ اسکے پاس ہی کھڑی تھی۔ اسکا معصوم روپ ایک بار ہادی کے دل میں گھر کرنے لگا۔
کیا ہوا۔۔۔؟کچھ کہنا ہے کیا۔۔؟ وہ اسکا انگلیاں مروڑنا بھانپ گیا تھا۔
وہ۔۔۔ آج رات۔۔۔؟؟ یہیں۔۔ رک۔۔۔جاٶ۔۔۔ں۔۔؟؟ اٹک اٹک کے بولتی وہ میر ہای کو دل سے پیاری لگی۔
دھیرے سے قدم اٹھاتا قریب ہوتا وہ آنیہکےبال کانو ںکے پیچھے اڑستا مسکرایا۔
اگر میں منع کردوں تو۔۔؟؟ گھمبیر لہجہ۔۔ آنیہ کا دل دھڑکا گیا۔ کاجل سے بھری آنکھوں نے میر ہادی کی نیلی آنکھو ں میں جھانکا۔
وہیں اسکے دل کی رفتار سست پڑی۔ اور پلکیں جھکتی چلی گٸیں۔
دل تو نہیں کر رہا۔۔۔لیکن مما نے کہا تھا۔۔۔ کہ آپ کو آج یہیں چھوڑ کے آنا ہے۔۔ کل سب آٸیں گے آپ کو لینے۔۔! ہاۓ۔۔ یہ رسمیں بھی۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟ میر ہادی نے ٹھنڈی آہ بھری
مطلب۔۔۔؟؟ آپ مجھے تنگ کر رہے تھے۔۔ آنیہ کے چہرے نے مسکراہٹ کا احاطہ کیا۔
ہمممم۔۔ ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔! اور الزام لگا دیا۔۔؟؟ معنی خیزی سے کہتا وہ آنیہ کو پھر سے شرمانے پے مجبور کر گیا۔
ارے بھٸ آجاٶ۔۔ اندر۔۔۔! سب ویٹ کر رہےہیں۔۔! لمظ نے دور سے ہی انکو پکارا۔ تو وہ دونوں مسکراتے اندر کیجانب بڑھے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ڈیڈ۔۔۔! مجھے۔۔ آج رات نکلنا ہے۔۔۔ آہان نے ابتسام سے کہا۔ اس وقت وہ سٹڈی روم میں تھے ۔
ٹھیک ہے۔۔ مجھے رپورٹ کرتے رہنا۔۔۔ اور اپنا خیال رکھنا۔ مجھےنہیں لگتا ہمارا دشمن آرام سے بیٹھے گا۔۔ اگر وہ چِپ آپ تک پہنچ سکتی ہے۔ تو وہ آپ کو اچھی طرح سے جانتا ہوگا۔۔۔ اور کبھی بھی آپ تک پہنچ سکتا ہے۔
ڈیڈ۔۔! مجھے اپنی نہیں ۔۔۔گھر والوں کی فکر ہے۔۔۔ وہ لڑکی مجھ سے شادی میں ٹکراٸ تھی۔ مطلب۔۔ وہ سب گھر والوں سے باخبر ہے۔۔
آپ گھر والوں کی فکر نہ کریں۔ جب تک ابتسام کی سانس چل رہی کسی کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔
آ یہ مشن جلد از جلد مکمل کر کے رپورٹ کریں۔
میجرگلفام سے رابطہ رکھیں۔ وہ آپ کو گاٸیڈ کریں گے۔
ابتسام کے گلے لگتا وہ باہر نکلا۔ اور اپنا بیگ تیار کرتا۔ وہ وہاں سے رات کے اندھیرے میں ہی نکلتا چلا گیا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
رات کی تاریکی میں وہ بھاگتی چلی جا رہی تھی ۔ اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔ وہ زخمی تھی۔ جن کو اپنا سمجھتی تھی۔ آج وہ اپنے ہی اسکے دشمن بنے تھے۔ وہ ننگے پاٶ ں بھاگتی اپنے پاٶں تک زخمی کر چکی تھی۔ پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ لوگ بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ کہ تبھی ایک کھاٸ میں جا گری ۔ اور اتنی بری طرح گری کہ اسے لگا اسکی موت واقع ہوگٸ ہے۔ جھاڑیوں نے اسے لہو لہان کر دیا تھا۔
کہاں گٸ ۔۔۔؟ ڈھونڈو۔۔ اسے۔۔۔! فوراً ڈھونڈو۔۔ ورنہ سردار چھوڑے گا نہیں۔۔۔!
وہ سات سے آٹھ لوگ تھے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ آگے نکل گۓ ۔ جبکہ وہ بے سدھ پڑی اب زخموں کی تاب نہ لاتے وہیں بے ہوش ہو چکی تھی۔
قسمت نے اسکے ساتھ جتنے ستم کیے تھے اس نے اللہ سے یہی دعا کی تھی۔ یا تو موت دے دے۔۔ یا اسے اتنی مہلت دے دے کہ وہ اپنا انتقام لے سکے۔
یہ تو اللہ ہی جانتا تھا۔ کہ وہ زندہ رہتی یا۔۔۔؟؟ موت کے گھاٹ اتار دی جاتی۔
جاری ہے۔
