Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat  (Episode 31)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

نور فاطمہ زندہ ہے۔ یہ بات اسے کسی اور کو بھی بتانی تھی۔ فوراً سے موباٸل اٹھایا۔ آنسو پونچھتے ایک نمبر ڈاٸل کیا ۔ کال جا رہی تھی کہ تبھی دروازہ کھلا۔اور آہان غصہ سے اندر داخل ہوا۔

ہانیہ جلدی سے مڑتی کال بند کر گٸ۔ اور چہرہ بھی سپاٹ کر لیا ۔

تم باز نہیں آٸ ناں۔۔۔؟؟ چھپ چھپ کے باتیں سننے سے۔۔؟؟ ایک فاٸل ساٸیڈ ٹیبل پے رکھتے وہ سرد انداز میں کہتا ہانیہ کی جانب بڑھا۔

اگر اپنے مشن میں شامل کر لو۔۔ تو۔۔ یہ نوبت نہیں آۓ گی۔

ہانیہ۔۔! آہان کے ہاتھوں نے اسکی نرم و نازک گردن کو پکڑا۔ جبکہ ہانیہ پے رتی برابر اثر نہ ہوا تھا ۔ بنا پلک جھپکے وہ آہان کو دیکھے جا رہی تھی۔

یہ تمہیں لاسٹ وارننگ ہے۔۔۔ اب اس سب میں تم نہیں پڑو گی۔ یہ سب بہت خطرناک ہے۔۔ اور تم اس سب سے دور رہو گی۔۔۔! ورنہ۔۔؟؟

ورنہ کیا۔۔۔؟؟ غصہ سے آہان کی گرفت سے اپنی گدن چھڑاٸ۔

ورنہ کیا کرلو گے۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ جان سے مارو گے۔۔؟ یا ہاتھ اٹھاٶ گے؟ بتاٶ۔۔؟ کیسے باز رکھو گے مجھے۔۔؟؟ جبکہ میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ سلطان کو موت کے گھاٹ اتار کے ہی دم لوں گی۔

جارحانہ انداز میں کہتی وہ آہان کو بہت کچھ باور کروا گٸ تھی۔

تمہارا سلطان سے کیا تعلق۔۔؟؟ کیسے جانتی ہو اسے۔۔؟؟سنجیدہ انداز سے ماتھے پے دووبل ڈالے پوچھنے لگا۔

ہو نہہ۔۔۔سلطان کو کون نہیں جانتا۔۔۔؟ انڈر ورلڈ کا بادشاہ ہے وہ۔۔۔ !کتنے لوگوں کو مار چکا ہے وہ۔۔ کتنوں کے گھربرباد کر چکا ہے۔۔ اور۔۔۔ تمہارے والدین۔۔؟؟ انکا بھی تو اس نے قتل کیا۔۔۔! مڑتی ہوٸ وہ اسے صحیح معنوں میں آگ کی سیل پے گھسیٹ گٸ۔

ہانیہ۔۔۔! میرے والدین کے ساتھ کیا ہواکیا نہیں۔۔۔یہ تمہارا مسٸلہ ہیں۔۔ میرے معاملات سے دور رہو۔۔۔! انگلی اٹھا کے سختی سے وارننگ دی۔

ار تم۔۔بھی۔۔ میرے معاملات سے دور رہو۔۔ آہان۔۔! سلطان میرا شکار ہے۔ اور اسے میں ہی موت کے گھاٹ اتاروں گی ۔

نور فاطمہ سے کیا تعلق ہے تمہارا۔ آہان نے سے آڑے ہاتھوں لیا۔

ہانیہ نے گالوں پے آۓ آنسو صاف کیے۔

دل کا تعلق ہے۔ آواز دھیمی تھی۔

ہانیہ پہلیاں مت بجھواٶ۔۔ اور مجھے سب سچ سچ بتاٶ۔۔ تم۔۔۔ کیسے اس سب میں پڑی۔ کیا کیا جانتی ہو۔۔؟؟ آہان پریشان ہوا تھا۔

آہان۔۔۔! جسطرح تم ایک ایجینٹ ہو ۔۔ اور ملک کے لیے لڑتے ہو۔۔ اسی طرح میں بھی ایک۔۔ سپاۓ گرل ہوں۔۔ ہاں۔۔میرے اوپر کوٸ ٹیگ نہیں لگا۔ جسطرح تمہیں ڈیڈ کی سپورٹ ہے۔ مجھے نہیں ہے۔لیکن میں اکیلے۔۔ اپن بل بوتے پے اس ملک کے دشمنوں کا نام و نشان مٹا رہی ہوں۔ اور مٹاتی رہوں گی۔ چاہے۔۔ مجھے کسی کے اگینسٹ ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔

رسان اور سنجیدگی سے آہان کو کہتی وہ وہاں سے جانے لگی۔

بے وقوف سمجھ رکھا ہے مجھے کیا۔۔۔؟؟ آہان نے اسکی کلاٸ سے اس پکڑ کے اپنی اور کھینچا۔ کہ وہ ڈبڈباٸ آنکھوں سے دیکھتی اسکی آنکھوں کی تپش کو چہرے پے محسوس کرتی لب بھینچ گٸ تھی۔

تم نے اسپیشل ٹریننگ لی ہے۔ بلیک بیلڈ ہو تم۔۔۔ مارشل آرٹس جانتی ہو۔۔ اور ہ سب بنا ایکسپرٹ ٹرینر کے تو نہیں ہو پاتا۔ تم اکیلی نہیں ہو ۔۔ کوٸ اور ہے جو تمہیں۔۔۔ سپورٹ کر رہا ہے۔۔۔! آہان نے یقین سے کہا۔

ہانیہ نے غصہ سے اپنی کلاٸ چھڑاٸ۔

ہاں۔۔ کر رہا ہے۔۔! جب اپنے غیر بن جاٸیں اور سپورٹ نہ کریں۔ تو غیر ہی کام آتے ہیں۔

اجنبیت سے کہتی وہ دوزے ک طرف بڑھی۔

تم غلط کر رہی ہو ہانیہ۔۔! آہان نے اسے روکنا چاہا۔

صحیح کیا ہے پھر تم بتادو۔۔۔؟ وہ غصہ سے اسکی جانب مڑی تھی۔

مت کرو کسی غیر پے بھروسہ۔۔۔! کب کہاں دھوکہ دے جاۓ۔۔۔ اور اکیلا چھوڑ دے تو۔۔ تب کیاکرو گی۔۔؟؟ وہ اب اسے پیار سے سمجھانے لگا۔

بھروسہ تو تم پے بھی نہیں کر سکتی۔۔! مجھے تو تم سے بھی یہی امید ہے۔۔ کب کہاں دھوکا دے جاٶ۔۔۔؟؟ اسکیآنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا۔ ایک پل کو تو آہان چپ ہی ہو گیا۔

اگر میں بھروسہ دوں۔۔۔؟؟ تو کیا کرو گی۔۔ مجھ پے بھروسہ۔۔؟؟ آہان نے دل سے اسے کہا تھا۔ہانیہ نے الجھتے ہوۓ اسے دیکھا۔

میں تمہیں اپنے ساتھ مشن میں شامل کرتا ہوں۔ لیکن۔۔ میری ایک شرط ہے۔۔۔! آہان نے اسکے دل کی بات سمجھتے اسے قابو کرنا چاہا ۔

مطلب۔۔۔؟؟ کیسی شرط۔۔۔؟؟ سینےپے بازو باندھتی ماتھے پے بل ڈالے وہ لڑکی آہان کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔

تمہیں میرے انڈر میں کام کرنا ہوگا۔ خود سے کوٸ فیصلہ نہیں لو گی۔ جو بھی بات ہوگی۔ مجھ سے نہیں چھپاٶ گی۔ اور میری اجازت کے بنا کوٸ قدمنہیں اٹھاٶ گی۔

آہن نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔

ہانیہ سوچ میں پڑ گٸ۔

میری بھیایک شرط ہے پھر۔ اب اس نے بھی دماغ کے گھوڑے دوڑاۓ تھے۔وہ اسکو اپنا پابند کر رہا تھا۔ تو باری اب اسکی بھی تھی۔

آہان نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔

تم مجھے اپنے ساتھ رکھو گے۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔! جہاں بھی جاٶ گے۔۔۔جدھر بھی۔۔۔ مجھے ہر لمحہ ساتھ رکھو گے۔۔۔ہر لمحہ۔۔۔ہر ۔پل۔۔۔۔ بولو منظور ہے۔۔؟؟ اس کے قریب ہوتے پوچھا۔

آہان اسکی سوچ پے دل ہی دل میں مسکرایا ۔

اور رخ پھیرا۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ نہیں منظور۔۔؟؟ اسکا رخ اپنی طرف کرتے ایک آٸ برو چڑھاتے پوچھا ۔

نہیں ایسی بات نہیں۔۔ بس ۔۔ڈر لگتا ہے۔۔ دھیرے سے کہا۔

کیسا ڈر۔۔۔؟ ہانیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔

چوبیس گھنٹے ساتھ رہنے سے۔۔ کہیں تمہیں مجھ سے ۔۔محبت نہ ہوجاۓ۔۔۔! آہان رات والی ٹون میں واپس لوٹ آیا تھا ۔

اوہ۔۔۔ ناٹ آگین۔۔۔ آہان۔۔۔! ایسا دماغ سے نکال دو۔۔۔! تم سے کبھی محبت نہیں ہو گی مجھے۔ وہ بہت روانی سے کہہ تو گٸ تھی۔ لیکن اندر ہاندر اسکا دل اس بات کی نفی کر رہا تھا۔

اور اگر مجھے ہو گٸ تو۔۔۔؟ أب کی بار آہان نے اسے کمر میں ہاتھ ڈالے اپنے قریب کیا۔ اتنا قریب کے دونوں کی سانسیں الجھی تھیں ایک دوسرے سے۔ ہانیہ کا دل زور زور سے دھڑکا تھا۔ فوراً سے آنکھیں بند کیں تھیں۔

مت الجھو مجھ سے۔۔۔جانم۔۔۔

محبت ہوگٸ۔۔۔ تو تم تم نہیں رہو گی۔۔۔

مجھ میں شامل ہوگٸ تو۔۔۔

قطرہ قطرہ اپنا آپ تم میں شامل کر دوں گا۔۔۔

اسکی باتوں سے ہانیہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ لیکن اپنے جذبات پے قابو رکھتی وہ اس کی گرفت سے آزاد ہوٸ۔

آ۔۔۔۔ہاننن۔۔۔۔ دور رہ کے بات کیا کرو۔۔۔! اپنے بالوں ک ٹھیک کرتی وہ رخ پھر کے بولی۔ جبکہ فل کی دھڑکنیں تھیں کہ انتشار برپا کیا ہوا تھا۔

مجھےایسا کیوں لگ رہا ہے۔۔؟؟ کہیہ دل ابھی سے میرے نام پے دھڑکنے لگا ہے۔۔؟؟

اسکے کان کے پاس ہوتے دھیرے سے سرگوشی کرتا وہ اپنے ہونٹوں کا لمس بھی اسکی کان کی لو پے چھوڑتا پیچھے ہٹا۔

ہانیہ کو تو جیسے کرنٹ سا لگا۔ سیدھا دل کے تار چھڑے۔۔۔۔اپنیجگہ سے ہل بھی نہ سکی۔

وہ کوٸ بات کرتی۔ کہ آہان کے نمبر پی کال آنے پے دونوں چونکے۔

بھیگے ہونٹ تیرے۔۔۔پیاسا دل میرا۔۔۔

اف۔۔۔ چینج کر دو اس ٹون کو۔۔۔

ہانیہ نے ماتھے پے ہاتھ مارتے زچ آتے کہا۔ تو وہ مسکراتا ہوا کال اٹینڈ کرنے لگا۔

آگے کی خبر سنتا وہ فوراً سیریس ہوا۔

میں آرہا ہوں۔۔!فوراً سے کال بند کرتا وہ باہر کی جانب بڑھا۔

میں بھی ساتھ جاٶں گی۔ ہانیہ پیچھے ہی ہولی۔

جبکہ جیے ہی وہ ڈاٸننگ ہال میں پہنچے انکو یوں آگے پیچھے آتا دیکھ سبھی ایک لمحے کو حیران ہوۓ۔

سب کو یک ساتھ ناشتے کیٹیبل پے دیکھ آہان جھٹکے سے رکا تھا۔ جبکہ پیچھے سے تیزی سے آتی ہانیہ اسکی چوڑی پشت سے بری طرح ٹکراٸ۔

اب رک کیو ں گۓ۔۔۔؟؟ ماتھا توڑ دیا میرا۔۔۔چلو۔۔۔؟؟؟ باقی کے الفاظ اسکے منہ میں رہ گٸے۔ جب سامنے سب کو اپنی اور آہان کی طرف دیکھتے ہوۓ پایا۔

السام علیکم ۔۔۔۔ہانیہ نے فوراً سلام کیا۔

جو بھرپر انداز میں جواب آیا۔

ساتھ ہی لمظ اور ارحام کی ہنسی چھوٹ ہی گٸ۔

واٶ۔۔ا یک اور ٹام اور جیری کی جوڑی۔۔۔! اور ہمیں پتہ ہی نہ تھا۔

لمظ نے قدرے اونچی آواز میں کہا۔

ابتسام آہان کے چہرے کے تاثرات جانچنے لگا۔

کہیں جا رہے ہیں۔۔۔؟ ابتسام نے دھیرے سے پوچھا۔

جی۔۔ وہ۔۔۔ ہانیہ او میں ۔۔ آج باہر ریسٹورنٹ می ںبریک فاسٹ کرنے کا ارادہ ہے۔۔ٹیبل بکڈ کروایا ہے۔ تو ۔۔ وہیں۔۔۔؟؟ آہان نے قدرے اعتماد سے جھوٹ بولا۔

کپلز۔۔۔ کینڈل لاٸٹ ڈنر کرتےہیں۔۔ اور یہ۔۔۔ سن شاٸن می ںبریک فاسٹ کریں گے۔ہاٶ۔۔ سویٹ۔۔۔! لمظ نے پھر لقمہ دیا۔

آہان اور ہانیہ دونوں ہی خجل سے ہوۓ۔

ڈیڈ ۔۔! ہم جاٸیں۔ ؟ آہان نے ابتسام سے پوچھا۔

ہمممم۔۔ خیال رکھنا۔۔۔! انہوں نے کس سینس میں یہ کہا۔ ہانیہ نہ سمجھ پاٸ۔ لیکن آہان سمجھ گیا تھا سر اثبات میں ہلاتا۔ ہانیہ کا ہاتھ تھامتا مسکراتا ایک آنکھ لمظ اور ارحام کو ونک کرتا وہ باہر نکلا۔

باہر نکلتے ہی ہنیہ نے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔

کیا ہر جگہ شروع ہو جاتے ہو۔۔؟؟ ہاتھ پکڑنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟؟ وہ خفگی سے بولی۔

دونوں گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ جبکہ اوپر ونڈو سے ابرش نے انہیں یوں نوک جھونک کرتے دیکھا تووہیس تھم سی گٸ۔

اوہ۔۔۔۔اچھا۔۔۔ تو زوجہ محترمہ چاہتی ہیں۔۔کہ صرف کمرے میں ہی شروع ہوا کروں۔۔۔؟؟ ہیں ناں۔۔ ؟

ہر بات کا الٹ مطلب لینا تم۔۔۔! ہانیہ خفگی سے بولی تھی۔ جبکہ آہان نے مسکراتے ہوۓ گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔

یہ صبح صبح دونوں کہاں جا رہے ہیں۔۔؟ ابرش حیران ہوٸ تھی۔ اور دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کے کچھ زیادہ ہی پریشان ہو رہی تھیں۔

ایک مشرق تھا تو دوسرا مغرب۔۔۔ !

مشق اور مغرب کا ایک ساتھ ہونا۔۔؟؟ ابرش کو کچھ ہضم نہ ہوا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

صبح بے وقت آنکھ کھلی تو آنیہ کو گہری نیند میں سوۓ دیکھا۔ جس کا چہرہ بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ اور آدھا چہرہ ہی نظر آرہا تھا۔۔ صاف شفاف گردن پے نظر پڑی تو اپنی زبان دانتوں تلے زبان دباٸ۔ آگے جھک کے اپنی شدتوں کے نشان پے لب رکھے۔ اور پھر اسکی کلاٸ تھامی۔ جہاں اسے اسٹیچز لگے ہوۓ تھے۔ اپنے دٸے ہوۓ زخموں پے اپنے لبو ں کا مرہم رکھتے وہ اسکی محبت میں پور پور ڈوبا ہوا تھا۔

بالآخر محبت کی جیت ہوٸ تھی۔ وہ زرا کی زرا کسماٸ تھی۔ لیکن گہری نیند میں تھی۔ کچھ ہی دیر پہلے تو وہ سوٸ تھی میر نے اسکے ماتھے پے محبت سے لب رکھے۔ اور بستر چھوڑتا اٹھا تھا۔ موباٸل پے کال چیک کی تو ایک مسڈ کال تھی۔ ماتھے پے دو بل پڑے۔لیکن موباٸل ساٸیڈ پے رکھتا شاور لینے چلا گیا۔ فریش ہوتا واپس لوٹا ۔ تو مسز ابھی بھی گہری نیند میں تھیں۔

تیار ہوتا گاہے بگاہے نظر آٸینے سے اس پے بھی ڈال لیتا۔ وہ آفس جانے کے لیے تیارہو چکا تھا۔آ ج وہ لیٹ ہو گیا تھا۔ لیکن آنیہ کو یوں چھوڑ کے جانے کا دل بھی نہ کر رہا تھا۔

اسکی جانب بڑھا۔ اسکے گالوں پے اپنے لبوں سے محبت بھرا بوسہ لیتا اسے نیند سے جگانے کا ارادہ کیا لیکن وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔ رخ سیدھا ہوتے ہی پوری رعناٸیوں سمیت ایک بار وہ پھر اس کے سامنے آشکار ہوٸ تھی۔ میر نے آنکھیں بند کیں۔

یہ لڑکی پھر مجھے بہکنے پے مجبور کر رہی ہے۔۔۔! خود سے بڑبڑایا۔

آپ۔۔۔؟؟ جاگ گۓ۔۔ ؟ مندی مندی آنکھوں سے آنیہ بس اتنا ہی کہہ پاٸ۔ اپنی حالت پے تو اسکی نظر ہی نہ پڑی۔

آفس جا رہے ہیں۔۔؟؟ اگلا سوال داغا۔

ہمممم۔۔ ارادہ تو یہی تھا۔۔ لیکن۔۔ آپ مجے بہکنے پے مجبور کر رہی ہیں۔۔۔! میر کی نظریں اسکے سراپے پے ہی ٹکیں تھیں۔

بھک سے آنیہ کی نیند اڑی۔ اپنے اوپر نظر پڑی تو فوراً کمفرٹر کھینچ کے سر تک تان لیا۔ وہ ہادی کی شرٹ پہنے ہوۓ تھی۔

اسکا یوں خود کو چھپانا۔ ہادی مسکراتے ہوۓ اٹھ گیا۔

آنیہ نے ایک نظر جھانک کے دیکھا۔ وہ اپنی چیزیں اٹھا رہا تھا۔

اسکی جانب دیکھتا وہ پلٹا تھا۔ کمفرٹر ہٹاتا اسکا گلنار چہرہ سامنے کیا۔

جلدی آجاٶں گا۔۔! اپنا خیال رکھنا۔ اسکے ماتھے پے اپنے لب رکھتے وہ پیچھے ہٹا تھا۔ کہ آنیہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

آپ۔۔۔ مجھ سے راضی ہیں ناں۔۔؟؟ بہت امید سے پوچھا۔

ایک پل کو میر کے چہرے پے سایہ لہرایا۔ لیکن اگلےہی پل مسکراتا اسکی جانب پلٹا۔ اور اثبات میں سر ہلاتا وہ اٹھا تھا۔ اور کمرے سے جا چکا تھا۔

نجانے کیوں آنیہ کو وہ ٹھیک نہ لگا تھا۔ وہ شاید اب بھی دل میں کوٸ بات رکھے ہوۓ تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔ کہ میسج ٹون بجی۔

میسج کھول کے دیکھا تو ماتھے پے بل پڑے۔

آج شام چھ بجے مجھ سے ملو۔۔۔ اگر۔۔ انکار کا سوچا۔۔ تو یا رکھنا۔۔ تمہارے پیرزادہ منشن سے لے کے میر ولا تک سب کو جانتا ہوں۔ ۔۔ اور کس کا کیا چلا جاۓ۔۔ اسکی زمہ دار تم ہو گی۔۔۔! اس لیے چھ بجے لازمی آنا۔۔ ورنہ۔۔۔ انجام کی زمہ داری تمہاری۔

نیچے اگلے میسج پے ایڈریس تھا۔

آنیہ نے موباٸل۔غصہ سے ساٸیڈ پے پٹخا۔

آخر یہ ہے کون۔۔؟ جو پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔۔۔؟

جاننا ہوگا۔۔ اور اسکا بھی اب کچھ کرنا پڑے گا۔ موباٸل اٹھاتی وہ ایک نمبر ڈاٸل کر رہی تھی۔ وہ اب ڈرنے یا گھبرانے والوں میں سے نہ تھی۔ اسے پتہ تھا۔ اسکا شوہر اسکے ساتھ ہے۔ اور وہ اب کوٸ بھی بے وقوفی نہیں کرنے والی تھی۔ اتنی اس میں سمجھ آگٸ تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨

آہان اور ہانیہ دونوں آہان کے سیکرٹ بنگلے پے پہنچے تھے۔ جہاں شان انکا ویٹ کر رہا تھا۔

اچھا ہوا آپ آگۓ۔۔۔! میں نہیں ںسنبھال پا رہا۔۔۔! اس نے اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کی ہے۔

ساتھ ساتھ چلتے شان ڈیٹیل بتا رہا تھا۔

کیسے۔۔۔؟ جب وہ بندھی ہوٸ تھی۔ تو کیسے خود کو۔۔۔؟ آہان غصہ ضبط کرتے بولا۔

اس نے رسیاں کھول لی تھیں۔ شان شرمندہ سا بولا۔

ایک کام ٹھیک سے نہیں ہوا تم سے۔۔۔! آہان بنا ہانیہ کا لحاظ کیے شان کو سنا گیا تھا۔ وہ ایک دم چپ سا ہوگیا۔

اندر بڑھے تو وہ اک کونے میں گھسی بیٹھی تھی۔

خبردار۔۔۔ خبردار جو میرے پاس کوٸ بھی آیا۔۔۔ میں خود کو جان سے مار ڈالوں گی۔

نور نے بپھرے ہوۓ انداز میں کہا۔

اسکے ہاتھ میں ایک تیز دھار آلہ تھا۔

آہان نے لب بھینچے شان کی جانب دیکھا۔اس نے نفی میں سر ہلایا۔ مطلب۔۔۔ وہ اس تیز دھار آلے کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔

نور۔۔۔ دیکھو۔۔ یہ مجھے دے دو۔۔۔! آہان نے آگے بڑھتے بہت پیار سے کہا۔

وہیں رک جاٶ۔۔۔ ! تم۔۔۔ تم۔دھوکے باز ہو۔۔۔ تم نے میرے جذبات کے ساتھ کھیلا۔

میں نے تم سے سچے دل سے محبت کی۔ اور۔۔ تم نے۔۔ تم نے کیا کیا۔۔۔؟مجھے یہاں قید کر دیا۔۔۔؟؟ وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوٸے بے انتہا غصہ سے بولی تھی۔۔

میں۔۔۔ نے کوٸ دھوکہ نہیں دیا۔۔ تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔اگر آج بھی تم۔۔ ہمیں ۔۔ سلطان کے اڈوں کا بتا دو۔۔ تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ اور جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا۔ ٹرسٹ می۔۔۔! آہان کہتے ہوۓ اسکی جانب بڑھا تھا۔ لیکن اسنے بھی سب بھانپ لیا تھا۔

دوررہ کے بات کرو۔۔۔ تم۔۔۔! وہ آلہ آہان کی جانب کرتے اس پے وار کرنا چاہ رہی تھی۔ آہان فوراً سے دو قدم پیچھے لے گیا۔ ہانیہ نے انکی باتوں کا فاٸدہ اٹھاتے نظر بچا کے نور کے پیچھے سے اسے دبوچا۔ اور اسکی گردن کو پکڑا۔ آہان ہانیہ کی حرکت سے سخت غصہ میں آیا۔ وہ اسکی جلد باز طبعت سے نالا ں تھا۔ بنا سوچے سمجھے سب کچھ کر دینے والی۔ ہانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کے مروڑا۔ وہ خود کو چھڑانے کے اسباب کر رہی تھی۔ شان آگے بڑھا۔ کہ آہان نے روک دیا۔ وہ خود بھی اب کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔

ہانیہ نے اسکے ہاتھ سے تیز دھارآلہ لینا چاہا۔ اور اسی اثنا میں وہ تیز دھار آلہ ہانیہ کے کندھے پے چلا گٸ۔ آہان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔

لیکن ہانہ ہمت نہ ہاری۔ اور ایک زور دار تھپڑ سے اسے زمین بوس کرتی وہ تیز دھار آلہ اس سے چھین چکی تھی۔

آہان نے شان کو اشارہ کیا۔ کہ وہ نور کو سنبھالے۔ شان اسے واپس اٹھاتا رسیوں سے باندھنے لگا۔

ہانیہ کاندھے پے ہاتھ رکھے آہان کی جانب بڑھی ۔ جو بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جو اپنا اور اسکا ضبط آزما رہا تھا۔ وہ درد سہتے ہوۓ تیز دھار آلہ اسکے سامنے کر گٸ۔ لیکن درد برداشت کرتے اسکا سر چکرایا۔ اور وہ وہی لڑکھڑاٸ آہان کی بانہوں میں جھول گٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

میر نے دو تین بار کال کی۔ اسی نمبر پے۔ لیکن نمبر بند آرہا تھا۔ کچھ سوچتے ہوۓ وہ پیرزادہ منشن کا رخ کرتا اب گاڑی روڈ پے ڈال چکا تھا۔ اسے اب سب جاننا تھا۔ جو وہ نہیں جان پارہا تھا۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

آہان اسے لیے اپنے اسپیشل روم میں آیا۔ اسکے بازو سے سے خون بہہ رہا تھا۔ آہان نے اسکی بازو چاک کی۔ اور زخم کامعاٸنہ کیا۔ شان نے سارا فرسٹ ایڈ کا سامن اسکے سامنے لا چھوڑا تھا۔ اور خود باہر نکل گیا تھا۔ زخم زیاہ گہرا نہ تھا۔ آہان نے اسکا زخم صاف کیا۔ اور اسکے زخم کی ڈریسنگ کی۔

اے ایک درد کا انجکشن بھی لگا دیا۔ اور وہیں کمفرٹر دیتا سارا سامان اٹھاتا واش روم کی جانب بڑھا۔ اسکے ہاتھو ں پے خون تھا۔ ہانیہ کا خون۔۔۔جو اسے تکلیف دے رہا تھا۔ اتنا خون بہاتھا۔ آہان کا دماغ بھک سے اڑا۔ اور وہاں سںے باہر نکلتا سیدھا نور کی جانب گیا۔ جہاں وہ قید تھی۔

درواہ کھولتے وہ سیدھا اسکی گردن کو قابو کرتا اسے دیوار کے ساتھ لگا گیا۔

تمہاری جرات کیسے ہوٸ۔۔۔ اس پے ہاتھ اٹھانے کی۔۔ اسے زخمی کرنے کی۔۔؟؟ اسکے جا رحانہ تیور دیکھ نور بہت بری طرح گھبراٸ۔

وہ خود کو چھڑا بھی نہ پا رہی تھی۔۔اسکےہاتھ بندھے ہوۓ تھے۔ اسکا سانس سینے میں ہی اٹک گیا۔

سر۔۔۔ چھوڑیں۔۔ اسے۔۔ مر جاۓ گی وہ۔۔۔!

شان نے بروقت آتے آہان کو ہوش دلایا۔

آہان نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتے دور پھینکا۔

وہ کھانستے ہوۓ آہان کو دکھتی نظروں سے دیکھنے لگی۔

کیا لگتی ہے ہے وہ تمہاری۔۔؟ جو اتنا تڑپ رہے ہو ۔۔؟؟

لہجے میں حقارت پن تھا۔

آہان ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا ایک بارپھر اسکی جانب بڑھا تھا۔ اور اسے گردن سے دبوچ کے اوپر کیا۔

وہ لڑکی سانسیں ہے میری۔۔! اسکے وجود سے اسکی روح تک ۔۔ میں اس کے اندر تحلیل ہوا ہوں۔ آہان مرزا کی جان ہے وہ لڑکی۔ سمجھی تم۔۔۔! کہتے ہی شان کے ہاتھ میں رکھی چپ آہان نے نور کی گردن کے پچھلے حصہ میں پیوست کی۔ وہ تو آہان کے لفظوں کی بازگشت میں ہی کھو گٸ تھی۔ اسے ہوش ہی نہ رہا۔ کہ آہان نے چپ اسکی گردن پے لگا دی۔ جو دھیرے دھیرے اسکے حواس سلب کرنے لگی تھی۔ آہان نے شان کو چپ کے ساتھ کنیکٹ ہونے کا اشارہ کیا۔ وہ سر ہلاتا کمپیوٹر روم کی جانب بڑھا ۔

تم۔۔تم۔۔ نے میرے ساتھ۔۔۔ بہت غلط کیا۔۔۔! سلطان۔۔ تمہیں۔۔۔ نہیں چھوڑے گا۔۔۔! ہوش و حواس کھوتے وہ بس اتنا ہی بول پاٸ تھی۔

تمہارا وہ باپ۔۔۔! اب میرے ہاتھوں بہت جلد۔۔ موت کی نیند سوۓ گا۔۔۔اسکی فکر اب تم مت کرو۔۔! کیونکہ اسے موت کے گھاٹ اتارنے میں سب سے اہم کردار تمہارا ہی ہو گا۔

نفرت اور غصہ سے کہتا آہان اسے ایک جھٹکے سے دیوار کے ساتھ مار گیا۔ کہ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگٸ۔ آہان نے شان سے کرنٹ سچویشن پوچھی۔

چپ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب صرف آدھا گھنٹہ اس کے بعد۔۔ یہ وہ کرے گی۔ جو ہم اس سے کروایں گے۔

شان نے خوشی سے بتایا۔

گڈ جاب۔۔ بڈی۔۔! آہان بھی کافی دیر بعد مسکرایا۔

سر۔۔۔! یہ۔۔۔سپاٸ گرل۔۔ آپ کے ساتھ۔۔؟؟ کچھ سمجھ نہیں آیا۔

بیوی ہے میری۔۔! کل رات نکاح میں لیا ہے اسے۔

آہان کے لہجے میں جنون سا تھا۔ شان اسکا جنون دیکھتا ایک دم چپ سا ہوگیا۔

کانگیجولیشنز سر۔۔۔! ہاتھ آگے بڑھایا۔ تو آہان نے مسکراتے ہوۓ اسے گلے سے لگایا۔

جبکہ دروازہ میں کھڑی ہانیہ انہی قدموں سے واپس مڑی۔

وہ لڑکی سانسیں ہے میری۔۔! اسکے وجود سے اسکی روح تک ۔۔ میں اس کے اندر تحلیل ہوا ہوں۔ آہان مرزا کی جان ہے وہ لڑکی۔ سمجھی تم۔۔۔!

ہانیہ ان الفاظ کی بازگشت اپنے اردگرد ہوتی محسوس کر رہی تھی۔

اسے آہان کے کمرے سے نکلتے ہی ہوش آگیا تھا۔ وہ سخت جان تھی۔ ایک سال کی ٹرننگ نے اسے مضبوط بنا دیا تھا۔

وقتی طور پے اسے تکلیف ہوٸ تھی۔ لیکن یہ زخم اسکے لیے بہت بڑا نہ تھا۔ وہ بھی آہان کے پیچھے ہی گٸ تھی۔ آہان کے الفاظ کی بازگشت کو وہ اپنے اندر اترتا محسوس کر رہی تھی۔

کیا واقعی میں۔۔۔؟ آہان مرزا۔۔۔؟ مجھ سے۔۔ ہانیہ۔۔۔ہانیہ ابتسام سے۔۔ محبت کرتا ہے۔۔؟؟

ہانیہ دل ہی ل میں خود سے سوال کرتے الجھ رہی تھی۔

نہیں۔۔۔ وہ ایساکیوں کرے گا۔۔؟؟ وہ بس مجھے ٹیس کرنا جانتا ہے۔۔ وہ ۔۔ جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔ وہ مجھ سے۔۔ پیار۔۔۔؟؟

ہانیہ۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھنا۔۔ پتہ چل جاۓ گا۔۔!

دل نے تاویل دی۔

کیسے دیکھوں۔۔؟وہ تو۔۔۔؟؟

انہی سوچوں میں غلطاں تھی۔کہ آہان اندر داخل ہوا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *