Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat (Episode 06)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

وہ مسلسل پاسورڈ کو ہیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن ہر بار ناکام ہو جاتی۔

کہ تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔

میں لگا دیتا ہوں۔پاسورڈ۔۔۔! کہتے ہی۔۔ ایک ہاتھ نے پاسورڈ ٹاٸپ کیا۔

پاسورڈ دیکھ ہانیہ کے تو چودہ طبق ہی روشن ہوگۓ۔

ہانیہ نے رخ پلٹ کے اسے دیکھے۔ جس کے چہرے پے خطرناک حد تک سنجیدگی تھی۔

آنکھوں میں تنبیہہ لیے آہان ہانیہ کو دیکھ رہا تھا۔

کہ ہانیہ کی نظر بے اختیار اسکے ہاتھ کی پشت پے گٸ۔ جہاں اس نے بینڈیج لگاٸ ہوٸ تھی۔ اسے کل چوٹ لگی تھی۔ ہانیہ کو بچاتے۔ اور ہانیہ نے پلٹ کےاس سے دوبارہ پوچھنا تک گوارا نہ کیا تھا ۔

مجھے۔۔۔ بس جاننا ہےکہ۔۔۔ فضا کہاں ہے۔۔۔؟؟ ہانیہ بنا ڈرے کھڑے ہوتے بولی ۔

وہیں۔۔ جہاں اسے ہونا چاہیے۔ بنا پلک جھپکے جواب دیا۔

پہیلیاں مت بجھواٶ۔۔ تم۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ اسکے قریب ہوٸ۔

آہان نے اسے نظر انداز کرتے اپنا موباٸل اٹھایا ۔ اور واپس پلٹا۔

جیسے اسکے بھاٸ تک پہنچی ہو۔۔ ویسے اس تک بھی پہنچ جاٶ۔ میری مدد کے بنا نہیں پہنچ سکتی کیا؟؟؟

ماتھے پے دو بل ڈالے وہ اسے سلگا گیا ۔

تم۔مجھے ۔۔۔ چیلنج کر رہے ہو۔۔۔؟؟ فارم میں آتےہانیہ نے اسے بغور دیکھا۔

یس۔۔۔۔! بنا کسی تردد کے دوبدو جواب آیا ۔

اوکے چیلنج ایکسپٹڈ۔۔۔! بارہ گھنٹے کےاندر تمہیں میں فضا تک پہنچ کے دکھاٶں گی ۔

چوبیس گھنٹے دیٸے۔ پہنچ جاٶ۔۔ اس تک۔۔۔ تو اسے تمہارے حوالے کر دوں گا ۔

وہ دونوں آمنے سامنےکھڑے ایک دوسرے کو چیلنج کرتے سخت گھوری سے نواز رہے تھے۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

گولڈن کلر کے لہنگے میں آنیہ گولڈن پری ہی لگ رہی تھی۔ ساتھ دلہا بنے بیٹھا میر ہادی چہرے پے سنجیدگی سجاۓ کسی ریاست کا مغرور شہزادہ ہی لگ رہا تھا۔ دونوں کی جوڑی سورج چاند کی سی تھی ۔

ابی جان نے صدقے کے بکرے منگواۓ۔ اور نظراتراٸ۔

کشش اور ابرش ایک ساتھ کھڑیں اپنے اپنےبچوں کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔

کشش۔۔۔! میری بیٹی ۔۔بہت معصوم ہے۔۔۔ اگر کبھی کوٸ بھول یاکوتاہی ہوجاۓ تو۔۔۔درگزر کرلینا۔

دھیرے سے کشش سے کہتے ابرش کی آنکھیں نم ہوٸیں۔

ابرش۔۔! آنیہ اب سے میر ی بیٹی ہے ۔ اور میرے ہادی کی زمہ داری۔ کبھی کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔

آگےبڑھ کے کشش نے ابرش کو گلے سے لگایا ۔

وہ ماں تھی۔ پریشان تھی۔دل میں ایک ڈر بھی تھا۔ لیکن اللہ سے دعا گو بھی تھی ۔ کہ انکی بیٹی کو کبھی کوٸ غم نہ پہنچے۔

ماں باپ بیٹی کو سب کچھ دے دیتے ہیں۔ لیکن اچھے نصیب کی صرف دعاہی دے سکتے تھے ۔

رخصتی کا شور اٹھا۔

رخصتی کا مرحلہ۔۔جو سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے چاہے وہ ماں باپ کے لیے ہو یا لڑکی کےلیے ۔

بابا کی پیاری ہوں۔۔۔۔

آنکھوں کا پانی ہوں۔۔۔

بہہ جانا ہے۔۔جسے۔۔۔

دو پل کہانی ہوں۔۔۔۔۔

ابتسام اور ابرش کے گلے لگتے وہ بہت روٸ تھی۔ ہانیہ نے گلے سےلگایا تو اسکی ہچکیاں بندھ گٸیں۔

سب سے باری باری ملتی وہ دعاٶں کے حصار میں رخصت ہوگٸ۔

ابتسام نے ابرش کو بانہوں کے حلقےمیں لیا ۔

نم آنکھوں سے شوہر کو دیکھا۔

ابتسام نے مسکرا کے اسے دیکھا ۔ دونوں کے ہی احساسات ایک جیسے تھے ۔

دل ہی دل میں بیٹی کے لیے دعاگو تھے۔

چلیں گھر چلتے ہیں ۔ ابتسام نے ابرش سے کہتے ابیجان کی طرف قدم بڑھاۓ۔انہیں ساتھ لیے وہ بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے گھر کی طرف روانہ ہوۓ۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

اپنے فون کو چیک کرتا وہ نیچے اتر رہا تھا۔ جب ایک لڑکی اس سے ٹکراٸ تھی۔ آہان نے فوراً سے اسے تھاما ۔

اوپس۔۔۔! سوری۔۔۔! ایک دلفریب ادا سے مسکراتی وہ آہان کو کچھ عجیب سی لگی ۔

آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟ آپ کو چوٹ تو نہیں آٸ۔

آہان نے نارمل انداز میں پوچھا۔

نو۔۔ہینڈسم۔۔۔! ایم اوکے۔ اسکا بے باک انداز دیکھ آہان سر جھکاۓ نیچے اتر گیا ۔ یہ جانےبنا کے ایک چپ وہ اسکے گردن کی ایک ساٸیڈ پے چپکا گٸ تھی۔

کام ہوگیا۔۔۔۔ کسی کو فون پے اطلاع دیتی وہ مسکراتی وہاں سے غاٸب ہوٸ تھی۔

سب کاموں سے فارغ ہوتا آہان بھی گھر کے لیے روانہ ہوا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

میر ولا میں پرتپاک انداز میں دلہن کا استقبال کیا گیا۔

کشش نے ایک لمحے کے لیے بھی آنیہ کو اکیلا نہ چھوڑا۔

ہر رسم وہ پورے شوق سے کرتی یامین کو زچ کر چکی تھی۔

یار اب ابس بھی کردو۔۔! اور کتنی رسمیں باقی رہ گٸ ہیں۔۔؟؟

بلآخر تنگ آتے یامین نے گھڑی پے ٹاٸم دیکھتےٹوکا۔

آپ کو نیند آرہی ہے تو آپ جا کے سوجاٸیں۔

کشش کے میٹھے جواب پے سبھی ینگ پارٹی نے ہوٹنگ کی۔ تو یامین کھسیانا ہوتا رہ گیا ۔

دوبارہ کشش کو نہ چھیڑا۔ وہ کہیں بھی کچھ کر سکتی تھی۔ کچھ بھی بول سکتی تھی ۔ اس سے کچھ بھی بعید نہ تھا۔ ہر لمحے اسے دادا جی کی سپورٹ تھی۔ اور یامین کے بے انتہا پیار اور لاڈ نے اسکی شخصیت کو مزید چار چاند لگا دیٸے تھے۔

بابا۔۔۔! میر ہادی کشش کی رسموں سے جان بچاتا میر یامین کے پاس آیا۔

بابا۔۔۔! آفس میں اکاٶنٹس کا کچھ مسٸلہ ہو گیا ہے۔ مجھے آفس جانا ہوگا۔

دھیرے سے کہتا وہ یامین کو چونکا گیا۔

کیا مطلب بیٹا۔۔۔۔؟؟ ابھی۔۔۔؟؟ آپ صبح دیکھ لینا۔ رات کے اس وقت۔۔۔؟؟ مناسب نہیں لگ رہا۔

بابا۔۔۔! پلیز۔۔۔ جانا ضروری نہ ہوتا تو۔۔۔ کبھی نہ کہتا۔

میر ہادی نے سمجھانےوالے انداز میں کہا۔

اور آپ کی مما۔۔۔؟؟ انہیں کون سمجھاۓ گا۔۔۔۔؟؟

میرے پیارے بابا۔۔۔ اورکون۔۔۔؟؟ ہادی مسکرایا۔

جلدی آجاٶں گا۔ بس آپ۔۔ مما کو سنبھال لینا۔

میر یامین سے کہتاوہ کشش کی جانب دیکھنے لگا۔ جو اب آنیہ کو روم میں لے کے جا رہی تھیں۔

ہممممم۔۔۔۔۔۔! ٹھیک ہے۔ جلدی آنا۔۔! یامین کی اجازت پے میر ہادی سر اثبات میں ہلاتا باہر نکلا۔ گارڈز الرٹ ہوگۓ۔ اس نے ایک نظر پلٹ کے اپنے پیارے میر ولا کودیکھا۔ اور باہرنکلتا چلا گیا ۔ ڈراٸیور سے التاج ہوٹل کے مین آفس کی طرف چلنے کو بولا۔ اور خود سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا لی ۔ خیالوں میں وہ چھوٸ موٸ سی لڑکی پھر سے آن سماٸ۔ تو ہاتھ پھر سے بے اختیار دل پے جا ٹھہرا۔

اسکا دل پھر معمول سے ہٹ کے رفتار پکڑ چکا تھا۔ اپنا یہ انجانا احساس سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔ وہ آج اپنے اہم لمحات کو قربان کر آیا تھا۔ اسکا آفس جانا ضروری تھا۔ جہاں بہت بڑی گڑبڑ چل رہی تھی۔ جو وہ اپنے بابا کو بھی نہیں بتا سکا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

آہان نے اپنے روم آتا شاور لینے کی غرض سے باتھ روم کا رخ کیا۔ شاور کھولے وہ اسکے نیچے آنکھیں بند کی کھڑا تھا۔ بالوں پے ہاتھ پھیرتے پانی کو جھٹکا کہ اچانک سے آہان کا ہاتھ اپنی گردن میں بیک ساٸڈ پے کسی چیز سے ٹکرایا۔ اسکے ماتھے پے بل پڑے۔ اپنی انگلی کی پوروں سے اس نے اس چیز کو جانچا۔ تو اسے فوراًاحساس ہوگیا کہ وہ کوٸ چپ جیسی چیز ہے۔ فوراً سے شاور بند کرتا وہ ڈریس اپ ہوتا باہر نکلا۔ شیشے میں کھڑا وہ اپنی گردن کا معاٸنہ کر رہا تھا۔ کہ اسے اپنے کمرے میں کچھ الگ سا محسوس ہوا۔ اسکی چھٹی حس بیدار ہوچکی تھی۔ آٸینے سے وہ اپنے بستر کو دیکھ سکتا تھا۔ جہاں تکیہ اپنی جگہ سے ہٹا ہوا تھا۔

مطلب یہاں کوٸ تھا۔ وہ سمجھ گیاتھا۔ لیکن چہرے سے کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔ اسے چپ کی زیادہ فکر تھی۔ جو اسکی گردن کے ساتھ اندر تک چپک گٸ تھی۔ اور گردن کی بیک ساٸیڈ پے تھی۔ جہاں سے وہ اسےکسی کی مدد کے بنا نہیں اتار سکتا تھا۔

رات کے اس وقت وہ ابتسام کو بھی نہیں تنگ کرنا مناسب سمجھ رہا تھا۔ اور چپ کو ہٹانا بھی ضروری تھا۔ وہ کس چیز کی چپ تھی۔ اسے یہ بھی جاننا تھا۔

وہ دراز سے کچھ چیزیں نکالتا بیڈ پے آ کے بیٹھتا آنکھیں بند کیے چپ کا معاٸنہ کرنے لگا ۔ کہ اسے پردے کے پیچھے کوٸ ہلچل محسوس ہوٸ۔

آہان لب بھینچے اٹھا۔ اس نے پردہ ہٹایا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی۔

کیا مسٸلہ ہے تمہارا۔۔۔ ؟ سکون نہیں۔۔۔ اپنے زون میں۔۔؟

ماتھےپے بل ڈالے وہ ہانیہ سے مخاطب ہوا۔

ہانیہ خاموشی سے باہر نکل آٸ۔

زیادہ طنز بازی مت کرو۔۔۔! کچھ بھی نہیں چرایا میں نے تمہارا۔ وہ ہانیہ ہی کیا جو زرا بھی شرمندہ ہوجاۓ۔

مجھے لگا۔۔ بہن کی رخصتی پےاس قدر شدید رونے والی لڑکی۔۔۔ اب بھی کہیں بیٹھی آنسو بہا رہی ہوگی۔۔۔ لیکن ۔۔ تمہیں دیکھ کےتو کہیں سے نہیں لگتا۔۔۔ کہ تمہیں زرا بھی بہن کی رخصتی کا دکھ ہو۔۔؟؟

طنز کا ایک اور تیر پھینکتا وہ واپس بیڈ پے آن بیٹھا۔

آہان کو وہ چپ جلد کے اندر جاتی محسوس ہو رہی تھی۔ آہان نے موباٸل کھولتے نیٹ پے سرچ کیا۔ جہاں اسے چپ کے بارے میں کچھ انفارمیشن تو ملیں۔ لیکن زیادہ نہ جان سکا۔

واقعی۔۔۔! کسی نے سچ ہی کہا ہے۔ یہ پاکستان ہے۔۔۔ یہاں۔۔ اگر کوٸ اداس ہو یا بیمار ہوتو۔۔ منہ بھی ویسا ہی بنانا پڑتا ہے۔

منہ بنا کے کہتی وہ آہان کو دیکھنےلگی۔ جو کہ کچھ اپ سیٹ سا لگا۔

اس نے ہانیہ کی بات کا جواب نہ دیا۔ ہانیہ اسکی غیر معمولی خاموشی محسوس کرتی اسکےپاس آٸ ۔ جو چھوٹا سا آٸینہ لیے بیٹھا تھا۔ اور اسکے ہاتھبمیں کچھ اوزار بھی تھے۔

ہانیہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔

اوزار میں سے ایک باریک پلاس اٹھاتا۔ وہ اٹھا اور آٸینےکے سامنے جا کھڑا ہوا۔ ہانیہ بھی اسکےپاس جاکھڑی ہوٸ۔ اسکی حرکات و سکنات دیکھنےلگی۔

کیا۔۔۔کیا کر رہے ہو تم۔۔۔؟؟ اسے پلاس کو پیچھے گردن کی طرف لےجاتے دیکھ وہ گھبرا کے بولی ۔ لیکن آہان نے اسکی بات پے توجہ نہ دی اور پلاس کی مدد سے چپ نکالنی چاہی۔ گردن جھکاۓ وہ اندازے سے آنکھیں بند کیے وہ چپ نکالنا چاہ رہا تھا۔ لیکن بے سود ثابت ہوا

۔ کیا۔۔۔۔۔ کیا نکال رہے ہو۔۔۔؟ کوٸ شیشہ چبھا ہوا ہے۔۔۔؟؟ تو ڈاکٹر گری کیوں کر رہے ہو۔۔؟؟ ڈاکٹر کے پاس چلے جاٶ۔۔۔۔! ہانیہ اسکے چہرے پے درد کے احساسات دیکھ چکی تھی۔

اپنا۔۔منہ بند رکھو۔۔۔! اور جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔۔! آہان نے درد کی شدت بمشکل ضبط کرتے ہانیہ سے دھیمی آواز میں کہا ۔

ہانیہ چپ سی ہوگٸ۔ آہان نے ایک بار پھر کوشش کی۔ لیکن ناکام رہا۔ وہ چپ اگر اسکی جلد کے اندر چلی گٸ تو ۔۔۔ ؟؟ سب کچھ ختم ہوجاۓ گا۔ کوٸ تھا جو اسے اپنے اشاروں پے چلانا چاہتا تھا۔ اور یہ چپ اسی کا حصہ تھی۔ جس نے بھی لگاٸ تھی۔ آہان اس تک پہنچ جاتا ۔ لیکن ابھی اسے اس چپ سے جان چھڑانی تھی۔ اس کے پاس اتنا وقت نہ تھا۔ کہ وہ اپنےکسی ساتھی کی مدد لے سکے۔ آہان محسوس کر سکتا تھا۔ کہ وہ چپ اسکی جلد میں پیوست ہوتی اس کے تمام احساسات کو ختم کر رہی تھی۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ اسکی جلد کے اندر جاتے ہی اسکے دماغ کو اپنے قابو میں کر لیتی۔ اور وہ پھر ۔۔ آہان نہیں رہنا تھا۔

شدتِ درد اور غصہ سے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پے پڑیں ساری چیزیں زمین بوس کر دیں۔ ہانیہ جو واپس جانے کےلیے دروازہ کی جانب بڑھی تھی۔ آہان کی حالت دیکھتے وہ واپس پلٹی تھی۔ اسے آہان صحیح نہ لگا تھا۔ کچھ تو تھا اسکے ساتھ۔ جو وہ اسطرح کر رہا تھا ۔

کیا۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔یہ۔سب۔۔۔؟ ہانیہ نے ماتھےپے بل ڈالےپوچھا۔

تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔؟ جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔! وہ جو آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ ہانیہ کا واپس آنا اسے مزید غصہ دلا گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ ہانیہ یہاں ہو۔ وہ اپنے غصہ سے اسے کوٸ نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔

اچانک سے اسکے جسم کا ٹمپریچر بڑھنے لگا۔ اس نے شرٹ اتار کے دور پھینکی۔ اکا بس نہیں چل رہا تھا۔ اپنے جسم کو نوچ پھینکے۔

میں۔۔ ڈیڈ کو بلا کے۔۔؟؟ ہانیہ کواسکی حالت بالکل ٹھیک نہ لگی۔ وہ گھبراٸ سی دروازے کی جانب مڑی کہ آہان نے اسے کھینچ کے ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگایا ۔ اسکی آنکھیں لال ہوچکی تھیں۔ وہ خود کو اپنے حواس میں نہیں محسوس کر رہا تھا۔

وہ چپ اپنا کام دکھانا شروع ہوچکی تھی۔

ہانیہ اسکے یوں کھینچنے پے تلملاٸ۔ لیکن اسکی آنکھیں دیکھ ٹھٹھک گٸ۔

ہیلپ می۔۔۔۔! اسکے دھیرے سے کہے الفاظ ہانیہ کو اپنی سماعت پے شک ہوا۔

آہان۔۔۔اس سے ہیلپ مانگ رہا تھا۔۔۔۔؟؟

پلیز۔۔۔۔؟؟ کہتے وہ اسکے اوپر گرنےوالےانداز میں سر گرا چکا تھا ۔

ہانیہ نے اسکا سر اپنے کندھےسےاٹھایا۔اور اس کا چہرہ اپنےہاتھوں میں لیا ۔ آہان کی تکلیف پے اسکا دل کٹ رہا تھا۔ لیکن اسے ہوا کیا تھا۔۔۔؟؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

آہان۔۔۔۔؟؟ آہان۔۔۔؟ آنکھیں کھولو۔۔۔؟؟

وہ گھبرا گٸ تھی۔ وہ بمشکل اپنے سہارے کھڑا تھا۔ لیکن اسکے پیروں سے جیسے جان نکل رہی تھی۔ وہ چاہ کے بھی حواسوں میں نہیں آپا رہا تھا۔

ہانیہ کاہاتھ تھامےوہ اسکا ہاتھ اپنی گردن کی بیک ساٸیڈ پےلےگیا۔ جہاں ہانیہ کو کچھ محسوس ہوا ۔

اسے ریمو کر دو۔۔۔! اسکے ہاتھ کو چھوڑتے بےبس ہوتے دھیرے سے ہانیہ کے کان میں کہتا وہ آنکھی پھر سےبند کر گیا۔

ہانیہ نےاسے بیڈ الٹا لٹایا ۔ اور اسکی گردن پے اس چیز کو چیک کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں اسے آٸیڈیا ہوگیا۔ کہ وہ کوٸ چپ ہے۔ اور اسے آہان کی گردن سے نکالنا تھا۔

آہان کے بیگ سے اپنے مطلب کے اوزار نکالے وہ اب اپنے کام میں لگ گٸ تھی۔ اسے اس چپ کو نکالنےمیں بہت وقت اور طاقت لگ رہی تھی۔ لیکن بے سود ثابت ہو رہی تھی۔ جبکہ آہان اپنے ہوش و حواس کھو رہا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

وہ جیسےہی اپنےگارڈز کے ہمراہ آفس پہنچا۔ اپنے آف میں وہ کسی کی موجودگی محسوس کرسکتا تھا۔

اپنے گارڈز اور دو ساتھیوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے آفس کے دروازے کو کور کر لیا تھا ۔ اپنی جیب سے گن نکالتے میر ہادی نے آفس کے دروازے کو ٹانگ مارتے کھولا تھا۔ سامنے ہی دو لوگ ماسک پہنے نظر آۓ تھے۔ انہوں نے فاٸر کیا۔ تو دوسری طرف سے میر ہادی نے بھی اپنے گارڈز کے ساتھ ان دونوں کا مقابلہ آمنے سامنے آتےکیا۔

وہ دونوں لوگ گولیاں لگنے سے ڈھے گۓ تھے۔ لیکن اس اثنا میں ایک گولی میر ہادی کی بازو کو چھوتے ہوۓ نکلی تھی۔ وہ شدید تکلیف سے اندر تک تڑپ گیا تھا۔

بے اختیار کشش کا چہرہ آنکھو ں کے آگے لہرایا ۔

اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔۔؟؟ ماں کیا کرے گی۔۔۔؟؟ ایک دکھ وہ اٹھا چکی ہے۔۔۔ ایک دکھ اور مل گیا تو۔۔۔ وہ تو ۔۔ زندہ نہیں بچے گی۔۔۔۔؟

میر ہافی نے خود کو صرف اپنی ماں کے لیے بچایا۔ جن سے وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتا تھا۔ اور ان کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ کچھ بھی۔

سر۔۔! آپ کو گولی لگی ہے۔ عزیز بے چین ہوتا اس تک پہنچا تھا۔

میں ٹھیک ہوں۔۔ ! بس ۔۔چھو کے گزری ہے۔ ان دونوں کو زندہ رکھنا ہے۔۔ مرنے نہیں چاہیں۔

سرد لہجے میں کہتا وہ ان دونوں کے بے ہوش وجود پے ایک کرخت بھری نظر ڈالتا باہر نکلا۔

لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی عزیز اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ اسکی بینڈیج کروا کے خود گھر چھوڑنے آیا۔

عزیز۔۔۔! اس بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ سمجھے۔

اسے وان کرتے وہ نیچے اترا۔

اندر آتے ہی سب سے پہلے یامین سے سامنا ہوا۔ جو اسی کا انتظار کر رہا تھا۔

بیٹا۔۔۔؟؟ اتنی دیر۔۔۔؟؟ سب خیریت ہے ناں۔۔۔؟؟؟

جی بابا۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔ اب سب ٹھیک ہے۔ اپنی تکلیف چھپاتا وہ مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔

ٹھیک ہے بیٹا۔ آپ جاٸیں ۔۔ صبح بات کریں گے۔

یامین نے اس کے سر پے پیار سے ہاتھ پھیرتے مسکرا کےکہا تو اس نے اپنے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھاۓ۔

میرہادی کے کمرے میں جانے کے بعد میر بن یامین سکندر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

ایسی ہی ایک رات تھی جب ان کی زندگی میں بہت بڑا طوفان آیا۔ اور انہیں اپنی ایک اولاد سے ہمیشہ کے لیے چھین کےلے گیا تھا۔ وہ رات کوٸ بھی نہیں بھول پایاتھا۔ کشش نے سب سے زیاہ اثر لیا تھا۔ لیکن یامین اور میر ہادی کی محبت نے اسے اس غم سے نکالا تھا۔

اس کے نروس بریک ڈاٶن کے بعد وہ بمشکل سرواٸیو کر پاٸ تھی۔ یہی وجہ تھی۔ کہ شوہر اور بیٹا اسی کے لیے جیتے تھے۔ اسکی خوشی کے لیے جیتے تھے۔ اسے کھونے سے ڈرتے تھے۔ اپنا غم ایک دوسرے سے بانٹ لیتے تھے۔ لیکن کشش کے سامنے ہمیشہ خوش رہتے تھے۔

میر ہادی ہی ان کے جینے کی وجہ تھا۔ ان کا اکلوتا بیٹا۔اور میر یامین میر ہادی کا خیال اپنی کشش کے لیے بھی کرتا تھا۔ اگر کشش اسکی جان تھی۔ تو اسکی کشش کی جان میر ہادی تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

کشش اسے روم میں چھوڑ کے جا چکی تھی۔ کافی دیر تک وہ میر ہادی کا انتظار کرتی رہی ایک گھنٹہ دو گھنٹے۔۔۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گٸ۔

میر ہادی تقریباً صبح کے تین بجے گھر لوٹا تھا۔ روم میں آتے ہی اسکی نظر بے خبر سوۓ وجو پے جا ٹہری۔

وہ اپنی زندگی کے حسین لمحات اپنی شریکِ حیات کو شادی کیپہلی رات ہی اکیلا چھوڑ کے اپنے ہی کام سے نکل گیا تھا۔

دل میں پھر سے ہلچل ہوٸ۔ رخ پھیرا۔ اور آٸینے کے سامنے کھڑا ہوتا جیکٹ اتارتا اپنی شرٹ چینج کرنے لگا۔ جو خون سے بھری ہوٸ تھی۔

دھیرے دھیرے اس نے بازو کو اتارا۔ اور زخم کا معاٸنہ کرنے لگا۔ اس پے بینڈیج تھی۔ شکر تھا کہ زیاہ گہرا زخم نہ تھا۔ شرٹ چینج کرتا وہ لاٸٹس کو آف کرتا بیڈ کے دوسری جانب نیم دراز ہوا۔ مدھم روشنی میں اسے آنیہکا صاف و شفاف چہرہ اسکا دلہنوں والا سراپا اسکے دل کی زنیاکو ہل کے رکھ گیا تھا۔ جی چاہا اے جگا کے اپنے جذبات سے آشنا کرے۔ اسے بتاۓ کہ وہ اسکے لیے کتنی ضروری ہے۔

کہ تبھی ایک تھپڑ کی گونج اسے سناٸ دی۔

ہاں وہی تھپڑ جو آنیہنے انجانے میں میر ہادی پے اٹھایا تھا۔ دل ایک دم سے سخت ہوا تھا۔ سیدھا ہوتا وہ رخ پھیر گیا۔

سارے احساسات اپنی جگہ۔۔۔ ! لیکن میر ہادی وہ تھپڑ نہیں بھول سکتا۔ واپس اسکی طرف دیکھتا وہ پھر سے بے اختیار ہوا تھا۔ اپنی آنکھو ں میں اسکا چہرہ بساۓ وہ نیند کے انجکشن کے زیرِ اثر جلد ہی سو گیا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ابر۔۔۔! دیکھ کے۔۔۔؟؟ کیا ہوا ہے۔۔۔؟ وہ جو واش روم سے باہر نکلی تھی۔ ٹھوکر کھا کے گرنے لگی تھی۔ کہ پاس کھڑے ابتسام نے تھام لیا۔

میں ۔۔۔؟؟ وہ الجھی سی لگی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ ابتسام نے اسکا ماتھا چیک کیا۔

میں ٹھیک ہوں۔۔۔! وہ ابتسام کے پاس سے ہٹتی بیڈ پے جا بیٹھی۔

آنیہ۔۔۔۔! ٹھیک ہوگی ناں۔۔؟؟ ہم۔۔نے ۔۔ جلد بازی تو نہیں کر دی۔۔؟؟ وہ ابھی۔۔۔ چھوٹی تھی۔۔ صرف تیٸس سال کی تو ہے۔۔ اور ہم۔۔نے اسکی ۔۔شادی۔۔؟

پریشان مت ہوں۔۔ ! ہماری آنیہ بہت سمجھدار ہے۔ وہ سب ہینڈل کرلے گی۔ ابتسام نے اسکے پاس بیٹھتے اسکا ہاتھ تھامتے پیار سے کہا ۔

اسکا۔۔کوٸ فون نہیں آیا۔۔۔؟؟ ایک فون تو کر سکتی تھی نا۔۔؟؟ ابرش کی اپنی ہی منطق تھی۔

کیا ہوگیا۔۔۔ ابر۔۔۔؟ آج ہی تو اسکی رخصتی ہوٸ ہے۔ اور وقت دیکھا ہے۔۔آپ نے۔۔؟؟ صبح کر لے گی فون۔۔۔ ! آپ سب ماٸیں بھی عجیب مخلوق ہو۔۔۔ ! پہلے بیٹی کی شادی کی فکر کھاۓجاتی ہے۔ پھر اسکو رخصت کر کے زیادہ اسکے گھر بسے رہنے کی فکر میں گھلتی رہتی ہیں۔۔۔! ابتسام نے اٹھتے ہوۓ مزے سے تبصرہ کیا۔

بیٹیوں کے نصیب سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ اللہ اس دنیا کی ساری بیٹیوں کے ساتھ میری دونوں بیٹیوں کے نصیب بھی اچھے کرے۔ ۔۔ دل سے کہتی وہ ابتسام کو واقعی میں آج ماں لگ رہی تھی۔

آمین۔۔۔! ابتسام نے دل سے کہا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ہانیہ نے زور لگا کے ایک ہی جست میں وہ چپ کھینچ کے نکالی تھی۔ کہ ایک بار تو وہ اپنا توازن ہی کھوگٸ اور بیڈ سے نیچے جا گری۔

ایک بایک پلاس میں اسنے وہ چپ ہاتھ میں تھامی ہوٸ تھی۔ ہانیہ نے اس چپ کو غور سے دیکھا۔

وہ ایک کیڑے نما چپ تھی۔ جیسے بچھو ہوتا ہے۔ اسکی بھی باریک ٹانگیں تھیں۔ سوٸ کی طرح۔ ہانیہ کو اسے دیکھ بچھو کا گماں ہی ہوا تھا۔ ایک ہاتھ سے سے پلاس میں تھامے دوسرے سے انگلی لگا کے اسے چیک کرنا چاہا کے ایک دم سے آہان نے اسکی کلاٸ تھام لی۔ ہانیہ نے نیچے بیٹھے ہی اوپر کیجانب فیکھا جہاں آہان واپس اپنے ہوش و حواس میں لوٹ آیا تھا۔

آہان نے پلاس سمیت وہ چپ ہانیہ کے ہاتھ لی۔ اور ایک جار میں بند کی۔

اپنی شرٹ اٹھا کے پہنتا وہ ایک بار پھر سے ہانیہ کو اگنور کر گیا تھا۔

میرے خیال سے تمہیں میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔ میری وجہ سے تمہاری جان بچی ہے۔

ہانیہ نے میٹھا سا طنز کیا۔

آہان نے اے کھینچ کے خود سے قریب کیا۔ دونو ںکی نظریں پل بھر کو ملیں تھیں۔ آہان کی گرم سانسیں ہانیہ کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں۔

حساب برابر ہوا ہے۔۔۔ اب سے تم اپنے راستے میں اپنے۔

سرد انداز میں کہتے ہوۓ اسے بازو سے پکڑے اپنے روم سے باہر نکالا۔ اور اسکے منہ پے زور سے دروازہ بند کیا۔

کہ ہانیہ دانت پیستی رہ گٸ۔

احسان فراموش۔۔۔! ڈریگن۔۔ ڈریکولا۔۔۔ ! ایک بار فضا کو میرے ہاتھ لگنے دو۔ پھر دیکھنا کیسے تمہیں اس گھر سے باہر نکلواتی ہوں۔

یہ ہانیہ ابتسام کا وعدہ ہے۔۔ خود سے۔

کہتے ہوۓ ایک گھوری بند دروازے کو مارتی وہ اپنے کنرے کی جانب بڑھی۔

جبکہ زلیخا بیگم نے بھنوٸیں اچکاتے حیرت سے ہانیہ کو آہان کے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔ اور ان کے دل و دماغ میں پھر سے شیطانیت بھرنے لگی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *