Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 12)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 12)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
صبح کافی دیر بعد ہادی کی آنکھ کھلی۔ سر بھاری بھاری ہو رہا تھا۔ اٹھتے ہی سر کو ہاتھوں پے گرایا۔
صبح کے قریب وہ بستر پے آیا تھا۔ اس لمحے آنیہ کے گالوں پے بے اختیار نظر پڑی جس کے سوتے میں بھی گالوں پے آنسوٶں کے نشان تھے۔ ایک پل کو میر ہافہ کو سخت برا لگا۔ وہ اپنے اندر کا کرب اس بے قصور پے غصہ بن کے اتار رہا تھا۔ اسے شرمندگی محسوس ہوٸ۔
اسے چھونے لگا۔ کہ اسکی نیند خراب ہونے کی وجہ سے صبح اس سے بات کرنے کا ارادہ کیا۔
لیکن اب ساتھ خالی بستر اسکا منہ چڑا رہا تھا۔ کمفرٹر ایک طرف کرتا وہ اٹھتا دکھتے سر کے ساتھ واش روم کا رخ کر گیا۔
فریش ہو کے آتا اسکے سر ا درد کچھ حد تک کم ہوا تھا۔
خود پے پرفیوم اسپرے کرتا وہ ایک تنقیی نظر خو پے ڈالتا اپنی ضرورت کی چیزیں اٹھاتا باہر نکلا۔
ارے۔۔۔ میر ہادی۔۔۔؟؟ اٹھ گۓ آپ۔۔۔؟؟ کشش نے اچانک سے اسے آتا دیکھا تو فوراً پکارا۔ اسکے قدم وہیں تھمے اور انہی قدموں پے وہ پلٹا۔
السلام علیکم مما۔۔۔! بظاہر سنجیدگی سے جواب دیتا نہی کے پہلو میں سر جھکاٸے بیٹھی اپنی بیوی پے گٸ۔
وعلیکم السلام۔۔۔!طبعیت کیسی ہے۔۔آپ کی۔۔؟؟ آنیہ بتا رہی تھی۔۔ آپ کی طبعیت خراب ہے۔ کوٸ میڈیسن لے لینی تھی بیٹا۔۔! کشش کے لہجہ میں ماں کا پیار تھا۔
ٹھیک ہوں۔۔ اب ۔۔مما۔۔۔! لاپرواہی سے کہتا وہ آفس کے لیے جانے لگا۔
ارے۔۔کہاں جا رہے ہو۔۔؟ ناشتہ تو کرلیں۔۔! کشش اپنی جگہ سے فوراً اٹھی۔ تو آنیہ بھی ٹھ کھڑی ہوٸ۔
نہیں۔۔مما۔۔۔! بہت ضروری میٹنگ ہے۔۔ وہیں کر لوں گا۔۔ اوت شاید آج بھی لیٹ ہوجاٶں۔۔۔ کہہ وہ ماں کو رہا تھا۔ لیکن سنا وہ بیوی کو رہا تھا۔
بیٹا۔۔! کیوں ما ں کو پریشان کرتے ہیں۔ کشش کے چہرے پے سایہ سا لہرایا۔
ارے۔۔مما۔۔۔ پلیز۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ ان دنو ں کام کا برڈن کچھ زیادہ ہے۔۔۔ بس۔۔۔ ! دعا کیجیے۔۔ جس کام میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے وہ ہوجاۓ۔
کشش کے ماتھے ے پیار بھرا بوسہ لیتے وہ انہیں مطمین کرتا باہر نکلنے لگا۔ کہ اسے موباٸل یاد آیا۔
شاید موباٸل روم میں بھول آیا۔۔۔! ایک منٹ۔۔۔
آنیہ۔۔۔ بیٹا۔۔ آپ جاٸیں۔۔ میر ہادی کا موباٸل لے کے آٸیں۔
کشش ان دونوں میں کچھ بات محسوس کر رہی تھی۔ اس لیے جان بوجھ کے آنیہ سے کہا۔ تو وہ فوراً روم کی جانب بڑھی۔
کشش سے اللہ حافظ کرتا وہ باہر گاڑی کی طرف نکلا۔ آنیہ اسک موباٸل لیتی اسکے پیچھے باہر ہی آٸ۔
آپ۔۔۔ ناشتہ کر لیتے۔۔۔ سب کچھ تیار ہے۔ موباٸل دیتے دھیرے سے کہا۔
رات کو شاید زیادہ۔۔۔ غصہ کر گیا تھا۔۔ مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اسکے پاس آتا وہ موباٸل لیتا دھیمے لہجے میں بولا۔
آپ ۔۔۔ شاید اپ سیٹ تھے۔۔۔؟؟ آنیہ نے اسکا چہرہ ٹٹولا۔ یر ہادی نے لب ایک دوسرے میں پیوست کیے۔ اور نظروں کا زاویہ بدلا۔
میں کوشش کروں گا جلدی گھر آجاٶں۔۔ !
کہتے وہ گاڑی مں بیٹھا۔ اور ڈراٸیور نے گاڑی گیٹ سے باہر نکالتے روڈ پے ڈالی۔
آنیہ کی نظروں نے اوجھل ہونے تک اس کی گاڑی کا تعاقب کیا۔ جو میر ہادی کی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہ کیا ہے۔۔۔مما۔۔۔۔؟؟ ہانیہ ایک لڑکی کی تصویر دیکھتی بدک کے پیچھے ہٹی۔
یہ۔۔۔ کبیر ہے۔۔۔کبیر سلیمان ۔۔۔۔ آپ کے ڈیڈ کے بہت اچھے دوست کے بیٹے ہیں۔ اور آپ کے ڈیڈ نے ان سے آپ کی بات طے کر دی ہے۔ ابرش نے سرسری انداز میں گویا ہانیہ پے ایٹم بم ہی گرا دیا۔
واٹ آر یو سیٸنگ مما۔۔؟؟ ہاٶ۔۔کوڈ یو ڈو دس۔۔۔؟؟
وہ تو جسے آپے سے باہر ہوگٸ۔ اندر آتے ابتسام کے قدم دروازے پے ہی تھمے۔
کیا مطلب۔۔؟؟ اس بات کا۔۔؟؟ ابرش کے ماتھے پے بل پڑے۔
میں شادی نہیں کرنا چاہتی ابھی۔۔۔اور ۔۔ ویسے بھی میں نے ابھی سوچا ہی نہیں اس بارے میں۔۔ پلیز۔۔۔ آپ بھی ڈیڈ سے کہہ دیں۔۔۔؟؟
کیا کہہ دیں یہ مجھے۔۔۔؟؟ ابتسام کی اچانک آمد پے وہ دونوں چونکیں۔
ڈیڈ۔۔۔؟ ہانیہ تھوڑا گھبرا سی گٸ۔
بولیں۔۔۔ دیں جواب۔۔مجھے۔۔؟؟ ابتسام سخت انداز میں بولے۔
ابرش لب بھینچتے وہاں سے جانے لگی کہ۔
آپ اپنی بیٹی کو یہ سب سمجھا دیں۔ کہ مجھے کسی قسم کا تماشا نہیں چاہیے۔
ابتسام نے ابرش سے کہتے خود کے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔
ابرش ہانیہ کی جانب مڑی۔
ہانیہ۔۔! اب تک جو آپ نے چاہا۔ آپ نے کیا۔۔ بھی آپ کو نہیں روکا۔ اب یہ سب کر کے میری تربیت پے آپ انگلی کیوں اٹھوا رہی ہیں۔۔؟؟ آنیہ کو دیکھا۔۔۔؟؟ جہاں کہا اس نے سر تسلیم خم کر دیا۔ اور۔۔آپ۔۔؟؟؟ بدتمیزی پے اتر آٸیں۔۔؟؟؟ ابرش نے دھیمے انداز میں سمجھایا۔
مما۔۔۔۔! پلیز۔۔۔! مجھے نہیں کرنی شادی ابھی۔۔۔! اب کی بار ہانیہ کا لہجہ روندھ گیا۔
کیوں۔۔؟؟ ابرش کے ماتھے پے بل پڑے۔
مما۔۔۔! میرا مقصد شادی نہیں۔۔۔ کیسے سمجھاٶں میں آپ کو۔۔؟؟ ہانیہ زچ آگٸ۔
آپ مجھے مت سمجھاٸیں۔ اور بس میری بات سمجھیں۔ آپ کے ڈیڈ ایک بار جو فیصلہ کر لیتےہیں۔ پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔
ہاں۔۔ وہ رشتہ لاٸیں گے تو آپ ان سے مل لیجیے گا۔ یقیناًآپ وک اپنے ڈیڈ کے فیصلے سےانکار نہیں ہوگا۔
ابرش قطعی انداز میں کہتے باتھ روم کی جانب بڑھ گٸ۔ جبکہ ہانیہ بے بسی کی مورت بنی اپنے روم میں آگٸ۔
ابرش باہر آٸ تو ہانیہ وہاں نہیں تھی۔
اسے بیٹی کے لیے دکھ ہورہا تھا۔ وہ بھینہیں چاہتی تھیں۔ کہ ہانیہ کی شادی ہو ابھی۔
وہ ابھی اس کو چھوٹی بچی ہی سمجھتی تھیں۔ لیکن۔۔ ابتسام نے جو بات اسے بتاٸی۔ اس کے بعد منع کرنے کی گنجاٸش نہ رہی۔
اس سے بہتر تھا۔ بیٹیاں اپنے گھر کی ہوجاٸیں۔ اور پھر رشتہ بھی اتنا اچھا تھا۔ کہ وہ سچنے پے مجبور ہوگٸے۔
ابتسام کے اندر آنے پے بارش نے اٹھتے اپنے آنسو صاف کیے۔
آپ کیوں رو رہی ہیں۔۔؟ ابتسام کی نظروں سے اس کے آنسو چھپ نہ سکے۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ کہ بیٹیوں کی ادھوری ترلیم اور ادھورے فیوچر کے ساتھ بیاہ دوں گی۔۔۔؟؟ میری خواہش تھی۔ کہ آنیہ ڈاکٹر بنے۔ اور۔۔ ہانیہ اپنی فلیڈ میں آگے جاۓ۔ لیکن۔۔۔ آپ کے فیصلوں نے۔۔۔ میرے۔۔سارے ارمان۔۔۔ بکھیر دیے۔
ابرش جیسے بکھر رہی تھی۔
آپ نہیں۔۔ چاہیتیں۔۔۔۔کہ ہانیہ کی شادی ہو۔۔؟؟ ابتسام نے سخت انداز سے پوچھا۔
ابرش نے آنسو پونچھے۔ اور اٹھی۔ دراز سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔ ابتسام اسے دیکھتا رہا۔
ایک فاٸل اٹھاتی وہ اسٹڈی روم کی جانب بڑھی۔ کہ ابتسام نےاسکی کلاٸ تھامی ۔
میرے سوال کا جواب نہیں دیا آپ نے۔۔۔؟
کیا جواب دوں۔۔؟ آپ اپنےکسی فیصلے میں مجھے شامل کرتےہیں۔۔؟؟ یا۔۔۔میری ۔۔۔کسی بت کی کوٸ اہمیت ہے۔۔؟؟
ایساکیوں کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ کب میں نے آپ کو ۔۔۔؟؟ ابتسام حیران ہوا۔
پلیز۔۔۔! مجھے کام ہے۔۔۔ ایک کیس اسٹڈی کرنا ہے۔۔۔۔ ابرش اپنی کلاٸ چھڑاتی اسٹڈی روم کا دروازہ کھولتےاندر کیجانب بڑھ گٸ۔
ابتسام وہیں غصہ ضبط کرتے بیٹھ گیا۔
وہ جو ہانیہ کے بارے میں جان گۓ تھے۔ اس کے بعد وہ ہانیہ کے لیے رسک نہیں لے سکتے تھے۔ وہ کیا کر رہی تھی۔۔۔ اور کس کس مشکل میں وہ گھر چکی تھی۔ اپنی کم عقلی اور اپنے غصہ کوکنٹرول نہ کر پانے پے۔ وہ یہی چاہتے تھے۔ کہ ب وہ اسے سیکیور کریں۔ کیونکہ ۔۔ ہانیہ نے جو بی کیا ان سے چھپ کے کیا۔ ان کو بتانا بھی ضروری نہ سمجھا۔ اس لیے انہوں نے یہ سخت فیصلہ لیا۔ وہ جانتے تھے۔کہ وہ غصہ میں یہ سب کر رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے لیےبھی ہانیہ نے انہیں مجبور کیا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
مطلب۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔مجھ سے نکاح کریں گے۔ ۔۔ وہ لڑکی حیران ہوتی واپس آٸ تھی۔
جی۔۔۔۔! لیکن۔۔ آپ وک مجھے سب کچھ بتانا ہو گا ان کے بارے میں۔۔ ساری انفارمیشن دینی ہوگی۔۔ ان کے اڈوں کے بارے میں ان کے سردار کے بارے میں۔ سب کچھ۔۔۔۔! آہان نے اسے باور کرایا۔
وہ لڑکی سر جھکا کے سر اثبات میں ہلا گٸ۔
آپ یہیں رکیں ۔ میں جب تک نکاح کا بندوبست کرتا ہوں۔۔۔! آہان اسے وہیں روم میں چھوڑتا باہر سے روم لاک کر گیا۔ جبکہ وہ گہرا سانس خارج کرتی وہیں بیٹھ گٸ۔ اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ابھی ابھی ریوالنگ چیٸر پے جھولتے ایک لمحے کو ابتسام کی آنکھ لگی تھی۔ کہ اپنے خاص موباٸل پے ہوتی واٸبریشن پے وہ چونکا۔
اور کال پک کی۔
دوسری طرف آہان تھا۔ اور اس نے ساری بات ابتسام کے گوش گزار دی۔
ڈونٹ وری میں نکاح کا بندوبست کرو۔ میں آرہا ہوں۔ ۔۔!
ابتسام نے اسکی ساری بات سنتے کال بند کی۔ اور اٹھتا ہوا اپنے سیکرٹ روم سے باہر نکلا۔ اور باتھ روم کی جانب بڑھا۔ ابرش اسٹڈی روم میں ہی تھی۔ تیار ہوتا وہ باہر نکلا ۔ اور اسٹڈی روم کا رخ کیا۔ جہاں وہ صوفےکے ایک طرف سر رکھے فاٸل آگے لھولے سو رہی تھی۔
ابتسام نے گہرا سانس خارج کیا۔ آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے فاٸل لی۔ اور اسکا سر ٹھیک سے کشن پے رکھا۔ روم میں واپس جا کے کمفرٹر لے کے آیا ۔ اور اس پے اچھی طرح سے ڈالا۔
ایک محبت اور مان بھرا بوسہ اسکے ماتھے پے دیتا وہ دبے قدموں سے باہر نکلتا چلا گیا۔
بھلے وہ اب پہلے کی طرح مشن کے لیے نہیں جاتا تھا۔ لیکن اپنے انڈر کچھ سیکرٹ ایجینٹس کو وہ ٹریننگ دیتا تھا۔ جن میں ایک آہان بھی تھا۔ آہان۔۔ اسکا عکس۔۔۔! جس میں وہ اپنا آپ جیتا تھا۔ اور اس وقت اسے اپنے باپ کی ضرورت تھی۔
اور ابتسام علی پیرزادہ۔۔۔ اپنے ملک اور وطن کے آگے کسی رشتے کو نہ رکھتا تھا۔
سب سے پہلے وطن۔۔۔ اس کے بعد ہی اسکی فیملی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
چاند روشن تو چمکا ستارہ
تو سلامت وطن ۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیسی ہو۔۔۔؟؟ ان ناٶن نمبر سے کال رسیو کی تو آنیہ چونکی۔
دوبارہ سے نمبر کو دیکھا۔ وہ ان ناٶن ہی تھا۔
کون۔۔؟ وہ الجھی۔
جانم آپ کا عاشق۔۔۔! ایک خمار آلود آواز کان سے ٹکراٸ۔ تو ایک لمحے کو آنیہ کا دل زور سے دھڑکا۔ اور جھٹ سے فون بند کر دیا۔ اس کے ماتھے پے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ کہ کون تھا وہ ۔۔ اور کسطرح کا مذاق تھا ۔
موباٸل ایک بار پھر بجا۔ اسی نمبر سے کال تھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔؟؟ کس کی کال پے۔۔؟؟ ارتسام نے اسکے موباٸل پے آتی کال دیکھی۔
نہیں۔۔۔ چاچو۔۔۔! بس ایسے ہی۔۔ آپ کیا بات کرہے تھے۔۔؟
آنیہ نے آج ہی ہاسپٹل جواٸن کیا تھا۔ وہ ارتسام کے ہاسپٹل میں ہی اپنی ٹرینگ مکمل کر رہی تھی۔
اور ایسے میں اسے جو مشکل لگتی وہ ارتسام سے ہی ڈسکس کرتی تھی۔
موباٸل کو ساٸلنٹ کرکے وہ کام میں جت گٸ۔ ارتسام کے آفس سے جانے کے بعد وہ موباٸل کو کھول کے دیکھتی سن پڑگٸ۔
بیس سے پچیس مسلڈ کالز لگی ہوٸ تھیں۔ اور اوپر سے میسجز الگ۔
کانپتے ہاتھوں سے میسجز کھولے اور ڈرتے ڈرتے انکو پڑھنے لگی۔
کال کیں نہیں اٹھا رہی ۔۔۔؟؟
میں کہتا ہوں۔۔ کال پک کرو۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
تم مجھ سے یوں جان نہیں چھڑا سکتی۔۔۔ تم۔کل بھی میری تھی۔ آج بھی میری ہو۔۔ اور میری ہی رہو گی۔ کوٸ میر ہادی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا۔۔ سمجھی تم۔۔۔!
آنیہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ۔ اور آگے کے میجسز پڑھنے لگی۔
میری نس نس میں خون بن کے دوڑتی ہو تم ۔۔میری زندگی میرا جنون میری جان ہو تم۔۔۔ آنیہ۔۔ تم صرف میری ہو۔۔ یاد رکھنا۔۔ بہت جلد تمہیں میں اپنا بنا لوں گا۔۔ میرا انتظار کرنا۔۔۔ میں آٶں گا۔ تمہیں لینے۔۔۔۔!
وہ دل پے ہاتھ رکھے موباٸل واپس ٹیبل پے رکھ گٸ۔ اور خود وہیں لڑلکھڑا کے بیٹھتی چلی گٸ۔ اسے ٹھنڈے پانی کے پسنے آنے لگے۔ دل سخت گھبرا گیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کے منہ کو لگایا۔ اور سر کو ہاتھوں پے گراۓ وہ ٹیبل پے کونیاں رکھ کے بیٹھ گٸ۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آگٸے۔
ایسے کیسے کوٸ کسی کو بلیک میل کر سکتا ہے۔۔۔؟؟
وہ رو دی تھی۔ اسکی آنکھیں انتہاٸ لال ہو رہی تھیں۔ اسکا سر بھاری بھاری ہو رہا تھا۔ وہ مزید وہاں پے رک نہ سکی۔ اور گھر لوٹ آٸ۔
میر ولا میں جب وہ داخل ہوٸ ۔ تو کوٸ سامنے نہ تھا۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گٸ۔ بیگ ایک طرف رکھا۔ وہ باتھ روم کی جان بڑھی۔ اور منہ دھوتے ہوۓ اسے سمجھ نہ آیا۔ کہ وہ کیا کرے۔۔۔؟؟ وہ منہ دھو کے باہر نکلی۔ تو میرہادی کو وہاں پایا ۔
آپ۔۔۔؟آپ کب آۓ؟ وہ ٹاول ہینگ کرتی نظریں جھکاۓ اکے پاس آٸ۔
بس کچھ دیر پہلے ہی۔۔۔۔؟؟ آپ کی آنکھیں ؟ کیا ہوا۔۔۔؟؟ آپ روٸ ہیں۔۔؟؟ میر ہادی بے چین ہوا ۔
نہیں۔۔ وہ بس۔۔ سر میں درد تھا۔۔ آنیہ نے نظریں چراٸیں۔
میت ہادی چلتا ہوا اسکے بالکل سامنے آن کھڑا ہوا۔ اسکا جبھکا چہرہ اٹھا کے اوپر کیا۔
مجھ سے چھپا رہی ہیں۔۔۔ نہیں بتانا چاہتیں۔۔؟؟ تو الگ بات ہے۔۔۔ میر ہادی نے اسکا دل ہی ہلا کے رکھ دیا ۔ اسکی زرا سی کٸیر پے وہ پگھلتی چلی گٸ۔ خود پے قابو نہ رکھ پاٸ۔ اور اسکے کشادی سینے سے جالگی۔
اسکا یوں بے اختیار و کے گلے لگنا ہافی تو سُن ہی ہوگیا۔
لیکن اسکے پھوہٹ پھوٹ کے رونے پے وہ ہوش میں آیا۔ اور پریشان ہوتا اسے اپنے سامنے کیا۔ جبکہ اسنے اپنا جھکا سر نہ اٹھایا۔
آنیہ سخت ڈپریشن کا شکار ہوٸ تھی۔ وہ ان میجسز کو پڑھ کے ایک منٹ کے لیے بھی اپنے دماغ سے نہ نکال پا رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ بتاٸیں مجھے۔۔؟؟ میر ہادی کو یقین ہوگیا کہ ضرور کوٸ بات ہوٸ ہے۔
وہ بس روٸے جا رہی تھی۔ ہافیکے پرواہ والے انداز پے وہ پھر سے اسکے سینے سے جا لگی۔
اس بار میر ہادی نے اسے نہیں روکا۔ نہ کچھ پوچھا۔
بس اپنے سینے سے لگاٸے اسکو رونے دیا۔ اور وہ اب بے آواز آنسوٶں سے روۓ جا رہی تھی۔
میر ہادی نے اسے اپنی بانہوں یں بھینچا۔ تو وہ پرسکون سی ہوٸ۔ اور اسکے رونے میں بھی کمی آگٸ۔
لیکن ہچکیاں وہ ابھی بھی لے رہی تھی۔
میر ہادی اسے اپنے ساتھ لیے بستر پے آیا۔
اسے پانی پلایا۔ آنیہ نے ایک گھونٹ لیا۔ اور ساٸیڈ پے کر دیا۔
اب بتاٶ۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟ میر ہای اسکے رونے سے کسطرح ضبط کیے بیٹھا تھا۔ بس وہی جانتا تھا۔
مجھے۔۔۔۔ بہت۔۔۔۔ ؟؟ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔! آنیہ کو سمجھ نہ آیا کیا کہے۔۔؟؟ کیا وہ میسجز کے بارے میں میر ہادی کو بتادے۔۔م؟ اسی شش و پنج میں تھی کہ اسکے موباٸل پے ہوتی واٸبریشن پے وہ دونوں چونکے۔
موابٸل سامنے ہی ٹیبل پے تھا۔
وہی ان ناٶن نمبر تھا۔ جسے دیکھ آنیہ کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔ جو میر ہادی کی زیرک نظروں سے چھپا نہ رہ سکا۔
میر ہادی نے موباٸل اٹھا کے آنیہ کی طرف بڑھایا۔
کال آرہی ہے۔۔۔ ! ہادی نے اسکے چہرے کے زاویے نوٹ کیے۔ آنسو روکے بلکہ سانس روکے وہ کبھی موباٸل اور کبھی ہای کو دیکھ رہی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کہاں ہے وہ لڑکی۔۔؟ ابتسام نے اپنے مخصوص اپارٹمنٹ میں آتے ہی آہان سے ساری ڈیٹیل لی۔ اور پہلا سوال داغا۔
آہان نےایک روم کی طرف اشارہ کیا۔
دونوں آگے پیچھے اس روم کی جانب بڑھے۔ جبکہ شان اور مہروز اسکے قابلِ اعتبار آدمی۔ وہ وہیں رکے تھے۔
کمرےکا دروازہ کھلا۔ وہ لڑکی وہیں ایک طرف سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
ان کے آنے پے سر اٹھایا۔ اور خود بھی کھڑی ہوگٸ۔
کیا نام ہے آپ کا۔۔؟؟ ابتسام نے انتہاٸ سنجیدگی سے پوچھا۔ کہ سامنے ایک پل کو کھڑی لڑکی سٹپٹا گٸ۔
جی۔۔۔۔ نو۔ر۔۔۔ نور فاطمہ۔۔۔۔! ہکلاتے ہوۓ کہا۔
اور والد کا نام۔۔؟؟ ابتسام نے ایک پل کو بھی آنکھیں نہ جھپکی تھیں۔
آپ۔۔۔۔آپ۔مجھ سے ۔۔ کیوں پوچھ رہے ہیں یہ سب۔۔؟؟ ابکی بار۔۔ وہ لڑکی بھی فارم میں آٸ۔
نکاح کے لیے۔۔۔! ابتسام نے اسکے چہرے پے آتے جاتے رنگ نوٹ کیے۔ اور اسکے پاس آیا۔
نکاح کے لیےلڑکی اور اسکے والد کا نام ضروری ہوتا ہے۔۔ نکاح نامے میں لکھنا ہوتا ہے۔ باہر مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں۔ آپ جلی سے بتا دیں تاکہ نکاح نامہ فل ہو سکے۔ ابتسام نے اپنی ساری زندگی اسی پیشے میں گزارای تھی۔ اور سب کچھ وہ بہت آسانی سے کہہ گیا۔ وہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکتا تھا۔ اتنا شارپ تھا۔
یہی کوالٹی اس نے اپنے بیٹے کو بھی دی تھی۔ لیکن ابھی اسکا اتنا تجربہ نہ تھا۔ کہ وہ ابتسام تک پہنچ سکے۔
محمد۔۔۔۔ یامین۔۔۔! گہرا سانس کھینچتے وہ لڑکی باآخر بول دی۔
ٹھیک ہے۔ ابتسام نے آہان کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔
اور خود اس لڑکی کی جانب مڑا۔
یہ شخص جو ابھی یہاں سے گیا۔ میرا بیٹا ہے۔ اور میں یہاں آپ دونوں کے نکاح کے لیے آیا ہوں۔
کچھ ہی دیر میں میرے بیٹے ابیہان کے ساتھ آپ کا نکاح ہوگا۔ تو ۔۔۔آپ کو جیسے باہر بلایا جاۓ۔ آپ آجاٸے گا۔
ابتسام اسکا مکمل جاٸزہ لیتا اسکے اثبات میں سر ہلاتے خود بھی باہر نکل آیا۔
جبکہ وہ باہر وہ تینوں ابتسام کا ہی انتظار کر رہے تھے۔
کیا ہوا۔۔؟؟ تینوں۔۔کا منہ کیوں بنا ہوا ہے۔۔؟؟
ابتسام نے سرسری انداز میں پوچھا۔
آپ۔۔اسے نکاح کاکہہ کے آٸیں۔ لیکن۔۔۔مولوی۔۔کہاں ہے۔۔؟؟ اور نکاح نامہ۔۔؟؟ آہان کے ماتھے پے بل پڑے۔
نکاح کا تو آپ نے اسے کہا ہے۔۔میں نےتو آپ کی بات کی صرف تاٸید کی ہے۔ ابتسام نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا ۔
ڈیڈ۔۔۔! آہان ناراض سا ہوا۔
اگر نکاح ہی کرنا ہوتا تو آپ کو کیوں زخمت دیتا۔۔؟؟
اسکی ناراضی سےکہی باتپے ابتسام چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔
نکاح بھی ہوگا۔۔۔اور نکاح نامہ بھی آٸے گا۔اور مولوی۔۔۔ بھی۔۔۔! معنی خیزی سےکہتے مہروز کو دیکھا ۔ اس نے نا سمجھی سے پہلے ابتسام کو دیکھا ۔ پھر میر ہادی اور شان کو۔۔جو اسی کو یکھ رہے تھے۔
مہروز نے اپنی داڑھی پے ہاتھ پھیرتے حلق خشک کیا ۔
ایسے مت دیکھومجھے۔۔۔کیا بچے کی جان لو گے۔۔؟؟
تنیوں کا ایک ساتھ قہقہہ گونجا تو وہ منہ بسور گیا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آبیہان ابتسام ولد ابتسام پیرزادہ کیا آپ کو نور فاطمہ بنتِ محمد یامین سے نکاح قبول ہے؟
ہال۔میں موجود ایک دل چیر دینے والی خاموشی چھا گٸ تھی۔ کیا۔۔۔یہ ممکن تھا۔۔۔؟کہ وہ ہاں کر دیتا۔۔؟؟
سب کی نظریں اسکے چہرے پے ٹکیں تھیں۔ اسکے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کو سننے کے لیے سبھی اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔
بیٹا۔۔؟؟ جواب دو۔۔۔؟؟ ابتسام نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھا۔
اس نے سر اٹھا کے ایک نظر ابتسام کو دیکھا۔ انکی آنکھوں کی جلتی لو نے اسے بہت حوصلہ بخشا تھا۔
اور ایک گہرا سانس خارج کرتے وہ مولوی صاحب کی جانب مڑا۔
جی قبول ہے۔
سامنے بیٹھی لڑکی دوپٹے کا گھونگھٹ نکالے وہ بھی یہ الفاظ سن چکی تھی۔ ایک تبسم بکھرا تھا اسکے چہرے پے۔
وہی الفاظ مولوی صاحب نے اس لڑکی سے پوچھے۔ اس نے بھی قبول ہے کہتے گہرا سانس خارج کیا۔
دعا ہوٸ اور مبارک کا شور اٹھا۔
ابتسام نے بیٹے کو گلے سے لگایا۔
All the best my son.
انکے چہرے پے ایک جیت کی سی سرشاری تھی۔
جبکہ گھونگھٹ میں بیٹھی وہ لڑکی ان کے لیے کتنی بڑی آزماٸش بننے والی تھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔
