Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 08)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 08)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
وہ جو اپنی میکسی سے الجھی آٸینہ کے سامنے کھڑی اس کے ہک سے بال نکالنے کی کوشش کرتی ہلکان ہو رہی تھی۔ دروازے سے میر ہادی کو اندرآتا دیکھ ٹھٹھکی۔ ہاتھ جو اسکے پیچھے تھے۔ واپس آگے آۓ تھے۔ دل کی دھڑکن بھی بے اختیار بڑھی تھی۔
میر ہادی وہیں سٹل ہو گیاتھا۔ آنیہ کا ہوشربا روپ دیکھ وہ میمراٸز ہوا تھا۔ کہ ہاتھ ایک بار پھر دل کے مقام پے جا ٹھہرا ۔
بےاختیار ہی اسکی طرف قدم بڑھاۓ۔ تو آنیہ نے رخ پھیر لیا۔ اور پلکیں جھک گٸیں۔ سانسوں کی رفتار میں تیزی سی آگٸ۔
میر ہای نے ہاتھ بڑھا کے اسکے ہک سے بال نکالنے چاہے ۔ گرم ہاتھوں کا لمس محسوس کرتی آنیہ جی جان سے لرزی تھی۔
بال نکالتے ہک بھی کھل گیا تھا ۔ ہادی نے فوراً سے ہاتھ پیچھے کھینچا۔ اور رخ موڑ لیا۔ وہ اپنی کیفیت نہیں سمجھ پا رہا تھا . فوراً سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھتا دروازہ لاک کر گیا تھا۔ اور دل کے مقام پے ہاتھ رکھے دروازے سے ٹیک لگا کے کھڑا ہوگیا۔
کیاہے اس لڑکی میں ایسا۔۔۔؟؟ کہ میرا دل میرے اختیار میں نہیں رہتا۔۔؟؟ ایسا میرے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ۔۔۔ پھر۔۔۔ اس لڑکی کو دیکھ ۔۔۔یہ دل کیوں اتنا دھڑکتا ہے؟ اپنی عجیب سی کیفیت ہادی بالکل نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
تبھی موباٸل پے ہوتی واٸبریشن پے وہ چونکا۔
ہاں۔۔۔ بولو۔۔۔ عمران۔۔؟؟ اس کے خاص آدمی کا فون تھا۔
سر۔۔۔! بری خبر ہے ایک۔ وہ تھوڑا اٹک کے بولا۔ میر ہادی کے ماتھےپے بل پڑے۔
سر۔۔ ان میں سے ایک آدمی کی ڈیتھ ہوگٸ ہے۔
میر ہادی نے لب بھینچے۔
او دوسرا۔۔؟؟
سر وہ ابھی سیریس کنڈیشن میں ہے۔ لیکن سرواٸیو کر جاۓ گا۔
مجھے ایک ہی آدمی چاہیے۔۔ اپنے دشمن تک پہنچنے کے لیے۔ جو مر گیا ہے اسکی لا!ش کو ٹھکانے لگا دو۔
کہتے ہی فون بند کرتا وہ مڑا تھا۔ لیکن اپنے پیچھے آنیہ کو کھڑا دیکھ وہ ایک دم سے چپ ہوا تھا۔
آنیہ کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا۔ اس نے ساری نہ سہی لیکن آخری بات سن لی ہے۔
دھیرے سے چلتا اسکے پاس آیا ۔
دور رہیں مجھ سے۔۔۔! آنیہ نے کانپتے وجود سے پیچھے ہوتے انگلی اٹھا کے میر ہادی کو وارن کیا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ میر ہادی پھر دل ہارتا محسوس کر رہا تھا۔
آپ۔۔۔آپ ایک۔۔۔ قا|تل ہیں۔۔۔! بے یقینی سے وہ آنسوٶں سے تر چہرہ اوپر اٹھاتے میرہادی کو کانٹوں پے گھسیٹ گٸ۔
اور۔۔۔ میرے گھر۔۔ والے۔۔ آپ کو شریف ۔۔۔سمجھتے رہے۔۔؟؟ آنیہ دکھ سے بولی۔
آنیہ ! ایسا کچھ نہیں۔۔ جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔ میر ہادی نے اسے سمجھانا چاہا۔
دو رہ کے بات کریں۔
اسکی پیش قدمی پے آنیہ نے غصہ سے کہا۔ اس بار میر ہادی کو اسکی یہ بات طیش ہی دلا گٸ۔
اور جارحانہ اندز میں آگے بڑھتے اسے کندھوں سے دبوچا۔
بس۔۔ خبردار ۔۔ایک بار اور اگر ۔۔آپ نے اپنی زبان سے قا|تل کا لفظ ادا کیا تو۔۔۔! میں بھول جاٶں گا۔ آپ میری بیوی ہیں۔
میر ہادی کی سخت اور سرد انداز پے آنیہ ایک پل کو سہم گٸ۔
اسکی ہرنی سی آنکھوں میں میر ہادی کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
کسی کا ق ت ل نہیں کیا۔۔۔ کوٸ بھی نہیں م ر ا۔۔۔ ! اسے پھر سے بے بسی سے یقین دلایا۔ لیکن آنیہ کی آنکھو ں کی بے یقینی اسے اندر ہی اندر مار رہی تھی۔
جس نے رات مجھ پے حملہ کیا۔ اس کو سیلف ڈیفنس میں م ارا تھا۔ یہ زخم ۔۔۔ اسی کی دین ہے۔
مجبوراً کچھ سچ جھوٹ کی ملاوٹ کرتے میر ہادی نے آنیہ کو سچ بتا دہی دیا۔
آنیہ نے ایک پھتراٸ نظرسے اسکی بازو کی جانب نگاہ دوڑاٸ۔ وہاں کل ہی تو اس نے دیکھا تھا ۔ میر ہادی کو گولی لگی تھی۔ اور یہ سچ تھا۔ مطلب ۔۔وہ سچ کہہ رہا تھا۔
آپ۔۔۔سچ کہہ رہے ہیں۔۔؟؟؟ آنیہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
نہیں۔۔۔جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔ ناراضی سےکہتا وہ پیچھے ہٹتا ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولتا باہر نکلا .
آنیہ بھی اسکے پیچھے باہر نکلی۔
پلیز بات سنیں۔۔۔ ناراض تو نہ ہوں۔۔۔! وہ بھی پیچھے بھاگی۔ لیکن میر ہادی کے مڑنے پے وہ بری طرح اس کے سینے سے ٹکراٸ۔ پیچھے ہوتی وہ لڑکھڑاٸ۔ کہ میرہادی نےاسکی کمر میں بازو حماٸل کیے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔
دونوں کی نظریں ایک لمحے کو ٹکراٸیں۔ دونوں کے دل ایک تال پے دھڑکے ۔
سناٸیں۔۔؟؟ میر ہادی نے اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لیا۔
آپ۔۔۔ ناراض۔۔۔؟؟ آنیہ نے ہکلاتےہوۓ کہا۔
اتنی پیاری اور خوبصورت بیوی سے کون ناراض ہو سکتا ہے۔ اسکے بالوں میں چہرہ چھپاۓ وہ اسکی گردن پے اپنا گرم بھرا نرم لمس چھوڑ گیا۔ وہ جی جان سے لرز گٸ۔
وہ۔۔۔وہ۔۔۔!آنیہ نے حلق تر کیا۔ لیکن آواز نے ساھ ہی چھوڑ دیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتنا کیا سوچنے لگی۔۔۔؟ اسکے چہرے پے آۓ بالوں کوکان کے پیچھے کی طرف کرتے بہت وارفتگی سے دیکھتے دھیمےلہجےمیں پوچھا۔
مجھے ۔۔۔آپ سے۔۔۔ کچھ۔۔۔ بات کرنی تھی۔۔۔! بمشکل الفاظ منہ سے نکلے۔
میر ہادی کی زرا سی قربت نے اسکا سانس لینا محال کر دیا تھا۔
ہمہ تن گوش ہوں۔۔۔! میر ہادی کےہاتھ اب اسکے بالوں میں گردش کر رہے تھے۔ وہ اسکے پاس تھی۔اسکی محرم بن کے۔۔۔ اسکی دسترس میں۔۔۔! یہ احساس اسے بہکا رہا تھا۔ اسے اپنا بنانے کے لیے اکسا رہا تھا۔
میں۔۔ ہاٶس جاب اسٹارٹ کرنا چاہتی ہوں۔۔!
جھٹ سے کہہ دیا۔
ایک پل کو میر ہادی چپ ہی ہوگیا۔ اور گہر سانس خارج کرتےپیچھے ہوا۔ اور کبرڈ کیجانب بڑھا۔
آپ نے ۔۔کوٸ جواب نہیں دیا۔ آنیہ کو بے چینی ہوٸ۔
آپ مما سے بات کرلیں۔ جو وہ کہیں۔۔۔! میر ہادی نے دھیمےلہجے میں کہتے بنا اسکی جانب دیکھےبات مکمل کی۔
آپ کو۔۔۔کوٸ اعتراض۔۔۔؟؟ آنیہ کو اسکا انداز کھٹکا۔
اگر۔۔مما۔۔۔ کو کوٸ اعتراض نہ ہوا۔۔۔ تو مجھےبھی نہیں ہے۔۔ میں نے اپنے ہر معاملے میں صرف اپنی ماں کو اختیار دیا ہے۔ آپ بھی انہی سے ہر بات کی پرمیشن لیا کریں۔
اوہ۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔! کشش آنٹی مجھے بہت چاہتی ہیں۔۔ آٸ نو۔۔۔ وہ مجھے کبھی منع نہیں کریں گیں۔
آنیہ نے خوشی سے چہکتے ہوۓ کہا۔ اور پرجوش انداز میں وہ پھر سے میر ہادی کے قریب آکے اسکا ضبط آزمانے لگی۔
مما۔۔۔! ہادی نے ٹوکا۔کشش آنٹی نہیں۔۔۔! مما۔۔۔! ہادی کے پیار سے ٹوکنے پے آنیہ نے پلکیں جھکا کےاٹھاٸیں۔ اور میر ہادی کا دل پھر سے پھسلتاہوا محسوس ہوا۔
جی۔۔۔ مما۔۔۔! آنیہ زیرلب مسکاٸ۔ تو میر ہادی گہرا سانس خارج کرتا ڈریس لیتا باتھروم کی جانب بڑھا۔
یہ مجھے واقعی میں ہارٹ اٹیک کرواۓ گی۔
کہاں۔۔ جا رہے ہیں۔۔آپ۔۔؟۔؟؟ فوراً سے اسکا راستہ روکا۔
باتھ روم میں۔۔اور کہاں۔۔؟؟ میر ہادی کو اسکا ٹوکنا سمجھ نہ آیا۔
ننہیں۔۔۔۔ آپ ۔۔شاور۔۔ مت لیجیےگا۔۔ آپ کا یہ۔۔ زخم خراب ہو جاۓ گا۔۔۔ ! فکرمندی سےکہتے وہ میر ہادی کو بری طرح چونکا گٸ۔
مطلب۔۔۔؟؟آپ۔۔۔میری فکر ۔۔۔کررہی ہیں۔۔؟؟ میر ہادی کو ایک نۓ احساس نے گھیرا ۔
کیوں ۔۔۔۔؟؟ نہیں کرنی چاہیے۔۔؟؟ الٹا اسی سے سوال کیا۔
بہت۔۔۔مہنگا۔۔۔ پڑ سکتا ہے۔۔آپ کو میری فکر کرنا۔۔۔! دھیمےلہجےمیں کہتا وہ اب کی بار آنیہ کو ٹھٹھکا گیا۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟ میں ۔۔سمجھی نہیں۔۔!
کچھ نہیں۔۔ میں ۔۔چینج کرکےآتا ہوں۔۔ پھر تفصیل سےسمجھاتا ہوں۔ اسکے پاس سے گذرتے اسکے چہرے کو وارفتگی سے دیکھتے گھبیر انداز میں کہا۔
آنیہ کا دل اسکی بات پے دھڑکا۔
لیکن اسکے جانے کے بعد نارمل بھی ہوگیا۔ موباٸل آج وہ ہانیہ سے لے آٸ تھی۔ اور اب ابرش کو کال ملاتی اس سے بات کرنے لگی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آپ بات کا بتنگڑ کیو ں بنا رہے ہیں ارتسام۔۔؟؟ امی نےایسا بھی کچھ غلط تو نہیں کہا۔۔۔ صرف یہی پوچھا۔۔ کہ آپ کی کوٸ بیٹی ہے۔۔؟؟ آپ تو ایسے ہی غصہ۔۔؟؟
ایسے ہی غصہ۔۔؟؟ ارتسام نے ٹوکا۔
عروش ۔۔! آپ جانتی ہیں۔۔ آپ کی والدہ محترمہ۔۔ نے کیاکیاہے۔۔۔؟؟ انہیں ضرورت کیا تھی پوچھنے کی۔۔؟
ارتسام نے لب بھینچتے پوچھا۔
ایسےہی پوچھ لیا۔۔! کوٸ خاص مقصد تو نہ تھا۔ عروش نے رخ موڑا۔
عروش۔۔۔ بے جا ساٸڈ مت لیاکریں۔۔ اور انہیں منع کر دیں کہ وہ آنیہ کے سسرال والوں سے تھوڑا دور ہی رہیں۔
دوبارہ تکیہ پے سر رکھتے ارتسام نے آنکھیں موندتے کہا۔ اسکی بات عروش کو مزید طیش دلا گٸ۔
ارتسام ۔۔اب آپ زیادتی کر رہےہیں۔ میری امی اتنی بھی بری نہیں۔۔ جتنا آپ سوچتے ہیں۔ لہجہ روندھ سا گیا۔
عروش۔۔میں بحث کےموڈ میں نہیں۔۔۔صبح ہاسپٹل جلدی جانا ہے۔ لاٸٹس آف کر دیں۔
بنا اسکی جانب دیکھتے سنجیدگی سےکہا ۔
عروش کچھ دیر تو دیکھتی رہی۔ آنکھیں بھی نم ہوٸیں۔ لیکن مزید کچھ بھی کہے بنا اٹھ کے لاٸٹس آف کرتی وہ بھی رخ پلٹ کے سونے کے لیےلیٹ گٸ۔
جبکہ آنسو بہہ کے تکیہ میں جذب ہونے لگے تھے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
چلو ۔۔اللہ کا شکر ہے سب کچھ بہت اچھا ہوگیا ۔۔
سکندر صاحب نے اندر آتے کہا۔لیکن سمیرا بیگم کے آگے سے خاموش رہنے پے وہ چونکے۔
کیا ہوا۔۔؟؟ چپ چپ کیوں ہیں۔۔؟؟ اورکس کا فون تھا۔۔۔؟؟ ان کے ہاتھ میں موباٸل دیکھ کے وہ پوچھ بیٹھے۔
داور کا۔۔۔! کہہ رہا تھا۔ کہ اگلے ماہ۔۔ وہ اور کرن بچوں سمیت پاکستان آرہے ہیں۔ دکھی انداز میں کہا۔
یہ تو خوشی کی بات ہے۔ سات سال بعد وہ واپس لوٹ رہے ہیں۔ تو اس میں اداسی کی کیا بات۔۔؟ سکندر صاحب کو انکا اداس ہونا سمجھ نہ آیا۔
کیا ہوجاتا۔۔۔ اگر۔۔ میر ہادی کی شادی ان کے آنے تک رک جاتی۔۔بس۔۔ جھٹ پٹ سب کچھ کر دیا۔۔۔ میرا داور بھی گھر کی پہلی خوشی میں شامل ہوجاتا۔۔۔۔!
بالآخر دل کا درد زبان پے آہی گیا۔
اب آپ۔۔ زیادتی کر رہی ہیں۔۔۔ ! اگر۔۔ یامین یا کشش کو ان کے آنے کا پتہ ہوتا تو وہ کیا انتظار نہ کرتے ۔۔؟؟
اور ویسے بھی ۔۔۔ آپ جانتی ہیں۔۔ کشش کی کنڈیشن۔۔ پھر بھی ایسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔؟؟ سکندر صاحب ناراضی سے بولے۔
بس۔۔۔ اسی وجہ سے چپ کر جاتی ہوں۔۔ کشش۔۔۔ نے بہت بڑا دکھ سہا ہے۔۔ اگر۔۔ اسکی خوشی کی بات نہ ہوتی۔۔تو۔۔ میں کبھی اتنی جلدی نہ کرنے دیتی۔
سمیرا بیگم نے بھی ہاں میں ہاں ملاٸ۔
بس اللہ سے دعا کریں ۔۔ اللہ ہمارے بچو ں کے نصیب نیک کرے۔ اور ماضی کی کوٸ پرچھاٸ ان کے حال پے نہ پڑے۔
گہرا سانس خارج کرتے کہا ۔
آمین۔۔۔۔ سمیرا بیگم نے دل سے کہا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیس ہیں اب وہ دونوں ۔۔؟؟ آہان نے شان سے پوچھا۔
بس زندہ ہیں۔۔ ان کو مارنے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی۔۔۔! شان نے ویسٹ پے ہاتھ رکھے۔ اندر روم میں دیکھا جہاں وہ دونوں بہنیں آکسیجن ماسک میں بے ہوش پڑی تھیں۔
اور وہ زبیر ۔۔؟؟ اسکا کیا بنا۔۔؟؟ اسکا پتہ چلا۔۔؟؟ سوچتے ہوۓ پوچھا۔
یہ رہا ایڈریس۔۔۔! لیکن۔۔۔ وہ انکا سگھا بھاٸ نہیں ہے۔ یہ ایک ٹیم ہیں۔۔ انکا اصل مقصد کیا ہے۔۔؟؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو پایا۔
ایک بات سمجھ نہیں آٸ۔ ہانیہ پے انہوں نے پرسنل اٹیک کیا۔۔۔ اور دوسری طرف آنیہ کو نکاح سے روکا۔ اس سب کےپیچھے وجہ کیا تھی۔۔؟ آہان نے دماغ کے گھوڑے دوڑاتے پوچھا۔
کہیں۔۔۔۔ اس سب کا کوٸ کنکشن میر ہادی سےتو نہیں۔۔؟؟
آہان کے اچانک کہنےپے شان بھی چونکا۔
ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟ یہ تو اب ان کےہوش میں آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ شان نے لب بھینچے۔
ہمممم۔۔۔ اب انکا ٹھکانہ کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔ اور۔۔۔اس زبیر کو بھی اب یہیں لاتا ہوں۔۔۔!
آہان نے غصہ سےکہتے زبیر کا ایڈریس لیا۔
دھیان سے۔۔۔! وہ اس کے قبضے میں ہے۔۔ جو آپ کی جانی دشمن ہے۔ شان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے کہا۔
آہان نے ایک تنبیہہ نظر اس پے ڈالی۔ اور باہرنکل گیا۔
ناٶ۔۔۔ اٹس ماٸ ٹرن۔۔۔! جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔!
ہمکلامی سے کہتا وہ وہاں سے چھلاوےکی طرح غاٸب ہوا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یار۔۔۔! یہ دیکھو۔۔۔! اچانک سے میر ہادی باہر نکلتا بازو۔۔ آنیہ کے آگےکر گیا۔
یہ۔۔یہ کیا ہوا۔۔؟؟ وہ بری طرح گھبرا گٸ۔ اسکے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔
معلوم نہیں۔۔ شرٹ چینج کرتے اچانک سے۔۔۔!
آپ یہاں بیٹھیں۔۔۔! آنیہ نے مستعدی سے فرسٹ ایڈ باکس نکال میر ہادی کے زخم کی ڈریسنگ کرنی شروع کر دی۔
آپ کو ہاسپٹل جانا چاہیے تھا۔ دھیمے لہجےمیں کہا۔
کیا بہت زیادہ خراب ہو گیا ہے۔کیا۔۔؟؟ فکرمندی سے پوچھا۔
نہیں۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔۔! آپ کو درد ہو رہا ہے کیا۔۔؟؟ آنیہ کو یہی لگا ۔
نہیں۔۔۔! سپاٹ انداز میں کہا ۔ وہ حیران ہوٸ۔ اسکے چہرے پے درد کے نہیں فکر مندی کے آثار تھے۔
بس ہوگیا۔۔۔۔! آپ کو کیٸر کرنے چاہیے۔۔ فرسٹ ایڈ باکس اٹھاتے نصیحت بھی کر دی۔
یہ ٹھیک کب ہوگا۔۔؟ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاتے ماتھے پے بل لاٸے پوچھا۔
آپ جتنی کٸیر کریں گے۔۔ اتنی جلدی ٹھیک ہو جاۓ گا۔
اگر آپ کو اتنی فکر ہو رہی ہے۔۔ تو آپ نے گولی کھاٸ ہی کیوں۔۔؟؟ اسکے پاس بیٹھتے اس سے پوچھا۔
میرہادی نے آنکھیں موند لیں۔
مجھے ٹھیک ہونا ہے۔۔ اپنی ماں۔۔ کے لیے۔۔۔! وہ۔۔۔مجھے دیکھ دیکھ جیتی ہیں۔ ای جذب کے عالم میں کہتے وہ آنیہ کو میمراٸز کر گیا۔ اسکا چہرہ بلا کا دلکش تھا۔ اور اسکے ہونٹوں کے اوپر ایک طرف تل تھا۔ جو آنیہ کو بہت اچھا لگتا تھا۔ لیکن وہ کبھی اسکا اظہا رنہیں کر پاۓ گی۔ یہ بھی جانتی تھی۔
آپ۔۔اپنی مما سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔؟؟
آنیہ کے سوال پے ہادی نے آنکھیں کھولتے اسے دیکھا۔
اس کےہاتھ میں پین کلر تھی۔ جو اس نے ہادی کی طرف بڑھاٸ تھی۔
ہادی نے اسکےہاتھ سے پین کلر لیتے پانی کے ساتھ اسے نگلا ۔
میری ماں میری جان ہے۔ ۔۔ میرا سب کچھ۔۔ میرے جینے کی وجہ۔
میر ہادی ان کےبنا کچھ بھی نہیں۔
میر ہادی آج پہلی بار اپنے دل کی بات آنیہ سے شٸیر کرنے لگا تھا۔
اور وہ اسکے پاس بیٹھے بہت دل دے کے سن رہی تھی.
آپ کی مما کتنی لکی ہیں۔۔۔ آپ ان سے کتنا پیار کرتے ہیں۔۔۔! وہ بہت مرعوب ہوٸ۔
میر ہادی نے گردن پھیر کے ایک نظر پاس بیٹھی۔ اس لڑکی کو دیکھا۔ جو بہت ہی معصوم تھی۔
اچانک سے ہاتھ ماتھے پے گیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ سر میں درد ہے کیا۔۔۔؟؟ سر دبا دوں ۔۔؟؟ فکرمندی سے پوچھا۔
ہمممم۔۔۔ پلیز۔۔۔! آنکھیں بند کیے اس نے آفر کو ٹھکرایا نہ۔
آنیہکےنرم ہاتھوں کا لمس اپنے ماتھے پے محسوس کرتا وہ دل کی ہارٹ بیٹ مس کر گیا۔
ہاتھ بڑھا کے اسکی کمر کے گرد حماٸل کیا۔ وہ اسکے اوپر ہی آن گری۔ بےا ختیار پلکیں اٹھا کے اس دیوانے کو دیکھا۔ جسکی آنکھیں بند تھیں۔ لیکن جذبات منتشر تھے۔
آنیہ کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوٸ۔میر ہادی نے اسکے ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضح محسوس کی تھی۔
آپ نے منہ دکھاٸ نہیں مانگی۔۔؟ اچانک سے یاد آنے پے اسے قریب کرتا پوچھنےلگا ۔
آپ۔۔۔۔۔آپ۔۔ نے ۔۔۔ دی ہی نہیں۔۔۔! پلکیں جھکاٸے دھیرے سے کہا۔
صبح لےلیجے گا۔ مسکراہٹ ہونٹوں تلے دباتے وہ بنا اسکیجانب دیکھے بولا تھا۔
جی۔۔۔۔! اسکی قربت نے آنیہ کی بولتی ہی بند کر دی تھی۔
آنیہ کو لگا وہ مزید پیش قدمی کرے گا۔ لیکن وہ دھیرے دھیرے نیند کی وادیوں میں کھوتا چلا گیا۔
آنیہ نے اسکی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوس کیا تو دھیرے سے پیچھے ہوتی اس پے کمفرٹر ڈال کے وہیں ایک ساٸیڈ پے بیٹھتی پورے استحاق ے اسے نہارنے لگی۔
وہ شخص بظاہر دکھنےمی ںجتنا سخت لگتا تھا۔ اندر سے اتنا ہی نرم تھا۔ اس نے آنیہ کے ساتھ کوٸ زور زبردستی نہ کی تھی۔ اسکا انداز۔۔۔ اسکی کٸیر۔۔ اسکی باتیں۔۔ اسکا چہرہ۔۔ اسکا تل۔۔؟ وہ اسکی دیوانی ہوتی جا رہی تھی۔ اور یہ سب بے اختیاری عمل تھا۔
اسکے قریب ہوتی اسکےماتھے پے پہلی پیارکی مہر ثبت کی۔ اور جھٹ سے پیچھے ہوگٸ ۔
رخ پھیر لیا۔ اسے ڈر لگا کہ کہیں وہ جاگ نہجاۓ اور اسکی چوری پکڑ نہ لے۔ لیکن وہ گہری نیند میں تھا۔
آنیہ نے وہیں اسکےپاس سر ٹکایا۔ مسکراتے اسے دیکھا۔ اور آنکھیں موند گٸ۔ جبکہ میر ہادی نے آنکھیں کھولے اسے دیکھا ۔ اسکا عمل وہ محسوس کر چکا تھا ۔ لیکن اظہار نہ کیا ۔ وہ اسے اپنے دل کے قریب محسوس ہوٸ ۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ یہ کیساحساس ہے لیکن وہ اس کے حواسوں پے بری طرح چھا رہی تھی۔
اسکی طرف رخکرتا اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتا وہ اسکی سانسوں کو محسوس کرتا اپنے اندر اتارنے لگا۔ جبکہ وہ اب نیند کی ودیوں میں کھو چکی تھی ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
زبیر تک وہ پہنچ گیا تھا ۔ لیکن سامنے ہی اسکے سپاٸ گرل کھڑی اسے دعوت دے رہی تھی ۔ لڑاٸ کی۔ اور وہ ۔۔ اپنا ماسک درست کرتا آج دو دو ہاتھ کرنے کے چکر میں تھا ۔ سارے حساب آج وہ پورے کرنے کے چکر میں آگے بڑھا ار وہ بھی اپنا غصہ ضبط کرتی پیش قدمی کرتی سامنے والے کو اچھا خاصا سبق سکھانے کے موڈ میں تھی۔
جاری ہے۔
