Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat  (Episode 29,30)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

سلطان کے آدمیوں نے اسے گاڑی میں گھستے دیکھ لیا۔ اور اسے جا لیا ۔ اسکے منہ پےہاتھ رکھے اسے باہرنکالا۔ وہ خود کو چھڑاتی مزاحمت کرنے لگی تھی۔ اسی اثنا میں اسکا پینڈینٹ اس گاڑی میں گر گیا وہ چلانا چاہتی تھی۔ ہاتھ پاٶں مارنا چاہتی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے لیے ایک جھاڑی کے پیچے چھپ گٸے۔ گاڑی میں انہوں نے ایک لڑکی اور ڈراٸیور کوبیٹھتے دیکھا۔

اور کچھ ہی دیر میں گاڑی اسٹارٹ ہوتی چل پڑی وہ وہاں سے باہر نکلے۔نور کا منہ ہاتھ رکھے بند کیا ہوا تھا ۔ نور نے ہاتھ بڑھا کے اس گاڑی کو روکنا چاہا ۔ شاید کوٸ بیک مرر سے اسے دیکھ کے بچا لے ۔ لیکن قسمت نے اسے بہت برا پھسایا تھا۔ وہ گاڑی جا چکی تھی۔ اور سلطان کے آدمی اسے سلطان کے اڈے پے لے گٸے تھے۔ جہاں اسکی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا ۔

اور پھر وہ سلطان کے ہتھے چڑھ ہی گٸ۔ سے سطان کے ہجرے میں لے جا کے پٹخا۔ وہ بپھری ۔ لیکن اسکی کوٸ سنواٸ نہ ہوٸ۔ سطان اندر آیا تو وہ اس پے جھپٹی۔

تم۔۔۔۔ تم نے مار دیا میرے شوہر کو ۔۔ قاتل ہو تم۔ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی۔

سلطان نے سکی نازک کلٸیاں اپنے ہاتھ میں لیں۔

نہ نہ میری جان۔۔۔! اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں۔ ابھی تو تم نے بہت کچھ سہنا ہے۔

سلطان نے کھینچ کے اسے سینے سے لگایا۔ تو وہ مچلتی ہوٸ اسے خود سے دور کرنے لگی۔۔

دور رہو۔۔۔ مجھ سے۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔ ! اسنے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ لیکن وہ خوف کو سلطان کی گرفت سے نہ چھڑا پاٸ۔ سلطان نے اسے بستر پے دھکا دیا۔ اور مکروہ ہنسی ہنستا اس پے حاوی ہوا۔ پورے کمرے میں نورکی چینخیں تھیں۔ لیکن وہ سفاک انسان باز نہ آیا۔ اپنی ہوس مٹا کے ہی دم لیا۔

نور فاطمہ اپنی قسمت کو روتی رہی ۔ اور وہ چلا گیا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ساری رات میر ولامیں بے چینی رہی۔ سب ہی نور کو فون کرتے رہے کال جاتی رہی۔ کسی نے کال پک نہ کی ۔ جبکہ جاتے ہینور ان سے رابطہ کرنے والی تھی۔ اور زیادہ پریشانی تب ہوٸ جب نہ حیدر نے انکی کال اٹھاٸ نہ سعدیہ بیگم نے ۔ جب کہ کال سب کے نمبرز پے جاتی رہی ۔صبح کی ہلکی ہلکی لو پھوٹی۔

میر ہادی جو ساری رات جاگ کے کٹی تھی۔ موباٸل پے اپنے دوست انسکٹر برہان کی کال آتی دیکھ چونکا ۔ اور جو اسنے بتایا۔میر ہادی کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ ۔ وہ بنا کسی کو بتاۓ مطلوبہ جگہ پے پہنچا۔ ۔ جہاں پولیں انوسٹیگیشن کر رہی تھی۔

گاڑی وہی تھی۔ جس میں اسکی بہن رخصت ہوٸ تھی۔۔گاڑی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ تھوڑا سا آگے ہوا تو حیدر کو اسکی ماں کی گود میں سر رکھے مردہ حالت میں پایا۔ وہیں میر کا ہاتھ دل پے گیا۔

انسپکٹر برہان اسکی جانب دیکھتا بڑھا۔

حوصلہ میرے یار۔۔۔! اس نے ایک دم سے اسے اپنے ساتھ لگاتے حوصلہ دینا چاہا۔

رات کو انسپکٹر برہان بھی شادی میں شریک تھا۔ اور وہ واقف تھا۔ اور جیسے ہی برہان کو اطلاع ملی تھی۔ایک گاڑی اوردو لاشوں کی۔ وہ فوراً پہنچا تھا۔ یہاں پہنچتے ہی وہ انہیں پہچان گیا تھا۔ اورقصدیق کے بعد میر کو کال ر دی تھی۔

میری۔۔۔ میری بہن۔۔۔؟؟؟ ٹوٹے لہجے میں ڈرتے ہوۓ پوچھا۔

وہ مسنگ ہے۔۔۔! پولیس چاروں طرف اسے ڈھونڈ رہی ہے۔ امید ہےمل جاۓ گی۔

ایک تسلی ہی تھی۔ جو وہ دے سکتا تھا۔

میر ہای کی آنکھوں میں آنسو جھلملاٸے۔

نجانے میری بہن کس حال میں ہوگی۔۔۔؟؟ ساری رات وہ یہاں خود کو بچاتی جنگلوں میں بھٹک رہی ہوگی۔۔ اور میں کیسا بھاٸ ہوں۔۔۔ مجھے احسس تک نہ ہواا۔۔۔کیوں جانے دیا انہیں اکیلا۔۔۔؟؟ خود کیوں نہ گیا ساتھ میں۔۔۔؟؟ اس نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔

برہان۔۔۔وہ جو گارڈز تھے۔۔۔ وہ کہاں گۓ۔۔۔؟اور وہ ڈراٸیور۔۔۔؟؟ اچانک سے یاد آیا۔

برہان اسے لیے اں سے تھوڑا دور ہٹا۔

یہ۔۔سب پری پلانڈ تھا۔۔ اور میں سمجھ نہیں پارہا ۔۔ تم جیسا بندہ کیوں انجان تھا۔۔۔؟؟ برہان نے سنجیدگی سے کہا۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟ میر افی کا دل زور زور سے دھڑکا۔ ایسی کیا بات تھی۔ جو وہ نہیں جانتا تھا۔۔؟

سلطان کا بیٹا ہے یہ۔۔۔ سلطان۔۔۔ جانتے ہو کون ہے۔۔؟؟ ایک بہت بڑا گینگسٹر۔۔۔ انڈرورلڈ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ۔ ۔۔ اور۔۔ قتل و غارت اسکا عام پیشہ ہے۔۔ عرصہ دراز سے پولیس کو اسکی تلاش ہے۔۔ اور یہ۔۔۔ حیدر کی طرف اشارہ کیا۔ اسکا اکلوتا بیٹا۔۔! جب رات کو شای پےد یکھا۔ مجھے اچھنبا ہوا۔ کہ کیسے تم نے۔۔؟؟

اگر تم۔۔۔ جان گۓ تھے۔۔ تو مجھے تو بتا دیتے یار۔۔۔ آج میری بہن میرے پاس تو ہوتی۔۔ میر ہای ٹوٹے ہوٸے انداز میں بولا۔

لیکن ۔۔ اس وقت میرے پاس کہنے کا کوٸ جواز نہ تھا۔ہادی۔۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا۔ اور تم اور تمہاری فیملی بہت خوش تھے۔ اور مجھے بھی اس وقت کنفرم نہ تھا۔ کہ یہ وہی حیدر ہے۔۔ حیدر سلطان۔۔۔! ورنہ میں رخصتی کبھی نہ ہونے دیتا۔۔۔یار۔۔۔!

برہن نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھا۔

سر لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

ایک اہلکار نے آتے ہوۓ کہا۔

ٹھیک ہے یہ علاقہ سیل کر دو۔ اور لڑکی کی تلاش جاری رکھو۔ برہان اسے مزید ہدایات دیتا وہاں سے موو کر گیا۔ جبکہ میر ہادی نے چاروں طر نظر دوڑا کے اپنی بہن کو یکھنا چاہا۔ کہ شاید وہ اپنے بھاٸ کو دیکھ انہی کسی جھاڑیوں سے بھاگتی ہوٸ باہر آۓ۔ ار اسکے سنے سے لگ جاۓ۔ وہ شام تک اس علاقہ کا چپ چپہ چھان مار چکے تھے۔ میر ہادی کے اپنے بندے بھی تلاش کر رہے تھے۔ لیکن شام تک بھی کوٸ سراغ نہ ملا۔ جسکی وجہ سے میر ہادی کا دل مزید بیٹھتا چلا جا رہا تھا۔ وہ گھر جا کے کیا جوابد ے گا۔۔؟ ماں کو باپ کو کیا بتاۓ گا۔۔۔؟؟ وہی تو کھڑا ہوا تھا۔ اپنی بہن کے حق کے لیے اسکی پسند کی وجہ سے اس نے میر نے نور کا ساتھ دیا۔ اور حیردر کی زیادہ جانچ پڑتال بھی نہ کراٸ۔ وہ اکثر میر کے آفس میں آتا تھا۔ اور میر کو وہ نیچر واٸز اچھا لگتا تھا۔ بہن پیاری تھی۔ تو بہن سے جڑی ہر چیز ہی پیاری تھی۔اور اس وقت وہ شخص حیدر۔۔ اسکی بہن کا شوہر۔۔ اسکی محبت اس دنیا سے جا چکا تھا۔۔۔! اور نور۔۔؟؟ اسکا کچھ اتہ پتہ نہ تھا۔

گھر پہنچا تو گھر والوں تک خبر پہلے پینچ چکی تھی۔ میڈیا ہر جگہ پہنچ جاتی تھی۔ ٹی وی چینلز نے ہاٸ لاٸیٹ کر کے ہر خبر کو واٸرل کیا تھا۔ حیدر کا باقاعدہ نام لیا گیا ۔ رات کو جو میڈیا شادی کی کوریج کر رہے تھے۔ اب وہی میڈیا انکی موت کی خبریں چلا رہا تھا۔

کشش کا دماغ ایک م سن پڑا۔ یہ سن کے۔ کہ دلہن غاٸب ہے۔اسکے بعد کے الفاظ سننے کی طاقت اس میں نہ بچی۔ اور وہ وہیں گرتے بے ہوش ہوگٸ۔میر یامین نے بڑھ کے اسے فوراً سے بانہوں میں بھرا۔ ابھی بیٹی کا دکھ کم نہ ہوا۔ کہ بیوی۔۔۔ بھی۔۔۔؟ وہ حوصلہ کرتا کشش کو ہاسپٹل لے پہنچا۔ جہاں اسے آٸ سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔ میر یامین نے ہادی کوکال کرنے کی ہ ممکن کوشش کی۔ لیکن کال تو جا رہی تھی وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔اور یہ بات میر یامین کو زیادہ پریشان کر رہی تھی۔ سویرا بیگم بھی ہاں پہنچیں تھیں۔ بھلے وہ میر یامین کی سوتیلی ماں تھیں۔ لیکن وقت نے انہیں ایسے سبق سکھاۓ تھے۔ کہ انہوں نے کشش اور یامین کی طرف سے اپنا الصاف کر لیا تھا۔

کیس ہے کشش۔۔؟؟ میر یامین کی ٹوٹی بکھری حالت دیکھ وہ اندر ہیااندر کٹ گٸ تھیں۔

وہ ۔۔آٸ سی۔۔۔ یو۔۔۔! یامین سے بولا نہ جا رہا تھا۔ اتنے میں ڈاکٹرز باہر آۓ۔

میر صاحب۔۔۔! آپ کی واٸف کا نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے۔۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں بچانے کی۔ لیکن۔۔۔؟؟

لیکن کیا۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔؟۔ میر یامین تڑپا تھا۔

وہ ہمیں رسپانڈ نہیں کر رہیں۔۔۔آپ دعا کیجیے۔۔ !

ڈاکٹر اسکا کندھا تھپتھپاتا واپس چلا گیا ۔ آٸ سی یو کا دروازہ ای بار پھر بند ہو گیا تھا۔

میر یامین کے آنسو سویرا بیگمکو تڑپا گٸے۔ انہوں نے آگے بڑھ کے یامین کو گلے سے لگایا۔ تو وہ ضبط کے باوجود رو دیا۔

میرا گھر بکھر رہا ہے۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔ وہ خود بھی بکھر رہا تھا۔

بس۔۔ میرے بچے حوصلہ رکھو۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔ جس نے یہ آزماٸش دی ہے۔ اس میں سے نکالے گا بھی وہی۔

انہوں نے اس مضبوط شخص کو پہلی بار یوں روتے دیکھا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

اگلے دن بھی کشش کی حالت اسٹبلش نہ ہوٸ تھی۔۔ سب گھر والے سخت پریشان تھے۔ ایسے میں میر ہادی کا مسلسل غاٸب رہنا سب کو مزید پریشان کر رہا تھا۔

میر یامین اپنے دادا کے کاندھے پے سر رھے پھوٹ پھوٹ کے رو دیا۔

میری جان۔۔۔۔! روٶ مت۔۔۔ اللہ نے چاہا تو سب آھیک ہو جاۓ گا۔

انہوں نے نخیف آواز میں تسلی دی۔ لیکن آج انکی ی ہوٸ تسلی بھی یامین کو قرار نہ دے سکی۔ وہ وقت اپنے ہاتھوں سے ریت کی ماندد بکھرتا محسوس کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن پھر بھی اللہ سے مایوس نہ تھا۔

سجدے میں گر کے اللہ سے رو رو کے اپنے بیوی بچوں کی سلامتی کی دعا مانگی۔

اور اللہکو اس پے ترس آہی گیا۔ کشش کی حالت بہتر ہوٸ۔

لیکن وقتی طور پےاسکی یادداشت نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ بالکل چپ ہوگٸ تھی۔یامین نے بھی اسنہ چھیڑا نہ بولنے پے اکسایا۔ بیٹی کا پوچھ لیتی تو کیا جواب دیتا۔۔۔؟ سویرا بیگم نے ہرطرح سے کشش کا خیال رکھا۔لیکن وہ ن زخموں کو نہ بھر سکتیں تھیں جووقت نے انہیں دیٸے تھے۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

دو دن وہ وہیں بے سدھ و حرکت پڑی رہی اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ نہ کھانے کا نہ پینے کا ۔وہ بس اللہ سے موت مانگ رہی تھی۔ لیکن ابھی اسکے لیے مزید آزماٸشیں باقی تھیں۔ اپنابکھرا وجود سمیٹتی اس نے باتھ روم کا رخ کیا۔ اپنے جسم سے اس ناپاک انسان کے داغ مٹانے لگی ۔ لیکن روح پے لگے زخم نہ مٹا پاٸ۔

اور چینخ چینخ کے روتی وہیں بے ہوش ہوگٸ ۔

ثمینہ باٸ۔ اس ہجرے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اور ہر لڑکی کو جس پے سلطان کا دل آجاتا ۔ اسے اچھے سے تیار کر کے اسکے حجرے میں چھوڑ دیتی تھی۔ دو دن ے وہ یہاں نہ تھی۔ یہاں کیا ہوا وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن جیسے ہی واپس لوٹی۔ ایک باندی نے اسے سب بتا دیا۔ وہ سلطان کے حجرے کی طرف آٸ لیکن اندرکوٸ نہ تھا۔ کہ اچانک باتھ سے چینخوں کی آوازیں سناٸ دیں۔ وہ اسطرف بھاگی اندر کامنظر دیکھ ثمینہ باٸ کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔

کیا لگتاہے۔۔۔ نور تک کوٸ پہنچ پاۓگا۔۔؟وہ بچ پاۓگی۔۔۔؟

پورا ایک ہفتہ لگا تھا نورکو واپس ٹھیک ہونے میں۔ ڈاکٹر کوسلطان کے اڈے پے اسکے حجرے میں ہی بلوایا گیا۔ وہ وہیں رہ کے اسکی ٹریٹمنٹ کرتا رہا ۔ اسکی جو حالت تھی۔ وہ دیکھ ڈاکٹر بھی حیران و پریشان رہ گیا۔ اس نے اپنے جسم پے جگہ جگہ کٹ لگاۓ ہوۓ تھے۔ جیسے کسی نے یا خود اس نے اپنے جسم پےخود سے کٹ مارے ہوں۔ خود کو چوٹ پہنچا کے وہ اپنے اوپر سے سلطان کے ہاتھوں کی اسکی دی گٸ ازیتوں کے نشان مٹاتی خود کو انتہا کی حد تک زخمی کر گٸ تھی۔ کہ ثمینہ باٸ بھی اسکی حالت دیکھ رو دیں۔ وہ یا تو بے ہوش رہتی یا ہوش و حواس کھو دیتی۔ اور خود کو تکلیف پہنچاتی۔ ڈاکٹر اسے نیند کے انجکشن دے کے سلا دیتے ۔ وہ نیم پاگل ہوگٸ تھی۔ وہ خود کو چوٹیں پہنچاتی۔ کوٸ چیز بھی دیکھتی اٹھا کے خود کو مارنے لگتی۔

سلطان کو اب وہ کسی کام کی نہ لگی۔ لیکن آنے والے وقت میں وہ اسے ایک بہت بڑے ہتھیار کے طور پے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اسے زنجیریں ڈال کے تہہ خانےمیں بند کر دیا گیا۔ جہاں وہ دنیا کی روشنیوں سے محروم ہوٸ وہیں اپنے ہوش و حواس کھو دیٸے ۔ یاد رہا تو بس ایک بھاٸ۔۔۔ وہ بھاٸ جو اسکی ایک کھروچ پے پورا گھر سر پے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھ سے گرا ایک آنسو اسکے دل پے گرتا تھا۔ وہ ایک سال سے اپنے بھاٸ کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے یقین تھا۔ اسکا بھاٸ آۓ گا۔ اور اسے یہاں سے لے جاۓ گا۔ لیکن وہ سلطان کو ایسی موت دے کہ اس کی سات پشتیں یاد رکھیں۔ وہ انتظار میں تھی۔۔اس وقت کے۔۔ جب سلطان جیسے درندے انسان کا نام و نشان مٹنا تھا۔ اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسےموت کے گھاٹ اتارنا چاہتی تھی۔ بس اتنی مہلت مانگی تھی اس نے اپنے رب سے۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

صبح اسکی آنکھ کھلی تو پوری کمر اکڑی ہوٸ تھی۔

رات کو وہ صوفے پے ہی خود کو سکڑ سکیڑ کے سوٸ تھی۔ خود کو وہ اس چھوٹے سے صوفے پے اپنی چھوٹے قد کی وجہ سے ایڈجسٹ تو کر گٸ تھی۔ لیکن کمر کا درد نکل آیا تھا۔ اور گردن بھی اکڑ گٸ تھی۔

ایک نظر آہان پے ڈالی جو مزے سے پورے بستر پے پھیلا ایسے سو رہا تھا۔جیسے بہت محنتںکر سخت کڑی تھی اسے دیکھ کےوہ۔ اٹھتے ہوۓ سیدھا واش روم کا رخ کیا۔

فریش ہوتی باہر نکلی تو وہ بستر پے نہ تھا۔

یہ کہاں چلا گیا۔۔۔؟؟ ادھر ادھر نظریں دوڑاٸیں۔ تو وہ ناک کی سیدھ میں ہی نظر آیا۔ چہرے پے ہلکا ہلکا بسم تھا۔

مججے ایسا کیوں لگا ۔۔؟؟ کہ میری جانم مجھے یاد کر رہی ہے۔۔؟موباٸلایک طرف رکھتا وہ اسکی جانب بڑھا

دیکھو۔۔۔ یہ تھرڈ کلاس لفظ اپنے تک رکھو۔۔۔مجھے ان الفاظ سے مت بلایا کرو ۔

جانم کہنے پے وہ تپی تھی۔

یار بیوی ہو میری ۔۔۔تمہیں نہ کہوں جانم تو کسے کہوں۔۔؟؟ اور ویسے بھی رات کو اچھا نہیں کیا۔۔۔تم۔نے مجھ معصوم کے ساتھ۔۔۔ گولڈن ناٸیٹ خراب کر دی میری۔۔۔! آہان نے دکھ سے منہ بنایا۔

تم۔۔۔ ناں۔۔ اب بہتر ہوگا۔۔ اپنی حد میں رہنا۔۔ رات کیا ہے میں نے لحاظ۔ اب آگے سے کبھی میرے منہ لگنا۔۔ ورنہ وہ حال کروں گی کہ گھر والے شکل تک نہیں پہچان پاٸیں گے۔ اچھا خاصا اسکو دھمکایا۔ جو شاید ہی اس پے اثر ہوا ہو۔۔۔!

بھیگے ہونٹ تیرے۔۔۔

پیاسا من میرا۔۔۔! لگے ابر سا ۔۔۔مجھے تن تیرا۔۔۔

اسکے پاس سے گزرتے گنگناتے ہوۓ اسکے ندھے سے لندھا ٹچ کیا ۔ اور باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

ہانیہ کو اس پے انتہا کا غصہ آیا ۔

لوفر کہیں کا۔۔۔!

وہ مٹھیاں بھینچتی رہ گٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

سای رات آنکھوں میں کٹی تھی ۔ وہ اسے اپنے روم میں لا کے بھول گیا تھا۔

وہ صوفے کے پاس بیٹھی وہیں ٹیک لگا کے روتے ہوۓ سو گٸ ۔

دروازہ کھلنے کی آوز پے اسکی آنکھ کھلی ۔ بکھری حالت میں میر ہادی تین بجے کے قریب روم میں داخل ہوا تھا۔ ایک اچٹتی نظر اس پے ڈالتا وہ باتھ روم کا رخ کرتا اسے نظر انداز کر گیا تھا۔

آنیہ نے گہرا سانس خارج کیا۔

وہ بہت حوصلے سے اٹھی تھی۔ اسکا جب کوٸ قصور نہیں تھا تو وہ کیوں سزاوار ٹھہراٸ جا رہی تھی۔ وہ کیا جانتی تھی۔ کہ اسکی گاڑی میں کوٸ لڑکی پناہ لینے کے لیے گھسی تھی۔ اورپھر وہ۔۔۔ وہاں سے غاٸب ہوگٸ۔ کیا جانتی تھی۔۔ کہ جس ماضی کو اس نے کبھی سیریس نہیں لیا تھا وہیں اسکا حال اور مستقبل خراب کرمے آجاۓ گا۔

فریش ہوتا وہ باہر نکلا۔ آنھوں میں رت جگے کی سرخی واضح تھی ۔آنیہ کونظر انداز کرتا وہ وہاں سے باہر جانے لگا کہ وہ ہمت جٹاتی اسکے پاس آٸ ۔

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔ اسکی طرف دیکھتے لہجہ مضبوط بنایا ۔

آنیہ ۔۔! یو نو۔۔۔! آپ کی کوٸ بھی تاویل۔۔ کوٸ بھی ایکسکیوز۔۔ مجھے مطمین نہیں کر سکتی۔۔! جبکہ ۔۔۔اب آپ کو جب جب دیکھوں گا۔۔ میرے زخم تازہ ہوں گے۔۔کہیں نہ کہیں آپ بھی زمہ دار ہیں۔

میں زمہ دار نہیں ہوں۔۔ میر۔۔۔! پلیز۔۔۔ مت کہیں یہ سب۔۔! نہیں ہوں میں زمہ دار۔۔۔ کچھ ۔۔۔ کچھ نہیں کیا میں نے۔۔۔! ایک دم سے دبی دبی آواز میں وہ روتے ہۓ چلاٸ۔

ہاں یہ سچ ہے۔۔۔میں ڈر گٸ تھی اس لمحے اندھیرا تھا۔۔۔ غر گنجان آباد علاقہ تھا۔ میں ڈر گٸ تھی۔ خوف محسوس ہوا۔۔ مجھے اپنی گاڑی سے خوشبو سونگھ کے۔۔۔! لیکن۔۔ میں نہیں مڑی۔۔ نہیں دیکھ سکی پلٹ کے۔۔۔! کہ کوٸ تھا وہاں یا نہیں! کیا اس خطا پے آپ مجھے۔ سزا دیں گے۔۔۔؟؟ روتے ہوۓ اسکے قریب ہوتے پوچھا۔

خود سے درو کریں گے۔۔؟؟ مجھے۔۔۔ درد دیں گے۔۔۔؟؟ اپنا عادی بنا کے۔۔ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔۔؟ بے اختیار وہ اسکے بہت قریب چلی گٸ تھی۔ کہ ایک نچ کے فاصلے پے کھڑی وہ اسکے چہرے کے سامنے چہرہ کے سوال کر رہی تھی ۔

میر ہادی اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکے درد کی گہراٸ تک پہنچنے لگا تھا۔ آنیہ کی بھیگی آنکھیں اسکے اندر ہلچل مچا رہی تھیں۔ اسکی قربت کی چاہ کر رہی تھیں۔ اسے اپنے اندر سمانا چاہتا تھا۔ وہ ایک انچ کا فاصلہ مٹانا چاہتا تھا۔ جو صدیوں پے محیط ہوتا جا رہا تھا۔

مجھے مت چھوڑیں میر۔۔۔! ورنہ آپ کی آن مر جاۓ گی۔۔۔! کہتے ہی پوری شدت سے اسکے لبوں پے وہ جھکی تھی۔ اور یہ پہلی بار ہوا تھا ۔ جب آنیہ نے پیش قدمی کی تھی۔ دونوں ہی آنکھیں بند کیے ان لمحوں میں کھو سے گٸٕے۔ ایک پیاس تھی۔ جو بجھ نہیں رہی تھی۔ وہ سراب نہیں ہو پارہا تھا۔ تشنگی تھی کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔

میر ہادی نے اسکے بالوں میں اپنے ہاتھ الجھاۓ۔ اور جھٹکے سےاسکا چہرہ اوپر کو اٹھایا۔ وہ جو پیاسی نین کٹوروں سے اسےہی تکتی جا رہی تھی میر ہادی کا دماغ کہہ رہا تھا۔ جھٹک دے اسے۔

لیکن دل تھا۔ کہ اسے اپنی پناہوں میں لینا چاہ رہا تھا۔

آن۔۔۔۔! میں تڑپ رہا ہوں۔ جل رہا ہوں۔۔ اپنی ہی آگ میں۔۔۔کہیں نہ کہیں۔۔میں خود کو بھی زمہ دار سمجھتا ہوں۔۔ نور فاطمہ کا۔۔۔!خود کو نہیںسمعاف کر رہا تو۔۔ تم نے جو کیا۔اسے کیسے معاف کردوں؟؟

میں بے قصور ہوں۔۔! آنیہ کے بھیگے لبوں سے ادا ہوۓ الفاظ میر کے دل پے دستک سی دے گۓ۔ وہ پوری شدت سے اسکے لبوں پے جھکا ۔ اور جھکتا چلا گیا ۔ اسے لیے وہ بیڈ کی جانب بڑھتا۔دروازہ لاک کر گیا۔ وہ سب بھول جانا چاہتا تھا۔ سب کچھ۔۔ وہ پیاسا اپنی روح کو سراب کرنا چاہتا تھا۔ اور پہلی بار اپنی محبت کی اپنی طرف پیش قدمی اسکے سوۓ ہوۓ جذبات کو جگا گٸ تھی۔ اس محبت می ںبہہ کے وہ سب بھول جانا چاہتا تھا۔ یاد رکھنا چاہتا تھا تو صرف اپنی محبت کو ۔ وہ محبت جو اسے شادی سے پہلے سے تھی آنیہ سے۔۔۔!

ہاة وہ آنیہ سے شافی اسی لیے کرنا چاہتا تھا کیوں کہ وہ اس سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ اور یہ بات صرف ایک فرد جانتا تھا ۔ جس نے ہر طرح سے اسکا ساتھ دیا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آہان ۔۔! پپ جنتے ہیں۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے۔۔!

نہ صرف اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو سزا دینی ہے بلکہ اب وقت آگیا ہے۔ کہ آپ اپنی چھینی گٸ وراثت کو واپس حاصل کریں۔

ابتسام نے آہان سے آگے کا لاٸحہ عمل ڈسکس کرتے اسے پوری طرح سمجھاتے آخر میں کہا ۔

ڈونٹ وری ڈیڈ۔۔۔! سلطان کو اسی کے کھیل میں مات نہ دی۔ تو میر نام بھی آہان حمزہ مرزا نہیں !

جسطرح سلطان نے میرے ماں باپ کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اسی طرح اسکی موت عبرت ناک ہوگٸ۔ کہ پوری دنیا دیکھے گی۔۔۔ اب۔۔۔ اسکے ظلم کی انتہا ہو گٸ ہے۔۔ اب اسکا زوال شروع ۔۔ !

اور اپنا حقِ وراثت میں ضرور واپس لوں گا۔ آہان کے لہجے میں صرف نفرت تھی۔ اور آخر میں پختہ الفاظ سے کہتا وہ ابتسام کو مطمین کر گیا تھا۔

آپ جانتے ہیں۔ وہ آپ سے رابطہ کرے گا ۔ اپنی بیٹی نور جہاں کو حاصل کرنے کے لیے۔ اور آپ نے۔۔کیا کرنا ہے۔۔؟؟ یاد رکھنا۔۔ آہان۔۔! وہ بچی نور فاطمہ ان کے قبضے میں ہے ابھی بھی۔۔۔! اور اسے وہاں سے نکالنا ہے باحفاظت۔۔ وہ نہیں جانتا کہ ہم یہ جانتے ہیں۔ کہ نور فاطمہ زندہ ہے۔ لیکن وہ اپنی بیٹی کے لیے اسے ضرور استعمال کرے گا۔ اور وہیں سے اسکا کھیل کا دی اینڈ ہو گا۔ ڈو یو انڈر اسٹینڈ۔۔۔؟؟ اسکے کاندھے پےہاتھ رکھے ابتسام نے اسے کلیٸر کٹ سمجھایا ۔ جبکہ ایک انسانی ہیولا ا نے وہاں سے ہٹتے دیکھا تھا۔ اور وہ جانتا تھا۔ کہ کون انکی چھپ کے باتیں سن رہا ہے۔ اور اسکو سبق سکھانے کا سوچ وہ ابتسام کے گلے لگتا باہر نکلا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

نور۔۔۔ نو۔ر۔۔۔ فاطمہ زندہ ہے۔۔۔؟؟ میرا ۔۔دل کہتا تھا۔۔ وہ زندہ ہے۔۔۔! وہ۔۔۔ سچ میں زندہ ہے۔۔؟؟ ہانیہ انکی باتیں چھپ کے سنتی کمرے میں آٸ ۔ فرط جذبات سے اسکے آنسو بہہ نکلے۔ وہ جو ایک سال سے اسکی تلاش میں تھی۔ آج اسکی تلاش کو راستہ ملا تھا۔ وہ نور فاطمہ کو واپس لا سکتی تھی۔ ہاں۔۔ وہ اس کو زندہ واپس لا سکتی تھی۔نور فاطمہ زندہ ہے۔ یہ بات اسے کسی کو بھی بتانی تھی۔ فوراً سے موباٸل اٹھایا۔ آنسو پونچھتے ایک نمبر ڈاٸل کیا ۔ کال جا رہی تھی کہ تبھی دروازہ کھلا۔اور آہان غصہ سے اندر داخل ہوا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *