Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 39)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 39)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
اسطرح عاشقی کا اثر چھوڑ جاٶں گا۔۔۔
تیرے چہرے پے اپنی نظر چھوڑ جاٶں گا













گلفام۔۔۔میرا بچہ۔۔۔؟؟ دیکھیں۔۔ یہ آپ کے بابا۔۔۔! بولیں۔۔ بابا۔۔۔؟؟
آنیہ کا روز کا معمول تھا۔ وہ میر گلفام کو صبح صبح ہی تیار کر کے ہاسپٹل لے آتی تھی۔ اور بہت سارا وقت میر ہادی کے ساتھ گزارتی تھی۔ وہ چھ ماہ کا ننھا سا گلفام اسکی کلکاریاں آنیہ کو جینے کا حوصلہ دیتی تھیں۔ اکثر اسکیآنکھیں آنسوٶں سے بھری رہتی تھیں۔ وہ ہر روز ایک نٸ امید کے ساتھ میر ہادی کے بے ہوش وجود کو دیکھنے اس سے باتیں کرنے آجاتی تھی وہ بے سدھ و حراکت پڑا تھا۔ لیکن آنیہ جانتی تھی۔ وہ سن رہا ہے۔۔ وہ محسوس کر رہا ہے۔۔ اور ایک دن آنکھیں بھی کھولے گا۔
کچھ ہی دیر میں کشش اور نوت بھی ہاسپٹل پہنچ گۓ تھے۔
نو بہت حد تک خو کو سنبھال چکی تھی۔ اپنی جان سے عزیز بھاٸ کو دیکھ وہ بھی کڑھتی اور روتی تھی۔ لیکن آنیہ کو حوصلہ و ہمت دیتی رہتی تھی۔ آنیہ اس چھوٹی سی لڑکی کے اندر اتنا حوصلہ دیکھ خود بھی حوصلہ رکھے ہوۓ تھی۔
اس بیچار نے اتنے دکھ دیکھے تھے۔ اس کے باجود وہ ہمت نہیں ہاری تھی رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوٸ تھی۔ اور خوش رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔ تو آنیہ کیوں نا شکری کرتی۔۔؟؟ اللہ نے اسے اتنا پیارا بیٹا دیا۔ وہ جتنا اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرتی کم تھا۔
بھابھی۔۔۔ یہ دیکھیں تو۔۔۔اسے ڈمپل پڑتا ہے۔ میری طرح۔۔۔! جب یہ مسکراتا ہے۔میں نے تو آج دیکھا۔
نورخوشی سے چہکی تھی۔
ہاں۔۔ ناں۔۔ اپنی پھوپھو جانی پے گیا ہے ناں۔۔!
وہ ونوں مزے سے اب باتیں کر رہی تھیں۔ جبکہ میر گلفام نور کی گود میں چہک رہا تھا۔۔
کشش میر ہادی کے سرہانے بیٹھی اس پے قرآنی آیتپڑھ کے ورد کر رہی تھیں۔ اور پھر سورت الرحمن کی تلاوت کرنے لگیں۔ یہ انکا روز کا معمول تھا۔ سبھی تلاوت خاموشی سے سنتے تھے۔ اور دل ہی دل میں اللہ کی رحمتوں کے خزانوں کا شکر ادا کرتے تھے۔
”اور تم اپنے پروردِگار کی کون کونسی نعمت کو ٹھکراٶ گے۔۔؟؟ “
عربی متن کی ان آیات کے الفاظ کی بازگشت پے آنیہ اور نور دونوں ہی زار و قطار رو دیتیں۔
دونوں ہی ایک دوسرے کی غم گسار اور سہیلیاں بن گٸ تھیں۔
اچھا بچے اپنا خیال رکھنا۔ ہم چلتے ہیں۔ شام کو چکر لگاتے ہیں۔ آج داور بھاٸ اور کرن کی فلاٸیٹ ہے اتنے عرصے سے کوشش میں لگےہیں ۔ لیکن آنہیں پاۓ۔ اپنا اور ۔۔۔ میر ہادی کا خیال رکھنا۔
ایک بار پھر سے میر ہادی کی جانب دیکھتیں انہوں نے آنیہ کا ماتھا چوما تھا۔
بھابھی میں اس گولومولو کو لےجاٶں۔۔إإ نور نے فرماٸش کی۔
آج کام ہوگا۔۔ گھر پے۔۔ تو مما کا ہاتھ بٹا لو لڑکی ۔ اسے میں دیکھ لوں گی۔ آنیہ نےپیار سے اسکی ناک دباٸ۔
مجھ سے رہا ہی نہیں جاتا اس کے بنا۔۔۔! نور نے مسکینی صورت بناٸ۔
آج صبر کرلو۔ میری جان ۔۔۔! مہمانوں کے استقبال کی تیاریاں کرو۔
نور جاتے لمحے گلفامکو ڈھیر سارا پیار کرتی گٸ تھی۔
آنیہ نے گہرا سانس خارج کرتے میر ہای کے پہلو میں جگہ بناٸ۔ اور گلفان کو وہاں لٹا دیا۔ اور دوسری طف سے تکیے رکھ کے حفاظتی حصار بنایا۔
کہ موباٸل پے بیپ ہوٸ۔ تو وہ چونکتی ہوٸ کال رسیو کر گٸ۔ دوسر طرف ہنیہ تھی۔
کیس ہو۔۔؟ اسکی مسلسل خاموشی کو آنیہ نے محسوس کیا تو خود ہی پوچھ لیا ۔
دونوں کے بیچ ناراضی کی دیوار گر گٸ تھی۔ بہنیں تھیں۔ اور دکھ بھی سانجھے تھے۔
مما نے ۔۔۔ رشتہ طے کر دیا ہے۔۔ ! آنسوٶں میں گھلی آواز کانوں سے ٹکراٸ۔ آنیہ کی تو آنکھیس ہی حیرت سے پھیل گٸیں۔
کیا کہہ رہی ہو۔۔؟؟ کس کے ساتھ۔۔؟؟ آنیہ پنی جگہ سےاہہھتےہوۓ بولی۔ اسی لمحے گلفام نے اٹھکیلیاں کرتے رخ میر ہادی کی جانب موڑا۔
کب۔۔کبیر۔۔۔! ہانیہ بولتےبہوۓ جس مشکل کا شکار ہو رہی تھی۔ یہ بس وہی جانتی تھی۔
اچھا فکرمت کرو۔ میں مما سے بات کرتی ہوں۔۔ وہ ایسے نہ زبردستی کریں تمہارے ساتھ۔
اپنی باتوں میں مگن وہ بھول گٸ کہ میر گلفام باپ کی ہتھیلی کو تھامے اب اسکی انگلی کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ میر ہادی کا ہاتھ کانپا تھا۔ جی پے ابھی تک آنیہ کہ نظر نہیں پڑی تھی۔
آپی۔۔۔! وہ فیصلہ کر چکی ہیں۔ اور ڈیڈ بھی خاموش ہیں۔ میں۔۔ کیا کروں۔۔؟ میں ہان کی جگہ۔۔۔کسی کو نہیں دے سکتی۔ میرا دل کہتا ہے۔ وہ واپس لوٹے گا۔
ہانیہ کے لہجے کا درد آنیہ کواپنے اندر اترتا محسوس ہوا۔
بس میری جان۔۔۔! رونا نہیں۔۔ مما کو میں سمجھاٶں گی۔تم رونا بند کرو۔۔ میں کچھ بھی غلط نہیں ہونے دوں گی۔ اپنی بہن کے ساتھ۔آنیہ نے پرعزم انداز سے کہا۔ ہانیہ نے آنسو صاف کیے۔کال بند کرتی وہ واپس آہان کی تصویر لے کے بیٹھ گٸ۔
ایک عشق لامتناہی کا کرب وہ اسکے حصہ میں ڈال گیا تھا۔ وہ لڑکی سانسیں ہے میری۔۔! اسکے وجود سے اسکی روح تک ۔۔ میں اس کے اندر تحلیل ہوا ہوں۔ آہان مرزا کی جان ہے وہ لڑکی۔ سمجھی تم۔۔۔!
وہ تو آج تک ان لفظوں کے حصار سے نہ نکلی تھی۔ آگے کیا بڑھتی۔۔؟؟
ہان پلیز واپس لوٹ آٶ۔۔۔۔! ایک درد لاحاصل تھا وہ وہیں بستر پے نیم دراز ہوٸ تھی۔ اور کسی نے کیمرے کی آنکھ سے بہت فرصت سے یہ سب دیکھا تھا۔
اور لیپ ٹاپ بند کرتا آنکھیں موند گیا تھا۔ چہرے پے ایک رلفریب مسکراہٹ تھی۔










آنیہ کال بند کرتے واپس مڑی اور میر گلفام کو اٹھایا۔ لیکن اسکا ہاتھ میر ہادی کے ہاتھ میں جکڑا ہوا تھا۔
آنیہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔
آنیہ نے پھر سے ہاتھ چھڑانا چاہا۔ لیکن ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔
آنیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گٸں۔ وہ ۔۔ میر ہادی کے چہرے کی جانب دیکھنے لگی۔ اسکی پلکیں لرزیں تھیں۔ اور یہیں آنیہ کی بس ہوٸ تھی۔ فوراً سے گلفام کو واپس لٹایا۔ اپنی آنکھوں کے نم گوشوں کو صاف کیا۔
گلفام نے باپ کی طرف رخ کرتے مزید اپنے اور اسکے بیچ کے فاصلے مٹا رہا تھا۔ جبکہ آنیہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ یہ منظر موباٸل کی آنکھ میں کیچ کر رہی تھی۔کہ اتنے میر یامین ڈاکٹر کے ساتھاندر داخل ہوۓ۔ اور یہ منظر دیکھ رک گۓ۔
میر ہادی کی آنکھوں کی جنبش کسی سے چھپی نہ رہ سکی۔
آنیہ نے اشارہ کرتے ہوۓ بتایا۔ کہ میر ہادی ری کور کرگۓ۔
میریامین نے بے اختیار اللہ کا شکر ادا کیا ۔ ڈاکٹر نے میر ہافی کا چیک اپ کیا۔ اور انہیں خوش خبری سناٸ۔
مبارک ہو۔۔۔ اٹس آ مریکل۔۔۔۔! ہی از۔۔ ان کونشیز ناٶ۔۔۔! ڈاکٹر۔نے میر یامین کو گلے لگا کے خوش ہوتے بتایا۔ وہیں میر یامین نے نم آنکھوں سے آنیہ کے سر پے شفقت کا ہاتھ رکھا۔
ڈاکٹر میرہادی کےپاس آیا۔اور اسے اٹھنے کا کہا ۔
میر ہادی۔۔۔ کیا آپ مجھے سن سکتےہیں۔۔ ؟ اپنی آنکھیں کھولیں پلیز۔۔۔۔! ڈاکٹر نے ایک دو تین دفعہ ایک ہہ جملہ دہرایا۔ لیکن مقابل خاموشی ہی رہی۔ تینوں پریشان ہوۓ۔
آنیہ نے گلفام کو میرہادی کے سینے پے لٹا دیا ۔ وہ ہاتھ ادھر ادھر مارتا باپ کو دیکھتا مسکرانے لگا تھا۔
کہ اسی اثنا میں میر ہادی کی آنکھیں نیم وا ہوٸیں۔ اور اس کے پاس کھڑے سبھی کی جان میں جان آٸ تھی۔
گلفام اب اٹھکیلیاں کرتا میر ہادی کے سینے پے آگیا تھا ۔ اور چہرے کے ساتھ چہرہ مس کرتا وہ میر ہادی کی ناک کو چوسنےلگا۔ ساتھ میں اسکی مسکراہٹیں دیکھنے والی تھیں۔
آنیہ نے میر گلفام کو اپنی گود میں اٹھایا۔ میر ہادی کے چہرہ کے تاثرات پے کوٸ سمجھ نہ پایا کہ وہ کیامحسوس کررہا ہے؟
انہیں باہر جانے کا کہتے
ڈاکٹر اسکا معاٸنہ کرنے لگے۔ میر ہادی نے پوزیٹیو رسپانس دیا تھا۔
سبھی نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں میر ہاد ی سے سب کوملاقات کی اجازت مل گٸ تھی۔ وہ باری باری اس سے ملنے لگے۔
میر یامین نے میر ہای کو گلے سے لگایا۔
آپ نے توڈرا ہی دیا تھا۔ بھلا اسطرح کرتا ہے کوٸ۔۔۔؟ گلہ شکوہ بھی کرتے انکی آنکھیں نم۔ہوٸیں۔
فکر نہ کریں۔۔ اب ٹھیک ہوں میں۔۔۔! میر ہادی نےاپنی طرف سے انہیں تسلی دی جبکہ وہ کمزوری کے زیر اثر تھا۔ ایک سال سے وہ مشینوں میں جکڑا ہوا زندگی کی رمز کع بھول گیا تھا۔ بمشکل باپ کے سہارے وہ اٹھ کے بیٹھا تھا۔اور آنیہکی گو سے گلفام کے لیے ہاتھ آگے بڑھاۓ تھے۔ آنیہ نے نم آنکھوں سے گلفام کو میر ہادی کی گود میں دے دیا۔
وہ باپ کی گود میں آتا ہی خوشی سے اٹھکیلیاں کرنے لگا۔ میر ہای اسے فیکھ جیسے پھر سے جینے کیامنگ لے اٹھا تھا۔ دھیرے سے اسکا چہرہ اپنے چہرے کی قریب کرتا وہ اسے آنکھیں موندے محسوس کررہا تھا۔
اسے سینے سے لگاۓ ایک نظر آنیہ کو یکھا۔ ہاتھ بڑھا کہ اس پاگل کو روتےہوۓ اپنے پاس بلایا۔
تھینک یو۔۔۔ آن۔۔۔! اتنا پیارا تحفہ دینے کے لیے۔۔۔۔! دل سے کہتا وہ آنیہ کو سرشار سا کرگیا۔
میر یامین ڈاکٹرسے بات کرنے کے لیے باہر نکلا۔ ضروری فارمیلٹیز پوری کرتے اب انکا ارافہ میر ہادی کو گھر لےجا کا تھا۔
دونوں کے بیچ خاموشی چھا گٸ تھی۔ بس میر گلفام کی اوں آں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میر ہادی گلفام کے ننھے ننھے ہاتھوں سے کھیل رہا تھا۔
آن۔۔۔! جانتی ہو۔۔۔ اسکی سماٸل کس پے ہے۔۔ ؟ یونہی کہتے کہتے وہ سوچوں میں ڈوبتا ابھرا۔
نور فاطمہ کے جیسی۔۔۔!آنیہ نے یقین سے کہا ۔
تم۔۔۔ تم۔۔۔ جانتی ہو۔۔۔؟؟ نور فاطمہ۔۔؟؟ میر حیران ہوا۔
ایک بہت بڑا سرپراٸز۔۔ آپ کا ویٹ کر رہا ہے۔ گھر پے۔۔۔! آنیہ اسکے کان کے پاس جھکتی دھیرے سے سرگوشی کر گٸ۔اسکا یوں قریب آنا ۔ میر کو خوشگار حیرت میں ڈال گیا تھا۔
شام تک ڈاکٹر سے اجازت لیتے وہ گھر کے لیے روانہ ہوگۓ تھے۔
میر ہادی آسمان کیجانب دیکھتے ساتھ بیٹھی آنیہ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھتا پرسکون سا ہوا۔ اسکی گود میں میر گلفام سو رہا تھا۔ ۔ میر ہادی کو لگا۔ وہ ۔۔ وہ بہت لمبے عرصہ تک سوتا رہا۔ گھر میں ابھی میر یامین نے کسی کو اطلاع نہیں دی تھی۔ وہ سب کو سرپراٸز دینا چاہتا تھا۔
میر والا میں داخل ہوۓ تو سامنے سب موجود نظر آۓ۔ کرن او داور اپنے بچوں سمیت موجود تھے۔ وہ سب ہاسپٹل میر ہای سے ملنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن میر ہی وک اپنے پیروں پے چلتا ہوا آتا دیکھ سبی حیرت سے اپنی جگہ اٹھ کھڑے ہوۓ۔
ہادی۔۔۔۔! کشش کی روتی ہوٸ آواز کانوں سے ٹکراٸ تو میر ہافی کے چہرے پے ایک مسکراہٹ ابھری۔ اس نے بانہیں وا کی تھیں۔ اپنی ماں کے لیے۔
کشش ایک منٹ کی دیری کیے بنا اسکے سینے سے جاٹکراٸ۔ اسے چھو کے احساس کر رہی تھی۔ کہ وہ اسکے سامنے ہے۔ کوٸ خواب نہیں۔ آنسو تھے کے رکنے کا نام نہ لے رہے تھے۔
آپ۔۔۔ٹھیک ہوگۓ۔۔؟؟ میرے ہادی۔۔؟ماں کے لیے اولاد کیا ہوتی ہے۔ یہ کوٸ ایک ماں سے ہی پوچھے۔
مجھےٹھیک ہوناں۔۔ تھا ناں۔۔ماں۔۔۔ آپ کے لیے ۔۔ سب کے لیے۔۔۔! ماں کو بانہوں کے حصار میں لیے وہ باری بار سب سے ملنے لگا۔
دروازے کے پاس خاموش کھڑی نور فاطمہ اندر کا منظر دیکھتی آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بھاٸ کو واپس اپنے پیروں پے کھڑا دیکھ انتہاٸ خوش تھی ۔
اچانک دے نظر نر فاطمہ پے اٹھی تو پلٹنا بھول گٸ۔
ہر طرف خامشی سی چھا گٸ۔
میر ہادی سب کو ایک طرف چھوڑتا آنکھوں میں آنسو لیے بہن کی طرف پیش قدمی کی۔ اسکو اپنے سامنے دیکھ میر ہافی فرطِ جذبت سے کچھ بول نہ پایا۔ اسے اپنے سینے سے لگایا۔ تو بس تڑپتے سلگتے دل۔کو قرار آگیا۔سبھی کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ بہن بھاٸ کا انمول پیار دیکھ سبھی خوش تھے۔
کیسا لگا سرپراٸز۔۔؟؟ آنیہ نے پاس ہوتے میر ہادی کے کان میں کہا۔ تو وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتا مسکرادیا۔ آنیہ ہی تو اسکی زندگی کا ایک مہکتا جگنو تھی۔ جو اسے زندگی کی طرف واپس لاٸ تھی ۔
