Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 25)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 25)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
بیٹا۔۔۔! مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔
ارتسام کے کہنے پے وہاج ہوش میں آیا ۔
جی۔۔۔جی۔۔؟۔ وہ۔۔۔؟؟ وہاج گڑبڑا گیا۔
یہ الو کا پٹھہ پھساۓ گا مجھے۔ ہانیہ نے دلہن بنے ہی دھیرے سے ماتھے پے ہاتھ مارا۔ جسے آہان نے بہت فرصت سے دیکھا تھا۔
ابھی وہ کچھ کہتا ۔کہ تالیوں کی آواز پے سب پلٹے۔ اور آنے والے کو دیکھا۔
آنے والا کوٸ اور نہیں ۔۔ بلکہ۔۔۔؟؟؟ وہاج کی منگیتر تھی۔
واہ۔۔۔۔ آپ کا نکاح ہورہاہے۔۔ اور مجھے بتانابھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔؟ کیا ہوا ۔۔۔۔؟ رک کیوں گۓ۔۔۔ قبول نہیں کروگے۔۔۔؟ اس کے لہجے کے دردپے وہاج تڑپ کے اٹھا۔ اسکی تکلیف اسےاپنے اندراترتی محسوس ہوٸ۔
دیبہ کی آنکھیں نم ہوٸیں تو وہاج کا دل بھر آیا۔
یہ سب کیا تماشا ہے۔۔۔؟؟ ابتسام کی غصہ سے بھری آواز گونجی توسب کو ہوش آیا۔
تماشا تو اب لگے گا۔۔۔۔!ڈیڈ۔۔۔! اپنی جگہ سے دلہن بنی وہ دھیرے سے بڑبڑاتی ہوٸ اٹھی تھی۔
سر۔۔۔۔۔! یہ۔۔۔دیبہ ہے۔۔۔!وہاج کا سر جھکا ہوا تھا۔
اسکے جواب سے وہاں کوٸ مطمین نہ ہوا تھا۔
پورا تعارف نہیں کرواٶ گے۔۔۔؟ وہاج کی آنکھوں میں دیکھتے دیبہ طنز سے بولی تھی ۔
وہاج کلیٸر کرو پویشن ۔۔۔۔! ابتسام غصہ سے کہتا آگے بڑھا۔
سر۔۔۔ یہ۔۔۔۔ منگیتر ہے میری۔۔۔! اور۔۔ محبت بھی۔۔۔! کہتے ہوۓ سر تو جھکا۔ لیکن کہہ گیا۔ ہانیہ نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔
چٹاخ۔۔۔! ابتسام کا ہاتھ اٹھا تھا۔ جووہاج کے گال پے اپنی انگلیوں کی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔
اگر یہ نمنگیتر ہے تو ہانیہ کیا ہے۔۔۔؟ ابتسام کا بس نہیں چل رہا تھا۔ وہاج کا منہ توڑ دے۔
سر۔۔۔! یہ سب۔۔۔ ہانیہ کا ہی کیا دھرا ہے۔۔ میرا کوٸ قصور نہیں۔۔ وہاج تیزی سے کہتا اپنی پوزیشن کلیٸر کرنے لگا۔ وہیں ہانیہ کا دل زور سے دھڑکا۔
یہ۔۔۔ خود تو ڈوبا ہے۔ مجھے بھی ڈبو کےچھوڑے گا۔
دانت پیستے وہ دل ہی دل میں وہاج کو سو صلواتیں دیتی آہان کی تیکھی نظروں کا مرکز تھی۔ جیسے وہ یہ سب بہت انجواۓ کر رہا تھا۔
کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔؟؟ صاف صاف کہو۔
ابتسام کے کہنے پے وہاج نے سب کے سامنے الف سے یے تک ساری کہانی رکھ دی۔ جس میں سارا قصور ہانیہ کے نام نکلا۔
گۓ کام سے۔۔۔! خود کو کہتی وہ اب وہاں سے واک آٶٹ ہونے کا سوچ رہی تھی۔
سر۔۔۔!یقین مانیں۔۔میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے مجبور کیا گیا۔۔۔اور۔۔ پھر۔۔ مجھے یسوں کی ضرورت تھی۔۔میں لالچمیں آگیا۔۔ لیکن۔۔۔ بات صرف رشتےتک رہے گی۔ایسا کہا گیا۔۔۔ لیکن۔۔ نکاح تک پہنچ جاۓ گی۔ یہ۔۔نہیں تھا پتہ۔۔ ! وہاج نے صاف دامن بچایا۔
ہاں۔۔ جیسے معصوم بچہ ہے۔۔۔ گن کی نوک پے تم سے نکاح کر رہی تھی میں۔۔؟ ہانیہ کی سخت اور اونچی آواز گونجی۔ توسب اسکی جانب مڑے۔
ہانیہ کو روم میں لے جاٸیں ابرش۔۔۔!ابتسام نے دھیرے ابرش کے پاس ہوتے کہا۔ وہ خود کو کیے کنٹرول کیے ہوۓ تھا۔ یہ بس وہی جانتا تھا۔
ابرش زبردستی اسے کھینچتے ہوۓ اندر روم مں لے گٸ۔
ابھی اسی وقت اس لڑکی کو لو۔۔ اور چلے جاٶ یہاں سے۔ابتسام نے اپنی آوازقدرے دھیمی رکھنے کی حتی المکان کوشش کی تھی۔
وہاج دیبہ کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل گیا تھا۔
ابتسام توجیسےڈھےگیاتھا۔ ارتسام نے ان کے کندھے پے ہاتھ رکھا۔
خود کو سنبھالیں بھاٸ۔
ابرسام نے گہراسانس خارج کیا۔
باہر کے دشمنوں سے تو لڑ لوں۔۔۔اپنی اولاد جب دشمن بن جاۓتوکیاکروں میں۔۔۔؟ ایک درد تھا۔
بیٹا۔۔۔اگر ہانیہ کی مرضی نہیں تھی ابھی شادی کرنے کی تو۔۔۔آپ کو زبردستی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
ابی جان نخیف آواز میں کہتیں اٹھیں ۔ اور ملازمہ کے سہارے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸیں۔
ابی جان کی بات پے سبی کی نظریں اب ابتسامپے تھیں۔
ابی جان کی بات سچ تھی۔لیکن ابتسام جو سمجھتا تھا وہ کوٸ نہیں سمجھ پارہا تھا۔
لب بھینچے وہ ادر کمرے کی جانب بڑھا۔ جہاں ابرش اورہانیہ تھے۔ جبکہ آہان بھی نظر بچا کے پیچھے ہی ہوا تھا۔
ذیڈ کیوں زبردستی کرنے لگے۔۔۔ ہانیہ کے ساتھ۔۔۔؟ آنیہ کو بات کچھ ہضم نہ ہوٸ ۔
مما۔۔پلیزسمجھنے کی کوشش تو کریں۔۔ میرا کوٸ قصور نہیں۔۔۔!ہانیہ کی آواز ابتسام کے کانوں سے ٹکراٸ۔ جسے آہان نے بھی سنا تھا۔
بہت ہوگٸ آپ کی من مانی۔ اب مزید نہیں۔۔۔! اس لیے۔۔ میں نے فیصلہ کیا ہے۔۔ کہ آپ کا نکاح آج ہی ہوگا۔۔۔!
ابتسام نے ہانیہ کو غصہ سے دیکھتے کہا ۔
اور۔۔لڑکا۔۔؟؟ ابرش نے سوال کھڑا کیا۔
میں۔۔ یہ نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔! آہان کی سنجیدہ آواز پے ابتسام اور ابرش نے ایک ساتھ آہان کو حیرت سے دیکھا۔
جبکہ ہانیہ کا غصہ سے برا حال تھا۔ دلہن کےروپ میں وہ اس وقت جوالہ مکھی بنی ہوٸ تھی۔
آپ۔۔۔؟؟ لیکن۔۔؟ ابتسام کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ کیا کرے۔ حالات اس کے اختیار سے باہر ہوچکے تھے۔ انکی اپنی بیٹی نے انکو اتنا بڑا دھوکا دیا تھا۔ کہ وہ ٹوٹ گۓ تھے۔ ایسے حالات میں جب سارے مہمان گھر میں اکھٹے ہوۓ تھے۔ انہیں اپنی عزت کو محفوظ کرنا تھا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ آپ دونوں کا نکاح ہوگا۔ ابھی اسی وقت۔
ایک فیصلے پے پہنچ کےابتسام نے سخت الفاظ میں کہا۔ تو ہانیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
ہرگز نہیں۔۔۔!ڈیڈ۔۔ میں یہ نکاح۔۔۔؟؟
ابرش۔۔۔!ان سے کہہ دیں۔ جو انہوں نے کرنا تھا کر لیا۔ مزید کوٸ تماشا نہیں ۔۔۔ ابتسام علی پیرزادہ عزت کے لیے جان دے بھی سکتا ہے۔ اور لے بھی سکتا ہے۔
انتہاٸ غصہ کے عالم میں ابتسام کہتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گۓ ۔
مما۔۔۔! ڈیڈ کوسمجھاٸیں۔ میں نہیں کروں گی اس سے نکاح۔۔ کبھی نہیں کروں گی۔
ہٹ دھرمی اور خود سری والے انداز میں کہتی وہ ابرش کو اس وقت سخت طیش دلا گٸ تھی۔
کہ اسکا ہاتھ اٹھ گیا۔ پانچ انگلیوں کا نشان اسکے گال پے چھوڑ گیا۔
گال پے ہاتھ رکھے وہ اپنی ماں کو حیرت سے دیکھنے لگی۔
آج تک کبھی اسکی مما نے اس سے سخت یا اونچی آواز میں اس سے بات تک نہ کی تھی آج انہوں نے اس پے ہاتھ اٹھایا تھا۔
کاش۔۔۔ یہ تھپڑ آپ کو بہت پہلے مارا ہوتا۔۔۔ تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
ابرش کی نم آنکھوں میں دیکھتے ہانیہ کا سر جھکا تھا۔ کس ضبط کا وہ مظاہرہ کر رہی تھیں۔ یہ وہی جانتی تھیں۔
ابر نے ایک نظر خاموش کھڑے آہان کی جانب دیکھا۔
کچھ ہی دیر میں آپ کا نکاح ہوگا۔ آہان کے ساتھ۔
اس لیے اب۔۔۔ کوٸ بات نہیں۔۔ کوٸ ارگیو نہیں۔۔ انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ باہر نکل گٸیں۔
کمرے میں اب صرف وہ دونوں ہی رہ گۓ تھے۔
آہان کے چہرے پے ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ دھیرے سے چلتا اس کے پاس آیا۔
کبھی کبھار انسان کسی دوسرے کے لیے گھڑا کھودتا ہے ۔ لیکن گر اس میں خود ہی جاتا ہے۔۔۔۔ جیسے تمہارے ساتھ ہوا۔۔۔!
یہ ۔۔۔نکاح۔۔۔ تمہیں ۔۔بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہان مرزا۔۔۔!
لال ہوتی آنکھوں سے ہانیہ اسے چیلنج کرنے سے باز نہ آٸ۔ اسکے سب کیے کراۓ پے پانی پھیرنےوالا ہی وہی تھا۔ اور ہانیہ اسے بخش دیتی۔۔۔؟ ناممکن۔
چیلنج کر رہی ہو۔۔؟؟ سینے پے ہاتھ باندھے بڑی فرصت سے اسے دیکھا۔
تمہارا جینا حرام نہ کر دیا تو میرا نام بھی ہانیہ ابتسام پیرزادہ نہیں ۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ اب اپنا نام بدل کے۔۔۔ ہانیہ آہان مرزا رکھ لو۔۔۔ کیونکہ میں تو اس نکاح کو آخری سانس تک نبھاٶں گا۔ آنکھوں کے رستے اسے نگلنے والےانداز سے دیکھتے مضبوط لہجے میں کہتا وہ اس لمحے ہانیہ کو انگاروں پے گھسیٹ گیا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
میر ہادی ابھی گھر لوٹا تھا۔ لیکن گھر میں مکمل خاموشی محسوس کرتا وہ پہلے دادا جیکے کمرے کا رخ کر گیا۔ وہ کھانا کھا کے سور ہے تھے۔ ورنہ ضرور ان سے بیٹھ کے ل کا حال کہتا ۔
گہرا سانس خارج کرتا وہ بے اختیار ہی اپنے قدموں کا رخ آنیہ کے کمرے کی جانب کر گیا ۔ جہاں وہ ان دنوں رہ رہی تھی۔ لیکن وہ کمرہ روشن نہ تھا آج۔۔۔! میر ہادی کو اچھنبا ہوا۔ وہ بھلے اسکے قریب نہ تھی لیکن اس گھر میں تھی۔ اسکے دل کے سکون کے لیے یہی بہت تھا۔ اب وہ وہاں موجو نہ تھی۔ دروازہ کھولا۔ لیکنگھپ اندھیرا اور خاموشی۔۔؟اسکے ماتھے پے بل پڑے۔
شازمہ ۔۔۔؟؟ میر نے وہیں سے آواز لگاٸ۔ اور چلتا ہوا باہر لاٶنج میں آیا۔
جی صاحب جی۔۔۔! شازمہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوٸ۔
سب ۔۔کدھر ہیں۔۔؟؟ کٸ نظر نہیں آرہا۔۔؟؟ ماتھے پے دوبل ڈالے پوچھا۔
جی۔۔وہ آج۔۔۔ آنیہ بی بی کی بہن کا نکاح ہے۔۔ تو۔۔ سب ادھر ہی گۓ ہیں۔۔۔! شازمہ نے جھجھکتے ہوۓ کہا ۔
نکاح۔۔۔؟؟ ایک بار پھر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا اس کے اندر۔
مطلب۔۔۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہ سمجھا۔۔؟؟
دلبرداشتہ ہوتا وہ اپنے کمرے میں آگیا۔
مسز۔۔۔۔! کچھ زیادہ ہی پر پرزے نکل آٸے ہیں آپ کے۔۔۔؟؟ اپنی من مرضیاں شروع ہوگٸ ہیں۔۔ بندوبست تو کرنا پڑے گا۔۔۔راکنگ چیٸر پے جھولتا وہ ہمکلامی میں بولا۔
وہ آج تو بالکل بھی آنیہ کو بخشنے کے موڈ میں نہ تھا ۔ جو بنا اسکی اجازت کے بنا اسے بتاۓ گھر سے نکلی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آہان مرزا۔۔! پورا نام آہان حمزہ مرزا۔
جسے آخر کار اسکی پہچان مل گٸ تھی۔
ابتسام نے اسے اسکے ماں باپ اور خاندان کے متعلق سب بتا دیاتھا۔ یہ راز کھلا تھا۔ ارتسام ابتسام اور آہان کے بیچ۔ لیکن ہانیہ نے بھی جان لیا اپنی جاسوسی طعبیت کی وجہ سے ۔
جب ابتسام ۔۔ یہ راز آٶٹ کر رہاتھا۔ اس نے سن لیا تھا ۔ اور آہان نے اسے سنتے دیکھ لیا تھا ۔
اس کےبعد ہی ہانیہ نے اسےنکاح کی پیشکش کی تھی۔ ارادہ اس نے اسی وقت کر لیا تھا لیکن وہ اسے اسی کے کھیل میں مات دینا چاہتا تھا اور دے بھی دی تھی ۔ لیکن یہ ہار ہانیہ سےبرداشت نہ ہوٸ۔
نکاح کے ساتھ ہی رخصتی بھی ہو جانی تھی۔ ایساآہان اور ابتسام کی مرضی سے ہورہا تھا ۔ جبکہ اس سب کے بیچ ابرش خاموش تماشاٸ بنی تھی ۔
جاری ہے۔
