Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 35)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 35)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ہانیہ۔۔۔! یہ طے ہے۔۔ اب جو میں کہوں گی۔ آپ کو وہی کرنا ہوگا۔
ابرش کے قطعی انداز پے ہانیہ الجھی تھی۔
مما۔۔۔! میں سمجھی نہیں۔۔ آپ کیاکہنا چاہ رہی ہیں۔۔۔؟میں کل ہی وکیل سے خلع کےپیپرز بنوالوں گی۔ آپ اس پے ساٸن کر دینا۔ اب آہان اور آپ کا رشتہ مزید نہیں رہے گا۔
ابرش نے تو اسکے سر پے بم ہی پھوڑ دیا۔ ایک لمحے کو تو اسے اپنے کانوں پے یقین ہی نہ آیا۔
مما۔۔؟؟ یہ آپ۔۔۔؟ ہانیہ کی زبان نے بھی اسکا ساتھ نہ دیا ۔
صحیح سنا ہے آپ نے ۔۔۔! اس بات پے مزید کوٸ بحث نہیں۔ اور اپنے فیصلہ سے میں ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوں گی ۔ اس لیے آپ اپنا ماٸنڈ سیٹ کر لیں۔
اب آپ جا سکتی ہیں ۔ قطعی انداز میں کہتے ابرش باتھ روم کی جانب بڑھ گٸ۔
ہانیہ وہیں سکتےمیں کھڑی رہ گٸ۔
یہ سب۔۔۔؟ کیا۔۔۔؟ مما۔۔ایسا کیوں۔۔؟؟ کیا۔۔ واقعی۔۔۔مما۔۔۔؟؟ مجھے ۔۔آہان سے الگ۔۔۔؟؟ ہنیہنکا فل زوروں سے دھڑکا۔
دماغ چپ تھا۔ جبکہ دل مسلسل نفی کیے جا رہا تھا۔
وہ مرے ہوٸے قدموں سے واپس لوٹی۔









بتا دوں گا۔۔۔! لیکن ۔۔۔ فی الحال مجھے تھوڑا وقت دیں۔ پلیز۔۔۔! آہان سمجھ گیا تھا۔کہ ہانیہ نے اسے سب کچھ بتا دیا ہے۔ اسلیے بنا کسی تردد کے اسے جواب دے دیا۔
پلیز آہان۔۔۔! مجھے بتاٶ۔۔؟ کیا وہ واقعی۔۔نور فاطمہ ہے۔۔۔؟؟ میر کی بہن۔۔؟ وہ زندہ ہے۔۔۔؟ دھڑکتے دل سے پوچھا ۔
آہان نے گہرا سانس خارج کیا۔
جی۔۔۔! وہ میرہادی کی ہی بہن ہے۔۔ اور زندہ بھی۔۔۔ لیکن۔۔؟؟ وہ رکا تھا۔ لیکن کیا۔۔۔؟؟؟آنیہ بے چین ہوٸ۔
شی از ویکٹم۔۔۔۔! زیادتی کا شکار ہوٸ ہے وہ۔۔۔! سر جھکاۓ وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔ آنیہ نے منہ پے ہاتھ رکھے اپنی آواز کا گلہ گھونٹا۔۔۔!
وہ جس حالت میں ملی۔۔۔ وہ اس قابل نہیں تھی ۔ کہ اسے اسکے گھر والوں سے ملوایا جا سکے۔ اسکا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے۔۔ فزیکلی تو وہ ٹھیک ہو جاۓ گی۔ ایک دن۔۔۔! لیکن مینٹلی۔۔؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔
آہان کی آواز قدرے دھمیمی تھی۔
وہ۔۔۔ سیو ہے۔۔۔؟؟ آنیہ کو نور کی حالت پے بہت دکھ ہوا۔
ہممممم۔۔۔ بالکل سیو۔۔! آہان نے یقین سےکہا تھا ۔
میں۔۔ اس سے ملنا چاہتی ہوں۔! آنیہ کی بات پے وہ سوچ میں پڑ گیا۔
کچھ وقت دیں۔ اسکی حالت تھوڑی بہتر ہوجاۓ۔ تو سب سے ملوا دوں گا۔
اور دعا کیجیےگا۔ کہ سلطان کو میرے ہاتھوں ایسی موت ملے۔ کہ اسکی روح بھی کانپ اٹھے ۔ آہان کےاندر شیدید نفرت کا الٶ دھک رہا تھا۔
ان شاء اللہ، آنیہ نے دل سے کہا۔
ایک وعدہ کریں۔ مجھ سے۔ آہان نے اسے اٹھتے ہوۓ دیکھا تو بول دیا۔
یہ راز آپ کےاور میرے بیچ ہی رہے گا۔ کسی اور سے آپ کچھ نہیں کہیں گیں۔ کسی مطلب کسی۔۔۔ سے بھی۔۔۔! آہان کی بات کا مطلب سمجھتے ہوۓ آنیہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
کیسا راز۔۔؟ ہانیہ کی اچانک آمد پے وہ دونوں چونکے۔ جبکہ آنیہ ایک نظر آہان اور دوسری نظر ہانیہ پے ڈالتی باہر نکل گٸ تھی۔
کونسے راز و نیاز ہو رہے تھے۔۔۔؟ ہنیہ نے بھنوٸیں سکیڑیں
ضروری نہیں ہر بات تمہیں بتاٸ جاۓ۔
آہان نے اسے نظر انداز کیا۔ اور ابتسام کو دوبارہ سے کال۔ملاٸ۔
نمبر بند جا رہاتھا۔ آہان پریشان ہوا۔
آہان مرزا۔۔! یہ جو تم دو نمبری کر رہے ہو ناں۔۔ بہت پچھتاٶ گے تم۔۔۔!
سینےپے ہاتھ باندھے وہ منہ بنا کے بولی تھی۔
تم سے شادی کرنے کے بعد بھی یہی سوچ ہے میری۔۔۔!
سنجیدگی سےکہتے وہ ہانیہ کو زلزلوں کی زد میں لےآیا تھا۔ جبکہ وہاں سے دور ہٹتا وہ اب بھی مسلسل کال کر رہا تھا۔
کیا۔۔ کیا مطلب ہے تمہارا۔۔؟؟ بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔
تم۔۔۔ پچھتا رہے ہو۔۔؟؟ ہانیہ کالہجہ تیز ہوا۔
کان خراب ہیں کیا۔۔۔؟ آہان نے موباٸل کان سے لگاۓ اسے ٹوکا۔
ہیلو۔۔۔!مجھے میسج کا انسر کیوں نہیں کر رہے ہو ۔۔ ماتھےپے بل ڈالے اس نے فون کے مقابل کسی سے پوچھا۔
ٹھیک ہے۔۔ان کے ساتھ رہو۔۔۔ ایک منٹ کے لیے بھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑنا۔۔مجھے ہر لمحے بتاتے رہنا۔
ہانیہ جو کچھ کہنے والی تھی۔ آہان کے منع کرنے کے اشارے پے چپ سی ہوگٸ۔
کال بند کرتا ہو پھر سے کہیں اور کال ملا رہا تھا۔
تم مجھے اگنور کر رہے ہو۔۔؟ ہانیہ نجانے کیوں دکھ سے بولی تھی۔
بزی ہوں۔۔۔! ایک منٹ۔۔۔! پریشانی اسکے چہرے پے ہوا دیدہ تھی۔ ہانیہ چپ چاپ پیچھے ہٹ گٸ۔
کیا انفارمیشن ہے۔۔۔؟؟ اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔
سر لوکیشن ایک ہی جگہ فکس ہو چکی ہے۔۔اور سلطان کا اڈہ وہیں ہے۔ جہاں سے نورجہاں کی لوکیشن مل رہی ہے۔ شان نے ڈیٹیل دی۔
ٹھیک ہے۔ہیڈ کوارٹر اطلاع کر دو۔ اور جو آرڈر ملے اسے فالو کرو۔
سر۔۔۔؟؟ اگر اٹیک کرنے کا آرڈر ملا تو۔؟ شان کے جواب پے ایک لمحے کو وہ چپ ہوا۔
اتنی جلدی نہیں ملے گا۔ تم اطلاع پہنچاٶ۔ آہان نے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلا۔
جبکہ دور بیٹھی صوفے پے ہانیہ گاہے بگاہے اسے دیکھ رہی تھی۔
کیا واقعی۔۔۔؟؟ آہان ۔۔پچھتا رہا ہے۔۔۔؟ یہ وہ سوال تھا۔ جس نے اسے بے چین کر دیا تھا۔
نظر اسکیجانب اٹھی۔ تو پلٹنا بھول گٸ۔ وہ کیا تھا۔۔؟؟ اسکا انداز ۔۔؟؟ اسکا لہجہ۔۔۔ اسکی وطن سے محبت۔۔۔ اپنے کام سے سنسٸرٹی۔۔۔ خوبصورت اور مردانہ وجاہت سے بھرپور۔۔ وہ اسکا شوہر تھا۔
کیا۔۔۔؟؟ وہ واقعی۔۔۔اسکا تھا۔۔۔؟؟ وہ بے دھیانی میں بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔
جبکہ نظروں کی تپش محسوس کرتا آہان چونکا تھا۔
اتنی وارفتگی سے ہانیہ کا دیکھنا اسے الجھا گیا تھا۔
سر جھٹک کے وہ واپس اپنے کام میں مگن ہوگیا۔
ہانیہ اسی کو دیکھتی اسی کو سوچتی آنکھیں موندے نیند کی وادیوں میں کھوتی چلی گٸ۔
آہان کو فون پے ابتسام کی پیرزادہ منشن واپس کی اطلار ملی تو اسے سکون آیا۔
لیپ ٹاپ بند کرتا وہ اٹھا تھا۔ نظر ہنیہ پے جا ٹہری۔ جو آدھی صوفے پے تھی۔ آدھی صوف سے نیچے۔ اور گہری نیند میں ۔
آہان نے نفی میں سر ہلایا۔ اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتے بستر پے لایا۔
وہ کسمسا کے آہان کو مزید اپنے قریب کر گٸ۔ سوتے میں ایک مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔ کہ وہ اس پل میں کھو سا گیا۔
ہانیہ کے اوپر کمفرٹر دیتا وہ پیچھے ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اس نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔ اور ہگ کرتی سوتی رہی۔
آہان کا خود کے جذبات پے قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
وہ اسکے قریب آکے اسکے جذبات کو جگا رہی تھی۔
اور ان جذبات کو بھڑکنے کے لیے ایک ہلکی سی چنگاری ہی بہت تھی۔
آہان وہیں اسکے قریب ہوتا لیٹا تھا۔ اسکے ماتھے سے بالو ں کو پیچھے کرتا بے اختیار اسکے ماتھے پے لب رکھ گیا۔ ہانیہ نے دھیرے سے پلکیں وا کیں۔
بت برے۔۔ہو تم۔۔۔! نیند ہی نیند میں بڑبڑاٸ تھی وہ۔
مجھے خود سے دور کرنا چاہتے ہو۔۔۔! بہت گندے ہو۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ اگنور کرتے ہو۔۔۔!وہ نیند میں بولے جا رہی تھی۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔ لیکن لہجہ آنچ دیتا ہوا تھا۔
آہان کےگلے میں بناہیں ڈالے وہ اسکے چہرے کے ساتھ چہرہ جوڑے دل کا حال کہے جا رہی تھی۔
لبوں کے ساتھ لب مس ہوۓ تو آہان کے صبرکی انتہا ہوٸ۔
آگے ہوتا اسکے لبو ں پے شدت سے جھکا اور خود کو سراب کرنےلگا۔ نیند میں ہانیہ کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا تو۔ آنکھ کھل ہی گٸ۔
آہان کو اپنے قریب اپنی سانسوں سےالجھا دیکھ وہ سن ہوٸ تھی۔
جب سانس اٹکنے لگی تو زور لگا کے آہان کو پیچھے کرنا چاہا۔ وہ بھی ایک دم سے ہوش میں آتا پیچھے ہٹا ۔
اپنی سانسیں ہموار کرتی وہ زرا کی زرا پیچھے کو سرکی۔
تم۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ نے۔۔۔؟ سوتے میں۔۔ مجھے۔۔۔؟ ہانیہ سے بولا نہ جا رہاتھا۔
آہان نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا سوتے میں۔۔؟؟ تم نے مجھے کھینچ کے اپنے قریب کیا۔ آہان نے الٹا اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔! نجاٸز فاٸدہ اٹھانا چاہتے تھے تم۔۔ ہانیہ غصہ سے اس کے روبرو ہوٸ۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟ پتہ بھی ہے۔۔۔؟ آہان کا تو دماغ ہی گھوم گیا اسکی بات پر۔
تو۔۔۔؟یہ جو ابھی کیا یہ کیا تھا۔۔؟؟
بیوی ہو میری۔۔۔! نکاح میں ہو۔۔۔! جب چاہوں جس وقت چاہوں اپنے حقوق لے سکتا ہوں۔ لیکن۔۔ میں ایسا کروں گا نہیں۔۔۔ مجھے کسی بھی رشتے میں زبردستی ۔۔ کرنے کی عادت نہیں۔ اسلیے ایک بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو۔۔۔! اگر دوبارہ۔۔۔ ایسا کچھ بھی بولا تو۔۔ میں۔۔؟ آہان ضبط سے بول رہا تھا۔کہ۔۔۔
کیا کیا۔۔۔ کر لو گے تم۔؟ ہنیہ نے پھر اکسایا۔
آہان نے جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا۔ اور اسکے چہرے کے ساتھ چہرہ جوڑا۔ کہ ہانیہ کا دل پسلیاں توڑ کے باہر آنےکو مچلا تھا۔
مجھے صنف مخالف کی زبان سمجھ آتی ہے۔۔اور تمہاری باڈی لینگویج سے بھی یہی لگ رہا ہے۔ کہ تم۔۔ہمارے بیچ ازدواجی تعلق چاہتی ہو۔
آہان کے الفاظ پے وہ پانی پانی ہوٸ تھی۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ وہ کہیں جا کے خود کو چھپا لے۔
چھوڑومجھے۔ خود کو چھڑاتی وہ بھاگتی ہوٸ باتھ روم میں جا کے بند ہوٸ تھی۔
جبکہ آہان سر جھٹکتا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا









میر ہادی کی مسلسل کالز پے بی اس نے کال رسیو نہ کی تھی۔
وہ آج پیرزادہ منشن ہی رکی تھی۔ دل اسکا بہت اداس تھا۔ جو سچاٸ اسے آج معلوم ہوٸ تھی۔ اس کے بعد وہ میر ہادی کا سامناکرنے کو بالکل تیار نہ تھی۔
اسلیے اسکی کالز کو اگنور کرتی وہ آنسو ضبط کرتی سونے کے لیےلیٹ گٸ تھی۔
اور اب کالز آنا بی بند ہوگٸ تھیں۔ شاید وہ بھی اب پیچھے ہٹ گیا تھا۔ دو دن سے وہ گھر نہیں آرہا تھا۔ اور آنیہ کو اس بات کا دکھ تھا۔ لیکن پھر بھی اس نے اس بات کو انا کا مسٸلہ نہ بنایا۔
ہاں اگر اسے یہ ساری سچاٸ نہ پتہ چلتی تو شاید وہ اب بھی نارمل اندز میں بات کر لیتی۔
پر اب جبکہ وہ سب کچھ جان گٸ تھی۔۔ تو میر ہادی کے سامنے پریٹینڈ کیسے کرتی۔۔۔؟؟
اسلیے خاموش رہنا زیاہ مناسب سمجھا۔
جاری ہے
