Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 21)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 21)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan













ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ساری بات بتا کے آنسوٶں سے تر چہرہ اوپر اٹھاتے وہ اس اجنبی شخص کو دیکھنے لگی۔
ہاں آج وہ اجنبی ہی لگ رہا تھا۔
پاس پڑا واس زور سے ہاتھ مار کے نیچے گرایا ۔ کہ آنیہ سہم ہی گٸ۔منہ پے ہاتھ رکھے اپنے آنسوٶں کا گلہ گھونٹے وہ کچھ بول ہی نہ پا رہی تھی۔
میر ہادی کے چہرے پے کرب تھا۔ ایک ایسا کرب کے۔۔ وہ چاہ کے بھی اپنے اندر کے درد کو اپنے غبار کو نہں چھپا پا رہا تھا۔مڑتے ہوۓ دیوار پے زر زور سے مکے برسانے لگا۔ کہ آنیہ پوری کی پوری لرز اٹھی۔
اور ہمت کرتی میر کے پاس پہنی۔ اسے کندھے سے تھام کے روکنا چاہا۔
ڈونٹ۔۔۔۔! لہو ٹپکاتی آنکھوں سے دیکھتے وہ انگلی اٹھا کے اسے وارن کرتا اسکی دھڑکنوں کو روک گیا تھا۔وہ سہمتے ہوٸے پیچھے ہوتی چلی گٸ۔
قریب بھی مت آنا میرے۔۔۔! ہادی و اپنا غصہ کنٹرول کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ ایک سال پہلے کے زخم آج پھر سے ادھڑنے لگے تھے۔ اسکے اندر کا عیاں ہو رہا تھا۔ اور وہ یہی تو نہیں چاہتا تھا۔ کیسے رونتا خود کو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ ساری دنیا کو آگ کو لگا دے۔
ادرگرد دیکھتا وہ نفی میں سرہلاتا آنیہ کو ٹھیک نہ لگا۔
میر۔۔۔۔۔؟؟ دھیمی آواز میں اسے پکارا۔ لیکن وہ پھر بھی نیچے پڑے کانچ کے ٹکڑوں کو دیکھتا بہت پیچھے جا چکا تھا۔ جہاں صرف وہ اور اسکی بہن تھی۔
ہادی۔۔۔؟؟اب کی بار تھوڑا اونچی آواز میں پکارا۔ کہ خیالوں میں خلل ڈالنے کی وجہ سے وہ آنیہ پے چڑھ دوڑا۔
اسے گلے سے پکڑے دیوارکے ساتھ لگایا۔
اسکے گلے پے دباٶ بڑھاتا وہ بھول گیا تھا۔ کہ سممنے اسکی محبوب بیوی ہے۔ آنیہ نے بے یقین سے میر ہاری کو دیکھا۔ جسکی آنکھیں بھی لال ہوٸ تھیں۔ اور طچہرے پے ایک سختی تھی۔ آنیہ وک اسسے ڈر لگا۔ دباٶ بڑھنے کی وجہ سے آنیہ کی سانسیں رکنے لگی تھیں۔
تم۔۔۔۔ تم وہ نہیں۔۔۔ ! عجیب سے انداز میں کہتا وہ آنیہ کی رہی سہی ہمت بھی ختم رک گیا تھا۔ آنیہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ نفی میں سر ہلاتا ایک جھٹکے سے اس نے آنیہ کو چھوڑا ۔ جو لڑکھڑاتی ہوٸ کان چ کے ٹکڑوں کے اوپر جا گری ۔
اس کے ہاتھ کلاٸیوں اور ماتھے پے کانچ لگا۔ کہ وہ تڑپ ہی گٸ۔ ایک چینخ برآمد ہوٸ تھی۔ لیکن وہ بھی گھٹی گھٹی۔۔ اسکا سانس ہی بحال نہیں ہو رہا تھا۔ اور اوپر سے یہ درد۔
ہمت ہارتی وہ ے ہوش ہوتی وہیں گر گٸ۔ جبکہ میر ہادی بنا ایک نظر پلٹ کے دیکھے وہاں سے جا چکا تھا۔
اسکا رخ گھر سے باہر تھا۔ اسے یوں عجلت میں جاتا دیکھ کشش کو کچھ صحیح نہ لگا۔
فوراً سے بیشتر وہ اسکے کمرے کی جانب بڑھیں تھیں۔ اندر کا منظر دیکھ کشش کے رونگٹے کھڑے ہوگٸے تھے۔
آنکھیں پانیو ںسے بھر گٸ تھیں۔
آگے بڑھ کے ہمت کرتے انہوں نے آنیہ کا سر اٹھایا۔ کانچ کے اوپر گرنے سے اس کے آنکھ کے پاس بھی کانچ چبھا تھا۔ اسکی حالت دیکھ کشش کا دل بری طرح گھبرایا تھا۔ اسکی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔کہ وہ کسی کو آوازدیتی۔آنیہ کے بے ہوش وجود کو ہاتھوں میں تھامے وہ بس سسکتی جا رہی تھیں۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
سر۔۔۔۔؟؟
وہ جو اس وقت ہیڈ کوارٹر میں تھا۔ بار بار آہان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ایک جوان افسر کے وہاں آنے پے وہ اسکی جانب پلٹا۔
سر بم۔۔۔ ب۔لا۔سٹ ہوا ہے۔ اور بہت بڑا۔۔۔ !
اور پھر وہ ابتسام کو ساری ڈیٹیل دینے لگا۔ ابتسام سانس روکے سب سنتا جا رہا تھا۔
بات ختم ہوتے ہی اس نے رخ پھیرا۔
ڈیڈ۔۔ ! میری خواہش ہے۔۔ کہ میں اپنے وطن پے قربان ہوجاٶں۔۔ شہید ہونا چاہتا ہوں۔۔ آپ دعا کیجیے گا۔ روٸیے گا مت۔
پاس ہی کہیں سے آہان کے الفاظ کی بازگش سناٸ دی تو وہ آنکھیں سختی سے موند گیا۔
ڈیڈ۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔! آپ مجھ سے زیاہ آنیہ آپی سے پیار کرتے ہیں۔۔ مجھ سے بھی اتنا پیار کیا کریں ناں۔۔ جتنا آپی سے کرتے ہیں۔ ۔۔ لاڈ اٹھواتی انکی چھوٹی سی جان بھی انکی آنکھوں کے سامنے آٸ۔
نہیں۔۔ ان دونوں کو کھ نہیں ہوگا۔
تنویر۔۔ ! ٹیم تیار کرو۔۔ اور اس علاقہ میں چلنے کی تیاری کرو۔۔۔ انہیں ڈھونڈنا ہوگا۔
ابتسام نے پکا ارداہ کرتے کہا۔
کرنلکے اوکے کے۔اشارہ پے تنویر باہرنکلا۔
ڈونٹ وری وہ بہادر آفیسر ہے۔ جانباز ہے دلیر ہے نڈر اور دشمنوں کے قلع قمع کرنے والا ۔و ہ ضرور کامیاب ہو کے لوٹے گا۔ کرنل نے تسلی دی۔
ان شاء اللہ کہتے وہ وہاں سے نلا تھا اپنی پوی ٹیم کے ساتھ۔
🅜🅤🅝🅣🅐🅗🅐🅒🅗🅞🅤🅗🅐🅝
پانی کی لہروں نے دونوں کو اپنے اندر ہی ڈوبو لیا۔ لہروں کے اتار چڑھاٶ نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا تھا۔لیکن ان کے ہاتھ میں پہنی ہتھکڑی نے ہانیہ کو بچا لیا تھا۔
آہان پانی کی لہروں سے اوپر آنے کی کوشش کرتا تو۔ دوسری طرف سے ہانیہ نیچے کی طرف ڈوبے جا رہی تھی۔ ساتھ اسے بھی کھینچ رہی تھی۔ تھک ہار کے آہان خود نیچے کی طرف جاتا ہانیہ کا ویسٹ سے تھامے اوپر لے کے آیا۔ پانی کی لہروں سے اوپر ابھرتے ہی ہانیہ نے زور کا سانس لیا۔ اور منہ ناک سے پانی نکلا۔
لرزتے ہوٸے ہان کی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ہان کے سہارے ہی وہ پانی میں جمی کھڑی تھی۔ ارگرد نظر دوڑاتے آہان نے ہانیہ کے ساتھ تیرنا شروع کر دیا۔ جو تھا تو بہت مشکل کام ۔ لیکن وہ تیرکی میں ماہر تھا۔ آسانی سے اسے کھینچ کے باہر نکال لایا۔ دونوں ہی لمبے اور گہرے سانس لیتے وہیں ریت پے لیٹ گۓ۔ جبکہ دونوں کے ہاتھ میں لگی ہتھکڑی نے آج دونوں کو بچا لیا تھا۔
تمہیں ۔۔۔ تیرنا نہیں آتا۔۔۔؟؟ آہن نے اسکی جانب رخ کرتے پوچھا۔
نہیں۔۔۔۔ ہانیہ نے بھی اسکی طرف رخ کیا ۔
اسکے جواب پے آہان کی تو ساری آنکھیں کھل گٸیں۔
تو۔۔۔ یہ بات تم پہلے نہیں بول سکتی تھی۔۔؟؟ اٹھتے ہوۓ جارحانہ اندازمیں پوچھا۔ اگر ہتکڑی نہ لگی ہوتی تو وہ ان پانی کی لہروں میں بہہ جاتی۔
مجھے بولنے دیا کب۔۔؟ پوری بات سنی نہیں جمپ لگا دی۔ بڑے آرام سے اٹھ کے بیٹھتے وہ گیلے بالوں کو پیچھے کرتی سرری انداز میں بولی۔
میں نےکہا تھا۔۔۔ میں نے ٹریننگ لی ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ تیراکی نہیں آتی۔۔۔! ایک طرف سے جھٹکے سے بالوں کو آگے کرتے وہ آہان کے منہ پے پانی کے قطرے پھینک کی تھی۔ آہان نے لب بھینچے ۔
تیراکی بھی ٹریننگ کا حصہ ہوتی ہے۔ طنزاً کہتا وہ کپڑے جھاڑتا اٹھا تھا۔
ہاٸے ہاتھ توڑنا ہے میرا۔ اپنا ہاتھ اسکے ساتھ کھینچتا دیکھ وہ درد سے کراہی۔
اس ہتھکڑی کی وجہ سے ہی بچی ہو تم۔۔۔ ! ورنہ اب تک پانی کی لہروں میں بہہ چکی ہوتی۔
ایک بار پھر طنز کرتا وہ پاس پڑا بڑا سا پتھر اٹھاتا اس ہتھکصی کو مارتے توڑ چکا تھا۔ کیونکہ چابی تو وہ وہیں پھینک آیا تھا۔
شکر۔۔۔۔! کلاٸ کو دباتے وہ منہ بناتے کھڑی ہوٸ۔
آہان نے اردگرد نظر دوڑاٸ۔ دور پہاڑی پے اندھیرے میں بھی وہ جگہ باآسانی دیکھی جا سکتی تھی۔
جہاں سے وہ گرے تھے۔ آگ کے شعلے ابھی بھی وہاں بادلوں کی صورت میں پھیل رہے تھے۔
اتنا بڑا دھماکہ تھا۔ ۔۔ لگتا نہیں۔۔ کوٸ بچا ہوگا۔۔؟؟
ہانیہ نے اسکی نظروں کی سیدھ میں دیکھتے اپنی راۓ کا اظہار کیا۔
آہان نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا ۔ چودھویں کی چاند کی روشنی ہر سو پھیلی ہوٸ تھی۔اس میں اسکا روپ دیکھ اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوٸ ۔ لیکن اگلے ہی وہ نظریں پھیرتاواپس سامنے دیکھنے لگا۔
لیکن سلطان بچ گیا ہے۔۔۔۔ نفی میں سرہلاتے وہ افسوس سے بولا۔
کیا۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟وہ وہاں نہیں تھا۔۔۔؟؟ اف سارا پلان فیل ہو گیا۔۔؟؟ ہانیہ نان سٹاپ شروع ہوچکی تھی۔
لیکن ایکدم سے کسی جانور کے غرانے کی آواز پے آہان نے اسکے چلتے منہ پے ہاتھ رکھا۔ اور اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
ہانیہ نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔ کہ اسی لمحے ہانیہ کو بھی آواز آٸ۔تو وہ سہم سی گٸ۔
کوٸ شیر ہے۔۔۔؟؟ ہانیہ دھیرے سے بولی۔
شیر نہیں۔۔۔ کوٸ بھیڑیا ہے۔۔۔۔! آہن نے آواز پے غور کرتے کہا۔ تو ہانیہ نے منہ بنایا۔
تمہیں پہچان نہیں۔۔ شیر ہے۔۔۔!
شیییییی۔۔۔ یہ لڑکے کا وقت نہیں۔ کہتے ہی آہان نے گن نکالی اور اس میں گولیاں چیک کیں۔ تین بولٹس موجود تھیں اس میں۔
وہ دیکھو۔۔۔! ہانیہ اسکے کان میں چلاٸ۔ سامنے ہی دو بڑی بڑی آنکھوں والا۔ ایک بھیڑیا انہی کی تاک میں گھات لگاۓ بیٹھا تھا۔ اور ان پے اٹیک کیا۔
