Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 03)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 03)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
کشش گھر آکےبھی کافی پریشان رہی تھی۔ دو دن وہ یونہی خاموش رہی۔ اسکو آنیہ کی آنکھوں سے بہے آنسو اور انکا کرب بھول ہی نہیں پا رہا تھا۔ ایک بار سوچا ہادی سے بات کر لیں۔ کہ اسی کا ہوٹل تھا۔ کہیں کچھ برا نہ ہوا ہو۔۔؟؟ سی سی ٹی فوٹیج نکلوا لیں۔ کسی نے تنگ کیا۔۔ جو بھی ہو۔۔۔! وہ پتہ لگانے کا ارادہ کر رہی تھیں۔ ایسے میں نکاح کی تیاریاں انہیں بوجھ لگنے لگی تھیں۔ وہ کسی بھی کام میں کسی بات میں بھی حصہ لیتی تو غاٸب دماغی سے۔
مما۔۔۔! ہادی کی پکار پے وہ اپنے خیالوں سے چونکی۔
ارے ہادی آٸیں۔۔۔! کشش نے مسکرا کےبیٹے کو پاس بٹھایا۔
کہاں گم ہیں۔۔؟؟ بہت چپ چپ سی ہوگٸیں ہیں۔۔؟ ہادی نے جو نوٹ کیا ۔ اظہار بھی کر دیا۔
نہیں۔۔بیٹا۔۔۔! بس۔۔ ایسے ہی۔۔۔ پرسوں۔۔ آپ کا نکاح ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں۔۔۔۔کہ۔۔۔
رخصتی بھی لے لیں۔۔۔۔! ہادی نے بات اچکی تھی۔ کشش یکدم چونکی۔
کیا۔۔۔ مطلب۔۔؟؟ وہ تھوڑا ناسمجھی سے بولیں۔
مطلب۔۔؟؟ کہیں۔۔رخصتی لینے کا ارادہ تو نہیں بن گیا۔۔؟؟ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کے آرام سے بیٹھتے اپنی بات کا مطلب واضح کیا۔
نہیں۔۔۔ ابھی تک تو۔۔ نہیں۔۔ لیکن۔۔ ارادہ بن بھی سکتا ہے۔۔ ! کشش نے پرجوش ہوتےکہا۔
تو ارادہ بنا لیں ناں۔۔۔! پاس ہوتے اسکے کان کے پاس کہتا وہ کشش کو تھوڑا الگ سا لگا۔
کیا ہو گیا ہے۔۔ہادی۔۔؟ دی گریٹ۔۔۔ میر ہادی۔۔۔ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی چاہتے ہیں۔۔؟؟ کشش نے اسے چھیڑا۔
مما۔۔۔! اب نکاح ہو تو رہا ہے۔۔ آپ ہی کی خواہش کو سب نے کتنی عزت دی۔ ۔آپ۔۔ رخصتی کا کہیں گیں۔۔ تو بھی سب مان جاٸیں گے۔ ہای نے دھیمےلہجےمیں کہا۔
اور۔۔۔ میں ایسا کیوں کہوں گی۔۔؟؟ بھنوٸیں اچکاتے ہوۓ پوچھا۔
اب۔۔آپ مجھےتنگ کریں گیں۔۔؟؟ اپنے بیٹے کو۔۔؟؟ ہادی نے مصنوعی ناراضی سے کہا۔
ویسے ۔۔یہ تو مان جاٸیں۔۔ کہ آپ کی مما کی پسند واقعی آپ کو بھی اچھی لگی ہے۔۔۔؟؟ کشش نے داد وصول کرنی چاہی۔
ہادی کے لب بھینچے۔ لیکن پھر مسکراتا ہوا اٹھا۔
نو ڈاٶٹ۔۔۔۔! اتنا کہتے وہ جا چکا تھا۔ جبکہ کشش کو ایک نیا مشن تھما گیا تھا۔ اب وہ نۓ پلان کرنے لگی تھی کہ نکاح کو رخصتی تک کیسے لایا جاۓ۔ ۔۔؟









فضا یہ کیا بے ہودگی ہے؟ واپس کرو۔۔مجھے۔
ہانیہ نے اپنا موباٸیل واپس مانگا۔ جو فضا نے اسکے ہاتھ سے اچک لیا تھا۔
نہ میں بی تو دیکھوں کہ۔۔۔ کسے ہر وقت میسج کرتی رہتی ہو؟ فضا نے موباٸل پے کلک کرنا چاہا۔ کہ اس سے پہلے ہی موباٸل ہانیہ نے واپس لے لیا۔
یار۔۔۔۔۔! فضا نے منہ بنایا۔
میری پرسنل۔لاٸف میں انٹر فیٸر کبھی مت کرنا فضا۔۔۔! ورنہ میں دوستی بھول جاٶں گی۔ سرد انداز میں کہتے وہ اسے بہت کچھ باور کروا گٸ۔
اب ایسا بھی کیا۔۔۔؟جو تمہیں اس قدر غصہ آگیا۔۔۔؟؟
فضا کو اسکی بات سے زیادہ اسکا لہجہ برا لگا۔
مجھےنہیں اچھا لگتا۔۔ جب کوٸ میری زیاتیات میں اترتا ہے۔ نہ میں کسی کی زیاتیات تک جاٶں۔ نہ کوٸ مجھ تک آۓ۔ ہر چیز ایک لمٹ تک اچھی رکھتی ہے۔
اٹھتے ہوۓ رسان سے سمجھایا۔
جکہ فضا نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔
چلتے ہوۓ ہانیہ نے ایک نظر پیچھے مڑ کے فضا کو منہ بنا کے بیٹھے دیکھا۔ تو واپس اس تک آٸ۔
اٹھو۔۔۔ لاٸبریری چلنا ہے۔۔۔ کچھ ضروری بکس ایشو کروانی ہیں۔
فضا کو زبدردستی اٹھا کے لاٸبریری لے کے آٸ تھی۔ بکس نکالتے ہوۓ وہ چپکے سے اپنا کام بھی کر چکی تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوٸ۔







یار کشش۔۔! تم مجھے پاگل کر دو گی۔۔۔! پہلے نکاح ۔۔اب رخصتی۔۔۔؟ وہ لوگ نہیں مانیں گے اتنی جلدی۔ تھوڑا ٹھنڈا کر کے کھاٶ یار۔۔۔! یامین سکندر کو کشش کی باتپے اچھی خاصی تپ چڑھی۔
دیکھیں۔۔میری بات غور سے سنیں۔ نیک کام میں دیری نہیں کرنی چاہیے۔ اور ویسے بھی دونوں بچوں کی عمر ہوگٸ ہے۔ کوٸ چھوٹے چھوٹے بچے تو ہیں نہیں۔۔ جو۔۔ اتنا ایشو کری ایٹ کیا جاۓ۔۔ اب اگر آپ میرا ساتھ نہیں یں گے تو۔۔ کوٸ اور کیا دے گا؟
منہ بنا کہ اموشنلی کہتے وہ یامین کو آج بھی تیس سال پہلے والی کشش ہی لگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اور زیادہ خوبصورت ہوگٸ تھی۔
جبکہ یامین کی کنپٹیوں کے سفید بالوں میں تو کشش کی جان تھی۔ اسے یامین کا ہر روپ ہی پیارا لگتا تھا۔ دیوانی تھی وہ اپنے شوہر کی۔
کشش۔۔! ہر بات ٹھیک ہے۔ لیکن ۔۔اب رخصتی کا نیا شوشا مت چھوڑا۔ وہ نہیں مانیں گے۔ یامین نے سمجھانا چاہا۔
آپ بس ساتھ دے دیں باقی میں سب سنبھال لوں گی۔ کشش نے مسکراتے اسکا ہاتھ تھاما۔
اور ہادی۔۔؟؟ اسکا کیا؟ یامین نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔
میرا بیٹا۔۔ہے۔۔ میرے خلاف تھوڑی نہ جاۓ گا۔۔ بہت مان اور یقین سےکہا۔ تو یامین نے نفی میں سر ہلایا۔ اسک کچھ نہیں ہوسکتا۔









آہان سے فون پے بات کرتا وہ واپس پلٹا تھا۔ ابرش کبرڈ میں گھسی کپڑوں کے ساتھ الجھ رہی تھی۔
نکاح کی تیاریاں ہوگٸیں ساری؟
سرسری انداز میں پوچھا۔
جی۔۔۔! تقریباً۔ مختصر سا جواب آیا۔
آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔۔ ! ابرش نے کچھ سوچتے اور پریشانی سے بات کا آغاز کرنے ارادہ کیا۔
ہممممم بولیں۔۔۔؟؟ ابتسامنے گھڑٕ ساٸیڈ پے رکھتے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کشش کا فون آیا تھا۔ وہ ۔۔۔ چاہتی ہے۔۔ کہ نکاح کے ساتگ ۔۔رخصتی بھی ہوجاۓ۔۔۔ ! ابرش نے نظریں جھکاۓ کہا۔ ابتسام کچھ پل تو چپ ہی ہوگیا۔
اور۔۔آپ۔۔۔؟؟ آپ کیا چاہتی ہیں۔۔؟؟ ابتسام نے الٹا اسی سے سوال کر ڈالا۔
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ سب کچھ اتنا اچانک سے۔۔۔؟؟ کہیں۔۔ کچھ۔۔۔؟؟ غلط نہ ہوجاۓ۔۔؟؟ ابرش دل کا ڈر زبان پے لے آٸ۔
ابتسام نے گہر سانس خارج کیا۔
جب نکاح کر دیں گے۔ تو رخصتی کرنے میں بھی کوٸ مضاٸقہ نہیں۔۔ ! اور بہتری ہوتی ہے۔ کہ نکاح کے فوراً بعد ہی رخصتی کر دیں۔ رشتے میں دراڑیں نہ ہی پڑیں ۔ اسی میں سب کی بہتری ہے۔۔ اور جو کام خوش اسلوبی سے ہوجاۓ۔ وہ زیادہ اچھا ہے۔
ابتسام نے اپنی طٸیں ایک اچھا مشورہ دیا۔ ابرش کے دل سے بوجھ سرک گیا۔ وہ آج بھی بنا کہے اسکی ہر بات سمجھ جایا کرتا تھا۔ اسکے دل کے راز کو جان جایا کرتا تھا۔ اور بن کہے اس نے اس کی مشکل حل کر دی تھی۔
آپ کو رخصتی سے کوٸ اعتراض نہیں؟ ابرش نے اسکی طرف دیکھتے پوچھا۔
دونوں کی نظریں پل بھر کو ملیں تھیں۔ دل نے آج بھی ایک دوسرے کی محبت کا دم بھراتھا۔
آپ۔۔۔! آنیہ سے بات کرلیں۔ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔؟ اسکی خوشی جس میں ہے ابتسام علی پیرزادہ بھی اسی میں خوش ہوگا۔
مسکرا کے رخ موڑا۔ ابرش اپنی جگہ سے اٹھی۔ کہ ابتسام نے اسکی کلاٸ تھام لی۔ وہ زرا کا زرا رخ پلٹی۔
اچھا لگتا ہے۔۔۔
یونہی کسی کا چاہے جانا۔۔۔
اچھا لگتا ہے۔۔۔
بے مطلب ہی سہی۔۔
بے غرض ہی سہی۔۔۔
ایک نظر کے منتظر ہی سہی۔۔۔۔
میٹھا بھرا یہ درد سہے جانا۔۔۔
اچھا لگتا ہے۔۔
یونہی کسی کو چاہے جانا۔۔۔
اچھا لگتا ہے۔۔۔
کہتے ساتھ ہی کلاٸ چھوڑ دی۔
ابرش پلٹ گٸ۔ دو آنسو بہے جسے اس نے مہارت سے صاف کر لیا۔ اور پھر وہ وہاں رک نہ سکی۔
زندگی میں ایک ایسے شخص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جسے دل کا حال بتانے کے لیے لفظوں کی ضرورت نہ پڑے۔
بانو قدسیہ








عجیب ہی منطق ہے۔۔۔ پہلے نکاح کا شور۔۔ اب نکاح کے ساتھ رخصتی۔۔۔؟؟ اور۔۔ان کو دیکھو ۔کیسے ماں باپ ہیں۔ جو وہ کہتے جا رہے ہیں۔ یہ مانتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔
زلیخا بیگم منہ بنا کے کہتیں عروش کو بگی سوچنے پے مجبور کر گٸیں تھیں۔
آخر ایسابھی کیا۔۔؟ کہ چٹ پٹ رشتہ طے کیا۔ اور اب رخصتی بھی ساتھ ہی۔۔۔؟؟ عروش کو بھی بات کچھ خاص ہضم نہ ہوٸ۔
نیچے آٸ تو ابرش ابی جان کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
شاید ابی جان کی راۓ بھی ابرش سے مختلف تھی۔
عروش نے انکے چہرے کے تاثرات سے انداہ لگایا ۔
بس آپ ۔۔۔آنیہ کے لیے دعا کریں۔ سب اس کے حق میں بہتر ہو۔ برش کے آخر کے الفاظ سن عروش نفی میں سر ہلاتی وہیں بیٹھ گٸ۔
ویسے بھابھی۔۔۔! آپ کو نہیں لگتا۔۔ کہ جلد بازی۔۔ اچھی نہیں۔۔۔! ابھی ہمانہیں جانتے ہی کتنا ہیں۔۔؟ ار آپ۔۔اپنی بیٹی۔۔؟؟ عروش نے اعتراض کرنا چاہا۔ کہ۔۔۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم ۔۔۔ آہان کی اچانک آمد نے سب کو چونکا دیا ۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔! ابی جان نے ناتواں وجود کے ساتھ اٹھتے ہی آہان کو سینے سے لگایا ۔
دراز قد ۔۔ کشادہ سینہ۔۔ ابھرے ہوٸے مسلز۔۔ براٶن آنکھیں۔۔ مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار۔۔۔
ابرش بس دیکھتی رہ گٸ۔ کیا وہ واقعی۔۔۔؟؟ ابتسام علی پیرزادہ جیسا تھا؟ کیا اسی کی طرح دیکھتا تھا؟
وہ سب سے ملنے لگا۔ ابتسام کے وہاں آنے وہ بھی باپ کے سینے سے جا لگا۔
دونوں کے چہرے پے مسکان تھی۔ ایک خوبصورت مسکان۔۔۔ ابرش اندازہ نہیں کر پاٸ کس کی مسکان زیادہ پیاری تھی۔
دونوں ایک دوسرے کے پاس کھڑے ایک جیسے لگ رہے تھے۔ ابرش نے ان کے دیکھنے سے پہلے ہی رخ پھیر لیا۔
آہان دھیرے سے چلتا اسکے پاس آیا۔
کیسی ہیں۔۔ آپ۔۔۔؟؟ وہ چاہ کے بگی ابر کو ماں نہ کہہ سکا۔ کیونہ ابرش نے ہی اسے خود کو ماں کہنے سے روکا تھا۔ اور وہ ۔۔۔رک بھی گیا تھا۔
ابرش نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوسری نظر پیچھے کھڑے اپنے مجازی خدا کو۔
اور خاموشی سے وہاں سے اپنے روم میں چلی گٸ۔
وہ آج بھی اس سے دور تھیں۔
آہان کی آنکھوں کا ایک کونہ بھیگا۔
وہ انہی کی خاط اس گھر سے دور چلا گیا تھا۔ صرف باپ کے بلانے پے ہی آتا تھا ملنے۔ وہ یہاں بہت کم رہا تھا۔ تا کہ ابرش ماں کو تکلیف نہ ہو۔ وہ کبھی بھی ان کی کی کا سبب نہیں بننا چاہتا تھا۔ لیکن۔۔ ہر بار تکلیف دے جاتا تھا۔
مڑ کے باپ کو مسکرا کے دیکھا۔
ڈیڈ۔۔۔! یہ کیا۔۔۔؟؟ اچانک سے آپ نے آنیہ کا رشتہ طے کرکے نکاح کے ساتھ رخصتی بھی رکھ دی۔ آہان کی آواز پے ابرش کے سیڑھیاں چڑھتے قدم رکے تھے۔ بےاختیار نظر ابتسام پے جا ٹھہری۔
بیٹا۔۔ آپ کی ابرش ماں کا کیاگیا فیصلہ ہے۔ مسکراتےہوۓکہا۔ ابرش کو لگا جیسے ساری دنیا ہی مسکرا رہی ہو۔
اگر ابرش ماں کا فیصلہ ہے تو پھر تو غلط ہو ہی نہیں سکتا۔
آہان کی باتپے وہ چونکی۔ اور خاموشی سے سیڑھیاں اوپر چڑھتی چلی گٸ۔







یار۔۔۔! کل نکاح ہے ۔ اور آپ کو تو کوٸ پرواہ ہی نہیں۔۔۔؟؟ بالکل نارمل۔۔۔! اور آپ کی وجہ سے مجھے میری فرینڈز مجھے باتیں سنا رہی رہیں ہیں۔ کہ بہن کا نکاح ہے۔ اور میں یونی کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
ہانیہ نے آنیہ کو کسی فاٸل میں گھسے دیکھا تو ٹوک دیا ۔
سب ۔۔۔اتنا اچانک ہو رہا ہے۔۔ہانیہ۔۔۔! کہ اب تو دل۔۔۔سے گھبراہٹ بھی ختم ہو گٸ ہے۔ کوٸ احساس ہی نہیں بچا۔ آنیہ کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔
اگر آپ کا دل نہیں مان رہا تو آپ۔۔رخصتی سے انکار کردیں۔۔۔! ہانیہ کو اسکی حالت صحیح نہ لگی۔
یہ آسان نہیں ہانی۔۔۔۔! مما اور ڈیڈ سب کچھ پلان کر چکے ہیں۔۔ اور۔۔ پھر ۔۔میں کیوں ۔۔ نگ میں بھنگ ڈالوں۔۔؟؟جب اینڈ پے مجھے ماننا ہی پڑے گا۔
آنیہ اپنی جگہ سے اٹھتی ونڈو میں جا کھڑی ہوٸ۔
پھر بھی۔۔ آپ کو اپنا حق استعمال کرنا چاہیے۔ ار مجھے یقین ہے مما آپ کی بات سمجھیں گیں۔
ہانیہ کو پھر بھی تسلی نہ ہوٸ ۔
اگر آپ کہیں تو ۔۔میں بات کروں۔۔؟؟ ہانیہ کے ماغ کی گھنٹی بجی۔
پاگل ہو ہانی۔۔؟؟ کل نکاح ہے۔ اور نکاح کے اگلے دن مہندی ۔۔ اور۔۔پھر۔۔ رخصتی۔۔۔؟؟ آخر میں وہ اداس سی ہوگٸ تھی۔
اور ایک دن تو۔۔ سب نے ہی رخصت ہونا ہوتا ہے۔ تمہیں بھی ہونا ہوگا۔ آنیہ نے مسکرا کے ماحول کا بوجھل پن ختم کرنا چاہا۔
میری تو اتنی جلی نہیں ہونے والی۔ کسی ماٸ نے ایسا کوٸ لعل پیدا ہی نہیں کیا جو ہانیہ کے دل تک رساٸ حاصل کر سکے۔
ہانیہ نے فخر سے کہا ۔
اچھا جی۔۔۔۔!ویسے محبت کا جذبہ بہت منہ زور ہوتا ہے۔ یہ اپنی جگہ خود بنا لیتا ہے۔ اور۔۔۔۔۔؟؟؟
دروازے پے ہوتی ناک پے دونوں ہی چونک گٸیں۔ آہان اندر داخل ہوا۔
کیا میں آسکتا ہوں۔۔؟؟ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وہ اندر داخل ہوتے بولا۔
آہان بھاٸ۔۔۔! آجاٸیں۔۔۔ آپ کو اجات کی کیا ضرورت۔۔؟؟ آنیہنے خوشی سے اسکا استقبال کیا۔ جبکہ ہانیہ نے منہ بناتے رخ پھیرا۔
کیسی ہے میری بہن؟ اس کے سر پے ہاتھ پھیرتا ہانیہکو یکسر نظر انداز کیا۔
الحَمْدُ ِلله ،،،! آپ کیسے ہیں۔۔؟؟ اس بار بہت وقت لگا دیا آنے میں۔۔؟ ایک پیارا سا گلہ بھی کر ہی دیا۔
اب بھی۔۔۔شاید۔۔۔ نہ آتا۔۔۔! اگر۔۔ میری پیاری بہن کی شادی نہ ہوتی۔۔؟؟ تھوڑا اداسی سے بولتا وہ آنیہ کو افسردہ کر گیا۔
خوش ہیں ناں۔۔۔؟ آپ۔۔۔؟؟ آہان نے اس کا اداس چہرہ دیکھ فکر مندی سے پوچھا۔
جی۔۔۔ جی۔۔۔! آپ۔۔۔ملے سب سے۔۔؟ ہانیہ کی طرف دیکھتے بات بدلی۔
آہان نےایک نظر اٹھا کے سامنے کھڑی اکڑمغرور حسینہ کو دیکھا ۔ جو ایک تباہی تھی۔
گہرا سانس خارج کرتا وہ واپس آنیہ کی طرف متوجہ ہوا۔
سب سے مل لیا ہے۔۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔۔۔ اور ۔۔ کوٸ بھی مسٸلہ ہو۔۔۔ اپنے بھاٸ کو ہمیشہ یاد رکھیے گا۔
سوتیلے بھاٸ سے پہلے ایک سگھی بہن ہے۔ اسے پہلے یاد رکھیے گا۔
ہانیہ کے اچانک بولنے بلکہ طنزیہ جملے نے دونوں کو اسکی طرف دیکھنے پے مجبور کر دیا۔
ہانی۔۔۔۔! آنیہ نے سرزنش والے انداز میں ٹوکا۔
کچھ ۔۔۔غلط کہہ دیا کیا میں نے۔۔؟؟ مصنوعی حیران ہونے کی ایکٹنگ کی۔
میں چلتا ہوں۔ کسی چیز کی ضرورت ہوٸ ۔۔طتو بلا جھجک کہہ دیجٸے گا۔
ایک بار پھر سے ہانیہ کو نظر انداز کرتا وہ آنیہ سے مسکرا کے کہتا وہاں سے نکل گیا۔
کتنی غلط بات ہے۔۔ ہانیہ۔۔! وہ اتنے دن بعد آٸے۔۔ اور تم۔۔ نے طنز۔۔۔ کرنے شروع کر دیٸے۔۔۔؟؟ بہت بری بات ہے۔
آنیہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
اسے آنے کی ضرورت تو نہیں اس گھر میں۔۔؟؟ کیا لینا دینا اسکا اس گھر سے۔۔؟ ہانیہ کو شروع سے آہان سے چڑ تھی۔ ابرش کی طرح۔ یہ عادت اسکی ماں سے ملی تھی اسے۔
ابرش بنا کچھ کہے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی تھی۔ وہیں۔۔ ہانیہ دھڑلے سے بنا کوٸ لحاظ کیے منہ پے سب کچھ بول کے آان کا دل دکھاتی تھی۔ اور وہ بھی ہمیشہ اسے نظر انداز کرتا بات کو بدل دیتا تھا۔
اپنے کمرے میں آتا وہ کچھ اداس ہو گیا تھا۔
وہ پانچ سال کا تھا جب اس پیرزادہ منشن میں آیاتھا۔ ابتسام کا ہاتھ تھامے۔۔
وہ کون تھا۔۔؟؟ اسکی پہچان کیا تھی۔۔۔؟ ابتسام سب جانتا تھا۔ لیکن۔۔ اس نے نہ کبھی پوچھا۔ نہ ابتسام نے کبھی بتایا۔ کبھی ضرورت محسوس نہ ہوٸ۔ لیکن وقت کےساتھ ساتھ اسے لگ رہا تھا۔ اس گھر کے لوگوں نے اسے نہیں اپنایا تھا۔ اس بات کا دکھ اسے ہمیشہ سے تھا۔
کچھ کہہ کہ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے۔ اور کچھ بول کے۔ اور وقت آگیا تھا کہ وہ اپنے باپ سے ہی اپنی پہچان پوچھے۔ کہ وہ کون ہے۔۔؟؟
لیکن ابتسام پیرزادہ سے سوال جواب کرنے کہ ہمت اس میں نہ تھی۔








آنیہ ابتسام پیرزادہ۔۔۔! بنت ابتسام علی پیرزادہ کیا آپ کو میر ہادی یامین ولد میر یامین سکندر سے دس کروڑ سکہ راٸج الوقت نکاح قبول ہے؟
مولوی صاحب کی آواز پے آنیہ کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ زبان تالو کے ساتھ چپک گٸ۔
ایک بار دو بار۔۔۔ مولوی صاحب نے تین بار یہی پوچھا۔ جبکہ آنیہ نےایک بار بھی قبول نہ کیا۔
سب لوگوں میں چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸیں۔
آنیہ۔۔۔! وملوی صاحب کو جواب دیں۔ ابرش نے خود کو سنبھالتے ہوۓ کہا۔ تو آنیہ نے نفی میں سر ہلایا ۔
آنیہ۔۔۔؟؟ ابرش کو سخت دھچکا لگا۔
ابرش نے نم آنکھوں سے ابتسام کو دیکھا۔ اسکی حالت بھی ابرش سے الگ نہ تھی۔ اس نے آگے بڑھ کے آنیہ کاہاتھ تھاما۔
آنیہ۔۔۔! کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیوں۔۔ ایسے کر رہی رہیں آپ۔۔؟ ابتسام کے محبت سے پوچھنے پے وہ باپ کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
ڈیڈ۔۔۔وہ۔۔مار دیں۔۔۔ گے۔۔؟؟
آنیہ نے دھیرے سےباپ کے کان میں کہا۔ تو ابتسام کو فوراً سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
جاری ہے۔
