Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 40)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 40)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ہوا کا تیز جھونکا ابتسام کو چھوکے گزرتا سلطان پے دہشت طاری کر رہا تھا۔
ایک ایک کر کے سب جوان سامنے آرہے تھے۔ ابتسام کو کور کرتے ہوۓ۔ لیکن بہت سے اپنی پوزیشن پے ابھی چوکنا کھڑے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ آج تکلیف کچھ بڑھ نہیں گٸ۔۔؟؟ ابتسام نے نفرت سے کہا ۔
تو۔۔۔؟؟ میجر۔۔؟؟ بہت غلط کیا تو نے۔۔؟ سلطان سے پنگا لے کے۔۔۔! بری حالت میں ہونے کے باوجود سلطان دھمکی دینے سے باز نہ آیا تھا۔
رسی جل گٸ پر بل نہیں گیا۔۔۔! ابتسام نے مذاق اڑاتے نفرت اور حقارت سے کہا۔
لگتا ہے۔۔ بیٹے کی موت نے تجھے پاگل کر دیا ہے۔۔؟ جو یہاں چلا آیا۔۔ اپنی موت کو دعوت دینے۔۔۔! سلطان نےپھر سے خون تھوکا تھا۔
میرا بیٹا۔۔ بہادر نڈر اور بے باک ہے۔ ۔۔ اور سچا محب وطن۔۔۔ ! اس لیے کسی بھول میں مت رہنا۔ کہ تجھ جیسا نامرد اسے مار سکتا ہے۔
ڈیڈ۔۔۔! وہ آپ کو ٹریپ کر رہا ہے۔ اس کے قریب مت جاٸیں۔
بلیو ٹوتھ سے ہانیہ کی آواز ابتسام کے کان میں پڑی۔ جانتاتو وہ بھی تھا۔ لیکن پھر بھی آگے بڑھ رہا تھا۔
کہ اتنے میں سلطان نے زخمی بازو سے ایک چاقو اپنی ٹانگ کی ساٸیڈ سے نکالتے ابتسام کو ہوسٹج بنایا تھا۔
خبردار جو کوٸ آگے بڑھا تو۔۔ ورنہ۔۔۔ یہ میجر جان سے جاۓ گا۔ سلطان میں جیسے بہت ساری جان بھر گٸ تھی۔
ہنیہ چھپ کے بیٹھی یہ سب دیکھتی دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی محسوس کر رہی تھی۔
ابتسام بنا کسی ڈر کے سلطان کی نظروں میں دیکھتا مر مرٹنے کو تیار کھڑا تھا۔
اپنےبھاٸ کو مارا تم نے۔۔۔! ابتسا م کی آواز گونجی۔
سلطان نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
میجر حمزہ حیات مرزا۔۔۔ دوست تھا وہ میرا۔ آج سے کٸ سال پہلے۔۔ وراثت حاصل کرنے کےلیے تم نے۔۔۔ اپنےہی بھاٸ کی جان لے لی ۔۔ ابتسام نے سخت غصہ سے لب بھینچتے کہا تھا۔
سلطان کو یقین نہ آیا۔ کہ یہ راز جو حمزہ کے ساتھ دفن ہوگیا تھا۔ ابتسام کیسے جانتا تھا ۔۔؟
لیکن نہی ںمار کے تو اسکے بیٹے کو نہیں مار سکے۔۔۔! ابتسام نے افسوس سے کہا۔
وہ۔۔۔ مر چکا ہے۔۔ ان کے ساتھ۔۔۔! سلطان نے ہوا میں تیر چھوڑا ۔
آج تمہاری نیّا اسی حمزہ کے بیٹے نے ڈبوٸ ہے۔۔۔ !
آہان حمزہ حیات مرزا۔۔۔! واپس آۓ گا۔ اور۔۔ اپنا حقِ وراثت واپس لے گا ۔۔۔!
کہتے ہوۓ ابتسام نے اسے زور سے پش کیا۔ وہ نیچے جا گرا۔سلطان نے ہاتھ میںسپکڑا چاقع پوتی قوت سے ابتسام کے ل کی طرف اچھالا۔ اس سے پہلے کہ چاقو ابتسام کے دل میں پیوست ہوتا۔ ہانیہ جمپ لگاتی بیچ میں حاٸل ہوٸ۔ چاقو سیدھا اسکی بازو میں جا لگا۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا۔ کہ کسی کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔
ہنی۔۔ گڑیا۔۔۔؟؟ ابتسام اسکی بازو سے خون نکلتا دیکھ تڑپا تھا۔
آج کتنے عرصہ بعد ابتسام نے اسے بچپن کے نام سے پکارا تھا۔
بابا۔۔۔۔۔؟؟ ہانیہ کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ باپ کو دیکھتے وہ پرسکون تھی۔ کہ اسکا باپ صحیح سلامت ہے۔
سلطان کو جوانوں نے اپنی حراست میں لیا ۔
اسکے ساتھ کٸ آدمی بھی پکڑے گٸے۔
اسکے اڈے سے تیس کے قریب لڑکیاں اور پچاس کے قریب چھوٹے بچے بازیاب کراٸے گۓ تھے۔
اس ل ح ہ۔ ب م ب۔۔۔را۔دود انکی کوٸ تعداد نہ تھی۔
سب کچھ انہوں نے اپی حراست میں لے لیا تھا۔
اور طوفان کی طرح وہ جو وہاں آۓ تھے۔ آندھی کی طرح سب بہا کے لے گٸے۔
اب وہاں بالکل خاموشی تھی۔ جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔۔ بس لاشیں تھیں۔ ان آدمیوں کی۔۔ جن کو ٹھکانے لگاتے فوجی شیر جوان ہوا کی سی ےیز رفتاری دکھا رہے تھے۔
اور اب وہاں کسی کا بھی نام و نشان نہ تھا۔











ایک سال بعد۔
وقت کاکام ہے چلتے رہنا۔۔۔ یہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔
لیکن کچھ اچھی یادیں دے جاتا ہے تو چھ بری۔۔
کچھ زخم ایسے دے جاتا ہے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ مدمل ہونےکی بجاۓ مزید گہرے ہوجاتے ہیں۔
نور فاطمہ سب کو مل گٸ تھی۔ سب سے مل کے وہ بہت روٸ تھی۔ اسکا درد پھر سے اجاگر ہوا تھا۔
لیکن ماں باپ نے سنبھال لیا تھا۔
میر ہادی جو اتنے عرصہ سے بہن کی تلاش میں تھا۔ لیکن جب ملنے کا وقت تو ایکسٹڈینٹ ہوا۔۔ جس کی وجہ سے وہ ایک سال سے کومہ میں تھا۔
یہ ازیت کسی کے لیے بھی برداشت کرنا سوہان روح تھا۔
وہ بچ تو گیا تھا۔ لیکن دماغ کے ایک خاص حصہپے لگنے کی وجہ سے وہ گہری نیند میں چلا گیا تھا۔ اسکا ٹریٹمنٹ ایک سال سے چل رہا تھا۔ ڈاکٹرز پرامید تھے۔
جبکہ آنیہ کو پورا یقین تھا۔ کہ ایک دن میر ہادی ضرور اٹھے گا۔
اسکی گود میں اسکا چھوٹا سا چھ ماہ کا بے بی تھا۔
جو سب کی آنکھ کا تارا تھا۔ کشش تو اسے دیکھ دیکھ جیتی۔ جبکہ میر یامین کی تو آنکھوں کا تارا تھا۔
میر گلفام۔۔
اسی طرح پیرزادہ منشن میں بھی وہ سب کو عزیز تھا۔
اس ایک سال نے ان سے دادا جی اور ابیجان جیسے رشتوں کو کھو دیا تھا۔ داغِ مغارفت دے گۓ تھے۔
سبھیپنی زندگیوں میں موو آن کر گۓ تھے۔
ابرش اور ابتسام کے بیچ کی ساری غلط فہمی ختم ہوگٸ تھی لیکن گلے شکوے آج بھی ویسےہی تھے۔
انکی نوک جھونک اب سب گھر والے ہی سنتے تھے۔ اور انہں ایک ساتھ دیکھ سبھی اب خوش تھے۔
ابتسام نے وراثت کے اصل حق دار اپنی بیٹیوں کے نام کر دی تھی۔ آہان انکا سگھا بیٹا تو نہ تھا۔ لیکن بیٹے سے بھی بڑھ کے تھا۔ محبت چاہت اپنی جگہ۔ لیکن یہ بھی سچ تھا۔ کہ وہ وراثت کا حق دار نہ تھا۔
اسکی بیٹیاں ہی اسکی وراثت کی حق دار تھیں۔ اس نے صرف آہان کو اتنت سال بچاۓ رکھنےکے لیے جھوٹ بولا تھا۔
لیکن۔۔۔ ایک سال ہو گیا تھا ۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ وہ کہاں ہے۔۔؟؟ زندہ ہے بھی یا۔۔۔؟؟ اس نے کسی سے بھی رابطہ نہ کیا تھا۔
جہاں سب آگےبڑھے تھے۔ وہیں ہانیہ۔۔ رک گٸ تھی۔۔ ! وہ اس إک لمحے کی زد میں تھی۔ جب اس نے آہان کی بات مان کے گاڑی سے جمپ کیا تھا ۔
وہ اس لمحے کو پچھتا رہی تھی۔ آج بھی۔
وہ اس کے حصار سے آج تک باہر نہ نکلی تھی۔ اس نے ہنسنا بولنا چھوڑ دیا تھا۔ سب سے بس ضرورت کی حد تک بات کرتی تھی۔ بس اگر کوٸ اسے بلوا سکتا تھا تو وہ میر گلفام تھا۔ اسکا شہزادہ۔ جس سے وہ اپنے دل کی ساری باتیں کیا کرتی تھی۔ اسکی جان بستی تھی اس میں۔
جبکہ ابرش اسے اس حال میں دیکھ بس کڑھتی تھی۔ اسکی بیٹی روگ لگا بیٹھی تھی خود کو۔۔۔ عشق کا روگ۔۔ جس کا کوٸ علاج نہ تھا ۔ ابرش کو اپنا وقت یاد آگیا۔ جب ابتسام کے لیے بھی یہی کہا گیاتھا کہ۔۔ وہ اس دنیا میں نہیں رہا ۔ کتنا روٸ تھی وہ ۔۔۔ اور کتنا انتظار کیا تھا۔ اس نے۔۔۔!
آج اپنی ہی بیٹی کو اپنی ہی جگہ کھڑا دیکھ وہ بہت دکھی تھی ۔ لیکن اپنی بیٹی کےلیے وہ بہت کچھ سوچ رہی تھی۔
ایک طرف وہ ابتسام کو مطمین دیکھ پریشان تھی۔ تو دوسری طرف روز ہی روز غم میں گھلتی بیٹی کو دیکھ افسردہ تھی ۔
کیا ابتسام کو بیٹی کا غم نظر نہیں آتا۔۔؟؟ ایک یہ سوال تھا۔ جو اسے پریشان کر رہا تھا ۔
اور آج اس نے پکا ارداہ کر لیا تھا۔ ابتسام سےبات کرنے کا ۔
جیسے ہی وہ کمرےمیں داخل ہوا۔ ابرش اسکینجانب بڑھی۔
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔ فوراً سے سینے پے ہاتھ باندھے ابتسام کو گھڑی اتار کے رکھتے دیکھ تیکھے انداز میں کہا۔
اچھی بیویاں شوہروں کے تھکے ہارے گھر آنے پے چاۓ پانی کا پوچھتی ہیں ۔ ایک آپ ہیں۔ مجھے فیصلے سنا رہی ہیں۔ ابتسام نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
جب ۔۔ باپ بیٹیوں کو فراموش کر دیں تو کچھ فیصلے ماٶں کو لینے پڑتےہیں ۔
ابرش کی بات پے ابتسام کی مسکراہٹ میں ڈھلے لب سکڑے۔
کیا مطلب۔۔؟؟ کچھ غصہ عود کر آیا۔
میں نے ہانیہ کی شادی کا فیصلہ کیا ہے ۔ گہرا سانس خارج کرتے ابرش نے کہتے ابتسام کے چہرے کے تاثرات نوٹ کیے ۔
اچھا۔۔۔ تو اب ۔۔۔ آپ۔۔ نے یہ نٸ اسکیم سوچی ہے۔ مجھے ٹارچ کرنے کی۔۔۔!
نفی میں سر ہلاتا وہ ابرش کو تپا گیا ۔
اسے مذاق مت سمجھیے گا ۔ ابتسام پیرزادہ۔ میں نے رشتہ بھی دیکھ لیا ہے۔ اور کل وہ آرہےہیں۔ رشتہ پکا کرنے۔ ابرش نے اپنی تیزی دکھاٸ۔
جب آپ سارا کچھ طے کر چکی ہیں۔ تو مجھے نہ بھی بتاتیں۔ تو کچھ نہیں جانا تھا ۔ آگے کبھی آپ کے فیصلہ سے انخراف کیا ۔ جو اب کرتا۔ ۔۔؟؟
سرسری انداز اپناتا وہ میٹھا س طنز کرتے کوٹ اتارتا ایک طرف رکھتا اب کف کے بٹن کھول رہا تھا۔
باپ ہیں۔۔۔ اس لیے انفارم کر رہی ہوں۔ کل گھر پے ہی رلیے گا۔ شام چار بجے وہ لوگ آٸیں گے۔ ابرش نے الٹی میٹم دیا۔
جو حکم مادام۔۔۔! ابتسام سر تسلیم ِ خم رکتا باتھ روم میں گھس گیا۔
ایسی بھی کیا لاپرواہی۔۔۔؟؟ بندہ ۔۔ تھوڑا انٹرسٹ لے لیتا ہے۔۔ بیٹی کی زندگی کا معاملہ ہے۔۔ ! بندہ۔۔ کیوں ۔۔اتنی لاپراوہی ظاہر کر رہا ہے۔۔؟؟ خیر کوٸ بات نہیں۔ میں نے بھی چوہا بل سے نہیں۔۔ نہیں۔۔ شیر کھچار سے باہر نہ نکالا۔ تو میرانام بھی ابرش ابتسام پیرزادہ نہیں۔ ابرش پلاننگ کرتی مسکراٸ تھی۔










مما۔۔۔! پلیز ڈونٹ ڈو ۔۔۔ دس۔۔۔!
ہانیہ آہان کے روم میں بیٹھی۔ اس وقت کرب سے آنسو بہا رہی تھی۔ اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ ابرش کے فیصلے پے۔ لیکن وہ بے بس تھی۔ کس آس پے وہ انکار کرتی۔ اسکا سب کہنا بے کار تھا۔
ای سال بہت ہوتا پے کسی کا انتظار کرنا۔۔۔ ! وہ بھی ایک سال سے انتظار میں تھی ۔ وہ تو ساری زندگی اسکےانتظار میں گذار سکتی تھی۔ لیکن۔۔ یہاں ابرش نے اسکی ایک نہ چلنے دی۔ اسکی لاکھوں تاویلیوں کے بعد بھی اسے ہاں مانتے ہی بنی۔
لیکن اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی۔ بکھر رہی تھی۔
آہان کی تصوی کو سینے سے لگاۓ کرب سے آنکھیں موند گٸ تھی۔
زندگی میں کبھی کوٸ آۓ نہ ربا۔۔۔
آۓ تو کبھی پھر جاۓ نہ ربا۔۔۔
دینے ہوں اگر مجھے بعد میں آنسو۔۔۔
تو پہلے کوٸ ہنساۓ نہ ربا۔۔۔
جای ہے۔
