Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat  (Episode 33)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

ساری فاٸل کو اچھے سے دیکھ لینے کے بعد ابرش کو اب یقین کرنے میں کوٸ مشکل پیش نہ آٸ ۔ وہ ایک دم سے گہرا سانس خاج کرتی کرسی پے ڈھے سی گٸ تھی۔ ابتسام نے اپنی ساری جاٸیداد آہان کے نام کر دی تھی۔ اسے اپنا اکلوتا وارث ڈیکلٸر کیا تھا۔ اور ایسا کیوں۔۔؟؟ کیا۔۔۔؟؟ وہ جاننا چاہتی تھی۔ لیکن۔۔۔ ہر بار ہی ابتسام اس سے کچھ نہ کچھ چھپاتے آۓ۔۔ اب بھی۔۔؟؟ کب کریں گے وہ مجھ پے اعتبار۔

میں جانتی ہوں۔۔ آہان ۔۔ آپ کا بیٹا نہیں۔۔ اور آپ نے ساری جاٸیداد اس کے نام کر دی۔ میری بیٹیوں کو حقِ ورثت سے محروم رکھا۔

سوچوں میں گم وہ اٹھتے ہوۓ ونڈو کے پاس آگٸ۔

کیا ۔۔؟؟ بیٹیو ں کا کوٸ حق نہیں۔۔؟؟ اور ایک لے پالک بچے کو آپ وارثت میں سارا حق دے دو۔۔۔؟ کیسے۔۔ اور کیونکر۔۔ممکن ہے یہ۔۔؟؟

وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھی ہوٸ تھی۔

کہ آفس بواۓ نے دروازہ ناک کیا۔ ابرش نے رخ پھیرتے دروازہ کی طرف دیکھا۔

میم۔۔۔! کوٸ شاہان صاحب آپ سے ملنے آۓ ہیں۔

شاہان کے نام پے ابرش کے ماتھےپے بے شمار بل پڑے۔

بھیجیں اندر۔۔۔! اپنے اندر کے اشتعال کو کنٹرول کرتی وہ اپنی چٸیر پے واپس آکے بیٹھی۔

مجھے تو لگا تھا۔ ملنے سے انکار کر دو گی۔۔لیکن۔۔۔ تم نے تو۔۔؟؟

شہان نے منہ نکالتےہی مسکراتے کہا۔

بکواس بند کرو۔۔ اپنی۔۔ اور کیوں آۓ ہو یہاں۔۔؟؟ ابرش قپنی جگہ سے اٹھی۔

مجھے۔۔ یہاں ضرورت کھینچ لاٸ ہے۔۔ دراصل ۔۔۔مجھے۔۔ کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔۔ ایک شخص سے ادھار لیا ہوا ہے۔۔وہ چکانا ہے۔ ماتھے پے انگلی رکھتا وہ بہت ٹہر ٹہر کے بولا تھا۔

ہمممم۔تو تمہیں کیا لگا۔۔ تمہیں پیسے میں دوں گی۔۔۔؟؟ ابرش نے مذاق اڑایا۔

دینے تو پڑیں گے۔ ۔۔۔ ہلکی ہلکی دھاڑی کھجاٸ۔

بیس لاکھ۔۔ ہی کی تو بات ہے۔۔۔! بیٹیوں کی جان بخشی ہی سمجھ کے دینے تو پڑیں گے۔ اب کی بار دھمکی دی۔

تم۔۔۔ جو چاہے مرضی کر لو۔۔۔ نہ ہی میں تم سے ڈرتی ہوں۔ اور نہ ہی کوٸ اماٶنٹ تمہیں دوں گی۔ اور اگر تم۔۔۔ باز نہ آۓ۔تو۔۔۔ پولیس کمپلین کر دوں گی۔

ابرش نے اچھا خاصا دھمکایا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

تو ٹھیک ہے۔۔ اب گلہ نہ کرنا۔۔۔ کیونکہ۔۔ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ اب کر کے دکھاٶں گا۔

میری بیٹیوں کی طف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھا۔ تو آنکھیں نوچ لوں گی۔

جاتے جاتے شاہان نے ابرش کی بات پے گردن موڑ کے اسے دیکھا دھیرے سے مسکرایا۔ اور باہر نکل گیا۔

اففف۔۔۔ خدایا۔۔۔! اس شخص سے کب جان چھٹے گی۔۔۔؟؟ یہ تو میری بچیوں کے پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔۔ ابھی تک بس۔۔ دھمکیں ہی دیۓ جا رہا ہے۔۔ لیکن اگر واقعی میں اس نے کچھ غلط کر دیا تو۔۔؟؟

ابرش نے منہ پے ہاتھ پھیرا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ہیڈ کوراٹر سے رابطہ ہوتے ہی سلطان کے خاص آدمی نے نور جہاں کی ڈیمانڈ کی۔ بدلہ میں نور فاطمہ کو بازیاب کروانے کا کہا گیا۔

اور آج یہ معاملہ طے پایا تھا۔ جو بہت ہی عاز رکھا گیا تھا۔

ابتسام جانتا تھا۔ لیکن۔۔وہ س معاملے میں آگے نہیں بڑھا تھا۔

ایسے میں صرف آہان ہی تھا۔ تو جو ہر بات کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس بات سے اس نے ہانیہ کو بھی بےخبر رکھا تھا۔یہ بہت سیکرٹ ورک تھا۔ ہانیہ وک اس نے دو دن بعد کا بتایا تھا۔ جبکہ معملہ آج ہی طے ہونا تھا۔

سلطان کی بتاٸ ہوٸ جگہ پے وہ سب وہاں پہنچے تھے۔ جبکہ وہاں کوٸ نہ تھا۔ سنسان علاقہ تھا۔ اور ایسے میں نور جہاں کو وہاں ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ وہ نیم بے ہوش سی وہاں بیٹھی رہ گٸ۔

آہان اور اسکی ٹیم چونکا تھے۔ لیکن بالکل بھی آواز سدا نہ تھی۔

سر۔۔۔ کیا وہ واقعی آٸیں گے۔۔؟ یا چیٹ کریں گے۔۔؟؟

جو بھی کریں گے۔۔اب پھسیں گے۔۔

آہان نے سامنے نظریں فوکس کرتے کہا۔

تبھی یک گاڑی شراٹے بھرتی ہوٸ آٸ ۔ ایک لڑکی کو گاڑی سے دھکا دے کے نیچے پھینکا ۔ اور دھواں چھوڑا ۔ دھواں چھوٹا تو ساتھ ہی نور جہاں وہاں سے غاٸب تھی۔ اور ایک لڑکی زمین پے منہ کے بل گری پڑی تھی۔

کام ہو گیا۔۔۔! بلیو ٹوتھ پے آہان نے اطلاع دی۔

اور فورً سے اس لڑکی کو جا کے اٹھایا۔ وہ لڑکی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی لگی اسکی حالت دیکھ آہان کا دل بہت بری طرح دکھا ۔

اسے اپنی بازوٶں میں اٹھایا۔ اور اپنی ٹیم کے ساتھ واں سے نکلتا چلا گیا۔

سر۔۔۔! ہم نے انہیں جانےکیوں دیا۔۔ ہم انکا کام یہیں تمام کر دیتے۔۔۔! فیصل نے دل کی بات زبان پے لاٸ۔

وہ سلطان نہیں تھا۔ اور جب تک سلطان ہاتھ نہیں آتا۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ان پے حملہ ہمارے حق میں ہی برا ہوتا۔ ۔۔ اس لیے تھوڑا صبر۔۔! ابھی کا آپریشن تھا۔ اس لڑکی کو ریسکیو کروانا۔ وہ ہو گیا ہے۔ اب سلطان کو وہاں ماروں گا۔ جہاں اسے پانی بھی نہیں ملے گا۔

آہان نے نفرت اور حقارت سے کہا۔

اس لڑکی کو تو طبی امداد کی ضرورت ہے۔۔ فیصل کو اس لصکی پے ترس آیا۔ جو بے ہوش تھی۔اور بکھری اور اجڑی حالت میں تھی۔

ہمممم۔۔۔ اور اسکے لیے جگہ منتخب کر لی ہے۔ اور ڈاکٹرز بھی۔ کچھ ہی دن میں یہ لڑکی ٹھیک ہو جاۓ گی۔ ان شاء اللہ

آہان نے کہا تو فیصل نے دل ہی دل میں آمین بولا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آنیہ نے اپنا نمبر ہی چینج کر لیا تھا۔ وہ بار بار میر کو بول کے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی۔

اسلیے جب سے نمبر چینج کیا تھا۔ پرسکون تھی۔ جبکہ ان دنوں میر بھی کچھ کم ہی گھر دکھاٸ دے رہا تھا۔ زیادہ تر آفس میں ہی پایا جاتا۔ کشش اور میر یامین نے آنیہ کے کہنے پے میر ہادی کومعاف تو کر دیا تھا۔ لیکن وہ کشش میر ہادی سے اب زرا کم ہی مخاطب ہوتیں۔

اور میر ہادی اپنی کنڈیشن کسی کو بتا نہیں سکتا تھا۔ اور وجہ تو بالکل بھی نہیں بتا سکتا تھا۔

آنیہ کا زیادہ وقت کشش کے سنگ ہی گزرتا تھا۔ اور وہ کشش کے ساتھ وقت گزارکر خوش رہتی تھی۔ اور آج وہ ان سے اجازت لیتی پیرزادہ منشن میں آٸ تھی۔ اسکے آنے سے سبھی خوش تھے۔ اچھا وقت گزر رہا تھا۔ کہ۔۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

تم ایساکیسے کر سکتےہو آہان ۔۔؟؟ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔؟؟ جبسے ہانیہ کو پتہ چلا تھا۔ آہا ن نور فاطمہ کو بازیاب کروا چکا ہے۔ وہ بپھری ہوٸ تھی۔

وہ اس سے ملنا چاہتی تھی۔ سب سے پہلے اسے دیکھنا چاہتی تھی۔ اور آہان نے اسے بھنک بھی پڑنے نہ دی۔

وہ جو اپنیجاسوسی طبعیت کے برعکس آہان پے اعتبار کیے بیٹھی تھی۔ اب اس سے دھوکہ کھا کے زخمی شیرنی بنی ہوٸ تھی۔

ہانیہ۔۔! سب سے اہم بات تھی۔ نور فاطمہ کا بازیاب ہونا۔ اور وہ ہوگٸ ہے۔ اس لیے مزید کوٸ بحث نہیں۔

تم نے جھوٹ کیو ں بولا۔میں انتظار کرتی رہی تم نے آج کاکہا تھا۔اور جبکہ۔۔ تم دو دن پہلے ہی۔۔؟؟ مجھ سے کیوں چھپایا۔۔۔؟؟ ہانیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔کہ آہان کو مار دے یا خود کو۔۔؟؟

ہاں نہیں بتایا۔ کیونکہ اعتبار نہیں تھا تم پے۔۔! اور کسی اور کی انسٹرکشنز پے تم کام کر رہی تھی۔ کیسے تمہیں اپنے ساتھ شامل کرتا۔۔؟؟

آہان بھی غصہ سے اس کے سامنے آیا۔ اس وقت دونوں اپنے کرے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ اور بے انتہا ہی غصہ میں تھے۔

تم۔۔۔ یہ سب بول کے اپنی چیٹنگ کو نہیں چھپا سکتے آہان مرزا۔۔۔! دانت چباتی وہ اسکے مزید قریب آٸ تھی۔

میں نے کیا کیا۔۔ کیوں کیا۔۔؟؟ ایٹ لیسٹ تمہیں جواب دہ نہیں ہوں میں۔ سمجھی تم۔!

سر جھٹکتا وہ مڑا تھا۔

جواب دہ ہو۔۔۔! نور فاطمہ میری دوست ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے۔۔ میں نے اتنا سب کیا۔ اور ہوا کیا۔۔ ؟ آخر میں تم نے مجھے یوں باہر کیا جیسے ۔۔ میں کچھ بھی نہیں۔۔؟

ہاننیہ کسی صورت بھی نہیں ٹل رہی تھی۔ رہ رہ کے اسے نور کی فکر ہو رہی تھی۔ اور اوپر سے آہان کا چھپانا اسے تکلیف دے رہا تھا۔

ہاں۔۔ کچھ بھی نہیں تم۔۔۔! کچھ بھی۔۔۔! آہان بھی غصہ میں جو منہ میں آیا بول دیا۔ ہانیہ نے سر نفی میں ہلایا۔ اور اپنےگالوں پے آۓ آنسو صاف کیے۔

مجھے۔۔ ابی اسی وقت نور کے پاس جانا ہے۔۔! قطعی انداز میں کہا۔

اچھا۔۔۔؟؟ اور میں تمہیں اس تک پہنچا دوں گا۔۔؟؟ ہیں ناں۔۔؟؟ ویری فنی۔۔۔! آہان تمسخرانداز اپنایا۔

سوچ لو۔۔ ؟؟ اگر۔۔تم نے میری بات نہ مانی تو۔۔۔۔؟؟

توکیا۔۔۔؟ آہان کو اسکا چیلنجنگ انداز تپا گیا۔

نور تک تو میں پہنچ ہی جاٶں گی۔ دیر سے یا سویر سے۔ لیکن۔۔ تمہیں یہ اب بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔ آہان مرزا۔

ہانیہ نے انتہاٸ نفرت سے کہا۔

آہان سر جھٹکتا باہر نکلا۔۔ ہانیہ بھی اسکے پیچھے ہی باہر نکلی۔ وہ کچھ کہتی کہ ایک دم اونچی پکار پے دونوں چونکے۔

ابتسام علی پیرزادہ۔۔۔ ! ابرش کی اونچی پکار پے جہاں ابتسام چونکا تھا۔ وہیں ہال میں موجود سبھی کی نظریں اندر آتی ابرش پے ٹکیں تھیں۔

حراماں حراماں چلتی وہ ابتسام کے پاس آٸ۔ اور فاٸل اسکے سامنے ٹیبل پے پٹخی۔

یہ۔۔۔؟؟ یہ ہے۔۔آپ کا انصاف؟

ابرش اپنے غصہ کو قابو کرتی بمشکل بول پا رہی تھی۔

ابرش۔۔؟؟ بیٹا۔۔؟؟ آپ۔۔کیسے بات کررہی ہیں؟ آپ۔۔؟؟

ابی جان نے ٹوکنا چاہا۔ لیکن ابتسام نےانہیں روک دیا۔

ابرش اسکی نہ صرف شریک حیات تھی۔ بلکہ اسکی زندگی اسکی روح اسکا سب کچھ تھی۔ ایک وہی تھی۔ جسے بلاجھجک سب کچھ کہنے کا حق تھا۔ اور جو حق وہ خود اسے دے چکا تھا۔ کوٸ اور کیسے چھین سکتا تھا۔

ابرش کی لاٸ ہوٸ فاٸل پے ایک نظر ڈالی۔ جبکہ وہاں موجود سب کی نظریں کبھی ابرش اور کبھی ابتسام پے اٹھ رہی تھیں۔ سبھی کو تجسس ہورہا تھا۔ آخر فاٸل میں ایسا تھا کیا؟

ابر! بعد میں بات کرتے ہیں۔

بہت سنجیدگی سے کہتے فاٸل کو لیے وہ اٹھا تھا ۔

بعد میں کیوں؟ ابھی اسی وقت بات ہوگی۔ ابرش کالہجہ تیز ہوا۔

آپ کو یہ فاٸل کہاں سے ملی؟ ماتھے پے دو بل ڈالے وہ اس سے مخاطب ہوا۔

اسکے پوچھنے پے وہ اسکے بالکل سامنے جا کھڑی۔ ابتسام نے اسکے چہرے پے رقم غم و غصہ کے جذبات دیکھ لیے تھے۔

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ ایک وکیل ہوں۔۔ اور یہ۔۔ فاٸل۔۔۔؟ مجھ سے چھپ سکتی ہے؟ آپ ۔۔۔آپ کیسے۔۔ میری بیٹیوں کو وارثت میں سے بے دخل کر سکتے ہیں؟ وہ بھی کسی لے پالک بچے کے لیے؟ کیسے۔۔۔؟؟ اب کی بار وہ کافی اونچی آواز میں چلاٸ تھی۔ جبکہ ابتسام اتنا ہی مطمین کھڑا تھا۔

بھابھی۔۔؟؟ آپ پلیز۔۔ تھوڑا۔۔؟؟؟

عروش نے کچھ بولنا چاہا۔

چپ۔۔۔! ابرش نے سختی سے انگلی اٹھا کے اسے وارن کیا۔ تو وہ اسی وقت لب بھینچ چپ ہوگٸ۔

بیچ میں کوٸ نہیں بولے گا۔ یہ ہمارا آپس کامعاملہ ہے۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوٸ تھیں۔ لیکن لہجہ اتنا ہی سخت تھا۔

آپ نے فاٸل پڑھ لی۔ اچھا ہوا۔ اور میں اپنے کسی بھی فعل کو کسی کو جواب دہ نہیں۔

ابرش کا آہان کے لیے لے پالک کا لفظ انتہاٸ تکلیف دہ تھا۔

ابرش کو سخت اور سپاٹ انداز میں کہتے آگے بڑھا۔ کہ ابرش نے ہاتھ بڑھا کے اسکی کلاٸ تھامی۔

جواب دہ ہیں۔۔۔! ہیں آپ جواب دہ۔۔۔! اللہ کے سامنے۔۔ ! آپ نے اپنی سگھی بیٹیوں کو جاٸیداد سے بے دخل کیسے کر لیا؟ کیا سوچ کے؟ اسکا جواب تو آپ کو دینا ہوگا۔ ابرش کی غصے سے سانسیں پھول رہی تھیں۔

اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ سب کچھ تہیسں نیس کر دے۔

ابتسام نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنی کلاٸ چھڑاٸ۔

وکیل ہیں ناں۔۔آپ۔۔۔ بہت اچھی۔ عدالت میں چیلنج کر لیں۔ میری وصیت کو۔۔۔

سنجیدہ انداز میں کہتے وہ وہاں موجود سب کو ہی حیران وپریشان کر گیا۔

آج شادی کے باٸیس سال بعد اور دو پیار کرنےوالوں کو آمنے سامنے دیکھ رہے تھے۔ جن کی محبت کی مثالیں ساری دنیا دیتی تھی۔ آج انکی محبت کو کسی کی نظر لگ ہی گٸ تھی۔

جبکہ دور کھڑی ہانیہ ابتسام کے چہرے پے دلفریب مسکراہٹ تھی۔ اور وہ کیوں تھی۔ آنیہ ابتسام اچھی طرح جانتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *