Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 38)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 38)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ابتسام جو مسلسل آہان سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھا۔
چوٹوں اوت زخموں سے لیس وہ اندر داخل ہوٸ تھی۔کسی نے اسکا راستہ نہ روکا تھا۔ وہ فوجی جوانوں کے ساتھ آٸ تھی۔اسکی آنکھیں آنسوٶں سے بھری تھیں۔
وہ کتنی تکلیف میں تھی۔ ابتسام اچھی طرح سمجھتا تھا۔
اسے صحیح سلامت دیکھ اتسام نے شکر کا۔اناس لیا۔
ہانیہنے یو ایس بی ابتسام کی جانب بڑھاٸ ۔
اسکے ہاتھ کلاٸیاں سب زخمی تھے۔
ابتسام نے آگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا۔
وہ تو باپ کے سینے سے لگ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
ڈیڈ۔۔۔؟ ہان۔۔۔۔۔؟؟؟
ہانیہ سے بولا نہ جا رہا تھا۔
میرا بچہ بریو ہے ناں۔۔۔ ؟؟ انہوں نے اسکے سر کا بوسہ لیا۔ ہانیہ نے ہچکی سی لی تھی۔
اللہ پے بھروسہ رکھو۔ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔
ابتسام اسے لیے ایک طرف چلا گیا۔ اور یو ایس بی ہیڈ کوارٹر کرنل کے حوالے کر دی۔ جب تک ابتسام اندر رہا۔ ہانیہ وہیں باہر ایک روم میں انتظار کرتی رہی۔ اسکی ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کر دی تھی۔ لیکن بار بار دل آہان کے لیے تڑپ رہا تھا.
وہ کس حال میں ہوگا۔۔؟؟ وہ کار پہاڑی سے گرتے ایک ب م دھ م اکے سے اڑی تھی۔ اور دیکھ کے لگتا نہیں تھا۔ کہ اس میں موجود انسان بچ پایا ہو گا یا نہیں۔۔؟
سلطان کے آدمی بھی وہاں اس۔ ل ۔ح ہ کے ساتھ پہنچے تھے۔ لیکن جب انہیں کچھ نہ ملا ۔ تو وہاں سے نکلتے چلے گۓ۔
ہانیہ بمشکل ان سے نظر بچا کے آہقن کی ٹیم سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوٸ ۔ اور وہ اسے لیے ابتسام کے پاس ہیڈ کوارٹر پہنچے۔
چلو۔۔ بیٹا۔۔۔! آپ کو گھر چھوڑ دوں۔ پھر مجھے بہت اہم کام کرنا ہے۔
ابتسام نے باہر آتے کھوٸ ہوٸ ہنیہ سے کہا۔
ڈیڈ۔۔۔؟؟ آپ۔۔کہاں جا رہے ہیں۔۔؟؟ مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔ سلطان کو میں اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتاروں گی۔
ہانیہ ایک عزم سے اٹھی تھی۔
بیٹا۔۔! آپ نے اب تک جو کیا وہی بہت ہے۔ آپ نے سب سے اہم کام کیا ہے۔۔۔ یو ایس بی۔۔ کو ہمتک صحیح سلامت پہنچا کے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔
اب۔۔۔ آپ کو گھر جانا چاہیے۔۔ آپ کی مما آپ کیاراہ یکھ رہی ہوں گی۔ ابتسام نے سمجھانا چاہا ۔
ڈیڈ۔۔۔ ! اگر آہان کھڑا ہوتا میری جگہ۔۔؟؟ تو کیا۔۔۔ آپ تب بھی یہی کہتے۔۔؟؟ آنسو پونچھتی وہ دکھ سے بولی۔ ابتسام ایک دم چپ سا ہو گیا۔
آہان میں تو انکی جان تھی۔ اور وہ جانتے تھے۔ کہ وہ ایس سپاہی ہے۔۔ جو ملک دشمن کو مارنے سے پہلے نہیں مر سکتا۔
انکا دل کہہ رہا تھا۔ کہ آہان زندہ ہوگا۔ بس وہ دعا کر رہے تھے۔ وہ صحیح سلامت ہو۔
بیٹا۔۔! آپ۔۔۔؟؟
پلیز۔۔ڈیڈ۔۔ لاسٹ ٹاٸم۔۔۔ اجازت دے دیں۔ اسکے بعد کبھی کچھ بھی آپ کی اجازت کے بنا نہیں کروں گی۔
ہانیہ نے باپ کے ہاتھ تھامے۔
ابتسام نے گہرا سانس خارج کیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے سپاٸ گرل اپنی پوزیشن میں چاہیے۔
ابتسام نے اسے اجازت دیتے ساتھ ہی اس کے لیے سپاٸ گرل کا خطاب تازہ کیا تو وہ حیران ہوتی باپ کو دیکھنے لگی۔
مطلب۔۔ اسکے ڈیڈ سے کوٸ بھی بات چھپی نہ تھی۔
یس باس۔۔۔! ہانیہ نے سلوٹ کرتے ایک عزم سے کہا
ایک ایسا عزم جس میں سلطان کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔
آج رات انہوں نے سلطان کے اڈے پے اٹیک کرنا تھا۔ اور وہ یہ سب بہت راز داری سے کر رہے تھے۔









ہاسپٹلمیں وہ اندھا دھند بھاگتی پہنچی تھی۔
کس کس سے وہ ٹکراٸ وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن بس اسے میر ہادی چاہیے تھا۔
وہ۔۔ وہ کہاں ہیں۔۔؟؟ سامنے ارتسام کو دیکھ وہ ہوش و حواس کھوتی ہوٸ محسوس ہوٸ۔
ڈونٹ وری۔۔۔! ٹرییٹمنٹ چل رہا ہے۔ آٸ سی یو میں ہیں۔
ارتسم نے اسے پاس ہی چیٸر پے بٹھایا ۔
وہ ٹھیک ہیں۔ ناں۔۔۔؟ ڈوبتے دل سے پوچھا۔
ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔ یہ پانی پیو۔۔۔! ارتسام کو اسکی حالت ٹھیک نہ لگی۔
ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔؟؟ بتاٸیں ناں۔۔ چاچو۔۔؟؟وہ کیسے ہے۔۔؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔؟ وہ باقاعدہ رو دی تھی۔
کچھ نہیں ہو گا پاگل۔۔۔! سخت جان ہے وہ۔۔۔۔! اور فولادی جسم۔۔۔! وہ ی کور کرلے گا۔ ڈکاٹر ہاشم دیکھ رہے ہیں۔
اپنے آپ کودیکھو۔۔۔! اس وقت مجھے تم صحیح نہیں لگ رہی۔
ارتسام نے ہر ممکن طریقے سے اسے نارمل رکھنا چاہا۔ جبکہ میر ہادی کے دماغ پے گہری چوٹ لگی تھی۔ اور وہ ہوش میں ہی نہیں آرہا تھا۔
یہ بات وہ جانتے تھے۔لیکن آنیہ کو نہیں بت سکتےتھے۔ میر یامین بھیوہاں موجود تھے۔ وہ آنیہ کے پاس آۓ۔
آپ یہیں رکیں۔ میں آتا ہوں۔ ارتسام وہاں سے اٹھتا آٸ سی یو کی جنب بڑھ گیا۔
کچھ نہیں ہوگا ۔ ہمارے ہادی کو۔۔۔!!وہ ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میر یامین نےاسکے سر پے شفقت کا ہاتھ رکھا۔
وہ ۔۔ ٹھیک ہو جاٸیں گے ناں۔۔ بابا۔۔؟؟ آنیہ نےبامید سے پوچھا۔
ان شاء اللہ. میر یامین نے دل سےکہا۔








صبح سے شام ہوگٸ تھی۔ نہ ہانیہ کاپتہ چل رہا تھا۔ نہ آہان کا۔۔۔ کسیکانمب بھینہیں لگ رہا تھا۔ اوپ سے ابتسام نےبھی گھر آنا چھوڑ دیا تھا۔
ایسے میں ابرش بہت پریشان تھی۔ اسے کچھ صحیح نہیں لگ رہا تھا۔ ایک دل کیا۔ ابتسام سے پوچھے۔ لیکن۔۔ ہاۓ رے انا۔۔۔! وہ اہنی سوچ کی نفی کر گٸ۔
لیکن۔۔ کب تک۔۔؟ سارا وقت سوچ سوچ کے پریشان ہوتی رہی ۔ کہ عروش نے آکےاسے میر ہادی کے ایکسیڈینٹ کا بتایا۔
ابرش بنا ایک پل کی دیری کیے بنا ہاسپٹل کا رخ کیا عروش بھی اسکے ساتھ ہولی۔ ہاپسٹل پہنچتے ہی آنیہ سامنے نظر آگٸ۔
مما۔۔۔! آنیہنےماں کو دیکھا۔ تو رکے ہوۓ آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔
ماں کے سینے سے لگی وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔
فکر نہیں کرو آنا۔۔۔۔! سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ کہاں ہے۔۔ میر ہادی۔۔۔؟ اسے تسلی دیتی وہ میر یامین سے دیکھ سوال کر گٸ۔
آٸ سی یو میں۔۔۔! آپ آنیہ کے پاس رکیں۔ پلیز۔۔۔!
میر یامین ابرش سے کہتا وہاں سے چلا گیا۔
ابرش نے اسے واپس بٹھایا۔
مما۔۔۔ وہ ۔۔۔ ٹھیک۔۔؟؟؟ رونے کے سبب وہ بول نہ پا رہی تھی۔
پہلے رونا بند کرو۔۔ آنا۔۔۔! میری بیٹیاں کمزور نہیں۔۔ سمجھیں آپ۔۔۔! ابرش نے دل بڑا کرتے آنیہ کو حوصلہ دیا۔ اور اسکے آنسو پونچھے۔
عروش وہاں سے ارتسام کے آفس کی جانب بڑھی ۔
اللہ پےبھروسہ رکھو ۔ اور دعا مانگو۔۔ وہ سب مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔۔ سب آسانیاں وہی پیدا کرنے والا ہے بس میرا بچہ۔۔ صبر سے کام لو۔
آنیہ کو روتے روتے ہلکان ہوتے دیکھ ابرش کا دل بری طرح دکھ رہا تھا۔ جبکہ ڈاکٹرز ابھی تک کچھ بھی نہیں کہہ رہے تھے۔







رات کے سناٹے میں پچیس جوانوں کا دستہ ابتسام کی سرپرستی میں سلطان کے اڈے کی طرف موو کر رہا تھا۔ آج سلطان کی سانسیں بند کرنے کا دن تھا۔ سپاٸ گرل اپنا راستہ خود بناتی ان سب کے ساتھ ساتھ ہی تھی۔ بلیو ٹوتھ کے زریعے اسکا رابطہ ابتسام سے تھا۔
وہ سلطان کے اڈے کے قریب پہنچ چکے تھے ۔
گناہوں کی دنیا کا بادشاہ۔۔۔۔۔! آج انتقام اور تیرا اختتام ایک ساتھ۔ ان شاء اللہ
ابتسام نے دل ہی دل میں کہا ۔ اور تمام جوانوں کو پھیل جانےکا اشارہ کیا۔ اور آگے بڑھنےکا اشارہ کرتے خود بھی پیش قدمی کرنے لگا۔
ایک ایک کر کے سلطان کے آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا شروع ہک دیا گیا تھا۔ جو وہاں ڈیوٹی پے تھے۔ ایک ایک کرنے سب کو موت کی نیند سلا رہے تھے۔ فوجی جوان۔
سر۔۔۔! آگے سرنگ کی طرف موو کریں۔۔۔۔؟
ارباز نے سوال کیا۔ ابتسام کا شان سےبھی مسلسل رابطہ تھا۔
پہلے نور جہاں کو حراست میں لینا ہے۔ تا کہ سلطان کوٸ چالاکی کرے تو اسے منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
اور پھر شان کی مدد سے وہ نور جہاں تک پہنچ ہی گۓ۔
اور اسے اپنی حراست میں لے لیا ۔
لیکن ۔۔ سلطان کے ایک آدمی نے انہں دیکھ لیا اس نے فاٸرنگ شروع کر دی۔ جس سے سلطان اپنے آدمیوں سمیت الرٹ ہوا تھا۔ دونو ںطرف سے فاٸرنگ کا تبادلہ ہوا۔
اور جب سلطان کو ابتسام کی گن سے نکلی گولی لگی تو وہ بازو پکڑتا تڑپ کے پیچھے ہوا۔
ابتسام نے ان کا فم ٹوٹتا دیکھا تھا۔ ماٸیکلیتے انکو للکارا۔
سلطان۔۔۔! اگر زندہ بچنا چاہتے ہو۔۔ تو۔۔ خود کو ہمارے حوالے کر دو۔۔! ورنہ آج تمہاری موت یقینی ہے۔
ابتسام کی آواز وہاں گونجی تو سلطان نے اپنی طاقت کا اندازہ لگایا۔
منہ سے تھوک پھینکا تو س میں خون شامل تھا۔
کہاں غلطی کر گیا۔۔۔ام۔۔۔؟؟ جو یہ پہنچ گۓ ام تک۔۔؟؟
کس نے دھوکا دے دیا۔۔؟؟ سلطان دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا اپنی گن پے گرفت مضبوط کی۔
سلطان ۔۔! خود کو ہمارے حوالے کردو۔۔ تو۔۔ ہی بہتر ہے۔۔ونہ۔۔ یہ جان لو۔۔ آج تمہارا آخری دن ہے۔
وہ جانتا تھا۔ اسکے کافی سارے آدمی مر چکے تھے۔
اور یہ ایجنسی کےبندے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیں۔ کوٸ بھی نہیں جانتا تھا۔
اس لیے سلطان نے لڑ کے مر جانا زیادہ مناسب سمجھا۔
اس لیے گن پے اپنی گرفت مضبوط کرتا وہ اندھا دھند فاٸرنگ کرتا چلا گیا ۔ لیکن ابتسام یا کسی اور نے فاٸرنگ نہ کی۔ انکا ارادہ اسے زندہ پکڑنا تھا۔ اور عبرت کا نشان بنانا تھا۔
سپاٸ گرل چھپ کے تاک لگاۓ بیٹھی تھی۔ وہ بس موقع کی تلاش میں تھی۔ جبکہ زخمی ہونے کے باجود سلطان کے کٸ آدمیوں کو اس نے مار گرایا تھا۔
سلطان کے گن میں گولیاں اینڈ ہوگٸیں۔
اوہ۔۔۔ عاشق۔۔ گن پھینک۔!
سلطان نے فبک کے بیٹھے عاشق سے کہا۔ جبکہ سلطان بالکل سممنے کھڑا تھا جیسے مرنا ہی آج اکا مقدر ہے۔ اور وہ مقدر سے لڑنا بھی نہیں چاہ رہا تھا۔
عاشق نے کچھ دیر سوچا۔ او پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی گن سلطان کی طرف اچھالی ۔ جو سلطان کے ہاتھ کی بجاۓ زمین پے جا گری۔ لطان نے آگے بڑھ کے اٹھانا چاہا۔ کہ ایک گولی نے اسکےہاتھ پے اپنا نشان چھوڑا۔ وہ تڑپ ہی گیا ۔
زور زور سے چلایا ۔ وہ بیچوں بیچ بیٹھا درد سے کراہ رہا تھا۔
سامنے پڑی گن وہ اٹھا نہیں پار ہا تھا۔
بے بسی ہی بے بسی تھی۔
تڑپتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے اٹھانی چاہی۔ کہ ایم اور فاٸر ہوا۔ جو اسکے دوسرے ہاتھ کی پشت پے پنا نشان چھاپ گیا۔
اب وہ دونوں ہاتھوں سے ہی معزور ہوتا وہییں گر گیا ۔
ابتسام اس کے سامنے آیا۔ ہوا کا تیز جھونکا ابتسام کو چھوکے گزرتا سلطان پے دہشت طاری کر رہا تھا۔
جاری ہے۔
