Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 19,20)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 19,20)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
بس۔۔۔! ختم کھیل۔۔۔ ماسک ہٹا۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟ فضل نے گن کا رخ سامنے والے کی کنپٹی پے کیا تو وہ ایک لمحے کو اپنی جگہ سن ہی ہو گٸ۔
اس سے پہلے کے فضل اس پے وار کرتا یا وہ ماسک ہٹاتی۔ اور اسکی اصلیت سامنے آتی۔ آہان نے سب کو پوزیشن لینے کا اشارہ کیا۔ ایک بار پھر سے فاٸرز کھلے لیکن بنا کسی آواز کے۔ اور سب ڈھیر ہوتے چلے گۓفضل ایک بار پھر سے گھبرایا۔ اور اپنا بچاٶکرنے کے لیے وہ وہاں سے چھپنے کے لیے بھاگا۔
ماسک والی لڑکی نے پلٹ کے ایک نظر آہان کی نظروں میں دیکھا ۔جو اسکی طرف دیکھتا باقیوں کو موت کی نیند سلا رہا تھا۔
ماسک والی لڑکی نے وہاں سے نکلنا ہی مناسب سمجھا۔ اور پلک جھپکتے غاٸب ہوٸ۔ لیکن آہان کی نظروں سے چھپ نہ سکی۔
سب کو بہت آسانی سے موت کی نیند سلا کے وہ فضل اور اسکے آٹھ ساتھیو ں کو حراست میں لے چکے تھے۔لیکن اتنی آسانی سے انکا خود کو سیرنڈر کر دینا۔ آہان کی سمجھ سے بلاتر تھا۔ اسے یہ سب ایک ڈرامہ لگ رہا تھا۔
جیسے سب کچھ پہلے سے پری پلانڈ تھا۔ ان سب کو وہاں سے باہرلے جایا گیا۔ ان بچے گۓ لوگوں کو ان کے ساتھ روانہ کرتا وہ خود ماسک والی لڑکی کی پیچھے گیا۔
یہ کونسا راستہ ہے۔۔۔؟ ؟میں غلط جگہ تو نہیں نکل آٸ۔۔۔؟؟ وہ سوچتے ہوۓ بنا کچھ سمجھے بس وہاں سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔اس سے پہلے کے وہ ایک قدم مزید آگے بڑھاتی۔ آہان نے اسے کمر میں ہاتھ ڈال کے پیچھے کرتے اپنے ساتھ لگایا۔
وہ اسکے ساتھ کھینچی چلی گٸ۔ آہان خود دیوار کے ساتھ جا لگا۔ اور مقابل کےمنہ پے ہاتھ رکھا۔
وہیں سے ایک تیز رنگ روشنی کا اسی وقت گزر ہوا۔ وہ دونو ں ہی اس روشی سے بچ گٸے۔
روشنی کی وجہ سے ہی آہان نے ایک منٹ میں ہی وہاں کا سارا جاٸزہ لے لیا۔
ہانیہ روشنی کے ہٹتے ہی اسکی جانب پلٹی تھی۔
اور آہان کو ماسک بھی اسکے چہرے پے غصہ کے آثار سمجھ آرہے تھے۔
تمہیں ایک بات سمجھاٸ تھی بہت اچھی طرح سے۔لیکن لگتا ہے تمہیں سمجھ نہیں آٸ۔ آہان نے اسکے انداز کی پرواہ کیے بنا اسے اپنے قابو کیے رکھا۔
تم۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟ وہ جھٹپٹاٸ۔
کیو ں آٸ یہاں تم۔۔۔؟؟ آہان نے اسے دیوار کے ساتھ پن کیا۔ اور خود اس کے آگے کھڑا ہوگیا۔
جسطرح تمہیں اپنے وطن سے محبت ہے۔ اسی طرح مجھے بھی ہے۔ میں اپنے وطن کے لیے جاند دے بھی سکتی اور۔۔۔ لے بھی سکتی ہوں۔ کہتے ہی آہان کو زور سے پش کیا۔ لیکن وہ اسکی اس حرکت سے پہلے ہی چوکنا تھا۔
مطلب۔۔۔تم سب جانتی ہو؟۔۔۔۔؟؟ آہان نے دانت پیسے اسی وقت وہ روشنی پھر سے واپس پلٹی تھی۔ آہان اسے لیے نیچے جھکا۔ اسے زمین پے گراٸے خود اس پے سایہ فگن ہوا۔
ہانیہ بالکل چپ ہوگٸ۔ اس روشنی سے وہ بھی ایک لمحے کو سہمی تھی۔ جو بالکل ایک انچ کے فاصلے سے آہان کے اوپر سے گزری تھی۔
We are trapped.
آہان کو اب سب سمجھ آنے لگا تھا ۔ فوراً سے بلیو ٹوتھ سے رابطہ جوڑا۔
Tell me current position. Charli.
آگے سے ابتسام کی آواز سنتے وہ اپنی پوزیشن پے خود کو لعن تان کرتا نفی میں سر ہلاتا پیچھے ہٹا تھا۔
سر ہوی آر ان ٹربل۔۔۔۔! اسکی پریشان آواز سنتا ابتسام کا دل یسے بند ہوا تھا۔
اس لڑکی نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ اسے اریسٹ کر لیں۔ آہان کی اگلی بات پے ابتسام ہوش میں آیا۔
آہان۔۔۔۔! اس وقت کہاں ہو تم۔۔؟؟ ابتسام کو اسکی فکر لگی۔
سلطان کے اصل اڈے پے۔۔۔! آہان کو اس وقت اپنا آخری وقت محسوس ہو رہا تھا۔ وہ جہاں موجود تھا۔ وہ اسے یونہی چھوڑ کے نہیں جا سکتا تھا۔ان سب کو وہیں دفن کرنے کا ارادہ تھا اسکا۔۔ اور اس میں اسکی جان جانے کا بھی خدشہ تھا۔فکرتھی تو سامنے بیٹھی پاگل لڑکی کی۔
آہان۔۔۔ وہاں سے فوراً نکلو۔۔ اور اپنی لوکیشن آن کرو۔۔ جوان ابھی بھی وہیں ہیں۔ وہ تم تک پہنچ جاٸیں گے۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔تم کوٸ رسک نہیں لو گے۔
ابتسام نے اسے منع کیا۔
سوری سر۔۔۔! میں پلٹ نہیں سکتا۔۔۔ دشمن سامنے ہے اور۔۔۔ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔۔ یا تو انہیں مار ڈالوں گا۔۔ یا ۔۔؟
سرا کریڈٹ خود لے رہے ہو۔۔۔؟؟ ہانیہ کی آواز پے ابتسام کے چودہ طبق روشن ہوۓ۔۔۔
ہانیہ۔۔۔؟؟؟ دھیمی آواز میں کہا لفظ بھی آہان نے سن لیا تھا۔
آہان۔۔ آٸ سوٸیر تم دونو ںکو کچھ بھی ہوا۔۔ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔! اب کی بار ابتسام کا دل جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا ہو۔
ایم سوری ڈیڈ۔۔۔ !ہانیہ آہان کے قریب ہوتی بس اتنا ہی کہہ پاٸ وہ جانتی تھی دوسری طرف اسکے ڈیڈ ہیں۔ اسکا یوں قریب ہونا۔ اور آہان کے گال کے ساتھ اسکے ہومٹوں کا مس ہونا آہان نے رخ پھیرا۔
سر یہاں ہر جگہ ڈاٸنا ماٸٹس بچھے ہیں۔۔۔ واپسی ناممکن ہے۔۔ دعا کیجیے گا۔۔ اللہ ہمیں اپنےمقصد میں کامیاب کرے۔ کہتے ہی بلیو ٹوتھ بھی آف کر دیا۔ ابتسام ایک م سے کرسی پے ڈھے گیا۔
بی بریو۔۔ ابتسام۔۔۔ وہ آہان۔۔ ہے۔۔ اسے تم نے ٹریننگ دی ہے۔ وہ ضرور اس مشکل سے نکل آۓ گا۔۔۔! کرنل نے اسے تسلی دی۔ جبکہ ابتسام پھر بھی کچھ بول نہ پایا ۔ ایک طرف آہان تھا تو دوسری طرف ہانیہ۔ دونوں ہی اسکے جگر کے ٹکڑے تھے۔ وہ اپنے آنسو پیتا اٹھا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہاں ڈاٸنا ماٸٹس ہیں۔۔؟؟ ہانیہ نے حیران ہوتے پوچھا۔
ہاں۔۔۔! آہان نے کہتے ہی فوراً سے اپنا بیگ پیٹھ سے اتارا اور اس میں ضروری سامان نکالتا کام پے لگ گیا۔
تم۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ کیا کرنے والے ہو۔۔۔؟ ہانیہ کو اسکے کام کی پھرتی سے کچھ صحیح نہیں لگا۔
دھ م اک ہ۔۔۔۔! بہت بڑا۔۔۔۔! آہان نے پرسرار انداز میں کہا۔
اور اسکے پاس ہوا۔ لاٸٹس واپس پلٹ رہی ہے۔نیچے جھکو۔ اسے نیچے کرتا وہ اسکے اوپر ہوتا جھکا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔اب کی بار ایک سے زاٸد لاٸٹس تھیں۔
شاید انہیں خبر مل گٸ ہے۔آہان نے آٸیڈیا لگایا۔
اب کیا ہوگا۔۔؟ وہ بھی دھیمی آواز میں بولی۔
لاٸٹس ہٹ نہیں رہیں تھیں۔ آہان کو گڑبڑ لگی۔ وہ مزید نیچے ہوا۔ تو ہانیہ کا دل دھڑکنے لگا۔ اسکا یوں پاس ہونا اسکے حواسوں کو منتشر کر رہا تھا۔
افففففف۔۔ اتنے موٹے اور وزنی ہو۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔!
اپنی جھنجھلاہٹ کو چھپاتی اسے آہان کے سینے پے ہاتھ رکھے اسکے مسلز پے چوٹ کرتے کہا ۔
آہن نے اسکے ہونٹوں پے ہاتھ رکھ کے اسے چپ کروایا۔ وہاں اس وقت کوٸ موجود تھا۔ شاید انکی ہی تلاش جاری تھی۔ ایک نہیں۔۔ زیادہ تھے۔وہ۔۔!
آہان نے نیچے ہوتے خود کو چھپایا۔ جبکہ ہانیہ کے منہ سے ہاتھ نہ ہٹایا تھا۔ اسکا بولنا ان دونوں کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔
یہاں کوٸ نہیں۔۔!چلو یہاں سے۔۔۔! دوسری طرف دیکھتے ہیں۔
ایک شخص نے کہا۔ تو وہ سب دوسری طرف نکل گٸے۔
انکے جانے کی تسلی کرتا آہان نے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔ اور اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ سر اثبات میں ہلاگٸ۔
دونوں ا ب چھپ کے سامنے دیکھ رہے تھے۔
شاید۔۔۔ اس میں ہم دونوں کی جان چلی جاۓ۔
دھیمے لہجے میں کہتے وہ سامنے دیکھتا اپنا سامان اٹھانے لگا تھا۔
اپنے ملک کی خاطر جان بھی چلی جاۓ تو خوشی ہوگی۔ لیکن۔۔۔ اگر تم۔۔ بچ گۓ ۔۔۔تو بہت افسوس ہوگا۔۔۔
ہانیہ نے دانت پیستے کہا ۔ آہان نے ایک قہر کی نظر اسے پے ڈالی۔ اور ایک ہتھکڑی نکال کے اسے پہناٸ۔ اور ساتھ ہی دیوار کے نچے لگے ہک کے ساتھ اسے بند کر دیا۔
کیا کر رہے ہو یہ۔۔؟ کھولو اسے۔۔۔؟؟ ہانیہ دبے دبے انداز میں چلاٸ۔
تم پے نا۔۔۔ ٹرسٹ نہیں مجھے۔۔! اور وہ کیا ہے ناں۔۔ تمہیں کھلا رھ کے میں کوٸ رسک نہیں لے سکتا۔تم میرا سارا کام بگاڑ دو گی۔ بہت آرام سے کہتا وہ ادھر ادھر دیکھتا اٹھا تھا۔
آہان۔۔۔ تم غلط کر رہے ہو۔۔۔کھولو مجھے۔۔! ہم ایک ٹیم ہیں ناں۔۔۔ ہانیہ نے پینترا بدلا۔
ایک ٹیم۔۔۔؟ تمہارے ساتھ دشمنی تو ہو سکتی ہے۔لیکن ٹیم کبھی نہیں۔۔۔!آہان کہتے ہی اٹھا۔
جب تک میں واپس آتا ہوں۔چپ چاپ یہیں رہنا۔۔۔ اور کوٸ چالاکی مت کرنا۔سمجھی تم۔۔۔!اسے وارن کرتا وہ فوراًچھپتا چھپاتا وہاں اندھیرے میں غاٸب ہوا۔
ایڈیٹ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔کھڑوس… ایک بار ہاتھ لگو۔۔۔ میرے ۔۔جان لے لوں گی تمہاری۔۔۔ چیٹر۔
ابھی وہ مزید القابت سے نوازتی کی روشنی پھر سے آنے لگی۔ وہ جھٹ سے نیچے بیٹھ گٸ۔ اور آہان کی واپس کا انتٹظار کرنے لگی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آنیہ۔۔۔؟؟
آنیہ جو کچن میں آج کھڑی اسکی من پسند ڈش بنانے میں مصوف تھی۔
میر کی سر آواز پے وہ پلٹی۔
جی۔۔۔؟؟
آپ روم میں آٸیں گیں۔۔۔۔؟؟ اتنا کہہ کہ وہ وہاں سے جیسے آیا تھا۔ ویسے نکل گیا۔
انہیں کیا ہوا۔۔۔؟؟ آنیہ ملازمہ کو کچھ کام بتاتی روم کی جانب بڑھی۔ اسکے روم میں جاتے ہی میر ہادینے دروازہ لاک کیا۔ اور ماتھے پے بل ڈالے اسکی جنب متوجہ ہوا۔
آنیہ۔۔۔؟؟ آپ کا پینڈینٹ کہاں ہے؟ میر ہادی کے پراسرار انداز پے ایک لمحے کو آنیہ کا دل دھڑکا۔
جی۔۔۔۔یہ۔۔۔۔یہ ہے۔۔۔۔! اپنی گردن میں پہنا پینڈیٹ سامنے کیا۔
تو ۔۔پھر۔۔۔یہ کہاں سے آیا آپ کے پاس۔۔۔؟؟
میر ہادی کے ہاتھ میں دوسرا پینڈٹ دیکھ آنیہ کا تو سانس ہی رک گیا۔ وہ پینڈینٹ تو اس نے اپنے جیولری باکس میں رکھا تھا۔ ہادی۔۔۔اس تک کیسے پہنچ گیا۔۔۔؟؟
یہ۔۔۔۔یہ آپ کو ۔۔کہاں سے۔۔ملا۔۔؟؟ تھوک نگلتے وہ میر ہادی کے قریب آٸ۔
میرے خیال سے یہ سوال مجھے آپ سے کرنا چاہیے۔۔ آنیہ۔ کہ یہ آپ کے پاس کیا کر رہا ہے۔۔؟؟ ہادی کے ماتھے کے بلوں نے آنیہ کو سچ میں پریشان کر دیا تھا۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔؟؟ آنیہ کوسمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دے۔۔۔؟؟
آنیہ۔۔!مجھے جھوٹ نہیں سننا۔۔۔! سخت لہجے میں کہتا وہ آنیہ کو ڈرا گیا تھا۔












آہان بہت صفاٸ سے اپنا سارا کام سر انجام دیتا اب واپس مڑا تھا۔ وہ ایسا بندوبست کر چکا تھا کہ بس ایک ہی دھماکہ میں پورا اڈہ اڑجانا تھا۔
واپس آیا تو انیہ وہیں منہ بنا کے بیٹھی تھی۔
آہان نے اسکی ہتکڑی کھولی۔ ہانیہ نے اسے گھور کے دیکھا۔ کلاٸیاں ملتی وہ ایک پنچ آہان کے منہ پے مار گٸ۔لیکن بروقت پیچھے ہوتے وہ اسکے پنچ سے بچ گیا۔
جاری ہے
ایک بار یہاں سے نکل جاٶں پھر دیکھنا کیا حال کرتی ہوں تمہارا۔وہ غصہ ضبط کرتے دھیمی آواز میں پھنکاری تھی۔
میری بھی یہی سوچ ہے۔ تمہیں لے کے۔
اب اٹھو جلدی۔ ۔۔۔ ! اسکا ہاتھ پکڑتے آہان نے اسے اٹھایا ۔ اور اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔
ہم ایک ٹیم نہیں۔۔۔ تم اپنے راستے جاٶ۔۔ میں اپنے۔۔ سمجھے تم۔۔۔! اس نے ہاتھ چھڑاتے کہا ۔
اپنی یہ۔۔۔ بکواس بند کرو۔۔۔ اور چلو میرے ساتھ۔۔آہان کو اسکی باتوں پے اب سچ میں غصہ آنےلگا تھا۔زبردستی اسکا ہاتھ تھاما۔ اور ڈاٸناماٸٹس کے بیچ میں سے گزرتا اسے اشارے سے سمجھاتا خود آگے آگے ےھا۔ اورہ وہ اسکے پیچھے پیچھے۔
وہ ان لوگوں سے تو نظریں بچا کے نکل آۓ سامنے سرنگ کا دوسرا سرا نظر آیا۔ جاے دیکھ ہانیہ نے آہان سے آگے بڑھتے وہاں سے پہلے نکلنے کی کوشش کی۔ اور وہیں پے وہ غلطی کر گٸ۔ اسکا پاٶں ڈاٸنا ماٸٹ پے آگیا۔
اسٹاپ۔۔۔۔! آہان نے اسے رکنے کا کہا۔ وہ ھی دل۔تھام کے رک گٸ۔ اسے بھی احساس ہوگیا تھا۔کہ جلد بازی میں وہ غلطی کر گٸ ہے۔
آہان اکے قریب آیا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو بس ایک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔
آہان کی نظروں میں غصہ تھا۔ جبکہ ہانیہ کینظروں میں ایک ڈر ہلکورے لے رہا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو خود موت کے منہ میں ڈالا تھا۔
ڈونٹ موو۔۔۔! وہ زرا ا زرا لڑکھڑاٸ تھی۔ کہ آہان نے اسے پھر سے تیزی سے کہا۔ اور اپنا بیگ ساٸیڈ پے رکھتا۔ نیچے بیٹھا۔۔۔ اور ڈاٸنا ماٸٹ کے اردگرد سے مٹی کھودنے لگا۔
ہان۔۔۔؟؟ کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟ ہانیہ جھنجھلا کے بولی۔
چپ رہو تم۔۔۔! آہن نے غصہ سے کہا۔ تو وہ دانت پیس کے رہ گٸ۔
دل تو کرتا ہے یہیں چھوڑ کے چلا جاٶں تمہیں۔۔۔! اٹھتے ہوٸے غصہ سے اسکی آنکھوں میں دیکھتےکہا۔ کہ ایک پلکو تاریک سایہ ہانیہ کے چہرے پے لہرایا ۔ لیکن اگلے ہی پل وہ سخت غصہ میں آگٸ۔
تو جاٶ ناں۔۔ کس نےکہا ہے کہ رکو۔۔۔؟؟ میں کر لوں گی۔۔ اپنا بچاٶ۔۔۔! مجھے تمہاری کوٸ ضرورت نہیں۔
ہانیہ نے اپنے پاٶں کے نیچے ڈاٸنا ماٹ اور زمین کا جاٸزہ لینا چاہا۔
سیدھی کھڑی رہو۔۔۔ ڈرامہ باز۔۔۔ نہ ہو تو۔۔۔ دھیمیآواز میں کہتا وہ اسے بازٶں سے تھامے سیدھا کھڑا کر گیا۔
سر سے وعدہ نہ کیا ہوتا۔۔۔تو کبھی بھی تم جیسی نک چڑی کی مدد نہ کرتا۔
اسے پھر سے چڑاتا وہ قریب ہی ایک بڑا سا پتھر دیکھنے لگا۔
خود کو زیادہ تیس مار خان سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تمہاری وجہ سے اس مشکل میں پھسی ہوں میں۔۔۔ ہانیہ نے بھی دوبدو جواب دیا۔
آہان کو اپنے مطلب کا ایک بڑا ساپتھر مل گیا تھا۔ وہ اس پتھر کو لے کے ہانیہ کے پاٶں کےپاس آ بیٹھا۔
ناٶ۔۔ لسن۔۔ہانیہ۔۔۔ جیسے ہی میں تمہارا پاٶں ہٹاٶں۔ ایک جھٹکے سے پیچھے کرنا۔ سمجھی تم۔۔۔! اب کی بار وہ سنجیدگی سے بولا۔
ہان۔۔۔۔! ڈونٹ ڈو دس۔۔۔! وہ پھٹ جاۓ گا۔۔۔! تم جاٶ یہاں سے۔۔۔۔! ہانیہ کی آواز میں اس بار ڈر تھا۔
آہان کھڑا ہوتا اسکے چہرہ کو ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ میں ہوں۔۔ ناں۔۔۔! ٹرسٹ می۔۔۔!
اسے اپنے ہونے کا مان دیتا وہ اسکے آنکھیں نم ہوتی دیکھ رہا تھا۔
تمہیں کرنا آتا ہے یہ سب۔۔؟؟ کسی ڈر کے تحت پوچھا۔
ہمیں ہر طرح کی ٹریننگ دی گٸ ہے۔ بس تم ویسے کرنا جیسے میں نے کہا ہے۔ میرے تین گنتے ہی پاٶں ہٹا دینا۔
آہان کے کہنے پے ہانیہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔
ایک۔۔۔۔دو۔۔تین۔
پاٶں ہٹا۔ اور آہان نے بہت ہی مہارت سے وہ پتھر اس جگہ فٹ کر دیا۔
ہانیہ نے گہرا سانس خارج کیا۔ اسے یقین نہ آیا کہ وہ بچ گٸ ہے۔
آہان نے اس بار اسے سوچنے سمجھنے ک موقع دیے بنا پھر سے ہتھکڑی پہناٸ۔ اور دوسری ہتھکڑی اپنے ہاتھ میں پہنی۔
یہ۔۔۔ یہ کیا کررہے ہو۔۔۔؟؟ کھولو اسے۔۔۔! ہانیہ پھر سے منہ بناتی اس ہتھکڑی سے تنگ ہوتے بولی۔
مجھے تم پے اب تو بالکل بھروسہ نہیں۔۔ چلو میرے ساتھ۔کہتے ہی اسکا ہاتھ تھاما۔۔ اور اسے ساتھ لیے آگے بڑھا۔ کہ ہانیہ نے اپنا ہاتھ غصہ سے چھڑایا ۔ آہان نے پلٹ کے ایک نظر اس خونخوار شیرنی کو دیکھا۔ اور بنا اسکی پرواہ کیے آگے بڑھا۔ وہ بھی اسکے ساتھ گھسیٹی چلی گٸ۔
اب آگے راستہ صاف تھا۔ وہ تقریباً اببھگانے والےانداز میں چل رہے تھے۔ آہان نے اپنی واچ پے ٹاٸم فٹ کیا تھا۔ اور اس ٹاٸم کے ساتھ اس ب م کو۔۔۔جو کچھ ہی دیر میں پھٹنے والا تھا۔ گھڑی کی سوٸ بارہ پے جاتے ہی ب م ۔دھ م ا کہ۔ ہو نا تھا ۔
یہ کیا راستہ تو بند ہے اس طرف۔۔۔! ہانیہ پریشان ہوٸ۔آگے جاتےہی وہ دونوں رک گٸے تھے اب۔ آہان نے ساری طرف نظر دوڑاٸ ۔ ایک ایک دیوار کو چیک کیا۔ تو ایک دیوار اسے سیم زدہ لگی۔ وہاں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ بیگ سے ایک چھوٹا سا بم نکال کے وہاں فٹ کیا۔ اور ہانیہ کو لیے پیچھے ہوا ۔
کچھ ہی دیر میں وہ زور دار دھ ما کے سے پھٹا۔ اور دیوار ٹوٹ گٸ۔
اٹھو۔۔۔! ہانیہ کا ہاتھ تھامے وہ اس طرف آیا۔ کہ اس لمحے زمین زور دار طریقے سے گڑگڑاٸ۔وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارے لیے کھڑے رہے۔ لیکن زمین کے ہچکولے بڑھتے جا رہے تھے۔ ب م ۔ب ل ا س ٹ۔ ہو چکا تھا۔ انہیں جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا ۔
وہ لڑھڑاتے ہوۓ دیوار کے پاس آۓ ۔ دوسری طرف ک منظر دیکھ وہ ایک لمحے کو سن ہی رہ گۓ۔
وہ بہت گہرا پانی تھا۔ اور وہ کافی اونچاٸ پے تھے۔
تیرنا آتا ہے۔۔۔؟؟ آہان نے اسکی جانب دیکھتے استفسار کیا۔
میں نے اپنی ٹریننگ میں سب سیکھا ہے۔ لیکن۔۔۔؟؟
ابھی اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے۔ کہ زمین ایک د ھ م اک ے سے پھٹنتی شعلوں میں پھیل گٸ۔ آہان نے پیچھے آگ کے شعلے آتے دیکھے تو ایک سیکنڈ کی بھی دیر ی کیے بنا ہانیہ کا ہاتھ تھامے کود گیا ۔
اس گھنے جنگل میں ہانیہ کی چینخ پھلتی چلی گٸ ۔
پانی کی لہروں میں شدید ارتعاش پیدا ہوا ۔ اور وہ دونوں پانی کے لہروں کے ساتھ بہتے چلے گٸے۔











میر۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔؟؟؟ میرا ۔۔نہیں۔۔۔۔وہ بمشکل بولی۔۔۔
جانتا ہوں۔۔ اس لیے پوچھ رہاہوں۔۔ آنیہ۔۔ میجھے وہ بتاٸی جو میں نہیں جانتا۔۔میر نے اپنے اشتعال پے قابو پاتے کہا۔
آنیہ کے آنسو بہہ نکلے۔ لیکن آج سامنے کوٸ اورہی میر کھڑا تھا۔ جسے اسکے آنسو بھی تکلیف نہیں دے رہے تھے۔
آنیہ۔۔۔ اب صرف سچ۔۔۔؟؟ورنہ میں بھولجاٶں گا۔ہمارے بیچ کے رشتے کو۔۔۔۔! میر ہادی کے اتنے سختی سے کہنے پے وہ بری طرح سہم گٸ۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔ایک سال۔۔پہلے۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ ملا تھا۔۔۔! آنیہ نے کہنا شروع کیا۔
اس دن یونی سے گھر جاتے مجھے دیری ہو گٸ تھی۔ ڈراٸیور انکل بھی لیٹ آۓ۔ واپسی پے راستہ میں ۔۔گاڑی رک گٸ۔ ڈراٸیور انکل نے گاڑی چیک کی۔کافی وقت گزر گیا وہ واپس نہیں آۓ تو میں بھی نیچے اترتی۔۔۔ ان کے پاس جا کھڑی ہوٸ۔
رات گہری ہورہی تھی۔اور مجھے ڈر لگنےلگا تھا۔
وہ ڈر میر ابھی بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
انکل۔۔۔؟کیا ہوا۔۔؟؟ ان کے پاس کھڑے آنیہ نے فکر سے پوچھا۔
بیٹا۔۔ کچھ پتہ نہیں۔۔کیو ں بند ہو گٸ ہے۔۔؟آپ باہر کیوں آٸیں۔۔؟؟ چلیں اندر چل کے بیٹھیں۔
انکل آپ ڈیڈ کو کال کریں۔وہ کچھ نہ کچھ کر دیں گے۔ بلکہ ایک منٹ میں کرتی ہوں کا۔
آنیہ کہتے واپس پلٹی۔
بیٹا۔۔۔ میں کر رہا ہوں۔۔ آپ جا کے گاڑی میں بیٹھیں۔
ڈراٸیور انکل پیار سے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی گاڑی کا روازہ کھولے اندر بیٹھ گٸ۔ لیکن اگل ہی پل اسے وں لگا جیسے کوٸ تیز پرفیوم کی خشبو اسکے نتھنوں سے ٹکراٸ ہو۔ وہ کوٸ لیڈی پرفیوم تھا۔
جسکی خوشبو بہت ہوش اڑا دینے والی تھی۔
آنیہ نے حیرانی سے اردگرد دیکھا۔ لیکن گھنے درختوں اور جھاڑیوں کے کچھ نہ تھا ۔ ایک پل کو آنیہ کا دل سہم گیا۔ ا نے دونوں طرف لاک لگایا۔ اور دبک کر بیٹھ گٸ۔
اتنے میں ڈراٸیور انکل نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ اور ڈراٸیونگ سیٹ پے آ بیٹھے اور گاڑی اسٹارٹ کی جو دو تنی بار اسٹارٹ کرنے پے اسٹارٹ ہو گٸ۔
اور چل پڑی۔ آنیہ نے دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑھا۔
اکا جی چاہا کہ پلٹ کے دیکھے ۔ کہ پیچھے کون تھا۔ ابھی وہ پلٹی تھی کہ۔۔
بیٹا۔۔! اتنا تیز پرفیوم مت لگایا کریں۔ اچھا نہیں ہوتا۔
وہ بوڑھے ڈراٸیور انکل اچانک سے بولے تو آنیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگٸے۔ اور پیچھے مڑ کے دیکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
گاڑی پیر زادہ منشن میں داخل ہوٸ تو وہ گہرا سانس خارج کرتی چیزین اٹھاتے اٹھنے لگی کی موباٸل ہاتھ سے نیچے گرا۔ ہاتھ نیچے کرتے وہ موباٸل اٹھانے لگی۔ کہ اسکے ہاتھ سے کوٸ چیز ٹکراٸ۔آنیہ نے وہ اٹھاٸ۔
وہ کوٸ پیڈنٹ تھا۔ بہت خوبصورت پینڈینٹ۔
یہ کس کا ہے۔۔۔؟ اور ۔۔میری گاڑی میں۔۔۔؟؟
آنیہ پریشان ہوٸ ۔
لیکن فی الحال اسے اپنے سامان میں رکھتی وہ اندر آگٸ۔ روم۔ میں آتے اسے اچھی طرح چیک کیا ۔وہ انتہاٸ نفیس کام والا پینڈٹ تھا۔ جو انتہاٸ مہنگا تھا۔ لیکن گاڑ ی میں کہاں سے آیا۔۔۔۔؟ وہ سخت پریشان ہوٸ۔ اپنی کبرڈمیں اسے رکھا۔ اور شاور لیتی بھی وہ اسی کے بارے میں سوچتی رہ گٸ۔
لیکن کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔
اگلے ن سے ٹریننگ اسٹارٹ تھی۔ اور وہ سر جھٹک کے اپنی تیاری میں بزی ہوگٸ۔ اور پھر ایسا بھولی کہ پلٹکے اس باکس کو کبھی کھولنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ خود ہی بھول گٸ ورنہ ہانیہ سے ضرور ڈسکس کرتی۔











ساری بات بتا کے آنسوٶں سے تر چہرہ اوپر اٹھاتے وہ اس اجنبی شخص کو دیکھنے لگی۔
ہاں آج وہ اجنبی ہی لگ رہا تھا۔
