Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat (Episode 16)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔۔؟؟ میں یہ سب کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔۔؟؟؟ وہاج ہانیہ کی بات سنتا بہت پریشان ہوا تھا۔ وہ اسے جو کرنے کے لیے کہہ رہی تھی۔

اس میں اسے صرف اپنے لیے جوتے پڑتے ہی نظر آرہے تھے۔

کچھ نہیں ہوتا۔ بس تمہیں جیسا کہا ہے ویسا کرتے جاٶ۔۔ ویسے بھی تمہیں پیسوں کی ضرورت ہے۔ اور تمہیں میں پیسے دے رہی ہوں۔۔۔ تو اتنے زیافہ پیسوں پے تمہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔

ہانیہ نے اسے لالچ دیا۔ وہ چپ سا ہوگیا۔ اسے واقعی پیسوں کی ضرورت تھی۔ اس نے قرضہ لیا ہوا تھا۔ جو اتارنا تھا۔اور وہ شخص اسے اچھا خاصا تنگ کر رہا تھا۔

لیکن اگر۔۔۔ کسی کو سچاٸ پتہ چل گٸ تو۔۔۔؟؟ وہاج کی نیم رضامندی دیکھتے ہانیہ کے چہرے پے مسکراہٹ ابھری۔

ایکٹنگ کرنا ۔۔۔ اوور ایکٹنگ مت کرنا۔۔ کبھی نہیں پکڑےجاٸیں گے۔ ہانہ نے اسے ایک آنکھ ونک کی۔

اور۔۔۔ اگر۔۔۔ تمہارے ڈیڈ نے مجھے پکڑ کے وہیں بیٹھا کے میرا تم سے نکاح کروا دیا تو۔۔۔؟؟ دیبہ ک کیا ہوگا۔۔۔؟ وہ مجھے جان سے مار ڈالے گی۔

وہاج اپنی منگیتر کے زکر پے تھوڑا پریشان ہوا۔

کچھ نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے ہی میں معاملہ نپٹا لوں گی۔ بس کبیر کا پتہ صاف کرنا ہے۔ اس کا پتہ صاف ہوتے ہی تمہارا پتہ۔۔۔ آٸ مین۔۔ اس معاملے سے تمہیں نکال لوں گی۔

کولڈڈرنک کا لاسٹ سپ لیتے وہ اٹھی تھی۔

یاد رہے ۔۔ آج چار بجے۔۔۔ مما کے آفس میں۔۔! تیار رہنا۔

اور پلیز بی کونفیڈینٹ۔۔۔ ! بس جیسا سمجھایا ہے۔و ہی کرنا۔۔ باقی میں سب سنبھال لوں گی۔

کہتے ہوۓ وہ نکلتی چلی گٸ۔ جبکہ پاس ہی ایک ٹبل پے کیپ منہ کے آگے کیے۔ انکی ساری باتیں سنیں تھیںس اور زیرِ لب مسکرایا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

dr aniya. Come fast. Its an emergency….

آنیہ جو وارڈ میں سب کا روٹین چیک اپ کر رہی تھی۔ نرس کے بلانے پے بری طرح چونکتی۔ وہ مڑی تھی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ آنیہ کا دل دھڑکا۔

میم۔۔! وہ ایک لیڈی کو بہت پین ہو رہا ہے پلیز جلدی چلیں۔ اس نے شور مچایا ہوا ہے۔ وہ نرس پریشان ہوتی بولی تھی۔

آنیہ نے فوراً سے بیشتر وہاں جانا مناسب سمجھا۔

تم لوگ۔۔۔آخر۔۔۔ کر کیا رہے ہو۔۔۔؟؟ میری بیوی اور بچے کی جان کیوں نہں بچا رہے۔۔۔؟؟ آپریشن کیوں نہیں کر رہے۔۔؟؟ ایک شخص اونچی اونچی آواز میں چلا رہا تھا۔

آنیہ نے اسکی پرواہ نہ کرتے ہوۓ مریض کو چیک کیا۔

انکا بی پی ہاٸ ہو رہا ہے۔ انہیں اوٹی میں لے چلیں۔ فوراً۔ آنیہ نے چلاتے ہوۓ کہا۔ جبکہ وہ لڑکی وٸ بیس سال کے لگ بھگ تھی۔ درد سےدہرٸ ہوٸ جا رہی تھی۔

کیا کیا ہوا۔۔۔؟؟ سارہ۔۔۔میری جان۔۔۔ تم۔۔۔ ٹھیک ہوجاٶ گی۔۔۔! کچھ نہیںسہونے دوں گا۔۔ ہمارے بیٹے کو۔۔۔! وہ سٹریچر پے لیٹی درد سے تڑپتی اپنی بیوی سے دیوانہ وار مخاطب تھا۔

پلیز۔۔۔! انہں لے جانے دیں۔ آنیہ نے اس شخص کو سخت انداز میں کہا۔ جبکہ خود ڈاکٹر عاٸلہ کو کال کرنے لگی۔ جو کال ہی پک نہیں کر رہی تھیں۔

کال کرتےہوۓ وہ ریسپشن پے آٸ۔

اسو قت ہاسپٹل میں کوٸ سینٸر ڈاکٹر ایولیوبل نہیں۔۔۔ موسٹلی کانفرنس اٹینڈ کرنے گٸے تھے۔ جن میں لیڈی ڈکٹرز بھی تھیں۔ اور میل ڈاکٹرز بھی ۔۔ ارتسام کو کال ملاٸ لیکن وہاں بھی سگنل کا ایشو تھا۔

آنیہ۔۔ بیٹا۔۔۔! آپ کی آواز کلیٸر نہیں آرہی۔ ۔۔۔ میں کانفرنس سے فری ہوتے ہی آپ کو کال کرتا ہوں۔ ارتسام بات ختم کرتا ساتھ ہی کال بند کر گیا۔

اوہ خدایا۔۔۔ !اب کیا کروں۔۔؟ وہ لڑکی۔۔۔؟؟ آنیہ پریشان ہوگٸ۔

ناظرین آپ کو بتاتے چلیں۔۔۔ ڈاکٹرز کا احتجاج زور پکڑ رہا ہے۔ اگر انکے مطالبات پورے نہ کیے گۓ۔ تو وہ ملک گیر احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ناظرین۔۔ ابی کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے ساتھ حاضر ہیں۔ ۔۔۔۔۔ جگہ پے۔۔ ڈاکٹرز کی توڑ پھوڑ۔۔ گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔۔۔ مریض تڑپ رہے ہیں۔ لیکن۔۔ زندگی دینے والے مسیحا ہی اب زندگی چھیننے لگے ہیں۔ فوٹیج میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ نجی و سرکاری ہاسپٹلز کے تمام ڈاکٹرز اس ملک گیر احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ کلینک ہو یا ہاسپٹل۔۔۔ ی تو وہ بند کر وا رہے ہیں۔۔ یا وہاں تو توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر پلیز چلیں۔۔۔ وہ بہت شور مچا رہے ہیں۔

نرس پھر سے بھاگتی ہوٸ آٸ تھی۔ آنیہ جو ایل ای ڈی پے خبریں سنتی پریشان ہو رہی تھی۔ نرس کے پکارنے پے چونکی تھی۔

ہاں۔۔ ٹھیک ہے۔ چلو۔۔۔میں آرہی ہوں۔ آنیہ نے لمحے کے ہزارویں حصہ میں فیصلہ کیا۔

کیا آپ۔۔۔؟؟ آپ کریں گیں۔۔؟؟؟ نرس حیران ہوٸ۔

شزا۔۔۔! جب۔۔ ڈاکٹر مسیحاٸ چھوڑ کے گیوں بازاروں میں لٹیرے بنے پھرنے لگیں تو کسی کو تویہ بیڑا اٹھانا ہے ناں۔۔۔؟ ورنہ انسانیت مر ہی جاۓ گی۔

آنیہ کی بات پے نرس شا مسکراٸ تھی۔ اسے اپنی اس جونٸیر ڈاکٹر سے آج سچ میں عقیدت ہوگٸ تھی۔

دیکھو ڈاکٹر۔۔۔! میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔میں بتا رہا ہوں۔۔ورنہ چھوڑوں گا نہیں کسی کو۔۔۔! وہ شخص بدمعاشی انداز میں بولا۔

اپنی آواز دھیمی رکھو۔ہ گھر نہیں تمہارا۔۔۔ہاسپٹل ہے۔ اور اللہ سے دعا کرو۔ کہ وہ دونوں ماں اور بچے ک زندگی دے۔آنیہ اسے سخت سناتی اندر آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھ گٸ۔

کیس تو نارمل تھا۔ لیکن بروقت طبی امداد نہ ملن١ے پے کافی خراب حالت ہوگٸ تھی۔ ڈریپ سیٹ کرتی وہ باہر آٸ۔ اورنرس کو کچھ ہدایات کرتی آگے بڑھی۔ اب وہ پھر سے کال ٹراٸ کر رہی تھی۔ شکر تھا کہ ابھی انکا علااقہ اس جھگڑے فسعاد سے بچا ہوا تھا۔ لیکن کب تک۔۔؟

ابھی وہ کال کرنے کا سوچ رہی تھی کہ ارتسام کا میسج آیا۔

آنیہ حالات یہاں بہت نازک ہوچکے ہیں۔ کوٸ بھی بات سننے کو تیار نہیں۔۔۔ اچھے خاصے جھگڑے شروع ہو چکے ہیں۔ آپ جتنی جلدی ہوسکے گھر چلی جاٸیں۔ اور ہاسپٹل میں تمام مریضلوں کبھی ڈسچارج کر دیں۔ کوٸ پتہ نہیں وہاں بھی کسی وقت بھی حالات خراب ہوسکتےہیں۔

بیٹا۔۔۔! میر ہادی کو فون کر کے کہیں۔ کہ وہ آکے آپ وک لے جاٸیں۔ ہاسپٹل مت رکیے گا۔ ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔؟؟

چاچو۔۔۔؟؟

آنیہ انکی بات پے سخت پریشان ہوٸ تھی۔ و

دوری طرف وہ ضڑکی درد سے تڑپ رہی تھی۔ اور ادھر۔۔ اسے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی ہدایات مل رہی تھیں۔

اور پھر فیصلہ ہو گیا۔ آنیہ نے اس لڑکی اور بچے وو ہوا ہانیہ کے لیے دیوانہ ہو رہا تھا۔ وہ ان چھوٸ چھوٹی سی اور تیکھی سی لڑکی اسے ل و جان سے بھاٸ تھی۔ اور وہ اسے ہر صورت میں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جس دن سے وہ انک کے گھر سے لوٹا تھا۔ اسکا دل بے چین تھا۔ اسکی چھٹی حس بتا رہی تھی۔ کہ وہ لڑکی انکار کر دے گی۔ اور وہ ہر صورت اسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔ چاہے طریقہ کچھ بھی ہو۔ یہی سوچتے اس نے اپنے اعتبای آدمی کو کال کی۔ اور ہانیہ کو کڈنیپ کروانے کا پلان ترتیب دیا۔ اس صورت میں وہ اسے حاصل کر سکتا تھا ۔ پلان ترتیب دیتا وہ ایک آسودہ مسکراہٹ کے ساتھ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا گیا۔

یو آر اونلی ماٸن۔۔۔۔! سگریٹ سلگاتا وہ بہت کچھ سوچ چکا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ابتسام۔۔۔ آپ دیکھ لیں۔ اس لڑکی کو اپنے گھر رکھ کے آپ نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ مجھے صحیح نہیں لگ رہا۔۔۔وہ لڑکی۔۔۔ تمہاری کمزوریاں جاننے آٸ ہے۔ اور تم نے اسے اپنے گھر کا راستہ بتا دیا۔۔؟؟

کرنل اچھے خاصے ناراض تھے۔

سر۔۔۔! ٹرسٹ می۔۔۔ وہ کچھ نہیں کر پاۓ گی۔ جب دشمن سامنے ہو تو اسکی ہر چال پے نظر ہوتی ہے۔ مجھ پے بھروسہ رکھیں ۔ وہ لڑکی ہی سلطان تک پہنچنے کا زریعہ بنے گی۔ ابتسام نے یقین سے کہا ۔

تم بھول رہے ہو ابتسام۔۔۔۔۔آہان الریڈی شکار بن چکا ہے اسکا۔ اورایسے میں وہ لڑکی اسی کڑی کا حصہ ہے۔ وہ آہان کے پیچھے تعاقب میں آٸ ہے۔ اور وہ ۔۔۔؟؟؟١

سر۔۔۔ ہمیں صرف نور فاطمہ تک پہنچنا ہے۔ وہ اب بھی انکی قید میں ہے۔ اور جب تک وہ ہمیں مل نہیں جاتی ۔ ہم اسے کوٸ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اب انتظار ہے تو صرف دو تاریخ کا۔۔ اسکے بعد اس لڑکی کا چپٹر بھی کلوز۔

ابتسام نے انکی بات کاٹتے اپنا لاٸحہ عمل ان سے شٸیر کیا۔

میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔ کہ وہ بچی جلد از جلد بازیاب ہوجاۓ۔اور یہ لڑکی بہروپیا۔۔ اپنے انجام کو پہنچے۔ اوراسکا باپ۔۔۔وہ سلطان وہ بھی اپنے انجام کو پنچے ۔ جس نے اپنی بیٹی کو استعمال کرتے ہوۓ تم تک پہنچنا چاہا۔ اور تمہارے زریعے وہ آہان کی پہچان تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اور اگر وہ اس تک پہنچ گٸے تو تم جانتے ہو۔۔۔کتنے راز کھل جاٸیں گے۔۔۔ جو نہیں کھلنے چاہیں۔

فکر نہ کریں سر۔۔۔!وہ میرا بیٹا۔۔ ہے۔۔ ابیہان ابتسام خان ۔ اور اسکے لیے میں اپنی آخری سر توڑ کوشش کروں گا۔۔۔! اور اسکی پہچان تک میرے گھر والے نہیں پہنچ سکے تو ۔۔ کوٸ اور کیسے پہنچ سکے گا۔۔؟؟

لیکن جب وراثت کا بٹوارا ہوگا تب۔۔۔؟؟تب یہ راز کھل جاۓ گا۔۔ ابتسام ۔۔ کیونکہ وراثت میں۔ ۔۔ لے پالک بچے کا کوٸ حق نہیں ہوتا۔۔۔

ایک لمحے کو ابتسام چپ ہی ہوگیا۔۔۔ واقعی۔۔ اس وقت پے تو واقعی یہ راز کھل جانا تھا۔ اور ایک طوفان آنا !

جاٸیداد کیا چیز ہے۔۔۔ ! میں اپنی جاٸیداد کا وارث صرف اور صرف آہان کو بناٶں گا۔ اور اسکے لیے صرف اتنا کرنا ہے۔۔۔ مجھے۔۔۔ ؟؟

کہتےہوٸے ابتسام کا دل دکھا تھا۔

میں ہینڈل کر لوں گا۔ ابتسام زیرلب مسکرایا ۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کام سب سے مشکل ہے۔

آل دا بیسٹ۔۔۔! مجھے پورا یقین ہے۔ تم کامیاب ہوگے۔۔۔ ! اس ملک کو بچانے میں بھی اور رشتوں کو بھی۔

کرنل نے اسے مسکراتے کہا۔ جبکہ ابتسام نے دل میں آمین کہا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ہمممم۔۔۔ تو آپ کا اس دنیا میں کوٸ نہیں۔۔۔؟؟

ابرش وہاج سے سارا انٹرویو لے چکی تھی۔ اسے وہاج بہت زیادہ اچھا نہں لگا تھا تو برا بھی نہیں لگا تھا۔ انکی بیٹی کی پسند تھا۔

اور کبیر کی بانسبت انہیں زیادہ اچھا لگا تھا۔

تو مما میں اوکے سمجھوں۔۔۔؟ وہ جو کتنی دیر سے چپ بیٹھی سارا انٹرویو سن رہی تھی۔ بالآخر بول پڑی۔

ہمممم۔۔۔ کل تک بتاٶں گی۔ آپ کے ڈیڈ سے بات کر کے ہی ۔۔۔۔! ابرش نے سنجیدہ انداز میں کہا تو ہانیہ نے سکون کا سانس لیا اور وہاج کو اشارہ کیا۔

وہاجازت لیتا وہاں سے اٹھ گیا ۔

مما۔۔۔! آپ ڈیڈ سے کریں گیں ناں۔۔ بات۔۔۔؟؟؟ بہت منت بھرے لہجےمیں پوچھا تھا۔

ہمممم۔۔۔! لڑکا اچھا ہے۔ سوچ بھی اچھی ہے۔۔ کروں گی بات۔ ابرش نے اسے امد دلاٸ اور وہ خوشی سے باہر نکل آٸ۔

جہاں وہاج اسی کا انتظار کر رہا تھا۔

تم۔پھساٶ گی مجھے۔۔۔! وہ دھیرے لیکن سخت انداز میں بولا۔

چپ رہو۔۔۔ دیواروں کےبھی کان ہوتے ہیں۔ چلو یہاں سے۔۔ اسکا بازو تھاا اور باہر نکلی ۔

یہ پکڑو۔ اور نکلو۔۔۔۔! اسے چپکے سے پیسے دیتی وہ اسے جانے کا بولتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گٸ۔ جہاں کوٸ اسکی تاک لگاۓ پہلے سے موجود تھا۔ وہاج منہ بناتا اپنے رستے ہولیا ۔

جبکہ آدھے راستے میں ہی ہانیہ کی گاڑی خراب ہوگٸ۔

باہر نکل کے گاڑی کو چیک کیا۔ لیکن اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ آخر مسٸلہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟

کہ تبھی کسی نے پیچھے سے اسکے سر پے وار کیا ۔ جس کی وجہوہ وہیں بے ہوش ہوگٸ۔ پچھے سے ہی اس مارنے والے نے اسے تھاما۔ اور اپنی گاڑی کیجانب لے کے بڑھا۔ اور پلک جھپکنےمیں وہ وہاں سے ہانیہ کو لیے غاٸب ہوا تھا۔ لیکن کوٸ تھا جو اسکے تعاقب میں تھا۔ ہر پل ہر لمحہ۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ڈیڑھ گھنٹے کے مشکل ترین آپریشن میں بلآخر کامیاب ہو گٸ تھی۔ بچے کی روتی آواز کانوں میں پڑی اور اس ننھی جان کو ہاتھوں میں اٹھایا تو آنیہ کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔

مبارک ہو میم۔۔۔! آپ کامیاب ہوگٸیں۔

نرس نے پاس آتے کہا۔ تو آنیہ کے فرط جذبات سے آنسو نہ رکے۔ بچہ نرس کو تھمایا۔ اور اپنا باقی کا کام مکمل۔کرنے لگی۔

کیسا ے میرا بچہ۔۔۔؟؟؟ وہ شخص بھاگتا ہوا باہر نکلتی آنیہ تک پہنچا تھا۔

ڈونٹ وری ماں اور بچہ دونوں ٹھیک ہیں۔

ڈاکٹر جلدی چلیں۔۔۔ مسٸلہ ہوگیا ہے۔

ابھی آنیہ کے الفاظ منہ میں تھے کہ نرس بھاگتی ہوٸ آٸ۔ ۔اسکے چہرے پے واضح گھبراہٹ تھی۔

آنیہ واپس اندر کی جانب بھاگی۔ لیکن۔۔۔ شاید بہت دیر ہوگٸ تھی۔ ۔۔ وہ لڑکی بچ نہیں پاٸ تھی۔۔۔۔ کچھ لمحے پہلے وہ اسے ٹھیک چھوڑ کے گٸ تھی۔ اور اب وہ۔۔موت کے منہ میں جا چکی تھی

آنیہ تو سن ہی ہوگٸ تھی۔ اسے یقین نہ آیا۔ کہ تبھی ڈاکٹر بچہ اٹھاۓ اسکیجانب بڑھی ۔ وہ رو رہی تھی۔ آنیہ نے پتھراٸ نظروں سے اسے دیکھا۔ نرس نے روتے ہوۓ اسکی طرف دیکھتے نفی میں سر ہلایا ۔

آنیہ کینظریں اس بچے پے گٸیں۔ ابھی تو وہ بچہ رو رہا تھا۔ اسکی سانس چل رہی تھی۔ وہ زندگی سے بھرپور تھا۔ اور یوں اچانک۔۔۔ دونوں کا مر جانا۔۔۔؟ اچانک سے ۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟

وہ بے آواز روۓ جا رہی تھی۔

باہر سے شور کی آواز پے آنیہ ہوش میں آٸ۔ باہر ہی کی جانب رخ کیا۔ جہاں باہر نکلتے اسکے رونگٹے کھڑے ہوگۓ تھے۔

گرفتار کر لیں اسے۔۔ انسکپٹر صاحب۔۔۔ اسی نے مارا ہے میرے بچے کو۔۔۔ اور میری بیوی کو۔۔۔ ! وہ شخص رورو کے دہاٸیاں دے رہا تھا۔ اور آنیہ بس ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ کہ ایک لیڈی کانسٹیبل نے اسے حراست میں لیا ۔ اور اپنے ساتھ کھینچتی چلی گٸ۔ جبکہ آنسو متواتر بہتے چلے جا رہے تھے۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ہر سوچ یہیں آکے ختم ہو رہی تھی۔ کہ وہ ایک قاتل ہے؟ وہ ایک قاتل کیسے ہو سکتی ہے۔۔؟ جبکہ اسکا کوٸ قصور نہیں۔۔۔؟ اسکا کوٸ بھی یقین نہیں کر رہا تھا۔

بھانت بھانت کی آوازوں نے جیسے اسکا حوصلہ توڑ دیا تھا۔

جیل کی چار دیواری کے اندر بیٹھی وہ خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

یہ ڈاکٹر نہیں۔۔ یہ قصاٸ ہے۔ ایسے ڈاکٹرز ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟ ماں اور بچے دونوں کی جان لے لی۔۔۔

ارے جب آپ کو آپرشن کرنا نہیں آتا تو آپریشن کیا کیوں؟؟

ماں کی جان بھی چلی گٸ اور بچے کی بھی۔

ایسے لوگوں کو تو جینے کا بھی حق نہیں ہونا چاہیے۔ مر جانا چاہیے۔۔۔ ایسے قصاٸیوں کو سیدھی پھانسی ہونی چاہیے۔۔

کوٸ انکو پوچھنے والا نہیں۔۔۔ جعلی ڈگریوں پے یہ ڈاکٹر بنتے ہیں۔۔ اور غلط آپریشن کرکے لوگو ں کی جان لے لیتے ہیں۔ ۔۔۔

اس نے اپنے کانوں پے ہاتھ رکھ کے ان آوازوں کو خود سے دور کرنا چاہا لیکن۔۔ وہ آوازیں اب بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں تھیں۔

آنکھوں میں کب آنسو بہہ نکلے ۔ اسے نہیں معلوم۔

اے ۔۔۔میڈم۔۔۔! چلو۔۔۔ ملاقات آٸ ہے۔

اچانک سے لیڈی کانسٹیبل نے آکے جیل کا دروازہ کھولا۔ اور اسے باہر آنے کو کہا۔

جبکہ آنیہ ابھی بھی ان آوازوں کے زیر اثر تھی۔

اے سنا نہیں۔۔؟ اٹھو۔۔۔! وہ کرخت لہجے میں بولی۔ جبکہ آنیہ اب کافی حر تک خود کو سنبھال چکی تھی

ملاقات۔۔۔ ؟جیل سے باہر نہیں ہوتی۔۔۔! جسے ملنا ہے۔ یہیں آکے ملے۔

آنیہ نے اپنے حواس قاٸم رکھتے اسے سخت انداز میں جواب دیا۔

اے۔۔ ہمیں نہ سیکھا۔۔۔جتنا کہا ہے۔ وہ کر۔۔ ! اس نے ڈنڈا جیل کی سلاخوں پہ زور سے مارا۔ آنیہ نے لب بھینچے۔

وہ غلطی پہ غلطی نہیں کر سکتی تھی۔

مجھےنہیں جانا۔ مضبوط لہجے میں کہتی وہ اسکے سامنے ڈٹ گٸ۔

تیری تو۔۔۔۔!وہ آگے بڑھی۔ کہ ۔۔

کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ تم یہاں۔۔؟؟ ایک اور لیڈی کانسٹبل وہاں پہنچتی اسے روک چکی تھی۔ اور ساتھ ہی اپنے پیچھےکھڑے شخص کی جانب اشارہ کرتے اسے وہاں سے چلنےکا اشارہ کیا۔ تو وہ بھی سمجھتی ہوٸ وہاں سے نکل گٸ۔

سامنے کھڑے شخص کو دیکھ آنیہ بے اختیار اپنی جگہ سے کھڑی ہوٸ۔ اتنی دیر سے ضبط کیے آنسو آخر کار بہہ نکلے۔

آگے بڑھتے اس شخص کے قریب پہنچی۔ بے آواز آنسوٶں کو میر ہادی نے اپنی انگلی کی پوروں سے اسکے گالوں سے اٹھالیا ۔ نظر سامنے کھڑی لڑکی پے ڈالی۔ تو ایک بار پھر اپناہا تھ اپنے دل کے مقام پے گیا۔

جو اب بھی اسے دیکھ اپنی جگہ پے دھڑکے ۔ اور وہ اپنے دل کے آگے خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔

میں نے۔۔۔۔۔ کچھ۔۔۔نہیں ۔۔؟؟؟ اپنی صفاٸ میں آنیہ نے کہنا چاہا۔ لیکن آنسوٶں کا بڑا گولہ حلق میں پھس گیا۔

جانتا ہوں۔۔! دو لفظی جواب پے آنیہ نے اسکی طرف سر اٹھا کے دیکھا۔

میر ہادی نے اسکا ہاتھ تھاما۔

آنیہ کو لگا۔ جیسے وہ ایک مضبوط ساٸبان میں آگٸ ہو۔

میر ہادی نے اسکا ہاتھ تھامے بنا کسی کی پرواہ کیے اسے لیے جیل سے باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

جبکہ آنیہ تو اسکی اتنی دیدہ دلیری پے آنکھیں پھیلاۓ اسے دیکھتی ہی رہ گٸ۔

وہ اسے لیے پولیس اسٹیشن سے باہر نکلتا چلا گیا۔

اور گاڑی میں بٹھاتا ۔ گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔

وہاں موجود سبھی نے ان دونوں کو جاتے دیکھا تھا۔ لیکن کسی میں اتنی جرات نہ ہوٸ کہ کوٸ روک پاتا۔ یہی بات آنیہ کو سمجھ نہ آٸ۔ کہ ایسا کیوں ہوا۔۔۔؟؟

جبکہ اس پے تو پولیس پرچہ بھی کاٹ چکی تھی ۔ مما وکیل ہوتے کچھ بھی کچھ نہ کر پاٸیں۔ تو ۔۔۔؟؟ میر ہادی نے کیسے کر لیا سب؟

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *