Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 18)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 18)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
نجانے کیوں۔۔؟؟ مجھے ایسا لگتا ہے۔۔ کہ یہ۔۔ ابیہان کی بہن نہیں۔۔۔! کوٸ نہ کوٸ تعلق ہے ان میں جو۔۔۔ بہن بھاٸ کا نہیں لگتا ۔۔۔ پھر کیا تعلق ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ پتہ لگانا ہوگا۔۔۔؟؟
نور فاطمہ سوچتی نیچے کی طرف گٸ جہاں ہانیہ کا روم تھا۔ اسکے روم کے دروازےکے باہر کھڑی وہ ناک کرتی اردگرد بھی دیکھ رہی تھی۔
کہ تھی دروازہ کھلا ۔ سامنے ہی ہانیہ کھذی اسے سخت تیور لیے دیکھ رہی تھی ۔
مجھے۔۔۔ آپ سے بات کرنی ہے کچھ۔ نور فاطمہ نے تمہید باندھی۔
بولو۔۔۔۔؟؟؟ لٹھ مارنے والے انداز میں کہا۔
آپ ۔۔ اور۔۔۔ ابیہان کے بیچ ۔۔۔؟ کیا تعلق ہے۔۔۔؟؟ ڈاٸریکٹ سوال کرے پے ہانہ کے ماتھے پے بل پڑے۔
تمہیں اس سے مطلب۔۔۔؟؟ تیز لہجے میں پوچھا۔
مطلب ہے تو پوچھا ہے۔۔ناں۔۔۔؟؟؟ سننے میں یہی آیا ہے۔ کہ وہ آپ کا بھاٸ ہے۔ لیکن۔۔۔ آپ دونوں کی بہچ کی نزدیکیاں دیکھ کے نہیں لگتا۔ کہ ۔۔۔آپ دونوں بہن بھاٸ ہیں۔۔۔۔؟؟؟ نور فاطمہ بھی فارم میں آتے بولی تھی۔
اچھا۔۔۔؟؟؟ اتنا پتہ کروالیا۔ ۔۔ تو یہ بھی پتہ کروالو۔۔کیا رشتہ ہے۔۔۔ ؟ ہانیہ چیلنج والے انداز میں بولی۔ تو نور تپ ہی گٸ۔
دیکھو تم۔۔۔؟؟؟نگلی اٹھاٸ۔
کیا۔۔۔؟ تم۔۔۔؟؟ مجے دھمکی دینے کی بھول بھول کے بھی مت کرنا تم۔۔۔! میرے گھر میں کھڑی ہو کے مجے دھمکی دو گی تو دو منٹ لگواٶں گی۔ اس گھر سے باہر نکالنے میں۔ بات کاٹتی وہ اسکے منہ پے پھٹنے والے انداز میں بولی تھی۔
ہوں۔۔۔۔۔ تم۔۔۔؟؟ بیوی ہوں۔ میں ابیہان کی۔۔۔!بہو ۔۔ اس گھرکی۔۔۔! تمہاری جرات نہیں کہ مجھے ہاتھ بھی لگا سکو۔
نور فاطمہ بھی اپنے اصل میں لوٹی۔
اسی لمحے ہانیہ نے نور کو دھکا دیا۔تو وہ لڑکھڑاٸ۔اور حیرانی سے ہانیہ کو دیکھا۔
یہ گھر تم جہیز میں نہیں لاٸ۔ میرے باپ کا گھر ہے یہ۔ سمجھی۔ ا دفعہ ہو جاٶ یہاں سے۔
غصہ سے کہتے نور کے منہ پے زور سے دروازہ بند کیا کہ وہ سہم کے پیچھے ہٹی۔
دماغ میں آندھی طوفان چلنے لگےتھے۔
وہ واپس اوپر اپنے کمرے کی طرف آٸ۔
ناممکن۔۔! ناممکن۔۔۔ ہے ابیہان۔ تمسے دستبرداری۔۔۔ ! میں یہاں ۔۔ ایک خاص مقصد سے آٸ ہوں۔۔ لیکن۔۔۔۔ تم۔۔۔ میرے حواسوں پے چھا گۓ ہو۔۔ بہت بری طرح۔۔۔ ! وہ جھنجھلاٸ تھی۔
تم میرے ہو۔۔۔ صرف میرے۔۔۔ کسی اور کے نہیں ہو سکتے تم۔۔۔۔! اور ۔۔۔آج رات۔۔۔ میں تمہیں۔۔ حاصل کر لوں گی۔
دل ہی دل میں پلان بناتی وہ مسرور ہوٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
بیٹا۔۔۔؟ ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟ ہمیں بھی کچھ بتاٶ۔۔۔؟؟
کبیر کے والد آہان کو یوں صوفے پے ٹانگ پے ٹانگ چڑھاۓ غصہ کی حلت میں بیٹھا دیکھ سمجھنے کی ناکام کوشش کر رہےتھے۔کہ آخر مسٸلہ کیا ہے؟ اور وہ کبیر کا انتظار کر رہا تھا۔
پہلے اس نے سوچا آفس جاۓ لیکن۔۔ پھر وہ اس کے گھر دندنا تا ہوا پہنچ گیا۔ تا کہ اسکے والدین کو بھی سکے کرتوتوں کا بتا سکے۔
آہان کچھ بولتا۔ کہ اتن میں کبیر سر جھکاٸے کسی ہارے ہوۓ جواری کی طرح وہاں پہنچا۔ سامنے آہان کو دیکھ ٹھٹھکا۔
آٸیے آٸیے۔۔۔ مسٹر کبیر۔۔۔ کب سے آپ کا ہی ویٹ ہو رہا تھا۔ آہان اپنی جگہ سے اٹھتا اسکے پاس آیا۔
مسٹر اینڈ مسز سلیمان حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
کہ تبھی آہان نے ایک زور کا مکا کبیر کے چہرے پے جڑا۔ تو وہ لڑکھڑایا۔ ماں باپ دونوں ہی تڑپ گٸے۔
کبیر کے منہ سے خون نکلا۔ پلٹ کے آہان کو دیکھا۔
تمہیں کیا لگا۔۔۔؟؟ تم۔۔ ہانیہ کو کڈنیپ کرواٶ گے تو ۔۔ ہم چپ بیٹھیں گے۔۔۔؟؟ ہم ے خبر رہیں گے۔۔؟ ہمیں۔۔ پتہ نہیں چلے گا۔۔۔؟ کہتے کہتے وہ دانت پیستا آگے بڑھتا اب کی بار کبیر کے گریبان تک پہنچا ۔ وہ خاموشی سے اسے تکے جا رہا تھا۔ جبکہ سچاٸ جان کے مسٹر اور مسز کبیر کے تو اوسان خطا ہو گۓ۔
کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔؟؟ بولو۔۔؟؟؟ جواب دو۔۔۔؟؟
اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔؟؟ آہان کے اندر کے دیوانے پن کو کبیر باآسانی محسوس کر رہا تھا۔
محبتت ہے وہ میری۔۔۔ مجھے انکار کیا تھا اس نے۔۔ اس لیے۔۔ اٹھوا لیا۔۔۔لیکن۔۔۔۔؟؟
لیکن ۔۔وہ اب ۔۔تمہارے پاس نہیں ہے۔ آہان نے اسکی بات کاٹتے سے پیچھے دھکا دیا۔
مطلب۔۔۔؟؟تم اسے۔۔۔۔؟؟ کبیر کو سخت جھٹکا لگا۔
تمہاری اتنیجرات کیسے ہوٸ کہ تم ہانیہ کے ساتھ یہ سب کرو۔۔۔؟ آہان نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔ تو مسٹر سلیم تڑپ کے آگے بڑھے۔
بیٹا۔۔۔۔! رک جاٶ۔۔۔ چھوڑ دو کبیر کو۔۔۔!معاف کردو۔ وہ منت بھرے لہجے میں بولے۔
آپ کے بیٹے نے جو کیا۔ وہ معافی کے لاٸق ہے۔۔۔؟ کسی لڑکی کی گھر رشتہ بھیجو۔۔۔ وہ انکار کردے۔ تو کیا اسے اٹھوا لو گے آپ۔۔۔؟؟ اب کی بار وہ اتنی زور سے دھاڑا۔ کہ درو دیوار ہل کے رہ گۓ۔
میں۔۔۔میں سمجھاٶں گا اسے۔۔۔! بیٹا۔۔۔! انکی آنکھیں نم ہو گٸیں۔
آہان نے ایک نظر کبیر کو دیکھا۔ جسکی آنکھوں میں صاف بغاوت تھی۔
آگے بڑھتے جارحانہ انداز میں اسکا گریبان پکڑا۔
ایک بات یاد رکھنا۔۔۔!یہ پہلی اور آخری غلطی تھی تمہار جو میس تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔
آج کے بعد۔۔۔ ہانیہ کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھا۔ ت دوبارہ کس قابل نہیں رہو گے۔۔۔زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا۔
کہتے زو سے پرے جھٹکا ۔ وہ گرتے گرتے بچا تھا۔
ایک۔۔۔ بہن۔۔۔ کے لیے یہ جنون۔۔۔؟؟ کچھ۔۔سمجھ نہیں آیا۔۔۔؟؟
آہان کے واپسی کے قدم کبیر کی بات پے تھمے۔ پلٹ کے کبیر کو دیکھا۔ جس کے چہرے پے ایک پراسرار مسکراہٹ تھی۔
ہانیہ کے پاس بھی مت بھٹکنا۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔؟؟؟ کتےکی م وت ماروں گا۔
بنا اسکی بات کا جواب دیتا اپنی کہے وہ جا چکا تھا۔
کبیر۔۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔؟؟ کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔۔؟؟
ماں نے تڑپ کے بیٹے کی حالت دیکھتٕ روتے ہوۓ کہا۔
کبیر نے کسی باتکا کوٸ جواب نہ دیا۔اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
یہ لڑکا۔۔۔کبھی نہیں سدھر سکتا۔۔۔
مسٹر سیلمان سر پکڑ کے بیٹھ گۓ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آخر کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟ ایسا۔۔۔؟؟ جو ۔۔۔ ہماری اولاد کو تکلیف پہنچاۓ۔۔۔؟
ابتسام اور ابرش جب سے میر ولا سے لوٹے تھے۔ چپ چپ تھے۔ انہں امجھ نہیں آرہی تھی۔ ان کی بیٹی کے ساتھ ایس کس نے کیا۔۔۔؟ کس نے آنیہ کو ٹارگٹ بنایا۔
ابتسام زیادہ پریشان تھا۔ اس وقت سلطان جیسے شخص کا کیس چل رہا تھا۔ جو پچھلے پچیس سالوں سے اپنی دہشت بٹھاۓ ہوۓ تھا۔ اوردو سال ہوگۓ تھے ابتسام کو اس کیس پے کام کرتے۔ بہت مشکل سے اسے یہ کیس ملا تھا۔ لیکن۔۔ ابھی تک وہ ابتسام کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔
اور اب جبکہ وہ اپنی منزل کے بہت قریب تھا۔ ایسے میں اسکی اولاد ۔۔۔؟ وہ اپنی اولاد کو اسکا شکار ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسی لیے آنیہ کی شادی جلدی کر دی۔ اور ہانیہ کا بھی وہ یہی چاہتے تھے۔ لیکن ہانیہ کے سب کارناموں کا انہیں پتہ تھا۔ اس لیے اس سے خاٸف رہتے تھے۔
آپ۔۔۔کو۔۔ کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ کون ہو سکتا ہے۔۔؟ ابرش نے اسکی جانب مڑتے دھیرے سے پوچھا۔
کچھ۔۔ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔! ابتسام نے ماتھا مسلا۔
لیکن کوٸ ہے جو۔۔۔؟؟ ہمارے بچوں کو ۔۔۔؟
وہ۔۔۔وہ واپس آگیا ہے۔۔۔! مطلب۔۔۔؟؟ یہ سب۔۔ اس نے کیا۔۔۔!
ایک دم سے ابرش اپنی جگہ کھڑی ہوتی ابتسام کی بات کاٹ گٸ۔
کون ۔۔کون واپس آگیا۔۔؟ ابتسام بھی اسکے سامنے کھڑا ہوتے سنجیدہ انداز میں دریافت کیا۔
ابرش کی آنکھوں میں ڈر تھا۔
ابر۔۔۔؟؟ بتاٶ۔۔مجھے۔۔۔؟؟ ابتسام نے اسے پاس کرتے پوچھا۔
ابتسام۔۔۔؟؟؟ ابرش کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ اسے لگا شاید ابتسام کو بروقت بتا دیتی تو۔۔ یہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔ وہ پہلے ہی سنبھال لیتا۔ اسے پچھتاوا ہوا۔
کیا ۔۔۔؟؟ بولو۔۔۔؟؟ أابتسام نے زور دیا۔
وہ۔۔۔انسکپٹر۔۔۔۔شاہان۔۔۔! کہتے ہوٸے اسکی آواز لڑکھڑاٸ۔ ابتسام بے یقینی سے اسے دیکھتا پیچھے ہٹا۔
وہ۔۔۔مجھے۔۔۔ ملا تھا ۔۔کچھ دن پہلے۔۔۔! بدلہ لینے کی بات کر رہا تھا۔ ۔۔ اور۔۔۔ ہماری بچیوں کی۔۔۔؟؟ ابرش رو دی۔۔۔ وہ۔۔ ہماری بچیوں کو۔۔۔ نشانہ بنانا چاہتا ہے۔۔۔ !
اور آپ مجھے اب بتا رہی رہیں۔۔؟؟ ابتسام نے شاک سے اسے دیکھتے دکھی لہجے میں کہا۔
مجھے لگا وہ ایسے ہی بکواس کر رہا ہے۔۔ کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔! ابرش نے اپنے آنسو صاف کرتے سر جھکاۓ کہا۔ تو ابتسام نفی میں سر ہلاتا اسٹڈی روم کی جانب بڑھ گیا۔
ابرش وہیں بیٹھتی چلی گٸ۔
اللہ جی۔۔ میری بچیوں کی حفاظت فرمانا۔۔۔۔! وہ دل ہی دل میں اللہ سے دعا گو تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آپ بے فکر رہیں۔ بہت جلد ہی اس کا پتہ چل جاۓ گا۔
ابتسام کال بند کرتا واپس مڑا۔
شاہان۔۔۔؟؟ لگتا ہے اس بار ۔۔ مر کے ہی واپس جاٶ گے تم۔۔۔!چیٸر پے بیٹھتے وہ سوچوں میں شاہان سے مخاطب ہوا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کسی ان ناٶن نمبر سے کلل آتی دیکھ آنیہ نے میر ہای کی جانب دیکھا۔
کیا ہوا۔۔۔؟ کال کیوں نہیں پک کر رہی۔۔؟؟وہ جو تیار ہو رہا تھا۔آفس جانے کے لیے۔
آنیہ کو بت بنا دیکھ ٹھٹھکا۔
پتہ نہیں کس کا ہے۔۔۔؟؟ آنیہ گھبراٸ۔
میر ہادی نے آگے بڑھ کے کال پک کی۔ اور اسپیکر پے لگایا۔
فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی۔۔ ؟ تجھے کیا لگتا ہے۔۔؟ تو بچ جاۓ گی مجھ سے۔۔؟ وہ حال کروں گا تیرا۔۔ کہ تیر ے اپنے بھی تجھے پہچان نہیں پاٸیں گے۔
دوسری طرف کی آواز سن میر ہادی نے لب بھینچے۔
اس بار تو تو بچ گٸ۔ اب اگلی بار کیسے بچے گی۔۔۔؟وہ تیرا شوہر۔۔۔ کیا سمجھتا ہے اپنے آپ کو۔۔۔؟؟ ہر بار بچا لے گا تجھے۔۔۔؟؟ میرا وار اب کی بار ۔۔ سیدھا دل پے ہو گا تیرے۔ سمجھی۔
کیا ہوا۔۔۔؟ بولتی بند ہوگٸ تیری۔۔؟؟ ہاہاہاہ۔۔۔۔۔
ہادی نے اپکیر آف کیا۔ اور موباٸلکان کے ساتھ لگایا۔
تم تو کیا۔۔۔ تمہاری ہوا بھی میری یوی کو چھو نہیں سکتی۔۔۔ اگر ہمت ہے تو۔۔ صرف چھو کے دکھانا۔۔
میر ہادی کی بات پے وہ مقابل گڑبڑاگیا۔
تم۔۔۔؟؟؟ وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔
میری بیوی سےدور رہنا۔۔۔ تو زندہ رہو گے۔۔ اگر اسکی طرف ایک قم بھی بڑھایا۔ تو د گنا زمین کے اندر گھساٶں گا۔۔۔
خنخوار لہجے میں کہتا وہ مقابل کی سانسیں روک گیا۔
فون کال بند ہو چکی تھی۔
وہ واپس سہمی ہوٸ آنیہ کی جانب مڑا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ میر ہادی کی بیوی اتنی بزدل نہیں ہو سکتی۔ میر ہای نے اسے پیار سے اپنے قریب کرتے کہا۔ تو وہ اسکے چوڑے سینے سے لگ کے آنکھیں موند گٸ۔
آپ میرا سب کچھ ہیں میر ۔۔۔! میں جانتی ہوں۔۔ آپ کے ہوتے ہوۓ مجھے۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا۔
اتنے مان اور یقین سے کہا۔ کہ میر ہادی کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔ اسے خود سے لگاۓ اسکی گردم سے بال پیچھے کرتا وہ اپنا گہرا لمس وہا ں چھوڑ گیا۔ کہ آنیہ لرز اٹھی۔
میں یہی چاہتا ہوں۔۔ کہ آپ پمیشہ یونہی مضبوط رہیں میری جان۔۔! اسے اپنے سمنے کرتا اسکے ماتھے پے لب رکھے۔کہ آنیہ دل سے مسکرا اٹھی۔
وہ میر ہادی کو پا کے اپن رب کا شکر ادا کرتی تھی۔ کہ اتنا چاہنے ولا اور مان ینے وللا شوہر اسے ملا۔ جو نہ صرف اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ بلکہ اسکا محافظ بھی ہے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
نور کی آنکھ بمشکل کھلی تھی۔ اسکا سر بھاری بھاری ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اسے یاد نہیں آرہا تھا۔
زہن پے زور دیتی وہ اٹھی تھی۔ منہ ہاتھ دھوتی وہ باہر نکلی۔
رات وہ ابیہان کو اپنا بنانے والی تھی۔ لیکن۔۔ پھر سو کیسے گٸ۔۔۔؟ اور ابیہان۔۔؟؟ وہ کب ۔۔۔آیا ہوگا۔۔؟ رات کو۔۔۔؟آیا بھی ہوا۔۔۔؟ تو اس روم میں کیوں آنے لگا۔۔۔؟؟
اس نے اپنا تمسخر خود اڑایا۔
کہ تبھی دروازہ کھلا۔ اور آہان مرے میں داخل ہوا ۔
اس وجیہ اور بھرپور مردانہ وجاہت کے شاہکار کو دیکتی وہ پھر ب کچھ بھلا بیٹھی تھی۔
آپ کو یاد ہو تو۔۔ پرسوں دو تاریخ ہے۔۔ اور ۔۔ڈیل کے مطابق آپ کو اب ہمیں سلطان تک پہنچانے کا وقت ہو چکا ہے۔
آہان نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاٶ ملاحظہ کرتے ٹہرے ہوۓ اندازمیں کہا۔
جانتی ہوں۔۔ اور ۔۔میں آپ کو وہاں پہنچادوں گی۔
لیکن۔۔؟؟ وہ ایک ادا سے کہتی اسکے پاس آٸ۔ آہان نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔ جیسے پہلے سے تیار تھا۔ وہ کوٸ نہ کوٸ ڈیمانڈ کرے گی۔
لیکن۔۔۔ میری ایک شرط ہے۔ اسکے قریب آتے اسکا کالر پے انگلی ٹریس کرتی وہ پراسرار انداز میں بولی۔
کیسی شرط۔۔۔؟۔آہان کو اسکے انداز میں خطرے کی گھنٹی بجتی سناٸ دی۔
مجھے۔۔۔ ابیہان چاہیے۔۔۔ وہ بھی پورا کا پورا چاہیے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گھساۓ نڈر ہو کے کہتی وہ آہان کو اندر تک سلگا گٸ۔ لیکن ابھی وہ منزل کے قریب پہنچ کے اپنا بنا بنایا گیم خراب نہیں کر سکتا تھا۔
آگے ہوتے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے خود سے قریب کیا۔ کہ وہ کٹی ڈال کی طرح اسکے سینے آلگی۔لیکن آہان نے فاصلہ پھر بھی قاٸم رکھا۔
ایک بار سلطان ہاتھ لگ جاۓ اسے موت کی نیند سلا دوں۔ پھر یہ شخص تمہارا ہوا۔۔۔
اسکے کانوں میں رس گھولتا وہ اسے فرش سے عرش پے بٹھا گیا۔
اسکے چہرے پے ایک پرسکون مسکراہٹ چھا گٸ۔ آنکھیں بند کیے وہ ان لمحوں میں قید سی ہو گٸ۔ جب کہ اسکے چہرے کو دیکھتا آہان صرف دل میں نفرت محسوس کر رہا تھا۔
وہ جو اندر آتے پیچھے دروازہ بند کرنا بھول گیا۔ دروازے میں کھڑی ہانیہ نے انکا ایک ایک مومنٹ دیکھا تھا۔ اور سب سنا تھا۔
آہا ن اور وہ دونوں جیسے ہی پلٹے۔ انکی نظر ہانیہ پے جا ٹہری ۔ جسکی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔ آہان نے لب بھینچے۔جبکہ نور نے بہت فخر سے ہانیہ کو دیکھا۔ اور آہان کا ہاتھ تھامے اسکے پاس سے گزری۔
ہانیہ نے خون خوار نظرو سںے دونو ں کو جاتے دیکھا۔ اور وہیں سے اپنے روم کی جانب پلٹی۔
پورے کمرے کو تہیس نہیس کر دیا۔ لیکن غصہ تھا ۔ کہ کم ہی نہیں ہورہا تھا۔ اور اسے کس بات پے بے انتہا غصہ آیا تھا۔وہ خوف بھی نہں سمجھ پار ہی تھی۔
وہ نور کی مسکراہٹ اور جیت کی سر شاری برداشت نہیں کر پاٸ تھی۔۔۔یا۔۔۔ آہان کا کسی اور کے اتنا قریب ہونا۔۔اسے تکلیف دے گیا تھا۔وہ خود انجان تھی۔یونہی بانہیں پھیلاٸے وہ بستر پے گری تھی۔بنا پلک جھپکے وہ یک ٹک چھت کو دیکھے جا رہی تھی۔
آہان کا کل اسکے قریب آنا۔۔۔ اور۔۔ اب نور کے قریب جانا ۔۔وہ دونو ں میں موازنہ کرنے لگی تھی۔وہ ایسا کیو ں کر رہی تھی۔اسے خود بھی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐ
جہاں ابرش نے ابتسام سے ہانیہ کی پسند کے لڑکی کی بات کی وہیں۔ آہان نے کبیر کی اصلیت ابتسام کے سامنے رکھ دی۔
بہت سوچ بچار کے ابتسام نے وہا سے ملنے کی حامی بھری۔اور کبیر کے گھر والوں کو منع کر دیا۔ جو کبیر کے اندر آگ لگا گیا تھا۔ اور اب بدلے کی آگ میں جل رہا تھا۔
وہیں دوسری طرف سب پلاننگ مکمل تھی۔
اور آج رات وہ اپنی جگہ سے موو کر رہے تھے۔ نور ان کے ساتھ تھی۔
اور انکو سارا راستہ صحیح سے گاٸیڈ کرتی اس سرنگ تک لے آٸ تھی۔
آہان کے ساتھ آٹھ لوگ اورتھے۔جو اسلحہ سے لیس تھے۔ اور ماسک پہنے ہوۓ تھے۔آہان کا رابطہ ہیڈ کواٹر کے ساتھ جڑا ہو اتھا۔ اور پل پل کی رپورٹ اور لوکیشن ابتسام کو مل رہی تھی۔ وہ کس طرف جا رہے تھے وہ کیمرے میں بھی باآسانی سے دیکھ پا رہے تھے۔
سرنگ کے اند رپہنچ کے وہ رک گٸ تھی۔جہاں دو راستے تھے۔
اس طرف۔۔۔!نور نے کچھ سوچتے ہوۓ ایک راستے کی طرف اشارہ کیا۔ اور آگے بڑھی۔
آہان نے چار جوانوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ اور چار ساتھیوں کے ساتھ نور کے پیچھے ہوا ۔
کافی لمبا راستہ طے کرتے وہ سرنگ سے نکلتے ایک ایسی جگہ پہنچ گۓ۔جہاں ایک اڈہ تھا۔ وہ وہیں چھپ کے بیٹھ گۓ۔ ڈھیر سارا اسلحہ اور غر قانونی سرگرمیاں ۔۔ سب کچھ یہا ں ہو رہا تھا۔ اور آہان اتنی آسانی سے وہاں پہنچ گیا۔۔۔؟؟ بنا کسی رکاوٹ کے۔۔۔ بنا کسی پریشانی کے۔ آہان کو گڑبڑ کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے ساتھ موجود اور بلیو ٹوتھ کے زریعے کنیکٹڈ ساتھیوں کو الرٹ رہنےکا کہا۔ وہ موت کے منہ میں پہنچ چکے تھے۔
اس سے آگے کا راستہ خطرناک ہے۔
وہ سامنے دیکھیں۔۔۔ نور نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ جو کسی سے فون پے بات کر رہا تھا۔
یہ سلطان کا خاص آدمی ہے۔ اور ساری ڈیلز یہی کرتا ہے۔ اور اسکا سب سے اہم کام ۔۔ لصکیوں کی سپلاٸ ہے۔ دھیمے لہجے میں کہتی وہ آہان کو بتا رہی تھی۔
اسے قابو میں کر لو۔۔۔ سلطان خود سامنے آجاۓ گا۔
لیکن تم نےتو کہا تھا کہ آج وہ یہاں آۓ گا۔ آہن نے اسکی بات پے اسے سختی سے پوچھا۔
ہاں وہ آتا ہے۔ ۔۔ لیکن۔۔جس دن یہ فضل خان آۓ اس دن وہ مشکل ہے کہ آۓ۔یہ اسکے سارے کام دیکھتا ہے۔ اگر وہ خود نہ آۓ تو اسے بھیج دیتا ہے۔ اور اسکے آنے کا مطلب یہی ہے۔۔ کہ سلطان نہیں آۓ گا۔۔۔
اپنی بات مکمل کرتی وہ چپ ہوٸ۔ اسکے یوں پینترا بدلنے پے آہان خون کےگھونٹ بھرتا رہ گیا۔
آہان نے ایک نظر سامنے دیکھا۔ وہ تعداد میں کافی زیادہ تھے۔ مگر آہان کو یقین تھا۔ کہ ہ ان پے قابوپا لیں گے۔ لیکن ۔۔۔ ایک اچھی حکمت عملی کے ساتھ۔
اس نے اپنے ساتھ موجود ساتیوں کے ساتھ پلان ترتیب دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا۔ فاٸرنگ کی آواز پے وہ سب پلٹ کے دیکھنےلگے۔ کہ ایک دم سے کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیا انہیں ان کے آنے کی خبر مل گٸ۔۔۔؟
لیکن۔۔سامنے کا منظر دیکھ وہ دنگ رہ گۓ۔ایک ایک کر کے سبھی ڈھیر ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن۔۔۔کون ۔۔ انہیں موت کینیند سلا رہا تھا۔۔ وہ مجھنے سے قاصر تھے۔ وہ سب اپنیجگہ چھپے ہوۓ تھے۔ ابھی تک کوٸ کارواٸ نہیں کی تھی۔وہ آہان کے آرڈرز کے بنا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔
انکی آنکھو ں کے سامنے سب ایک ایک کر کے ڈھیر ہوتے جا رہے تھے۔ میدان صاف ہو رہا تھا۔کچھ چھپتے چھپاتے اپنی جان بچا رہے تھے۔فاٸرنگ کہاں سے ہورہی تھی۔ کسی کو بھی سمجھنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔
آہان نوٹس کرنے لگا کہ گولیاں کہاں سے چل رہی ہیں۔۔؟ اور پھر اسکی نظر فاٸرکرنے والے پے پہنچ ہی گٸ۔ آہان کادل چاہا۔ سب سے پہلے اسے ہی شوٹ کر دے۔ وہ ماسک پہنے اس وقت وہاں پھر سے موجود تھی۔لاکھ منع کرنے کے باجود وہ باز نہ آٸ تھی۔آہان دانت پیستا رخ پھیر گیا۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟ کون ہے جو۔۔۔؟ یہ سب کر رہا ہے۔۔۔؟؟
نور گھبراٸ تھی۔
ابھی آہان کوٸ جواب دیتا کہ شور سن کے پلٹا۔
وہ انکے ہاتھ لگ گٸ تھی۔ وہ فضل نامی شخص اس ماسک والی لڑکی کو پکڑ کے سب کے سامنے کر چکا تھا۔
آہان کو لگا ۔ جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں لے لیا ہو۔۔
تجھے کیا لگا۔۔۔؟ تو ہمارے اڈے پے آکے ہمارے بندوں کو مارے گا۔ اور ہم سے بچ کے نکل جاۓ گا۔۔؟
فضل غرا کے بولا تھا۔ جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا سامنے ماسک کے پیچھے لڑکا نہیں ۔۔۔لڑکی ہے۔
یہ۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔؟؟ نور نے بھی چھپ کے دیکھا۔
یہ ہمارے ساتھ تو نہیں تھا۔ ۔۔۔ تو پھر یہ کون ہے۔۔؟
ماسک ہٹاٶ اسکا۔۔۔؟؟ فضل نے اونچی آواز میں چلا کے کہا۔ ایک شخص اسکی جانب بڑھا۔کہ اس نے دو تین قلبازیاں مارتے اسے تین چاررکھ کے لگاٸیں کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔
ایک کے بعد ایک۔۔۔جا رہا تھا۔ لیکن ڈھیر ہو رہا تھا۔
اس ماسک کے پیچھے موجود چہرے کو تو فضل نہ دیکھ سکا۔ لیکن جسامت کی چال ڈھال سے وہ انداز لگا گیا کہ وہ کوٸ لڑکی ہے۔ اب اسے اس کھیل میں مزہ آنےلگا تھا۔ وہ جان بوجھ کے اپنا ایک ایک آدمی اسکی طرف بھیجتا وہ مار کھا کے وہیں ڈھیر ہو جاتا۔
بس۔۔۔! ختم کھیل۔۔۔ ماسک ہٹا۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟ فضل نے گن کا رخ سامنے کی کنپٹی پے کیا تو وہ ایک لمحے کو اپنی جگہ سن ہی ہو گٸ۔
جاری ہے۔
