Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 09)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 09)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
زبیر تک وہ پہنچ گیا تھا ۔ لیکن سامنے ہی اسکے سپاٸ گرل کھڑی اسے دعوت دے رہی تھی ۔ لڑاٸ کی۔
اور وہ ۔۔ اپنا ماسک درست کرتا آج دو دو ہاتھ کرنے کے چکر میں تھا ۔ سارے حساب آج وہ پورے کرنے کے چکر میں آگے بڑھا .اور وہ بھی اپنا غصہ ضبط کرتی پیش قدمی کرتی سامنے والے کو اچھا خاصا سبق سکھانے کے موڈ میں تھی۔
بہت ہوشیار سمجھتے ہو خود کو۔۔؟؟ تمہیں کیا لگا۔۔۔؟؟تم یہاں پہنچو گے اور مجھے پتہ نہیں چلےگا۔۔؟؟
سپاٸ گرل غراتے ہوۓ آگے بڑھی۔
یہاں پہنچا بھی ہوں۔۔ اور اسے لے کے بھی جاٶں گا۔
رسیوں میں جکڑے زبیر کی طرف اشارہ کیا۔ جو زخموں سے چور بے ہوش پڑا تھا۔
یہ میرا شکار ہے۔ اور اپنا شکار سپاٸ گرل کبھی نہیں چھوڑتی۔ سپاٸ گرل اسکے آمنے سامنےآن کھڑی ہوٸ۔
روک سکتی ہوتو روک کے دیکھاٶ۔ اس نے چیلنج کیا۔
اور آگے بڑھا۔ کہ سپاٸ گرل اس کے آگے آتی اسے روک کی تھی۔
اسے ڈاج دے کے دوسری طرف سے نکلا۔ کہ وہ بل کھاتی پھر سے اسکے سامنے آن کھڑی ہوٸ۔
کلاٸ سے پکڑکے ساٸیڈ پے کیا۔ کہ وہ جھک کے ڈاٸ لگاتی اپنی کلاٸ چھوڑواتی پیچھے ہٹتی اسکے بیک پے دھکا دے گٸ۔ وہ اپنی جگہ سے زرا سے ہلا ۔
اور دانت پیستا سپاٸ گرل کی جانب پلٹا۔ اور اسکے سامنے آتا اسے پیچھے ہٹانے لگا۔ ۔ کہ سپاٸ گرل پھر سے موو کرتی اسے ایک بار پھر بیک پے دھکا مارتی ایک طرف ہوتی چلی گٸ۔ کہ اس نے اسے پیچھے سے دونوں کلاٸیوں سے تھام کے سپاٸ گرل کی پشت کو سینے سے لگایا۔
بہت پھرتی آگٸ ہے۔۔۔؟؟ لگتا ہے جان پیاری نہیں۔۔؟ اسکی کان کی لو کے پاس اپنے لب رکھے کہتا وہ سپاٸ گرل کو سلگا ہی گیا۔
سپاٸ گرل نے فوراً سے نیچے کی طرف ہوتے ڈاٸ کیا۔ اور اسکے ایک ساٸیڈ سے نکلتی اپنی کلاٸیاں بہت مہارت سے چھڑاگٸ تھی۔
مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا۔۔۔ ! سپاٸ گرل م۔ر تو سکتی ہے۔ لیکن ہار نہیں مان سکتی۔
کہتے ساتھ ہی ہاتھ کا م ک ا بناتے اس نے سامنے والے پے وار کیا۔ وہ ایک طرف کو ہوتا خود کو بچا گیا ۔
سپاٸ گرل نے پھر سے وار کیا۔ لیکن اسبار بھی خود کو بچا گیا۔ اور ساتھ ہی مڑتا اسکی کمر کی طرف سے ہوتا اسکی دونوں اسکو کلاٸیاں جکڑے وہ اس پے ٹیپ لگا کے باندھ چکا تھا۔ اور یہ اس نے صرف پلک جھپکنے میں ہی کیا تھا۔ سپاٸ گرل کو سوچنے کا موقع بھی نہ ملا۔ اپنے ہاتھ کھولنے چاہے لیکن ٹیپ کی سخت گرفت پے وہ بری طرح مچلی تھی۔
ہاتھ کھولو میرے۔۔۔۔ جان سے مار ڈالوں گی تمہیں میں۔ سپاٸ گرل غصہ سے لال پیلی ہوٸ تھی
جبکہ سامنےوالا اپنی مسکراہٹ ماسک کےپیچھے چھپاٸے اس تک آیا تھا۔
کیا خیال ہے۔۔۔؟ اس حسین چہرے کا دیدار نہ ہوجاۓ۔۔۔؟ کہتے ہوۓ ہاتھ اسکے ماسک کی جانب بڑھایا تو سپاٸ گرل نے اپنے بندھے ہوۓ ہاتھوں سے سامنے والے کو پش کرتے اپنا رخ دوسری جانب پلٹا۔
سامنے والا شخص مسکراتا پیچھے ہٹتا زبیر کی جانب بڑھا۔ کہ سپاٸ گرل نے پھر سے راستہ روکا۔ اور ٹانگ اٹھا کے مارنی چاہی۔ سامنے والے نے دونو ں ہاتھوں کو جوڑتے سپاٸ گرل کا وار ناکام بنایا۔
اور پھر سے مڑ کے ایک بار وہ دوبارہ سپاٸ گرل کی ٹانگوں پے بھی ٹیپ لگا کے اسے باندھ گیا۔
اب وہ بالکل ہی موو نہیں کر پارہی تھی ۔
ایک بات تو طے تھی۔ سامنے والا سپاٸ گرل کو کوٸ نقصان نہیں پہنچا رہا تھا۔
اب اگر تم نے کوٸ رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو۔۔۔ تمہارے منہ پے بھی ٹیپ لگاکے یہیں بند کر کے چلا جاٶں گا۔ سمجھی تم۔۔۔؟؟ اسکے پاس آتے وہ غصہ سے غراتے ہوۓ بولا تھا۔
اگر تم۔نے اس لڑکے کو ہاتھ بھی لگایا تو۔۔ مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔
سپاٸ گرل نے خود پے ضبط کرتے دانت پیستےکہا۔
سامنے کھڑے شخص نے نفی میں سر ہلایا۔ اور سپاٸ گرل کے منہ پے بھی ٹیپ لگادی۔
سپاٸ گرل منہ ہٹاتی رہ گٸ۔ لیکن سامنے والا اپنا کام کرتا زبیر کو کندھوں پے اٹھاۓ اسکی جانب مڑا۔
دو گھنٹے۔۔۔ دوگھنٹے دیٸے۔تمہیں۔ اگر لے جا سکتی وہ تو لے جانا۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟ ٹا ٹا اینڈ گڈ باٸ۔
ماسک پہنے وہ شخص جا چکا تھا۔ جبکہ سپاٸ گرل وہیں بندھی جھٹپٹاتی دیوار کے ساتھ بیٹھی رہ گٸ۔
ابھی وہ سوچ رہی تھی اس مصیبت سے نکلنے کا۔ کہ اسے باہر سے کچھ آوازیں آٸیں۔
ہاں ہاں۔۔۔ یہی ہے۔۔وہ جگہ۔۔! اچھے سے ڈھونڈ اسے۔۔۔ مالک نے کہا ہے۔۔ اسے ختم کرنا ہے۔۔۔ورنہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ سمجھے تم۔۔۔ جلدی ڈھونڈو اسے۔
سپاٸ گرلکو خطرہ محسوس ہوا۔ وہ اٹھتی اور کچھ اچھلتی دروازے کے پیچھے جا چھپی۔ کہ اسی وقت وہ دونوں آدمی اندر داخل ہوۓ۔
یہاں تو کوٸ نہیں ہے۔۔۔! ایک آدمی نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے کہا۔
ارے۔۔۔ کوٸ کیوں نہیں۔۔۔؟؟ وہ یکھ دروازے کے پیچھے۔۔۔ اپنا شکار مل ہی گیا۔
ان میں سے ایک آدمی خباثت سے مسکرایا۔
سپاٸ گرل بندھی ہونے کی وجہ سے نہنکچھ بول پارہی تھی نہ کچھ کر پا رہی تھی۔ اسے انتہاکا غصہ آرہا تھا۔ اور غصہ میں اسکی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحتیں ہی مفقود ہوجاتی تھیں۔ اسکا غصہ اسے کافی دفعہ نقصان اٹھوا چکا تھا۔ لیکن۔۔شاید اس بار کا نقصان کافی سخت ہونے والا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی چہرے پے مکارانہ ہنسی سجاۓ سپاٸ گرل کی جانب بڑھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آنیہ کی آنکھ کھلی تو خود کو میر ہادی کی بانہوں میں پایا۔
دھیرے سے سر اٹھاتی وہ میر ہادی کو بے اختیار دیکھے گٸ۔
ہاتھ لگا کےاسکا ماتھا چھوا۔ اور بخارچیک کیا۔
شکر تھا۔ کہ وہ ٹھیک تھا۔ فٹ سے اٹھتی وہ نماز کی تیاری کرنے لگی۔ س نے آج تک کبھی کوٸ نماز نہ چھوڑی تھی۔ نماز پڑھتے اسے دلی سکون ملتا تھا۔ اور ہ خود اللہ کے حصار میں پاتی تھی۔ اسکا دل مطمین ہوجاتا تھا۔
نماز پڑھ کے دعا مانگتی تو سب کا باری باری نام لیتی تھی۔ نام لے کے سب کے لیے دعا مانگنا اسکی عادت بن چکی تھی۔ اور اب ناموں میں میر ہادی اور اسکے گھر والے بھی شامل ہوگۓ تھے۔ دل سے سب کے لیے دعا مانگ کہ وہ اٹھتی میر ہادی کےپاس آتی اس پے پھونک مارتی اس کے پاس ہی بیٹھ گٸ۔
ہادی۔۔۔؟؟ دھیرے سے اسے پکارا ۔
لیکن وہ گہرینیند میں تھا
بیدار نہ ہوا۔
ہادی۔۔۔؟؟ دو تین بار پھر سے پکارا۔ لیکن جواب ندارد۔
اب کی بار آنیہ نے الارم لگا کے ہادی کے کان کےپاس رکھ دیا۔ وہ اتنی زور سے بجا تھا۔ کہ ہادی ہڑبڑا کےاٹھ بیٹھا۔
اور آنیہ کو اچھی خاصی گھوری سے نوازا۔
سوری۔۔۔۔۔! دھیرے سے کہتی وہ میر ہادی کے ماتھےکے بلوں کو غاٸب کرنے میں کامیاب ہوگٸ۔
کیا یار۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ آنکھیں ملتا وہ آنیہ کیجانب دیکھتا بولا۔
پلیز اٹھ جاٸیں ناں۔۔۔! وہ منمناٸ تھی۔
کوٸ کام ہے۔۔؟ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاتے اسے نظروں کے حصار میں لیتے پوچھا۔
ہممممم۔۔۔ آٸیں ناں۔۔ باہر چلتے ہیں۔۔؟ مجھے صبح کی تازہ ہوا میں چہل قدمی کرنے کا بہت شوق ہے۔ ۔۔۔پلیز۔۔۔؟؟ وہ بچوں کی طرح اسے کہہ رہی تھی۔
ہم۔۔۔۔۔ ویٹ۔۔۔! کہتے وہ اٹھا تھا۔ فریش ہوتا وہ باہر آیا۔
دراز کھولتا وہ ایک چھوٹا باکس آنیہ کی طرف بڑھا گیا۔
یہ۔۔۔یہ کیا۔۔۔ہے۔۔؟ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
آپ کی منہ دکھاٸ۔ آٸینےکے سامنے کھڑے ہوتے بالوں کو سنوارتے وہ چاہت سے بولا تھا۔
آنیہ نےجھجکتےہوۓ وہ باکس کھولا تھا۔ اس میں ایک ڈاٸمنڈ پینڈنٹ دیکھ وہ میمراٸز ہی ہوگٸ۔
سو۔۔ بیوٹیفل۔۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔؟؟ چین کو اٹھاتے وہ حیرانی سے اسکی بناوٹ کو دیکھتی رہ گٸ۔ الفاظ ہی جیسے غاٸب ہوگۓ۔
اچھا لگا۔۔۔؟؟ میر ہادی نے اسکے پاس آتے پیار سے پوچھا۔
جبکہ آنیہ کے چہرے کا رنگ پل میں متغیر ہوا تھا۔
اس ڈاٸمنڈ لاکٹاور پینڈنٹکو دیکھتی ساتھ ہی پتھراٸ نظروں سے میر ہدی کو دیکھنے لگی۔
وہ پینڈینٹ اسکے اتھ سے چھوٹ کے زمین پے گرا۔ میر ہادی کے ماتھے پے بل پڑے۔
آنیہ تو پتھر کی ہوگٸ تھی۔ میرہادی نے جھک کے وہ پینڈینٹ اٹھایا۔
اگر پسند نہیں آیا تو بتا دیں۔ یوں گرا کیوں دیا۔۔۔؟؟
میر ہادی کے سنجیدی انداز نے آنیہ کو شرمندہ کر دیا۔
سوری۔۔۔ وہ۔۔غلطی سے۔۔۔ہاتھ سے۔۔؟؟ آنیہ کو سمجھ نہ آیا۔ کہ اپنی فیلنگز کیسے چھپاۓ۔۔۔؟؟
پہنادوں۔۔؟؟ میر ہادی نے درگزر کا مظاہرہ کرتے آگے ہوتے پوچھا۔
آنیہ نے چہرے کو بمشکل مسکراہٹ میں ڈھالتے رخ موڑ کے بال پیچھے کرتے جیسے میر ہادی کو اجازت دی۔
میرہادی نے آگے بڑھ کے وہ فلاور والا ڈاٸمنڈ پینڈینٹ آنیہ کے نازک گلے کی زینت بنا دیا۔
پہناتے اسکا ہاتھ کا لمس محسوس کرتی آنیہ کا دل دھڑکا تھا ۔لیکن وہ اپنے احساسات چھپا گٸ تھی۔
میر ہادی نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔
آنیہ۔۔۔! یہ پینڈینٹ مجھے بہت عزیز ہے اس سے میری ۔۔۔ میرے بہت اپنے کی یاد جڑی ہے۔ میں چاہتا ہوں۔ آپ اسے کبھی اتاریے گا مت۔۔۔اور ہمیشہ اسکی حفاظت کیجیے گا۔ کچھ چیزوں کی قیمت۔۔۔ ان سے جڑی کچھ باتوں سے بہت بڑھ جاتی ہے۔ اور میرے لیے یہ انمول ہے۔ جیسے آپ۔۔۔!
کہتے اسکے ماتھےپے دہکتے لب رکھے۔ آنیہ اندر تک سرشار ہوٸ۔ میر ہادی ایک ٹھنڈا مزاج رکھنےوالا انسان تھا۔ ایسا آنیہ کو محسوس ہوا تھا لیکن اس خاموش طبع انسان کے اندر کیا طوفان چھپا تھا۔ اس سے وہ قطعی انجان تھی۔ اور جس دن وہ طوفان کا راز کھولنا ۔۔۔اس دن آنیہ بھی اس طوفان کی زد میں آنے والی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔؟؟
اس سے پہلے کہ وہ سپاٸ گرل کو چھوتے اسی ماسک والے شخص کی اچانک وہاں موجودگی محسو کرتے وہ بری طرح چونکے تھے۔
سر جھکاۓ ایک طرف وہ اس ماسک والے شخص کو دیکھ حران ہوتے پلٹے تھے۔ اور اس پے اٹیک کی تھا۔ لیکن آگے وہ بھی شیر تھا۔ ہر وار کا مردانہ وار مقابلہ کرتا وہ انہیں چاروں شانے چت کر چکا تھا۔
فون پے کسی کو انفارم کرتا وہ انہیں بھی ٹھکانےلگانے کا بندوبست کر چکا تھا۔
دھیرے سے آگے بڑھتا وہ سپاٸ گرل کے منہ سے ٹیپ اتار چکا تھا۔ جبکہ وہ خاموش ہی رہی۔
اسکے بعد اسکے پاٶں اور ہاتھ کھولتا وہ جھٹ سے پیچھے ہوا۔ سپاٸ گرل کو اتنا جانتا تھا کہ وہ اسپے وار کر سکتی ہے۔ اسلیے اپنا بچاٶ پہلے کرتا وہ پیچھے ہٹا تھا۔
میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔ اپنی ہاتھوں کی کلاٸیاں دباتی وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی تھی۔ کہ وہاں سے تین چار جھکاوے دیتا وہ ونڈو کی جانب بڑھا۔
میں بھی مرنے کو تیار ہوں۔۔ لیکن۔۔۔ زرا ۔۔پیار کی مار مارنا۔۔۔ تو مر ہی جاٶں گا۔ معنی خیزی سے کہتا وہ ونڈو سےچھلاوے کی طرح غاٸب ہوا تھا۔ آگے ہوتی ونڈو سے سب جگہ نظر دوڑاتی وہ پیچ و تاب کھاتی رہ گٸ۔
آٸ ول کل یو۔۔۔! زیرلب دہراتی وہ بھی وہاں سے غاٸب ہوٸ تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہ کیس تو بہت ہی پیچیدہ ہے۔۔۔میں نے کل ہی ساری ڈیٹیلز ریڈ آٶٹ کی ہیں۔ اس پے ابھیبکام کرنا ہوگا مجھے مزید انفارمیشنز چاہیے۔۔۔ اس لیے کورٹ سے تاریخ لے لو۔۔۔
اپنی پی اے سےکہتی وہ جلدی جلدی ہاتھ ہلاتی آفس سے نکلنے والی تھی۔ آج ابتسام کا برتھ ڈے تھا۔ ان پچیس سالوں میں وہ سب کچھ بھلا دیتی تھی۔ اس ایک دن۔
وہ ہمیشہ سے شام کو ہی اسے گفٹکے ساتھ وش کیا کرتی تھی۔ ابھی بھی وہ جلدی میں نکلتی گھر جا رہی تھی۔ کہ سامنے راستہ روکے کھڑے شخص کی پشت پے جا ٹھہری۔ ابرش کے ماتھےپے بل پڑے۔
کیسی ہو ۔۔۔؟؟ ایکس منگیتر۔۔۔؟؟ وہ اسکی طرف رخ موڑتا اسکا وجود ہلا کے رکھ گیا تھا۔
وہ اور کوٸ نہیں شاہان تھا۔ وہی انسپکٹر شاہان جس نے اسکی زندگی کے ساتھ کھیلنا چاہا۔
یاد ہوں کہ بھول گیاہوں۔۔۔؟؟
گزرے وقت کے لمحات آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔










یہ بارات اب۔۔۔۔ واپس جاۓ گی۔۔۔۔
شاہان نے اونچی آواز میں کہا۔ تو ہال میں سناٹا چھا گیا۔۔
یہ۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔۔بیٹا۔۔۔ جی۔۔۔؟؟
شمس صاحب کے کندھےمزید جھک گۓ۔
یہ تو آپ کو حق مہر لکھوانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔
کون لکھ کے دیتا ہے اتنا۔۔۔ حق مہر۔۔۔۔؟؟
شاہان نے شاہانہ انداز میں کہا۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔!! طے تو یہی ہوا تھا۔۔۔۔
کمزور اور نخیف آواز میں کہا۔
طے کیاہوا تھا وہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔!!
لیکن میں حق مہر میں دس لاکھ اور اور اتنا زیادہ گولڈ نہیں دے سکتا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔!!
آپ رکھیں اپنی بیٹی اپنےپاس۔۔۔۔!!
ہاتھ جھاڑتا وہ اٹھا۔
چہ مگوٸیاں شروع ہو چکی تھیں۔
شمس صاحب نے ادھار لے کے۔۔ اور گھر گروی رکھاکے۔۔ جہیز کی ہر چیز ۔۔ لڑکے والوں کی ڈیمانڈ کے مطابق پوری کی۔
اور ساتھ میں انہوں نے حق مہر کی خود آفر کی۔ کہ وہ دس لاکھ لکھیں گے۔۔۔
جہیز جا چکا تھا۔۔۔۔ آج نکاح تھا۔۔ اور انہوں نے حق مہر کی رقم لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔
بیٹا۔۔۔۔۔!! میری ۔۔۔ بیٹی۔۔۔۔کی زندگی۔۔۔۔۔؟؟
تو آپ سوچیں ناں۔۔۔۔ بزرگو۔۔۔۔۔!!
شاہان نے ناک سے مکھی اڑاٸی۔
شمس صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
واقعی بیٹیوں کے ماں باپ کتنے مجبور ہوتےہیں۔
سبھی ترحم بھری نگاہوں دے دیکھ رہے تھے۔
سب کوایک تماشا مل گیا تھا وقت گزاری کا۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔! اگر۔۔۔۔۔آپ کی یہی مرضی۔۔۔۔ہے تو۔۔۔!!
شمس صاحب نے باپ بن کے بیٹی کے مسقبل کا فیصلہ لینا چاہا۔
ایک منٹ۔۔۔۔!! دلہن بنی وہ سامنے تھی۔
آنکھیں اس کی بھی نم تھی۔
لیکن وہ کمزور نہیں تھی۔
سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔
دلہے کے مقابل جا کھڑی ہوٸی۔
مجھے۔۔۔۔تم سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔!!
اونچی آواز میں بولتی انگلی اٹھا کے کہتی وہ سب کی بولتی بند کر گٸ۔
ابرش بیٹا۔۔۔۔۔!! کیا۔۔۔۔ کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟شمس صاحب نے گھبراتے ہوۓ بیٹی سے کہا۔
ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔!!آپ سب نے ناں۔۔۔ مل کے۔۔۔ بیٹیوں کا سودا کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔؟؟
بیٹی بھی دو۔۔۔۔اور۔۔۔ جہیز بھی دو۔۔۔۔!!
اور بدلےمیں حق مہر۔۔۔ لو۔۔۔۔!!
یہ کونسا نکاح ہے۔۔۔۔؟؟ کونسی سنت ہے۔۔۔؟؟
ایک مقدس فریضے کا مذاق بنا کے رکھ دیا ہے آپ سب نے۔۔۔۔۔!!
آنسو ناچاہتے ہوۓ بھی گالوں پے بہہ نکلے۔
نہیں۔۔۔ بابا ۔۔۔۔!!
اب اور نہیں۔۔۔۔ !!
ہم غریب ضرور ہیں۔۔۔۔!! لیکن بے غیرت نہیں۔۔۔۔۔
شمس صاحب کو وہ حوصلہ دیتی شاہان کی طرف دیکھتے بولی۔
اور آگے بڑھی۔
نکلو۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!!
شاہان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
اپنی منہوس شکل لے کے ۔۔۔۔ یہاں سے دفعہ ہو جاٶ۔۔۔۔
غصے کی آخری حد کو چھوتی وہ شاہان سمیت سب کو سکتے میں ڈال گٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
شاہان نے اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاٸ۔
کیا ہوا۔۔؟ اپنی بے عزتی یاد آگٸ۔۔۔؟ تمسخر اڑاتے کہا ۔
تم۔۔۔۔ زندہ ہو۔۔۔؟؟ ابرش کو اسے دیکھ کچھ صحیح نہیں لگا۔
ہاں تو تم۔کیا سوچ رہی تھی۔ کہ تم نے اور تمہارے ۔۔۔اس شوہر نے مجھےمار ڈالا۔۔۔؟ اور شاہان مر گیا۔۔۔۔؟؟ ہاہاہاا۔۔۔۔۔ میں آچکا ہوں۔۔ واپس۔۔۔ تمہاری زندگی میں آگ لگانے۔۔۔! وہ دھیرے سے آگےبڑھا۔ جبکہ پارکنگ ایریا اب خالی ہوتا جا رہا تھا۔ اکا دکا گاڑیاں ہی رہ گٸ تھیں۔
لیکن شاہان اسے صرف دھمکیاں ہی دے سکتا تھا۔ اسکا ڈراٸیور اور گارڈ اس کے ساتھ ہی تھے۔ وہکوٸ عام عورت نہ تھی۔ ایک مشہور ہستی تھی۔
تم نے پہلے بھی منہ کی کھاٸ ہے۔۔تم اب بھی منہ کی کھاٶ گے۔ ابرش نے سرد انداز میں کہا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔! اس بار ارادہ ۔۔۔تو تمہاری اولاد کا جینا حرام کرنا ہے۔۔۔ اور۔۔۔؟؟؟
خبردار۔۔ شاہان۔۔! میری اولاد کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھا تو۔۔۔! آنکھیں نوچ لوں گی۔ ابرش نے انگلی اٹھا کے جارحانہ انداز میں وران کیا ۔
بہت تڑپ لگی ہے۔۔۔؟؟ چلو دیکھتےہیں۔۔ کیسے بچاتی ہو اپنی اولاد کو برباد ہونے سے۔
شاہان اسے مزید تپا کے وہاں سے جا چکا تھا۔ جبکہ ابرش کو ایک نٸ پریشانی لاحق ہوچکی تھی۔
ابتسام کا گفٹ اسکے ہاتھ میں تھا۔ لیکن ۔۔اب جیسے سب چیزوں سے اسکا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔
بے دلے ہو کے وہ گاڑی میں بیٹھی۔ گھر کی بجاٸے اسکا رخ آنیہ کے گھر کی طرف تھا۔
آنیہ اس کے سب زیادہ نزدیک تھی۔ اسکی دوست اسکی غمگسار۔ اپنی ماں کے ہر دکھ سکھ کی ساتھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ایک جیسے دو پینڈینٹ ۔۔۔؟؟ کیسے ہوسکتا ہے۔۔یہ۔۔؟؟
آنیہ گلے میں پہناۓ گۓ پینڈینٹ کو ہاتھ لگاتی سوچتی چلی جا رہی تھی۔
یہ سیم وہی تھا۔ وہ کیسے بھول سکتی تھی۔ کیا یہ اتفاق ہے۔۔؟؟ یا۔۔؟؟؟ لیکن۔۔۔ میر ہادی سے کیسےپوچھوں۔۔؟؟ نہیں۔۔ ابھی نہیں۔۔۔انہوں نے کہا۔۔ اس پینڈینٹ سے ان کی کوٸ یاد جڑی ہے۔۔مجھے وہ پتہ کرنا ہوگا۔۔۔ اس کے بعد ہی میں۔۔ ؟؟؟
دروازے پے ہوتی ناک پے وہ چونکی ۔
بھابھی جی۔۔!آپ کی امی ہیں۔۔ کشش بی بی نے آپ وونیچے بلایا ہے۔ ملازمہ گل بانو نے اسے اطلاع دی ۔
مما۔۔۔! یوں اچانک۔۔؟؟ وہ حیران ہوتی نیچے آٸ۔ جہاں ابرش اور کشش محو گفتگو تھیں۔
اسلام علیکم مما۔۔۔! وہخوش دلی سے ماں سےملی۔
ابرش نے اسے گلے سے لگایا ۔
کیسی ہے میری بیٹی۔۔؟؟ ابرش نے اسکا کھلتا چہرہ دیکھ سکون کا سانس لیا۔
الحَمْدُ ِلله مما۔۔۔! آپ دوبارہ آۓ ہی نہیں۔۔؟ میں نے آج سارا دن ویٹ کیا۔ پیارا سا گلہ کیا۔
بیٹا۔۔۔! آنا تھا آپ کو لینے۔۔۔! رسم کے مطابق ۔۔۔ لیکن۔۔ آپ کے ڈیڈ نے کہا۔۔ کل جاٸیں گے۔۔ پر میرا دل اداس ہوا تو ملنے چلی آٸ۔
سو بار۔۔ آٸیں۔۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔۔ ! کشش نے باتوں میں حصہ لیا۔
آپ بیٹھ کے باتیں کریں۔ میں کچھ کھانےکولاتی ہوں۔
کشش مسکراتے ہوۓ وہاں سے اٹھ گٸ۔
مما۔۔۔! آپ نے ڈیڈ کو وش کیا۔۔؟ اچانک سے آنیہ کو یاد آیا ۔
نہیں۔۔۔! ایک لفظی جواب پے آنیہ بس ماں کو دیکھتی رہ گٸ۔
مما۔۔۔! آج سب نے گھر میں چھوٹی سی پارٹی کا ارینج کیا ہے۔ آپ بھی شامل ہو جاتیں۔۔۔ ڈیڈ کو اچھا لگتا۔
پارٹی کے نام پے برش نے سر اٹھا کے آنیہ کو دیکھا ۔
پارٹی۔۔۔؟؟؟ ماتھےپے بل پڑے۔
ہانیہ نے سرپراٸز پلان کیا ہے۔ آنیہ کی آواز دھیمی پڑ گٸ۔ اسے لگا شاید اس نے بتا کے غلطی کی ہے۔
ہممممم۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ ابرش وہاں سے اٹھ گٸ۔
مما۔۔۔! ایسے کیسے۔۔؟؟م آپ نے تو کچھ لیا بھی نہیں۔۔ کشش آنٹی ناراض ہوجاٸیں گیں۔
آنیہ کوماں کی فکر ہوٸ اور روکنا چاہا۔
شش سےمیں بات کر لوگی۔۔ آپ اپنا خیال رکھنا۔ کچھ کام یاد آگیا ہے۔۔ پھر آٶں گی تو۔۔ آپ کے ہاتھکا بنا کچھ کھاٶں گی۔
پیار سے اسے گلے لگا کےکہتی وہ جا چکی تھیں ۔ جبکہ آنیہ کو اپنی ماں کے لیے دکھ ہوا تھا۔
جاری ہے
