Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 05)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 05)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
وہ ہر جگہ فضا کو دیکھ چکی تھی۔جہاں جہاں اسکے ہونے کا گمان تھا۔ لیکن وہ نہ ملی ۔ وہ جاننا چاہتی تھی۔ کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ وہ چاہ کے آہان سے زیادہ کچ پوچھ نہ پاٸ ۔ کہ اسے سب کیسے ملا۔ کیسے پتہ چلا۔
وہ تھک ہار کے واپس لوٹ آٸ تھی۔
کافی سوچ بچار کے بعد اس نے آہان سے ہی پوچھن کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر فضا کا موباٸل آہان کے پاس تھا۔ تو فضا کہاں ہے۔ یہ بھی وہی جانتا ہوگا۔
دل میں پکا ارادہ کرتی وہ اٹھی تھی۔ تیار ہونے۔
آج آنیہ کی مہندی تھی۔ پیرزادہ منشن میں ہی تمام انتظامات مکمل کر لیے گۓ تھے۔ ارتسام نے بھتیجی کی شادی کی تیاریوں میں کوٸ کسر نہ چھوڑی تھی۔
ابرش اور ابتسام میں بول چال بند تھی۔ کچھ آہان کے وہاں ہونے پے وہ ابتسام سے کٹ گٸ تھی۔ اور کل جو کچھ ہوا۔ ابتسام نے اسے اسکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے منع کر دیا تھا۔ اور خوشی سے شادی کے ہر فنکشن میں حصہ لینے کو کہا تھا۔
آنیہ سے پوچھنا چاہا تو اس نے بھی خاموشی اپنا لی۔ باپ نے وعدہ جو لیا تھا۔ ابرش نے زیادہ زور نہ دیا۔
آنیہ شروع سے ہی ابتسام کے نزدیک تھی۔ وہ اپنیہر بات اسی سے شیٸر کرتی تھی۔ جبکہ ہانیہ کا جھکاٶ زیادہ ابش کی طرف تھا ۔
ابرش تیار ہوتی خود کو آٸینہ میں دیکھتی اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کر رہی تھی۔ کہ اسی لمحے ابتسام روم میں داخل ہوا۔ سامنے کھڑی محبوب بیوی کو یوں اتنے عرصے بعد سجا سنورا دیکھ وہ وہیں سٹل ہوگیا۔ ابرش نے بھی اسکا دیکھنا محسوس کرتے آٸینے سے ہی اسے دل کی نظروں سے نہارا۔
وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ صبح سے اب وہ ابرش کو نظر آیا تھا۔ بیٹی کی آج مہندی تھی اور کل بارات۔ ساری تیاریاں وہ خود کروا رہا تھا۔ جبکہ ارتسام اس کے ساتھ ساتھ تھا۔
اس کے دونوں بیٹے سیف اور سفیان ان دونوں نے بھی بڑھ چڑھ کے باپ کے ساتھ ہر کام میں حصہ لیا تھا۔ آہان بھی سب بھلاٸے شادی کیت تیاریوں میں مصروف ہوگیا تھا۔ جبکہ اپنے دوست کو چوکنا رہنےکو وہ پہلے ہی بول چکا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ شادی میں کسی قسم کی کوٸ گڑبڑ ہو۔ اس لیے سارا سیکیورٹی کا انتظام اس نے خود اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا تھا ۔
لاٸٹس ٹھیک لگاٶ یار۔۔۔! آہان نے لاٸٹنگ مین سے کہتے ویسٹ پے ہاتھ رکھے۔ وہ اوپر کے پورشن پے لاٸٹس لگوا رہا تھا۔ جبکہ خود نیچے کھڑا ہدایات دے رہا تھا۔
کیسا ہے ہمارا بیٹا۔۔۔؟؟ اچانک سے پیچھے سے کسینے اسے ہگ کیا تو وہ چونکتا ہوا پلٹا۔
ارحام چاچو۔۔۔! جھٹ سے آگے بڑھتے وہ ارحام کے گلے لگا۔ ارحام کو وہ شروع سے ہی بہت اچھا لگتا تھا۔ اسے اپنا جگری دوست بیٹا۔۔ سب کچھ کہتا تھا۔
او لمظ کا بھی یہی حال تھا۔ وہ بھی اسے اپنے سگھے بیٹے سے زیادہ چاہتی تھی۔
چچی جان ۔۔! آپ کیسی ہیں۔۔؟ آہان لمظ کی طرف متوجہ ہوا۔
الحَمْدُ ِلله ….تم بتاٶ۔۔۔ گاٶ ں کا چکر ہی نہیں لگاتے اب۔؟ یا یہ ماں باپ بھول گۓ ہیں۔۔؟؟ لمظ نے اسکا کان کھنیچتے گلہ کیا۔
سیڑھیاں اتری ہانیہ نے یہ منظر غور سے دیکھا تھا۔ آہان کی مسکراہٹ میں جادو تھا۔ وہ کم ہی مسکراتا تھا۔ مسکراتے اسکے گال کا ڈمپل واضح ہوتا تھا۔ لیکن وہ بھی بہت غود کرنے پے پتہ چلتا تھا۔ اسکی بٸرڈ نے اسکا ڈمپل چھپیا ہوا تھا۔
آپ کو بھول سکتا ہے آہان۔۔؟؟ خود کو نہ بھول جاٶں۔۔؟؟ آہان نے مسکرا کے ان سے کہا۔
ہمارا شیر کہاں ہے۔۔؟؟ آہان نے عزیر کا پوچھا۔ جو ارحام اور لمظ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اور پیرزادہ منشن کا سب سے چھوٹا لاڈلا پوتا۔ ارحام۔
وہ کل آجاۓ گا۔ دوستوں کے ساتھ آٶٹنگ پے ہے۔
ارحام نے اسے پیار دیکھتے کہا۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم چاچو۔۔۔! ہانیہ نے انہیں سلام کیا تو وہ اسے دیکھتےاسکی جانب مڑے۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام ،،،، کیسی ہے ہماری بیٹی۔۔؟؟ اور بھٸ۔۔ شادی کی مبارک ہو بہت بہت آپ سب کو۔۔۔! ارحام نے ہانیہ کے سر پے شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
خیر مبارک ۔۔۔آپ کو بھی مبارک ہو۔۔۔ اندر چلیں ناں۔۔۔! ہانیہ نے انہیں راستہ دیتےکہا۔
تو وہ دونوں مسکراتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھے ۔
آہان واپس اپنے کام کی طف متوجہ ہو گیا۔
سنو۔۔۔! مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔! ہانیہ نے رخ پھیر کے کھڑے آہان سے کہا۔ جو لاٸٹس لگوا رہا تھا۔
یار۔۔ اسے تھوڑا ٹیڑھا کرو۔۔۔! ویسٹ پے ہاتھ رکھے وہ اوپر کھڑے شخص سے مخاطب ہوا۔ جسک نظریں بار بار ہانیہ پے ٹک رہی تھیں۔ وہ تیار ہوٸ لگ بھی تو حسین رہی تھی۔ کہ دیکھنےوالا ایک بار دوبارہ دیکھنے پے مجبور ہوجاتا۔ اور یہی بات آہان کوناگوار گزر رہی تھی۔
تم نے سنا نہیں۔۔۔ مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔! ہانیہ نے اسکے سامنے آتے کہا۔
آہان نے ایک اچٹتی نگاہ اسکے سراپے پے ڈالی اور موباٸل پے لگ گیا ۔
تم مجھے یوں اگنور نہیں کرسکتے۔ ہانیہ جوالہ مکھی بنی تو آہان نے لب بھینچتے اسکی طرف دیکھا۔
جاٶ۔۔یہاں سے۔۔۔! ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا وہ بولا تھا۔
نہیں جاٶں گی۔۔۔ جب تک تم۔مجھے یہ نہیں بتا دیتے ۔ کہ فضا کہاں ہے؟ وہ بھی دوبدو ہوٸ۔
آہان کے ماتھے پے بل پڑے۔
تمہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی ۔۔؟؟ آہان نے موباٸل جیب میں رکھتے کہا۔
نہیں۔۔۔! مجھے فضا کا بتاٶ۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔؟؟
ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ لاٸٹس کی لڑیاں جھومر سمیت ہانیہ پے آن گریں۔وہ رخ پھیرے کھڑی تھی۔ جبکہ آہان کی نظر پڑگٸ۔ اس نے فوراً ہانیہ کو کھینچ کے اپنی طرف کیا ۔ وہ اسکے چوڑے سینے سے آٹکراٸ۔آہن نےاسے مکمل کور کیا۔
لاٸٹس گر کے ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈھیروں ڈھیر ٹکڑے ان کے اردگرد پھیل گۓ۔
تم۔۔۔۔تم۔۔ٹھیک ہو۔۔؟؟ آہان کو اسکی فکر ہوٸ۔وہ اسکے سینے سے لگی حیرت سے سب دیکھ رہی تھی۔
آہان کا غصہ ساتویں آسمان پے پہنچ چکا تھا۔ جس شخص نے سب گراٸ تھیں۔ اسکی تو شامت آنے والی تھی۔
تمہیں۔۔۔ چوٹ لگی ہے۔۔۔؟؟ اچانک سے ہانیہکی نظر اسکے ہاتھ پے اور بازو پے گٸ۔ جہاں کانچ چبھا تھا۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم جاٶ۔۔ اندر۔۔! آہان نےاسے پاٶں سے کانچ ہٹا کے راستہ بناتے دیتے کہا۔
للل۔۔۔لیکن۔۔تمہیں۔۔یہ۔۔ چوٹ۔۔۔؟ وہ بے چین ہوٸ تھی۔
سناٸ نہیں دیتا۔۔۔؟؟ اندر جاٶ۔۔۔!اب کی بار وہ کافی اونچا بولا تھا۔ ہانیہ لب بھینچے اندر بڑھ گٸ۔
ابھی اس نے اندر کی جانب قدم بڑھاۓ تھے۔ کہ اسے آوازیں سناٸ دیں۔
سر۔۔جی۔۔معاف کردیں۔۔۔۔ غلطی ہوگٸ۔۔۔! وہ شخص ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہا تھا جبکہ آہان کے مضبوط ہاتھوں کا ایک مکا ہی کھا کے وہ تڑپ گیا تھا۔
تیری جرات کیسے ہوٸ۔۔۔! لاپرواہی کرنے کی۔۔۔؟؟ اگر۔۔۔ ایک کھروچ بھی آتی ناں۔۔۔ تو جان لے لیتا تمہاری۔
اسکا گریبان پکڑے وہ غصہ سے دھاڑا تھا۔ کہ پیرزادہ منشن کے درودیوار میں اسکی آواز گونجی تھی۔
کوٸ ملازم اندر سے ابتسام اور ارحام کو بلا لایا۔ ابتسام نے ہیآہان کو قابو میں کیا ۔ اور اس شخص کو وہاں سے نکالا۔ ورنہ کچھ بعید نہیں تھا ۔ آہان اسے جان سے مار ڈالتا۔
آہان غصہ کی شدت سے پاگل ہو رہا تھا۔ ہانیہ نے اسکا یہ روپ آج پہلی بار دیکھا تھا۔ اور بس دیکھتی رہ گٸ تھی۔










ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
مہندی کی یہ رات۔۔۔
مہندی کی یہ رات۔۔۔۔
آٸ مہنی کی یہ رات۔۔۔ لاٸ سپنوں کی سوغات۔۔۔
سجنیا ساجن کے ہےساتھ۔۔۔
مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی۔لڑکے والے آچکے تھے۔ سب تھے ۔۔۔۔ میر ہادی نہیں تھا۔ اس نے آنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ لیکن کشش نے سب کو مطمین کر دیا تھا۔کہ وہ مہندی کے فنکشن میں انٹرسٹڈ نہیں۔
حیرت کی بات ہے۔۔۔۔! مہندی ہے اور لڑکا ہی غاٸب۔۔۔؟
زلیخا بیگم نے پھر سے دل کا زہر اگلا۔
امی جان۔۔۔! پلیز چپ رہیں۔ عروش نے انہیں چپ کرانا چاہا۔
عرش۔۔! سنیں۔ ۔۔! یہ۔۔ اندر رکھوا دیں۔ ارتسام نے کچھ سامان عروش کے ہاتھوں میں تھمایا۔
جی۔۔۔! عروش نے ارتسام کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ تھامے۔
داماد جی۔۔۔! ویسے یہ سمجھ نہ آٸ۔ مہندی پے گھر والے آگۓ۔۔ لیکن۔۔ دلہا ہی نہیں آیا۔۔۔ ؟ زلیخا نے بھنوٸیں اچکاتے پوچھا ۔
ارتسام نے ایک نظر عروش کو دیکھا۔ اسکے ماتھے پے و بل پڑے تھے۔عروش شرمندہ ہوگٸ ۔
آپ میری بات سنیں۔۔۔! سنجیدگی سے عرش کو کہتا وہ وہاں سے جا چکا تھا۔
امی !آپ بھی حد کرتی ہیں۔منع بھی کر رہی ہوں۔ لیکن ۔۔ مجال ہے کہآپ سن جاٸیں۔
عروش منہ بنا کے اندر چلی گٸ۔
لو بھلا۔۔۔ کیا غلط کہا میں نے۔۔۔؟؟ زلیخا بیگم سر جھٹک کے مہمانوں کی جانب بڑھ گٸیں۔
گارڈن ایریا میں مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا۔ ہر طرف روشنیوں اور رنگ وبو کا سیلاب آیا ہواتھا۔
سب کے چہروں پے مسکراہٹ نے احاطہ کیا ہوا تھا۔
کیسی طبعیت ہے اب آپ کی بیٹا۔۔؟؟ کشش نے مہنی کی رسم سے فارغ ہوتے آنیہکے پاس بیٹھتے پیار سے پوچھا۔
ٹھیک ہوں آنٹی۔۔! سر جھکاۓ وہ ب اتنا ہی کہہ پاٸ۔
کل آپ۔۔ گھبرا گٸیں تھیں۔ ہم سب۔۔ بھی کافی پریشان ہوگۓ تھے۔ اور میر ہادی تو۔۔۔؟؟؟ کہتے کہتے وہ ایک دم رکیں تھیں۔ ہانیہ نے سر اٹھا کے انہیں دیکھا۔
جبکہ میر ہادی کے نام پے آنیہ کے دل کی رفتار معمول سے ہٹی تھی۔
بیٹا۔۔! اپنا خال رکھا کریں۔ بات کو پلٹتیں وہ آنیہ کو پیار کرتی اٹھنے لگیں۔
ایم سوری آنٹی۔۔۔! کل میری وجہ سے آپ سب کو پریشانی ہوٸ۔
آنیہ واقعی شرمندہ تھی۔ اسکے کہنے پے کشش کا فل ایک دم سے ہی صاف ہو گیا۔ وہ خود بھی تو ہمیشہ سے ایسی تھی۔ صاف گو اور صاف دل۔
کوٸ بات نہیں بیٹا۔۔! ہوجاتا ہے۔۔۔! کشش نے مسکراتے ہوۓ واپس بیٹھ گٸیں۔
وہ غصہ ہوں گے۔۔۔؟؟ آنیہنے دھیرے سے فکزمندی سے پوچھا۔
پہلے تو کشش کو سمجھ نہ آیا ۔ کہ کس کے بارے میں کہہ رہی ہے۔۔ لیکن جب سمجھ آٸ تو حیرت سے دیکھا۔
بیٹا۔۔۔! فکر مند نہ ہوں۔ غصہ تو تھا۔۔ لیکن۔۔ اب شانت ہوگۓ ہیں۔ اور ویسے بھی اتنی پیاری بیوی ملے گی تو غصہ کہاں رہے گا۔۔۔؟ سرسری انداز میں کہا تو آنیہ جھینپ گٸ ۔
کیا باتیں ہو رہی ہیں۔۔؟ ساس بہو میں۔۔؟ ابرش نے سمکراتے ہوۓ ان کے پاس آتے کہا۔
باقی سب کو کھانا سروکر دیا گیا تھا۔
ہماری آپس کی بات ہے۔۔۔! کشش نے مکرا کے آنیہ کی طرف دیکھتے پیار سے کہا۔
ہممممم۔۔۔! آجاٸیں کھانا کھا لیں۔ ابرش نے مسکراتے ہوۓ کشش سے کہا تو وہ اسکے ساتھ ہی اٹھ گٸ۔
آنیہ دل ہی دل میں میر ہادی کا سوچتے گھبرانے لگی۔







ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہم کب تک یہاں رہیں گے۔۔۔؟ ردا نے ڈرتے ہوۓ فضا سے پوچھا ۔
وہ دونوں اس وقت اندھیرے کمرے میں تھیں ۔اور کتنی دیر سے وہ بھوکی پیاسی بند تھیں۔ وہ خوف بھی نہیں جانتی تھیں۔
مجھے کیا پتہ۔۔۔؟؟ فضا نے منہ بنا کے کہا۔
ایک بات تو طے ہے۔۔۔ ہمیں جہنوں نے اریسٹ کیا وہ پولیس والے نہیں تھے۔
فضا کچھ دیر بعد سوچتے ہوۓ بولی۔
پھر۔۔۔۔۔؟؟ پھر کون تھے۔۔۔؟؟ ردا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
ضرور۔۔۔ آنیہ یا ہانیہ۔۔۔ دونوں میں سے کسی ایک کا کام ہے۔
لیکن۔۔ سامنے کیوں نہیں آرہیں۔۔۔؟ ردا نے تنگ پڑتے کہا۔
آنیہ کا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ لیکن دعا کرو۔۔ ہانیہ سامنے نہ آۓ۔۔۔ سرد انداز میںں کہتی وہ ردا کو چونکا گٸ۔
کیا مطلب۔۔۔؟ حیرانی سے پوچھا۔
وہ۔۔۔ بہت غصہ والی ہے۔۔ اگر اسے سب پتہ چلا۔۔۔اور ۔۔یہ بھی۔۔ کہ اس سب کے پیچھے۔۔۔میں ہوں۔۔ تو ۔۔شاید ۔۔ وہ مجھے مار دے۔۔۔! دھیمےلہجےمیں کہا ۔
کیوں ڈرا رہی ہو۔۔۔؟ردا نے تھوک نگلی۔
صحیح کہہ رہی ہوں۔۔ تمہاری محبت کے چکر میں ۔۔۔میں بھی پھس گٸ ہوں۔۔ فضا نے منہ بناتے کہا۔
لیکن۔۔ پلان ۔۔تمہارا تھا۔ ردا نے دامن بچانا چاہا۔
اب بہن کی محبت کے لیے اتنا کچھ کر گٸ۔ اور تم۔۔ مجھے یہ سب کہہ رہی ہو۔۔؟؟ فضا نے دکھ سے کہا۔
ایم سوری فضا۔۔۔! مجھے۔۔۔ میر ہادی اچھے لگتے ہیں ۔ بہت۔۔۔ زیادہ۔۔۔ جب سے انکو دیکھا ۔۔۔ تب سے بس ایک ہی جنون ہے۔۔ وہ میرے ہوجاٸیں۔ اورتم۔۔دیکھنا۔۔۔ ایک دن ردا اپنے میر ہادی کو پا لے گی۔ ردا نے فضا کو گلے لگاتے پیار سے کہا۔
فضا نے بھی اسکے گلے کے گرد بانہیں پھلاٸیں۔
آنے والے وقت سے بے خبر وہ اپنی ہی دھن میں لگی تھیں۔












ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیابات ہے ہانیہ۔۔۔؟؟ اتنی چپ چپ کیوں ہو۔۔۔؟ آنیہ نے ہانیہ کو سونے کی بجاۓ اسکے ساتھ جڑ کے بیٹھے خیالوں میں کھوٸے فیکھا تو پوچھ بیٹھی۔
آپیہ۔۔۔۔! بیٹی۔۔۔کیا ہے۔۔۔؟؟ اچانک سے اس نے ایسا سوال کیا۔ آنیہ چونک گٸ۔۔
کیا مطلب۔۔؟؟ آج یہ کیسا سوال پوچھ لیا۔۔۔؟؟ آنیہ مسکراٸ۔
بتاٸیں ناں۔۔۔! لاڈ سےپوچھا۔
بیٹی۔۔۔۔! اللہ کی رحمت ہے۔ اور۔۔۔ خوش نصیب ہوتا ہے وہ شخص ۔۔ جس کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے۔
پیار سے اسے کہنے لگی۔
پھر اپنی خوش نصیبی لوگ۔۔۔ دوسروں کو کیوں دے دیتے ہیں۔۔؟؟ اسکی جانب دیکھتے دکھی انداز میں کہا۔
اسکی بات کا مطلب سمجھتے آنیہ مسکرا دی۔
پگلی۔۔۔! بیٹیوں کو تو ایک دن ۔۔رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔۔۔ کس نے آج تک بیٹی کو گھر رکھا۔۔۔؟؟
ہمارے پیارے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺ ناہوں نے بھی اپنی بیٹیو ںکی شادی کی ۔ ان کی رخصتی کی ۔ ان سے زیادہ کون اپنی بیٹیوں سے محبت کر سکتا ہے۔۔؟؟
ہمم۔۔۔۔۔۔ ! جانتی ہوں۔۔۔۔ آنیہ کے گلے لگتے وہ افسردہ ہوٸ۔
ایسے اداس کیوں ہو رہی ہو۔۔۔؟ پاگل۔۔۔! میں آتی رہوں گی ناں۔۔۔! ہانیہ کی آنکھوں کی نمی پے آنیہ کا دل بھی بھر آیا۔
آٸ مس یو۔۔۔! وہ اسکے ساتھ جڑ ہی گٸ۔
آنیہ نےپیار سے اسے ساتھ لگایا۔
اور اسکے چہرے کو دیکھنے لگی۔
اللہ جی۔۔۔! میری بہن بہت معصوم ہے۔۔۔ اسکی حفاظت کرنا۔۔۔! کسی مشکل میں نہ ڈالنا اسے۔
پیار سے اسکا ماتھا چوما۔ تو ہانیہ آنکھیں بند کیے مسکرا دی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
صبح کی پہلی کرن پیرزادہ منشن میں خوشیاں لاٸ تھی۔ آج پیرزادہ منشن کی سب ے بڑی بیٹی کی رخصتی تھی۔
ابرش کا دل بہت اداس تھا۔ پہلی بار اپنی آنیہ کو وہ خود سے دور کر رہی تھیں۔ بات بات پے اس کے آنسو نکل رہے تھے۔ لیکن وہ بہت مہارت سے انہیس صاف کر لیتی۔ اور صبح سے خو کو مختلف کاموں میں الجھاۓ رکھا۔
آنیہ اور ہانیہ دونوں کو پارلر بھیج چکی تھی۔ خود وہ سب گھر ہی تیار ہورہی تھیں۔
شہر کا سب سے بڑا بینکوٸیٹ بک کروایا تھا۔
ابر۔۔۔۔! میری ٹاٸ کہاں ہے۔۔۔؟؟ ابتسام کی الجھی ہوٸ آواز پے وہ چونکی تھی۔
آج کتنے عرصے بعد ابتسام نے اے ابر کہا تھا۔
یہی۔۔۔ رکھی ہے۔۔۔! اسکی طرف بڑھاتے دھیرے سے کہا۔
پہنا دو۔۔۔! ایک اور آرڈر لگایا ۔
ابرش نے اسکی طرف دیکھا ۔ وہ سنجیدہ انداز لیے ہوۓ ہی تھا۔
ابرش نے آگے بڑھ کے اسے ٹاٸ پہنانی چاہی۔ لیکن اسکے ہاتھ کانپے تھے۔ ابتسام کی لو دیتی نظریں اسکے چہرے کا ہی طواف کر رہی تھیں۔ اور ابرش سے ٹاٸ کی ناٹ ہی نہیں بن رہی تھی۔
پہلی بار پہنا رہی ہو۔۔؟ ابتسام نے میٹھا طنز کیا ۔
پتہ نہیں۔۔۔یہ۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟نظریں ملاۓ بنا کہتے وہ ابتسام کو دل کے قریب لگی تھی۔
اسکے ہاتھوں پے اپنا ہاتھ رکھتے اس نے ابرش کو اپنے قریب کیا۔
ایک پل کو ابرش کی نظریں اٹھیں۔ ابتسام سے اسکی نظروں کی لالی چھپی نہ رہ سکی۔
آگے ہوتے اسکے ماتھےپے مان بھرا بوسہ دیا۔ تو ابرش نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسی لمس کو تو وہ چاہ رہی تھی۔ وہ اندر سے ٹوٹ رہی تھی۔ ابتسام کی محبت کو وہ ترس رہی تھی۔ جو اس نے خود سے خود ہی دور کر دی تھی۔
پیاری لگ رہی ہو۔۔۔!میری بیٹی آنیہ ابتسام ساری اپنی ماں پے ہے۔۔۔ اس نے سارا روپ رنگ ۔۔ آپ سے چرایا ہے۔۔۔!دھیرے سے اسکے کان میں کہتا وہ اسے ریلیکس کر رہا تھا۔
دیر۔۔۔ ہورہی ہے۔۔۔چلیں۔۔۔؟؟ ابرش اسکی قربت میں خود کو پگھلتا محسوس کر رہی تھی۔ او اسکا احساس ابتسام کو ہو چکا تھا۔
اس لیے زیرِ لب مسکراتا اپنی ٹاٸ درست کرنے لگا۔
جادو گر۔۔۔۔۔!برسوں پہلے دیا گیا خطاب آج ایک بار پھر سے ابرش نے ابتسام کا دے دیا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہ ضروری ہے مما۔۔۔؟ سہرا دیکھ میر ہادی کا منہ بنا تھا۔
ہادی۔۔۔! سہرا ۔۔دلہے کی شان ہوتا ہے. بنا سہرے کے دلہا دلہا تھوڑی نہ لگتا ہے۔
کشش نے بہت پیار سے سہرا میر ہادی کے سر پے سجایا۔ جبکہ میر ہافی بس برے منہ بناتا رہ گیا ۔
کششش۔۔۔۔۔۔۔! باہر سے میر یامین کی اونچی پکار پے دونوں چونکے۔
لو جی۔۔۔ ایک تو آپ کے ابا حضور کو میرے بنا سکون نہیں آتا۔
آپ جلدی سے آجاٶ۔۔ نیچے۔۔۔! میں انک ودیکھ کے آتی ہوں۔ کشش اپنی بلیک ساڑھیکا پلو سنبھالتے بڑی شان سے باہر نکلی تھی۔
باہر تو وہ بہت خوشی سے آٸ تھی۔ لیکن آگے میر یامین کو آگ بگولہ دیکھ ٹھٹھکی۔
بھنوٸیں اچکاتے پوچھا۔
یہ۔۔۔ گھوڑا گاڑی۔۔۔ کہاں سے آٸ۔۔؟؟ سامنے کھڑی بگھی کی طرف غصہ سے دیکھتے کشش سے پوچھا۔
اللہ اللہ ۔۔۔ ! میر یامین۔۔سکندر۔۔۔! یہ۔۔ اتنی پیاری بگھی۔۔آپ کو گھوڑا گاڑی نظر آرہی ہے۔۔۔ اتنی شاندار قسم کی آرڈر پے تیا رکرواٸ۔۔ آپ نے اسکی بے عزتی کر ڈالی۔
منہ بنا کے بولتی وہ یامین کو سلگا گٸ۔
مجھے پہلے ہی اندازہ کر لینا چاہیے تھا۔ گھر میں افلاطون رکھی ہوٸ ہے۔ کوٸ نہ کوٸ کارنامہ تو کر نا ہی تھا۔ یامین سکندر نے فل کی بھڑاس نکالنی چاہی۔
یہ آپ نے افلاطون کسے کہا؟
حشر سامانیو کے ساتھ کھڑی وہ اب کنر پے ہاتھ رکھے لڑنے مرنے پے اتر آٸ۔
سو باتوں کی ایک بات۔۔ ہادی۔۔۔ گاڑی میں جاۓ گا۔ بارات لے کے۔۔۔۔ نہ کہ ۔۔۔۔یہ۔۔۔؟؟؟
بگھی۔۔۔! اس سے پہلے کے یامین پھر سے اسکی شان میں کوٸ قصیدہ پڑھتا منہ بنا کے کہتی وہ یامین کو ہی دیکھ رہی تھی۔
وٹ ایور۔۔۔! اسے میرے سامنے سے ہٹاٶ۔۔۔!
ہرگز نہیں۔۔۔! بارات بگھی پے جاۓ گی تو بگھی پے ہی جاۓ گی۔ میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا۔
ہاتھ اٹھا کے صاف ہری جھنڈی دکھاٸ۔
کشش۔۔! ہر بار کی ضد اچھی نہیں ہوتی۔ زمانہکہاں پہنچ گیا ہے۔۔۔ اور۔۔تم۔۔یہ۔۔۔؟؟
بگھی۔۔۔۔۔۔۔! پھر سے بات کو اچکا۔
دونوں کی نہ ختم ہونے والی بحث شرو ہو چکی تھی۔ میر ہای کبسے باہ آچکا ماں باپ کو جھگڑتے دیکھ رہا تھا۔ کوٸ بھی ان کے بیچ نہیں آتا تھا۔
بس۔۔ کر جاٸیں یار آپ دونوں۔۔۔! آخکار میر ہادی بول پڑا۔ تو دونوں نے چپ ہوتے اسکی جانب دیکھا۔
جوس کا موڈ سخت خراب ہوچکا تھا۔
ہادی۔! اپنے بابا کو بول دو۔۔۔ آپ بگھی میں جاٸیں گے۔
ہافی کےپاس آتے اکڑ کے کہا۔
یامین نے لب بھینچے۔
مما۔۔۔۔بابا۔۔۔ میری بات سن لیں۔ اگر آپ نے جھگڑا ختم نہ کیا۔ تو بارات پھر دلہے کے بنا ہی جاۓ گی۔
میر ہادی کے کہنے پے میر یامین سخت غصہ سے باہر نکل گیا۔
مما۔۔۔! آپ ہی سمجھ جاٸیں یار۔۔۔! وہ زچ ہوا۔
ہادی۔۔۔! مما کی خواہش ہے بیٹا۔۔۔! آپ کی بارات بگھی پے جاۓ۔ منہ بناتے اموشنلی کہا۔
ٹھیک ہے۔۔ میں آپ دونوں کو ناراض نہیں کر سکتا۔
یہاں سے گاڑی پے۔ اور شادی حال کے پاس سے پہنچتے ہی پھر بگھی پے ۔
ہادی نے آسان حل بتایا۔
ڈن۔۔۔! چلو چل کے میر یامین کو بتاتے ہیں۔
خوشی سے چہکتے وہ ہادی کو تھامے یامین کے پاد پہنچے۔جہاں یامین نے پہلے تو بات کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کشش کے سمنے کب کسی کی چلی ہے۔ آخر کار مانتے ہی بنی۔ اور پھر دھوم دھام سے سہرابندی کی رسم ادا کی گٸ ۔صدقہ و خیرات تقسیم کیا گیا۔ سب کی دعاٶں میں بارات روانہ ہوٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
پیچھے باراتی ۔۔۔
آگے بینڈ باجا۔۔۔
آۓ دلہے راجا۔۔۔
گوری کھول ۔۔۔ دروازہ۔۔۔
بارات کا بہت پرزور اور بھرپور طریقے سے استقبال کیا گیا ۔ ہانیہ نے آگے بڑھ کے میر ہادی کا بہت شاندار طریقےسے ویلکم کیا۔ بینڈ باجے اور باراتی ۔۔۔
سبھی ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ سبھی کے چہرے خوشی سے دمک رے تھے۔
اور ان سے سے نظر بچا کے ہانیہ نے بہت صفاٸ سے آہان کا موباٸل اٹھا لیا۔
موباٸل لیے وہ فوراً وہاں سے غاٸب ہوٸ۔
ایک خاموش گوشے میں روم کے اندر آتے رومکولاک کرتی اپنے چھوٹے سے بگ سے لیپ ٹاپ نکالا۔
ادے اب موباٸل کا پاسورڈ ہیک کرنا تھا۔
فضا کہاں ہے۔۔۔؟؟ ہ انفارامیشن اسے صرف آہان کے موباٸل سے ہی مل سکتی تھی۔
وہ مسلسل پاسورڈ کو ہیک کرنے کی کوشش کر ہی تھی۔ لیکن ہر بار ناکام ہو جاتی۔
کہ تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجوفگی کا احساس ہوا۔
میں لگا دیتا ہوں۔پاسورڈ۔۔۔! کہتے ہی۔۔ ایک ہاتھ نے پاسورڈ ٹاٸپ کیا۔
پاسورڈ دیکھ ہانیہ کے تو چودہ طبق ہی روشن ہوگۓ۔
جاری ہے۔
