Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 22)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 22)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
وہ دیکھو۔۔۔! ہانیہ اسکے کان میں چلاٸ۔ سامنے ہی دو بڑی بڑی آنکھوں والا ایک بھیڑیا انہی کی تاک میں گھات لگاۓ بیٹھا تھا۔ اور ان پے اٹیک کیا۔
ہانیہ آہان کے پیچھے تھی۔دونوں ہی بھیڑیے کو جمپ لگاتا دیکھ رہے تھے۔ ہانیہ چینخی۔
اس سے پہلے کہ وہ انہیں نقصان پہنچاتا ۔ آہان نے فوراًاسکا نشانہ لیا۔ اور اسکی کھوپڑی اڑا دی۔
بھیڑیا آہان کے قدموں میں گرا اور دم توڑ گیا۔
دونوں ہی دم سادھے اسے دیکھنے لگے۔ آہان نے اسکا ہاتھ تھاما تو اسکا سکتہ ٹوٹا۔
فوراً نکلنا ہے یہاں سے۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔ اور بھیڑے آٸیں۔ چلو۔۔۔۔! آہان نے کہتے اسے اپنے ساتھ کھینچا۔ اور وہ بھی کھینچی چلی گٸ۔ اندازہ کرتا وہ اسی پہاڑی کی طرف رخ کیے ہوٸے اندھیرے میں ہی بھاگے چلے جا رہے تھے۔ کہ انہیں پھر سے کسی کے غرانے اور قدموں کی چاپ سناٸ دی۔
شاید۔۔۔ کوٸ ہمارے پیچھے ۔۔۔۔ ہے۔۔ بھاگتے ہوۓ پھولی سانسوں میں ہانیہ نے آہان سے کہا۔
یہ علاقہ بھیڑیوں کا ہے۔۔ ہمیں یہاں سے جلد از جلد نکلنا ہوگا۔ آہان نے اسا ہاتھ نہ چھوڑا تھا۔ غرانے کی آوایں بہت پاس سے آرہی تھیں۔ آہان کا دھیان آوازوں پے ہی تھا۔ ایک پل کو اچانک وہ رکا۔ ہانیہ اسکی پیٹھ سے جا ٹکراٸ۔ آہان آنکھیں موندھے اندازہ لگا رہا تھا۔حملہ کہاں سے ہونے والا ہے۔ اور تبھی ایک اور بھیڑیا اسکے سامنے آن وارد ہوا۔ اور آہان نے اس پے گولی چلاٸ۔وہ بھی وہیں ڈھیر ہوگیا۔ وہ دونوں جنگل کے بیچوں بیچ پھسے تھے۔ نہ وہ آگے بڑھ پا رہے تھے۔ نہ پیچھے۔۔ دونوں ہی چپ چاپ بنا آواز کے کھڑے تھے۔
آہان نے اپنی گن کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔ اب تو گولی بھی ایک ہی بچی تھی۔
ہانیہ آہان کی بازو کے ساتھ چپکی تھی۔ اور اندھیرے میں ہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ دل چیز دینے والی خاموشی تھی۔ لیکن یہ خاموشی خاموشی ہی رہی۔ جیسے طوفان سے پہلے والی خاموشی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کشش ڈراٸیور کی مدد سے آنیہ کو لیے ہاسپٹل پہنچی تھی۔ اسے آٸ سی یو میں لے گٸے تھے۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اسے اپنے ہی بیٹے سے اس قسم کی توقع بالکل نہ تھی۔
میر یامین کو آتا دیکھ وہا سکے سینے سے جا لگی۔
کہاں ہے میر ہادی ۔۔؟؟ آج پہلی بار کشش نے میر یامین کو غصہ میں دیکھا تھا۔
معلوم نہیں۔۔۔؟؟ غصہ سے نکل گیا کہیں۔۔؟ روتے ہوۓ بس اتنا ہی کہہ پاٸ۔
آنیہ۔۔۔کیسی ہے۔۔؟؟ انہیں پریشانی نے آن گھیرا۔
ڈاکٹرز دیکھ رہے ہیں۔ پلیز۔۔۔ پوچھیں ناں۔۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟
کشش کے کہنے پے وہ ڈاکٹرز سے پوچھنے آگے بڑھ گیا ۔
؟میر ۔۔۔ یہ کیاکر دیا آپ نے۔۔۔؟؟ معصوم بچی کے ساتھ یہ سلوک۔۔۔؟؟ میں نے ایسی پرورش تو نہ کی تھی آپ کی۔۔۔؟؟
بنا سچاٸ جانے وہ غلط فہمی کا شکار ہو رہی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں میر یامین واپس آۓ۔ تھکے ہارے سے۔
میر ہادی۔۔ نے کیوں کیا ایسا۔۔۔؟؟ وہ اپنے اندر کے اشتعال کو ضبط کرتے بولے تھے۔
کچھ۔۔۔ نہیں کیا ہوگا۔۔۔؟؟ وہ ۔۔۔ایسا نہیں۔۔ شاید۔۔۔ گر گٸ ہو۔۔۔؟؟ کشش نے میر ادی کی ساٸیڈ لی۔ تو میر یامین نے ایک دکھتی نگاہ اس پے ڈالی۔
آنیہ کے گلےپے انگلیوں کے نشان ہیں۔کشش۔۔۔؟؟؟ ڈاکٹر نے پولیس کیس بتایا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ میری وجہ سے چپ ہوگۓ ہیں۔۔ آپ جانتی ہیں۔۔ اگر آنیہ کے گھر والوں کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ کیا سوچیں گے۔۔۔؟
آج دوسری بار میر یامین اضطراب سے گزررہا تھا۔
میر ہادی کو وہ وحشی او جانور کہیں گے۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے یامین۔۔۔ وہ ہمارا بچہ ہے۔۔ اسطرح تو نہ بولیں۔۔۔ کشش تڑپ کے کھڑی ہوٸ تھی۔
کسی کی بیٹی کے ساتھ جانوروں والا سلوک کرو تو۔۔وہ انسان نہیں کہلایا جاتا۔۔۔ میر یامین آج واقعی میر ہادی سے سخت نالاں لگے۔
ڈاکٹر کے باہر آنے پے وہ دونوں خاموشی ے انہیں دیکھنے لگے۔
شی از آٶٹ آف ڈینجر۔ اکانچ ہم نے نکال دیا ہے۔ لیکن ۔۔۔ کلاٸ پے گہرا زخم آیا ہے۔ جس پے ہمیں اسٹیچز لگانے پڑے ہیں۔
اور چہرے پے۔۔۔؟؟ کشش نے ڈرتے ہوۓ پوچھا۔
شہرے پے ہلکا سا زخم ہے۔ کانچ چھوٹا تھا۔ وہ نکال دیا ہے۔ کچھ دیر میں انہیں ہوش آجاۓ گا۔ آپ میر صاحب میری بات سنیں پلیز۔۔۔؟؟
ڈاکٹر میر کو اکیلے میں لے گیا۔ اور کچھ باتیں کرنے لگا۔ میر یامین ضبط کیے سب سنتا رہا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ کشش کے پاس آٸے۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کشش کو وہ اور زیادہ پریشان لگے۔
آنیہ نے اگر ہوش میں آنے کے بعد ۔۔۔ میر ہادی کانام لیا۔۔کہ اسنے یہ سب۔۔۔؟؟ تو ۔۔۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے۔۔ وہ کسی قسم کی رعاتی نہیں کریں گے۔۔۔اور۔۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔۔ ! کہتے ہوٸے سخت اقدام سے اٹھتے وہ ہاسپٹل سے باہر نکلتے چلے گٸے ۔ وہ جانتے تھے اس وقت میر ہادی کہاں ہوگا۔۔ اس بار وہ اسے معاف کرنے والے نہ تھے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
گاتا مسکراتا ۔۔۔ تیرا بھیا رہ جاۓ گا۔۔۔
آج وہ پھر ای سال پیچھے چلا گیا تھا۔
ایک سال۔۔۔ وہ ایک سال پہلے کا زخم پھر سے ہرا ہوگیا تھا۔ کتنا خوش تھے وہ سب۔۔۔اسکی اکلوتی او لاڈلی بہن نور فاطمہ کی شادی تھی۔
اور بہت ہی دھوم دھام سے تیاریاں ہو رہی تھیں۔ میر یادہ ہر موقعے پے اسے چھیڑنا لازمی سمجھتا تھا۔ کبھی وہ چڑ جاتی کبھی مسکرا دیتی۔ وہ تھی ہی کوٸ کانچ کی گڑیا۔ بے انتہا معصوم ۔۔۔ اور بے انتہا خوبصورت۔۔۔ ہاتھ لگاۓ میلی ہوتی تھی۔
سب کی آنکھو ں کا تارا وہ نور فاطمہ تھی۔
دراز سے تصویر نکالے وہ ایک ٹک اس تصویر کو دیکھے جا رہا تھا۔
بھاٸ ! یہ دیکھیں کتنا خوبصورت ڈیزاٸن ہے۔۔۔ موباٸل پے ایک پینڈیٹ کھاتی وہ ایکساٸٹڈ ہو رہی تھی۔
ہممم۔۔۔۔ مصرف سا جواب آیا۔
ہمیں یہ چاہیے۔۔۔۔! آرڈر دیتے وہ استحاق سے بولی۔ میر ہادی تو بہن کی ہر خواہش پے جان دینے والا۔
جی او کوٸ حکم۔۔ملکہ عالیہ۔۔۔؟
ہممم۔۔۔ ایسا کیجیےگا۔۔ اسطرح کے دو بنواٸیے گا۔۔۔ ایک ہمارے لیے ایک ہماری بھابھی کے لیے۔۔۔ شادی کا گفٹ۔۔۔ ! کیسا۔۔۔؟؟
وہ ایسی ہی تھی۔۔۔ پل میں فیصلہ کرنے والوں میں سے۔ اور شادی کا فیصلہ بھی تو پلوں میں ہوا تھا۔ اسکی پسند حیدرسلطان۔۔۔ اور سب کے خلاف جا کے میر ہای نے اسک ساٸیڈ لی تھی۔ اور اسکا رشتہ حیدر سلطان سے ہوگیا۔ وہ بھی نور کو بہت چاہتا تھا۔
لیکن ۔۔ شاید نظریں ہی کھا گٸ تھیں۔ ان کے پیار کو۔۔۔ جو سب کو آنسوٶں سمیت واپس ملا۔ ایسا درد جو میر ہادی ہر گزرتے وقت میں اپنے اندر بڑھتا محسوس کر رہا تھا۔
جسطرح دھوم دھام سے رخصتی کی تھی۔ کاش نصیبو ں میں بھی خوشیاں لکھ دیتا اسکا بھاٸ تو آج وہ جان پاتا کہ وہ کیسے انہیں چھوڑ کے اللہ کے پاس چلی گٸ۔۔۔؟
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ابرش کو ابتسام کا فون آیا تھا۔ جس میں اس نے ہانیہ کا یہی بتایا کہ وہ اس کے ساتھ ہے ۔اور کسی سے فی الحالکوٸ بات نہ کرے۔وہ اسے ساری بات تو نہ بتا سکا۔
لیکن ابرش نے اندازہ لگا لیا کوٸ نہ کوٸ بات ضرور ہے۔ وہ پریشانی سے چکر کاٹ رہی تھی۔ کہ عروش روم میں داخل ہوٸ۔
بھابھی۔۔۔! آپ۔۔یہاں ہیں۔۔؟؟
عروش نے حیرت سے دیکھتے کہا ۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟
آہان اور ۔۔نور صبح سے غاٸب ہیں۔۔ کوٸ پتہ نہیں کہاں گٸے ہیں کیا آپ کو پتہ ہے۔۔؟؟
آہان اور نور ۔۔۔؟؟ ابرش نے زیرِ لب دہرایا۔۔۔
وہ بھی غاٸب ہیں۔۔ یہ سب۔۔۔کہاں جا سکتےہیں۔۔؟ آخر ایسی کیا بات ہے جو ابتسام مجھ سے چھپا رہے ہیں ۔۔ اور میری اولاد تک کو اس میں شامل۔کر لیا۔ اور مجھےبتانا ضروری نہ سمجھا۔۔۔؟؟
کیا ہوا بھابھی۔۔؟؟ کیا سچنے لگیں۔۔؟؟ عروش نےپکارا۔
کیا ابتسام بھاٸ بھی گھر نہیں۔۔؟؟
عروش نے ادھر ادھر نظریں گھماتے پوچھا۔
انہیں کچھ ضروری کام ہے وہ تو اکٹر ہی لٹ آتے ہیں۔ کوٸ نٸ بات نہیں۔۔ ابرش نےٹالا۔
ہمممم۔۔۔ شاید آہان اور نور بھی اب سے لیٹ پ گھر آیا کریں گے۔۔۔؟؟ دھیرے سے کہتے وہ اٹھی تھی۔ ابرش کو اسکی بات بری تو لگی۔ لیکن خاموش رہی۔ اس وقت وہ خود پریشان تھی۔ اسے کیا جواب دیتی؟
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
دھیمے اور خاموش قدموں سے وہ سانس روکےچلتے جا رہے تھے۔اب وہ اس علاقے سے نکل آۓ تھے۔ لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہ تھا۔
لیکن اب دونوں ہی چلتے چلتے تھک گۓ تھے۔
تم۔۔۔ ڈیڈ سے کانٹیکٹ کیوں نہیں کر رہے۔۔؟؟ وہ ہمیں یہاں سے آکے لے جاٸیں۔۔۔ چلتے ہوٸے اپنی راۓ دی۔
شوق ہے آدھی رات کو جنگلوں میں آوارہ گردی کرنےکا۔۔ اس لیے نہیں رابطہ کر رہا۔۔۔ ! چلتے ہوٸے ہی میٹھا سا طنز کیا۔
ہانیہ نے اسکی بات پے اے کھا جانے والہ نظروں سے گھورا۔ لیکن اندھیرےمیں کیا گھورنا تھا۔
اب میری بس ہوگٸ ہے۔۔۔! مجھ سے نہیں چلا جا رہا۔۔۔! ہانیہ نے رکتے ہوٸے تھکے انداز میں کہا۔
اگر تمہیں لگتا ہے تمہاری یہ فضول کی باتیں سن کے میں تمہیں کندھوں پے اٹھا لوں گا۔۔تو اس بھولمیں مت رہنا۔۔۔ یں بھینسوں کو نہیں اٹھاتا۔ اچھا خاصا اسے تڑک کے جواب دیتا وہ ہانیہ کو سر سے پیر تک سلگا گیا۔
کیا کہا۔۔۔؟؟ بھینس۔۔۔؟؟ میں۔۔ میں۔۔تمہیں۔۔ بھینس لگتی ہوں۔۔؟؟ اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔؟ موٹے سانڈ۔۔۔! بازو دیکھا ہے اپنا۔۔۔ تین تین کلو کا ایک بازو ہے۔۔۔ اور مجھے ۔۔۔ مجھےتم۔۔؟ اپنی آنھو ںکا علاج کرواٶ۔۔۔ سانڈ کہیں کا۔۔۔
اچھا خاصا بدلہ لیتے ہ اب پرسکون ہو رہی تھی۔
یہ۔۔تمہیں موٹے لگتے ہیں۔۔؟ اپنے مسلز کو سامنے کرتا وہ اتراتے ہوۓ بولا تھا۔ آج پہلی بار اسے ہانیہ سے بات کرتے نفرت ہں محسوس ہو رہی تھی۔ یا شاید آج پہلی بار اس نے اسکی زات کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔
فار یور کاٸنڈ انفارمیشن۔۔ یہ مسلز۔۔۔ ہیں۔۔ تم۔کیا جانو۔۔ مسلز۔۔ سکس پیکس۔۔۔ ! یہ ہم لڑکوں کی باتوں سے تم لڑکیاں دور ہی رہو۔۔۔ اپنے مسلز کو فخر سے دیکھتا وہ مکراتے بولا تھا۔ اور اسکی مسکراہٹ چاند ک روشنی میں ہانیہ کو بہت بھلی لگ تھی۔ لیکن چہرے پے ناگواریت ہی سجی رہی۔
ہمممم۔۔ تبھی وہ ۔لڑکی۔۔۔نور فاطمہ۔۔۔ تمہاری ۔۔ جھوٹی بیوی۔۔ تم پے فلیٹ ہو رہی تھی۔۔۔! ابکی بار طنز میں ہلکی ہلکی جلن سی محسوس ہوٸ۔
ہممممم۔۔۔ آہان ایکم سے سنجیدہ ہوا۔
وہ نور فاطمہ نہیں ہے۔۔۔! آہان نے اسکے سر پے بم پھوڑا۔
اور نہ ہی میری بیوی۔۔۔! ایک اور بم پھوڑا۔
مطلب۔۔۔؟ آپ دونوں کا نکاح نہیں ہوا۔۔۔؟؟ ہانیہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
ہوا ۔۔۔! لیکن ۔۔نقلی نکاح تھا۔۔ نکاح خواں بھی نقلی۔۔ نکاح نامہ بھی نقلی۔۔ اور نام بھی۔۔۔ نقلی۔۔۔! اسکا بھی۔۔ اور۔۔۔ میرا بھی۔۔۔!
کیا پہلیاں بجھوا رہے ہو۔۔؟ صاف صاف بتاٶ ناں۔۔۔؟؟
ہانیہ کو سارا سچ جاننے کی جلدی ہوٸ ۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ ہیلی کاپٹرز کی آواز پے دونوں چونکے۔
جاری ہے۔
