Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 17)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 17)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ہانیہ کو لیے وہ شخص ایک خفیہ جگہ پے پہنچا تھا۔ اور اسے ایکجگہ زمین پے لٹایا۔ نظروں سے ہانیہ کامکمل ایکسرےکیا۔ اور جیب سے موباٸل۔نکالتا کال ملانے لگا۔
باس۔۔ کام ہوگیا۔۔۔! نظروں میں حوس لیے اس نے مقابل کو بہت فخر سے بتایا۔
ٹھیک ہے۔ اس کو قابو میں رکھو۔ لیکن۔۔۔ اسے ایک کھروچ بھی نہیں آنی چاہیے۔ وہ کبیر سلمان کی ہے صرف ۔ یاد رکھنا۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔!
اثبات میں س ہلاتے اس نے کال بند کی۔ اور چہرے پے ہاتھ پھیرتے سامنے بے ہوش پڑے وجود کو حوس سے دیکھتے سوچ بچار کرتا وہ اپنی جیکٹ اتارنے لگا۔
تھوڑا سا چھولوں گا تو کونسا باس کو پتہ چلے گا۔۔؟؟ اور یہ بھی بے ہوش ہے کون سا بتاۓ گی۔ کہ اسکے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟؟ تھوڑا خش ہی ہوجاٶں گا۔ اتنا خوبصورت مال ہاتھ لگا ہے۔ اب بنا اپنی پیاس بجھاۓ آگے بھیج دی تو تف ہی تجھ پے فیضی۔
خود کو دل ہی دل میں ناور کرواتا وہ ہانیہ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ اور اب اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔جبکہ ہانیہ دنیا جہان سے بے خبر بے ہش پڑی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آنیہ۔۔۔؟؟ میری بچی۔۔۔؟ کیسی ہو تم۔۔؟؟
آنیہ میر ہادی کے ساتھ جیسے ہی میر ولا میں داخل ہوٸ۔ سامنے ابرش اور ابتسام کو دیکھ ٹھٹھی۔
اور ماں کے گے لگی۔ سبھی وہاں اکھٹے ہوۓ تھے۔ سبھی ک خبر مل چکی تھی۔
مما۔۔۔! ڈیڈ۔۔۔! میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔!ایک بار وہ پھر سے رو دی۔ ابرش نے اسے گلے سے لگایا۔ جبکہ سب کی سوالیہ نظریں میر ہادی پے تھیں۔
آنیہ کو پھنسانے کی سازش کی گٸ تھی۔
کوٸ تھا وہاں ۔۔۔ اایسا۔۔۔ انسان ۔۔ جس نے یہ سب کیا۔۔۔اور الزام آنیہ پے لگ گیا۔
آپ کو کیسے پتہ چلا سب۔۔؟ ابتسام نے فوراً سے سوال گڑھا۔
میر ہادی نے ایک نظر روتی آنیہ پے ڈالی۔
ٹی وی پے جیسے خبر پڑھی۔ می ںنے آنیہکو کافی کالز کیں۔ لیکن شاید۔۔۔ سگنل کا مسٸلہ تھا کال ۔۔ نہیں لگی۔
میرنے بات گڑی۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ ک کرب سے گزر کے وہ یہ بات کر رہا تھا۔ کیونکہ آنیہ نے فون بند کر دیا تھا۔ اور یہ بات وہ خوبصورتی سے چھپا گیا تھا۔
آپ میرے ساتھ چلیں۔ میر ہافی انہیں لیے سٹڈی روم کی جانب بڑھا۔ ابتسام اور میر یامین دونوں کو ہی سچاٸ جاننی تھی۔ جو کام وہ نہیں کر سکے۔ کتنی کوششیشیں کیں لیکن کیس فاٸل۔ہو چکا تھا۔ اور وہ بے بس ہوگۓ تھے۔
جب آنیہ کا فون نہ لگا تو میں نے رضوانکو فون کیا۔ جسے میں نے آنیہ کی حفاظت پے مامور کیا ہوا تھا۔
اسی کے زریعے مجھے پتہ چلا کہ۔۔ آنیہ آپرہشن تھیٹر میں ہے۔ مجھ سکون کا سانس آیا ۔ راستہ میں بہت مسٸلہ تھا۔ ڈاکٹرز کے سٹراٸیک ک وجہ سے میں بہت مشکل سے ہاسپٹل پہنچا تھا۔ لیکن۔۔۔ وہاں۔۔ میں نے آنیہ کو نہ پایا۔ جب پتہ کیا تو رضوان نے مجھے سب بتایا۔ کہ کسی نے آنیہ کو پھسایا ہے۔ اسکا پہلا آپرشن تا۔ جو کامیاب رہا۔ لیکن۔۔۔ کسی نے آنیہ کے نکلتے ہی روم میں داخل ہوکر۔۔۔ ماں اور بچے دونوں کو زہر کا اانجکشن دے دیا۔ جس وجہ سے دونوں موقع پے ہی دم توڑ گۓ۔ پولیس۔۔ آنیہ کو لے گٸ تھی۔
ایک پل کا توقف کیا۔ اور پھرسے ان سے مخاطب ہوا۔
وہاں کیمرہ موجود تھا۔ جس سے وہ شخ أنجان تھا۔انجان تو میں بھی تھا۔ اگر ارتسام انکل کی کال نہ آتی مجھے۔۔۔ تو کبھی پتہ نہ چلتا۔ انہوں نے بتایا۔ کہ اس کیمرے سے ویڈیو نکلوا کے چیک کروں۔ اور وہیں۔۔ آنیہ کی بے گناہی کا ثبوت مل گیا۔ اور ۔۔۔ آنیہ کی ضمانت منظور ہوگٸ۔ اپنی ات مکمل کرتا وہ اب انہیں دیکھ رہا تھا۔
بیٹا۔۔۔! آپ نے جو کیا۔۔۔ مجھ پے یہ احسان۔۔؟
پلیز۔۔۔۔ انکل۔۔۔ یہ آپ پے احسان نہیں۔۔۔ میں نے اپنی بیوی کو پروٹیکٹ کیا۔ جو کہ میرا فرض تھا۔ مجھےبس اک بات کہنی ہے آپ سے۔ پلیز۔۔ آپ دونوں کا فیور چاہیے۔ میر ہادی نے بات کاٹی ۔
انکل۔۔یہ ب کرنے والا شخص ابھی پکڑا نہیں گیا۔ وہ آزاد ہے۔ اور مجھے۔۔ نہیں لگتا۔۔ کہ وہ چپ بیٹھے گا۔ وہ ضرور دوبارہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور۔۔۔ میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا۔کہ آنیہ کو کوٸ نقصان پہنچے۔
بیٹا۔۔۔ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کھل کے کہیں۔ ۔۔؟؟ یامین نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے کہا۔
میں نہیں چاہتا کہ فی الحال آنیہ ہاسپٹل جواٸن کرے۔ جب تک وہ شخص پکڑا نہیں جاتا۔
آپ کی بات درست ہے۔ آپ آنیہ کے حق میں جو بھی فیصلہ لیں گے۔ اس میں آنیہ کے لیے بہتری ہوگی۔
ابتسام نے اسکی ہاں میں ہاں ملاٸ۔ جبکہ میر نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
مجھے پورا یقین تھا۔ میر ہادی آنیہ کو لے آۓ گا۔ ۔۔ دیکھا لے آیا ناں۔۔۔؟؟ کشش نے خوشی سے کہا۔ اور ان کے کھانے کا بندوبست کرنے چلی گٸ۔
آنیہ تم ٹھیکہو ناں۔۔ بیٹا۔۔؟؟ أابرش کو اسکا لرزنا محسوس ہوا۔
مما۔۔۔! اس۔۔۔ بچے۔۔۔ کو میں نے ۔ اپنی۔۔گو۔د۔۔۔میں۔۔اٹھایا تھا۔وہ۔۔وہ زندہ تھا۔۔۔رویا تھا۔۔۔اس نے ۔۔۔میرے ہاتھوة کا لمس سب سے پہلے پایاتھا۔۔مجھے لگا۔۔ وہ ۔۔۔ بچہ۔۔۔ اللہا بہت پیارا تحفہ ہے۔۔ اپنے ماں باپ کے لیے۔۔ اسکا۔۔۔ رونا۔۔۔ زندگی کی۔۔نوید تھا۔۔ مام۔۔۔ وہ بالکل۔۔۔۔ ٹھیک تھا۔۔ اور۔۔ اگلے ہی پل۔۔۔ وہ چپ تھا۔۔۔ ایکدم چپ۔۔۔ زندہ لاش۔۔۔ وہ۔۔۔ چھوٹا۔۔۔سا۔۔۔۔؟؟؟ اسکی کی دشمنی تھی کسی کے ساتھ مما۔۔۔! آنیہ کی ہچکیاں بندھ گٸ تھیں۔ ابرش نے اسے گلے سے لگایا۔ وہ خد بھی رو دی تھی۔
اللہ سے دعا کرو۔اللہ اس کے گھر والوں کو صبر عطا کرے۔
مما۔۔۔ اسکی تو۔۔۔ماں۔۔ بھی۔۔۔ بچی۔۔۔!وہ روتے ہوۓ بمشکل۔بچی تھی۔بٹ۔۔مما۔۔۔ گاڈ۔۔پرامس۔۔۔می ںنے کچھ نہیں۔۔۔ کیا۔۔۔ سب ۔۔۔سب نے مجھے۔۔۔ باتیں۔۔ سناٸیں۔۔۔ مجھے۔۔۔ قصاٸ کہا۔۔۔ قاتل کہا۔۔۔ا ور نجانے کیا کیا۔۔۔؟؟ مما۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ روتے روتے پھر سے ہچکیاں لنے لگی۔ تو ابرش اسے لیے روم میں چلی گٸ۔ اسے پانی پلایا۔ تسیاں دیتی وہ اسے ریسٹ کا بولتی باہرنکل آٸ۔
آنیہ لیآے ہوۓ بھی بری طرح رو رہی تھی۔ ملازمہ کھانا لاٸ تھی۔ کو اس نے ساٸیڈ پے رکھ دیا۔
اسکی حالت کے پیشِ نظر اسے مزید نہ چھیڑا گیا۔ اسے فی الحال کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔ کہ وہ خود کو سنبھال سکے۔
دروازہ لھلنے کی آوازپے وہ چونکی۔ لیکن کروٹ کے بل منہ پھیرے۔لیٹی رہی۔
آنیہ۔۔۔! کھانا کھالو۔۔۔! میر ہای کی سنجیدہ آوا پے وہ پلٹی تھی۔ آنکھیں آنسوٶں سے تر تھیں۔ تو گال بھی بھیگے ہوۓ تھے۔
میر ہادی کو اسکی حالت دیکھ مزید طیش آگیا۔
آپ یہ رونا دھونا بند کریں گیں۔۔؟؟ ماتھے پے بل ڈالے کہا۔ تو آنیہ سہم سی گٸ۔
میں نے کچھ۔۔۔ نہیں۔۔۔ کیا۔۔۔! وہ پھر ے صفاٸ دینے کی کوشش کرنے لگی۔
میرِ آن۔۔۔! کتنی بار آپ سے کہوں۔۔۔کہ مجھے آپ کو صفاٸیاں دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ می ںپپپ کا ساٸبان ہوں۔۔ آپ کا اعتبار۔۔۔ کیوں آپ مجھے یہ سب کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ جبکہ میں ساری سچاٸ جانتا ہوں۔ اور۔۔۔ نہ بھی جانتا ہوتا۔ تو۔۔۔ بھی آپ پے میرا یقین اٹل ہے۔۔ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ سمجھیں آپ۔
وہجو اسے اپنے ساتھ لگاۓ ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہتا پیچھے ہٹا۔ جھٹ سے آنیہ اسکے چوڑے سنے میں سماٸ۔ اور اتنی مضبوط گرفت سے میر ہادی کو ہگ کیا۔ کہ ایک لمحے کو وہ تو سکتے میں ہی آگیا۔
ایم سوری۔۔۔ ! میں نے۔۔۔ موباٸل۔آپ ۔۔کردیا تھا۔۔۔! آنکھی ںمچے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہی تھی۔
آپ کو لگتا ہے۔۔ کہ آپ کو اس بات کی معافی ملنی چاہیے۔۔۔۔ ؟میر ہادی نے اسے اپنے سامنے کرتے سنجیفہ انداز میں پوچھا۔
وہ سوں سو ں کرتی سر جھکاۓ اس وقت اتنی معصوم لگی میر ہادی چاہ کے بھی زیادہ سختی نہ کر پارہا تھا۔
میں۔۔۔ سزا کے لیے تیار ہوں۔۔ لیکن۔۔ بس آپ ایک وعدہ کریں۔۔ مجھ پے ہمیشہ یونہی اعتبار کرتے رہیں گے۔۔!آنیہ نے بہت مان سے کہا۔ کہ میر ہادی اس کے چہرے کے سکون کو دیکھتا اپنے دل کا سکون غارت ہوتا محسوس کر چکا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اس شخص نے بےہوش ہوٸ ہانیہ کے چہرے کی طرف جیسے ہی ہاتھ بڑھایا۔ کہ اڑتا ہوا تیز رفتار چاقو اسکی ہاتھ کی پشت پے آکے لگا۔ جو اسکے ہاتھ میں پیوست ہو کے رہ گیا۔ درد سے بلبلاتے وہ پیچھے کو جھٹکا کھاتے گرا۔ ایک ہاتھ سے دوسرا ہاتھ تھامے پاگلو ں کی طرح ادھر ادھر دیکھتا وہ کراہا تھا۔
کون ہے۔۔۔؟م؟؟ میں پوچھتا ہوں کون ہے۔۔۔؟؟ اپنا ہاتھ کا درد بردشت کرتے جیب سے پسٹل نکالنی چاہی کہ اسی لمحے ماسک پہنے ایک شخص سامنے وارد ہوا۔ جس نے سیدھا اسکے گلے پے ہاتھ رکھتے اسے دیوار کی طرف دھکا دیتے اوپر اٹھایا۔ سانس رکتا محسوس کرتا وہ ہاتھ کا درد بھول گیا۔
اور اسی کا فاٸدہ اٹھاتے سامنے والے نے اسکی کلاٸ کو مروڑتے اسے زمین پے پٹخا۔
خاموش فضا میں اسکی درد ناک چینخیں باآسانی سنی جا سکتی تھیں۔
تمہیں کیا لگا۔۔۔؟؟ تم اسے ہاتھ لگاٶ گے۔۔۔؟ اور میں تمہیں بخش دوں گا۔۔۔؟؟ ابھی صرف چھونے ک ارادہ کیا۔۔۔ تو یہ حال کر دیا ہے۔۔ تیرا۔۔۔ سوچ۔۔۔ اگر چھو لیتا تو۔۔تیرا کیا ہوتا۔۔۔؟؟زمین پے گرے اس شخص کو گریبان سے پکڑے وہ سخت انداز میں گویا ہوا تو سامنے والے اسکے انداز پے بری طرح ڈرا تھا۔
میں۔۔۔میں۔۔۔ نے کچھ نہیں۔۔۔ کیا۔۔۔ مجھے۔۔ ایسا۔۔۔ کرنے کے لیے کہا گیا۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔
ابوہ دہاٸیاں دے رہا تھا۔
کس کے کہنے پے۔۔؟؟ اس شخص کی بات پے سامنے والے کے کان کھڑے ہوۓ۔
کب۔۔۔۔کبیر۔۔۔! اس نے مجھے کہا۔۔۔۔! وہ ہکلاتے ہوۓ بولا۔ اسکا اتنا کہنا تھا۔کہ مقابل شخص نے اسکے منہ پے ایک زور دار مکا جھڑ دیا۔ جس کی وجہ سے اسکاجبڑا ٹوٹ گیا۔ اور نیم بے ہوش سا ہوگیا۔
مقابل شخص نے ہانیہ کے۔بے سدھ وجود پے ایک نظر ڈالی۔ لب بھینچے ۔ اس نے ہانیہ کو اپنی بانہو ں میں بھرا۔ اور باہرنکلتا چلا گیا۔
اس جگہ جہاں کچھ دیر قبل۔۔۔ عزت کا کھیل۔کھیلا جانا تھا اب وہاں۔۔ ایک بے ہوش اور بے سدھ شخص بری حالت میں پڑا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
میرہادی اسکے مان اور بھرسہ کو اپنے لفظوں کی بجاۓ عملی طور پے بیان کرنے لگا۔ اسکی قربت میں وہ پگھلتی چلی گٸ۔
میر پادی جانتا تھا۔ و بہت ٹنشن میں ہے۔ اس لیے اسکا دھیان اپنی طرف ڈاٸورڈ کیا۔ تا کہ وہ سب کچھ بھول کے صرف اسے یاد رکھے۔
اسکی سانسوں کو منتشر کرتا وہ اسکے سر کے ساتھ ر جوڑے کھڑا تھا۔ آنکھیں موندے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی قربت میں دلی سکون محسوس کر رہے تھے۔
یو آر ماٸ ہارٹ بیٹ۔۔۔۔! اپنے دل کی کیفیت کا اظہار وہ بس ان الفاظ میں ہی کر سکا۔
اگر ۔۔۔آج آپ نہ آتے تو۔۔۔؟؟ نجانے وہ۔۔لوگ ۔۔میرے سانتھ کیا۔۔کرتے۔۔۔؟؟ آنیہ کے ماغ سے ابھی بھی وہ باتیں وہ لمحے نہ نکل رہے تھے۔
جان سے مار دیتا اسے جو میری میرِ آن کی طرفآنکھ اٹھا کے بھی دیکھتا۔۔۔! اسے خود سے قریب تر کرتا وہ دیوانہ وار اور جنونی ہوا تھا۔ کہ آنیہ ایک پل کو گھبرا گٸ۔
تم۔۔۔ جنون ہو میرا میرِ آن۔۔۔۔! تم خوف کی بھی نہیں ہو۔۔ تم۔۔ صرف اور صرف میری ہو۔۔۔! یا د رکھنا۔۔۔
آج میر ہافی ساری دیواریں گراتا اسے خود میں مکرتا اس پے حاوی ہوتا چلا گیا تھا۔ اور وہ بھی اپنا آپ اس دیوانے کو سونپ گٸ تھی۔
دونوں کی محبت عشق کی منزلوں کو طے کرتی جا رہی تھی۔
اور اس بات سے بے خبر آنیہ کہ وہ پینڈینٹ اسکی زندگی کا ناسور بننے والا ہے میر ہادی کی قربت میں سب بھول گٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہانیہ کو ہوش آیا ۔ تو خود کو نرم و ملاٸم بستر پےپایا۔ اسے سر پے چوٹ لگی تھی۔اٹھتے ہوٸے اسکا سر بھاری ہو رہا تھا۔ ارد گرد دیکھا۔ تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ انجان جگہ دیکھ وہ سوچ میں پڑ گٸ۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ اسکے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔ لیکن۔۔ مما کے آفس سے نکلنے کے بعد اسکے ساتھ کیا ہوا۔ اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔ سر جھٹکتے اردگرد کا جاٸزہ لیا۔ وہ بہت خوب صورت کمرہ تھا۔ جسے بہت نفاست سے تیارکیا گیا تھا۔لیک اتنے خوبصورت اوردلکش گھر میں وہ کیسے پہنچی۔۔؟؟ اسے خطرے کی گھنٹی بجتی سناٸ دی جھٹ سے بستر چھوڑا اور کمفرٹر دور پھینکتی وہ اٹھتی دروازہ کھول کے باہر جانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ لیکن دروازہ لاکڈ۔تھا۔ جس وجہ سے ہانیہ کا میٹر ہی گھوم گیا۔ وہ کچھ کرتی کہ دروازہ ان الک ہوا۔ وہ پیچے ہٹی۔
سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ وہ سٹل ہی ہوگٸ۔
تم یہاں ۔۔۔؟؟؟آہان کو دیکھ وہ پاگل ہی نہیں ہوگٸ جیسے۔
جبکہ آہان کے چہرے پے بلا کی سختی تھی۔
تمہاری جرات کیسے ہوٸ مجھے اسطرح یہاں لانے کی۔۔۔؟وہ بولی نہیں پھنکاری تھی۔
آہان نے لب بھینچے اسکی طرف دیکھا۔ اور خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا۔
تم۔نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔؟؟؟ ہانیہ کی آنکھوں میں شدید نفرت تھی۔ اسکے انداز لب و لہجہ بھی نفرت لیے ہوۓ تھا۔ آہان کے سینے ے ہاتھ مارتی اسے پیچھے کی طرف دھکیلتی وہ کوٸ جنونی ہی لگی۔
آہان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اسکی کمر کے پیچھے لے جا کے کس کے پکڑ ۔ اور دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ دبوچا۔ ہانیہ کو لگا ۔ آہان اسکا جبڑا آج توڑ ڈالے گا۔
بے آب ماہی کی طرح تڑپی تھی وہ۔
اب اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا۔ تو جان لے لوں گا تمہاری۔ اب کی بار اس نے خود کو کنٹرول کرنے کی سعی نہ کی۔
چھھھچھوووڑو۔۔۔ مجھے جنگلی۔۔۔۔انسان۔۔۔!وہ آنسو ضبط کرتے بولی تھی۔لیکن اس دیو ہیکل بندےسے خود کونہ چھڑا پا رہی تھی ۔ آج اسکی کوٸ ٹِرک کام نہیں کر رہی تھی۔
تمیں معلوم ہے۔۔۔ جنگلی پن ہوتا کیا ہے۔۔۔؟؟ دکھاٶں جنگلی پن۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔؟؟ اسکو دیوار ے ساتھ پن کیے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا تھا۔ بس ایک ہی بات دماغ پے ج لگی تھی۔ جنگلی۔۔۔؟؟
اور سخت غصہ سے ہانیہ کے بالوں کو مٹھی میں لیتا اسکا چہرہ اوپر کیا۔ وہ بھی بنا ڈرے اسے ہی نفرت سے دیکھے جا رہی تھی۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ اس شخص کو وہ جان سے مار ڈالے۔
آہان اسکے چہرے کے قریب چہرہ کرتا ابھی کچھ کرتا کہ دماغ ٹھکانے لگا۔ وہ انسان تھا۔ حیوان نہیں ۔
ایک دم سے اسے پیچے دھکیلا۔ اور اپنے حواس پے قابو کرتا وہ سر جھٹکتا اسکی جانب لال رنگ آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
اگر اپنی کٸیر نہیں کر سکتی ۔ تو ایک گارڈ رکھ لو۔۔۔ ورنہ۔۔ گھر کے اندر رہو۔ سمجھی تم۔۔۔!
اپنے اشتعال پے وہ کسی حد تک قابو پا چکا تھا۔
گھر کے باہر کے بھیڑیوں سے نہیں گھر کے اندر کے بھیڑیوں سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب کی بار وہ دھمیمی آواز میں بڑ بڑاٸ تھی۔
حلیہ درست کرو اپنا اور چلو۔۔یہاں سے۔
آہان نے اسکی بات نظر انداز کرتے اسے چلنے کا کہا۔
ایک دکھتی نظر اس پے ڈالتی وہ اسکے ہمراہ ہو لی۔ سارے راستے دونوں خاموش رہے۔ جبکہ ہانیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گٸیں۔ اور ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔
آہان کو شرمندگی سی ہوٸ وہ اسطرح کا تو نہ تھا۔ اس سے خطا پوگٸ تھی۔ وہ اپنے غصہ پے قابو نہ رکھ پایا۔ اور اسے۔۔۔ انجانے میں ہی تکلیف دے گیا ۔ گاڑی گھر کے باہر رکی۔
آنسو صاف کرتی وہ اترنے لگی کہ ۔
ہانیہ ۔۔! آہان کی دھیمی سی آواز پے اسکے قدم رکے تھے۔
ایم سوری۔۔۔۔! سر جھکاۓوہ دھیرے سے بولا۔
وہ جو گاڑی سے اترنے لگی تھی۔ آہان کے سوی کرنے پے اسکی جانب حیرانی سے پلٹی۔
اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
مجھے تمہاری باتوں پے غصہ آگیا۔۔۔ تو۔۔۔؟؟ مجھے خو پے قابو رکھنا چاہیے تھا۔۔۔!آہان شرمندہ تھا۔
میں ۔۔۔ تمہارے پاس کیسے پہنچی۔۔؟اب کی بار وہ بھی دھیمے لہجے میں بولی۔ اسکے پوچھنے پے اسٹرٸنگ پے رکھے ہاتھوں کی گرفت نامحسوس انداز میں سخت ہوٸ۔ جسے ہانیہ صاف دیکھ سکتی تھی۔
کڈنیپ ہوٸ تھی تم۔۔۔! بلآخر کہہ ہی دیا۔ ہانیہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔
کس نے۔۔۔کیا تھا۔۔؟؟ میں تو۔۔۔ لاسٹ ٹاٸم مما کے آفس سے۔۔۔ نکلی ۔۔۔اس کے بعد۔۔۔؟؟ ہانیہ ایک فمچپ سی ہوٸ۔
کہیں وہاج۔۔۔؟؟ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔
بے اختیار ہاتھ سر کے پیچھلے حصہ کی طرف گیا۔
جہاں اسے زخم ہوا تھا۔
مطلب اسے کسی نے مارا تھا۔
جس نے بھی یہ حرکت کی ہے۔ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ اب تم جاٶ۔۔۔ ! کافی وقت ہو گیا ہے۔۔۔
آہان نے ٹالا۔ تو ہانیہ لب بھینچتی باہر نکلی۔ اسکے اندر جاتے ہی آہان نے گاڑی وہاں سے باہر نکالی۔ اب اسکا رخ بیر کے گھر کی طرف تھا۔ جہاں اس سے اب حساب بے باک کرنا تھا۔ غصہ سے اسکی دماغ کی رگیں تن گٸیں تھیں۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ کبیر سامنے ہو اور وہ اسے شوٹ کر دے۔
ہانیہ روم میں آتے ہی دروازہ بند کر گٸ تھی۔ اسے اب خود پے غصہ آرہا تھا۔ بجاۓ آہان کی شکر گزار ہونے کے اسے ہی غلط سمجھ بیٹھی۔
جبکہ ایک ہستی اسے آہان کی گاڑی سے نکلتا دیکھ اندر تک سلگ گٸ تھی۔
نجانے کیوں۔۔؟؟ مجھے ایسا لگتا ہے۔۔ کہ یہ۔۔ ابیہان کی بہن نہیں۔۔۔! کوٸ نہ کوٸ تعلق ہے ان میں جو۔۔۔ بہن بھاٸ کا نہیں لگتا ۔۔۔ پھر کیا تعلق ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ پتہ لگانا ہوگا۔۔۔؟؟
نور فاطمہ سوچتی نیچے کی طرف گٸ جہاں ہانیہ کا روم تھا۔ اسکے روم کے دروازےکے باہر کھڑی وہ ناک کرتی اردگرد بھی دیکھ رہی تھی۔
جاری ہے۔
