Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat  (Episode 34)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

ابتسام ابرش کی بحث کے بعد گھر سے چلا گیا تھا۔ ابرش سے اس طرح کے رویے کی امید نہ تھی۔

شروع دن سے آج تک اس نے آہان کے لیے لے پالک کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اور اب آج سب کے سامنے اس نے پھر سے یہلفاظ دہراۓ تھے۔ جو ابتسام کو بہت دکھ دے گٸے تھے۔

گاڑی ایک کم گنجان علاقے میں روکتا وہ باہر نکلا۔

میرا بیٹا۔۔۔ اب تمہاری زمہ داری ہے ابتسام۔۔ اسکی حفاظت کرنا ۔ اسکا باپ بن کے۔۔ اسے۔۔ اسکی وراثت واپس دلانا۔۔۔ ایک فوجی بن کے۔۔۔ !

حمزہ کے آخری لمحات کے الفاظ کی بازگشت اسے اپنے اردگرد سناٸ دی۔

ہاں۔۔ وہ حمزہ حیات مرزا کا اکلوتا بیٹا تھا۔

وہ حمزہ جو میجر تھا۔ ابتسام کا جگری دوست تھا۔ اور ۔۔۔ وہ ایک دن بہت بھاری پڑ گیا تھا۔ جب وہ بہت عرصہ بعد ابتسام سے ملا تھا۔ اور اسی دن اسکی اور اسکی بیوی حلیمہ کی موت واقع ہو گٸ تھی۔

وہ نہیں جانا چاہتے تھے۔ لیکن ابتسام نے زبردستی انہیں اکیلے انجواۓ کرنے بھیجا۔ اور آہان کو اپنے پاس رکھ لیا۔ دونوں کے بیچ میں نارضی تھی جو ابتسام دور کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کیا پتہ تھا۔ وہ ابتسام اور آہان سے دور ہوجاٸیں گے۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ کار بم دھم۔۔کے میں وہ دونوں ہی بری طرح زخمی ہوۓ۔ حلیمہموقع پے ہی دم توڑ گٸ جبکہ حمزہ ہسپٹل آٸ سی یو میں آخری سانسوں میں ابتسام کو آہان کی زمہ داری سونپتا خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

فون کال پے ابتسام ہوش میں واپس لوٹا۔

ڈیڈ۔۔! کہاں ہیں آپ۔۔؟ آہان کی کال پے ابتسام کےے چہرے پے تبسم بکھرا۔

آرہا ہوں۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔! اسکی تسلی کرتے ابتسام واپس گاصی میں بیٹھے۔ اور گاڑی کو آفس کی جانب موڑا۔ وہ جاننا چاہتا تھا۔ کونفیڈیشنل فاٸل کو کس نے لیک کیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

بہت خود کو ہوشیار سمجھتا تھا۔ اب آۓ گا مزہ ۔۔جب مما خود اسے دھکے دے کے گھر سے باہر نکالیں گیں۔

ہانیہ نے خوشی سے واپس روم میں آتے چہکتے کہا۔ جبکہ پیچھے آتی آنیہ نے سن لیا تھا۔

یہ سب کیا ہے ہانیہ۔۔؟؟ آخر چل کیا رہا ہے۔۔؟؟

آنیہ نے ہانیہ کی مسکراہٹ دیکھ لی تھی۔ اس لیے اسکے پیچھے ہی آٸ تھی۔

کیا ۔۔۔؟؟ میں نے کیا کیا۔۔؟؟ جو کیا مما نے کیا۔ مما سے پوچھیں جا کے۔۔! ہانیہ نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔

ہانیہ۔۔ مجھ سے کچھ مت چھپاٶ۔۔۔ بہتر ہوگا۔۔؟ سب بتا دو۔۔! کوٸ بات ہے۔۔۔ جو تمہارے اور آہان کے بیچ ہوٸ ہے۔۔ او۔ر۔…؟؟

جو دوسرے کے لیے گھڑا کھودتا ہے۔ ۔۔ خود ہی اس میں گر جاتا ہے آہان کے ساتھ بھی یہی سب ہو رہا ہے۔ مجھے دھوکہ دیا۔۔ دیکھ لیں۔۔ اب کیا ہو رہا ہے۔۔ اچھا ہو رہا ہے۔۔ مجھ سے چھپایا۔ نور فاطمہ کا۔۔۔ اب دے جواب ۔۔۔۔! جذبات کی رو میں بہہ کے ہانیہ کے منہ سے نور فاطمہ کا نام نکل گیا۔

نور فاطمہ۔۔۔؟؟ آنیہ حیرانی سے بڑ بڑاٸ۔ اسکا دل بری طرح دھڑکا تھا۔

نام سے تو وہ واقف تھی۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ وہی نورفاطمہ ہے۔

ہانیہ نے زبان دانتوں تلے دباٸ۔ لیکن تیر کمان سے نجل چکا تھا۔

ہنیہ۔۔۔؟؟ نور فاطمہ کون۔۔۔؟؟ سنجیدگی سے پوچھا گیا۔

میری۔۔۔ دوست ہے۔۔۔ ایک سال پہلے۔۔ کھو گٸ تھی۔ ۔ اسے تلاش کرنے میں آہان کی مدد چاہی۔۔۔! اور۔۔ عین وقت پے اس نے ساتھ چھوڑ دیا۔

ہانیہ نے کچھ سچ جھوٹ ملاوٹ کرتے بتایا۔

تم اب بھی پہلیاں بجھوا رہی ہو۔۔۔ مجھے سب کچھ سچ سچ بتاٶ۔۔۔! آنیہ باز نہ آٸ تھی۔ اور ہانیہ کو اب بتاتےہی بنی تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

بس اب۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔! اس بار ابتسام آپ نے حد ہی کر دی۔۔۔ میری اولاد کوآپ نے وراثت سے نکال باہر کیا۔ اور اس آہان کو۔۔۔؟؟ آپ ۔۔ ایسا کیسے۔۔؟ اور مجھے ۔۔۔ چیلنج کر رہے ہیں۔ کہ میں عدالت سے رجوع کروں۔۔؟

ابرش پورے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگاتی ہلکان ہوۓ جا رہی تھیم لیکن غصہ تھا کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔

اتنا کچھ ہوجانے کےبعد بھی آپ اب بی مجھ سے چھپا رہے ہیں۔۔ چاہیتے تو اب بی وقت تھا مجھے سچاٸ بتا دیتے۔۔۔۔؟؟ کیوں کر رہے ہیں یہ سب۔ آپ۔۔۔! آہان کیپہچان تک آپ نے مجھ سے چھپاٸ۔ تو ٹھیک ہے اب آہان کی پہچان ہی ۔۔ یہ ثابت کرے گی۔ کہ وہ کس کا وارث ہے۔۔ اور اسکے لیے مجھے زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑے گی۔بس ایک چھوٹا سا کام کرنا ہوگا۔۔۔ اور چوہا خود بل سے باہر آۓ گا۔

ابتسام پیرزدہ ! آج تک آپ نے مجھے ہمیشہ ابرش ابتسام پایا اپنے ہمراہ کھڑا پایا ۔۔ اب دیکھیں ۔۔۔ میں آپ کو برش مجیب شمس بن کے دکھاٶں گی۔

وکیل ہیں ناں۔۔ تو عدالت سے رجوع کریں۔

اب دیکھیں ۔۔ یہ وکیل کیا کھیل کھیلتی ہے۔۔۔

گہرا سانس خارج کرتے وہ ملازمہ سے ہانیہ کو اسکے روم میں بھیجنے کا کہہ کے خوف مطمین ہوٸ تھی۔

ابتسام پیرزادہ۔۔ بہت کھیل کھیل لیا آپ نے۔۔ اب آپ کی بیوی کاکھیل دیکھیں آپ ۔ وہ دھیرے سے مسکراٸ تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

اتنا سب کچھ ہوگیا۔۔۔۔ اور مجھے۔۔۔پتہ ہی نہ چلا۔۔؟؟ آنیہ سر پکڑ کے بیٹھ گٸ۔

آپی پلیز۔۔۔! غلط مت سمجھیں۔۔۔ یہ سیکرٹ معاملات ہوتے ہیں۔ شیٸر نہیں کر سکتے ۔

تم سپاٸ گرل کیوں بنی۔۔؟ آنیہ کے سوال پے وہ چپ سی ہوگٸ۔

ٹریینگ تو بچپن سے لے رہی تھی۔ اور مارشل آرٹس میں بھی پرفیکٹ تھی۔ پر کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوٸ کہ سیریس ہو سکوں۔ لیکن۔۔۔۔۔ نور فاطمہ کے اچانک غاٸب ہوجانے پے ہانیہ ابتسام بدل گٸ۔ آپی۔۔۔! دھیرے دھیرے کہتے وہ نم لہجہ سے آنیہ کے قریب ہوٸ۔

نور فاطمہ بہت پیاری سی چھوٹی سی کیوٹ سی دوست تھی میری ۔ یونی میں ہم اکھٹے تھے۔ لیکن ایک سال پہلے مجھے اسٹیڈیز کے لیے دورے شہر جانا پڑا ۔ تو نور فاطمہ کی شادی ہو گٸ۔ واپس لوٹی تو۔۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا ۔۔ ہادی بھیا۔۔۔! سے سب پتہ چلا۔۔۔! لیکن دل میں یہ یقین تھا کہ وہ زندہ ہوگی۔

ہادیبھیا نے ہی میری ٹریننگ کی۔ ہم دونوس نے مل کے سلطان کے خلف کافی ثبوت اکھٹے کیے ۔ لیکن سلطان تک نہ پہنچ سکے۔

ایسے میں اپنی جاسوسی طبعیت کے باعث میں نے پتہ لگا لیا۔کہ آہان بھی سلطان کے کیس پے کام کر رہا ہے۔ اور پھر۔۔۔ نور فاطمہ کے متعلق تمام باتیں معلومات مجھے ملتی چلی گٸیں۔ بہت انتظار کیا ہم نے۔۔۔! اس لمحے کا ۔۔۔ جب نور فاطمہہمارے ساتھ ہو۔۔۔! آہان نے وعدہ کیا۔ نور کی بازیابی پے وہ مجھے ساتھ رکھے گا۔ لیکن۔۔۔؟؟ اس نے نور کو بازیاب کروالیا اور مجھےبھنک بھی نہیں پڑنے دی۔

ساری باتیں آنیہ کے گوش گزار اس نے برا سا منہ بنایا۔

لیکن کوٸ نہیں۔۔۔ پتہ تو میں لگا ہی لوں گی لیکن اس آہان کےبچے کو نہیں بخشوں گی ۔۔چیٹر کہیں کا۔۔۔۔!

پر شکر اللہ ۔۔۔کا۔۔۔! کہ نور مل گٸ ہے۔

ہادی۔۔۔؟؟ جانتےہیں سب۔۔۔؟؟ آنیہ کو ایک ہی بات چبھی تھی

بس اتنا ہی۔۔۔ کہ نور کا پتہ چل گیا ہے۔۔ وہ کہاں ہے۔۔؟؟ بازیاب ہوگٸ ہے۔۔ یا نہیں۔۔ یہ نہیں جانتے۔

اور وہ پینڈنٹ۔۔؟ آنیہ کے ماتھےپے بل پڑے ۔

وہ۔۔۔ نور کا ہی تھا ۔ نور نے خود کوبچانے کے لیے زور آزماٸ کی اور وہ آپ کی گاڑی میں گر گیاتھا ۔ہانیہ کالہجہ دھیما ہوا۔

یعنی۔۔۔ تم سب جانتی تھی۔۔۔یر سب جانتےتھے۔۔۔ اور مجھے۔۔۔ بے خبر رکھا۔۔؟؟ مجھے کتنی تکلیف ہوٸ۔؟؟ اندازہ ہے۔۔ آپ کو۔۔؟؟ آنیہ غصہ سے اٹھی۔ جبکہ آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔

آپیپلیز ناراض نہ ہوں۔ ہانیہ منمناٸ۔

یو نو۔۔۔ ہنی۔۔۔! یں کسی اور سے کیا گلہ کروں۔۔؟ یہں میری اپنی بہن نے ہی مجھ سے سب چھپایا۔۔۔! آنیہکو دکھ ہوا۔

ایم سوری۔۔۔! ہانیہ سچ میں شرمندہ تھی۔

تمہارے سوری کرنے سے کیا ہوگا۔۔؟ میں اتنے دن اس گلٹ میں رہی۔۔۔ کہ سب کی قصور وار میں ہوں۔

میری لو میرج نہیں۔۔ کہ میں میر کو سمجھ سکتی یا سمجھا سکتی۔۔۔! ارینج میرج۔۔۔!

آپی۔۔۔! میر بھیا کی لو میرج تھی۔۔۔! ہنیہ کے فوراً بولنے پے آنیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔

جی وہ۔۔۔ آپ کو بہت پہلے سے جانتے تھے۔ آپ کو یکھ چکے تھے۔ آپ انہیں اچھی لگتی تھیں ۔ آپ کے لیے رشتہ نہی کیخواہش پے ہوا۔۔ ہاں۔۔ یہ راز یں نے رکھا اورانہوں نےبھی۔ کہ وہ آپ کو پسند کرتے ہیں۔ اس لیے شادی کرنا۔۔۔!

ہانیہ۔۔۔! آنیہکاہاتھ اٹھا تھا۔ جو ہوا میں ہی بلند رہ گیا ۔

اور ۔۔۔۔اور کتنےجھوٹ چھپا رکھے ہیں۔۔ ؟؟ سب کچھ ایک سأت بتا دو مجھے۔۔؟ آنیہ کی آنکھوں سے گرم سیال مادہ بہا ۔

آپی سچ میں۔۔۔ ! سب جھوٹ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہادی بھیا کی محبت جھوٹی نہیں ۔۔۔ ! وہ آپ سے سچا یار کرتےہیں۔

ہانیہ نے اسکے پاس آتے کہا جبکہ آنیہ نے اپنا ہاتھ جھٹکا۔

دروازے پے ہوتی دستک پے ہانیہ چونکی۔

ہانی بی بی۔۔ ! آپ کو ابرش بی بی اہنے کرے میں بلا رہی ہیں۔

ملازمہ اطلاع دیتی جا چکی تھی۔

آپ کہیں جاٸۓ گا مت۔۔۔ میں بس ابھی آتی ہوں۔ ہانیہ اسےوہیں رکنےکا کہہ کے ابرش کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔ آنیہ وہیں بیٹھی رہ گٸ ۔

میر۔۔۔آپ نے مجھ سے تعلق بھی جھو کی بنیاد پے رکھا۔۔۔؟ دل بہت سخت اداس ہوا تھا ۔

آپ نے مجھے کیری نظروں میں گرا دیا۔ کہ میں ۔۔ بھی۔۔نور۔۔۔؟ لیکن۔۔ آپ تو ساری حقیقت جانتےتھے۔ پھر کیوں کیا ایسا۔۔۔إ؟

آنیہ۔۔۔؟؟آہان کی آمد پے وہ چونکی اور آنکھیں کھولیں۔

آپ رو رہی ہیں۔۔ ؟ آہان پریشان ہوا۔

شاید۔۔۔؟؟ آہان۔۔۔؟؟ یک بات پوچھوں۔۔؟ سچ بتاٶ گے ناں۔۔؟؟ آنیہ نےبہت امید ے اسکی طرف دیکھا۔

اس نے سوالیہ نظروں سے آنیہ کو دیکھا ۔

نور فاطمہ۔۔؟؟ کہاں ہے۔۔؟ اچانک کیے گٸے سوال پے آہان کا دماغ ایک دم ماٶف ہوا۔ اسے امید ہی نہ تھی۔ کہ آنیہ اس قسم کا کوٸ سوال کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *