Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat (Episode 23)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan


#قسط_نمبر23

وہ اپنے ڈارک روم میں تھا۔ کہ ایک زور دار جھٹکے سے دروازہ کھلا۔ اور میر یامین اندر داخل ہوا۔ سامنے ہی میر ہادی چیٸر پے جھول رہا تھا۔ میر یامین نے کمرے میں روشنی کی۔ اور سامنے اپنے جگر کے ٹکڑے کو بکھری حالت میں دیکھ تڑپا لیکن اس وقت یہ تڑپ وہ پسِ پردہ ڈال اسکی جانب جارحانہ ادداز میں بڑھے۔اسےاپنی جگہ سے کھڑا کرتے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پے رسید کیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے باپ کو دیکھنے لگا۔

کیوں۔۔؟؟ کیوں۔۔ہادی۔۔۔؟؟ کیوں کیا ایسا۔۔۔؟ کیا ایسی تربیت کی ہے آپ کی۔۔۔۔؟؟ کہ آپ کسی بھی معصوم کو یوں تشدد کا نشانہ بناٶ گے۔۔۔؟؟ بہت درد تھا۔ لہجہ میں۔ لیکن میر ہادی چپ تھا۔

اس معصوم کو ۔۔۔آپ نے ہاسپٹل پہنچا دیا۔۔۔؟

وہ اسی قابل ہے۔ ۔۔۔! الفاظ بھی نکلے تو کیا۔۔۔؟؟ میر یامین نے حیرت سے اسے دیکھا۔

ہوش میں تو ہیں آپ۔۔۔؟؟ ہو کیا گیا ہے؟ میر یامین کو وہ آج کوٸ اور ہی میر ہادی لگا۔

پلیز بابا۔۔۔! جاٸیں یہاں سے۔۔۔! وہ رخ پلٹ گیا تھا۔ اسکی لال آنکھیں میر یامین کو کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھیں۔

ہادی۔۔۔؟؟ میر یامین نے تڑپ کے اسے اپنی طرف موڑا۔

بتاٶ۔۔ مجھے۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ کونسی بات نے رکلیف پہنچاٸ ہے۔۔۔ کیا ہوا ہے۔ آپ کے اور آنیہ کے بیچ۔۔؟؟

کچھ نہیں ہوا۔۔ کچھ نہیں۔۔۔وہ ۔۔۔ ؟؟ اسے لے جاٸیں۔۔بابا ۔۔۔مجھ سے دور۔۔۔ دور کر دیں اسے مجھ سے۔۔۔ یا میں اسے ۔۔مار ڈالوں گا یا خود کو۔۔۔! بے بسی سے وہ خود کو چھڑاتے بولا تھا۔

میں رہنے بھی دوں گا اسے آپ کے پاس۔۔۔۔جسطرح کا سلوک کیا ہے ناں۔۔ آپ نے اس کے ساتھ۔۔ اسکے بعد۔۔۔؟؟؟

اسی میں اسکی بہتری ہے۔۔۔ کہ وہ اب کبھی بھی میرے سامنے نہ آۓ۔۔۔ مڑتے ہوۓ سارے لحاظ بلاۓ طاق رکھے لب بھینچے بولا تھا۔ اور باہر نکلتا چلا گیا۔

میر ہادی۔۔۔ بہت پچھتاٶ گے۔۔۔ آپ۔۔۔!

میر یامین کی آنکھیں نم ہوٸیں۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

ہیلی کاپٹر کی تیز آواز اور اچانک سے تیز روشنی نے انکی نظروں کو چندھیا دیا۔

ڈیڈ۔۔۔۔؟؟ زیرلب دہراتی ہانیہ آہان کے بہت پاس کھڑی تھی۔

سامنے ہی بہت کروفر سے ابتسام اپنے جوانوں کے ہمراہ ان تک چلتا ہوا آرہا تھا۔

گڈ جاب ینگ مین۔۔۔ ! آگے بڑھ کے آہان کو فخر سے گلے لگایا۔

جبکہ ہانیہ ایک طرف ہوتی رخ نیچے کر گٸ۔

اسکی طرف تو اسکے ڈیڈ نے دیکھا بھی نہ تھا ۔ اور یہ بات اسکے دل پے لگی تھی۔ آہان نے پلٹ کے ہانیہ کو دیکھا۔ اسکے چہرے کی اداسی آہان کو نہ بھاٸ۔

ڈیڈ۔۔۔ہان۔۔۔؟؟؟

چلیں۔۔۔! ابتسام نے اسکی بات کاٹی۔ اور اسے لیے اپنے ساتھ آگے بڑھے۔

ہانیہ کی آنکھیں پل میں موٹے موٹے آنسوٶں سے بھریں۔

چلیں میم۔۔۔! ایک جوان نے کہا تو وہ رخ پھیرے آنسو صاف کرتی ساتھ ہو لی۔ ہیلی میں بیٹھتے بھی ابتسام نے ہانیہ کی جانب ایک نظر بھی نہ دیکھا۔ وہ بھی طپ رہی ۔ جبکہ آہان ایک اچٹتی نگاہ اس پے ڈال لیتا تھا۔

ابتسام جانتا تھا۔ ہانیہ کو صحیح سلامت دیکھ اس نے کتنا سکون کا سانس لیا تھا۔ اگر اسے کچھ بھی ہو جاتا تو وہ اسکی ماں کو کیا جواب دیتا۔۔۔؟؟ کہ ای افسر ہو کے بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا ۔ جبکہ بیٹی نے اسکا کتنا دل دکھایا۔۔۔ کہ بنا کسی کو بتاٸے وہ اس خطرے میں اپنے آپ و ڈال گٸ تھی۔ اگر آہان اسکے ساتھ نہ ہوتا تو۔۔؟؟ کیا وہ بچ پاتی۔۔۔؟؟ یہی سوچ آتے وہ ہانیہ سے سخت ناراض تھے اور اچھی خاصی ا پرس کرنے والے تھے۔ اور سب سے اہم اسکی شادی کا سوچ رہے تھے۔ کہ پانی اب سر سے اوپر چلا گیا تھا۔

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

بیٹا۔۔؟؟ کیسی ہو اب۔۔۔؟ آنیہ کو جیسے ہی ہوش آیا۔ اپنے پاس کشش کو پایا۔

ٹھیک ہوں۔۔۔ مما۔۔۔! درد سے نقاہت بھری آواز سنتی کشش کو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا۔

ابھی اٹھیں مت۔۔۔ ! آپ کو چوٹ آٸ ہے۔۔

اسے اٹھتے دیکھ کشش گھبراٸ ۔

مما۔۔۔! ان چوٹوں کو کیا کرنا۔۔؟؟ جو چوٹ دل پے لگی ہے۔۔۔ اس کے مقابلے میں یہ چوٹ تو کچھ بھی نہیں۔

اپنیکلاٸیوں پے نظر ڈالتے وہ ہارے ہوٸے لہجے میں بولی تھی۔

بیٹا۔۔! کیا یہ۔۔ میر ہادی نے کیا ہے۔۔؟؟ ایک آس تھی کہ شاید نہ کہے۔

آنیہ نے اک درد بھری نظر ان پے ڈالی۔

اسی لمحے ڈاکٹر اندر داخل ہوۓ۔

ہاٶ آر یو۔۔ ینگ لیڈی۔۔۔؟؟ بہت پیار اور شفقت سے پوچھا۔

بہتر ہوں۔۔! آنیہ نے بنا کسی تاثر کے جواب دیا۔

آپ وک یہ چوٹیں کیسے آٸیں۔۔۔۔؟؟ اگلا سوال۔۔

آنیہ کو وہ لمحے پھر سے یاد آنے لگے۔ آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔

میں۔۔۔ گر گٸ تھی۔۔۔! پتہ ہی نہ چلا۔۔ واس پڑا تھا آگے۔۔ تو اسے ٹکراٸ اور۔۔۔ یہ سب۔۔؟ کہتے ہوۓ سر جھکا ہوا تھا۔

اور یہ گلے پے انگلیوں کے نشان۔۔۔؟؟ ایک اور سوال ہوا۔۔آنیہ نے اپنے گلے کو چھپایا۔

یہ ۔۔۔ انگلیوں کے نشان تو نہیں۔۔۔۔۔ وہ۔۔ مچھر وغیرہ کوٸ کاٹ گیا تھا۔۔ تو اسکا نشان ہے۔۔ آنیہ کے چہرے سے صاف واضح ہو رہا تھا۔ کہووہ جھوٹ بول رہی ڈاکٹر نے بھی زیادہ کرہدنا مناسب نہ سمجھا۔ اور کچھ ضروری ہدایات کرتا باہر نکل گیا۔

میں میر ہادی کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔! کشش نے روتے ہوٸے کہا۔

مما۔۔۔! مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔! آنیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے کرب سے کہا۔

آنیہ۔۔۔! میری بیٹی ہو آپ۔۔۔! میں آپ کو کہیں۔۔نہیں جانے دوں گی۔ ہادی کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں۔ لیکن ۔۔پلیز۔۔۔ جانے کی بات مت کرو۔۔۔! کشش اسکے پاس بیٹھتے بولی تو آنیہ کو ان کو اس حالت میں دیکھ کے دکھ ہوا۔

ڈونٹ وری مما۔۔۔ کسی سے کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔! بس۔۔۔ ابھی میں۔۔ میر کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔۔۔

دھیرے سے اپنا مدعا بیان کیا۔

بیٹا۔۔! میر ہادی کو آپ کا بال بھی نہیں دیکھنے دوں گا اب میں۔۔۔! جب تک وہ معافی نہیں مانگے گا۔۔ اپنے کیے کی۔۔ اسے آپکے پاس آنے کی قطری اجازت نہیں دوں گا۔ یہ وعدہ ہے میرا آپ سے۔

اچانک سے میر یامین کے آنے پے وہ دونوں چونکیں۔ انکے لہجے میں بلا کی سختی تھی۔

آنیہ کو انکی مانتے ہی بنی۔ لیکن اس نے دل میں عہد کیا تھا۔ کہ وہ اس راز کو جان کے رہے گی۔ جو اسکی زندگی پے اثر اندز ہو رہا ہے۔ جبکہ اسکی کوٸ غلطی بھی نہیں تو کیوں میر ہادی اس کے ساتھ اسطرح کر رہا ہے۔۔؟ کیا وہ یہ سب ڈیسرو کرتی ہے۔۔۔؟؟

ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ

کل ہی وہاج کو یہاں بلاٸیں ۔۔۔ تاکہ اس سے آپ کے رشتے کی بات ہو سکے۔ اور یہ معاملہ خیر و اسل٢بی سے حل ہو سکے۔

ابرش نے ابتسام سے ساری بات جان کے اسکا فیصلہ بھی سن لیا تھا۔ اور اب ہانیہ کے روم میں اسے اسکے باپ کا فیصلہ من و عن سنا بھی دیا تھا۔

مما۔۔۔! ایک بات پوچھوں۔۔۔؟؟ہانیہ جو ابتسام کے رویے سے سخت دلبرداشتہ ہوٸ تھی۔ اپنی ماں سے دل کا حال کہنے پے مجبور ہوٸ تھی۔

ہمممم۔۔۔! ابرش اسکے سوال جانتی تھی۔ باپ سے منسلک ہی ہوں گے۔

کیا میں آپ کی اور ڈیڈ کی سگھی اولاد ہوں۔۔۔؟؟

ہانیہ کے سوال پے ابرش نے تڑپ کے اسے دیکھا۔

ہانی۔۔۔۔! آگے بڑھ کے اے اپنے ساتھ لگانا چاہا۔

پلیز مما۔۔۔! ڈیڈ کو دیکھ کے نہیں لگتا۔ ۔۔۔کہ وہ ۔۔مجھ سے۔۔ اتنا سا بھی پیار کرتے ہیں۔۔۔۔!

ہاتھ کے اشارے سے بتاتی وہ بہت دکھی تھی۔

اور جو آپ نے کیا ہانیہ۔۔۔؟؟ کیا کوٸ اولاد ایسا کرتی ہے۔۔؟لڑکی زات ہو کے۔۔ آپ نے جو کیا۔۔ ہم سے چھپایا۔۔۔ اور۔۔۔ آپ واں اس سلطان کے اڈے پے پہنچ گٸیں۔۔۔ کیوں۔۔؟ کس کی اجازت سے۔۔۔؟؟ کچھ ہوجاتا آپ کو۔۔ تو۔۔۔؟؟ کیا ۔۔ کرتے ہم۔۔۔؟؟ آپ جو جی میں آٸیں کریں۔۔ اور ہمیں۔۔ آپس ے ناراض ہونے کا حق بھی نہیں حاصل۔۔۔؟؟ ابرش نے اسے آٸینہ دکھایا۔ تو وہ ایک دم سے سر جھکاۓ چپ سی ہوگٸ۔

آپ کے ڈیڈ آپ کی اس حرکت سے بہت دکھی ہیں۔۔ ہانیہ۔۔۔! اپنی غلطیوں کو بھی سمجھیں آپ۔۔۔! پھر سوچیں۔۔ کہ آپ کو اپنے والدین کی کس قدر پرواہ ہے۔۔؟؟

انرش ہتےی باہر نکل گٸ۔ جبکہ ہانیہ غصہ اور آنسو ضبط کرتی وہیں بیٹھی وہاج کو فون کرنے لگی۔ اور اسے کل کے بارے میں تمام آگاہی کرنے لگی۔

🅜🅤🅝🅣🅐🅗🅐🅒🅗🅞🅤🅐🅝

تمہیں کیالگا۔۔۔؟؟ تم۔سلطان تک پہنچ جاٶ گے۔۔۔؟؟ تمہارے ایک ایک منٹکا حساب رکھتا ہے سلطان۔۔

ہمیشہ ایک قدم آگے چلتا ہے وہ۔ نور فاطمہ سے سوال و جواب پے وہ بری طرح نفرت انگیز انداز میں بولی تھی۔

قدموں کی چاپ پے خاموشی سی چھا گٸ۔ آنے والا آہان تھا۔ جسے دیکھ نور فاطمہ کے چہرے پے ایک زخمی مسکراہٹ ابھری۔

افسر آہان کو دیکھ خاموشی سے باہر نکل گیا۔

تم۔نے مجھے چیٹ کیا ۔۔۔۔ آہان نے بیٹھتے ہوۓ پرسکون انداز میں بات شروع کی۔

پہلے دن سے چیٹ کرتی آٸ ہو۔۔۔!

کیا تم نے چیٹ نہیں کیا۔۔؟؟ مجھ سے جھوٹا نکاحکر کے۔۔۔؟ وہ بھی تڑخ کر بولی۔ ایک پل کو تو آہان اسکیبات پے چپ سا ہوگیا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ حیران ہو رہے ہو۔۔۔؟ کہ مجھے کیسے پتہ۔۔؟ جیسے تم سب جانتے تھے۔ ویسے میں بھی سب سچ جانتی ہوں۔۔ !تم۔نے جھوٹا نکاح کا ناٹک کر کے مجھے استعمال کرنا چاہا۔ اور میں نے ۔۔۔ تمہیں تمہارے ہی کھیل میں الجھا دیا۔ وہ طنزیا ہنسی ہنسی تھی۔

سلطان کہاں ہے۔۔۔؟؟ ٹیبل پے زور سے ہاتھ مارتا وہ دھاڑا تھا۔

اسکی بیٹی کو تم نے اپنا قیدی بنا لیا ہے۔اور اب تمہیں لگتا ہے۔۔ کہ مجھ سے یہ پوچھنا چاہیے۔۔۔؟؟

الٹا اسی سوال کرتی وہ آہان کو لب بھینچنے پے مجبور کر گٸ۔ موباٸل پے رنگ ہوتی دیکھ اسکے ماتھے پے بل پڑے۔ اور وہ اٹھا تھا۔

آہان۔۔۔۔! میں اب بھی اپنی بات پے قاٸم ہوں۔۔!

اسکی بات پے اسکے قدم تھمے تھے

لیکن وہ پلٹا نہیں تھا۔

اپنا آپ مجھے سونپ دو۔۔۔ سلطان کے ہر اڈے کا پتہ بتاٶں گی۔اور اسے پکڑنے میں تمہاری مدد کروں گی۔

ایک نۓ کھیل کا آغاز وہ کر چکی تھی۔

آہان نے اسکی بات کو نظر انداز کیا۔ اور فون کان کے ساتھ لگاتا جیسےہی باہر نکلا۔ دروازہ باہر سےلاک ہوا۔ اور کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا ۔

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسکے ہاتھ اور پاٶں بندھے ہوۓ تھے۔ اب اسے یہیں قید رہنا تھا۔ جب تک کہ سلطان اس تک پہنچتا ہے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *