Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 14)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 14)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔بابا۔۔۔؟؟ میر ہادی کو انکا دیکھنا ٹھٹھکا گیا۔
کیا ہوا تھا۔۔۔ ؟؟ کیا بات ہوٸ آپ دونوں کے بیچ ایسی کہ۔۔۔؟
بابا۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔؟؟ آپ کو لگتا ہے۔۔۔کہ میری وجہ۔۔سے۔۔۔؟؟ میر ہادی کو میر یامین کی بات سے شاک لگا ۔
ایسی بات نہیں ۔۔بیٹا۔۔۔لیکن۔۔۔؟؟
لیکن کیا ببا۔۔۔؟؟ میر ہادی نے بات کاٹی اور نفی میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔
میر یامین اسکے یوں ناراض ہو کے جانےسے افسرف تو ہوگۓ لیکن پھر سر جھٹک کے اندر کی جانب بڑھے۔










فون کال بند کرتا وہ نور فاطمہ کو لیے پیرزادہ منشن داخل ہوا۔ جہاں سب اسکا ہی انتظار کررہے تھے۔
آہان نے نور کو بھی یہی کہانی گڑنے کو کہا ۔ کہ وہ گھر میں سب سے یہی کہے کہ اسکے والد کی ڈیتھ ہو گٸ ہے۔ اور وہ اکیلی تھی۔ اس لیے نکاح ہوا ہے۔
نور پہلے تو سوچ میں پڑگٸ پھر مان گٸ۔
جیسے ہی وہ لاٶنج میں پہنچے سب کی نظریں ان پے اٹھیں۔
السلام علیکم۔۔ سب کو اجتماعی سلام کیا۔
وعلیکم السلام ۔۔ آجاٶ۔۔بیٹا۔۔۔! ابتسام نے آگے بڑھ کے آہان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ تو اسے حوصلہ ہوا۔
جبکہ نظریں ابرش ماں پے تھیں۔ جو بالکل سپاٹ انداز میں ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔
نور نے سب کو باری باری سلام کیا۔
ماشاءاللہ بہت پیاری ہو۔۔۔! عروش نے تعریف کی۔ جبکہ لمظ کو وہ کچھ خاص نہ بھاٸ لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔
السلام علیکم۔ اب کے وہ ابرش کی جانب بڑھی۔
ابرش نے ایک گہرا سانس خارج کرتے اسکی جانب دیکھا۔
وعلیکم السلام ۔ اسکی جانب پوری کی پوری ہی مڑ گٸ۔
نام کیا آپ کا۔۔؟؟ ابرش کے سپاٹ انداز میں پوچھنے پے نور گڑ بڑا سی گٸ۔
جی۔۔۔۔ نور۔۔۔! نور فاطمہ۔۔۔! دھیرے سے بولی ۔
ہممممم۔۔۔۔ ! اس گھر کے کچھ اصول و ضوابط ہیں۔ امید ہے۔ آپ کے شوہر آپ کو سمجھا دیں گے۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو۔۔ تو بتا دیجیے گا۔
سخت و سپاٹ انداز میں کہتے وہ جا چکی تھی۔
آہان نے ایک نظر باپ کو دیکھا۔ جو کندھے اچکا گیا کہ۔۔ آہان جانتا تھا۔ اس کے ڈیڈ اپنی بیوی کی کسی بات کے خلاف نہیں جاتے۔ جو وہ کہہ دیں۔ بس وہی ہوتا ہے۔ زیرِ لب مسکایا۔
آپ کا اوپر والے پورشن میں روم سیٹ کر دیا گیا ہے۔ آجاٸیں میرے ساتھ۔ عروش نور کو لیے اوپر کی جانب بڑھ گٸ۔
سبھی منتشر ہوگۓ۔
ڈیڈ۔۔۔! اسکا یہاں ہونا ۔۔۔کہیں۔۔ یہاں کے افراد کے لیے کوٸ پرابلم۔۔؟
ڈونٹ وری۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔ بس آپ نے خود کو ہینڈل کرنا اسکے ساتھ۔کیسے۔۔؟ سوچ سمجھ کے کیجیے گا۔ کہ کوٸ مسٸلہ آپ کو نہ ہو۔ اور اسے بھی کوٸ شک نہ ہو۔ آپ سمجھ رہے ہیں ناں۔۔؟؟ میری بات۔۔؟؟
ابتسام نے اسے کوڈ ورڈز میں سمجھانا چاہا وہ سر ہلاتا اوپر کی جانب بڑھا۔
جہاں نور بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔
شکر اللہ کا۔۔۔۔ آپ آگٸے۔ ۔۔۔ میں تو ازحد پریشان ہوگٸ تھی۔ نور نے واقعی میں شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔
میری بات آپ غور سے سنیں. ہمارا رشتہ صرف کاغذی ہے۔ اور یہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا۔ اس لیے آپ اس روم میں رہیں گیں۔ لیکن۔۔ میں نیچے والے روم میں۔ اور یہ بات یہاں کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔ سمجھ رہی ہیں میری بات۔۔؟؟ آہان نے تھوڑا سخت رویہ رکھا۔ اور نور کو اچھے سے باور کروایا۔
مطلب۔۔۔؟؟ آپ نے دل سے مجھے ۔۔۔ بیوی نہیں مانا۔۔۔۔؟؟ نور کو دکھ ہوا۔
نکاح آپ کی مرضی سے ہوا ہے۔ میں نے صرف آپ کی مدد کرنے کی غرض سے یہ نکاح کیا ہے۔ اور اس موت کے سوداگر سلطان تک پہنچنے کے لیے۔ جب اسے جہنم واصل کر دوں گا۔ تو آپ آزاد ہوں گیں۔ تب آپ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جا سکتی ہیں ۔ آزادی سے جی سکتی ہیں۔ لیکن تب تک۔۔۔آپ اس گھر میں رہیں گیں۔ میری بیوی کی حیثیت سے۔ اور بالکل محفوظ رہیں گیں۔ آپ۔
آہان نے تفصیلاً کہا۔ تو نور کی آنکھیں نم سی ہوٸیں۔
اور۔۔اگر۔۔ میں یہاں ہی رہنا چاہوں ۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تو۔۔؟ پاس ہوتے دھیرے سے کہا۔ آہان نے ایک نظر اس پے ڈالی۔ لیکن پھر رخ پھیر گیا۔
اور باہر نکلتا چلا گیا۔
جبکہ دروازے کے ایک طرف کھڑے نفوس نے ساری بات من و عن سنی تھی۔ اور آہان کے نکلتے ہی دروازے کی اوٹ میں ہوأ تھا۔











بیٹا۔۔۔؟؟ اب کیسی طبعیت ہے۔۔۔؟؟ میر یامین اور کشش آنیہ کو گھر لے آۓ تھے۔ جبکہ میرہادی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔
اسے بستر پے لٹاتے کشش نے فکر مندی سے پھر سے اس سے دریافت کیا۔
میں ٹھیک ہوں مما۔۔۔! بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھتی وہ بمشکل چہرے پے مسکراہٹ لاتے بولی تھی۔
پھر کس بات نے میری بیٹی کو پریشان کیا۔۔؟؟ کشش نے اسکے گال پے پیار سے ہاتھ پھیرتے کہا۔
کوٸ بات نہیں۔۔ مما۔۔۔! میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ بس شاید کام ۔۔۔کی وجہ سے۔۔؟؟ آنیہ نے سر جھکاۓ بہانہ گڑھا۔
اس لیے میں نے سوچ لیا ہے۔ فی الحال کوٸ نہیں جانا اب آپ نے ہاسپٹل۔ اپنی جان دیکھی ہے۔۔؟ خود ٹھیک رہو گی تو۔۔ اوروں کا علاج کرو گی ناں۔۔؟؟ چلو۔۔ اب ریسٹ کرو۔ میں جوس بھجواتی ہوں۔ کشش پیار سے کہتے باہر نکل گٸ۔جبکہ آنیہ کو میر ہادی کی فکر لگی۔
وہ کہاں تھا۔۔؟؟ وہ نہں جانتی تھی۔ اسکا موباٸل بھی اسی کے پاس تھا۔ وہ سر پکڑ کے بیٹھ گٸ۔ اب ہوش و حواس کام کیے تو سمجھ لگا۔ کہ وہ بہت اور ری ایکٹ کر گٸ تھی۔ نجانے میر ہادی کیا سوچتا ہوگا۔۔۔؟
وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی۔ کہ ملازمہ جوس کا گلاس لے آٸ۔ آنیہ کو بھی شدید طلب ہورہی تھی۔ اس لیے گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔ جبکہ خیالوں میں صرف میر ہادی تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کسی فرہاد کے نام پے نمبر ہے یہ۔۔۔! عمران نے اپنے ہوٹل کے فرسٹ فلور پے بنے میر ہادی کے اسپیشل آفس میں اسے انفارمیشن دیں۔
ایڈریس۔۔؟ اگلا سوال داغا۔
مل جاۓ گا ایک دن تک۔ کمپیوٹر کی بورڈ پے انگلیاں چلاتے ہوۓ وہ یقین بھرے انداز میں بولا تھا ۔
میر ہادی سر اثبات میں ہلاتا اٹھتا اپنا کوٹ چیٸر سے اٹھاتا باہر نکلا۔
اب اسکا رخ گھر کی جانب تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
نکاح آپ کی مرضی سے ہوا ہے۔ میں نے صرف آپ کی مدد کرنے کی غرض سے یہ نکاح کیا ہے۔ اور اس موت کے سوداگر سلطان تک پہنچنے کے لیے۔ جب اسے جہنم واصل کر دوں گا۔ تو آپ آزاد ہوں گیں۔ تب آپ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جا سکتی ہیں ۔ آزادی سے جی سکتی ہیں۔ لیکن تب تک۔۔۔آپ اس گھر میں رہیں گیں۔ میری بیوی کی حیثیت سے۔ اور بالکل محفوظ رہیں گیں۔ آپ۔
ان الفاظ کو سوچتے ہوۓ اسکے دماغ کی رگیں پھٹ رہیں تھیں۔ ایسا اس گھر میں ہو رہا تھا۔ اور وہ بے خبر تھی۔۔۔
نجانے اور کیا کیا چھپایا گیا ہے۔۔؟؟ کتنے راز کھلنا باقی ہیں ابھی۔۔۔؟؟ اسکی آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ وہ جو میر ہادی کی سوچوں میں گم تھی۔ اچانک درعازہ کھلنے پے اسکا دل بہت زور سے دھڑکا۔
آنکھیں جھٹ سے کھولیں۔ سامنے ہی میر ہادی کو روم کے اندر آتا دیکھ اسکا دل بند سا ہونے لگا۔
میر ہادی کوٹ ایک طرف رکھتا۔ شرٹ کی بازو کے بٹن کھولتا اسکی جانب بڑھا۔ بنا اسکی طرف ایک نظر اٹھاۓ سنجیدہ چہرے کے ساتھ۔
کیا ہوا تھا آپ کو۔۔؟؟ ابھی بھی وہ اسے دیکھ نہیں رہا تھا۔ اور یہی بات آنیہ کو کھٹک رہی تھی۔
ہا۔۔دی۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔؟؟ آنیہ پھر ے اعتماد کھونے لگی۔
اب کی بار میر ہای نے پینٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے فرصت سے اسے دیکھا۔
میں۔۔۔ میں نے۔۔۔ کچھ نہیں کیا۔۔۔؟؟؟ آپ نے تو میری ۔۔بات بھی نہیں سنی۔۔ او۔ر۔۔۔۔ چلے گۓ۔
کہتے ہوۓ لہجہ روندھ گیا۔
آپ میری بیوی ہو کے مجھے صفاٸ دیں گیں۔۔؟؟ الٹا اس سے سوال کیا۔ آنیہ نے سوالیہ انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
میاں بیوی کا رشتہ اعتبار کا ہوتا ہے۔۔۔ آپ کو کیوں ایسا لگا۔ کہ میں آپ سے سوال جواب کروں گا۔ یا صفاٸیاں مانگوں گا۔۔۔۔ ؟ ماتھے پے بل پڑے۔
جبکہ دل اسکی پل میں پیلی ہوتی رنگت پے ٹکا ہوا تھا۔
میں۔۔۔ ڈر۔۔گٸ تھی۔۔۔ نظریں جھکاۓ وہ اتنا ہی کہہ پاٸ۔
میر ہادی اسکے قریب ہوتے اسکے پاس تکیہ پے ہاتھ رکھتا اسکی سانسیں منتشر کر گیا۔
میرا آپ سے رشتہ کاغذ کا نہیں روح کا ہے۔ جو مرنے کے بعد ہی ٹوٹ سکتا ہے۔۔۔جیتے جی تو کبھی نہیں۔
اسکی سرگوشی میں کہے الفاظ نے پل میں آنیہ کے چہرے پے گلال کھلاۓ تھے۔ کہ وہ پلکیں بھی نہ اٹھا پاٸ۔ لیکن وہ اسکی روح کو معتبر کر گیا تھا۔
میں چینج کر کے آتا ہوں۔۔ ماحول کو واپس نارمل کرتے وہ وہاں سے باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
جبکہ آنیہ کے چہرے پے اب کی بار ایک پرکون مسکراہٹ تھی۔
دوسری طرف میر ہادی کے چہرے کی مسکراٹ میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ اور ایک بار پھر سے دل کو سنبھالتا وہ شاور آن کر گیا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کہنے کو تو آہان اپنے نیچے والے روم میں تھا ۔ لیکن وہ وہاں سے خفیہ رستے سے نکل چکا تھا۔ جو کوٸ نہیں جانتا تھا۔ اسی علاقہ میں وہ گشت پے تھا۔ اس کا مقصد سلطان کی موت تھی۔ اور وہ ہی اسے نہیں مل رہا تھا۔ لیکن ہمت ہارنا تو پاکستانی سپاہیوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔ سلطان جیسا دہ ش ت گرد انسان ۔ اسے تو وہ موت کے گھاٹ اتار کے ہی دم لیتا۔ اسے جو آرڈرز مل رہے تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنے مشن میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ایسے میں سپاٸ گرل اسکے راستے میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ اور اسے حکم ملا تھا۔ کہ اب وہ رستے میں آۓ تو اسے ۔۔۔۔؟؟
چارلی ۔۔۔! اس وقت وہاں ایک شخص گن کے ساتھ نظر آرہا ہے۔۔۔
آہان کے ساتھ دور بین لیے بیٹھے اسکے ساتھی نے اسے خیالوں سے چونکایا۔
اوکے۔۔۔ ڈی ون۔۔۔! تماسے فوکس کرو۔ میں آگے بڑھتا ہوں۔ آہان کہتے ہوۓ پوزیشن لے چکا تھا۔
چارلی اسکے ہاتھ میں گن ہے۔۔۔ ڈی ون نے باور کروایا۔
اور میرے پاس ایمان کی طاقت۔
اسکے جواب پے آہان نے پورے جذبے سے کہا اور آگے بڑھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ اس شخص پے قابض ہو چکا تھا۔ اور اس کی خاص رگ کو دباتا بے ہوش کر چکا تھا۔
ڈی ٹو! کور۔۔۔۔! چارلی نے اس شخص کو اپنے ایک ساتھی کے حوالے کیا۔ اور تینوں وہاں سے چھلاوے کی طرح غاٸب ہوۓ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
طبعیت کیسی ہے اب۔۔۔۔؟؟
آنیہ کے پاس آتے فکر سے پوچھا۔
ٹھیک ہوں۔۔۔! مختصر سا جواب دیتے اسکے گال میر ہافی کی گھمبیر نظروں کی تپش سے دہک اٹھے تھے۔
میڈیسن لیں۔۔؟؟ اسکا ہاتھ تھامتے اپنے ہاتھ میں لیتے دھیرے سے پوچھا۔ جبکہ آنیہ کی دھڑکنوں نے عجیب ہی شور مچایا۔ کہ وہ جواب دینا ہی بھول گٸ۔
اس پے اپنی ہاتھ کی انگلیوں میں آنیہ کے ہاتھ کی انگلیاں قابو کرتے اسکی زبان کو تالو کے ساتھ چپکا دیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ مجھے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے۔۔ جیسے آپ کے دل کی دھڑکن ۔۔۔ مجھے کچھ۔۔۔ کہنا۔۔ چاہ رہی ہے۔۔۔۔۔! آنیہ کی طرف رخ پھیرتے وہ اسکے قریب ہوتا بولا تھا۔
وہ۔۔۔۔آپ۔۔۔؟؟؟ آنیہ کا بار بار نظریں جھکانا۔۔ اٹھانا۔۔ ؟میر ہادی کی جان پے بن آٸ تھی۔ وہ لڑکی اسکے دل کی ضرورت بنتی جا رہی تھی۔ وہ اسکی تھی۔ اسکی محرم۔۔۔ اسکی دسترس میں۔ یہ احساس ہی اسکے لیے اتنا حسین تھا۔ کہ وہ اس لمحے کو دل سے جی رہا تھا۔
اسکے قریب ہوتے وہ اسکے ہونٹوں پے جھکا۔۔۔ کہ دروازے پے ہوتی دستک پے دونوں چونکے۔
میر ہادی منہ بناتا پیچھے ہٹا۔ جبکہ آنیہ کے چہرے پے شرمگیں مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔
آنے والی کشش تھی۔ جو کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں بھی آسکتی تھی۔
یہ لو۔۔۔ بھٸ۔۔۔ ! میری ڈاکٹر بیٹی کے لیے میں دودھ لاٸ ہوں۔۔ فوراً سے پی لو۔۔۔ ایک منٹ میں۔۔۔! کشش نے دودھ کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔ تو وہ مسکرا دی۔ جبکہ میر ہادی اب اٹھتا ہوا صوفے پے جا بیٹھا تھا۔ اور دونوں ساس بہو کی باتیں سننے لگا۔ جبکہ نظروں کی تپش پے آنیہ کا دل دھڑکتا ہی رہا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ میر ہادی کو بھی باتوں میں شامل کر لیت۔۔ لیکن وہ ہوں ہاں سے زیادہ جواب نہیں دے رہا تھا۔ فون کال آتی دیکھ وہ اٹھتا گیلری میں چلا گیا۔
جبکہ آنیہ کو لگا اسکی دنیا اسکی نظروں سے اوجھل ہو گٸ ہو۔ جبکہ کشش کی باتیں نان سٹاپ جاری تھیں۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیا مطلب۔۔؟؟؟ میرے بارے میں وہ کیا انفارمشن لے رہا تھا۔۔۔؟؟ ہانیہ کو یونی آتے ہی اپنی قریبی دوست سے خبر ملی تھی۔ کہ آہان اسکے بارے میں معلومات اکھٹی کر رہا تھا۔ جسے سن ہانیہ کا دماغ گھوما تھا۔
یہ تو نہیں پتہ۔ لیکن تمہارے یونی آنے جانے کے ٹاٸم اور کلاسز لینے کی ٹاٸمنگ۔۔ اور کتنی کلاسز۔۔۔ مس کی ہیں۔ وہ سب پوچھ رہا تھا۔ گڑیا سدا کی سادی۔ ساری بات ہانیہ کو بتا دی۔ جبکہ آہان نے منع کیا تھا۔ کہ ہانیہ سے زکر نہیں کرنا۔ بدلے میں چاکلیٹس کا پورا ڈبہ بھی تھمایا تھا۔ اس پے گڑیا نے اتنا کیا تھا۔ کہ آہان کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ لیکن ہانیہ سے بھی دوستی نبھاٸ۔ اور اسے بھی بتا دیا۔
وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔ اور۔۔ تم۔۔۔؟؟ یقیناً۔۔ سب کچھ بتا دیا ہوگا۔۔۔؟؟ ہانیہ نے دانت پیسے۔
وہ۔۔۔وہ۔۔۔ نہیں۔۔ تو۔۔۔ ؟؟ بس۔۔ جو پوچھا۔۔۔وہی۔۔ ۔؟؟ چاکلیٹس کا ڈبہ اب کی بار اپنے پیچھے چھپایا۔ جبکہ ہانیہ سب سمجھ گٸ۔
بہت۔۔۔ ہی کوٸ۔۔۔ لالچی ہو تم۔۔۔!ہانیہ نے سخت غصہ کیا۔ اور وہاں سے اٹھتی گھر کی جانب رخ کیا۔ اب اسے آہان سے پورا حساب کتاب کرنا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہان۔۔۔ ہان۔۔۔۔؟؟ کہاں ہو تم۔۔؟
ہانیہ اندھا دھند آہان کے روم میں داخل ہوٸ۔ کل ہی وہ اوپر شفٹ ہوا تھا۔ اور ہانیہ کو آج ہی پتہ چلا تھا۔
کون ہیں آپ۔۔۔؟ اچانک سے باتھ روم سے نکلتی ایک لڑکی نے ہانیہ کو ناگواری سے دیکھا ۔ جبکہ ایک لڑکی کو آہان کے روم میں دیکھتے ہانیہ بھی بری طرح ٹھٹھکی۔
تم کون ہو۔۔؟ اور یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ ہانیہ اسکے پاس آٸ ۔ اس کے بالوں سے گرتے پانی کے قطروں پے ایک تنقیدی نظر ڈالتی وہ ماتھےپے بل ڈال چکی تھی۔
جن کو تم ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔ ان کی بیوی ہوں۔ اس لڑکی نے بھی پوری فرصت سے جواب دیا۔ کہ ہانیہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔ ایک لمحے کو تو اسے چپ ہی لگ گٸ۔
بکواس مت کرو۔۔ تم۔۔۔؟؟ہانیہ نے غصہ سے انگلی اٹھاٸ۔ کہ اسی لمحے آہان اندر داخل ہوا۔
ان دونوں کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ۔ لب بھینچ گیا۔
ابیہان ۔۔۔! اچھا۔۔۔ ہوا آپ آگٸے۔۔۔! دیکھیں یہ کون لڑکی ہے۔۔۔؟؟ اور کیسے۔۔ مجھ سے بات کر رہی ہے۔۔۔؟؟ نور نے منہ بنا کے آہان سے کہا ۔
تم سے۔۔۔ بات کرنے کے لیے۔۔۔مجھے۔۔۔اسکی پرمیشن چاہیے۔۔۔ہوگی۔۔۔؟؟ ہانیہ نے دانت پیستے آہان کی طرف اشارہ کرتے نور کو مخاطب کیا۔
اس سے پہلے کے ہانیہ کے منہ سے کچھ نکلتا وہ ہانیہ کا ہاتھ پکڑتا وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔
چھوڑو۔۔! مجھے۔۔۔ ! ہانیہ نے اپنی کلاٸ چھڑانے کیکافی کوشش کی۔ لیکن آہان کی گرفت بہت سخت تھی۔
اپنے نیچے والے روم میں لاتا وہ دروازہ لاک کر گیا تھا۔جبکہ زلیخا بیگم یہ سب دیکھتی کانو ں کو ہاتھ لگا چکی تھیں ۔
کیا مسٸلہ ہے تمہارا۔۔۔؟؟ کیوں ہر بار۔۔ میرے معاملات میں ٹانگ اڑاتی ہو۔۔۔؟؟ آہان نے اسے اپنے مدمقابل کرتے گھورتے ہوۓ پوچھا۔
میں۔۔۔ میں آتی ہوں۔۔ تمہارے معاملات۔۔میں ۔۔؟؟ یا تم۔۔۔میری جان نہیں چھوڑتے۔۔؟؟ ہانیہ نے بھی اتنے ہی غصہ سے جواب دیا۔
اپنی آواز نیچی رکھو۔۔۔اور میں تمہیں ؟؟
کیامجھے۔۔؟ ہاں۔۔۔؟؟ کیو ں گٸے تھے یونی۔۔؟؟ کیا جاننا چاہتے تھے میرے بارے میں۔۔ ؟؟ ہاں۔۔بولو۔۔۔؟؟ ہانیہ نے اسکے سینے پے زور زور سے ہاتھ مارتے پوچھا۔ جبکہ اسکا غصہ سوانیزے پے تھا۔ وجہ وہ خود بھی نہیں سمجھ پار ہی تھی۔
ہاں۔۔ گیا تھا۔۔۔ بہتر ہوگا۔۔ اپنے جن کاموں میں تم لگی ہو۔۔باز آجاٶ۔۔ ورنہ۔۔ بہت پچھتاٶ گی۔۔۔ اور اگر باز نہ آٸ تو۔۔۔ سخت مصیبت میں پڑ جاٶ گی۔ ان ڈاٸریکٹلی اس نے ہانیہ کو سمجھانا چاہا۔ کہ وہ ہتھے سے اکھڑ گٸ۔
کیا مطلب۔۔۔ہے تمہارا۔۔؟؟ تم۔۔۔تم مجھے دھمکا رہے ہو۔۔۔؟؟ اور تمہیں کیا لگتا ہے۔۔؟؟ میں ڈر جاٶں گی۔۔۔؟؟ ہانیہ نے نڈر ہوتے کہا۔ آہان نے سر جھٹک کے رہ گیا۔
مجھے ڈیڈ بھی نہیں روک سکتے۔۔ تو تم۔کیا چیز ہو۔۔؟؟
پاس ہوتے وہ پھنکاری تھی۔
ہونہہ ۔۔۔ مجھے روکنے کے لیے۔۔ میری شادی کروارہے ہیں۔۔ ! لیکن وہ بھول رہے ہیں۔۔ میں کون ہوں۔۔میں وہ طوفان ہوں۔۔ جو روکے نہیں رکےگا۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔!
ہانیہ کے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہتے وہ آہان کو ایک پل کو ٹھٹھکا گٸ۔ وہ تو اسکی شادی کی بات پے ہی بری طرح اٹکا تھا۔
شادی۔۔۔؟؟ سوالیہ انداز میں پوچھا۔ جبکہ ماتھے پے دو بل واضح ہوۓ تھے۔
میری زات میں دلچسپی لینا چھوڑ دو۔
بہتر ہوگا۔ اپنی اس بیوی میں دلچسپی لو۔۔۔۔! جسے یہاں لے کے آۓ ہو۔۔۔ نجانے کس حیثیت سے۔۔۔۔؟؟
لہجے کی بے انتہا نفرت آہان سے چھپی نہ رہ سکی۔
تم۔۔اس سے دور ہی رہنا۔۔۔!
آہان نے اسکی بات پے تپتے ہوۓ کہا۔
ہوں۔۔۔ ! اسکی اتنی اوقات نہیں کہ ہانیہ اس جیسی کو منہ لگاۓ۔ ہانیہ نے ناک سےمکھی اڑاٸ۔
جبکہ آہان کے دماغ میں ہانیہ کی شادی والی بات ہی نہیں نکل رہی تھی۔ وہ وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ جبکہ ہانیہ کا غصہ کسی صورت کم نہ ہور رہا تھا۔ پاس پڑا واس ہاتھ مار کے زمین بوس کیا۔
جاری ہے۔
