Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 26,27,28)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 26,27,28)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
مبارک باد کا شور اٹھا۔ بخیر و آفیت نکاح کا مرحلہ طے ہو گیا تھا۔
نکاح کے وقت آہان ہانیہ ابتسام ارتسام اور دو گواہ جو کہ فوج سے ہی تھے۔ وہ شامل ہوۓ تھے۔ نکاح کےبعد ہانیہ کو تو کمرے سےباہر لےجایا گیا۔ جبکہ ابتسام نے مسکراتے ہوۓ پرسکون انداز میں آہان کو گلے سے لگایا ۔
ایک بہت بڑی زمہ داری سونپ رہا ہوں۔۔ آہان آپ کو۔۔۔! امید کرتا ہوں۔۔ سنبھال لو گے۔۔؟؟ تھوڑا سنجیدہ اور تھوڑا شرارتاً کہتے وہ آہان کو بھی مسکرانے پے مجبور کر گیا ۔
یہ سب دونوں کی مل بھگت سےہوا تھا۔ آہان وہاج کے بارے میں سب جان گیا تھا۔ اور پھر دیبہ تک پہنچنا مشکل کام نہ تھا۔ اسی کے ساتھ ہانیہ کی نکاح کی آفر کے متعلق بھی آہان نے ابتسام کو بتا دیا۔
اور پھر بہت سچ بچار کے ابتسام نے ہانیہ کانکاح آہان سے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پلان کے مطابق نکاح میں زیادہ لوگوں کو نہیں بلایا گیا۔ صرف گھر کے افراد نے شرکت کی۔ اور سخت سیکیورٹی میں یہ کام ہوا۔
سبھی خوش تھے۔ ماسواۓ ابرش کے۔ وہ سب کے بیچ سے واک آٶٹ کر گٸ۔ اسے ابتسام سے یہ امید نہ تھی کہ وہ اسے اپنی ہی بیٹی کے نکاح میں شرکت نہیں کرنے دے گا۔ بھلے وہ وہاں موجود تھی لیکن نکاح میں شامل نہ تھی۔
یہی وجہ تھی۔ کہ آہان کے ساتھ ہانیہ کا نکاح کی رضامندی تو دے دی ۔ لیکن وہ دل سے راضی نہ تھی۔
لیکن آج ایک بات ثابت ہوگٸ تھی۔ کہ آہان کا ابتسام سے کوٸ تعلق نہ تھا۔
اس بات سے گونا اسے سکون تو ملا۔ لیکن دل میں ایک درد بھی اٹھا۔ کہ شادی کے اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ابتسام اس پے اعتبار نہ کرسکا۔
ڈیڈ۔۔۔؟؟ سب کو روم سے باہر نکال۔ اس وقت ابتسام آہان اور ہانیہ سے کچھ بات کرنا چاہتے تھے۔ کہ ہانیہ نے انہیں فوراً پکارا
ہانیہ۔۔! آپ نے جو بھی کیا۔۔۔۔وہ قابل معافی تو نہیں۔۔ تو نہیں۔۔ البتہ۔۔ اب ایک اعتبار کی ڈور آپ کو تھمانا چاہتا ہوں۔۔۔ ابتسام نے اسکی بات کاٹتے بہت نرمی سے تمہید باندھی۔
ہانیہ کی آنکھیں نم ہوٸیں۔۔ آج پہلی بار ابتسام نے اس سے محبت سے بات کی تھی۔ اسکا جی چاہا۔ اپنا آپ اپنے باپ پے نچھاور کر دے۔
ڈیڈ۔۔۔! آپ کےلیےجان بھی حاضر۔۔۔! آپ جو بھی سزا دیں گے۔ مجھےقبول ہے۔۔۔! اس نے سر جھکاٸے دھیمے لہجےمیں کہا۔
بیٹا۔۔۔! سزا تو نہیں ۔۔ لیکن ایک عہد چاہتا ہوں۔۔ اپنا ہاتھ ہانیہ کی جانب بڑھایا ۔
آپ کبھی بھی آہان کی زات کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاٸیں گیں ۔ وہ کون ہے۔۔اکا بیک گراٶنڈ کیا ہے۔۔؟؟ کچھ بھی۔۔۔! یہاں تک کہ اپنی مما کو بھی نہیں۔
ابتسام اس سے اس قسم۔ا وعدہ لیں گے۔۔۔؟ وہ بالکل نہ جانتی تھی ۔ لیکن اب اسے عہد کرنا تھا اپنے باپ سے۔ سو کر لیا ۔
آپ کا اعتماد کبھی نہیں توڑوں گی۔یقین دلاتے کہا۔
ابتسام نے اسکے سر پے شفقت سے ہاتھ پھیرا .
اور باہر نکل گۓ۔ آہان موقع پاتے اسکےپاس آیا ۔
خوبصورت چڑیل لگ رہی ہو۔۔۔! ملتے ہیں بریک کے بعد۔۔۔!
آہان ایک آنکھ ونک کرتا باہر نکل گیا۔
جبکہ ہانیہ کا جی چاہا اسکا گلہ دبا دے۔ اور وہ ایسا ارادہ رکھتی بھی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
مما۔۔۔!اداس نہ ہوں۔ ضرور اس کے پیچھے بھی ڈیڈ کی کوٸ نہ کوٸ وجہ ہوگی۔ ۔۔ صد شکر کے سب کچھ صحیح ہوگیا۔
آپ فکر نہ کریں۔ دیکھنا اک دن ڈیڈ ضرور آپ کو سب کچھ بتا دیں گے۔
آنیہ نےماں کو اداس دیکھا تو دلاسا دیے بنا نہ رہ سکی۔
جانتی ہوں۔۔! ابرش نے گہرا سانس خارج کیا۔
آپ بتاٸیں۔ میر ہادی کیوں نہیں آۓ۔۔؟؟ ابرش کی جانچتی نظروں سے آنیہ اپ سیٹ ہوٸ۔
انکا آفس ورک کا لوڈ بہت زیادہ ہے۔۔ کشش مما اور بابا تو آٸیں ہیں ناں۔۔۔! وہ بھی آجاٸیں گے۔۔۔! آخر میں آواز دھیمی پڑگٸ۔
آنا چاہیے۔۔تھا۔۔۔! خیر۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔ نجانے کیوں مجھے آپ کمزور سی لگ رہی ہو۔۔!اسکا گال سہلایا۔
ایسا کچھ نہیں مما۔۔ بس۔۔۔!شاد ی کے بعد ماٶں کا لگتا ہے انکی بیٹیاں کمزور ہوگٸ ہیں۔
آنیہ نے مزاقاً کہا۔ تو ابرش مسکرا دی۔
باہر رخصتی کا شور اٹھا۔ تو آنیہ زبردستی ابرش کو اپنے ساتھ باہر لے گٸ۔ رخصت ہو کے جانا بھی کہاں تھا۔۔ ایک ہی گھر تھا۔ بس اب ہانیہ ہو پرمٹ مل گیا تھا آہان کے کمرے تک کی رساٸ کا۔ اور وہ اسکا بھرپور فاٸدہ اٹھانے والی تھی۔ بہت بڑا پلان کر رہی تھی۔وہ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
رات کو وہ کافی دیر سے آنیہ میر یامین اور کشش کے ساتھ ہنستی مسکراتی گھرلوٹی تھی۔ اوپر بالکنی سے میر ہادی نے فرصت سے یہ منظر دیکھا تھا۔ اور اندر تک سلگ گیا تھا۔
مطلب۔۔۔ اسکا شوہر اسکے ساتھ نہیں اور اسے کوٸ فرق بھی نہیں پڑ رہا تھا۔۔؟؟
کشش اور میر یامین اسے پیار کرتے روم تک چھوڑتے اوپر اپنے روم کی جانب بڑھ گۓ تھے۔ جبکہ وہ اس خالی کمرے کی جانب ۔ لاٸٹ آن کی تو دل بھر آیا۔ اسکا جی نہیں چاہ رہا تھا واپس آنے کا لیکن۔۔ وہ وہاں رک جاتی تو ۔۔ اپنی ماں پے عیاں ہوجاتی۔ اور یہی وہ نہیں چاہتی تھی۔
اسکا دل بے اتنہا اداس ہوا۔ کہ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ اور میر ہادی کڑے تیوروں سے اندر داخل ہوا۔
آنیہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔
بہت پرسکون ہو ناں۔۔ میرے بنا۔۔؟؟
اسکی طرف بڑھتے سرد لہجے میں کہا۔
آنیہ کو اس سے پھر سے خوف آنے لگا۔
اور ڈر کے پیچھے ہٹی ۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ تم ۔۔ الگ روم میں رہ کے اپنی من مرضیاں کر و گی۔ اور میں چپ چاپ تماشا دیکھوں گا۔۔۔؟ کہتے وہ غصہ سے آگے بڑھا کہ وہ دیوار سے جا لگی ۔ خوف سے اسکا رنگ سفید پڑگیا ۔
ان چند دنوں میں اس نے میر ہادی کا وہ روپ دیکھا تھا۔ جو بھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔
ننن۔۔نہیں۔۔۔! کچھ بولنا چاہا۔
بکواس نہیں سننی۔ تمہاری۔۔۔ چلو۔۔۔ ! کہتے ہوۓ اسکا ہاتھ تھامے زبردستی اپنے ساتھ اپنے روم میں لے گیا۔ وہ اسکے ساتھ کھینچی چلی گٸ۔
اپنے روم میں لے جا کے بستر پے اسے پٹخا ۔
اٶچ۔۔۔۔! ایک بار پھر کلاٸ پے زور پڑا۔ وہ تڑپ ہی گٸ۔
بمشکل اٹھتے اپنی کلاٸ کو دیکھنا چاہا۔ فل سلیوس پہنے اسے دیکھنے میں بھی مسٸلہ ہو رہا تھا۔
آج کے بعد میری اجازت کے بنا اس روم سے قدم بھی باہر رھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔
میر ہادی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے غصہ کس بات پے آرہا ہے۔
آنیہ کے تنہا خوش رہنے پے۔۔ یا اسے خود کو اگنور کرتے۔۔؟؟ کس بات سے۔۔؟وہ جھنجھلا گیا ایک دم۔
آنیہ کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گٸیں۔
میر کو اپنے اوپر غصہ آنے لگا۔کیوں وہ اس معصوم کو تکلیف دے رہا ہے۔۔
معصوم۔۔؟؟ دماغ نے نفی کی۔ وہ معصوم نہیں۔۔ وہ بہت چالاک ہے۔ اور خود غرض بھی۔۔۔!
آنیہ اپنی جگہ سے اٹھی۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟ میر نے سختی سے پوچھا۔
یہ۔۔۔ بینڈیج۔۔۔؟؟ اس نے ڈرتے ہوۓ فوراً سے بولا۔ مبادا پھر ے نہ کچھ سخت بول دے۔
کیا ہوا۔۔؟؟ میر کی آواز اچانک سے دھیمی ہوٸ۔
وہ۔۔۔۔کچھ۔۔۔ نہیں۔۔ بس۔۔۔! چوٹ لگ گٸ تھی۔۔۔! میں۔۔۔ ڈریسنگ کر کے۔۔۔آتی ہوں۔۔
کہتے ہی باتھ روم کی جانب بھاگی۔ جبکہ میر کو اسکی چوٹ اندر ہی اندر تکلیف پہنچا رہی تھی ۔
وہ آنسو صاف پونچھتی چینج کرتی باہر نکلی۔ زخم سے ہلکا ہلکا خون پھر سے رسنے لگا تھا ۔ فرسٹ ایڈ باکس سے وہ ڈیوٹول لیتی روٸ سے زخم صاف کرنے لگی۔
یہ۔۔۔؟؟ یہ۔۔کٹ لگے ہیں۔۔ تمہیں؟؟ ؟میر اسکے پاس صوفے پے بیٹھتے بولا۔
آنیہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ زخم دینے والا ہی پوچھ رہا ہے۔ کہ زخم کیسے لگے۔۔۔؟؟؟
میں کیاپوچھ رہا ہوں۔۔؟؟ آنیہ۔۔۔؟؟ یہ کیسے لگی چوٹ۔۔۔؟؟ وہ تھوڑا تیز ہوا۔
پتہ نہیں۔۔۔! اب کی بار وہ تھوڑا تلخ ہوگٸ تھی۔
ادھر دو۔۔۔! روٸ اسکے ہاتھ سے لیتا وہ خود صاف کرنے لگا۔ بہت دھیان سے۔
جبکہ آنیہ یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔
وہ شخص جان سے پیارا ہے اسے کہنا۔
وہی جینےکا سہارا ہے اسے کہنا۔
بنا اسکے جینا نہیں گوارا۔
اب رہنا ہے ہمیشہ اسکی بانہوں میں اسے کہنا۔
دیا ہر زخم قبول ہے اس دل کو۔۔
لیکن دیٸے نہ کبھی جداٸ اسے کہنا۔
ہم اپنی ہی محبت کی جنگ خود ہی ہار گۓ۔۔۔
وہ جیت جاۓ ہر بازی۔۔ لیکن میں جیت جاٶں اسے۔۔۔کہنا۔۔ہاں۔۔ اسے کہنا۔۔۔!
بےا ختیار ہاتھ بڑھاتے اسکے گال کو چھونا چاہا ۔ کہ فوراًسے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
تین اسٹیچیز ہیں۔۔ اور آپ کو پتہ نہیں کیسے لگے۔۔۔؟؟ امیزنگ۔۔۔! وہ جو اسکے اسٹیچیز کو صاف کرتا اسکیجانب پلٹا تھا وہ نظریں جھکا گٸ تھی۔
میڈیسن لیں۔۔۔؟؟ اٹھتےہوۓ سوال کیا۔
جی۔۔۔! دھیمی آواز میں ہی جواب آیا۔
جانتی ہیں ۔ آپ کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ پھر بھی خود کی کٸیر نہیں کرتیں آپ۔۔۔؟؟ اب کی بار ناراضی جھلک رہی تھی۔
اچھا۔۔۔۔۔؟؟؟ آنیہ نے حیرت سے اسے دیکھتے اٹھت اسکے پاس آتے کہا
مجھے لگا مجھے تکلیف میں دیکھ آپ کو سکون ملتا ہے۔۔۔
ایک پل کو تو میر چپ ہی ہوگیا۔ اور بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گیا۔
اپنی طرح خود غرض سمجھ لیا ہے آپ نے مجھے بھی۔۔؟؟ آنکھوں میں دیکھتے بنا لحاظ کیے وہ بولا تھا۔
میری کونسی خود غرضی آپ نے دیکھ لی۔۔میر۔۔؟؟ آنیہ کو شدید دکھ ہوا۔
ہونہہ۔۔۔! آپ جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں۔۔ جن میں زرا برابر انسانیت نہیں ہوتی۔ کسی کی تکلیف سے انہیں کوٸ غرض نہیں ہو تی۔۔۔!
تمسخر اڑایا۔
جاری ہے۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔؟؟ صاف کہہ دیں میر۔۔؟
آنیہ خاموش آنسو بہاتی اسکے قریب آٸ۔
ابھی بھی آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں۔۔۔؟؟ جبکہ آپ چاہتی تو۔۔۔؟؟ میری بہن بچ سکتی تھی۔۔۔؟
میر کی بات پے تو آنیہ کا سانس ہی رک گیا۔ وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔۔؟؟
ایک بار پلٹ کے دیکھ لیتیں۔۔۔تو۔۔۔ میری بہن۔۔۔؟؟ آج میرےساتھ ہوتی۔۔۔! وہ۔۔۔ جان سے نہ جاتی۔۔۔ ہم سے دور نہ ہوتی۔۔۔!
ایک کرب تھا اسکے لہجے میں ۔آنیہ کیآنکھیں خو ہی بہنے لگیں۔
وہ۔۔۔۔وہ ۔۔آپ کی۔۔۔بہن۔۔؟؟؟ آنیہ کو یقین نہ آیا۔
کیا اتنی سی۔۔۔؟؟ اتھ اٹھا کے بولتا وہ آنیہ کو آٸینہ دکھا رہا تھا۔
اتنی سی بھی انسانیت نہ تھی آپ میں۔۔کہ آپ دیکھ لیتیں کہ کوٸ تکلیف میں ہے۔۔ کہنے کو آپ ایک ڈاکٹر ہیں۔۔ لیکن۔۔ میری نظر میں آپ ایک انسان بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ میر ہای کہتے ہی وہاں سے نکل گیا۔آنیہ کو یوں لگا جیسے اس کےپیروں میں جان نہیں رہی۔۔ وہ لڑکھڑا کے وہیں بستر پے ڈھے گٸ تھی۔ ایک ٹھیس سی اٹھی تھی دل میں ۔۔کیا واقعی۔۔ میری غلطی ہے۔۔۔؟
کیا واقعی میں قصور وار ہوں۔۔۔۔؟؟؟ میر۔۔۔ ہای کی بہن۔۔۔؟ اسکی موت کی وجہ ۔۔۔میں ہوں۔۔۔؟؟ وہ خود سے سوال کرتی اپنے ہوش و حواس میں نہ لگی۔
وہ ایک بار پھر مینٹلی بری طرح ڈسٹرب ہوٸ تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
بھیگے ہونٹ تیرے
پیاسا دل میرا
لگےابر سا۔۔۔
مجھے تن تیرا۔۔۔۔!
آہان جیسے ہی روممیں داخل ہوا۔ اسکے موباٸل پے یہ ٹون بجی۔ جو ابھی ابھی اس نے چینج کر کے لگاٸ تھی۔تا کہ جب وہ روم میں جاۓ تو اسکا دوست اسے کال کرے ۔۔۔ ٹون بجے۔ اور ہانیہ کی بے بسی سے حظ اٹھاۓ۔
گانے کے بولوں پے دونوں کی نظریں ایک پل کو ملیں۔ ہانیہ نے لب بھینے اسے دیکھا۔ جبکہ آہان اسکو دیکھتا اپنا بچاٶ یقینی بنا رہا تھا۔ وہ جوالہ مکھی بنی تھی۔ اور کبھی بھی پھٹ سکتی تھی۔ اور اسکے عتاب کا نشانہ آہان ہی ہونا تھا۔
کبھی میرے ساتھ کوٸ رات گزار۔۔۔
تجھے صبح تک۔۔۔ میں کروں پیار۔۔۔۔
بند کرو۔۔۔یہ بکواس گانا۔۔۔! وہ اسکی جانب ایسے جھپٹی۔ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھ کے جھپٹتا ہے۔ آہن نے موباٸل ساٸیڈ پے رکھا۔ اور اسکے دونوں ہاتھوں کو قابو کیا۔ جو پنجہ بناۓ اسکے چہرے کا نشانہ لیے ہوۓ تھی۔
ٹون بند ہو چکی تھی۔
آرام سے۔۔۔ جان۔۔! اب لڑکھڑا کے گر جانا تھا۔۔۔! اور یہ کیا۔۔۔؟؟ پہلی رات کی دلہنیں کیا ایسے استقبال کرتی ہیں اپنے شوہر کا۔۔۔؟؟ آہان نے اسکی کلاٸیاں مضبوطی سے تھامیں تھیں۔ وہ جانتا تھا وہ مارشل آرٹ میں بلیک بیلٹ ہے۔ اور اسے سامنے والے کو پچھاڑنا آتا تھا۔
تم جیسوں کا کون استقبال۔کرتا ہے۔۔۔؟؟ ہانیہ تڑخی۔
جبکہ خود کو چھڑانےکے لیے وہ اپنے ہاتھ پاٶ ں بھی مار رہی تھی۔ آہان یوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ اسے مزید قریب کر گیا۔ اسکا ہوشربا روپ دیکھ ایک لمحے کو وہ گلیٹ سا ہوا۔
اسکےہلتے لب دیکھتا وہ کسی اور ہی دنیا کا راہی بنا۔ اسے خود بھی پتہ چلا۔ وہ بولے جا رہی تھی۔ کیا بول رہی تھی۔۔۔ ؟ وہ نہیں سن رہا تھا۔ اس وقت تو وہ اسے اپنے لیے دلہن بنا دیکھ ہی اسکا دل اسکے حسن کے آگے چاروں شانے چت گرا تھا۔
نفرت ہوری ہے مجھے تم سے۔۔چھوڑو۔۔۔میرا ہاتھ۔
ایک دم سے اسکی آواز کانوں سے ٹکراٸ تو آہان ہوش میں آیا۔ نفرت۔۔۔؟؟ اسکے لبوں سے ادا ہوا وہ لفظ اسے اندر تک جل گیا۔
اور ایک منٹ کی دیری کیے بنا کھینچ کے اسے اپنے سسینے سے لگاتا وہ اسکے ہونٹوں پے جھکا۔ وہ اس افتاد پے سن ہی رہ گٸ۔اسے آہان سے اس عمل کی توقع ہرگز نہ تھی۔ وہ جتنا خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی۔ اسکی گرفت مزید سخت ہوتی جاتی۔
نفرت لفظ ا سارا غصہ اسکے لبوں پے اتارتا وہ ماتھے پے بل ڈلے پیھے ہٹا تھا۔ ہانیہ اپنے ہونٹوں کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کرتیاسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ کہ برداشت نہ ہوا۔ اور آہن پے اسکا ہاتھ اٹھ گیا۔
تم۔۔۔؟؟ انگلی اٹھا کے اسے کچھ کہنا چاہا۔ کہ ایک بار پھر سے آہان اپنے غصہ کو جو شانت کر رہا تھا۔ اسکوتھپڑ مار کے بھک سے اڑایا تھا۔ کھینچ کے ایک بار پھر سے اسے اپنے ساتھ لگاتا اب کی بار پوری شدت سے اسکے لبوں پے جھکا تھا۔ کہ ہانیہ کی جان ہی نکل گٸ۔ سانس بند وتا محسوس ہوا۔ تو مزاحمت ترک کرتی اسکے کاندھوں پے اپنے ڈھیلے ہاتھوں کو رکھتے وہجیسے ہار رہی تھی۔
اپنے ساتھلگاۓ وہ اس خون خوار شیرنی کو اب بہت قریب سے دیکھتا اسکے بالوں کو دوپٹے سے مٹھی میں پکڑتا اسکا چہرہ اوپر کر گیا تھا۔ جوآنکھیں موندے گہرے لمبے سانس لے رہی تھی۔
بہت لذیذ اور میٹھی ہو۔۔۔ ! میں تو سوچا کرتا تھا۔۔۔ بہت کڑوی ہوگی۔لیکن تم۔نے تو۔۔ مجھے غلط ثابت کر دیا۔۔۔۔!وہ کہتے ہوۓ اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں کے ساتھ ٹچ کرتا اسے مکمل قابوکیے بولا تھا۔
ہانیہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ سامنے ہی آہان کی آگ برساتی آنکھوں کی تپش سے وہ اندر ہجاندر سلگنے لگی۔
بھیگے ہونٹ تیرے۔۔۔۔
ٹون پھر سے بجنے لگی۔ بے اختیار آہان کی نظر اسکے ہونٹوں پے گٸ جو بے انتہا سرخ ہو چکے تھے۔
اسکے ہونٹوں پے اپنے شدید لمس کی چھاپ چھوڑتا وہ اندر ہی اندر بہت سکون محسوس کر رہا تھا۔ جسے خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
پیاسا دل میرا۔۔۔
لگے ابر سا۔۔۔۔
مجھے تن تیرا۔۔۔
اسکا دوست تو بار بار بند کرتا بار بار کال کرتا یہی ٹون بجا رہا تھا۔ اور ہانیہ خود کو اسکے آگے آج بے بس سا محسوس کر رہی تھی۔ اسکا آنچ دیتا لہجہ۔۔ آنلوں کی سرخی۔۔ ایک دلفریب احساس۔۔ وہ اس احساس سے دور رہنا چاہتی تھی۔ لیکن نجانے کیوں وہ اس میں جکڑی جا رہی تھی۔۔۔؟
کیا ہوا۔۔۔؟؟ بس ۔۔اتنیے پے ہی ہمت ہار گٸ۔۔۔۔۔؟؟ جب اپنی پوری شدت سے پیار برساٶں گا۔۔۔ تب کیا کرو گی۔۔؟؟ آہان نے اسکی ناک سے ناک کو رب کیا۔ تو وہ لرز گٸ۔
بہت۔۔۔بڑے فلرٹ انسان ہو تم۔۔۔! آواز میں نمی سی گھلی ہوٸ تھی۔ ہانیہ نے اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے محسوس کی تو خود کو جھٹکے سے چھڑایا ۔
بیوی ہو۔۔۔ کچھ تو حق بنتا ہے۔۔۔! آہان کہاں باز آنے والا تھا۔
ہانیہ اسکی اس طرح کی پیش قدمی پے حیران تھی۔ کبھی بھی زندگی میں آج تک اسے محسوس نہ ہوا تھا۔ کہ آہان بھی اسکے یوں قریب آسکتا ہے۔ وہ بھی اس قدر شدت سے اسے بے بس کر دے گا۔۔؟؟ یہ سوچ ہی اسے اندر ہی اندر گھبرانے پے مجبور کر رہی تھی ۔
بھیگے ہونٹ تیرے۔۔۔
ای بار پھر رنگ ٹون بجی تو ہانیہ کا میٹر گھوما۔ اور موباٸل اٹھا کے آف ہی کر دیا ۔ آہان کے طہرے پے گہری سماٸل بکھر گٸ۔ دھیرے سے شرٹ کے کف کے بٹن کھولتا وہ اسکی جانب بڑھا۔
اچھا کیا۔۔۔ میں بھی نہیں چاہتا۔۔ کہ کوٸ ہمیں اس گولڈن ناٸیٹ پے ڈسٹرب کرے۔۔۔! اس ناٸیٹ میں کسی کی مداخلت ہونی بھی نہیں چاہیے۔۔۔
اب وہ کالر کے بٹن کھولتا صحیح معنوں میں ہانیہ کو ڈرا گیا۔
دور رہو مجھ سے۔۔ ! خبردار جو میرے نزدیک بھی آٸے۔۔ اس نکاح کو لے کے کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔۔۔ ! ایک منٹ سے بھی کم وقت لگے گا۔۔ اس کاغذ کے رشتے کو۔۔ختم۔۔
ابھی اسکی بات پوری نہیں ہوٸ تھی۔ کہ آہان نے اسے پھر سے اپنی اور کھینچا۔ اور بستر پے گرایا ۔
تمہارے نیک ارادے جان کے مجھےلگتا ہے۔۔ تمہارے پر کاٹنے ہی پڑیں گے۔۔ تا کہ۔۔ تم دوبارہ اپنی زبان سے یہالفاظ ادا نہ کر سکو۔
ایک ہاتھ سے اسکے دونوں ہاتھوں کو پن کرتا اسکی ٹانگوں کو بھی قابو کیا۔ کوٸ بعید نہیں تھا۔ وہ کک لگا کے اسے نیچے گرا دیتی۔
پیچھے ہٹو۔۔۔! موٹے گینڈے۔۔۔۔! آہان نے اسے صحیح تنگ کرنے کی وجہ سے سارا وزن اسکےاوپر ڈال دیا۔ اسکا سانس ہی رکنے لگا۔
گینڈا کہنےپے آہان کے تو سر لگی پیروں بجھی ۔کہاں وہ اتنا ہینڈسم اور سمارٹ۔ اور کہاں وہ اسے گینڈا بول رہی تھی۔۔
آہان کا ایک ہاتھ اسکی شرٹ ک ڈوری میں الجھا تو اسکے جسمسے جیسے جان نکلی۔
ہان۔۔۔۔! ڈونٹ ڈو۔۔ دس۔۔۔! اب کی بار لہجہ تھوڑا نم ہوا۔ نجانے کیوں آہان کا ہاتھ رک گیا۔ کیا کچھ نہ تھا اسکی آنکھوں میں۔ وہ سہما پن۔۔ وہ ڈر۔۔! کیوں۔۔؟؟ وہ یہ سب نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسے دل سے اپنانا چاہتا تھا۔ اور چاہتا تھا۔ کہ وہ بھی اسے دل سے اپناۓ۔ لیکن وہ جو باتیں کرتی۔ دل جلا کے رکھ دیتی۔ اور اسے سبق سکھانے کے لیے وہ سب کر جاتا۔ جو وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔
آہان کی گرفت ایک با پھر ڈھیلی پڑی۔ وہ اسے اموشنلی کنٹرول کر رہی تھی۔ اور آہان کے اموشنز اسکے ساتھ جڑتے جا رہے تھے۔ اسی بات کا فاٸدہ اٹھاتے ہانیہ نے ایک ٹانگ سے اوپر کرتے اپنے ہاتھ چھڑاۓ اور ساتھ ہی آہان کو نیچے کرتی خود اسکے اوپر آگٸ۔ آہان اسکی پھرتی دیکھ گنگ رہ گیا۔
بس بہت ہوگیا۔۔۔ آٸندہ اگر میرے پاس بھی آۓ یا مجھے چھونے کی بھی کوشش کی تو۔۔ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔ وہ اسکےہاتھ قابو کیے اس کے چہرے پے جھکی ہوٸ غصہ سے بولی۔
جی ۔۔ جناب اور کوٸ حکم۔۔۔؟؟ آہان نے اسے پھر سے زچ کیا ۔ وہ ایک انچ بھی نہیں ہل رہا تھا ۔ جیسے ہانیہ کے کہنے پے ڈر گیا ہو۔
ہانیہ نے اپنی پوزیشن کا فوراً احساس کیا۔ اور تھوڑا پیچھے ہٹی۔
یہپہلی اور آخری واننگ ہے۔۔ آٸندہ میرے پاس آنےکی کوشش کی۔جان سے مار دوں گی۔۔! دانت کچکچاتےکہا ۔
ہاۓ۔۔۔ ہم تو ایسے ہی آپ کی جان لیوا اداٶں پے مر مٹے ہیں۔ جانم۔۔۔! اب کہیں تو مر بھی جاٸیں گے۔۔۔! وہ جو سر اٹھاۓ ایک آنکھ ونک کرتے مسکراتے بولا تھا۔ آخری جملہ کہتے سر تکیہ پے گرایا ۔
ہانیہ تپ ہی گٸ اسکی بات پے۔
آج وہ ایک الگ آہان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
گو ٹو ہیل۔۔۔۔! کہتے ہی جھپاک سے اٹھتی باتھ روم میں بند ہوگٸ۔
شودہ۔۔۔ ٹھرکی۔۔۔ کھڑوس۔۔ بد تمیز۔۔۔!آٸینے میں پپنا چہرہ دیکھا۔ ہونٹوں پے نظر پڑی تو اسے مزید القابت سے نوازا۔ اسکی گلابیلب اس وقت لال ہو چکے تھے۔
وحشی درندہ۔۔۔ جنگلی۔۔ جاہل۔ کہیں کا۔۔ اتنا ٹھرک پن۔۔۔؟؟ آہان مرزا۔۔۔ تمہیں بھی تگنی کا ناچ نچایا تو میرا نام بھی ہانیہ ابتسام نہیں۔۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔
جاری ہے۔
خوشیوں کے محلوں میں تم۔کھیلو۔۔۔
کوٸ غم نہ تمہارے پاس آۓ۔۔۔
نہ عمر کا پہرہ ہو تم پے ۔۔۔
میرے دل کی دعا یہ رنگ لاٸے۔۔۔۔
رب ہنساتا ہوا رکھے تمکو۔۔۔
تم تو ہنسنے کی عادی ہو۔۔۔
بھیا۔۔۔۔؟؟ پلیز مت رٶٶ۔۔۔میں کوٸ ہمیشہ کے لیے تھوڑی نہ جا رہی ہوں۔۔۔؟؟ ملنے آتی رہوں گی ناں۔۔۔!
نور سے زیادہ وہ رو رہا تھا۔ اکلوتی بہن کو رخصت کرنے کا درد کیا ہوتا ہے۔ وہ بھی جان سے پیاری بہن۔ یہ ایک بھاٸ ہی سمجھ سکتا ہے۔
تاروں کا چمکتا گہنا ہو۔۔۔
پھولوں کی مہکی وادی ہو۔۔۔
اس گھر میں خوشحالی آۓ۔۔۔
جس گھر میں تمہاری شادی ہو
حیدر سلطان۔۔۔! میری بہن میرا سب کچھ ہے۔ اسکی آنکھ کا ایک آنسو بھی گرے تو میرا جی چاہتا ہے۔ خون کی ندیاں بہا دوں۔ اب تم۔پے ہے اسکا ایکآنسو بھی نہ بہے۔
میر ہای نور کو گاڑی میں بٹھاتا رخصت کرتا حیدر سے مخاطب ہوا۔ تو وہمسکرا کے ہادی کےگلے لگا۔
آپ کو ہمیشہ میری نور نور کے حالے میں ہی نظر آۓ گی۔ بے فکر رہیں ۔ حیدر نے یقین دلایا ۔ وہ رخصت ہوگٸ تھی۔ آنسوٶں میں۔۔۔ دعاٶں میں۔
ماں باپ کی اکلوتی بیٹی۔۔۔ نور فاطمہ اپنے پیار کے سنگ نکاح کے بندھن میں رخصت ہوگٸ۔
تاروں کا چمکتا گہنا ہو۔۔۔
پھولوں کی مہکتی وادی ہو۔۔۔
اس گھر میں خوش حالی آۓ ۔۔۔
جس گھر میں تمہاری شادی ہو۔۔۔
شادی۔۔۔؟؟ گھر۔۔۔؟؟ خوش حالی۔۔۔؟؟
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ بھیا۔۔۔؟؟ دیکھو تو۔۔۔ آپ کی بہن کتنی خوش ہے اپنے محل میں۔۔۔۔ مسکراہٹیں ۔۔ تو رکتی نہیں۔۔۔! وہ بلک بلک کے رو دی تھی۔
دل مردہ ہوچکا تھا اس ایک سال میں وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔ اپنا شوہر۔۔ اپنی عزت۔۔۔ اپنا غرور۔۔۔ سب کچھ۔۔۔! زنجیروں میں لپٹی وہ ایک سال سے اسکو باندی بنا کے رکھا گیا تھا۔ ہر طرح کی اذیت سے دو چار کیا تھا۔ لیک یہ سانسیں۔۔۔ کتنی ڈھیٹ تھیں۔۔۔ چلے جا رہی تھیں۔ ۔۔۔ رکتی ہی نہ تھیں۔ نیم پاگل ہو چکی تھی وہ۔ ہر احساس سے عاری۔۔۔
بس کبھی کبھار اپنے ہاتھ دیکھ لیتی جسے اسکے بھاٸ نے آخری وقت میں تھام رکھا تھا ۔ اور وہ اہتھ چھوٹتے ہی وہ ایک دلدل میں جا گری تھی ۔ جس میں اندر ہی اندر دھنستی جا رہی تھی۔
ناجانے رب کو کیا منظور تھا۔ جو وہ اتنا درد اور تکلیف سہہ کے بھی زندہ تھی۔
کتنا خوش تھی وہ ۔۔ اپنی محبت کو پا کے۔۔۔! حیدر سلطان کو پا کے۔
گاڑیاپنیمنزل کیجانب گامزن تھی۔ راستہ کتنا ہی دشوار گذار یوں نہ ہو۔۔۔؟م ایک دن منزل مل ہی جاتی ہے۔ حیدر اور وہ پھولے نہ سما رہے تھے۔ لیکن خوشیوں کے پل اتنے تھوڑے ہوں گے۔ کسی کو کیا پتہ تھا۔۔۔؟؟
گاڑی اچانک سے رکی تھی۔ سامنے ہی تین بلک کروزر کھڑی تھیں۔ حیدر کے چہرے پے ایک سایہ لہرایا تھا۔ اور اسکی ماں بھی گھبراٸ تھی ۔
وہ آگیا حیدر۔۔۔! اب وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔ اسکی ماں گھبراٸ تھی۔
مما۔۔۔ آپ اور نور گاڑی سےمت اترنا۔۔۔! اور ہاں۔۔ چچا۔۔۔! آپ۔۔۔؟؟ ڈراٸیورکی جانب مڑا۔
باہر کچھ بھی ہو۔ میری ماں اور میری بیوی آپ کے حوالے ہے۔ انکو صحیح سلامت یہاں سے کسی محفوظ جگہ پہنچا دیجیے گا۔
حیدر۔۔۔! میں آپ کو نہیں جانے دوں گی۔۔۔! نور کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ہوا کیا ہے۔۔؟؟ لیکن اتنا جانتی تھی کہ حیدراسےچھوڑ کے گیا تو واپس نہیں لوٹے گا۔
کچھ نہیں ہوگا جان۔
! میں بس ابھی واپس آیا۔
اسکےماتھے پے محبت اور مان بھرا بوسہ دیا۔
پرامس می۔۔۔! ہمیشہ کی طرح اس نےآج روتے ہوۓ پرامس لیا۔
حیدر۔۔۔۔۔!
اس سے پہلے کے وہ وعدہ کرتا۔ باہر سے للکار سناٸ دی۔ وہ ان کی جانب دیکھنےلگا۔
میں آجاٶ ں گا۔ واپس۔ اپنا خیال رکھنا ۔ میرے لیے۔
حیدر یہ کہتے ہی اپنا ہاتھ چھڑاتا گاڑی سے اتر گیا۔
اب وہ ان کے سامنے کھڑا اپنی ماں اور بیوی کا ڈھال بن گیا تھا۔
باہر کیا باتیں ہو رہ تھیں۔ وہ سن نہیں پا رہی تھیں۔
آنٹی ۔۔۔یہ کون ہیں۔۔؟؟ نور نے ہمت کرتے پوچھا۔
یہ۔۔۔۔؟ دشمن ہیں۔۔ ہمارے۔۔ حیدر کے باپ ہیں یہ بدقسمتی سے۔۔۔! بہت بڑے گینگسٹر ہیں یہ۔۔۔! ہر ناتا توڑ لیا ان سے۔۔ لیکن یہ ہیں۔۔ کہ حیدر کو نہیں چھوڑتے۔ اکلوتا وارث ہے انکی ریاست کا۔ انکی وراثت کا۔
سعدیہ نے آنسو پنچھتے نفرت سے کہا۔
یہ۔۔۔ یہ کیا کریں گے حیدر کے ساتھ۔۔؟؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
ایک فاٸر ہوا تھا۔ جو حیدر کے سنے کے پار ہوا تھا ۔ وہیں سعدیہ اور نور کی سانس رکی تھی۔
میرا بچہ۔۔۔۔! وہ منہ پے ہاتھ رھے رو دیں۔
نور تو ساکن ہی ہوگٸ اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا بھلا حیدر تو اسکا دلہا تھا۔ اسے کیسے یوں اچانک گولی لگ سکتی تھی۔
بنا کی کی پرواہ کیے وہ گاڑی اک دروازہ کھلتے نیچے اتری تھی۔ جو اسکی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ڈراٸیور نے گاڑی لاک نہ کی تھی۔ سعدیہ بیگم اس پے چڑھ دوڑیں۔ جبکہ وہ بھی سلطان کے ساتھ ملا ہو تھا۔ آگے سے مسکرایا۔ سعدیہ بیگم کا تو وہ حال تھا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ انہوں نے تڑپ کے بہو اور بیٹے کو دیکھا۔
جب قسمت میں قربانی لکھ ہی دی گٸ تھی۔ تو وہ پیچھے کیوں ہٹتیں۔ وہ بھی نیچے اتریں۔ سلطان اپنے آدمیں کے ہمراہ اسلحے سمیت وہاں موجود تھا۔
حیدر خون میں لت پت تھا۔ اسکا سر نور نے اپنی گود میں لیا ہوا تھا۔ اقر دیوانہ وار بس اسے دیکھے جا رہی تھی۔ الفاظ تو کہیں گم ہی ہو گۓ تھے۔
مت۔۔۔۔ مت۔۔۔چھوڑ کے۔۔۔ جانا۔۔۔۔! آنسو بہاتے وہ بس یہی بول پاٸ۔ گولی سیدھا دلمیں پیوست ہوٸ تھی۔
وہ آخری سانسیں بھی نجانے کیسے لے رہا تھا۔
بھھھھھاااگگگگگ جاٶ۔۔۔۔۔! حیدر بس یہی کہہ پایا ۔
سعدیہ اپنے بیٹےکےپاس پہنچیں۔ لیکن وہ دم توڑ چکا تھا ۔وہیں نور کو اپنی دنیا لٹتی ہوٸ محسوس ہوٸ۔
اسکے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا ۔ بس دل کی دھڑن تھی۔ تو اچانک سے دھیمی ہوٸ تھی۔ حیدر کے نے جان وجود کو دیکھتی وہ اٹھی تھی۔ سامنے کھڑے موت کے دیوتا کو دیکھا۔ سلطان نے بھی بہت گہری نظروں سے اس حسن کی دیوی کو دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں ہوس سعدیہ بیگم کو صاف نظر آرہی تھی۔ وہ نور کے لیے پریشان ہوٸیں۔
تم۔۔۔تم۔۔نے میرے شوہر کو مار ڈالا۔۔۔ تم۔۔۔ نے میرے۔۔ حیدر کو ۔۔ مار ڈالا۔۔ میں۔۔ جان لے لوں گی۔۔ تمہاری۔۔۔
کہتےہوٸے جار حانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کے اسکی طرف زور سے پھینکا۔ جو سلطان کے ماتھے پے جا کے لگا۔ کہ ایک لمحے کووہ تڑپ گیا۔ ماتھے کو چیک کیا۔ خون کی بوندیں نمودار ہوٸیں۔ اسکے ساتھ الرٹ ہوٸے۔ اور نور کی جانب بندوقیں تانیں۔
تو ۔۔نے ہمرے کو مارنےکی کوشش کی۔۔؟؟ تیری تو۔۔۔؟؟ پکڑو أسے۔۔۔۔! سلطان چلایا تھا۔
نور۔۔۔۔ بھاگو۔۔۔۔! سودیہ بیگم وہیں سے چلاٸیں ۔ ایک دم سے نور کے پیروں نے حرکت کی اور وہ وہاں سےبھاگی تھی۔
جبکہ سلطان کے آدمی بھی اسکے پیچھے ہی بھاگے تھے۔
مجھے وہ زندہ چاہیے۔ سمجھے تم سب۔۔۔؟؟ سلطان حلق کے بل لایا تھا۔ اوراپنا ماتھے پے رومال رکھے سخت غصہ میں دھیرے دھیرے چلتا سعدیہ کی طرف آیا۔ جو بیٹے ا سر اپنی گود میں رکھے آنسو بہاتینفرت سے سلطان کو دیکھ رہی تھی۔
کہا تھا۔۔بیٹے کو باغی مت کر مت کر۔۔۔ مت کر۔۔۔! لیکن تو نے ایک نہ سنی ہمری۔۔۔! اب بیٹھ کے بین ڈال بیٹے کی لاش پے۔۔۔! سلطان گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھا ہاتھ میں گن لیے اسے سمجھا رہا تھا۔ اسکا مذاق بنا رہا تھا۔
تو باپ نہیں جلاد ہے۔۔ اپنے ہی بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔ بے حس اور بے غیرت انسان۔۔۔ تجھے تو رب بھی معاف نہیں کرے گا۔ تھو ہے تجھ پے۔۔ بے غیرت۔۔۔ !
تھوک سلطان کے منہ پے پھینکی تھی جسے بہت آرام سے اس نے صاف کر لیا تھا۔
چل رو۔۔ نہ زیادہ۔۔۔ تجھے بھی بھیج دیتا ہوں۔ تیرے بیٹے کے پاس۔۔ وہ کیا ہے ناں۔۔۔ امباغی لوگوں کو پاس نہیں رکھتا۔ کہتے ہی اسکی کنپٹی پے گن رکھی ۔
تو کتےکی موت مرے گی ۔ زندگی کی بھیک مانگے گا تو لیکن ۔۔ موت بھی تجھے تڑپ تڑپ کے آۓ گی۔ تیری ایک ایک سانس تیرے پے بھاری گزرے گی۔ آج سے الٹی گنتی گننا شروع کر دے سلطان ۔۔ تیری موت کا وقت شروع ہو گیا ہے۔۔۔
سعدیہ کی اونچی للکار سے سلطان کو ایک لمحے کو خوف آیا۔لیکن اگلے ہی پل ایک فاٸر کھلا۔ اور سعدیہ کی کھوپڑی کھول گیا۔ ایک دم سے ہی وہاں خاموشی چھا گٸ۔
کہاں ہے وہ لڑکی۔۔۔؟ ڈھونڈو اسے اور ہمارے ہجرے میں لے کے آٶ۔۔ آج بیٹے کی دلہن کے ساتھ رات مناٸیں گے۔۔۔! نفرت حقارت سے کہتا وہ خمار آلود لہجےمیں بولا ۔
سلطان ۔۔ دادا ۔۔ وہ۔۔۔ بھاگ گٸ ہے۔۔۔!
اندھیرےکا فاٸدہ ٹھاتے ہوۓ۔۔۔! ایک آدمی نے آگے بڑھتے گھبراۓ ہوۓ کہا۔
سلطان نے ایک زور کا مکا اسکے منہ پے مارا۔ تو وہ لڑکھڑاتا ہوا دور جا گرا۔
مجھے وہ لڑکی چاہیے۔ سلطان کا دل آگیا ہے ۔۔ مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے۔ جاٶ۔۔ڈھونڈکے لاٶ۔
نور بھاگے چلی جا رہی تھی۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ لین ابھی اسے اپنی عزت بچانی تھی۔ کاش وہ موباٸل پے بھاٸ سے رابطہ کر لیتی ۔۔ تو۔۔ ابھی۔۔ وہ پہنچ جاتا۔
دوڑتے دوڑتے وہ تھک گٸ تھی۔ کہ اسے ایک گاڑی نظر آٸ۔ وہ بھاگی۔۔ اسے ایک امید کی کرن نظر آٸ۔
گاڑی کا پیچھے کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ فوراً سے گاڑی میں بیٹھتی خود کو چھپا گٸ۔ لیکن ۔۔ سلطان کے آدمیوں نے اسے گاڑی میں گھستے دیکھ لیا۔ اور اسے جا لیا ۔ اسکے منہ پےہاتھ رکھے اسے باہرنکالا۔ وہ خود کو چھڑاتی مزاحمت کرنے لگی تھی۔ اسی اثنا میں اسکا برسیلٹ اس گاڑی میں گر گیا وہ چلانا چاہتی تھی۔ ہاتھ پاٶں مارنا چاہتی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے لیے ایک جھاڑی کے پیچے چھپ گٸے۔ گاڑی میں انہوں نے ایک لڑکی اور ڈراٸیور کوبیٹھتے دیکھا۔
اور کچھ ہی دیر میں گاڑی اسٹارٹ ہوتی چل پڑی وہ وہاں سے باہر نکلے۔نور کا منہ ہاتھ رکھے بند کیا ہوا تھا ۔ نور نے ہاتھ بڑھا کے اس گاڑی کو روکنا چاہا ۔ شاید کوٸ بیک مرر سے اسے دیکھ کے بچا لے ۔ لیکن قسمت نے اسے بہت برا پھسایا تھا۔ وہ گاڑی جا چکی تھی۔ اور سلطان کے آدمی اسے سلطان کے اڈے پے لے گٸے تھے۔ جہاں اسکی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا ۔
جاری ہے
