Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 32)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 32)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
کیا واقعی میں۔۔۔؟ آہان مرزا۔۔۔؟ مجھ سے۔۔ ہانیہ۔۔۔ہانیہ ابتسام سے۔۔ محبت کرتا ہے۔۔؟؟
ہانیہ دل ہی ل میں خود سے سوال کرتے الجھ رہی تھی۔
نہیں۔۔۔ وہ ایساکیوں کرے گا۔۔؟؟ وہ بس مجھے ٹیس کرنا جانتا ہے۔۔ وہ ۔۔ جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔ وہ مجھ سے۔۔ پیار۔۔۔؟؟
ہانیہ۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھنا۔۔ پتہ چل جاۓ گا۔۔!
دل نے تاویل دی۔
کیسے دیکھوں۔۔؟وہ تو۔۔۔؟؟
انہی سوچوں میں غلطاں تھی۔کہ آہان اندر داخل ہوا۔
تم نے قسم کھاٸ ہے ناں۔۔ ہمیشہ میرے اگینسٹ جا کے سارے کام کرو گی۔۔؟؟ منع کیا تھا۔ اس کے باوجود تم نے۔۔۔میری نہیں سنی۔
آہان کا اس وقت شدید غصہ دیکھ ہانیہ سمجھ نہ پاٸ کہ غصہ آیا کس بات پے۔۔؟؟ اسکی بات کی نفی کرنے پے۔۔؟ یا میری فکر میں ۔۔۔؟؟
ہمارے بیچ ڈیل ختم۔۔۔! ہانیہ۔۔۔! یہاں سے اب تم سیدھی گھر جاٶ گی۔ اور اب سے کسی بھی کام میں کسی بھی چیز میں مداخلت نہیں کرو گی۔ سنا تم نے۔۔۔؟ ہانیہ کی مسلسل خاموشی نے آہان کو مزید طیش دلایا۔
تم نے۔۔۔اسے ۔۔کیو ں مارا۔۔۔؟ ہانیہ کے سوال پے وہ رخ پھیرے جو جار ہا تھا۔ قدم تھمے۔
میں تمہیں کسی بھی بات کا جواب دہ نہیں ہوں۔ اس لیے اب۔۔۔؟؟
ہو تم جوابدہ۔۔۔! ہ بات کے جواب دہ ہو۔۔۔! ہم ایک ٹیم ہیں۔ ہمنے مل کے کام کرنا ہے۔۔۔ اور وہ لڑکی۔۔ اس وقت جنونی ہورہی تھی۔ بجاۓ اسے قابو کرنے کے تم اسے باتوں میں الجھا رہے تھے۔ اور تمہیں لگا۔ تم اسطرح اس پے قابو پا لو گے۔۔؟ جبکہ تم غلط تھے۔
ہانیہ نے اسکے روبرو آتے اپنا دفاع کیا۔
میں اپنے طریقے سے ہینڈل کر رہا تھا۔ تمہیں بیچ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟؟ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو۔۔؟؟ ل کی بات زبان پے آہی گٸ۔ دونوں ہی بن پلک جھپکے ایک دوسرے کو دیکھے گۓ۔ ہانیہ کے لیے یہ یقین کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ کہ آہا ن اس سے۔۔؟؟
کیا ہوتا۔۔۔اگر۔۔مر جاتی تو۔۔۔؟؟
باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گۓ۔ آہان سختی سے اسکے لبوں پے جھکا تھا۔ اس بار اس کی پکڑ میں سختی تھی۔ شدت تھی۔ جنون تھا۔ مر مٹنے کا۔۔ مار دینے کا۔ ہانیہ چاہ کے بھی اسے خود سے جدا نہ کر پاٸ تھی۔ شاید وہ بھی اسکی محبت کی رو میں بہکنے لگی تھی۔
آٸندہ اگر دوبارہ مرنے کا نام لیا تو۔۔ اس سے بھی برا حال کروں گا۔ بلکہ اپنے ہاتھوں سے خود تمہاری جان لوں گا۔ سمجھی تم۔۔۔! کہتے ہی اس سے الگ ہوا۔
محبت کرنے لگے ہو مجھ سے۔۔۔؟؟
اسکے سامنے کھڑی ہوتی وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھنے لگی۔
جبکہ آہان کی خاموشی نے اسے بہت کچھ باور کروانا چاہا ۔ وہ اسکے قریب آٸ۔
محبت ہو نہ جاۓ۔۔۔
ہانیہ۔۔۔! دور رہو۔۔۔اسی میں تمہای بہتری ہے۔ ورنہ جذبات کی رو میں بہک گیا تو۔۔؟؟
تو کیا۔۔۔؟ ہانیہ جیسے اسے اکسا رہی تھی۔ آہان نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے خود کے قریب کر گیا۔ کہ وہ سر تا پیر لرز اٹھی۔ اس نے تو سوۓ ہوۓ شیر کو جگا دیا تھا۔
جل جاٶ گی۔ اس آگ میں۔۔ ! نہ خود سکون سے رہوں گا۔ نہ تمہیں رہنے دوں گا۔ پل پل ایک ایک لمحہ ۔۔ تمہارا میری بانہوں میں گذرے گا۔۔ پناہ مانگو گی مجھ سے۔۔ میری ہی بانہوں میں آنے کے لیے۔۔۔!
وہ جیسے لفظوں کا طلسم پھونک رہا تھا۔ اور وہ اسکے طلسم کا شکار ہو رہی تھی۔ لیکن بروقت ہوش آتے اسکی گرفت سے نکلی۔
مجھے۔۔ درد ہے۔۔ کندھے پے۔۔! اب کی بار جان بوجھ کے بات بدلی۔
آہان نے اسکے کندھے پے لگی بینڈیج کو دیکھا۔ اسکی قمیض سے اسکی ددھیا بازو کھاٸ دے رہی تھی۔ اس حالت میں اسے وہ باہر نہیں لے جا سکتا تھا۔ موباٸل اٹھاتا وہ شان کو کچھ ڈریسز کا بندو بست کرنے کا کہہ کے ہانیہ کی جانب متوجہ ہوا۔
کچھ کھاٶ گی۔۔؟ دونوں ہی نے کچھ پل پہلے کا ہوا اثر زاٸل کرنے کے لیے نارمل وے میں بات شروع کر دی۔
ہمممم۔۔۔ بہت زورں کی بھوک لگی ہے۔۔ کیا کھلاٶ گے۔۔؟؟ ہانیہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
میں آرڈر کرنے لگا ہوں۔ بتا دو۔ اس نے موباٸل اٹھاتے شان کو ہی ناشتے کے لیے کچھ ساتھ لانے کو کہا۔
اور اب ہانیہ کی طرف مکمل توجہ سے دیکھنے لگا۔
تم نے صرف ایک سال ٹریینگ لی ہے۔۔؟
نہیں۔۔۔! لے تو کافی عرصے سے رہی ہوں۔ سیریس ایک سال پہلے ہوٸ۔ جب۔۔۔؟؟ کہتے کہتے ہانیہ رکی۔
جب۔۔۔؟؟ آہان نے زور دیا۔
تمکیو ںجاننا چاہتے ہو آہان۔۔؟؟ میں نہں بتانا چاہتی۔ یہ کسی کی عزت کا کسی کے وعدہ کا پاس ہے۔ میں نہیں توڑ سکتی ۔
کسی شخص کے انڈر میں رہ کے تم نے ٹریینگ کی ہے۔۔؟؟ آہان کے ماتھےپے بل پڑے۔
ہاں۔۔۔۔! ہانٕیہ کی صاف گوٸ پے آہان کا خون کھول اٹھا۔
مطلب۔۔ کوٸ تھا۔۔ اسکی لاٸف میں۔۔ جو سب سے امپورٹڈ تھا۔ کہ اس سے کیے گۓ وعدہ کا پاس رکھا جا رہا تھا۔
اور کیا وعدے اور عہد و پیمان کیے ہیں۔۔؟؟ یونہی غصہ ضبط کرتے وہ دب دبے لہجے میں غرایا تھا۔ اسکی بات سن ہانیہ تو سکتے میں آگٸ۔
مطلب۔۔ وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا۔ ۔۔؟؟ وہ اسے کیسی لڑکی سمجھ رہا تھا۔
وعدے۔۔۔؟؟ بہت سے وعدے کیے ہیں۔۔ لیکن سب باتیں تمہیں بتانی والی نہیں۔ ہانیہ نے دانت پیستے اسے چڑاتے کہا۔ اور وہ جو اسے چڑا رہی تھی۔ جانتی نہیں تھی۔ اس جنونی انسان کے جنون کو ہوا دے رہی ہے۔
جان سے مار دوں گا۔ اگر کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو۔۔۔!
اٹھتے ہوٸے اسکو خود سے قریب تر کرتے جار حانہ انداز میں کہا۔
تو تم کیا چاہتے ہو۔۔ تمہارے بارے میں سوچوں؟؟ وہ اسے لاجواب کر گٸ تھی۔
دروازے پے ہوتی دستک سے دونوں ہوش میں آۓ۔
آہان نے درزہ کھولا۔ توشان ہاتھ میں ڈھیرو شاپنگ بیگز لیے کھڑا تھا۔
مجھے جو سمجب میں آیا۔ اٹھا کے لے آیا۔ اب آپ خود مینج کر لیجے گا۔
دھیرے سے کہتا وہ جا چکا تھا۔ آہان ڈور لاک کرتا واپس مڑا۔
یہ لو۔۔اور ڈریس چینج کر لو۔۔! آہاننے ایک نظر بھی دوبارہ اس پے نہ ڈالی تھی۔ وہ بے انتہا سینجیدہ ہو گیا تھا۔
ہانیہ نے شاپنگ بیگز سے ایک سوٹ نکلا۔ پنک کلر کا لانگ فراک تھا۔ اور ساتھ کیپری۔ ذریسنگ روم کی جانب بڑھی۔
ہانیہ۔۔۔۔۔!آجاٶ۔۔۔ نشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔۔۔
کافی دیر گزرنےکے بعد بھی ہانیہ نہ آٸ تو مجبوراً آہان کو آواز لگانا پڑی۔
وہ دروازے سے زرا کا زرا منہ نکال کے اسکی جانب دیکھتی بڑبڑاٸ تھی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ آہان نے موباٸل پے میسج کرتے بھنوٸیں اچکاتے پوچھا۔
وہ۔۔۔ ایک ہاتھ سے۔۔۔ زپ۔۔۔ بند نہیں ہو رہی۔۔۔! چہرے پے جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
آہان گہرا سانس خارج کرتا اسکے قریب آیا۔ اسکا رخ آٸینے کی جانب کرتا اسکے پیچھے کھڑا ہوتا اسکا دلکش سراپا آٸینے میں دیکھتا اسکے بال ایک طرف سے آگے کر گیا۔
اسکی کمر پے نظر پڑی تو ایک لمحے کو دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیب انتشار برپا ہوا۔ لیکن جھٹکے سے اسکی زپ بند کرتا چہرے پے سنجیدگی سجاۓ وہ واپس مڑ گیا تھا۔
ہانیہ کو اسکی اسطرح کرنے پے حیرت تو ہوٸ۔ لیکن خاموش رہی۔ اور باہر آگٸ۔
آہان ناشتے کے دوران موباٸل پے میسجز کرتا رہا۔ جبکہ ہانیہ کا دھیان اسی کی طرف تھا۔
مجھے ہیڈ کوارٹر جانا ہے۔یہاں سے اب تمہیں گھر چھوڑوں گا۔ اور کوٸ بھی فضول حرکت اب دوبارہ کی تو۔۔ ساری ڈیلز ختم۔
اٹھتے ہوۓ آہان نے قطعی انداز میں کہا۔
مجھے بھی ساتھ لے جاٶ۔۔ میری ضرورت پڑے گی تمہیں۔۔۔! ہانیہ کی بات پے آہان نے لب بھینچے۔
ڈیڈ کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ کہ میں نے تمہیں اس مشن میں شامل کیا ہے۔ یہ ہمارا سیکرٹ ہے۔ ہانیہ۔۔۔ !اور پلیز ۔۔ اب کوٸ گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے۔
آہان نے اسے رسان سے سمجھایا۔ تو وہ سر اثبات میں ہلاگٸ۔ آہا نےاسے گھر چھوڑا اور خود ہیڈ کوارٹر چلا گیا۔
گھر میں غیر معمولی آوازیں سنتی وہ ڈراٸینگ روم کی جانب بڑھی۔ جہاں میر ہافی سب کے ساتھ براجمان تھا۔
السلام علیکم کیسے ہیں۔۔ ہادی بھاٸ۔۔؟؟ ہانیہ خوشی سے چہکی۔
وعلیکم السلام۔۔۔! میں تو ۔۔دلہا دلہن کو مبارک باد دینے آیا تھا۔ لیکن یہاں تو دونوں ہی غاٸب ہیں۔
میر ہادی نے اسکے سر پے ہاتھ رکھا تھا۔ وہ دھیرے سے مسکراٸ۔
آج شام ولیمہ کا فنکشن ہے۔۔؟؟ گھر پے ہی۔۔۔ بس سادگی سے کر رہے ہیں۔ سب۔۔ ! بیٹا۔۔ ! عروش نے سہولت سے بات کی تھی۔
آپ ضرور آٸۓ گا۔۔۔! لمظ نے بھی باتوں میں حصہ لیا ۔
جی ضرور۔۔۔! ہانیہ کی جانب دیکھتا وہ مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔
ہانیہ نے اسے فون پے بات کرنے کا اشارہ کیا۔ اور اٹھ گٸ۔
کچھ دیر تک میر ہادی وہاں رکا۔ پھر چلا گیا۔
نکلتےہی ہانیہ سے فون پے رابطہ کیا۔
مبارک ہو بھاٸ۔۔۔! نور فاطمہ زندہ ہے۔
ہانیہ نے چھوٹتے ہی کہا۔ میر ہای کی آنکھیں جھملا گٸیں۔ فرطِ جذبات سے وہ کچھ کہہ ہی نہ پایا۔ یہ ایک بات سننے کے لیے اس نے ایک سال انتظار کیا تھا۔ ہنیہ اور میر ہادی۔۔ دونوں ہی نور فاطمہ کی تلاش میں ایک ساتھ سرکرداں تھے۔ اور بالآخر وہ اس راز تک پہنچ گۓ تھے۔ کہ نور فاطمہ زندہ ہے۔
جاری ہے۔
