47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ضنافر زیدی اپنا وجود لیے سامنے عالیشان سلطان ولا کے آگے آن کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اوپر زور زور سے ہنسنے لگا کیونکہ آج تک اُسنے جو چاہا تھا اُسے اشارہ کرنے سے پہلے ملتا آیا تھا لیکن جو آج سب سے اہم تھا
جسے وہ پانا چاہتا تھا وہ مانگنے سے بھی اُسے نہیں مل رہا تھا۔۔
“آہہہہہ کیوں یہ مشکل ہے میرے لیے کیوں صالحہ عرفان سلطان تُمہیں پانا کیوں اتنا مشکل ہے۔۔۔؟؟
شدت سے چیختے ہوئے وہ نیچے گرا اور شاندار ولا کو اپنی سرخ نظروں سے دیکھنے لگا جو اُسکی طرح شاندار تھا ہاں اُِسکے پاس اِس سے بھی کئی زیادہ شاندار ولا پلیس کاٹیچ ہیں لیکن آج اِس ولا کے سامنے کھڑا وہ خود کو دنیا کا سب سے زیادہ غریب انسان تصور کر رہا تھا۔۔
“نہیں میں اسطرح بلکل بھی ہار نہیں مان سکتا کبھی نہیں صالحہ عرفان سلطان تُمہیں ضنافر زیدی حاصل کرکے ہی رہے گا پھر چاہیے اس کے لیے مجھے کسی حد تک بھی جانا پڑا تو اپنی محبت کو پانے کے لیے جاؤ گا۔۔۔!!
سگریٹ سلگا کر ہونٹوں سے لگاتا وہ یکدم سے فیصلہ کر کے نیچے سے اٹھا اور موبائل نکال کر صالحہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا جو ایک منٹ میں اٹھا بھی لیا اُس دشمنِ جاں نے اور یہ دیکھ کر اُسکے چہرے پر خوبصورت تبسم پھیلا۔۔
“کون ہو تُم ہاں اور رات کے اس پہر کیوں مجھے فون کیا ہے تُم نے کیا تُمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہے جو کسی غیر لڑکی سے اپنے سو کالڈ دکھ شئیر کرنے کا بہانا لے کر پہنچے ہوں۔۔!!
دوسری طرف سے اُسکی غصیلی آواز پر وہ ہنسا اور ہنستا چلا گیا اور صالحہ اس ہنسی پر تھم گئی اور فون کان سے ہٹا کر نمبر کو سختی سے گھورنے لگی۔۔
“تُم ذلیل انسان کس سے میرا نمبر لیا ہے اور تُمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی ہاؤ ڈئیر یو۔۔؟؟
وہ شدت سے چیختی ہوئی بولی۔۔۔
“کون ہو یہ تُم نے خود پہچان لیا ڈئیر اور رہی بہن کی بات وہ بھی ہے اور دادی جیسی ایک پیاری کیوٹ سی ماں بھی ہے لیکن بیوی نہیں ہے اور دکھ درد صرف بیویوں سے شئیر کرنا چاہیے۔۔!!
دوسری طرف سے ایک بھاری آواز سے معنی خیزی سے کہا گیا جسے سن کر وہ جیسے خود کو آگ کی بھٹی میں جلتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔
“واٹ شٹ اپ یہ تُم کیا بھک رہے ہو ضنافر زیدی۔۔۔؟؟
دوسری طرف صالحہ نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا ۔
“وہی بھک رہا ہوں جو کب سے بھک بھک کر کے اب ہارنے لگا ہو اور ایک تُم ظالم ان بھک بھک کو سمجھتی ہی نہیں ہو.!!
وہ کسی ہاری ہوئی جواری کی طرح غمزدہ لہجے میں بولا۔۔
“یو کہاں نا بکواس بند کرو اور اب کبھی بھی کال مت کرنا مجھے اور ہو سکے تو میرے سامنے یونی میں زرا کم ہی آنا ورنہ کسی دن قتل کر دو گی۔۔!!
سخت گیر لہجے میں کہتی آخر میں اسے ڈرانے لگی تو وہ اسکی بات پر ڈرنے کے بجائے زور زور سے قہقہہ لگانے لگا۔۔
“صالحہ میری جاناں تُم غصے میں بہت خوبصورت لگتی ہو اور میرے علاؤہ اگر تمہیں اِس طرح کوئی اور مرد دیکھے تو ضنافر زیدی کے ہاتھوں وہ بے چارہ بے گناہ قتل ہو جائے گا۔۔!!
وہ تصور میں اسکے غصے سے لال اناری گالوں کو سوچتا بے باکی سے بولا۔۔
“شٹ اپ ضنافر زیدی بہت ہی گھٹیا ہو تم بند کرو فون ورنہ تمہیں قتل کرنا واجب ہو جائے گا۔۔۔!!
وہ شدت سے چلاتی ہوئی بولی اسکی بے باک زومعنی باتوں سے سہی معنوں میں وہ پاگل ہو رہی تھی ۔۔
“سویٹ ہارٹ قتل کرنے سے پہلے جاؤ زرا باہر تو ایک نظر دیکھو باہر ضنافر زیدی کی طرف سے تمہارے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ انتظار کر رہا ہے۔۔!!
وہ کمینا انسان کمینگی سے باز نہیں آیا تو صالحہ نے خود غصے سے فون بند کرکے باہر روم سے قدم نکالے تو سامنے سارب عرفان سلطان کو جس حالت میں اسنے دیکھا تو وہ ساکت رہ گئی اور جو حرکت سارب کر رہا تھا اسکا دل چاہا اس انسان کو مارنے کے بعد وہ خود کو بھی شوٹ کر دیں۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“وہاٹ سارب تُم نے ڈرنک ہو۔۔؟؟
سیرت بلیک کلر کے سپورٹس کپڑوں میں ملبوس سارب کو دیکھتی چیخ کر بولی تو سارب عرفان سلطان جو لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ولا کے اندر داخل ہو رہا تھا سامنے سیرت کو دیکھتا مسکرایا۔۔
“ہ۔ہاں سس۔سیرت۔۔۔مم۔میری۔۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔جان۔۔۔!!
بہت سارا ڈرنکس پینے کی وجہ سے وہ ہکلا ہکلا کر آنکھوں میں نشے کی خماری لیے ہنس کر ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر اور چہرہ نیچے جھکا کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو سیرت اُسکی بے باکی سے جان کہنے پر سخت مشتعل ہو کر اُسے گھور کر دیکھنے لگی۔۔
“شٹ اپ سارب عرفان سلطان تُم نشے کی حالت میں تمیز تو بھول ہی گئے ہوں اور آج پہلی بار اِس گھر کے مرد نے یہ حرام شے کو ہاتھ لگایا ہے یہ سوچ کر غصہ آ رہا ہے مجھے اور اگر تائی جان کو پتہ چلا نا تو وہ تُمہیں گھر سے باہر نکال دے گی۔۔!!
وہ اپنی ستواں ناک پر ہاتھ رکھتی شدید غصیلی آواز میں بولی تو سارب عرفان سلطان لڑکھڑا کر اُسکی جانب بڑھا تو وہ اب اُسکے نشے میں ہونے کی وجہ سے ڈرتی پیچھے ہٹنے لگی۔
“کک۔کہاں۔۔جج۔۔۔۔جا۔۔۔رر۔۔۔۔رہی۔۔۔ہوں۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔چھوڑ۔۔۔کر۔۔سیرت۔۔۔؟؟
نشے میں چور وہ سیرت کے دور ہونے پر آنکھوں میں غصے کی لالی لیے شدید غصے سے بولا۔۔
“آگے مت آنا دیکھ۔۔۔دیکھو۔۔۔۔میں تُمہارے گھر کی عزت ہو خدا کے لیے کچھ ایسا مت کرنا کہ بعد میں تُمہیں پھچتانا پڑے۔۔۔!!
سیرت نشے میں چور سارب عرفان سلطان سے بولی جو بے قراری سے اُسے نشے کی حالت میں پکارتا آگے بڑھ رہا تھا اور وہ خوف سے پیچھے ہو رہی تھی اور خود کو بری طرح سے کوس رہی تھی کہ وہ کیوں رات کے دو بجے اپنے روم سے باہر نکلی۔۔
“ن۔۔۔نو۔۔۔۔سیرت۔۔۔۔مائے۔۔۔۔گرل۔۔۔۔تُم۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔مجھ۔۔۔سے۔۔۔دور۔۔۔نہیں۔۔۔۔جا۔۔۔۔سکتی۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔جا۔۔۔سکتی۔۔۔!!!
سیرت کی آواز وہ کہا سن رہا تھا اور سنائی بھی کیسے دیتا اُسے وہ تو اِس وقت اپنے ہوش میں ہی نہیں تھا اگر ہوتا تو کبھی بھی سیرت سے اتنی محبت اور نرمی سے پیش نا آتا وہ تو ہمشیہ نفرت سے دیکھتا تھا اور اظہار بھی کرتا رہتا تھا لیکن ابھی ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ سچا عاشق ہو سیرت عباس سلطان کا۔۔
“سارب۔۔۔؟؟
صالحہ کی سخت آواز پر سیرت جو ڈر کے مارے نیچے صوفے پر گری لرز رہی تھی اسے دھکا دیتی پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی کیونکہ وہ نشے کے باوجود بھی اس مرد کو ہٹا نہیں سکتی تھی۔۔۔
“صالحہ آپی پلیز پلیز مجھے بچائے اس شرابی سے۔۔۔!!
وہ اب صالحہ کی موجودگی سے پرسکون ہو کر غصے نفرت سے سارب کو گھورتی ہوئی بولی تو صالحہ شرابی کہنے پر شدید غصے سے آگے بڑھی اور سارب کو پیچھے سے کھینچ کر اپنی طرف کرتی سختی سے تھپڑ مار کر اسے ہوش میں لاتی چیخ کر بولی۔۔
“شرم کہاں چلی گئی ہے تمہاری سارب عرفان سلطان وہ جو ماما نے تمہیں پوری زندگی پڑھائی ہاں کہاں گئی وہ غیرت جو دا جی نے اس گھر کے سبھی مردوں کو سیکھایا ہاں بولو جواب دو۔۔”
وہ شدت سے کانپتی ہوئی غصے سے بولی تو سارب عرفان سلطان جو اب سیدھے سے کھڑا تھا اپنی بہن کی بات پر نظریں چرانے لگا۔۔
“تُم ٹھیک ہو سیرت۔۔؟؟
وہ آگے بڑھی اور سیرت سے پوچھنے لگی جو سخت غصے سے سارب کو گھور رہی تھی۔۔
“آپکے بھائی نے چھوڑا ہے میرا ٹھیک ہونے کے لیے کچھ آپی۔۔”
وہ غصے سے سرخ ہوتی چٹخ کر بولی اور وہاں سے بھاگتی ہوئی اپنے روم کی جانب بڑھی اور صالحہ سخت شعلے بھڑکاتی نظروں سے اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی اور شکر ادا کرنے لگی کہ اس شخص نے اگر اس بارے میں کچھ نا کہا ہوتا تو کل صبح سلطان ولا میں ایک بار پھر سے ایک بہت بڑا طوفان برپا ہو جاتا۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اس وقت شام کے سات بج رہے تھے اور سلطان ولا میں سب زارقم عباس سلطان کی منگنی کی تقریب اٹینڈ کرنے کے لیے جو زویا بیگم کی پسند کی لڑکی سے ہو رہی تھی اتنی جلدی انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کے لیے ایک لڑکی ڈھونڈی وہ بھی زارقم سلطان کے کہنے پر کیونکہ اس نے دا جی کو سختی سے منا کر دیا تھا مرجان کو اپنانے سے اور وہ ان سے سخت خفا تھا کہ اُسکی غیر موجودگی میں مرجان کو اس گدھ نما انسان کے لیے چننا پسند کیا لیکن اسکا انتظار کرنا نہیں۔۔
سب گھر والے جلدی سے تیار ہو رہے تھے اور وہ بھی ثمر کو ریڈی کرنےکے بعد ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھی لیکن وہاں اپنے میک اپ کی حالت کو دیکھتی غصے سے سرخ ہونے لگی کیونکہ یہ سب زہاک عباس سلطان کی کارستانی اُسے صاف لگ رہی تھیں کیونکہ وہ روز اُسکے میک اپ کرنے پر اُسے وارننگ دے کر کہتا کہ اگر دوبارہ کبھی باہر میک اپ کر کے نکلی تو یہ تمہارا سارا بیوٹی پارلر وہ برباد کر دے گا۔۔
“سلطان۔۔۔۔؟؟
وہ شدت سے کانپتی ہوئی چیخی تو زہاک عباس سلطان جو
ڈریسنگ روم سے باہر نکل رہا تھا اسکی چیخ پر مسکرایا۔۔
“جی سلطان کی زوجہ۔۔۔”
وہ بے باکی سے سامنے غصے سے پاگل اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو سرخ فراک میں ملبوس بال بنائیں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی کاسمیٹک کی بری حالت دکھ اور افسوس سے دیکھ رہی تھی۔۔
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں سلطان میری زندگی کی سب سے بڑی ڈریم کو اتنی بے دردی سے کیسے برباد کر سکتے ہیں۔؟؟
وہ اب روتی ہوئی بولی تو زہاک عباس سلطان اسکے آنسوؤں سے بے چین ہو گیا اور تیزی سے آگے بڑھا۔۔
“ریلکس زوجہ سلطان ریلکس۔۔!!
وہ نرمی سے اُسے اپنی باہوں میں بھر کر کہنے لگا تو ژالے نے سرمئی آنکھوں کو اٹھا کر اسے گھورا۔۔
“میں ریلکس کیسے ہو سکتی ہو آپ نے میری محبت کو مجھ سے چھینا ہے۔۔!!
وہ کاسمیٹک کے سامان سے اپنا فیورٹ پنک کلر لپ اسٹک کو اٹھا کر دیکھتی رو کر بولی۔۔
“زوجہ اگر یہ آپکی محبت ہے تو پھر ہم کیا ہوئے۔۔!!
وہ سخت نظریں ان برباد کاسمیٹک پر ڈالتا ژالے سے پوچھنے لگا تو ژالے منیب سلطان مقابل کھڑے شخص کے لہجے میں ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے کاسمیٹک کے لیے جلن محسوس کرتی خوشی محسوس کرنے لگی۔۔
“کیوں بتاؤ ہاں سلطان۔۔؟؟
اُسے مزید جلانے کیلئے بولی تو زہاک عباس سلطان نے سخت تیوریاں چڑھا کر اُسے دیکھا پھر اچانک سے نیچے جھکا اور شدت سے اُسکی سانسوں کو اپنی قید میں کرتا اُسے سٹپٹا کے رکھ گیا تھا۔۔
“اب تو ضرور بتاؤ گی زوجہ سلطان۔۔۔”
اُس سے دور ہوتا وہ گلابی ہونٹوں پر معنی خیزی سے انگلی پھیرتا کہنے لگا تو ژالے اسکی حرکت پر سمٹ کر رہ گئی۔۔
“سلطان آپ دور ہو کر بیٹھا کرے مجھ سے بہت بدتمیز ہے آپ بڈھے ہو کر ایک جوان لڑکی کو پریشان کرتے ہیں شرم کرے شرم۔۔”
وہ سخت نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو زہاک عباس سلطان اتنے دنوں بعد اپنے لیے ایک بار پھر سے بڈھا لفظ سن کر خوبصورتی سے مسکایا۔۔۔
“میں تو زوجہ سلطان پہلے سے ہی بے شرم پیدا ہوا تھا بس وقت نے مجھے شریف بنا دیا تھا لیکن اپنی عشق کو مکمل طور پر حاصل کرنے کے بعد میں پھر سے بے شرم بن گیا ہو۔۔”
شرارتی نظروں سے ژالے کو دیکھتا بے باکی سے بولا اور وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا اُس عورت سے شادی کے بعد تو جیسے وہ مسکرانا تک بھول گیا تھا لیکن ژالے اپنی محبت کو اپنی زندگی میں اپنا بنانے کے بعد وہ مسکرانا پھر سے سیکھ گیا تھا۔۔
“اب اپنی باتوں سے خود مت بچائیں کیوں خراب کئے میرے کاسمیٹک کے سامان۔۔؟؟
وہ لڑاکا بیویوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھتی غصے سے پوچھنے لگی۔۔
“وہ اس لیے زوجہ کیونکہ آپکے سلطان نہیں چاہتے کے ان خوبصورت ہونٹوں کی سرخی کو کوئی نامحرم مرد دیکھے اور ان گالوں میں جب تم پنک کلر کا پتہ نہیں کیا لگاؤ گی تو دوسرے مرد تمہیں دیکھے گے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا اور پھر وہ کروں گا جو میں نے پوری زندگی میں نہیں کیا تھا۔۔”
وہ اُسے محبت سے دیکھنے کے بعد شدت پسندی سے بولا تو ژالے اُسکا پاگل پن دیکھتی آج پہلی بار خوفزدہ ہوئی تھی جبکہ وہ کہتا اسے اٹھا کر دوپٹہ سر پر جمانے لگا۔۔
“اب لگ رہی ہو نا زہاک عباس سلطان کی بیوی۔۔”
وہ پیار سے اُسکے گالوں کو ہونٹوں سے چھوتا سامنے شیشے کی جانب اشارہ کرتا کہنے لگا تو ژالے سامنے خود کو شیشے میں دیکھنے لگی تو اپنے گالوں میں شرم کی سرخی اور آنکھوں میں مقابل کھڑے شخص کے لیے عشق کی چمک دیکھتی شرم سے تیزی سے نظریں جھکا گئی تھی۔۔
“اب ہم۔ہمیں باہر جانا چاہیے ورنہ سب لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے جائے گے۔۔”
وہ شرم کی وجہ سے جو منہ میں آیا بول گئی ہوش تب آیا جب مقابل یکدم سے اسکے چہرے پر جھکا اور اپنی محبت کی مہریں ثبت کرتا پیچھے ہٹا اور مخمور آنکھیں گلابی ہونٹوں اور سرخ چہرے پر گاڑھتا بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔
“تو چھوڑنے دو ویسے بھی یہ سلطان اپنی سلطانہ کو اب تو چھوڑنے کا بلکل بھی ارادہ نہیں رکھتا۔۔”
مقابل کی گھمبیر آواز پر ژالے گھبراتی ہوئی تیزی سے پلکوں کو عارضوں پر گراتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“پلیز سلطان چھوڑے ورنہ زارقم بھائی کو برا لگے گا کیونکہ انکی انگیجمنٹ والے دن انکا بڑا بھائی ہی نہیں آیا تو وہ مجھے ہی برا سمجھے گے۔۔۔”
وہ سٹپٹا کے اس سے دور ہوتی جلدی سے بولی تو اسکی بات پر زہاک عباس سلطان معنی خیزی سے بولا۔۔
“وہ بچہ نہیں ہے زوجہ سمجھتا ہے کہ اس وقت اسکا بھائی کیوں نہیں آیا ہے۔۔”
وہ زومعنی لہجے میں کہتا واپس اسکے چہرے پے جھکنے ہی والا تھا کہ ژالے نے اسے پیچھے دھکا دیا اور تیزی سے روم سے بھاگی جبکہ زہاک سلطان اسکے دھکا دینے کی وجہ سے صرف ایک انچ ہلا تھا پھر خود کو سنبھال کر وہ ژالے کے پیچھے بڑھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“جان روؤ مت بس میری خواہش کو پورا کروں آج مجھے اپنے ان ہاتھوں سے جن سے تُم نے مجھے بے دردی سے قتل کیا تھا ان ہاتھوں سے آج تیار کرکے مجھے کسی اور کا بنانے کیلئے سجاؤ سر پر یہ خاندانی پھگڑی باندھوں مجھے پرایا کر دو ورنہ میں اِن آنسو سے پگھل کر پھر سے اِسی منزل پر آ کھڑا ہو جاؤ گا جہاں تُم نے مجھے چھوڑا تھا کیونکہ میں ابھی بھی تُمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ہوں۔۔!!
وہ مرجان کو روتے ہوئے دیکھتا سرخ آنکھوں کو سختی سے میچ کر نم آواز میں بولا۔۔۔
مرجان جو ایک ماہ بعد اُسی کے کہنے پر اُسکے بیڈ روم میں آئی تھی اور سامنے ڈریسنگ کے آگے کھڑے وہ شہزادہ سفید شیروانی میں ملبوس بے حد خوبصورت لگ رہا تھا تو وہ ڈر گئی کہ کہیں اُسکی نظر ہی اُسے نا لگ جائیں اِسی لیے تیزی سے نظریں ہٹا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔
“مم۔میں کک۔۔۔کیسے آاپ کو۔۔۔؟؟
سرمئی نم آنکھوں کو اُسی طرح نیچے جھکائے روتی ہوئی بولی وہ ڈر رہی تھی اُسے دیکھنے سے اگر اُسے دیکھ لیا تو وہ خود کو اُسکے سامنے رونے سے روک نہیں پائے گی۔۔
“ہاں مرجان تُم کو ہی آج یہ سب کرنا ہے کیونکہ تُم قاتل ہو میرے دل جذبوں اور میری زندگی کو برباد کرنے کی تُم ہی کل میری بربادی کی وجہ بن گئی تھی اور آج آبادی کی وجہ بھی تُم خود اپنے ہاتھوں سے بناؤ گی۔”
وہ پھگڑی تھاما کر نم آنکھوں کو اُس ظالم دشمنِ جاں پر مرکوز کرتا غمزدہ لہجے میں بولا آج اتنا بڑا دن تھا اور وہ خوش نہیں تھا کیسے ہوتا خوشی کی وجہ تو سامنے کھڑی لڑکی تھی وہ نہیں جس سے آج اُسکی منگنی ہو رہی تھی۔۔
“مم۔۔۔مجھے معاف کر دے آج ہی تو مجھے احساس ہوا کہ مم۔۔میں بھی۔۔۔!!
وہ آگے کچھ کہتی اس سے پہلے زارقم سلطان کی انگلی نے اسے آگے بولنے سے انکار کر دیا کیونکہ آگے کے لفظ زارقم سلطان نے اسکی شنگرفی لبوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر روکا۔۔
“آگے نہیں مرجان میں اب کچھ نہیں سننا چاہتا تُمہارا اظہار تو بلکل بھی نہیں وہاں اُس لڑکی کو اپنے انتظار پر چھوڑ کر اسے ٹھکرا کر وہی درد میں نہیں دینا چاہتا جو تُم نے مجھے دیا ہے۔۔۔!!
وہ تیزی سے اپنی انگلی کو مرجان کے نرم لبوں سے ہٹاتا آہستگی سے بولا۔۔
“مم۔میں اُس خوش قسمت لڑکی کو دیکھنا چاہتی ہوں جو آپکی مقدر بننے والی ہے پلیز مم۔مجھے بھی وہاں آنے کی اجازت دیں دے۔۔۔”
نم آنکھوں کو اُس پر تھکا کر امید سے اجازت مانگنے لگی کیونکہ زارقم عباس سلطان نے خود ہی سب کو منا کیا تھا کہ مرجان اُسکی منگنی کی تقریب میں نہیں آئیں گی وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس لڑکی کو ساری تقریب میں وہ مرجان کی موجودگی میں نظر انداز کرے۔۔
“نہیں مرجان نہیں اُسکی میں اجازت ہر گز تمہیں نہیں دو گا ورنہ اُس لڑکی کیلئے یہ زیادتی ہوگی جانتے بھی ہو کہ تُمہاری موجودگی میں اُسے بھول کر تُمہیں ہی دیکھوں گا ابھی بھی یہ دل صرف تُمہیں ہی چاہتا ہے بے بس ہو میں اس معاملے میں بے حد لاچار ہو۔۔”
وہ صاف انکار کرتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان نے اچانک سے اُسکے پیروں پر گرتے ہوئے رو کر جیسے فریاد کیا تو وہ اپنے پیروں کے سامنے اُس لڑکی کو شاکڈ کھڑے دیکھنے لگا جو اسکی زندگی تھی اور آج اُسکے پیروں پر گری رو رو کر اُس لڑکی کو دیکھنے کے لیے بھیک مانگ رہی تھی جس سے بہت جلد وہ شادی کرنے والا تھا۔۔
“پلیز مرجان پلیز ضد مت کروں پلیز پہلے تو تمہاری ضد نے مجھے روگ سے لگا دیا اور اب یہ تمہارا ضد مجھے مار ہی ڈالے گا۔”
شانوں سے سختی سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے اُسے دیکھتا اب تو غصے سے پھٹ پڑا تو وہ آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرتیں ہوئے اُسکو سخت شکوہ کناں نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اس محلے میں رہتے ہوئے اسے تین ماہ ہو گئے تھے اور اِس بیچ شکورے اُسکا ایک اچھا دوست بن گیا تھا اور وہ اُسے تب ملی تھی جب وہ پورے دو دن بعد ہوش میں آیا تھا تب وہ خود کو ایک چھوٹے سے روم میں پاکر اٹھا اور سر پر اٹھتی تکلیفوں کو سہتا روم سے باہر نکلا تو تیز روشنی کی وجہ سے آنکھوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہوگیا۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا نن۔۔۔نہیں شبو دیکھو نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا..!!
وہ کچھ دیر اِسی طرح کھڑا رہا تھا کہ تبھی اپنی سماعتوں میں ایک خوبصورت ہنسی سنائی دی تو وہ آنکھوں کے آگے سے ہاتھ ہٹانے لگا جب نیلی آنکھیں نے سامنے چھت پر ایک سفید دوپٹے کے حالے میں ایک پری وش کا چہرہ دیکھا تو وہ دم بخود رہ گیا۔۔۔
“فائقہ وہاں دیکھ۔۔۔!!
اُس پری وش کی دوست کی آواز پر نظروں میں یکدم سے سختی لاتا اُن دونوں کو دیکھنے لگا تو وہ دونوں ڈرتی ہوئی وہاں سے جانے لگی لیکن ان دونوں کو رکنا پڑا کیونکہ وہ تیزی سے اپنے چھت کو پھلانگ کر اُنکے چھت پر پہنچ کر جا کر اُن دونوں کے پیچھے کھڑا ہوا اور سپاٹ آواز کو انکی سماعتوں میں انڈیل کر تھر تھر کانپنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
“سُنو غیر مردوں کے سامنے کبھی بھی ہنسنا مت ورنہ میں دوبارہ ہنسنے کے قابل نہیں چھوڑو گا تُمہیں۔۔۔۔!!
سرد و خشک لہجے میں کہتا وہ اُن دونوں کو بری طرح سے کانپنے پر مجبور کر گیا فائقہ جو شبو کے ہاتھ پر سختی سے دباؤ بڑھا رہی تھی پیچھے پلٹ کر ڈرتی اُن سرخی لیے نیلی غصیلی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔
“چپ کیوں ہو جواب دو۔۔۔؟؟
شدت سے دھار اٹھا تو گرے آنکھوں کو سختی سے میچتی لرز کر بس اتنا بول سکی۔۔
“جی۔۔۔۔!!
وہ اُس خوبصورت معصوم لڑکی کی آواز پر پہلی بار مسکرا کر اسے دیکھنے لگا اور مسکرانے کی وجہ سے دونوں گالوں پر خوبصورت ڈمپل نمودار ہو کر اسکے وجاہت کو مزید نمایا کرنے لگا اور فائقہ کے ساتھ کھڑی شبوں تو اُسکی مسکراہٹ پر مبہوت ہو کر اُسے یک تک دیکھنے لگی۔۔
شبو کی ساکت نظروں سے وہ اپنا سپاٹ و سرد چہرہ مقابل کھڑی خوبصورت لڑکی کے چہرے سے ہٹا کر سخت شعلے برساتی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا تو شبو اُن شعلوں کو ڈر کر دیکھتی تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔
“تُم کبھی بھی میرے آس پاس نظر نہیں آنا ورنہ گردن مڑور کر رکھ دو گا۔۔۔!!
شبو کی خوف سے سفید پڑتے چہرے کو عیجب نظروں سے دیکھتا خطرناک لہجے میں بولا تو فائقہ مقابل کی دھمکی پر سختی سے شبو کو پکڑ کر بری طرح سے لرزنے لگی۔۔
“چچ۔چلو شبو چلتے ہیں ورنہ ابا کو پتہ چلا تو وہ مار ڈالے گے ہمیں۔۔۔!!
فائقہ کی سخت خوفزدہ آواز پر وہ اپنی تیز نیلی آنکھوں کو سیڑھیوں کی جانب بڑھا کر دیکھنے لگا جسے کسی کی قدموں نے اُسے محتاط کیا ہو۔۔
“ابھی تو جا رہا ہوں میں لڑکی مگر پیچھا کبھی بھی نہیں چھوڑو گا بہت جلد سب کے سامنے سے اٹھا کر لے کر جاؤ گا تمہارے باپ کی نظروں کے سامنے سے بھی ابھی مجھے اپنا نام پتہ ہوتا تو میں ضرور بتاتا تاکہ تُمہیں روز یاد دلاتا میرا نام کے میں کس کی ہو۔۔”
اپنی یاداشت کھو دینے کا دکھ اس وقت اسے شدت سے ہونے لگا لیکن پھر سنبھل کر وہ سخت گیر لہجے میں کہتا اسے وران کرتے ہوئے اُس چھت کو پھلانگ گیا جہاں وہ دو تین دن سے بے ہوش پڑا تھا اب وہ اُس شخص کے پاس جانا چاہتا تھا جس نے اسے رکھا تھا اس گھر میں وہ تیزی سے چھت پھلانگنے کے بعد سیڑھیوں کی جانب بڑھا جبکہ فائقہ اور شبو اُس خوبصورت بلا کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ کر ایک گہری سانس خارج کرتی خود کو سنبھالنے لگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“تُوں یہاں بیٹھ کر بریانی کھا رہا ہے اور وہاں اُسکی منگنی کی بریانی کھانے سب محلے والے بیٹھے ہیں یار تُوں اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے اپنے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیسے کر سکتا ہے ظالم کیوں بن رہے ہو خود کیلئے وو۔وہ تِیری محبت ہے تُوں ایسے کیسے اُسے کسی اور کا ہونے دے رہا ہے۔۔؟؟
وہ ایک نچلے درجے کے ڈابے میں بیٹھا بریانی کھا رہا تھا اور اپنا غصہ خود پر اتارنے کیلئے جان بوجھ کر بریانی میں مرچ تھوڑا زیادہ دلوایا تھا تاکہ وہ خود پر ظلم کر سکے خود کو سزا دے سکے۔۔۔
“یار کتنی مزے کی بریانی ہے تُوں بھی کھا کر دیکھ قسم سے مزا آ جائے گا تجھے۔۔!!
اپنے دوست کی باتوں کو وہ مکمل نظر انداز کرتے ہوئے پلیٹ آگے کھسکا کر سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے آفر کرنے لگا تو وہ بھی کرسی پر بیٹھا اور پلیٹ سے چمچہ بھر کر بریانی جب منہ میں ڈالا تو مرچوں کی وجہ سے کانوں سے دھواں نکلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔۔
“یی۔یہ کھا رہا تھا تُوں راجہ۔۔۔؟؟
وہ زور سے چیخ کر پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر راجہ نے اپنی سرخ نظروں کو اوپر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“ہاں شکورے میں اپنی بے خبری کی سزا خود کو دے رہا ہوں یہ مسالے دار بریانی کھا کر تُجھے معلوم تو ہے میں پھر بھی اُسے نہیں چھوڑو گا ایک ایک دن میں کیا کام سے چلا گیا اُسنے اپنی منمایا دکھانی شروع کر دی اور اُس سالے کو اپنا رہی ہے جسے میں نے ابھی تک دیکھا نہیں ہے چھوڑو گا تو میں اسے بھی نہیں جس نے میری محبت پر نظر رکھی۔۔!!
وہ جنونی انداز میں کہتا سرخ آنکھوں کو شکورے پر گاڑھتا کہنے لگا تو شکورے اُس جنونی سرپھرے اور گھمنڈی انسان کو دیکھنے لگا جو تین ماہ پہلے اپنی بہن جمامہ لاشاری کو ایک ہاسپٹل میں بری حالت میں ملا تھا اور اب وہ اپنا نام پہچان تک بھول گیا تھا۔۔