47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12 Part 1

“ژالے۔۔”
اُسکی آنکھیں فجر کی اذان کی آواز سن کر کھلی تو بھوری آنکھوں سے وہ بیڈروم میں ژالے کو بے قراری سے ڈھونڈتا ہوا یکدم سے اٹھا۔۔
ژالے جو وضو کرنے کے بعد واشروم سے باہر نکل رہی تھی کہ زہاک سلطان کو بے چینی سے پورے روم میں نظریں دوراتے ہوئے دیکھتی تیزی سے آگے بڑھی تو زہاک عباس سلطان اُسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر پیشانی کو چھوتا اُسے بغور جی بھر کر دیکھنے لگا۔
“ژالے مجھے معاف کر دو مم۔میں نے تّمہیں دھوکا دیا ہے اُس عورت کے گھر میں بھلے نشے کی حالت میں جس طرح بھی پہنچا ہوں مگر تُمہیں تو میں نے دھوکا دیا ہے ناں۔۔!!
وہ نم آنکھوں سے دیکھتا معافی مانگنے لگا تو ژالے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اُس مضبوط مرد کے جو بچوں کی طرح آنسو بہا رہا تھا وہ اُسکے گالوں سے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“نہیں سلطان آپ نے یہ جان بوجھ کے نہیں کیا بلکہ اُس شیطان عورت نے یہ سب کیا ہے آپ کو حاصل کرنے کے لیے اور مجھے آپ سے بد ظن کرنے کے لیے اور ہمیں جدا کرنا چاہتی تھی۔۔!!
وہ محبت سے اُس انسان کو دیکھنے لگی جو اب اُسکے لیے سب کچھ تھا اور وہ انسان بھی کتنا عیجب تھا اپنی غلطی نا ہونے کے باوجود بھی اُسے لگ رہا تھا کہ اسنے اپنی بیوی
کو دھوکا دیا ہے چاہئے کل رات وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ تھا لیکن یہ بات ژالے کو پتہ نہیں تھیں تو یہ بات سوچ کر وہ خود کو بھی قصور وار سمجھ رہا تھا جمامہ لاشاری کے ساتھ۔
“پتہ نہیں کیسے ژالے میں نشے میں مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا۔۔!!
سر کو پکڑتا پیچھے بیڈ پر بیٹھا تو ژالے نیچے اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور اسے دیکھنے لگی جو سر پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیے کل رات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
کل رات جب وہ کال سننے کے لیے باہر نکلا تو تھوڑی دیر بعد ایک بچہ اسکے پاس آیا اور اسے ایک کلاس میں کولڈرنک یہ کہہ کر پکڑایا کہ یہ آپکے لیے آپکی بیوی نے بھیجا ہے تو وہ ژالے کے بارے میں سوچتا مسکرا کر وہ کولڈرنک کو پینے لگا لیکن اُسکا ٹیسٹ اسے کڑوا سا لگا مگر پھر ژالے نے اسکے لیے بھیجا تھا یہی سوچ کر اسنے پیا پھر اسکے بعد اسکے ساتھ کیا ہوا اسے پتہ نہیں۔۔
“آپ اتنا سوچیے مت یہ سب اس عورت نے کیا تھا میرا نام استعمال کر کے تاکہ آپ آسانی سے وہ کولڈرنک پی لیں اور وہ پھر آپ کے ساتھ۔۔!!
وہ جمامہ لاشاری کے متعلق نفرت سے کہتی آخری لفظ پر نم آنکھوں کو اُوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی وہ خود اِس بارے میں کبھی سوچنا نہیں چاہتی تھی تو کیسے اُسکے سامنے یہ بات کہنے کی ہمت کرتی زہاک عباس سلطان اُسکی خاموشی پر آگے کو جھکا اور اسے شانوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر اپنے ساتھ بیٹھا کر کہنے لگا۔۔
“میرے ساتھ میری بیوی ہے تو میں کیوں اس عورت کے بارے میں اور وہ کہا ہے۔۔؟
وہ ژالے کے دونوں گالوں پے ہاتھ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور ژالے اسکی بات پر نم پلکوں کو نیچے جھکا کر بولی ۔
“وہ عورت پاگل ہوگئی تھی آپ کو حاصل کرنا چاہتی تھی تو زارقم بھائی نے اسے مینٹل ہاسپٹل بھیج دیا تاکہ وہ دوبارہ ہمیں پریشان نا کرے۔۔!!
زہاک اُسکی بات پر یکدم سے اٹھا اپنے پورے وجود پر وہ اس عورت کے چھونے کو یاد کرتا اچانک سے پورے جسم میں ایک بے چینی سی محسوس کرنے لگا تو وہ ژالے سے کچھ بھی کئے بغیر واشروم کی جانب بڑھا۔
“سلطان آپ ٹھیک تو ہے۔۔؟؟
ژالے اس کے کچھ بھی کئے بغیر واشروم میں بند ہو جانے پر سخت پریشانی سے واشروم کے دروازے کو نوک کرتی بے چینی سے پوچھنے لگی۔۔
“ہممممم آئی ایم فائن۔۔!!
وہ جو اندر شاور کے نیچے کھڑا اپنے ہاتھ اور گردن چہرے کو رگڑ رگڑ کر صاف کر رہا تھا ژالے کی بے چین آواز پر وہ آنکھیں کھول کر بس اتنا بولا۔۔
اُس عورت کی ایک ایک لمس وہ کسی برے خواب کی طرح رگڑ رگڑ کر اپنے جسم سے جدا کرنا چاہتا تھا بھوری آنکھوں سے آنسوؤں نکل کر پانیوں کے ساتھ بہہ رہے تھے۔۔
“نو سلطان آپ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں مجھے۔۔!!
ژالے اُسکی آواز میں بھاری پن شدت سے محسوس کرتی بے قراری سے بولی اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ محبت کرنے والا شخص آج اپنا درد خود اکیلے برداشت کرنا چاہتا ہوں۔۔
وہ شاور کے نیچے کھڑا آنکھیں موندے کل رات کے واقعے کو یاد کر رہا تھا اور اُس سنکی دیوانی عورت کے لمس کو ابھی تک اپنے پورے جسم میں جیسے چینٹیوں کی مانند شدت سے کاٹتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔۔
“آئی ایم فائن ژالے میں اب ٹھیک ہوں تُم پلیز مجھے ابھی اکیلا چھوڑ دو مم۔میں کل رات کو سوچ کر تم سے نظریں نہیں ملا پا رہا پلیز۔۔۔!!
سامنے دیوار پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتا وہ آنکھیں ہنوز اسی طرح بند کئے بھاری آواز میں کہتا ٹھنڈے پانی سے اپنے اعصاب کو آرام پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا جو جمامہ نامی عورت کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں جھلسنے کیلئے جیسے بے تاب ہو رہے تھے۔۔
“نہیں سلطان میں آپکو اِس طرح اکیلے نہیں چھوڑ سکتی فار گاٹ سیک آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ میں آپ کو کتنا چاہنے لگی ہو اور آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ آپ مجھ سے اپنا دکھ درد اکیلے ہی جھیلے گے میں آپکی بیوی ہو جیسے میرا درد آپکا ویسے ہی اب آپکا درد میرا ہے پلیز باہر نکلے ورنہ ورنہ میں اس روم سے چلی جاؤ گی۔۔!!
وہ دروازہ زور سے پیٹتی ہوئی رو کر بولی تو زہاک عباس سلطان اپنی تکلیف کو بھول کر شاور بند کرتا گیلے کپڑوں سمیت تیزی سے باہر نکلا وہ ایسے ہی شاور کے نیچے کب سے کھڑا تھا اب کپڑوں سے ٹپکتے پانی کی پرواہ کیے بغیر وہ ژالے کی تکلیف پر باہر نکلا تھا۔۔
“زوجہ سلطان سوچنا بھی مت یہاں سے جانے کے بارے میں ورنہ میں خود کو مار دو گا تُمہیں تو میں نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا اتنا چاہتا ہوں میں تُمہیں کہ خود کو نقصان پہنچا سکتا ہوں لیکن اپنی محبت کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔۔!!
واشروم سے باہر نکلا تو سامنے ژالے کو روتے ہوئے دیکھتا پریشانی سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر کہنے لگا پھر اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اسکی سرخ ہتھیلیوں کو دیکھنے لگا جو دروازہ پیٹنے کی وجہ سے سرخ ہو گئے تھے۔۔
“زوجہ سلطان کیوں خود کو تکلیف پہنچاتی ہو ہاں بار بار کیوں بتاؤ پہلے تو اُس نمیر کی وجہ سے مجھ سے دور جانے کا سوچا اور اب روز خود کو تکلیف دیتی ہو اور ساتھ میں مجھے بھی اور اب تم یہ سب نہیں کروں گی وعدہ کروں مجھ سے کہ تُم اب خود کو تکلیف نہیں پہنچاؤ گی۔۔!!
ہتھیلی کو لبوں سے چھوتا بھاری آواز میں کہتا اُسے پلکوں کو عارضوں پہ گرانے پر مجبور کر گیا تھا وہ سرخ ہتھیلیوں کو تاسف سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی بھی کتنی پاگل ہے پہلے تو نمیر کے بہکانے پر اس سے جدا ہونے کا کہتی تھکتی نہیں تھی اور اب اس سے جدا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔
“وعدہ سلطان میں ایسا نہیں کروں گی پلیز آپ اس عورت کی وجہ سے خود کو تکلیف نہیں پہنچائے گے ورنہ میں یہ وعدہ توڑ دو گی جو ابھی آپ سے کیا ہے۔۔!!
وعدہ کرتی آخر میں سرمئی آنکھوں میں خفگی لیے وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی۔۔
“ہممممم زوجہ سلطان بلیک میل۔۔؟؟
زہاک اُسکی بات پر شریر نظروں سے اسے دیکھتا کہہ کر آگے کو جھکا اور نرمی سے اسے اپنی آغوش میں لیتا اسے شرم سے سر سینے پہ رکھنے پر مجبور کر گیا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“دیدی کیوں کمزور پڑی آپ بولے آپکو پتہ بھی تھا ناں کہ وہ لوگ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہے ہماری ماں کو انہوں نے ہم سے چھینا ہے تو آپ کیسے اپنی مقصد سے پیچھے ہٹی ہاں کیسے۔۔؟؟
ہاسپٹل میں جمامہ کو ایک ایسی جگہ پر رکھا گیا تھا زارقم سلطان کے کہنے پر جہاں کوئی اور مریض نہیں تھاصرف وہ تھیں نمیر اس جیل نما چھوٹے روم کو دیکھتا اپنی بہن سے کہنے لگا جو سرخ نظروں کو فرش پر گرائے خاموش بیٹھی تھی۔۔
“نمیر وہ میرا شوہر ہے اور میں کیسے اپنے شوہر سے الگ ہو سکتی ہوں بتاؤ مجھے کیسے جبکہ وہ اب میرے بچے کا باپ بھی ہے۔۔!!
سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر نمیر لاشاری پر گاڑھتی ہوئی پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی ہزیانی انداز میں بولی۔۔
“شوہر۔۔؟؟
طنزیہ انداز میں مسکرا کے نمیر لاشاری نے اپنی کو دیکھا تو وہ سر جھکا کر بولی۔
“ہاں شوہر پہلے میں نے صرف اُس خاندان کو برباد کرنے کے لیے اُسے اپنا شوہر نہیں سمجھا ہے لیکن نمیر میں نے جب سے اُس لڑکی کو زہاک عباس سلطان کے ساتھ دیکھا ہے ناں
تب سے میں جل رہی ہو مر رہی ہو اب بتاؤ کیا میں خود کو برباد کر سکتی ہوں نہیں ناں اور تم بھی اپنی بہن کو برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تو جاؤ اس لڑکی کو مار دو یا الگ کر دو اس سے ورنہ میں مر جاؤ گا۔۔!!
وہ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر دیوانگی کی حد پار کرتی ہوئی بولی تو نمیر لاشاری نے آگے بڑھ کر اسے سختی سے دونوں گالوں سے پکڑا۔۔
“شٹ اپ۔۔!!
گرفت کو سخت کرتا نیلی آنکھوں میں غصہ لیے اپنی بہن کو گھورتے ہوئے دھارا وہ اب اپنی بہن کو ان معاملوں سے دور کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اب کچھ بھی نہیں کھو سکتا تھا کھونے کے لیے صرف اُسکی بہن ہی بچی تھی ماں باپ تو وہ ان دونوں خاندانوں کی وجہ سے کھو چکا تھا اب اپنی بہن کو وہ کھو نہیں سکتا یہ سوچ کر وہ اب جمامہ لاشاری کو سخت وارننگ دینے لگا۔۔
“دیدی آپ کو اب اپنے بچے کے باپ اور شوہر زہاک عباس سلطان کو بھولنا ہوگا ورنہ میں خود کو ختم کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤ گا اگر آپ اس کے پاس چلی گئی نا تو۔۔!!
گالوں کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹا نظریں ہنوز بہن کے تکلیف سے سرخ ہوتیں چہرے پر گاڑھتا اسے دیکھنے لگا تو جمامہ لاشاری نے سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اپنے سرپھرے بھائی کو دیکھا جو اس سے بھی بڑا دیوانہ تھا وہ کچھ بھی کر سکتا تھا یہ سوچتی وہ ڈرنے لگی۔۔
“نمیر میرا بچہ۔۔!!
سرخی مائل براؤن آنکھوں کے گوشے سے اپنے بیٹے کو سوچ کر پانی نکل کر گالوں پر پھسلنے لگےتو نمیر لاشاری کو یکدم سے ماضی کی ایک بات شدت سے یاد آئی۔۔
“ماما مجھے وہ کار چاہیے۔۔!!
ایک چھ سالہ بچہ اپنی ماں کی انگلی کو پکڑ کر اس چھوٹے سے بازار سے وہ دونوں گزر رہے تھے کہ سامنے ایک دوکان پر لٹکے چھوٹے سے کار کو دیکھتے ہوئے وہ بچہ ماں کو روکتے ہوئے ضدی لہجے میں کہنے لگا۔۔
“بیٹا ہم جہاں جا رہے ہیں نا وہاں آپ کو اس بھی ڈھیر سارے خوبصورت اور شاندار کار ملے گے۔۔!!
ماں نے بیٹے سے مسکرا کر کہا تو وہ معصوم ماں کی شاطر ذہن کی سازشوں سے انجان خوشی سے سر ہاں میں ہلانے لگا۔۔
“سچ میں ماما۔۔؟؟
وہ معصوم آنکھوں میں چمک لیے ماں سے پوچھنے لگا تو ماں نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا۔۔
“جی بچہ سچ پر آپ آج سے نمیر لاشاری نہیں نمیر سلطان ہے اوکے۔!!
ماں نے اپنے پلان کے مطابق سوچتے ہوئے اب اپنے معصوم بیٹے سے کہا تو وہ معصوم ان سازشوں سے انجان سر ہاں میں ہلانے لگا۔
“نمیر لاشاری۔۔؟؟
وہ کسی کی آواز پر ماضی کی یادوں سے نکل کر چونکا تو سامنے اس ڈاکٹر کو دیکھنے لگا جسے اسنے پیسے دئیے تھے اپنے بہن سے ملنے کے لیے کیونکہ زارقم نے نمیر کے پیچھے اپنے بندے لگائے تھے اسی لیے وہ یہاں بھی چھپ کر آیا تھا اور اب یہاں ڈاکٹروں کی سیکورٹی پر وہ ایک لالچی ڈاکٹر کے مدد سے اپنی بہن سے ملنے میں کامیاب ہوا تھا۔
” ہاں کیا بات ہے۔۔!!
وہ ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“سر اب ٹائم پورا ہوگیا ہے اگر آپ کو یہاں کسی نے دیکھ لیا تو میری جاب خطرے میں پڑ سکتی ہے پلیز اب آپ یہاں سے چلے جائے۔۔!!
وہ منت کرتے ہوئے کہنے لگا تو نمیر لاشاری نے اپنی بہن کو دیکھا اور آخری بار اسے یاد کروانا نا بھولا۔۔
“دیدی اب آپ کوئی ایسی غلطی نہیں کرے گی جس سے آپ اپنے آخری رشتے سے بھی محروم ہو جائے اوکے اگر آپ نے سلطان خاندان سے رشتہ جوڑنا چاہا تو میں خود کو ختم کر دو گا۔۔!؟
وہ جمامہ لاشاری کے گالوں پر ہاتھ رکھتا نرم لہجے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا تو جمامہ لاشاری اسکی بات پر ڈرتی ہوئی تیزی سے اپنا سر ہلانے لگی۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ارقم یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
مرجان جب کچن میں داخل ہوئی تو زارقم عباس سلطان کو سامنے چولھے کے آگے کھڑے چائے بناتے ہوئے دیکھ وہ منہ کھلے آگے بڑھی تو زارقم عباس سلطان اسکے منہ سے ارقم سنتا مسکایا۔۔
“جان چائے بنا رہا ہوں آپ تو پتہ نہیں ہمیں کب اپنی چاہ سے نوازے گی اور اس وقت چاہ نہیں تو چائے ہی سہی۔۔!!
ریڈ اپرن میں سر پر سیف والی ٹوپی پہنے مصروف انداز میں پتیلی میں چائے کے پانی دودھ اور پتی ڈال رہا تھا۔۔
“ارقم آپ رہنے دیں میں بنا لیتی ہوں اور یہ کیا سیف ہے آپ جو یہ پہنا ہے۔۔!!
وہ آگے بڑھی اور اُسکے ہاتھ سے دودھ سے بھرا جگ پکڑتی خود چائے بنانے کیلئے کھڑی ہوگئی اور ساتھ میں ہنستی ہوئی ٹوپی کی طرف اشارہ کرتی کہنے لگی تو زارقم عباس سلطان وہی سلپ سے ٹھیک لگائیں کھڑا ہوا اور توجہ و محبت سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“جان جیسے تُم عشق ہو اِس جلاد دہشت گرد کی اِسی طرح یہ سیف کی ٹوپی محبت ہے اِس جلاد دہشت گرد کا بہت چاہتا ہوں اسے بھی اور تمہیں بھی سو جب بھی کوئی کہے گا تم دونوں میں کسی ایک کو چننے کیلئے تو وہ مقام میرے لیے بہت ٹھپ ہوگا۔۔!!
مرجان اب اُسکی شریر نظروں اور اس جلاد دہشت گرد والی بات پر سخت پزل ہوتی سٹپٹا کے چینی کی جگہ نمک پانی میں ڈال گئی کیونکہ وہی پہلے یونی ورسٹی میں جب بھی وہ کلاس لینے آتا تھا تب وہ اسے جلاد دہشت گرد کہا کرتی تھیں سب کے سامنے یکدم سے وہ کچھ سوچ کر ایک چمچی پھر سے ایڈ کرتیں ہوئے زارقم کی نظروں سے نروس ہوتی تیزی سے پیچھے کپ لینے کی لیے بڑھی۔۔
“چائے ارقم۔۔!!
کپ آگے بڑھا کر بولی اب وہ اُس سے ڈرتی نہیں تھی اور یہ زارقم کی محبت اور توجہ سے ممکن ہو سکا تھا اور اسکے ڈر کو زارقم نے اپنی محبت و توجہ سے دور کیا ہے اپنی اور اسکی زندگی سے ہاں وہ اب بھی دوسرے مردوں سے اُسی طرح ڈرتی تھی جس طرح نمیر لاشاری کے زیادتی کرنے کے بعد وہ ڈرتی تھی ہر مرد سے لیکن زارقم عباس سلطان سے وہ اب بلکل بھی نہیں ڈرتی تھی بلکہ وہ اُسکے باہر جانے پر سخت بے چین ہو جاتی تھی۔۔
“جان بہت اچھا لگتا ہے تمہارے منہ سے اپنے لیے ارقم سننا۔۔!!
اُسکے ارقم کہہ کر بار بار بلانے پر دل میں خوشی محسوس کرتا گھمبیر آواز میں کہتا کپ کو ہونٹوں سے لگا کر اسنے ابھی ایک سپ ہی لیا تھا کہ اسکے چہرے کے تاثرات بگڑنے لگے اور اچانک سے بیسن کی جانب بڑھا اور وہ عیجب چائے جو اسنے آج پہلی بار پیا تھا سب اس میں انڈیل کر پیچھے پلٹا اور مرجان کو سرخ ہوتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“یہ کیا تھا مرجان۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا آگے بڑھا چائے کی وجہ سے وہ اب مکمل بگڑ چکا تھا اس پر جبکہ مرجان اب خود کے لیے راہ فرار ڈھونڈنے لگی ورنہ مقابل کھڑا آگ بگولہ ہوگئے شخص سے وہ خود کو نہیں بچا سکتی تھی۔۔
“ارقم چائے۔۔!!
سرمئی آنکھوں کو معصومیت سے پھتپھتا کر بولی زارقم عباس سلطان آگے بڑھا اور غصے سے دونوں شانوں سے پکڑ کر کہنے ہی لگا تھا کہ روک گیا ایک تو منہ کا ذائقہ عیجب ہو رہا تھا ایک تو اُس لڑکی نے آج اتنے دنوں بعد شرارت کیا اور وہ بھی اس کے اوپر یہ سوچ کر وہ یکدم سے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگا پھر نرم تاثرات چہرے پر لا کر وہ اسکے اوپر جھکا اور پیشانی کو چھو کر پیچھے ہٹا۔۔
“جان چائے نہیں بلکہ تمہاری چاہ ہے جو تُم نے اس میں گھول کر مجھے پلائی ہے چائے میں نے ہر ملک کے ٹیسٹ کیے ہیں بٹ جو میری جان کے ہاتھ کی بنائی چائے میں ہے وہ کہی نہیں۔۔!!
محبت سے بولا جبکہ منہ کا ذائقہ یہ الفاظ کہنے میں ساتھ نہیں دے رہے تھے پر وہ پھر بھی مسکرا کر مرجان کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“اوکے میں اب روز آپ کے لیے اسی طرح کی چائے بنا کر آپ کو دو گی۔۔۔!!
مرجان نے معنی خیز نظروں سے مقابل بے حد قریب کھڑے شخص کو دیکھتی کہنے لگی جو اسکی بات پر یکدم سے سٹپٹا کر رہ گیا۔۔
“نہیں جان بس آج کے بعد تم نہیں بناؤ گی آئی مین آج کے بعد تم کوئی بھی کام نہیں کروں گی جب تمہارا اتنا کئیرنگ شوہر ہے تو تمہیں بھلا کام کرنے کی کیا ضرورت ہے اچھا تم ریسٹ کروں میں یہاں کراچی میں جس میٹنگ کو اٹینڈ کرنے کے لیے آیا تھا وہ اٹینڈ کرنے جا رہا ہوں۔۔!!
وہ تیزی سے کہتے ہوئے آخر میں اسکے دونوں گالوں کو آہستگی سے سہلا کر اپنی میٹنگ کا کہنے لگا تو مرجان اسکے جانے کا سنتی یکدم سفید پڑ گئی۔
“آپ مجھے اس ہوٹل کے روم میں اکیلا چھوڑ کر جائے گے ارقم۔۔!!
سرمئی آنکھوں میں ڈر ہلکورے لے رہا تھا اور یہ دیکھ زارقم عباس سلطان نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا اور پشت کو سہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
“جان سب مرد نمیر لاشاری جیسے گدھ نما انسان نہیں ہوتے اور اگر کوئی ایسا انسان ملے نا تو تُمہیں اسے جان سے مار دینا چاہیے کیونکہ گرلز اتنے فاور فل ہوتے ہیں کہ سو مردوں کو اکیلے بھی ہرا سکتے ہیں وہ کبھی کمزور نہیں ہوسکتے بلکہ کمزور یہ معاشرہ انہیں بنا دیتا ہے اپنی باتوں سے یہ میں نے کتنی بار آپ کو سمجھایا ہے۔۔!!
اسکی پشت کو نرمی سے سہلاتے ہوئے اُسے سمجھا رہا تھا جبکہ مرجان اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچے کھڑی بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
“ارقم مم۔ میں کیسے لڑ سکتی ہو ان طاقتور مردوں سے جو ہم جیسی کمزور لڑکیوں کو اپنی مٹھیوں میں مسلنا اچھے سے جانتے ہیں۔۔!!
وہ شرٹ کو سختی سے پکڑے کانپتی آواز میں بولی تو زارقم عباس سلطان اسکی بات پر اسے شانوں سے پکڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔۔
“وہ اگر مٹھیوں میں مسلنا جانتا ہے تو تُم ان مٹھیوں کو کھولنا بھی اچھے سے جانتی ہو مرجان اور ان مٹھیوں کی انگلیوں کو کاٹنا بھی سو بی بریو مائے ہارٹ۔۔!!
نیلی سرخ آنکھوں میں اُن جیسے گدھ نما مردوں کو سوچ کر نفرت نمودار ہونے لگی جو اپنی طاقت کے نشے میں چور عورت کو کمزور سمجھ کر انہیں اپنی درندگی کا نشان بنانا اپنی مردانگی سمجھتے تھے ان مردوں سے اسے سخت نفرت تھا وہ چاہتا تو ان سب مردوں کو ایک ایک کر کے جلا دیتا۔