No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“سیرت تُم کمزور نہیں ہو اِس شیطان سے لڑ سکتی ہو اٹھو اور اُسے ہراؤ۔۔!!
سیرت کی دونوں آنکھیں سختی سے بند تھی پر وہ دل میں سوچتی خود کو مضبوط کرتیں ہوئے سختی سے اُس درندے کو دور دھکیل کر اٹھی۔۔
“تُم نے مجھے مرجان اور ژالے سمجھ کر غلط کیا اور یہاں لا کر سہی نہیں کیا اب بتاتی ہوں کہ میں کون ہوں۔۔؟؟
سیرت بیڈ روم میں نظریں ڈورہا کر اُسے مارنے کے لیے کچھ ڈھونڈنے لگی تو روم کے کونے میں اسے ایک واز نظر آیا تو وہ تیزی سے بڑھی۔۔
“لڑکی تُم نے حلال طریقے سے برباد ہونے کو خود ٹھکرایا ہے اب تُمہیں برباد ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا کوئی بھی نہیں۔۔!!
اس سے پہلے وہ نمیر لاشاری پر حملہ کرتی وہ سخت غصے سے آگے بڑھا اور اسے اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے زور سے بیڈ پر دھکیل کر غرایا۔۔
“مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے خود کو بچانے کے لیے میں خود ہی کافی ہو زلیل کمینے انسان۔!!
سیرت کے ہاتھ میں واز ابھی تک موجود تھا وہ شدت سے اسکے سر پر مارتی تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور روم سے باہر نکلی تو وہ بھی اپنا سر پکڑے باہر نکلا۔۔
وہ اُس چھوٹے سے گھر سے باہر نکلی اور روڈ پر ننگے پیروں بھاگنے لگی اس شیطان کی آوز سے بھاگنے کی رفتار کو تیز کرتی اُس انسان سے دور ہوتی مین روڈ پر پہنچی۔
سارب جو پاگلوں کی طرح اُسے پورے شہر میں ڈھونڈ رہا تھا تبھی یکدم سے بائیک کے سامنے ایک لڑکی کو پاگلوں کی طرح پیچھے دیکھتے ہوئے ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے دیکھا اور پھر پیچھے ایک شخص کو گالیاں بکتے ہوئے دیکھ وہ بائیک سے نیچے اترا اور تیزی سے لڑکی کی جانب بڑھا اسے لگ رہا تھا کہ وہ لڑکی سیرت ہے۔۔
“رک جاؤ لڑکی۔۔!!
نفرت سے وہ کہتا پیچھے بڑھ رہا تھا۔۔
“سیرت۔۔!!
جب لڑکی کے پاس پہنچا تو چہرے سے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بغور چہرے کو دیکھنے لگا اور سامنے سیرت کو دیکھ اسکی ابتر حالت کو دیکھتا وہ پریشانی سے آگے بڑھا اور اُسے پکڑ کر چہرے پر آئے بالوں کو ایک ہاتھ آگے بڑھا کر ایک بار پھر سے وہ پیچھے کرنے لگا اچانک سے اسکی نظریں سیرت کے چہرے پر چار انگلیوں کے نشانوں پہ پڑی تو یکدم سے خود کو سخت شعلے میں گرتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔
“یہ کس نے کیا ہے ہاں سیرت بتاؤ کس کی ہمت ہوئی تُمہیں ہاتھ لگانے کی ہاں نام بتاؤ کون ہے جس نے تُمہیں یونی سے اٹھایا ہاں۔!!!
وہ آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے سیرت کے سرخ گالوں کو نرمی سے چھوتا جیسے دھار اٹھا تو پیچھے سے آتے نمیر لاشاری کو دیکھتا وہ سیرت کو اپنے پیچھے کرتا شدید نفرت سے شیطان نما انسان کو دیکھنے لگا۔
“اوہ تُو تُمہیں ابھی تک ڈوز چاہیے بٹ زارقم بھیو نے بخشا ہے لیکن سارب عرفان سلطان تُمہیں نہیں بخشے گا غلط کیا سیرت کو اٹھا کر مرجان کو تو برباد کر دیا ہے لیکن اگر آج تُم نے اسے برباد کر دیا ہوتا ناں تو میں تُمہارا حال وہ کرتا کہ تُم موت کی بھیک مانگتے پھرتے رہتے مجھ سے بٹ اب میں کتنا ظالم ہو یہ تُمہیں اچھے سے سمجھاؤ گا۔۔!!
آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھ رہے تھے اورلہجے میں نفرت کی گرمی لیے وہ سامنے کھڑے نمیر لاشاری کو دیکھ رہا تھا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا کیا کروں گے تُم بچے ماروں گے۔۔؟؟
نمیر لاشاری نے زور زور سے کمینگی سے ہنستے ہوئے سارب عرفان سلطان کو ہلکا لے کر اچھا نہیں کیا کیونکہ اُسکی بات ختم ہونے کے بعد سارب آگے بڑھ کر اُسے کالر سے پکڑا اور اسکا سر روڈ کی جانب کرتے ہوئے سپاٹ چہرے کے ساتھ آگے سے آتے ٹرالر کو دیکھنے لگا اور نمیر لاشاری موت کو اتنے قریب دیکھ کر شدت سے کانپنے لگا اور اچانک سے اُسے اچھے سے سمجھ آیا کہ سارب عرفان سلطان زارقم عباس سلطان سے بھی زیادہ خطرناک اور جنونی ہے۔۔
“تمہاری ایک غلطی تُمہیں نمیر لاشاری اوپر پہنچا سکتی ہیں سو بی کئیر فل آئیندہ میری فیملی سے دور رہنا ورنہ اگلی بار تمہارا پورا جسم اُس ٹرالر کے نیچے ہوگا گوٹ اٹ۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا اُسے دور دھکیل کر نفرت سے وارننگ دیتا اب سرد لہجے میں سیرت سے مخاطب ہوا جو پیچھے کھڑی خوف سے اُس سرپھرے انسان کو دیکھ رہی تھی جو اُسکا سب سے بڑا دشمن تھا بٹ اِس وقت اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اُسکا چاہنے والا ہوں۔
“اور تُم مجھ سے تو دشمنوں کی طرح لڑنا اچھے سے جانتی ہو مگر یہ ہمت نا کر سکی کہ اس شیطان کے ٹارچر کرنے سے پہلے اسکے ہاتھ کاٹ کر رکھ دیتی پہلے تو میں تُمہیں بہت بہادر سمجھتا تھا لیکن میں غلط تھا ارے تُم سے تو وہ لڑکی مضبوط ہے جو مجبوری کے باوجود بھی باہر نکلتی ہے تاکہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے رزق حلال طریقے سے کما کر انہیں اچھے سے پیٹ بھر کر کھلا سکے لیکن اس طرح کمانے کی وجہ سے انکی زندگیوں میں ان جیسے درندے انہیں ہر موڑ پر ملتے ہیں لیکن یہ بجائے اُنکے شکار ہونے سے بہادری سے اُن سے خود کو بچا لیتی ہے۔۔!!
آج بہت پاگل ہو رہا تھا سیرت کو کمزور دیکھ کر اور کیسے وہ برداشت کر سکتا تھا کہ سلطان خاندان کی ساری لڑکیاں کمزور ہو اُس نمیر لاشاری کے آگے اور اسکا شکار بن کر خود کو بہادری سے اُسکے شر سے نا بچا سکے وہ غصے سے پاگل ہوتا روڈ کے بیچ اچانک سے بڑھنے لگا تو سیرت یہ دیکھتی سخت حواس بختہ ہو کر اُسے دیکھنے لگی جو غصے سے روڈ کو کراس کرتا دوسری سائیڈ بڑھ رہا تھا۔۔
وہ روڈ کے دوسری سائیڈ پر کھڑی اپنی سپورٹس بائیک کی جانب بڑھا اور بائیک اسٹارٹ کرکے شدید غصے سے نمیر کی لاشاری کی جانب بڑھانے لگا اور یہ دیکھ سیرت کو سانسیں حلق میں اٹکتی ہوئی شدت سے محسوس ہونے لگی تو وہ بھاگتی ہوئی اسکے بائیک کے سامنے کھڑی ہوئی۔
“سارب آر یو میڈ۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں کہتی آگے کھڑی اُسے گھور رہی تھی اور سارب نفرت سے نمیر لاشاری کو دیکھ رہا تھا۔۔
“ہٹو سیرت ورنہ تُمہاری پرواہ بھی نہیں کروں گا اور بائیک آگے بڑھا دو گا۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا وہ بائیک کو ریس دینے لگا تو سیرت اُسی طرح آگے کھڑی اسے غصے سے دیکھ رہی تھی جبکہ پیچھے نمیر لاشاری سامنے اپنی موت کو دیکھ تیزی سے اٹھا اور بھاگنے ہی والا تھا کہ سارب کا دوست صفی نے گردن سے پکڑ کر اسے روکا اور پیچھے کھڑے اپنے حوالدار سے اسے جیپ کی جانب لے جانے کا کہتا سارب کی طرف بڑھا۔۔
“یار اپنے غصے کو کنٹرول کرنا سیکھو قانون کو کیوں ہاتھ میں لے رہے تھے پتہ بھی ہے ناں تمہیں کہ اگر وہ مر جاتا تو تم جیل بھی جا سکتے تھے۔۔!!
صفی نے سارب کے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو سارب عرفان سلطان شدید نفرت سے نمیر لاشاری کو دیکھنے لگا جو جیپ پر بیٹھا بری حالت میں تھا۔
“اسے موت دینے کے لیے اگر مجھے موت بھی ملی نا تو قبول ہے پھر جیل کیا چیز ہے۔۔!!
نمیر کو سرخ نگاہوں سے دیکھتا وہ جیسے شعلے برساتیں لہجے میں بولا سیرت جو پاس ہی کھڑی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی اسکی بات پر دل ہی دل میں ڈرامے باز بڑا آیا موت دینے اور لینے والا ہونہہہ کہنے لگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
سب لوگ ڈائننگ ہال میں بیٹھے ڈنر کر رہے تھے رات کے نو بج رہے تھے اور سلطان ولا میں سب رات کا ڈنر نو بجے ہی کرتے تھے کیونکہ یہ دا جی کا حکم تھا کہ نو بجے سب ڈائننگ ہال میں موجود ہو۔۔
سارب عرفان سلطان غصے سے ولا میں داخل ہوا اور اسکے پیچھے سر جھکائے سیرت تو سب کی نظریں اٹھی اور ان دونوں کے اوپر ٹھہر گئی جو اب ڈائننگ ہال سے ہو کر اپنے اپنے روم کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔
“بچوں اس وقت کونسی کلاس ہوتی ہے تم دونوں کی ہاں۔۔؟؟
داجی کی آواز پر وہ دونوں روکے جبکہ زویا بیگم جو سیرت کو بغور دیکھ رہی تھی اسکے چہرے پر نشان دیکھ وہ پریشانی سے اٹھی اور تیزی سے اسکی جانب بڑھی۔۔
“یہ نشان کیسا ہے سیرت میرے بچے کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ سارب بیٹا یہ کیسے ۔۔؟؟
شانوں سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتی وہ ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسے ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے پریشانی سے آخر میں سارب سے پوچھنے لگیں تو انکی آواز پر سب نے بغور سیرت کو دیکھا۔۔
“چاچی کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ہمارا ہم ٹھیک ہے۔۔!!
وہ ایکسڈنٹ پر زور دیتا سیرت کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو سیرت سمجھ گئیں کہ اس کمینے انسان نے ایکسڈنٹ پر کیوں زیادہ زور دیا ہے وہ طیش سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی کیونکہ وہ شخص اب بھی اسے طعنہ دینے سے نا باز آیا تھا کہ وہ کتنی کمزور ہے۔۔
“یہ آپکو چھوٹا سا ایکسڈنٹ لگ رہا ہے سارب بیٹا دیکھوں میری بچی کا چہرہ کتنا ذرد ہو گیا ہے آسیہ جاؤ دودھ میں ہلدی ملا کر دونوں بچوں کے لیے لے کر آؤں۔۔!!
زویا بیگم نے سیرت کے زرد چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سارب کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تو سارب نے طنزیہ نظروں سے سیرت کے چہرے کو دیکھا۔
“چچی حضور آپکی یہ بچی ہے نا بہت زیادہ ڈرفوک ہے اور ویسے بھی ایک چھپکلی سے ڈرنے والی سے بہادری کی امید رکھنا سراسر بے کار ہے۔۔!!
وہ سیرت کا مزاق اڑانے کے بعد تیزی سے اپنے روم کی جانب بڑھا اور وہ وہی کھڑی جل بھن کر رہ گئی اور نظریں پشت پر گاڑھتی اسے سخت غصے سے گھورنے لگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
ژالے ابھی مہندی لگا کر پارلر سے آئی تھی لیکن اچانک سے اپنے ہاتھوں میں شدت سے جلن محسوس کرتیں وہ بجائے مہندی کو دھونے کے سوکھنے کے لیے چھوڑتی زویا چچی اور اپنی ماما سے لاپرواہی سے باتوں میں لگ گئی۔
وہ جانتی تھی کہ زہاک کو مہندی بہت زیادہ پسند ہے اور یہ مہندی بھی اُسنے اسی لیے تو لگائی تھی لیکن جب وہ بیڈ روم میں داخل ہوئی تو زہاک عباس سلطان جو روم سے باہر نکل رہا تھا۔۔
“زوجہ سلطان یہ آپکے ہاتھ اتنے سرخ کیوں ہو رہے ہیں۔۔؟؟
مہندی کی خوشبو کی وجہ سے ٹھہرا اور بے ساختہ وہ مہندی لگے اُسکے نازک ہاتھوں کو تھام کر بغور دیکھنے لگا پھر سرخ نشانوں پر جب اُسکی نظریں پڑی تو ژالے کو پکڑ کر تیزی سے بیڈ کی جانب بڑھا اور پریشانی سے بولا ۔۔
“سلطان یہ مہندی شاید خراب ہونے کی وجہ سے ہوا ہے آئی ایم فائن۔۔!!
ژالے اُسکی پریشان صورت کو دیکھ ہاتھوں میں ریشز کی وجہ سے تکلیف کے باوجود بھی مسکرا کے بولی۔۔
“خاک ٹھیک ہو یہ دیکھو تو ریشز پڑھ گئے ہیں جاؤ ابھی دھو کر آؤں کوئی ضرورت نہیں ہے اِن نازک ہاتھوں میں مہندی لگانے کی آئندہ تُم سے ضروری نہیں ہے یہ میرے لیے تُمہارے ہاتھ مجھے ایسے ہی خوبصورت لگتے ہیں۔۔!!
وہ سختی سے کہتا اُسے دیکھنا لگا جو اُسکی بات پر منہ پھولا کر اسے دیکھنے لگی تو اُسے اسی طرح بیٹھے دیکھ زہاک نے اسے گود میں اٹھایا اور واشروم کی طرف بڑھا۔
“سلطان نہیں پلیز میں نہیں دھوؤں گی آپ نیچے اتارے۔۔!!
وہ سپٹپٹا کر بولی زہاک عباس سلطان اسکی سنے بغیر اسی طرح اسے اٹھائے واشروم کے اندر داخل ہوا اور واش بیسن کی جانب بڑھا۔۔
“زوجہ سلطان معلوم ہے یہ تُم میری محبت میں کہہ رہی ہو بٹ جان محبت میں تکلیف تُمہیں ہو یہ میں برداشت نہیں کر سکتا یہ مہندی تُمہیں تکلیف پہنچا رہی ہے تو اب سے تُم ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گی اسے یہ تُمہارے خاوند کو پسند نہیں ہے آج سے بلکہ نفرت ہو رہی ہے اب اِس سے سو اب سے نہیں لگاؤ گی۔۔!!
وہ واش بیسن کے سامنے اُسے لا کر نیچے اتارتے ہوئے دونوں گالوں پر نرمی سے ہاتھ رکھ بھوری آنکھوں میں محبت لیے گھمبیر آواز میں بولا۔
“سلطان آپ کتنے اچھے ہیں میں بہت گناہگار ہو لیکن خدا نے مجھ گناہگار کو آپ جیسا ایک خوبصورت تحفہ دیا ہے میں بہت شکر گزار ہوں اور خوش نصیب بھی کہ آپ مجھے ملے۔۔!!
سرمئی آنکھوں میں نمی لیے وہ خدا کا شکر ادا کرتی اُسکے سینے پر سر رکھتی آبدیدہ ہوگئی تو زہاک عباس سلطان نے اسکی بات پر اُسکی پیٹھ کو سہلایا پھر اسکے آنسوؤں کو صاف کر کے خود سے الگ کرتا اور نرمی سے دونوں ہاتھوں کو تھام بیسن کے نیچے کر مہندی کو دھونے لگا۔۔
“میں بھی خوش نصیب ہو کہ میری زندگی میں تُم آئی اور اب پلیز یہ آنسوؤں مت بہنے دینا ورنہ میں ان سے بھی بغاوت کر بیٹھو گا۔۔!!
وہ نرم لہجے سے کہتا آخر میں شریر نظروں سے اسکے سرخ آنکھوں کو دیکھ زومعنی لہجے میں کہنے لگا تو ژالے اسکے باتوں کو سمجھتی شرم سے سرخ ہونے لگی اور وہ محبت سے اپنی بیوی کے شرم سے گلال چہرے کو دیکھتا آگے بڑھا اور پیشانی کو چھو کر پیچھے ہٹا۔۔
“ماما بابا۔۔؟؟
اندر داخل ہوتے ثمر کی آواز پر وہ دونوں چونکے اور اسے دیکھنے لگے جو منہ بسورے کھڑا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“جی بابا کے شیر کو کیا ہوا ہے جو روٹھا روٹھا سا لگ رہا ہے۔۔؟؟
زہاک عباس سلطان آگے بڑھا اور ثمر کو گود میں اٹھا کر کہنے لگا تو ثمر نے ژالے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے اپنے پاس بلایا تو وہ آہستگی سے آگے بڑھی۔۔
“بابا ماما میں آج آپ لوگوں کے پاس سوؤں گا۔۔!!
وہ دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولا تو زہاک اسکی بات پر ہکا بکا رہ گیا اور میرے رومنیس کے دشمن دل ہی دل میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو منہ دوسری طرف کیے شاید ہنس رہی تھی۔۔
“کیوں بچہ دادا نے منا کیا ہے کیا جو آپ یہاں سونا چاہتے ہیں۔۔؟؟
وہ سخت بدمزہ ہو کر کہتا ژالے کو ہنسنے پر مجبور کر گیا جبکہ ثمر اپنے ڈیڈی کی بات پر زور زور سے سر ہاں میں ہلانے لگا۔
“بابا آپ کو اس عمر کیا سوجھی ہے جو پوتے کو یہاں بھیج دیا جوان بیٹے کو ڈسٹرب کرنے کے لیے۔۔!!
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑایا لیکن اُسکی بڑںڑاہٹ جب ژالے کو سنائی پڑی تو وہ چہرہ جھکا کر ہنسی پر کنٹرول کرنے لگی۔۔
“ہنسو زوجہ جتنا ہنسنا ہے ہنسو لیکن یاد رکھنا تم جتنا ہنس رہی ہوں ناں سزا اتنا ہی زیادہ دو گا سو بی کئیر فل۔۔!!
وہ ثمر کو لے کر بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے ژالے کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا بھاری آواز میں کہتا اسے سٹپٹا کر رکھ گیا جبکہ وہ باپ بیٹا اب پورے بیڈ پر پھیل کر لیٹے ہوئے تھے۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
مرجان کیا ہوا تُم رو کیوں رہی ہو کیا کسی نے کچھ کہا ہے تُمہیں۔۔؟؟
ضنافر زیدی کے کاٹیچ سے غصے سے ہوٹل میں پہنچا جہاں وہ اور مرجان اس وقت استے کر رہے تھے شدید غصے سے سرخ ہوتا جب روم میں داخل ہوا تو مرجان کو بیڈ کے نیچے بری حالت میں دیکھ وہ اپنا سارا غصہ بھول کے تیزی سے بھاگا اور اسے سینے سے لگا کر پوچھنے لگا۔۔
“وہ بب۔باہر کوئی تھا۔۔!!
بڑی بڑی سرمئی آنکھوں میں خوف لیے ہاتھ دروازے کی طرف کرتی رو کر اُسکے سینے سے لگی کہنے لگی۔۔
“جان ریلکس باہر کوئی نہیں ہے۔۔!!
وہ اُسکے بالوں کو جو اسکے چہرے پر بے تحاشا آنسو بہانے کی وجہ سے چھپکے ہوئے تھے ہٹا کر نرمی سے بولا۔۔
مرجان نے سر اٹھایا اور اسے دیکھا جو آنکھوں میں نرمی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“ارقم ووو۔۔وہ سچ میں تھا اا۔اور آوازیں بھی دے رہا تھا وہ دروازہ کھولنے کی کوشش بھی کی تھی اس نے آپ نے کیوں مجھے اکیلا چھوڑا ہاں اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو آآآپ سب مرد ظالم ہے۔۔!!
وہ اب اُسکے سینے پر رو کر غصے سے مکا مارتی ہوئی شکوہ کناں لہجے میں بولی تو زارقم عباس سلطان اسکی اس ادا پر اور شکوہ کرنے پر مسکرایا اور اسے دونوں کلائیوں سے جکڑتا قابو میں کرتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“جان سے مار دیتا اُس شخص کو جس نے میری مرجان کو اگر ہاتھ بھی لگایا۔۔!!
مرجان جو اپنی دونوں کلائیوں کو اُسکی مضبوط گرفت میں دیکھتی اب اپنا ڈر بھولنے لگی تھی تو زارقم سلطان اسکی نظروں کو اپنی طرف دیکھ نیچے جھکا اور پہلی
بار استحقاق سے اپنے ہونٹوں سے پیشانی کو چھوتا ہوا نیچے جھکنے ہی لگا تھا کہ مرجان کو سفید پڑتا دیکھ وہ ٹھہرا اور پیچھے ہٹا۔۔
“جان بی بریو میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے تُمہیں تکلیف ہو جب تک تُم اس پاکیزہ رشتے کی بارکیوں کو نہیں سمجھتی میں کچھ نہیں کروں گا اور مجھے اُن مردوں کی طرح سمجھ کر تم مجھ سے ڈر کر رہو یہ مجھے ہرگز منظور نہیں ہے۔!!
وہ اُسے گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹا کر کمبل اس پر اوڑھا کر اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بالوں کو ہاتھ آگے بڑھا کر سنوارتے ہوئے آرام سے کہنے لگا۔۔
وہ مرجان کو وقت دینا چاہتا تھا اس رشتے کو سمجھنے کے لیے ابھی صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ بنا خوف کے خود آگے بڑھے کیونکہ اسے منظور نہیں تھا کہ مرجان اسے بھی نمیر لاشاری کی طرح ایک حوس کا مارا مرد سمجھے۔۔
