47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“دبیر خان سے چھپنے کا انجام پتہ ہے تُمہیں۔۔۔؟؟
آنکھوں میں غصہ اور پیشانی پر رگیں پھولنے کی وجہ سے وہ اُسے سخت دہشت میں مبتلا کر رہا تھا جبکہ مقابل اُسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اُسکی خاموشی اُسے بہت ناگوار گزر رہی تھی تبھی وہ آگے بڑھا اور اُسے کلائیوں سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“نن۔نہیں پتہ مجھے نہیں پتہ تُم میرا کیا انجام کرنے والے ہو لیکن میں یہاں اجنبیوں کے درمیان نہیں رہ سکتی ہوں اسی لیے یہاں سے بھاگنا چاہتی ہو۔۔!!
وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی تو اُسکی بات پر دبیر خان کو سخت تاؤ نے آن گھیرا تو غصے سے اُس نے اپنی گرفت کو مضبوط کیا۔۔وفا اُسکی سخت گرفت میں پھڑپھڑانے لگی۔۔۔
“ماڑا شرافت سے نکاح کرتی ہم سے تو ہم کچھ نہ کہتا تمہیں لیکن تُمہیں تو دبیر خان کے غصے کو بلانا تھا اور اُسے بلا کر تو تُم نے بہت بُرا کیا ماڑا اپنے ساتھ بھی اور ہمارے ساتھ بھی وجہ بتاؤ تُم کو ہاں بتاؤ کہ ہمارے ساتھ کیوں اتنا بُرا ہوا۔۔؟؟
ایک ہاتھ سے اُسکے چہرے کو سختی سے پکڑتے ہوئے وہ درشت لہجے میں بولا وفا زیدی اُس ظالم کی گرفت میں مرنے کے قریب ہوگئی تھی۔۔
“ماڑا یہ کم بخت تُم کو چاہنے کی ضد کر رہا ہے بہت بُرا ہو رہا ہے لڑکی ہمارے ساتھ بہت زیادہ بُرا۔۔!!
اپنے دل پر ریوالور سے دستک دیتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو وفا اُسکی بات پر بُری طرح سے لرزی جبکہ وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“دیکھوں تُم بھول جاؤ میرا اور تُمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے تُم ان پڑھ ہو اور میں ایک پڑھی لکھی لڑکی اور اوپر سے امیر بھی اگر ہماری شادی ہو بھی گئی تو میرا بھائی مجھے یہاں سے لے جائے گا اس سے بہتر نہیں ہے کہ کچھ ہونے سے پہلے تُم اپنے قدم روک لوں۔۔۔!!
وہ اُسکی غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی تو وہ اُسکی نینوں کے کناروں میں اٹکے شبنمی قطروں کو اور گلابی ملائم لبوں کی جنبش کو دیکھنے لگا اِس لمحے شدت سے اُسکا دل چاہا وہ اِن نینوں سے شبنمی قطروں کو چن لے اور گلابی لبوں کو چھو کر اُسکی معطر سانسوں کو اپنی سانسوں میں بسا لیں۔۔
“ہوں نیک بخت ہم تُمہارے بھائی سے لڑے گا اور تُمہیں تو خود سے ہم مرنے کے بعد بھی الگ نہیں کرے گا جوڑ بنانے سے بنتا ہے ایک بار نکاح ہونے دے دیکھنا یہ دبیر خان اور وفا کی جوڑی کو لوگ یاد رکھے گے ہماری مثالیں دے گے تُم بس مینہ ہمارا ساتھ دو باقی یہ سخت راہیں تمہارا خان خود سہل کر دے گا۔۔!!
وفا آنکھیں پھاڑے اُسے اتنی روانی سے انگریزی میں یہ سب کہتا ہوا سننے لگی تو وہ نرمی و محبت سے اُس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
“تُم بھلے بہت زیادہ پڑھے لکھے ہوں مجھے اُس بات سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا مم۔میں تُم سے نہیں کسی اور سے محبت کرتی ہوں پوری زندگی رقیب کی جلن اور میری بے وفائی سے بہتر نہیں تُم ابھی سے مجھے چھوڑ دو مجھے یہاں سے جانے دو۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی ڈر کر بولی تو وہ کسی اور کا نام سن کر اسے کمر سے جکڑ کر غصیلی آنکھوں سے گھورنے لگا۔۔۔
“تُم پر صرف دبیر عثمان خان کا حق ہے وفا زیدی اور مجھ پر صرف تُمہارا اور کسی کو میں یہ حق کبھی نہیں دو گا تو تم بھی کسی کو یہ حق مت دینا ورنہ غیرت کے نام پر قتل کر دو گا تُمہیں بھی اور اس کو بھی جسے تم چاہت کا نام دے رہی ہو۔۔!!
وہ اُسے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا تو وفا قتل کر دینے کا سنتی سخت ڈر کر اُسے دیکھنے لگی جو سخت غصے میں لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا ابھی جاکر اُس شخص کو جان سے مار دے گا جسے وفا زیدی چاہتی ہے یکدم سے خوفزدہ ہو کر وہ اچانک سے اُس سے نکاح کرنے کا فیصلہ کرتی اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“میں ایک شرط پر تُم سے نکاح کرنے کیلئے تیار ہو اگر تُم اُسے یہاں بلاؤ گے تب میں نکاح خوشی سے کر لوں گی۔۔!!
وہ سختی سے آنکھوں کو میچتی ہمت مجتمع کرتیں ہوئے آہستگی سے بولی بہت مشکل شرط رکھی تھی اُسنے اپنے لیے بھی اور مقابل کھڑے شخص کیلئے بھی وہ یہ سوچ کر آنسو بہانے لگی تھی کہ وہ کیسے اپنی محبت کے سامنے کسی اور کے نکاح میں خود کو دے گی کیسے اپنے آپ کو کسی اور کو سونپے گی جبکہ دبیر خان کی آنکھیں جنون اور غصے سے سرخ ہو رہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اُس شخص سے کیسے سامنا کرے گا جو اُسکی محبت کی چاہت ہے کیسے وہ اُسکی صورت کو برداشت کر سکے گا جس کی صورت دیکھے بغیر اُسے اُس سے سخت نفرت ہوگئی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“سر کوئی آپ سے ملنا چاہتا ہے۔۔!!
زراقم عباس سلطان اپنے اہم فائل کو پڑھ رہا تھا سامنے پڑے فون کی بیل پر اسنے ریسیو کیا تو اپنے سیکٹریری کی آواز پہ اُسنے اوکے کہا۔۔۔
“سلام صاحب، څنګه یاست؟
(سلام صاحب کیسے ہو)..؟؟
زراقم عباس سلطان اِس آواز پر اپنی نظریں اوپر اٹھا کر آنے والے کو ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا جو سر پر سیاہ پھگڑی اور کندھوں پہ کریم کلر کی کشمیری شال تو پیروں میں پشاوری چپل پہنے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“میں پھٹانی نہیں جانتا محترم تُم ہوں کون اور یہاں میرے آفس میں کیا کرنے آئے ہوں۔۔؟؟
زراقم نے سنجیدگی سے فین فائل کے اندر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا جو اُسکی بات پر مسکرایا اور نسوار کو تھوکتے ہوئے سامنے اسکے مقابل رکھے ایک کرسی پر بیٹھا تو زارقم عباس سلطان اُسے اور پھر نیچے سفید ماربل کے فرش پر نسوار کے داغ کو سخت ناگواری سے گھورنے لگا۔۔
“ماڑا اِس نا چیز کو ولید خان کہتے ہیں اور ہم یہاں تُمہیں لینے آئے ہیں وہاں تُمہاری محبوبہ کا نکاح ہے اپنے خان کے ساتھ۔۔!!
وہ ایک آنکھ کو زور سے دبا کر آگے جھک کر ہلکی آواز میں کہنے لگا تو زراقم عباس سلطان کو لگا سامنے بیٹھا خان اسکی مرجان کے متعلق بکواس کر رہا ہے پھر کیا تھا وہ غصے سے اٹھا اور اُسے سختی سے کالر سے پکڑتے ہوئے غصے سے گھورنے لگا۔۔
“ایک شادی شدہ عورت سے نکاح کر رہا ہے تمہارا خان اور مجھے یقین ہے کہ اسے شرم تو نہیں آیا ہوگا زلیل انسان وہ میری محبوبہ نہیں ہے میری بیوی ہے اور تُم جیسے پھٹان ہی ہوتے ہیں جو باقی سب پھٹانوں کو بدنام کرنے میں بہت ہاتھ رکھتے ہیں۔۔!!
وہ اُسے اُسی جگہ پر جہاں اسنے کچھ دیر پہلے نسوار پھینکا تھا زور سے دکھا دے کر غراتے ہوئے کہنے لگا تو ولی خان اُسکی بات پر سخت شاکڈ رہ گیا تھا کیا اسکا دوست ایک شادی شدہ عورت سے شادی کر رہا ہے۔۔
“کیا سچ میں وہ لڑکی تُمہاری بیوی ہے۔۔؟؟
وہ تیزی سے اٹھتے ہوئے زارقم عباس سلطان سے پوچھنے لگا جو غصے سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر کھڑا اسے اپنی سرخ نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
“کیسے ملی تھی وہ تمہارے خان کو بتاؤ مجھے ورنہ تم یہاں سے اپنے پیروں پر سلامت باہر نہیں نکلوں گے۔!!
غصے سے آگے بڑھا اور اسے گردن سے پکڑ کر پوچھنے لگا تو ولی خان اپنے سامنے جلاد بنے زراقم عباس سلطان کو دیکھنے لگا۔۔
“مم۔مجھے کچھ تو بولنے دو تت۔تم اس طرح پکڑوں گے تو ممم۔۔میں مر جاؤ گا۔۔!!
بری طرح سے اٹکتے ہوئے کہنے لگا گلا پکڑنے کی وجہ سے وہ تکلیف سے مر رہا تھا اسکی بات پر زراقم نے اسے چھوڑا تو وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بری طرح سے کھانسنے لگا۔۔
“خان کو وہ ملی نہیں تھی بلکہ خان اُسے شہر سے خود لے کر آیا تھا ابھی تین دن پہلے اب وہ شادی کر رہا ہے اس سے اور ہاں وہ لڑکی راضی نہیں ہے اسکے ساتھ شاید خان زبردستی کر رہا ہے۔۔!!
وہ اُسکی سخت گھوریوں سے گھبراتے ہوئے کہنے لگا تو زراقم عباس سلطان یہ سنتے سخت تاؤ میں آگیا اور غصے سے اسے اپنے پیچھے آنا کا کہہ کر خود باہر کی جانب بڑھا جبکہ وہ اسے اتنے غصے میں دیکھ کر اسے اپنے دوست کی فکر ہونے لگی تو وہ جلدی سے دبیر خان سے رابطہ کرنے لگا۔۔۔
“خان وہ لڑکی شادی شدہ ہے اُسکے ساتھ نکاح مت کرنا ورنہ تم دونوں گناہگار ہو جاؤ گے اُسکی بیوی کو شہر اسکے پاس بھیج دو اور خود گاؤں سے بھاگ جاؤ یہ شخص تمہیں جان سے مار ڈالے گا۔۔!!
بہت کال کرنے پر بھی جب دبیر خان نے اُسکی کال کو اٹینڈ نہ کیا تو مجبوراً اسنے اُسکے لیے ایک وائس نوٹ بھیجا اور خود تیزی سے باہر نکلا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“یہ تُم کیا بکواس کر رہے ہو ولی خان کہوں یہ جھوٹ ہے واللہ قسم اگر یہ سچ ہوا نا تو میں اُس شخص کو زندہ نہیں چھوڑو گا مار دو گا وفا صرف میری ہے چاہے وہ اُس شخص کی بیوی بھی ہوئی نا تو میں پھر بھی اسکو نہیں چھوڑو گا۔۔!؟
دبیر خان کو جب ولی خان کا وائس میسج ملا تو وہ پاگل ہوگیا اور غصے سے اپنے کمرے کی سب چیزوں کو توڑنے لگا پھر کچھ دیر مشکل سے اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد اسنے ولی خان کو میسج کیا اور کمرے سے باہر نکلا اور اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں وفا تھی۔۔
“خانم۔۔؟؟
کمرے میں غصے سے داخل ہوا اور اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا اسے بغور دیکھنے لگا۔۔
“وہ کیا بکواس کر رہا ہے کیا تم اسکی بیوی ہو بتاؤ مجھے اور اگر یہ سچ ہوا نا تو ماں قسم میں اُسے مار کر تمہیں حاصل کروں گا تم میری چاہت ہوں تم میری مینہ ہو صرف میری میں برداشت نہیں کر سکتا تمہیں کسی اور کا وہ آ رہا ہے یہاں اپنی موت کے پاس اب وہ زندہ بچ کر واپس نہیں جائے گا ۔۔؟؟
لفظوں کی طرح اُسکے نازک شانوں پہ اُسکی پکڑ بھی سخت تھی جبکہ وفا زیدی خون خرابے کا دوبارہ نام سنتی سخت ٹیشن میں چلی گئی وہ سمجھ چکی تھی کہ زارقم عباس سلطان یہاں کس کی وجہ سے آ رہا ہے۔۔
“نہیں دبیر خان تُم یہ بے وقوفی نہیں کروں گے وہ اپنی بیوی کے لیے یہاں آ رہا ہے میرے لیے نہیں اُسکی بیوی میں نہیں پاگل انسان وہ زر خان کے گھر میں ہے تو تُم اُسے اُسکے حوالے کروں ورنہ وہ بھی تُمہیں نہیں چھوڑے گا شاید تُم نے اُسے ایسا کچھ کہا ہوگا اسکی بیوی کے بارے میں جو وہ یہاں آ رہا ہے وہ تُم سے بھی بڑا پاگل ہے اپنی بیوی سے عشق کرتا ہے اسی لیے تو اسنے میری محبت کو ٹھکرایا تھا تمہیں اگر میں نے اُس شخص کی حالت کا بتایا نا تو تم اُس سے ڈروں گے۔۔!!
وہ اُسکی گرفت میں قید اُسکی جنون کی انتہا کو چھوتی سُرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آخر میں نمیر کا حوالہ دے کر ڈرانے لگی لیکن وہ ڈھیٹ انسان بجائے ڈرنے کے ہنسنے لگا۔۔
“ایسا کیا کر دیا تھا اُس بے چارے نے جو سلطان نے اُسکی حالت بری کی ہوگی مجھے بھی تو بتاؤ میں بھی سن کر تو ڈرو زرا اُس سلطان سے۔۔!!
وہ اچانک سے سنجیدہ ہو کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
“اُس بے غیرت نے اُسکی بیوی کے ساتھ زیادتی کیا تھا اور پتہ ہے زارقم عباس سلطان نے اسکی سب سے بڑی خوشی اس سے چھینی تھی وہ انتقام میں مارتا نہیں ہے بلکہ موت سے بھی بد تر سزا دیتا ہے اب تمہاری باری ہے اگر نہیں چاہتے کہ وہ تمہیں کچھ کرے تو تم شرط کے مطابق مجھ سے نکاح کر لوں اور اسکی بیوی کا پتہ اسے دو وہ نو ماہ سے دیوانوں کی طرح پورے ملک میں اسے ڈھونڈتا پڑ رہا ہے میں چاہتی ہوں اسے اسکی محبت مل جائے اور وہ اپنی زندگی میں خوش ہو جائے اگر تم نے میری یہ خواہش پوری کر دی تو میں وعدہ کرتی ہو میں تمہارے ساتھ نکاح کروں گی بلکہ ابھی اسکے آنے سے پہلے کروں گی اور ساری زندگی تمہارے خوشی سے اور تم سے محبت کر کے گزاروں گی۔۔!
وہ اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھاتی ہوئی اُس جنونی انسان سے وعدہ کرنے لگی وہ زراقم اور دبیر خان کو بچانے کیلئے یہ کر رہی تھی صرف اِس خون خرابے کو روکنے کے لئے وہ دبیر خان کو ان دو تین مہینوں میں اچھے سے جان چکی تھی کہ وہ کتنا ضدی اور پاگل انسان ہے اور زارقم عباس سلطان کو تو وہ پہلے سے ہی جانتی تھی کہ وہ اپنی محبت میں کسی کی شراکت داری پسند نہیں کرتا تھا وہ مرجان سے عشق کرتا ہے اور اسکا نام کسی اور کے ساتھ غلطی سے بھی برداشت نہیں کر سکتا دونوں اپنے عشق میں کچھ ایسا نہ کر دے کہ بعد میں انہیں پھچتانا پڑے اور وفا زیدی ان دونوں کو پھچتانے سے پہلے ہی انہیں دشمنی کرنے
سے روک رہی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“کہاں ہے میری مرجان نکالو اُسے جا کر ورنہ میں اس گاؤں کو آگ لگانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا اگر مجھے میری مرجان نہیں ملی تو۔۔!!
ولی خان اور وہ جب اس گاؤں میں پہنچے تو گاڑی سے نکلتے ہی زارقم عباس سلطان نے ولی خان کو غصے سے کالر سے پکڑتے ہوئے غرا کر کہا۔۔
“ماڑا ہماری بھابھی کا نام تو وفا ہے یہ مرجان مرجانی کہاں سے بیچ میں آیا۔۔؟؟
ولی خان جو سارے راستے جل تو جلال تو ماڑا اس جلاد بھلا کو جلدی سے ہمارے سر سے ٹال تو وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے سامنے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بھلا کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں پڑھ رہا تھا گاؤں کے نزدیک آتے ہی وہ تو اور بھی زیادہ خوف کھانے لگا اس شہری بھلا سے وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اسے لوکیشن غلط بتا دے لیکن اُسکی قسمت اتنی اچھی نہیں تھی کیونکہ سامنے بیٹھا شخص اتنا بے وقوف اسے نہیں لگ رہا تھا کہ اسکی باتوں میں آ جائے گا منہ بناتے ہوئے اسنے سہی لوکیشن اسے بتایا لیکن گاڑی رکنے پر وہ تیزی سے گاڑی سے اترا تاکہ وہ یہاں سے بھاگ سکے لیکن کم بخت نے اسے پکڑ کر اپنی بیوی کا نام لے کر اسے بہت زور سے تھپڑ مار کر اسے دن میں تارے دیکھائے لیکن تارے دیکھنے کے بعد بھی وہ اپنے ہوش میں تھا اسی لیے مرجان نام سن کر وہ شاکڈ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہمارا مطلب ہے مرجان بھابھی۔۔!!
زارقم عباس سلطان کے سختی سے گھورنے پر وہ جلدی سے کہنے لگا۔۔
“زیادہ ڈرامے مت کروں ورنہ یہی نیم کے پیر کے نیچے تمہیں دفنا دو گا خان۔۔۔!!
وہ اُسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے سامنے نیم کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو ولی خان کو یکدم سے سامنے کھڑے شخص پر دبیر خان نظر آنے لگا تو وہ جھرجھری لینے لگا۔۔
“ماڑا ہم کہا ڈارمے کر رہا ہے تم خود ہم کو انٹرٹین کر رہا ہے اپنے اس بھلا جیسے خوبصورت چہرے پر غصہ دکھا کر۔۔!!
ولی خان نے اُسکے سرخ چہرے کو گھورتے ہوئے بری شکل بناتے ہوئے کہا۔۔
“چپ ورنہ میں اپنا کہا سچ کر دو گا تمہیں دفنا کر خان۔۔!!
زراقم نے اسکے منہ پر انگلی رکھ کر اُسے سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو وہ خاموش ہو گیا اور پھر اسے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر اپنے اور دبیر خان کے ڈیرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“تم تیار ہو کوئی غم پھچتاوا تو نہیں ہے نا تمہیں مجھ سے نکاح کرتے ہوئے اپنی خوشی سے کرنا چاہتی ہو نا مجھ سے شادی اور اگر نہیں کرنا چاہتی تو بتا دو میں ابھی جا کر ڈیرے پر کب سے میرا انتظار کر رہا ہے وہ میں اُسے جان سے مار دوں بتا دو اگر تم اسکی وجہ سے مجھے دبیر خان کو ٹھکرانا چاہتی ہوں تو زبان سے ایک بس ایک لفظ نکال دو واللہ میں اُسے یہی یہی اپنے گاؤں کے قبرستان میں دفنا کر آؤں گا دیکھوں میں میں تمہیں تو ہرگز نہیں چھوڑوں گا تمہیں کسی اور کا تو میں کبھی ہونے ہی نہیں دو گا تم یہ اپنے دماغ میں بیٹھا لینا میری مینہ۔!!
صوفے پر اسکے بے حد قریب آ کر بیٹھتے ہوئے اس نے ہلکی آواز میں وفا زیدی کو انگریزی میں دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ وہ ان لوگوں کے سامنے اردو میں اُسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا جبکہ وفا نے اُسے صرف دیکھنے پر اکتفا کیا وہ راضی تھی لیکن خوشی اُسے یقین تھا کہ اِس سنکی انسان کے عشق میں وہ ضرور محسوس کرے گی شاید اسے کبھی خود پر نازاں بھی ہو کہ اسے کتنا چاہتا ہے یہ پاگل شخص۔۔
“مولوي صاحب اجازه راکړه چې واده پیل کړم”
(مولوی صاحب نکاح شروع کروں)”
ٹیبل پر ریوالور رکھتے ہوئے دبیر خان نے سنجیدگی سے پشتو میں مولوی صاحب سے کہا تو وفا نے جھرجھری لیتے ہوئے اپنے سامنے ریوالور کو دیکھا جسکا منہ بلکل اُسکے آگے اس پاگل جنونی ضدی انسان نے کرا تھا۔۔
“له شاهدانو پرته نکاح څنګه کولای شو؟
(خان گواہوں کے بغیر ہم کیسے نکاح پڑھا سکتا ہے)؟
نکاح خواں نے ٹیبل پر رکھے ریوالور کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا تو دبیر خان اسکی بات پر مسکرایا۔۔
“مولوي صاحب دلته دوه شاهدان حاضر دي او دوه تنه به زما په اشاره سمدستي دلته راورسيږي.”
“(مولوی صاحب دو گواہ یہاں موجود ہے اور دو ابھی میرے ایک اشارہ پر یہاں پہنچ جائے گے تم بس دبیر خان کے نکاح کی رسم ادا کروں۔۔)”
سامنے اپنے دونوں کزنوں کی جانب معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے مولوی صاحب سے کہنے لگا اور موبائل نکال کر ولی خان کو میسج کرنے لگا۔۔
دوسری طرف ولی خان کو جب دبیر خان کا میسج ملا تو وہ سہمتی ہوئی نظروں سے زارقم عباس سلطان کو دیکھنے لگا جو ایک ایک چیز کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔
“خان تماډا موږ د څه په منځ کې راګیر کړي یو؟ هغه دلته پخپله نه راځي او موږ ته یې نه پریږدي.”
“(خان تُم ماڑا ہم کو کس بھلا کے بیچ میں پھنسایا ہے نا خود یہاں آتا ہے اور نا یہ ہم کو جانے دیتا ہے)”
وہ ہنسنے کا ناٹک کرتے ہوئے پشتو میں زور سے کہنے لگا جبکہ زراقم عباس سلطان اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔
“یہ تُم پاگلوں کی طرح کیوں پشتو میں بات کر رہے ہو یہ مت سمجھنا کہ مجھے پشتو سمجھ میں نہیں آتی تو تم جو مرضی میں آئے وہ مجھے بول دو یہ ایپ ہے ناں میں اسی سے پتہ کر لوں گا اب اگر ایک لفظ بھی تم نے کہا نا تو میں تمہیں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دو گا۔۔!!
زراقم نے موبائل اسکے آگے کرتے ہوئے اسے ایک ایپ کے بارے میں کہا جو وہ اس جگہ استعمال کرتا تھا جہاں کی زبان اسے آتی نہیں ہوں۔۔
“نہیں ہم ماڑا اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہے تم کو کچھ نہیں کہہ رہا ہے تم اس میں میرے لفظ کو قید کر کے اب ہم کو گالیاں مت دینا چلوں خان بلا رہا ہے تمہاری بیوی نہیں ہے وہ جس سے خان نکاح کر رہا ہے خان کی بیوی تو کوئی اور ہے ماڑا اور وہ دونوں ایک دوسرے سے ماڑا وہ کیا کہتے ہیں ہاں عاشقی کرتا ہے دونوں ایک دوسرے کو اور بھابھی کے گھر والے راضی نہیں ہے اسی لیے بھابھی غصے سے وہاں سے خان کے پاس آئی ہے اور خان اس سے عزت سے نکاح کر رہا ہے۔۔!!
وہ زراقم عباس سلطان کے ہاتھ سے موبائل کو چھینتے ہوئے کہنے لگا تو زراقم نے اسے سخت نظروں سے گھورا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا فون جھپٹنے والے انداز میں لیا۔۔
“ہاں چلو میں بھی دیکھنا چاہتا اُس خان کو کہ کیا بھلا ہے۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو دونوں گاؤں میں بنے دبیر خان کے خوبصورت فارم ہاؤس کی طرف بڑھے۔۔
“یہ دیکھو مولوی صاحب کہا تھا نا کہ میرے ایک اشارے پر دو گواہ یہاں آئے گے خوش آمدید میرے دوستوں۔۔۔!!
زراقم عباس سلطان کو اندر ولی خان کے ساتھ داخل ہوتے ہوئے دیکھتا وہ اٹھا اور اُسے خوش آمدید کہتے ہوئے نکاح خواں کو کہنے لگا۔۔
زراقم نے اسے سخت نظروں سے گھورا پھر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا تو طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔
“اسکا مطلب تم نے صرف مجھے یہاں اپنے نکاح میں ایک گواہ بنانے کے لیے اتنا بڑا جھوٹ بول کر یہاں آنے پر مجبور کیا وفا زیدی۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا تو وفا نے آنکھیں اوپر اٹھا کر اسے دیکھا پھر اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی۔۔۔
“ہاں میں نے تمہیں یہاں اسی لیے بلایا تھا لیکن مرجان والی بات سچ ہے وہ یہی موجود ہے اگر تم گواہ بنے تب میں بتاؤ گی کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔۔!!
وہ سنجیدگی سے جیسے اس سے سودا کرنے لگی تو وہ بنا سوچے سمجھے سر ہاں میں ہلانے لگا اسے اس وقت صرف اپنی مرجان کو دیکھنا تھا اسے چھونا تھا اسے محسوس کرنا تھا اور اسے اس وقت یہ سودا اتنا بھی گھاٹے کا سودا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
“چلو مولوی شروع کروں اب میرے دوست بھی آ گئے ہیں چار گواہ بھی موجود ہے اب کس بات کی دیری ہے۔۔؟؟
دبیر خان نے سنجیدگی سے کہا تو سب بیٹھ گئے تو نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کر دیا اور دونوں سے حجاب و قبول کرانے کے بعد ان کے سائن لینے کے بعد وہ اٹھا تو زراقم عباس سلطان بھی جھٹکے سے اٹھا اور سنجیدگی سے وفا سے مخاطب ہوا۔۔
“تمہارے کہنے پر میں نے وہ کیا جو تم چاہتی تھی اب بتاؤ میری مرجان کہا ہے ورنہ میں تم دونوں کو جان سے مار دو گا۔۔!!
دونوں کو سخت نظروں سے گھورنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے تو دبیر خان آگے بڑھا اور اسکے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا خود یہاں سے نکلا تو وہ بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جو کچن میں ہانڈی بنا رہی تھی تبھی باہر زور زور سے کسی کے دروازہ پیٹنے پر وہ خود کو آہستگی سے اٹھی گھر میں اس وقت صرف وہ تھی کیونکہ سب بازار میں مہینے کی شاپنگ کرنے گئے تھے اور صبح سے اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی سب نے کہا بھی تھا کہ وہ بازار نہیں جائے گے اسے اسطرح اکیلا چھوڑ کر لیکن اسنے انہیں یہ کہہ کر بھیج دیا تھا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔
“صبر کروں آتی ہو اتنی بھی کیا جلدی ہے یہ گھر بھاگا تو نہیں جا رہا۔۔!!
زراقم عباس سلطان جو باہر کھڑا تھا وہ اس آواز پر اپنے آنکھوں کے گوشوں کو بھیگتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔
اسنے جب دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھی اور لرزتے قدموں سے پیچھے ہٹنے لگی تھی۔۔
“مرجان۔۔!!
مرجان کی آنکھیں مقابل کھڑے شخص پر پڑی تو آنکھوں کے گوشے دیکھتے ہی دیکھتے بھیگنے لگے اور مقابل اُسکی آنکھوں سے آنسوں نکلتے دیکھ اپنے قدم تیزی سے اُسکی طرف بڑھانے لگا تو اُسکے قدموں کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی مرجان نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“نہ۔نہیں ارقم آپ مم۔مجھے طلاق دینے آئے ہیں نا۔۔؟؟
وہ سر نفی میں ہلاتی بار بار یہی لفظ ڈورہا رہی تھی اور سامنے زارقم عباس سلطان جو اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا اُسکے قدم طلاق لفظ سن کر وہی جم گئے جبکہ وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی درد سے دوہری ہوتی نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور اُسے پیٹ پر ہاتھ رکھے نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سُرخ آنکھوں میں اُسے کھو دینے کے درد سے ٹپ ٹپ آنسوؤں گر کر مرجان کے چہرے کو بھگونے لگے تھے۔۔۔
“جان پلیز آنکھیں بند مت کروں پلیز دیکھوں تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور یہ گاؤں ہے اور ہوسکتا ہے یہاں ہاسپٹل میں سہولت موجود نہ ہو پلیز ہمت سے کام لوں ۔!!
اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سہلاتے ہوئے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وہ نیم وا آنکھوں سے اسے دیوانوں کی طرح روتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔
“ماڑا تم یہاں وقت کیوں برباد کر رہے ہوں جاؤ لے کر جاؤ اپنی بیوی کو اسپتال لے یہاں اگر سہولت نہیں ہے تو ماڑا تمہارا گاڑی جہاز سے کم نہیں ہے ایک منٹ سے پہلے تم لوگ شہر پہنچ جاؤں گے ہوں خانہ خراب تم یہاں وقت خراب کر کے یہاں بیٹھ کر تم کبھی بھی اپنی بیوی کو نہیں بچا سکتا۔۔!!
دبیر خان نے بیزاری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا وہ سخت تھپا ہوا لگ رہا تھا ایک تو اس کی وجہ سے اسکا وقت برباد ہو رہا تھا اور دوسرا وہ لڑکی مرنے کے قریب تھی اور ایک یہ اسے اپنے سے الگ کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔۔
“ہاں مجھے جلدی شہر کے لیے نکلنا چاہیے۔۔!!
وہ جلدی سے مرجان کو اپنے بازوؤں میں بھر کر اٹھتے ہوئے تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھا اور اسے اندر لیٹا کر دبیر خان کے ساتھ کھڑے ولی خان کی جانب بڑھا۔۔۔
“کیا تم ڈرائیونگ کر سکتے ہو خان۔۔؟؟
اسے اپنی نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ بھاری آواز میں اس سے پوچھنے لگا تو ولی خان کی آنکھیں بھی بھر آئی اتنی محبت پر اور بھروسے پر تو اسنے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا تو اسنے چابی اسے تھما کر خود پیچھے پیسنجر سیٹ پر مرجان کے پاس جا کر بیٹھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“مینہ میری جانم آج تم نے بہت دھماکے کیے ہیں اپنے اس خاناں کے اوپر ماڑا اب تمہارے اس خان کی باری ہے دھماکہ کرنے کا تیار ہو نا دھماکوں کیلئے بہت ٹام اینڈ جیری کی طرح بھاگم بھاگ ہوگیا اب سکون سے بیٹھ کر دونوں کھیلے گے۔۔!!
وہ فارم ہاؤس پہنچا تو اسے ابھی تک لاؤنج میں بیٹھے دیکھ کر وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا قدم اسکی طرف بڑھانے لگا جبکہ وفا سہم کر صوفے سے اٹھی اور اس سے دور ہونے لگی۔۔
“میری جان مینہ اب تو بھاگو مت تمہارا یہ خان بہت زیادہ تھک گیا ہے تمہارے پیچھے بھاگ بھاگ کر اب اور نہیں بھاگ سکتا۔۔”
وہ آگے بڑھتے ہوئے سختی سے کہنے لگا وفا آنسو بہاتی ہوئی اسے دیکھتی ہوئی پیچھے ہٹ رہی تھی جب وہ بلکل اسکے قریب پہنچا تو وہ چیخ مار کر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتی بری طرح سے لرزنے لگی تو اسکی لرزتے وجود کو بغور دیکھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا اسکی سفید صراحی دار گردن کو چھو کر اسے دیکھنے لگا جو خوف کے باعث سختی سے اپنی آنکھیں میچ کر کھڑی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔
“تُم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھ سے محبت کروں گی تو چلو ابھی سے بتاؤ کہ”تُم کس کی ہو مینہ۔۔؟؟
اُسکی کمر پر دباؤ سخت کرتا وہ کرخت لہجے میں یہ سوال پوچھنے لگا اور وہ اُسکی سخت گیر پناہوں میں بری طرح سے مچل رہی تھی اور رو رو کر خود کو چھڑا رہی تھی جو اُسے ناممکن لگ رہا تھا کیونکہ اُسکے ہلنے پر مقابل اپنی پکڑ اور زیادہ مضبوط کر رہا تھا۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے تُم سے جانم۔۔؟؟
وہ اُسکی تیز چلتی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا اور ہاتھوں کی قید میں نازک وجود کی کپکپاہٹ کو بھی جو اُسکی نزدیکیوں سے بری طرح سے کانپ رہا تھا۔۔
“میں آپ کی خان جی صرف آپ کی مینہ۔۔!!
وہ سُرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر نم آواز میں بولی تو اُسکا جواب سن کر وہ خوشی سے اُسکی سانسوں کو معطر کرنے لگا۔۔
“جاناں کہوں کہ تُم صرف میرے ہو۔۔۔؟؟
سُرخ اناری گالوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا وہ گھمبیر آواز میں دوبارہ ایک اور سوال اُسے ڈورانے کیلئے ضد کرنے لگا۔۔
“نہیں پلیز مجھے جانے دو چھوڑ دو مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے ڈر تو کپکپاتے ہونٹوں پر صرف چھوڑنے کی بات پر وہ سخت غصے سے پاگل ہوا اور سختی سے اُسکے چہرے کو اپنے پنجوں میں جکڑتا ہوا شدت سے دھارتے ہوئے دوبارہ کہنے لگا۔۔۔
“میں نے کیا کہا تُمہیں ہاں کیا تُمہیں ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا چلو شاباش بولو کہ تُم صرف میرے ہو اور یہ کہنا حق بھی صرف میرا ہے۔۔!!
وہ اُسکے کپکپاہٹ وجود کو زور سے خود میں بھینچ کر گلے سے لگاتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا جبکہ وہ ڈر رہی تھی اس کی جنونیت سے اسکی باتوں سے اُسکی حرکتوں سے وہ اُسکے سینے سے لگی بُری طرح سے روتی ہوئی اپنی موت کی دعا مانگنے لگی۔۔۔
“جواب دو۔۔!!
وہ اُسے صرف روتے ہوئے دیکھ کر اُسے خود سے الگ کرتا ہوا شدید غصے سے کہنے لگا تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپتی ہوئی ہچکیوں کے درمیان کہنے لگی۔۔
“تُم صرف میرے ہو۔روکتے ہوئے وہ دوبارہ روتی ہوئی گویا ہوئی۔۔اور یہ کہنے کا حق بھی صرف میرا ہے۔۔!!
لفظ ادا کرنے کے بعد وہ اُس بازوؤں میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر جھول گئی تھی جبکہ وہ اسکے منہ سے یہ لفظ سن کر مسکرایا اور نیچے جھک کر اُسکے بے ہوش وجود کو بازوؤں میں بھرتا ہوا اپنے روم کی جانب بڑھنے لگا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓