47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

زہاک سلطان بیڈ روم میں داخل ہوا تو اُسے وہاں نا پاکر مایوس ہوگیا پھر کچھ سوچ کر ڈریسنگ روم میں چینج کرنے کے لیے بڑھا۔۔۔
جب شاور لے کر وہ تھوڑی دیر بعد واشروم سے باہر نکلا اور ابھی تک وہ روم میں موجود نہیں تھی یہ دیکھ کر اسے اس پر بہت زیادہ غصہ آیا۔۔
تو وہ سخت غصے سے بیڈ کی جانب بڑھا لیکن یہ کیا بیڈ کے ایک سائیڈ پورا گیلا تو دوسری سائیڈ مکمل خشک دیکھ کر وہ سخت زچ ہوگیا پھر شدید تیش میں آکر وہ روم میں سے باہر نکلا۔۔
“ژالے بیگم۔۔!!
دوسرے روم میں پہنچ کر وہ غراہٹ نما آواز میں اسے پکارتا بیڈ کی جانب بڑھا جہاں وہ سو رہی تھیں یا ناٹک کر رہی تھی وہ کچھ سمجھ نا سکا ژالے جو ثمر کو سلا رہی تھی اُس کھڑوس انسان کی آواز پر کان لپیٹ کر سوتی بن گئی۔۔
“مجھے اچھے سے پتہ ہے تُم سو نہیں رہی بلکہ ناٹک کر رہی ہو اور مجھے اچھے سے آتا ہے اس ناٹک کا ڈی اینڈ کرنا سو شرافت سے اٹھ جاؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ژالے صاحبہ آپکے لیے اس جنم میں۔۔۔!!
وہ اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے سخت گیر لہجے میں بولا تو ژالے جو آنکھیں موندے ہوئے تھی اُسکی اپنے نازک کندھوں پہ تپش زدہ لمس کو شدت سے محسوس کرتی کانپ اٹھی تھی۔۔۔
“اوکے ایز یو وش جیسا تُم چاہتی ہو میں ویسا ہی کرتا ہوں مس ژالے زہاک سلطان۔۔۔!!
گھمبیر لہجے میں یہ کہہ کر وہ نیچے جھکا اور اُسکے نرم گلزار ہونٹوں کے نیچے اپنا لمس چھوڑنے لگا اور وہ نرم گرم لمس کو اپنے ہونٹوں کے نیچے محسوس کرتی جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر زہاک سلطان کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اپنی مخمور آنکھیں اُسکی گلابی مائل ہونٹوں پر گاڑھے اُسکی قربت میں مکمل مدہوش لگ رہا تھا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ سنکی بڈھے ہٹے پیچھے۔۔۔؟؟
وہ اتنی نزدیکی پر سخت تشویش زدہ ہوتی اُسکو خود سے پیچھے ہٹانے لگی جو ناممکن تھا کیونکہ وہ ایک مضبوط و تواناں مرد تھا اور وہ اُس کے سامنے ایک نازک لڑکی ظاہر ہوتی تھی۔۔۔
“پہلی بات تو زوجہ صاحبہ میں چھتیس سال کا ایک جوان مرد ہو دوسری بات اپنی بیوی کو پیار کر رہا ہوں اور تیسری بات تُم بھی زوجہ صاحبہ کوئی دودھ پیتی چھوٹی کاکی نہیں ہو جو سمجھ نہیں رہی ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔”
وہ نرم ہونٹوں کی نرماہٹ کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرتا بھاری گھمبیر آواز میں کہنے لگا دونوں اِس وقت بیڈ روم کے فسوں خیز ماحول میں ایک دوسرے کی قربت میں خود کو پگھلتے ہوئے شدت سے محسوس کر رہے تھے دونوں آس پاس کو بھلائے یک تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نظروں کی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔
“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے نہیں میں نمیر کے علاوہ کسی کو یہ جگہ نہیں دے سکتی خطے نہیں ہر گز نہیں۔۔۔!!
ژالے کو ہوش آیا تو وہ بڑبڑاتی ہوئی شدت سے اُسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اُسے خود سے دور کرتیں نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“کیا ہوا کیوں روک رہی ہو میرے پاس آنے سے خود ہو زوجہ صاحبہ۔۔۔!!!
مخمور آنکھیں اُسکے چہرے پر لگائیں وہ بوجھل لہجے میں کہتا اُسکے سرخ اناری گالوں کو چھو کر پیچھے ہٹا جبکہ وہ تپشِ لمس کو شدت سے اپنے گالوں پر محسوس کرتی کانپ کر رہ گئی تھی۔۔
“آپ نا میرے پاس آنے کی گستاخی ہر گز مت کریں ورنہ میں جان لے لونگی آپکا سمجھے۔۔۔!!
وہ زخمی شیرنی بنی اب اُس پر شدت سے دھاری جبکہ وہ محظوظ ہوتے ہوئے اب ثمر کی جانب بڑھا اور اُسے اٹھا کر خود سے لگا کر نظریں اُس زخمی شیرنی پر تھکا کر کہنے لگا۔۔۔
“فلحال میں بخش رہا ہوں جب تک نمیر کو بھول کر میری طرف خود پیش قدمی نہیں کروں گی میں چھونا تو دور انگلی سے ٹچ کرنا بھی اپنے لیے گناہ سمجھو گا۔۔۔!!
اُسکے نازک وجود کو اپنی گہری بولتی نظروں میں بھر کر فیصلہ سنانے لگا پھر ثمر کو لے کر قدم روم سے باہر نکالے جبکہ وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی شور دیدیا دھڑکنوں کو سنبھالتی سرخ ہوکر اپنی آنکھیں شدت سے موند کر اپنے ہونٹوں کے نیچے اور گالوں پر ابھی تک اُس تپش زدہ لمس کو محسوس کرنے لگی۔۔۔
وہ آنکھیں موندے دھک دھک کرتے دل کی دھڑکنوں کو سن رہی تھی کہ خود کو ہوا کے سپرد محسوس کرتی جھٹ سے آنکھیں وا کرکے نظریں اوپر اٹھا کر دیکھنے لگی تو خود کو اُسکے مضبوط بازوؤں میں دیکھ کر وہ سٹپٹائی جبکہ وہ سامنے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے وہ اُسے اٹھا کر اُسکے بیڈ روم سے باہر نکلا۔۔۔
“یہ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں اکڑ بکڑ صاحب۔۔۔؟؟
خود کو اُسکی باہوں میں دیکھ کر وہ شرم سے سرخ گلال ہوتی آہستگی سے بولی جبکہ زہاک سلطان سنجیدگی سے اسے گود میں اٹھائے اپنے روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
“زوجہ صاحبہ وہ آپکا روم شادی سے پہلے تھا اب آپ ایک شادی شدہ ہے اور یہ میرا روم اب آپکا روم بھی ہے آپ یہاں جیسے چاہیے رہ سکتی ہے میں انکار نہیں کروں گا بشرطیکہ آپ مجھ سے دور رہیں گی تب ورنہ میں آپکو اسی شرط کی بنیاد پر اجازت دو گا آپ کو آپکے مطابق رہنے کے لئے۔۔۔!!
بیڈ روم میں لا کر اُسے نیچے اتار کر سپاٹ لہجے میں کہتا سامنے بیڈ کی جانب بڑھا جو اسنے ملازمہ سے تھوڑی دیر پہلے صاف کروایا تھا۔۔
“آپ مجھے یہاں لا کر اپنی مرضیاں مجھ پر نہیں تھونپ سکتے ہیں سنا آپ نے میں صرف اپنی مرضی کی مالک ہو۔۔!!
وہ شدید غصے سے لال ہوتی چٹخ کر بولی جبکہ دوسری جانب اُسکی باتوں کو سَرے سے نظر انداز کرتے ہوئے وہ ثمر کو خود میں بھینچ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
“آپ کو جتنا چیخنا چلانا ہے وہ آپ بیڈ روم سے باہر جا کر کر سکتی ہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے آپکا میں بھی نہیں بلکہ پڑوسیوں کو بھی اچھے سے پتہ ہے آج کل سلطان ولا میں ایک سنکی بڈھی رہتی ہیں۔۔۔!!
بیڈ روم میں نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ژالے صاحبہ روم کے بیچوں بیچ کھڑی سخت غصے سے سلگ رہی تھی تبھی گھمبیر نیند کی وجہ سے بوجھل ہوتی مردانہ آواز پر سخت تیش میں آکر وہ پیر پٹک کر روم سے باہر نکلی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“زارقم تُم کب تک اپنا بزنس سنبھالو گے۔۔۔؟؟
سب ڈائننگ ہال میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ دا جی نے اپنے دوسرے نمبر کے ضدی اور سرپھرے پوتے سے پوچھا جو خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔۔
“I have no idea Grandfather.!!
سنجیدگی سے اُنہیں جواب دیتا وہ فورک کی مدد سے سلائس کاٹنے لگا جبکہ اسکی بات پر دا جی نے سخت نظروں سے اسے گھورا۔۔۔
یہ لڑکا ہر بار کی طرح انہیں آج بھی ٹال رہا تھا لیکن وہ آج ارادہ باندھ چکے تھے کہ وہ یہ معمولی نوکری چھوڑ کر زہاک سلطان کے ساتھ خاندانی بزنس سنبھالیں لیکن وہ زہاک سلطان نہیں تھا جو انکی بات ایک ہی اموشنل بلیک میلنگ سے مان جاتا وہ زارقم سلطان تھا جو صرف اپنی
کرنا جانتا تھا دوسروں کی باتوں کو وہ صرف ہواؤں میں اڑانا جانتا تھا۔۔
“تُو برخوردار تُم نے قسم کھائی ہے اپنے بڑوں کو تنگ کرنے کی ہمممم Okay fine جیسے تم چاہتے ہو اب وہی ہوگا اب میں کبھی یہ ٹوپک دوبارہ تُم سے ڈسکس نہیں کروں گا۔۔۔!!
“It’s good that you, Grandpa, got bored with this topic anyway.”
(یہ اچھا کیا آپ نے دادا ویسے بھی میں اس ٹوپک سے بہت زیادہ بور ہوگیا تھا۔۔)’
وہ نیپکن سے منہ تھپتھپا کر تیزی سے چئیر پیچھے کھسکا کر اٹھا اور سب پر ایک نظر ڈال کر وہ آخر میں اپنی نظریں مرجان کی گلابی مائل چہرے پر گاڑھتے لہجے کی سختی کو کسی سے بھی چھپا نا سکا اور اسکا لہجہ سخت مرجان کی نظروں کی وجہ سے ہوا تھا جو سامنے خاموشی سے ناشتے کرتے نمیر سلطان پر تھی یہ کہا اس سے برداشت ہوسکتا تھا کہ اسکی محبت اسکے علاؤہ اتنی غور سے کسی اور کو دیکھے۔۔
“تُم بیٹا ہمشیہ بورنگ لائف سٹائل اپناتے آئے ہوں تو تُمہیں اب میری باتیں کیوں بور لگ رہی ہے۔۔!!
انہوں نے سنجیدگی سے اپنی پلیٹ سے نظریں ہٹا کر سامنے آتش فشاں کی طرح پھٹنے کے لیے مکمل تیار اپنے سرپھرے پوتے کی جانب مرکوز کی اور پھر نظریں اس کی نظروں کے تعاقب میں مرکوز کر دی تھی پھر وہ اسکے چہرے پر سخت شعلے بھڑکنے کی وجہ جان کر نمیر سلطان کو وہاں سے جلد ہٹانے کا سوچ رہے تھے کہ زارقم سلطان کی سخت آواز پر تھم گئے ۔۔
“گرینڈ پا بورنگ نہیں اسے کسی سے بے حساب نفرت کرنا کہتے ہیں جو میں کسی سے کرتا ہو اور آپ لوگوں کا جو بھی سمجھنا ہے میرے متعلق آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔!!
سخت درشت لہجے میں کہتا وہ ٹیبل سے اپنی کار کی چابی اور موبائل اور کچھ اسٹوڈنٹس کے نوٹس اٹھا کر مرجان اور نمیر پر ایک سخت گیر نظر ڈال کر باہر نکلنے سے پہلے ٹھہر کر زویا عباس سلطان اپنی ماما سے کہنے لگا۔۔۔
“موم میں یونیورسٹی سے سیدھا ائیرپورٹ کے لیے نکلوں گا کیونکہ کچھ دنوں کیلئے میں لندن کسی ضروری کام کے لیے جا رہا ہوں سو آپ پریشان نہ ہو اور اچھے سے کھانا کھائیے گا اور اپنی میڈیسن بھی آپ کو وقت پر لینا ہے اور آپکی صحت میں مجھے کوئی لاپرواہی نہیں ملنی چاہیئے میرے آنے کے بعد گوٹ اٹ۔۔۔!!
وہ اب آنکھوں میں اپنی ماما کے لیے نرمی لاتا ان سے کہنے لگا وہ انکے معاملے میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا تھا خاص کر نمیر سلطان پر وہ اُسے اپنی ماما کا سب سے بڑا دشمن لگتا تھا۔۔
نمیر جو نظریں نیچے جھکائے بظاہر ناشتہ کر رہا تھا لیکن سماعت ان دونوں ماں بیٹے پر لگائی وہ انکی باتیں سن کر برداشت کی رسی کو تھامے ہوئے تھا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ زارقم سلطان اسے ہی کب سے سنا رہا تھا۔۔
“برخوردار تُم آج لندن جا رہے ہو اور بتا بھی ہمیں اب رہے ہو ہاؤ اسٹرینج۔۔!!
داجی اسکے لندن جانے کا سن کر طنزیہ انداز میں بولے تو زارقم سلطان شرمندہ ہونے کے بجائے ان سے کہنے لگا۔۔
“یو نو گرینڈ پا یہاں میرے دشمن بھرے پڑے ہیں تو جو کام میں کرنے جا رہا ہوں پردہ پوشی کرنا اہم ہے میرے لیے نا کے مائک لے کر ٹیبل کے اوپر کھڑے ہو کر اعلان کرنا۔۔۔!!
وہ دشمن پر زور دیتا خاص نمیر پر نظر ڈال کر معنی خیزی سے بولا تو نمیر اسکے دشمن کہنے پر غصے کی زیادتی سے اپنی دونوں مٹھیوں کو زور سے کھسنے لگا۔۔
“برخوردار تُمہارے دشمن تو پوری دنیا میں آج کل بہت زیادہ بھرے ہوئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اوکے جناب اب تم جو کام کرنے جا رہے ہو کچھ تو سنگل دو ہمیں تاکہ ہم بھی جان سکے کہ ایسا کونسا کام آن پڑا ہے ہمارے پوتے کو جو ارجنٹ لندن جا رہا ہے۔۔۔!!
انہوں نے بظاہر مزاحیہ انداز میں کہا لیکن زارقم سلطان کو لگا جیسے وہ اسکا مزاق اڑا رہے ہیں جیسے وہ کچھ نہیں کرسکتا انکے بغیر یہ مزاق وہ کسی کے منہ سے بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا پھر چاہئے سامنے اسکے باپ کا باپ ہی کیوں نا کھڑا ہو۔۔۔
“گرینڈ پا واپس آکر سب کچھ شئیر کرو گا اور اپنے دشمن کا پتہ کاٹنے ہی تو وہاں جا رہا ہوں سو جتنا مرضی ابھی اچھل کود کر لے وہ پھر ہوسکتا ہے وہ منہ کے بل گرے میرے لندن سے پاکستان آنے والے دن کیوں مرجان آئی ایم آ رائٹ۔۔۔!!
نظریں نمیر پر تھکا کر وہ مخاطب مرجان کو کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
“I have no idea sir..”
مرجان سنگدلی سے کہتی جام کو بریڈ پر لگاتی اُن سب کو نظر انداز کرتی وہ کھانے لگی جبکہ اسکی حرکت پر زارقم سلطان کو تو سخت تاؤ آیا لیکن برداشت کرتے ہوئے دا جی کی جانب مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
“اوکے گرینڈ پا موم بھیو خدا حافظ اب میں چلتا ہوں ویسے بھی فالتو لوگوں کے چہرے دیکھ کر ویسے بھی صبح برباد ہوگئی ہے لیکن اب شام کو میں ہرگز برباد نہیں کرنا چاہتا ہوں۔۔۔!!
نمیر سلطان کو نفرت سے دیکھتے ہوئے آخر میں داجی اور زویا عباس سلطان پھر زہاک سلطان کو خدا حافظ کہنے لگا دا جی اس وقت انکے پورشن میں اور دوپہر کو دوسرے نمبر کے بیٹے کے پورشن میں جو ژالے اور مرجان کے بابا کے پھر رات کا ڈنر وہ تیسرے نمبر کے بیٹے یعنی صالحہ اور سارب کے بابا کے پورشن میں کرتے تھے اور اس وقت مرجان صرف دا جی کی وجہ سے یہاں ناشتہ کرنے آئی تھی انکے کہنے پر کیونکہ اسکے پورشن میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔
انکے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھیں جو لندن میں مقیم تھی بڑے بیٹے عباس سلطان کے زویا عباس سلطان سے دو بیٹے اور ایک بیٹی بڑا بیٹا زہاک سلطان جو زارقم سلطان اور ژالے منیب سلطان سے چھ سال بڑا تھا۔۔
پھر دوسرے بیٹے کی دو بیٹیاں ژالے اور مرجان ژالے مرجان سے دس سال بڑی تھی اور مرجان سیرت سارب اس گھر کے سب سے آخری بچے تھے کیونکہ وہ تینوں بڑے تینوں بچوں سے بہت زیادہ چھوٹے تھے۔۔
اور نمیر عباس سلطان ایک ایسا معما تھا جس کو ہر ممکن کوشش کرکے حل کرنا زویا عباس سلطان نے چاہا لیکن کر نا سکی وہ سلطان فیملی میں تب آیا جب فقط تین سال کا تھا اور وہ ژالے اور زارقم سلطان کا ہی عم عمر تھا زارقم تو اسکے آنے سے سخت نا خوش ہوا تھا جبکہ ژالے بہت زیادہ خوش۔۔۔
کشمالہ شاہ جو زیدی فیملی کی بڑی بہو تھی اور ایک نمبر کی آوارہ بد ذات عورت تھی انکا چکر نا جانے کیسے عباس سلطان سے چلا جو زیدی اور سلطان خاندان کی دشمنی کا باعث بنا اب نمیر سلطان فیملی سے تھا یا زیدی فیملی سے یہ آج تک کسی کو پتہ نا چلا جب بھی دا جی نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو دوسرے دن ٹیسٹ کے رپورٹ ہاسپٹل سے گم ہو جاتے تھے یا پھر اس روم میں آگ لگ جاتی جہاں وہ رپورٹس رکھے گئے ہوتے تھے۔۔۔
کیا یہ کشمالہ خان کی چال تھی یا قدرتی طور پر یہ سب ہوتا تھا یہ لندن جا کر زارقم سلطان پتہ کرنا چاہتا تھا اور اگر رپورٹس اس بار بھی پہلے کی طرح غائب یا جل گئے تو وہ قدر کا کھیل سمجھ کر بھول جائے گا اور نمیر کو معاف کر دے گا لیکن اگر یہ نہیں ہوا تو وہ نمیر کو اس فیملی میں چھوڑ دے گا جسکا وہ سپوت ہیں۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“وفا زیدی یہ جو تُم سلطان خاندان کے دوسرے سپوت زارقم سلطان کے پیچھے پڑی ہو نا یاد رکھنا اگر اقا بی کو پتہ چلا نا تو ٹانگے توڑ کر تمہارے ہاتھوں میں دے گیں۔۔۔!!
ضنافر زیدی نے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھتے ہوئے تمسخرانہ لہجے میں کہا کیونکہ ضنافر اچھے سے جانتا تھا کہ وہ جو چاہتی ہے اسے کبھی حاصل نہیں ہونے والا کہاں وفا زیدی جنونی سی پاگل بے وقوف لڑکی اور کہاں وہ گھمنڈی اور انٹیلجنٹ خوبصورتی کی اعلیٰ مثال زارقم سلطان جو یونی میں کسی فی میل کو کیا میل کو بھی دیکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا تو وہ کہا وفا زیدی جیسی لڑکی کو ایک نظر دیکھتا۔۔۔
“ضنفی تُم کس ہواؤں میں اڑ رہے ہو آجکل یہ بھی مجھے اچھے سے پتہ ہے اور زارقم سلطان صرف وفا زیدی کا ہے کسی اور کو تو میں اُسکی زندگی میں آنے سے پہلے جان سے مار دو گی۔۔۔!!
ضنافر زیدی کی آجکل کی مصروفیت طنزیہ انداز میں اسے یاد دلاتی آخر میں سخت جنونی انداز میں بولی۔۔
“میں ضنافر زیدی ہو جو اپنی چاہت کو حاصل کرنے کے لیے زیدی کیا سلطان فیملی کو بھی آرام سے مات دینا اچھے سے جانتا ہے۔۔!!
وہ وہی ازلی پراسراریت چہرے پر سجا کر بولا۔۔۔
“یہ ڈینگیں جا کر زرا اُس صالحہ سلطان کے مارو تب لگ پتہ چل جائے گا ضنافر زیدی تمہیں بڑے آئے ہیروپنتی دیکھانے والے وہ ایک نمبر کی سنکی لڑکی ہے تمہیں ایک لمحے میں دھول چٹا سکتی ہے۔۔۔!!
وہ استہزاء نظروں سے اپنے بڑے بھائی کو دیکھتی ہنس کر بولی جو کبھی کبھی اپنی صالحہ کے سامنے بھی اسی طرح بڑی بڑی ڈینگیں مارنے سے چوکتا نہیں تھا اور شاید یہ خبر وفا زیدی کو نہیں تھا جو اسے یہ کہہ رہی تھی۔۔
“وعدہ ہے میرا آج ہی کے دن ٹھیک دوپہر کے ایک بجے سب یونی فیلو اور اسٹوڈنٹس کے سامنے اگر میں نے اسے پروپوز نہیں کیا نا تو وفا زیدی تم میرا نام ضنافر زیدی سے اپنا پپی رکھ لینا۔۔۔!!
اسے چیلنج کرتی نظروں سے دیکھتے ایک ہزم سے بولا جبکہ وفا زیدی اسکی کونفیڈنس دیکھ کر سخت ڈھنگ رہ گئی۔۔
“ڈن۔۔۔؟؟
اُسے ساکت نظروں سے اپنی جانب تھکتے پاکر چٹکی بجا کر کہنے لگا تو وہ چونک کر اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی جو اس کے آگے ہاتھ بڑھا کر کھڑا تھا۔۔
“ڈن۔۔۔!!
خود کو سنبھال کر وہ مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے ہاتھ میں دیتی کہنے لگی۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“سارب اب آٹھ بھی جاؤ ورنہ میں نے تمہیں اٹھا دینا ہے اپنے طریقے سے پھر گلہ مت کرنا۔۔!!
ان سب کو یونی ورسٹی کے لیے لیٹ ہو رہا ہیں اور یہ صاحب بجائے اٹھنے کے ابھی تک گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا اور صالحہ اسے اٹھا اٹھا کر اب تھک کر اسے دھمکیاں دینے لگی جو کار گر ثابت ہوئی کیونکہ سارب صاحب جلدی سے اٹھے اور بیڈ سے نیچے اتر کر واش روم کی جانب دورے۔۔۔
“صالی تم نا قسم سے ظالم بہن ہو پتہ نہیں اس کا کیا ہوگا جسکے باغ میں تم پھول بن کر کھلو گی۔۔!!
جب فریش ہو کر وہ واشروم سے باہر نکلا تو صالحہ کی غصے سے سرخ چہرے کو شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“بس سارب اب بہت پھیل رہے ہو تم ماما کو تمہاری شکایت لگانی پڑے گی بہت بگڑ رہے ہو تم ان نمونوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اگر زرا سا بھی زارقم بھیو کو اس بارے میں پتہ چلا نا تو تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے ان گینگ کا پتہ صاف کر دے گے۔۔!!
وہ ضنافر زیدی کی گروپ کے بارے میں کہتی اسے زارقم سلطان کا ڈراوا دینے لگی جو اسنے ناک میں سے مکھی کی طرح اڑایا۔۔
“انہیں بتائے گا کون آپ یا وہ سفید چڑیل۔۔۔!!
وہ اسے دیکھنے کے بعد کہہ کر سیرت عباس سلطان کو یاد کرتے تصور میں جیسے اسے اپنے دانتوں کے درمیان میں لے کر اسے کچا چبانے لگا۔۔
“وہ بے چاری خود اپنے بھائی سے ڈرتی ہے خاک تمہاری شکایت لگائے گی۔۔!!
وہ مصروف انداز میں سیرت کی وکالت کرتے ہوئے جلدی سے بولی جبکہ سارب سیرت کی وکالت پر سخت چڑ کر بڑبڑایا۔۔۔
“شکر ہے سفید چڑیل کسی سے تو ڈرتی ہے۔۔!!
صالحہ اسکی بڑںڑاہٹ سن کر سخت نظروں سے اسے گھورنے لگی کیونکہ اسے سیرت بہت زیادہ عزیز تھی اگر کوئی اسکے متعلق الٹا سیدھا کہتا تھا تو وہ اسے اسکی نانی یاد دلاتی تھی اب یہی ہوا تھا وہ شروع ہوئی تو بند ہونے کا نام نا لینے لگی جبکہ بے چارہ سارب کانوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسکی گھوریوں کو برداشت کرنے لگا۔۔۔
“اب بس بھی کروں بڑی بہن ماں بننے کی کوشش مت کروں کیونکہ تم ایک نکمی اماں جان لگتی ہو مجھے میری بہنا اور ہاں زارقم بھیو آج لندن جا رہے ہیں تو آج میں ضنافر کی ریس دیکھنے جاؤ گا رات دو یا تین کو واپسی ہو شاید پلیز ایک کام کرنا میرے لئے گیٹ کھولنا ورنہ دا جی نے پکڑ لیا نا تو دو سال جیل کے اندر گزارنا پڑے گا۔۔۔!!
وہ منت کرتے ہوئے کہنے لگا جبکہ صالحہ ریس کا سنتی سخت گیر نظر اس پر ڈالتی تیزی سے نا میں سر ہلانے لگی کہ وہ اس معاملے میں اس کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔۔
“افففففف بہنا تم ضنافر سے اتنا کیوں چڑتی ہوں وہ ایک اچھا انسان ہے۔۔!!!
وہ تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“ہممم اگر وہ اچھا انسان ہے تو پھر دنیا کے باقی اچھے انسان بھی اسی کی طرح ملک کے سبھی رش روڈ کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے بائیک ریس کرتے وقت اپنی اچھائی کو بھول کر روڈ کا سینا چھیڑ کر ان غریبوں لوگوں کی اہ لیتے ہوئے گزر جاتے ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے اچھی جگہ میسر نہیں ہوتی اچھے پہنے کو کچھ نہیں ہوتا اور پھر کبھی ان اچھے انسانوں کو آپ لڑکیوں کے ساتھ کسی کلب میں غلط کام کرتے ہوئے پاتے ہیں یونی میں ہر وقت لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں بئیر پیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔!!
وہ سخت نفرت سے ضنافر زیدی کے بارے میں کہتی سارب سلطان کو ڈھنگ کر گئی کیونکہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی بہن ضنافر زیدی کو اتنا برا سمجھتی ہے جبکہ اصل میں وہ ایسا نہیں تھا بائیک ریسنگ اسکا شوق تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
وہ اور سیرت مرجان کینٹین میں کچھ کھانے کے لیے آئے تھے کہ صالحہ کی نظر سامنے سے آتے ضنافر زیدی پر پڑی تو وہ غصے سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگی کہ وہ تیزی سے اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اسے محبت سے دیکھنے لگا وہ وفا زیدی سے جو وعدہ کر کے گھر سے نکلا تھا اب دوپہر کے بارہ بجتے ہی وفا کو میسج کر کے کینٹین کی جانب بلا کر خود صالحہ سلطان کے سامنے آیا وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ اسے پرپوز کرے گا تو سلطان اور زیدی فلیمیز کے بیچ اور زیادہ جنگ چھڑ جائے گی۔۔۔
“سویٹ ہارٹ تُمہاری کس کس ادا پر میں اب روز شاعری لکھوں یہ سلکی لمبے گھنے آبشار میری دیوانگی کو زور بڑھا کر میری جان کو سولی پر لٹکانے کا باعث بن رہی ہیں۔۔۔۔!!
غصے سے سرخ ہوتیں خوبصورت چہرے کو دیکھنے کے بعد لمبے گھنے بالوں کو وہ نظروں کی گرفت میں لے کر بھاری لہجے میں اسکی تعریف اپنے انداز میں کرنے لگا جو اُس لڑکی کو لوفرانہ انداز سے کم بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
یہ خوبصورت اور نشیلے تُمہارے سبز نین میری طاقت بنتی چلی جا رہی ہے اور یہ نرم خوبصورت کٹاؤ دار ہونٹ میری کمزوری جاناں۔۔۔!!
ضنافر زیدی سامنے غصے سے سرخ ہوتی خوبصورت سرخ و سفید رنگت کی نازک لڑکی کو دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔
“شٹ اپ ضنافر زیدی آئی سے جسٹ شٹ اپ۔۔۔!!
وہ لڑکی ضبط سے اپنی دونوں مٹھیوں کو بھینچے شدید غصے کی شدت سے غرائی تو ضنافر زیدی نے قدم آہستگی سے آگے بڑھائے اور اسکے عین سامنے جا کر رکا۔۔۔
“مائے سویٹ ہارٹ تُمہیں کسی نے نہیں بتایا کہ تُم غصے میں دھماکہ لگتی ہو واللہ میرا تو دل چاہ رہا ہے ابھی اٹھا کر تُم سے نکاح کر لوں۔۔۔!!
وہ معنی خیزی سے اُسے دیکھتا مخمور لہجے میں کہتا اُسکے نازک اندام وجود کو آگ میں جھونک گیا۔۔۔
“یو پولش مین۔۔۔!!
غصے سے لال ہوتی وہ اپنے قدم اُس کسرتی جسم کے مالک ضنافر زیدی کی جانب بڑھی اور اسے زور سے مکا رسید کرنے والی تھی تیزی سے ضنافر زیدی نے اُسکی نازک کلائی پکڑ کر اُسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اسکی سلکی بالوں کی بینی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔۔
“جاناں آئیندہ تُم یہ شیمپو یوز نہیں کروں گی شادی سے پہلے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تُمہاری خوشبو کو میرے علاؤہ کوئی اور محسوس کرے۔۔!!
بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اُسکی گردن پر جھکنے ہی والا تھا کہ لڑکی نے شدت سے اُسکے سفید جوگرز میں مقید پیروں پر اپنا پیر مارا تو وہ درد سے بلبلا کر اس سے دور ہوا۔۔۔
“لفنگے خبیث انسان تُمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی میں صالحہ سلطان ہوں اور تم ضنافر زیدی اچھے سے جانتے ہو کہ سلطان اور زیدی خاندان ایک دوسرے کے تو جانی دشمن ہوسکتے ہیں لیکن دوست کبھی نہیں۔۔!!
نفرت کی شدت سے کانپتی وہ انگلی اٹھا کر ضنافر زیدی سے بولی تو اسکی بات پر ضنافر زیدی طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔
“تُو جاناں کیوں نہ ہم دونوں اِس جانی دشمنی کو عاشقی میں بدل دے اور یہ سودا برا نہیں ہے تُم اس بارے میں ضرور سوچنا۔۔!!
وہ نیلی آنکھوں میں محبت کی چمک لیے اُسے دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہتا اُسکی نازک کلائی کو تھام کر نرمی سے سہلانے لگا جبکہ وہ نفرت و حقارت کے تاثرات آنکھوں میں سجائے اُسے ہی گھور رہی تھی۔۔