No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“مجھے سلطان فیملی کی اُس لڑکی کا نام جاننا ہے جس کے ساتھ اُس شخص نے غلط کیا تھا اُسکا ریپ کیا تھا۔۔۔!!
کار زیدی ولا کے اندر داخل ہونے سے پہلے اُسنے اپنے سیکرٹری کو حکم دیا تو سیکریٹری نے سر ہاں میں ہلایا اور کہنے لگا۔
“یس سر میں معلوم کر لوں گا اور اُسکا کیا کرنا پڑے گا کیا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کیلئے بھیج دو۔۔؟؟
اُسکے ڈی این اے کے ٹیسٹ کا پوچھنے پر وہ سخت نظروں سے اسے گھورنے لگا تو وہ جلدی سے خاموش ہوگیا۔۔
“تُمہیں صرف لڑکی کا نام جاننے کیلئے کہا ہے میں نے اُس کمینے کا دھیان رکھنے کے لیے نہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ سے زیادہ میں اپنی آکا بی پر یقین رکھتا ہوں نا کے کسی درندے پر اور ویسے بھی میں آکا بی پر کبھی شک نہیں کر سکتا۔۔۔!!
کار اب ولا کی پورچ میں آکر رکا تو وہ اپنے باس کی بات پر خاموشی سے کار سے نیچے اترا اور پیچھے بڑھ کر اسکے لیے دروازہ کھول کر دور جا کھڑا ہوا تو وہ سنجیدگی سے کار سے باہر نکلا۔۔
“بھائی آپ آگئے۔۔۔!!
وہ اندر بڑھ ہی رہا تھا کہ ولا سے باہر وفا زیدی روتی ہوئی باہر نکلی اور اسکے گلے سے لگ کر کہنے لگی۔۔
“اب آکا بی کی طبیعت کیسی ہے۔۔؟؟
وہ اُسے الگ کرتا سنجیدگی سے آکا بی کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“وہ اب بلکل ٹھیک ہے بھائی۔۔!!
وفا زیدی نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو اُسنے اپنے قدم اندر کی طرف بڑھائے تو وہ بھی اسکے پیچھے بڑھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“میں نے کہا مجھے کھولو ورنہ میں نے خود کو کھولا تو تمہیں جان سے مار دو گا۔۔!!
ضنافر کے اس شاطر عورت کے پاس جانے کا سن کر وہ شدید غصے سے خود کو رسیوں سے آزاد کرنے لگا لیکن رسیاں اتنی مضبوطی سے باندھی گئی تھی کہ لاکھ کھولنے کی کوشش میں اس سے کھل ہی نہیں رہے تھے۔
“بے وقوف انسان تم کیسے باڈی گارڈ ہو میرے بھائی کے میں خطرہ نہیں ہو اپنے بھائی کے لیے خطرہ تو وہ عورت ہے جاؤ اسکی حفاظت کروں مجھے اکیلا چھوڑ دو میں یہاں سے بھاگوں گا نہیں بہت بھاگ لیا اب میں بھی بہت تھک گیا ہوں۔۔!!
وہ غصے میں سامنے کھڑے ضنافر کے گارڈ سے بولا جو دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
“ہوں تو تم خطرہ نہیں ہو باس کے لیے تو پھر یہاں کیوں بندھے ہوں۔۔۔؟؟
گارڈ نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اسکے سوال پوچھنے پر سخت تاؤ سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“تُمہیں یقین دلانا میں چاہتا بھی نہیں ہوں مجھے اس وقت صرف اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ بہنوں کی فکر ہو رہی ہے وہ اس عورت کے رحم و کرم پر ہیں۔۔!!
وہ سخت لہجے میں بولا تو اُسکی بات پر وہ گارڈ زور سے ہنسنے لگا اور ہنستا ہی چلا گیا۔۔
“اور تُم یہاں میرے رحم و کرم پر ہوں اور پتہ ہے میں بہت جلد تُمہیں مار دو گا اور اسکے بعد تمہارے بھائی بہنوں کی باری ہے میں میڈم کے ایک اشارے پر تمہیں اوپر پہنچاؤ گا پھر اپنے باس کو اور پھر تمہاری ماں بہنوں کو بھی بس ایک کال کا انتظار ہے۔۔!!
گارڈ نے اپنی اصلیت ظاہر کی تو یکدم سے نمیر بھی طنز سے اسے دیکھتے ہوئے زور زور سے ہنسنے لگا اور سر پیچھے کرسی کی پشت پر لگا کر ہنستا ہی چلا گیا تھا۔۔
“دو پیسوں کے غلام میں اِس کھیل میں تمہاری میڈم سے بھی پکا کھلاڑی ہو بھلے وہ پرانی کھلاڑی ہے لیکن میرے آگے وہ ابھی کچی ہے۔۔!!
ہنس ہنس کے اُسکی آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے تھے اور چہرے پر ایک معنی خیز چمک وہ گارڈ صاف طور پر دیکھ سکتا تھا۔۔
“تُم میری میڈم کو مزاق سمجھ رہے ہوں وہ اس وقت تمہارے بھائی اور بہن کے پاس موجود ہے کچھ بھی کر سکتی ہیں وہ ان دونوں کے ساتھ تو سوچ سمجھ کر بولو انکے بارے میں۔۔۔!!
گارڈ کے لفظوں میں چھپی دھمکی کو وہ ناک کے اوپر سے مکھی اڑاتے ہوئے دوبارہ ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔
“میرا بھائی اتنا تو عقل مند ضرور ہے جو تُم لوگوں کی چال کو ناکام بنا کر گا خود کو اور اپنی بہن کو وہاں سے نکال لے گا اور وہ بڈھی اتنی آسانی سے اِنہیں تو نہیں مارے گی یہ تو صاف کلیئر ہے اچھے سے جانتا ہوں کہ وہ شاطر بڈھی پراپرٹی کے پیپرز پر سائن کرانے سے پہلے میرے بھائی کے بال کو بھی نہیں چھوئے گی۔۔!!
معنی خیزی سے گارڈ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو گارڈ اس ڈھیٹ انسان کو سخت نظروں سے گھورنے لگا جسکو اسکی میڈم نے ہی تو ڈھیٹ بنایا تھا تو کیسے اتنی آسانی سے وہ اسکی میڈم سے ہار قبول کرتا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“آکا بی اُسنے کیوں آپ پر حملہ کیا تھا۔۔؟؟
وہ آکا بی کے پاس بیٹھا سنجیدگی سے ان سے پوچھ رہا تھا تو وہ شاطر عورت اس حالت میں بھی جھوٹ بولنے سے نہ گھبرائی۔۔
“بیٹا وہ دولت کیلئے مجھے مارنا چاہتا ہے جب میں نے انکار کر دیا تو اسنے غصے میں آ کر مجھ پر حملہ کر دیا۔۔!!
وہ آنکھوں میں آنسوؤں لا کر اُسے دیکھتی ہوئی بولیں تو ضنافر ان کی بات پر ایمان لے آیا اور شدید غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔
“کیا اس شخص نے سلطان خاندان کی لڑکی کی عزت پر بھی ہاتھ ڈالا تھا آکا بی اور کیا وہ لڑکی صالحہ عرفان سلطان ہے۔۔؟
وہ سخت نفرت محسوس کر رہا تھا اس وقت اپنے ہی بھائی سے صرف اُس وجہ سے کہ اسے سامنے بیٹھی عورت کے آنسو سچ اور نمیر کی باتیں جھوٹ لگ رہی تھیں۔۔
“بیٹا یہ سب جھوٹ ہے وہ اعظم سلطان کی پوتی اس سے محبت کرتی ہے اور یہ جو اس نے کہا ہے نا کہ اسنے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے یہ جھوٹ ہے وہ لڑکی اپنی راضا مندی سے ہی اسکے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی اب وہ لڑکی کون تھی یہ مجھے پتہ نہیں ہاں سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ سلطان خاندان کی ہی بیٹی ہے ۔۔!!
وہ شاطر عورت ایک بار پھر سے ایک نئے پلان کے ساتھ
ضنافر کو بدگمان کرنے لگیں لیکن اس بار پتہ نہیں کیوں ضنافر کو انکی باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا چاہ کر بھی وہ ان باتوں کو سچ نہیں مان رہا تھا ۔۔
“آکا بی آپ آرام کریں اتنا زیادہ اسٹریس آپ کے لیے ٹھیک نہیں ہے میں خود اس شخص کو دیکھ لوں گا..!!
انہیں آرام کرنے کا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور سنجیدگی سے انہیں باتوں کو سوچتے ہوئے انکے روم سے باہر نکلا تو وہ یکدم سے اٹھی اور تیزی سے دروازے کی جانب بڑھیں اور دروازہ بند کرنے کے بعد اپنے گارڈ کو کال ملانے لگی جو ضنافر حسن زیدی کا گارڈ ہوتے ہوئے بھی لالچ میں آ کر انکی جاسوسی کر رہا تھا ۔۔
“وہ زندہ نہیں بچنا چاہیے سمجھے ورنہ تم زندہ نہیں بچو گے سنا تم نے مجھے اس کو مردہ دیکھنا ہے اور اس کشمالہ کو بھی تو پہلے ماں کا کام تمام کرنا پھر بیٹے کا۔۔۔!!
وہ سفاکیت سے کہہ کر فون بند کرکے پیچھے مڑی تو اپنے سامنے وفا زیدی کو دیکھ وہ ساکت رہ گئی لیکن اس سے پہلے کے وفا زیدی باہر جاتی وہ غصے سے آگے بڑھی اور اسے گردن سے پکڑ کر پیچھے دھکیل کر روم کا دروازہ بند کر گئیں۔۔۔
“آپ نے بھائی کو مارنے کا کہہ رہے ہیں آپ اتنی سنگدل کیسے ہو سکتی ہاں اپنے ہی ہوتے کو کیسے قتل کرنے کا کہہ سکتی ہیں۔۔!!
وفا زیدی شدید غصے سے سرخ ہوتی سامنے کھڑی اُس عورت کو دیکھ رہی تھی جسے وہ دونوں بھائی سب کچھ سمجھتے تھے۔۔
“ہاں میں مارنا چاہتی ہو تمہارے بھائیوں کو وہ نمیر بھی تمہارا بھائی ہے اور ایک بڑی بہن تمہاری طرح عشق کر بیٹھی اور اب وہ پاگل ہوگئی ہے اور ہاسپٹل میں ہے اسے بھی مارو گی کسی کو بھی نہیں چھوڑو گی۔۔۔!!
وہ سخت نفرت سے وفا زیدی کو گھورتی ہوئی نقوت سے بولیں تو وہ بے بسی سے اُس عورت کو دیکھنے لگی جس کی وجہ سے وہ ساری زندگی وہ کرتی تھی جو وہ کہتی تھی۔۔
“دکھ ہو رہی ہے آپ کی اصلیت سامنے دیکھ کر نفرت بھی نہیں کرنا چاہتی میں آپ سے اور پلیز میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگتی ہو کہ میرے بھائیوں کو چھوڑ دو آپ جو کہے گے میں وہی کروں گی۔۔!!
وہ اچانک سے اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑتی ہوئی گڑگڑا کر بولی تو وہ نفرت سے اسے دور کرتی اپنے خاص آدمی کو کال ملانے لگی۔۔۔
“یس میڈم۔۔۔؟؟
تھوڑی دیر بعد دو آدمی اندر داخل ہوئے تو وہ ان دونوں کو وفا زیدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دینے لگی۔۔
“تُم دونوں کو اُسکا جو کرنا ہے کر لینا مجھے اب یہ اپنے گھر میں نظر نہیں آنی چاہیے ورنہ تم دونوں کو نکال دو گی جاب سے سمجھے۔۔!!
وہ دونوں صفحہ حاکم زیدی کی بات پر سامنے فرش پر گری اس لڑکی کو دیکھنے لگے جو زیدی ولا کی شان ہوا کرتی تھی لیکن اب اس طرح گری اپنی اوقات کا پتہ دے رہی تھی۔۔
“میڈم آپ فکر مت کرے اب یہ ہماری ہے تو اب یہ یہاں آنے کی غلطی بھی نہیں کرے گی۔۔!!
وہ دونوں کی ہوس بھری نظروں سے سہمتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی لیکن وہ دونوں آگے بڑھے اور اسے دائیں اور بائیں سے پکڑ کر باہر نکلے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“پتہ لگایا تم نے لڑکی کا نام۔۔؟؟؟
وہ سیکرٹری کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جو سامنے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“نو سر یہ انکا ذاتی معاملہ ہے اور وہ صرف انکے گھر سے ہی کوئی بتا سکتا ہے کیونکہ یہ بات ابھی تک باہر لیک نہیں ہوئی ہے۔۔۔!!
سیکرٹری کی بات پر ضنافر نے شدید غصے میں آ کر اپنا فون سامنے دیوار پر دے مارا تو وہ ٹوٹ کر نیچے جا گرا۔۔۔
“ایسا کون ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی بات ہمیں بتا سکتا ہے وہ گھٹیا انسان تو کبھی نہیں بتائیں گا یہ میں جانتا ہوں لیکن میں بھی اسکی بات نہیں مانو گا۔۔۔!!
وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا جبکہ اسکا سیکرٹری اسے دیکھنے لگا جو اب غصے سے پورے روم میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔
“تم ایک کام کروں میری اٹلی جانے کی تیاری کروں اب یہ سب میں صالحہ سے ہی اگلوانے کی کوشش کروں گا وہی یہ بات بتا سکتی ہے۔۔۔!!
اسے حکم دینے کے بعد قدم تیزی سے روم سے باہر اسنے نکالے تو اسکے سیکرٹری نے جلدی سے ٹکٹ کیلئے ایجنسی کو کال ملائی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“صالحہ عرفان سلطان۔۔۔؟؟
جب وہ پاکستان سے سیدھا یہاں پہنچا تو اسے پورے گھر میں غصے سے ڈھونڈنے لگا دوسری طرف وہ جو روم میں تھی اسکی غصیلی آواز پر روم سے باہر نکلی اور اسے دیکھنے لگی جو سامنے کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
“تُمہارے ساتھ بہت بُرا ہوا تھا شادی سے پہلے کسی نے تُمہارا ریپ کیا تھا اور یہ بات تُم لوگوں نے مجھ سے کیوں چھپایا اور تُمہارے ساتھ اتنی بڑی ٹریجڈی ہوئی تھی یہ خبر مجھے اُسی کمینے سے پتہ چلا تھا جسنے تُمہارے ساتھ یہ سب کیا تھا کیوں تُم مجھے ایک اجنبی کی طرح ٹریٹ کرتی ہوں ہاں وائے آنسر می ۔؟؟
وہ غصے سے اُسے دونوں شانوں سے جکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر کرخت لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“یہ میرا پرسنل میٹر ہے کیوں بتاؤ میں تُمہیں ہاں تُم بھلے مجھ پر حق رکھتے ہو میرے شوہر ہو لیکن میں اپنے پرسنل میٹر سے تُمہیں دور رکھنا سب سے بہتر اوپشن سمجھتی ہوں۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اُسکے حصار سے خود کو نکالنے لگی لیکن وہ اُسکی بات پر سخت غصے سے پاگل ہوتا اُسے مزید اپنے نزدیک کرتا اُسے سرخ آنکھوں سے گھورنے لگا۔۔۔
اتنی بڑی بات کو وہ اپنا پرسنل میٹر کہہ کر اُسے دور رہنے کا کہہ رہی تھی اور یہ بات اُسکے غصے کو اور بھی زیادہ بڑھا رہی تھی ۔۔
“پرسنل میٹر نہیں ہے یہ تُمہیں کسی نامحرم نے چھوا تھا تو یہ میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں ہاں بولو اور تُم مجھے کیسے آرام سے اِس معاملے سے دور رکھنا چاہتی ہو جبکہ میرا سوچ سوچ کر دل پھٹ رہا ہے کہ تُمہارا ریپ کیا ہے کسی نے زبردستی کی تھی تُمہارے ساتھ میں پاگل ہو رہا ہو اور یہاں تم مجھے اجنبی سمجھ کر اجنبیت کا احساس دلا رہی ہو۔۔!!
وہ سخت غصے میں اُسے بری طرح سے جھنجھوڑ کر کہہ رہا تھا جبکہ وہ حیرت سے منہ کھولے اُسے اتنا زیادہ ہائپر دیکھ رہی تھی۔
“مجھے جس نے بھی چھوا تُم ہوتے کون ہوں میرے لیے فکر کرنے والے ہاں اور تُم سب مرد ایک جیسے ہوتے ہو اپنے ایسے بہت سے سوالوں سے عورتوں کو احساس دلاتے ہوں کہ ہم مرد نہیں بلکہ وہ ہی ان سے بہت بڑے گناہ گار بے جبکہ وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی خود کو گناہگار سمجھنے لگتی ہے اور اسی وجہ سے وہ جیتے جی خود کو مار دیتی ہے صرف تُم مردوں کی وجہ سے وہ روز مرتی ہے۔۔؟؟
اپنے حیرت پر قابو پا کر وہ سخت درشت لہجے میں بولی تو اُسکی بات پر وہ خود کو سخت شعلے میں جکڑتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔
“میں تُمہارا محرم ہو مجھے حق ہے ان باتوں کو جاننے کا کہ تُم کس حال میں تھی اُس وقت اور اُس شخص نے کیوں کیا تھا تُمہارے ساتھ اتنا غلط۔۔؟؟
اُسے دونوں شانوں سے پکڑ کر سختی سے بولا۔۔۔
“مجھے بہت زیادہ ترس آ رہا ہے ضنافر حسن زیدی تُم پر اور بے وقوفی پر ہنسی میں اتنے دنوں سے تمہارے ساتھ رہ رہی ہوں یہ تک نہ جان سکے کہ میں مارنے والوں میں سے ہو مرنے والوں میں سے نہیں۔۔۔!!
وہ طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے اس پر طنز کرنے لگی تو وہ سخت غصے سے اسے گھورنے لگا تو آکا بی نے جو کہا سب سچ ہے اس کا مطلب صالحہ اور نمیر دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں یہ سوچ سوچتے ہوئے وہ تو پاگل ہونے لگا۔
“تُم نے ثابت کر دیا کہ تم کس کریکٹر کی لڑکی ہو ایک غیر مرد کے ساتھ تعلقات بنانے سے پہلے تُمہیں ڈوب کر مر جانا چاہیے تھا۔۔۔!!
وہ نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے شدید غصے سے غرایا تو صالحہ اُسکی اتنی نیچ سوچ پر سخت مشتعل ہو کر اُسے دور کرتی ہوئی چلائی۔۔
“انف مسٹر ضنافر حسن زیدی۔۔۔!!
اُسکی اتنی غلیظ الزام پر اُسکی آنکھیں جیسے خون ٹپکا رہی ہو وہ سب کچھ برداشت کر سکتی تھی لیکن اپنے کردار پر ایک عرف بھی نہیں سن سکتی تھی اسی لیے وہ شدید نفرت سے مقابل کھڑے غصے سے سرخ ہوتے شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“ضنافر حسن زیدی شاید کریکٹر لیس تُم خود ہوگے جو مجھے بھی اپنی طرح کا سمجھ رہے ہوں میں اتنی ظالم نہیں ہو کہ اِسطرح کی نیچ حرکت سے اپنے ماں باپ کو مار دو سنا تم نے اور اپنی نیچ کریکٹر لیس گرل فرینڈز کی طرح مجھے کبھی بھی کمپیئر مت کرنا میں انکی طرح گری ہوئی سوچ کی مالک نہیں ہوں۔۔!!
وہ شدید غصے سے آگے بڑھی اور اُسے کالر سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“تُم۔۔۔؟؟
اُسکے کریکٹر لیس کہنے پر وہ شدید طیش میں آکر اُسے سختی سے گردن سے دبوچ کر دھار اٹھا۔۔۔
“کیوں غصہ آیا نہ تُمہیں میری باتوں پر اور کیسے اپنے لیے کیریکٹر لیس لفظ سن کر تُم سلگ اٹھے ہاں مجھے بھی تُمہاری نیچ لفظوں سے تکلیف ہوئی تھی غصہ آیا تھا دل تو ابھی تک چاہ رہا ہے تُمہیں مار ڈالو لیکن میں اپنے ہاتھ تُم جیسے انسان کے خون سے خراب کرنا نہیں چاہتی ہوں۔!!
اُسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی اُسے خود سے دور کرتی طنزیہ انداز میں مسکرا کر بولی۔۔
“تُم بے شرم ہو پہلے تو اپنے ماں باپ کو دھوکا دیا اب مجھے دینا چاہتی ہوں تو یاد رکھنا میں دھوکا کھانے والوں میں سے نہیں ہو۔۔۔!!
اُسے خون آشام نظروں سے گھورتے ہوئے بولا اور غصے سے روم سے باہر نکلا اب صرف ایک بات یہ سب کلیئر کر سکتا تھا اور وہ صرف اپنی عزت کے لیے کر رہا تھا ورنہ اس شخص کی باتوں کو وہ ابھی بھی یقین نہیں کر رہا تھا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یہ نہیں ہو سکتا تُم اُسے روکو ورنہ میں کچھ کر دو گی تمہارے بیوی بچے کے ساتھ سنا تُم نے۔۔!!
آکا بی کو جب پتہ چلا کہ ضنافر حسن زیدی نمیر اور اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروا رہا ہے تو وہ اب غصے سے سخت پاگل ہو رہی تھیں۔۔
“میڈم ضنافر حسن زیدی وہ مجھے موقع نہیں دے رہا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔۔؟؟
گارڈ سخت ڈرتے ہوئے اپنی بیوی بچے کا سن کر زور سے چلاتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر وہ اپنا سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں سننا تُم اپنی بیوی بچے کو بچانے کیلئے جو کر سکتے ہوں کروں دو گھٹنے ہیں تمہارے پاس پھر اس کے بعد تم اپنی بیوی اور بچے کو مرے ہوئے دیکھوں گے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں اسے دھمکی دینے لگی تو گارڈ نے اپنا سر پکڑا اور کچھ سوچنے لگا پھر ایک سوچ کے بعد وہ مسکرایا۔۔
“میڈم سمجھ لیں آپ کا کام ہوگیا۔۔۔!!
وہ اسکی بات پر اب مطمئن ہو گئی اور مسکرانے لگی پھر وفا زیدی کا خیال آتے ہی وہ ایک نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“چھوڑو مجھے بدتمیز میں تُمہاری مالکن ہو۔۔؟؟
وفا زیدی کو کھینچتے ہوئے وہ دونوں اپنے گھر کے اندر داخل ہوئے تو وہ زور زور سے چیختی ہوئی انہیں کہنے لگی۔۔۔
“پہلے تھی لیکن اب نہیں اب تُم صرف ہماری داسی ہو سمجھی اور چل جا کر تیار ہو کر آ ہم تُمہیں غور سے دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔!!
ایک نے آگے بڑھ کر اُسکے گالوں کو چھو کر کمینگی سے کہا تو وہ شدید غصے سے اسے گھورنے لگی اسے آکا بی سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی اور اپنی حالت پر سخت رونا۔۔
“تُم لوگ غلط کر رہے ہو اگر میرے بھائی کو پتہ چلا نا تو وہ تُم دونوں کی چمڑی اتار دے گا بہتری اسی میں ہے کہ مجھے یہاں سے جانے دو۔۔۔!!
وہ دونوں سے بولی تو وہ اسکی بات پر زور زور سے ہنسنے لگے تو وہ سخت بے بسی سے پیچھے ہٹنے لگی۔
“تُمہارے بھائی کو تو اب تک میڈم نے بتا دیا ہوگا کہ تم بھاگ گئی ہوں اپنے یار کے ساتھ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔!!
وہ دونوں اسے خباثت سے دیکھتے ہوئے یک زبان ہو کر کہنے لگے تو وفا زیدی نے دونوں کو دیکھا اور پھر اردگرد نظریں ڈورانے لگی۔۔
“تُم لوگوں نے مجھے اپنے گھر میں لا کر بہت غلط کیا ہے دیکھنا اب میں کیا کرتی ہوں۔۔!!
ان دونوں کے چہرے پر سخت ہوائیاں اڑتے ہوئے دیکھ سمجھ گئی کہ انکی اپنے علاقے والوں کے ساتھ میں بنتی نہیں ہے وہ اسی بات کا فائدہ اٹھاتی سامنے رکھے ڈنڈے کو اٹھا کر دیوار کے اُس پار پڑوسیوں کے گھر میں پھینک کر انہیں طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“یہ کیا کیا تم نے اب ہماری خیر نہیں ہے اسد بھاگ ورنہ وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا اس نے اس جانور کو جگا کر ہمارے لیے قبر کھودا ہے۔۔!!
ایک نے ڈرتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کے گھر میں ہلچل محسوس کر کے روہانسے لہجے میں کہا۔۔۔
“لگتا ہے نعمان وو۔۔۔وہ آگیا۔۔۔!!
اسد نے گیٹ پر زور زور سے مکا برسانے کی آواز سن کر روتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی جو ایسے ڈر رہے تھے جیسے انہوں نے اپنے سامنے جلاد کو دیکھا ہو۔۔۔
“کیا ہوا جاؤ دروازہ کھولو اور اُسے بھی دعوت دو کہ تم دونوں یہاں آج ایک لڑکی کو لائے ہو۔۔۔!!
وہ ان سے کہتی سامنے رکھی چارپائی پر بیٹھ گئی جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے چمٹ کر کھڑے دروازے کو گھور رہے تھے۔۔۔
“نعمان تم جاؤ اور اس سے معافی مانگو ورنہ وہ ساری رات اسی طرح غصے سے دروازے کو پیٹتا رہے گا۔۔۔!!
اسد نے خوف سے کہا تو نعمان اسکی بات پر ڈرتے ہوئے قدم آگے بڑھانے لگا جبکہ وہ اُس ہستی کو دیکھنےکیلئے اپنی نظریں دروازے پر جما گئی جس سے وہ دونوں اتنے زیادہ ڈر رہے تھے۔۔
“ابے او سالوں۔۔۔؟؟
نعمان کے دروازہ کھولنے پر ایک غصیلی آواز وفا زیدی کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ چارپائی سے اٹھی اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی جسکا چہرہ شاید سورج کی تیز روشنی کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
“دبیر استاد معاف کر دو یہ ہماری بہن نے بھیجا ہے وہ غصے میں ایسی حرکتیں کرتی ہے۔۔!!
اسد نے تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا مبادا وہ پھٹان اسے اپنے بھاری ہاتھ سے ایک دو رسید نا کر دیں جبکہ دبیر خان کی نظریں سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی تو وہ ناگواری سے ان دونوں کو گھورنے لگا۔۔۔
“ابے او اسد خاناں خراب مجھے ماموں بنا رہے ہو میں نے تو آج تک تم دونوں کی کوئی بہن کو نہیں دیکھا ہے
تو یہ اچانک کہاں سے پیدا ہو کر آئی وہ بھی اتنی بڑی اور موٹی۔۔۔!!
دبیر خان نے ترچھی نگاہوں سے وفا زیدی کے سرخ و سفید چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا تو وفا زیدی موٹی لفظ اپنے لیے سن کر سخت پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔۔۔
“دبیر استاد یہ ہہ۔ہماری دور کی پھپھو کی بیٹی ہے تو ہم اُسے اپنی بہن مانتے ہیں۔۔!!
نعمان نے جلدی سے اسکے شک کو دور کرنا چاہا کیونکہ مقابل ان تینوں کو اپنی شک بھری نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔
“ابے او سالوں یہ تُم لوگوں کی بہن ہے تو اُسے مجھ سے ضرور دور رکھنا ورنہ اچھے سے جانتے ہو کہ میں عورت ذات پر لحاظ نہیں کرتا۔۔۔!!
دبیر خان نے وفا زیدی کو اپنی گرے آنکھوں سے سختی سے گھورتے ہوئے دونوں سے کہا اور قدم باہر کی جانب بڑھانے لگا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
