No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
“تُم میرے روم میں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟
اُسے اپنے بے حد قریب دیکھ کر وہ جھٹکے سے اُسے خود سے دور کرتے ہوئے چیختے ہوئے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگا وہ جو گہری نیند میں تھی کہ کسی کے زور سے ہلانے پر وہ آنکھیں کھول کر اپنے سامنے سارب کو غصے سے اپنی جانب غصے سے گھورتے ہوئے دیکھ کر وہ یکدم ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹی۔۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں تُم سے تُم میرے روم میں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟
بیڈ سے اترتے ہوئے وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔تو سیرت ڈرتی ہوئی اسے دیکھنے لگی وہ اس وقت پہلے والا سارب عرفان سلطان لگ رہا تھا کل والا انسان تو بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔
“تُم لے کر آئے تھے مجھے یہاں میں نہیں آئی تھی۔۔!!
وہ اپنے کندھوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی اس سے دور ہوتی ہوئی خوفزدہ نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“میں لے کر آیا تھا تو مجھے کیوں یاد نہیں آ رہا ہاں تُم سہی بتاؤ یہاں میرے روم میں کس وجہ سے آئی تھی اور پوری رات میرے ساتھ ایک بیڈ پر۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔تو سیرت اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھتی اپنی آنکھوں کو سختی سے میچ کر ڈر کے مارے کانپنے لگی۔
“میں سچ کہہ رہی ہو تم خود مجھے یہاں لے کر آئے تھے اور میں تم ایک بات بتاؤ کیا تم ڈرگز لیتے ہو۔۔!!
وہ اب اپنی ڈر کو پس پشت ڈال کر اپنی کمر پر ہاتھ رکھتی ہوئی تیز نظروں سے اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“تُم کیا پاگل ہوگئی ہوں ہاں میں اور ڈرگز لوں گا میں صرف سگریٹ پینا پسند کرتا ہوں ڈرگز نہیں ویٹ کہی تم مجھے پھنسا نہیں چاہتی ہوں۔۔!!
اپنے سر پر یکدم سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرتا اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو سیرت اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔
“تُم ٹھیک تو ہو۔۔؟؟
وہ پریشانی سے آگے بڑھی اور اُسے شانوں سے پکڑ کر پوچھنے لگی۔تو اسنے اپنے شانوں سے اسکے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اپنا رخ شیشے کی جانب کیا تو سامنے kill you لکھا ہوا دیکھ کر وہ وہی ساکت کھڑا رہ گیا۔۔
“پہلے ٹھیک تھا لیکن یہ دیکھ کر ٹھیک نہیں ہو یہ سب کیا ہے سیرت عباس سلطان تُم اب ایسے گھٹیا حرکت کر کے مجھے ٹارچر کروں گی۔۔!!
ڈریسنگ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ سرد لہجے میں کہنے لگا۔تو سیرت نے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب دیکھا تو شاکڈ رہ گئی کیونکہ وہاں kill you کے ساتھ ادین کا نام بہت بڑا لکھا ہوا صاف نظر آ رہا تھا۔۔
“یہ مم۔میں نے نہیں لکھا ہے سارب مجھے بھی یاد نہیں آ رہا کہ کل رات کیا ہوا تھا ہاں اتنا یاد ہے تُم نے مجھے گھر آنے کے بعد یہاں اپنے روم میں بند کیا تھا اور تم عیجب کپڑوں میں ملبوس باہر نکلے تھے تم اس وقت بہت عیجب حرکتیں کر رہے تھے مجھے تو شک ہو رہا ہے کہ کہی تُم پر۔۔!!
سیرت نے اسے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔تو سارب نے سخت تیوریاں چڑھا کر اُسے گھورا۔۔
“کس بات پر شک ہے تُمہیں۔؟؟
وہ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔تو وہ ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹتے ہوئے تیزی سے بولی۔۔
“سارب مجھے لگتا ہے تُم پر کسی جن کا سایہ ہے تم جب سے جنگل سے آئے ہو عیجب حرکتیں کر رہے ہو۔۔!!
سارب اسکی بات پر اسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے واشروم کی جانب بڑھا اور اندر داخل ہو کر زور سے دروازہ بند کرتے ہوئے اپنا شرٹ اتار کر سائیڈ پر لٹکا کر وہ باٹھ ٹب کی جانب بڑھا لیکن قد آور شیشے میں جب نظریں پڑی تو وہ شاکڈ ہو کر آگے بڑھا اور اس شیشے کے آگے کھڑے ہو کر اپنے بازوؤں اور سینے کو چھو کر دیکھنے لگا جہاں عجیب و غریب طرح کے ٹیٹو بنے تھے۔۔
“یہ کیا ہے۔۔؟؟
وہ شدید غصے سے واشروم سے باہر نکلا تو سیرت اسے شرٹ لیس دیکھتی وہ شرم سے رخ موڑ کر کھڑی ہوئی جبکہ وہ اُسے دوسری طرف رخ موڑ کر کھڑے ہونے پر سخت تاؤ کھا کر رہ گیا اور آگے بڑھ کر اسے سختی سے پکڑ اپنی جانب کرتا سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
“سس۔سارب تمہیں ش۔ شرم نہیں آتی اس طرح میرے سامنے آتے ہوئے اور یہ کیسا سوال ہے جو تم مجھ سے پوچھ رہے ہو۔۔؟؟
سیرت اسکے قریب ہونے پر شرم سے سرخ ہوتی آنکھوں کو نیچے جھکا کر بولی۔سارب اسکی جھکی پلکوں کو غصے سے گھورنے لگا۔۔
“تمہیں آئی تھی یہ سب کرتے ہوئے شرم جو مجھے اس طرح تمہارے سامنے آ کر آئیں گی افففف میں تو تمہیں اتنا معصوم سمجھتا تھا اور تم اتنی بے ہودہ نکلوں گی مجھے خبر نہیں تھی اگر ہوتی نا تو میں تم سے کبھی نکاح نہیں کرتا۔۔!!
وہ اسے سخت غصے سے گھورتے ہوئے چیخ کر بولا۔تو اسکی چیخ پر وہ اسکی مضبوط گرفت میں بری طرح سے لرزی۔
“سارب مجھے چھوڑو میں سچ کہہ رہی ہو میں کیسے اسطرح کے بے ہودہ کام کروں گی تمہیں پتہ ہے مجھے نفرت ہے یہ ٹیٹو والے لوگوں سے اور تم کہہ رہے ہو کہ میں نے تمہارے ہاتھوں میں ٹیٹو بنائی ہے ہاؤ ڈئیر یو تم مجھ پر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتے ہو۔۔!!
وہ بھی اب سخت غصے سے بولی۔تو سارب عرفان سلطان نے اسے گھورا اور پیچھے کی طرف بڑھا جہاں اسے کچھ بوتل اور سگریٹ کے ٹکرے پڑے ہوئے اسے نظر آئے تھے۔۔
“اب تم کہوں گی کہ مجھے اس کے بارے میں بھی پتہ نہیں ہے۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے شراب کے بوتل کی جانب اشارہ کرتا ہوا کرخت لہجے میں بولا۔تو سیرت آنکھیں پھاڑ کر پہلی بار اپنے سامنے اتنے سارے شراب کے بوتل دیکھنے لگی۔۔
“سارب مجھے واقعی میں پتہ نہیں ہے میں جج۔جھوٹ نہیں بول رہی میں جب ہوش میں تھی تو اس روم میں اندھیرا تھا اسکے بعد کیا ہوا مجھے بلکل بھی پتہ نہیں تھا۔۔!!
اب وہ بھی اتنے عیجب و غریب چیزیں دیکھ کر ڈرنے لگی۔یہاں صرف سارب عرفان سلطان یہاں آیا تھا کوئی بھی نہیں آیا تو کیا سارب عرفان سلطان کے اوپر جن وہ منہ کھولے اسے ساکت نظروں سے دیکھنے لگی جو سرخ نظروں سے اسے ہی گھور رہا تھا اور اسکی نظروں سے وہ ڈرتی ہوئی پیچھے بیڈ کی جانب قدم بڑھانے لگی۔۔
“دیکھوں جن صاحب تُمہارا نام جو بھی ہو پلیز میرے شوہر کا پیچھا چھوڑ دوں وہ بہت معصوم ہے کسی شیطان انسان کے اوپر چلی جاؤ یہ اتنا کیوٹ ہے۔۔!!
وہ انگلی اٹھا کر اُسے دیکھنے سے اجتناب کرتی ہوئی سختی سے اپنی آنکھوں کو میچتی ہوئی لرز کر بولی۔تو سارب عرفان سلطان اسکی عیجب بات پر اسے غصے سے گھورنے لگا تبھی اسکے جیب میں وائبریشن ہوا تو اسنے اپنا فون نکال کر اسکرین میں دیکھا تو شاکڈ رہ گیا کیونکہ اسے فیس بک انباکس میں کسی ادین نامی شخص نے میسج کیا تھا لیکن شاکڈ ہونے کی وجہ وہ میسج نامی شخص نہیں تھا بلکہ اسکی پروفائل پر اپنی پک سے ہوا تھا پھر وہ تیزی سے انباکس کو اوپن کر کے اسکے میسج چیک کرنے لگا
انباکس میں صرف وڈیوز تھے اسنے ایک وڈیو کو اوپن کیا تو ساکت رہ گیا کیونکہ ان سب ویڈیوز میں صرف وہی تھا لیکن عیجب بات یہ تھی کہ وہ بات بلکل الگ طرح سے کر رہا تھا وہ سب سے بات نرمی سے کرتا تھا اور ان سبھی ویڈیوز میں اسکی آواز بہت بھاری اور لہجہ درشت تھا۔۔
“یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا یہ سب دیکھ کر میں پاگل ہو جاؤ گا سیرت اس ویڈیو میں جو میں کہہ رہا ہوں میں نے آج تک وہ کام نہیں کیے ہیں اور میں کسی چارلی نامی شخص کو نہیں جانتا اور وہ ضنافر اسے کیسے جانتا ہے مجھے پتہ کرنا ہوگا اس سے پوچھ کر مجھے اس بارے میں کچھ حل نکالنا پڑے گا ورنہ سیرت میں سچ میں پاگل بن جاؤ گا اگر یہی حرکتیں کرتا رہا تو۔۔!!
وڈیوز دیکھنے کے بعد وہ سخت پریشان ہونے لگا اور اسی ٹینشن میں اسکے ہاتھ بری طرح سے لرزنے لگے جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے موبائل نیچے جا گرا۔
“سارب تُم پلیز ٹینشن نا لوں ہم اس بارے میں کچھ سوچتے ہیں اس بارے میں بلکہ تم ایک کام کروں ضنافر حسن زیدی سے اس چارلی کے بارے میں پتہ کروں مجھے لگتا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے کیونکہ تم آئی مین وہ وڈیوز میں جو تم کہہ رہے تھے کہ تم دونوں اسکے دشمن ہو اور اس ضنافر نے تمہاری مطلب اسکی ڈرنک میں کچھ ملایا تھا۔۔!!
سیرت نے اسے شانوں سے پکڑ کر سامنے بیڈ کی جانب بڑھی اور اسے بیٹھا کر کہنے لگی۔تو سارب اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“تُم یہی روکو سارب میں جا کر اس سے بات کرتی ہو ہو سکتا وہ کچھ کہہ دے اس متعلق یا پھر کچھ ہمیں اس کے ذریعے پتہ چل جائے۔۔!!
وہ دونوں اس بلند ترین عمارت کے پاس کھڑے تھے جو اٹلی کا ایک پرائیویٹ ہاسپٹل تھا جہاں چارلی ایڈمٹ تھا۔۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے وہ یہاں کا بہت بڑا اسمگلر ہے میں اپنی وجہ سے تمہیں مصیبت میں نہیں ڈال سکتا خاموش۔۔اسکے کچھ کہنے پر سارب نے سختی سے
اسے خاموش کروایا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی۔۔
“میں تو صرف تمہاری ہلیپ کرنا چاہتی ہو۔۔!!
وہ اُسے جوابأ گھورتی ہوئی بولی۔تو سارب نے آگے بڑھ کر اچانک سے اسکے لبوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے اسے دیکھا جبکہ وہ آنکھیں پھاڑے اسے اپنے بے حد قریب دیکھتی سٹپٹائی ۔۔۔
“میں نے کہا نا نہیں میں خود ہینڈل کر لوں گا تم بس یہاں گاڑی میں بیٹھ کر میرا ویٹ کروں۔۔!!
پیچھے ہٹتے ہوئے وہ سنجیدگی سے سامنے ہاسپٹل کے عمارت کو دیکھنے لگا۔
“بلکل بھی نہیں میں بھی تمہارے ساتھ جاؤ گی ہو سکتا تمہیں وہاں میری ضرورت ہو اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو میں گھر والوں کو کیا جواب دو گی۔۔!!
وہ اسے مصیبت میں دیکھنا نہیں چاہتی تھی اسکی مدد کرنا چاہتی تھی اور وہ پتہ نہیں کیوں اسے اپنے معاملوں سے دور کرتا رہتا تھا۔۔
“دیکھوں تُم نا نہیں کروں گے ورنہ میں دا جی کو بتا دو گی کہ تم ڈرگز کے ساتھ کیسی کیسی ایکوئٹی میں ملوث ہو۔۔!!
اُسے دوبارہ سے نا میں سر ہلاتے ہوئے دیکھتی وہ تیزی سے اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی۔ سارب نے اسے سخت گیر نظروں سے گھورا۔۔
“چلوں۔۔!!
اس پر سخت گیر نظر ڈال کر وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا۔تو وہ مسکراتی ہوئی دروازہ کھولتی ہوئی جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ادین۔۔!!
وہ دونوں جب چارلی کے روم میں داخل ہوئے تو چارلی کے گرد اتنے سارے لوگوں کو کھڑے دیکھ کر سیرت تو ڈرے لیکن سارب سنجیدگی سے کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا چارلی کی نظریں جب سارب عرفان سلطان پر پڑی تو وہ خوفزدگی سے اپنے چہرے پر تکیہ رکھتے ہوئے لرزتے ہوئے اسے ادین کہنے لگا۔۔۔
“افففف ہوں پھر سے ادین۔۔!!
سارب یہ نام سن کر سخت شعلے میں خود کو گرتا ہوا محسوس کرنے لگا اور سیرت کو دیکھتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا
سیرت جو ان لوگوں کو اپنی طرف عیجب نظروں سے دیکھتے پاکر خوفزدہ ہو رہی تھی اس کی بڑںڑاہٹ پر اسے اپنی خوف سے پھیلی آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔
“باس یہی ہے اسی نے میری حالت ایسی کی ہے یہ بہت بڑا کمینہ انسان ہے اسی نے ہمارے ہیروں کو پتہ نہیں کہاں چھپایا ہے یہ مجھے پھنسانا چاہتا ہے اسے مت چھوڑیں ۔۔۔!!
چارلی کی بات پر سارب شاکڈ نظروں سے اسے دیکھنے لگا اور سوچنے لگا بھلا اسنے کب اسکی حالت ایسی کی تھی اور کونسے ہیرے۔
“وہاٹ میں نے کب کیا ہے تمہارے ساتھ ایسا اور کونسے ہیرے مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تم کیا کہہ رہے ہو میں تو تم سے ملنے آیا ہوں اور مجھے تمہارے بارے میں بھی اپنے ایک وڈیو سے پتہ چلا ہے۔۔!!
سارب نے سیرت کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا کیونکہ وہ ان سب کو ریوالور نکالتے ہوئے دیکھ چکا تھا جبکہ سیرت اب اپنے سامنے ریوالور دیکھتی خوف سے سفید پڑنے لگی۔۔
“اپنی بکواس بند کرو اور جلدی سے بتاؤ ہمارے ہیرے تم نے کہاں چھپائے ہے ورنہ ہم اس لڑکی کو جان سے مار دے گے۔۔۔!!
چارلی کے باس نے اٹھتے ہوئے غصے سے کہا تو سارب عرفان سلطان حیرت سے اس 70 سالہ شخص کو دیکھنے لگا جو سیرت کی جانب ریوالور ٹانے کھڑا تھا اسنے سیرت کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور پیچھے سے آتیں واڈر بوائے کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر اس شخص کی جانب دھکا دیا اور سیرت کو کھینچتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔۔
“ڈیم اٹ۔۔!!
سارب اور سیرت جب گاڑی میں بیٹھے تو سارب نے غصے سے کہا تو سیرت نے اپنی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“پہلے وہ آئی ڈی وڈیوز اب یہ سیرت یہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے میں تو آج پہلی بار ان لوگوں سے مل رہا ہوں تو میں نے کب انکے ہیروں کو چھپایا ہے مجھے یاد کیوں نہیں آ رہا کیوں۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کافی پریشانی سے بولا۔تو سیرت نے اپنے چہرے پر آئی نمی کو صاف کرتیں ہوئے آہستگی سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھا۔۔
“سارب تم پریشان مت ہوں ابھی ہمارے پاس ضنافر والا اوپشن ہے اب سب کچھ وہی بتائے گا۔۔!!
سیرت کی بات پر سارب نے اسے دیکھا اور پھر غصے سے سرخ چہرے کو نیچے کرتا کہنے لگا تو اسکے لہجے میں یکدم سے سختی آگئی۔۔
“میں اس شخص سے کبھی مدد نہیں لوں گا مجھے کچھ اور سوچنا پڑے گا لیکن اس شخص سے میں مرتے دم تک بات نہیں کروں گا۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو سیرت نے اب تو اسکو سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔
“سارب یہ سیریس معاملہ ہے تم بچوں کی طرح ضد مت کروں اس ویڈیو میں صرف دو لوگوں کا نام لیا ہے تم نے آئی مین اس نے جو بلکل تمہاری طرح کا لگتا ہے پتہ نہیں یہ کون ہو سکتا اور کیا چاہتا ہے تم سے اور ضنافر حسن زیدی سے اور اسنے کیوں اتنے بڑے اسمگلر سے دشمنی مول لیں تھی۔۔!!
اب سارب اسکی بات سمجھ گیا اور سوچنے لگا واقعی یہ شخص کوئی اور بھی ہو سکتا ہے آج کل تو ہر طرح کے ماسک ملتے تو ہو سکتا ہے اس شخص نے اسکو دھمکی دینے کیلئے یا اس سے بدلنا لینے کیلئے اسکا ماسک بنایا ہو اب وہ ان سب باتوں کو سوچنے کے بعد تھوڑا مطمئن ہوگیا لیکن شاید اسے خبر نہیں تھی کہ اسے بہت بڑا جھٹکا لگنے والا ہے ضنافر حسن زیدی کی جانب سے اب کیا ہوگا اس سے انجان وہ سیرت کو لے کر گھر کی جانب بڑھا۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“نو نو یہ نہیں ہو سکتا میں نے سارب تمہارا اتنا خیال رکھا تھا تمہارا ٹریٹمنٹ ایسے کروایا تھا کہ خود تمہیں پتہ نہیں چلا تھا کہ تمہیں personality disorder ہے یہ بات میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی یہاں تک کہ تمہاری فیملی سے بھی چھپائی تمہاری بہن سے بھی اور آج تمہیں دو سال بعد پھر سے اس حال میں دیکھ کر مجھے بہت ٹیشن ہو رہا ہے یار تم ایک کام کرو وہاں سے جتنی جلدی ہو نکلوں کیونکہ تمہارے ساتھ تمہاری بیوی بھی ہے تمہیں اس دوران اپنا نام بھی یاد نہیں رہتا بلکہ تمہیں یہ تک پتہ ہوتا کہ تم اس وقت کیا کر رہے ہو۔۔!!
سارب پریشانی سے تھوڑے دیر بعد ضنافر حسن زیدی کو کال کرنے پر مجبور ہوا ورنہ ضنافر حسن زیدی کی حرکت کی وجہ سے وہ اس سے اب سخت نفرت کرنے لگا لیکن آج اسے مجبور اپنے حالات نے کروایا تھا اور ضنافر حسن زیدی اسکی بات سننے کے بعد بہت پریشانی سے بولا۔۔
“تُم۔۔!!
سارب اسکی ساری بات پر غصے سے ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے کہنے لگا۔اسے اس وقت بہت زیادہ غصے میں دیکھتی سیرت ڈرتی ہوئی اس سے پیچھے ہوئی۔۔
“تُم نہیں بتا سکتے تھے سالے کیا ہاں میری اس حالت کے بارے میں ہاں تُم بھی ذمے دار ہو میری حالت کے سمجھے تم۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے گھورنے لگا۔ضنافر حسن زیدی جو چائے پی رہا تھا اسکے سالے کہنے پر بری طرح سے کھانسنے لگا۔۔
کیا تُم نے مجھے سالے کہاں سارب عرفان سلطان میں تمہارا نہیں بلکہ تم میرے سالے ہو۔۔!!
وہ اُسے لیپ ٹاپ کے اسکرین میں گھورتے ہوئے بولا۔
“اپنی بکواس بند کرو اور مجھے بتاؤ کہ تم نے مجھے میری اس بیماری کے بارے میں کیوں نہیں بتایا تھا اور تمہیں کب پتہ چلا مجھے personality disorder جیسی بیماری ہے۔۔؟؟
سارب کے سوال پر ضنافر حسن زیدی ریلکس ہو کر صوفے سے ٹیک لگا کر کچھ دیر خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“سارب عرفان سلطان کیسے بتاتا میں تمہیں کیا تم یقین کرتے اس بارے میں نہیں نا مجھے شک تب ہوا تھا جب تم پاگلوں کی طرح خود کو کبھی لوسیفر تو کبھی ادین اور بھی پتہ نہیں کونسے کونسے نام سے بلاتے تھے اور مجھے اس وقت تم پر بہت زیادہ غصہ آتا تھا وہ اس لیے کہ تم اس وقت مجھے اپنے جگری دوست کو بھول جاتے تھے میں تمہارے پیچھے پاگلوں کی طرح صرف اپنا نام پکارتا رہ جاتا تھا اور تم یونی کے بدمعاش لڑکوں کے ساتھ جا کر گہری یاریاں نبھاتے تھے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے ایک ایک بات بتانے لگا اور وہ حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اپنے بارے میں اتنا کچھ سننے لگا۔۔
“یہ ایسی بیماری ہے اس میں انسان وہ سب بھول جاتا ہے جب وہ اپنے دوسری شخصیت میں ڈلتا ہے سارب عرفان سلطان تم بھی خود کو بھول جاتے ہو ویسے تمہیں کب ایسا لگا کہ تمہارے اندر کچھ عیجب بدلاؤ ہو رہا ہے کیونکہ اس بیماری میں انسان کو پتہ نہیں چلتا۔۔!!
ضنافر حسن زیدی اب کہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اسنے غصے سے اسے گھورا۔۔
“وہ ایسے جب تم اپنا فون چیک کروں گے تب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ مجھے کیسے پتہ چلا۔۔!!
اسنے اسے اسی تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔تو ضنافر حسن زیدی نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھا وہ تو بھول گیا تھا کیونکہ سارب نے صبح ہی اسے میسج کیا تھا تو مطلب اسنے اسی بارے میں کچھ بھیجا تھا جو اسنے جان بوجھ کر اگنور کیا تھا۔۔
“اب میں تم سے پاکستان میں آکر اچھے سے ملوں گا ضنافر حسن زیدی بہت اچھی طرح سے تیار رہنا۔۔!!
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔پھر سیرت کی جانب اسنے دیکھا سیرت جو اس سے ڈر کر دور صوفے پر بیٹھی تھی اسکے اچانک سے دیکھنے پر وہ ڈر کر اپنی جگہ سے اٹھی۔۔
“اوکے میں تیار ہو دل و جان سے سالے صاحب۔۔!!
ضنافر حسن زیدی کی آواز پر اسنے اپنی نظریں سیرت کے اوپر سے ہٹا کر سخت نظروں سے ضنافر حسن زیدی کو گھورا۔۔
