No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“آآآپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں نمیر۔۔؟؟؟
وہ جب بیڈ روم میں اُس شخص کے خوف سے کانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو سامنے صوفے پر اُسے عیجب نظروں سے دیکھتے پاکر وہ لرزی۔۔۔
“آپ کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔؟؟
وہ وہی کھڑی اُسے خوفزدگی سے دیکھتی ڈر کر پوچھنے لگی وہ آگے بڑھنا بلکل بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ سامنے بیٹھے شخص نے اُسے اچھے سے سمجھا دیا تھا کہ وہ انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے۔۔
اب اُسے ہول اٹھنے لگے تھے کیونکہ اُسکی خاموش سرد نگاہوں سے وہ اپنی لرزتی ٹانگوں سے جیسے جان نکلتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔
“مجھ سے اجازت لے کر نکلی تھی کیا تُم باہر ہاں بیوی۔۔؟؟
عیجب سوال اور اُوپر سے عیجب انداز سے دیکھنا جیسے مرجان کو مار دینے کے لیے کافی تھا اور وہ شخص اُسکے فیورٹ سیاہ لباس میں ملبوس اپنے خوبصورت پرسنالٹی کے باوجود بھی اُسے اِس وقت ایک بدصورت انسان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
“میں نے کیا پوچھا ہے تُم سے بیوی ہاں جواب دو بولو کیا میں نے تُمہیں بیڈ روم سے باہر قدم رکھنے کی اجازت دی تھی ہاں جو تُم باہر نکلی بولو کیوں گئی مجھ سے پوچھے بغیر۔۔۔؟؟
غصے سے پاگل ہوتا وہ جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور اُسکے روبرو کھڑے ہو کر سختی سے اُسکی نازک گردن کو دبوچ کر دھار اٹھا اور وہ اپنی گردن پے دباؤ محسوس کرتی خود کو اُس جنگلی سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی آنکھیں جیسے باہر نکلنے کو بے تاب تھی جبکہ چہرہ اتنی مضبوط پکڑ پر سرخ ہو رہا تھا۔۔
“میں آپ کیلئے نن۔ناشتہ بنانے کے لیے گئی تھی نن۔نمیر۔۔!!
اٹک اٹک کر وہ بمشکل بولی کیونکہ گردن پر سخت کھنچاؤ کی وجہ سے وہ بول بھی مشکل سے رہی تھی اور وہ ظالم بنا اُسے بے گناہ کو سزا دے رہا تھا۔۔
“ناشتہ بنانے کے بہانے کہیں اپنے اُس نامراد عاشق سے تو ملنے نہیں گئی تھی بیوی بھولی مت بنو سمجھی اچھے سے جانتا ہوں تم دونوں کے تعلق کو یہ جو مجھ سے شادی کی رٹ لگائی ہوئی تھی نا تّم نے وہ سب اُسے جلانے کے لئے تھا کوئی مجھ سے محبت نہیں تھا۔۔!!
سختی سے اُسے اسکے جبڑے سے پکڑ کر غرایا وہ نفرت اور انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو چکا تھا یہ تک بھول چکا تھا کہ سامنے اُسکی طرح طاقتور مرد نہیں بلکہ ایک نازک لڑکی کھڑی ہے جو اُسکی زیادتیوں کو خاموشی سے سہہ رہی ہے۔۔
“نن۔نہیں آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں میں نہیں جانتی آپ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں میں نے صرف آپ کو چاہا ہے۔۔!!
وہ اِس گھٹیا الزام پر شدت سے آنسوؤں بہاتی سرمئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر چیخ کر بولی۔۔
“بیوی تُم پر الزام نہیں لگا رہا جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں پتہ نہیں رات کے وقت پڑھائی کے بہانے تُم دونوں کیا گل کھلاتے تھے۔۔!!
حقارت سے اُسے دیکھتا نفرت سے بولا تو مرجان آج شادی کے پانچویں دن اُس انسان کا گھٹیا بھیانک چہرہ دیکھ کر کراہت محسوس کر رہی تھی۔۔
“چچ چی افسوس اب میرے پاس ہو کر وہ بہانے نہیں کر سکتی تُم بیوی جو بے خوفی سے اپنے ماں باپ کے سامنے کیا کرتی تھی۔۔!!
افسوس کرتے ہوئے وہ معنی خیزی سے مرجان کے سرخ چہرے کی طرف دیکھنے لگا جو غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ہمارے بچے کا ہی خیال کر لے جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے۔۔!!
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی رو کر بولی۔۔۔
صبح جب اچانک سے اُسکی طبیعت خراب ہوئیں تو وہ روم سے جب باہر نکلی اور اچانک سے سر چکرانے کی وجہ سے وہ واشروم کی جانب بھاگی پھر جب زیادہ متلی سے حالت سخت بدحال ہوئی تو مجبوراً ماما کے ساتھ اُسے ہاسپٹل جانا پڑا اور جو خبر اسنے ڈاکٹر کے منہ سے سنی اسے سن کر ساکت رہ گئی تھی۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد خوشی سے آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے جہنیں دیکھ کر اسکی ماں نے پوچھا تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر گئی کہ یہ خوشی کی وجہ سے بہہ رہے ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ آنسو کیوں بہے تھے کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی شاید بچے کا سن کر نمیر بدل جائے لیکن یہ اسکی غلط فہمی تھی۔۔
“کونسا بچہ کس کا بچہ بیوی اور ابھی صرف پانچ دن ہوئے ہیں ہماری شادی کو صرف پانچ دن تو کہاں سے آگیا تمہاری کوکھ میں میرا بچہ ہاں بولو جواب دو۔۔!!
وہ شدت سے دھاڑتے ہوئے اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر نفرت سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی دھار پر سخت گھبرا کر اسے نم آنکھوں سے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جسے اتنا چاہتی تھی وہی آج اُسے اتنی بڑی گالی دے گا بلکہ اس لمحے مقابل کھڑا شخص اسے ایک پڑھے لکھے سے زیادہ جاہل لگ رہا تھا بلکہ جاہل سے بھی بدتر لگ رہا تھا۔۔۔
“نمیر آپ جاہلوں جیسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ اس پاک پروردگار کی دی ہوئی نعمت کو ٹھکرانا چاہتے ہیں۔۔!!
وہ رو کر بولی تو نمیر نے جھٹکے سے اسے پیچھے کیا تو وہ خود کو سنبھلتی ہوئی پیچھے جا کر بیڈ پر جا کر گری لیکن وہ خود کا تو نقصان کر سکتی تھی لیکن اپنے بچے کو کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی اس منہ کے بل گرنے سے پہلے وہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ چکی تھی۔۔
“یہ میرا بچہ نہیں ہے ہو ہی نہیں سکتا مرجان منیب سلطان۔۔!!!
غصے نفرت کی آگ میں جلتا وہ شخص یہ تک بھول گیا کہ سامنے کھڑی لڑکی کوئی اور نہیں اسکی بیوی تھی جبکہ وہ اپنے ہی شوہر کے منہ سے اپنے لیے گالی سن کر یک دم ساکت رہ گئی۔۔
“نن۔۔۔نہیں یہ بچہ آپ کا اور میرا ہے۔۔۔!!
وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے اس شخص کے پیر پکڑ کر روتی ہوئی بولی تو اس شخص نے حقارت بھری نگاہوں سے اپنی بیوی کو دیکھا اور پھر غصے کی زیادتی سے شدت سے اُسے خود سے دور کرتا غرایا۔۔۔
“نہیں بیگم یہ میرا نہیں تُمہارے اُس عاشق کا بچہ ہے ہماری شادی کو ابھی صرف پانچ دن ہوئے ہیں صرف پانچ اور تم آج کہہ رہی ہو کہ تم ماں بننے والی ہوں۔۔۔!!!
شدت نفرت سے اُسے دونوں شانوں سے پکڑ کر اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ نازک سی لڑکی اسکی سخت پکڑ اور لفظوں سے نڈھال ہوکر بے بسی سے سامنے کھڑے اپنے سخت ظالم بنے شوہر کو دیکھنے لگی جو آج اسے گالی دے رہا تھا اور یہ گالی وہ اسے نہیں بلکہ اپنے بچے کو بھی دے رہا تھا۔۔
“نن۔نہیں یہ بچہ ہمارا ہے مم۔میرا کوئی عاشق نہیں ہے آپ یقین کریں میرا نہ سہی پر پلیز اپنے بچے کیلئے ہی سہی وہ کیسے آپکی نفرت کو برداشت کرے گا۔۔۔!!
سرمئی نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر روتی ہوئی اپنے بچے کے لیے اسکے دل سے نفرت کو مٹانے کی کوشش کرنے لگی جو کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔
“نہیں مرجان بیگم جتنا میں نفرت تُم سے کرتا ہوں اتنا میں تمہارے اور اس بے غیرت انسان کے بچے سے کروں گا اور ہمشیہ کرتا رہوں گا اور آج۔۔۔!!
سرخ آنکھوں سے اُسے گھورتے ہوئے شدت نفرت سے بولا اور پھر تھوڑا سا ٹھہرا پھر گویا ہوا اور اب کی بار جب وہ بولا تو مرجان اسکے سخت لفظوں کو سنتی اپنی جان کو حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس کرنے لگی تھیں۔۔
“میں آج اور ابھی اسی وقت ہوش و حواس میں مرجان منیب سلطان تُمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔!!!
اُسکے دل پر چاقو سے وار کرتے ہوئے وہ اس وقت بلکل بھی نرم نہیں ہوا بلکہ ظالم بنا دوسری بار یہ الفاظ پھر سے دورانے لگا۔۔
“میں تُمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔!!
مرجان نے اپنی جلتی آنکھوں کو روتے ہوئے زور سے میچا جبکہ وہ ظالم بنا شخص اب آخری بار اس پر اپنے سخت لفظوں کی مار مارنے لگا۔۔۔
“میں تُمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔!!
شانوں سے گرفت ہٹا کر نفرت سے آخری نظر اُس کومل سی نازک لڑکی کو دیکھتا یہ لفظ کہتے پیچھے ہٹا جبکہ وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح نیچے فرش پر گری اور اپنی بربادی کا زور زور سے روتے ہوئے سوگ منانے لگی۔۔۔
“واہ ویری گڈ نائس نمیر لاشاری بہت خوب بہت اچھا کھیل کھلا تُم نے ہم سب کے ساتھ لیکن اب نہیں بہت ہوگیا میری کزن کو دھوکا دیا تُم نے اور ہمت کیسے ہوئی اُسے ہاتھ لگانے کی ہاں بتاؤ مجھے کیوں کیا ایسا یہ نکاح پیپرز پر اپنا اصل نام کیوں نہیں لکھا ہاں کیوں اُسکے ساتھ ناجائز رشتہ بنایا تُم نے زلیل کمینے انسان نہیں چھوڑو گا میں تُمہیں زندہ جلا ڈالو گا سنا تُم نے اس گھر کی ایک لڑکی کی زندگی تو میں نے بچا لی لیکن اپنی زندگی کو برباد ہونے سے نہیں بچا سکا صرف تُمہاری سازشوں کی وجہ سے نمیر لاشاری لیکن اب تُم یہاں سے اپنے پیرو پر نہیں جاؤ گے بلکہ کندھوں پر جاؤ گے۔۔!!
روم سے باہر ان دونوں کی آوازیں کب سے آ رہی تھی لیکن کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا تھا زارقم جو غصے سے گھر کے اندر داخل ہو رہا تھا اس گدھ کی آواز پر سخت طیش میں آکر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا اور ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ہاتھوں میں اس گدھ کی اصلیت اور اسکا جالی نکاح نامہ تھا جو اسنے مولوی سے جا کر لیا تھا اور جب مولوی سے جب اسنے اسکا اصل نام بتایا تو جو حقیقت اسے مولوی سے پتہ چلی وہ اسکے غصے کو تیز کرنے کے لیے کافی تھا۔۔
“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تُم میرا اور مرجان کا نکاح ہوا تھا میرا نام پورا لکھا ہے نکاح نامے میں تو اسکا مطلب کیا ہوا زارقم عباس سلطان۔۔۔؟؟
وہ پیپرز جھپٹ کر اس سے لیتا نکاح نامے کے اندر درج اپنے نام کو دیکھنے لگا جس پر صرف نمیر لکھا ہوا تھا ولد کا نام نہیں تو اسکا مطلب انکا نکاح نہیں ہوا تھا۔۔
“کہاں لکھا ہے تُمہارا پورا نام ہاں بتاؤ مجھے نمیر لاشاری۔۔؟
سخت نفرت سے سرخ ہوتی نظروں سے اُس گدھ نما انسان کو گھورتا وہ سرد لہجے میں سوال پوچھنے لگا جسکا جواب نمیر کے پاس نہیں تھا۔۔
“نکاح نہیں ہوا تھا تُمہارا اُسکے ساتھ یہ پتہ ہونے کے باوجود بھی پھر کیوں چھوا تُم نے جانور انسان بولو کیوں اُسے ہاتھ لگایا۔۔۔؟؟
زور سے مکا مارتے ہوئے اُسے نیچے فرش پر گرا کر وہ جنونی انداز میں اُسے پیٹتے ہوئے بار بار یہی لفظ دوراتے ہوئے سب کو وہ کوئی پاگل معلوم ہو رہا تھا آج برباد مرجان نہیں بلکہ وہ ہوا تھا اس لمحے وہ یہی سمجھ رہا تھا اور سامنے گرے شخص کو وہ جتنا مارتا کم تھا اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ اس انسان کو کسی چلتی ریل کے نیچے دھکا دے آئے۔۔
مرجان جو طلاق کے وار کو سہہ نا سکی تھی اب اس وار پر تو وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھی تھی جبکہ وہ پاگل جنونی سا نمیر کے اوپر جھکا اسے مار مار کر ادھ مرا کر چکا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“یقین نہیں آ رہا وہ ایسا کر سکتا ہے ہماری گڑیا کے ساتھ دا جی۔۔۔!!
زہاک عباس سلطان تاسف سے داجی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو داجی نے اپنی سرخ نظروں کو اوپر اٹھاتے ہوئے اسے سخت نظروں سے دیکھا تو وہ شرمندہ ہو کر اپنی نظریں جھکا گیا کیونکہ اس واقع میں اسکی بھی غلطی تھی اگر وہ داجی کو شادی کے لیے نا مناتا تو شاید آج مرجان کی زندگی برباد ہونے سے بچ جاتی وہ تو صرف اس ناسمجھ لڑکی کو کچھ کرنے کے ڈر سے یہ کر بیٹھا تھا اور جسکے اوپر اسے زیادہ مان تھا وہ ان سب کو اتنا بڑا دھوکا دے گا یہ اسنے سوچا نہیں تھا۔۔
“برخوردار یہ سب آپ کے ہی کہنے پر ہم نے کیا تھا کیا پتہ تھا وہ انسان انسان کہلانے کے قابل نہیں ہے اور ہماری بچی کی زندگی برباد کرنے میں کثر آپ کے ساتھ ہماری ناسمجھ بچی کے اوپر بھی ہیں آپ اگر ضد کر کے مجھے نا مناتے یا مرجان آپ کو دھمکی نا دیتی خودکشی کرنے کی تو شاید آج وہ بچ جاتی۔۔!!
اُنہوں نے شدید افسوس اور غصے سے کہا تو وہ خود کو گہری کھائی میں گرتا ہوا محسوس کرنے لگا سوچا نہیں تھا کہ یہ وقت بھی سلطان خاندان کو دیکھنا پڑے گا۔۔
“اب حالت کیسی ہے ہماری بچی کی ٹھیک تو ہے ناں وہ اور زارقم بچہ وہ کیسا ہے۔۔!!
اُنہوں نے یہ بات نظر انداز کرتے ہوئے بے قراری سے مرجان اور زارقم کے بارے میں پوچھا جو تین دنوں سے نا کچھ کھا رہے تھے اور نا ہی کچھ پی رہے تھے مرجان تو کہی مرتبہ اپنی بربادی کا سوچ سوچ کر اپنی حالت بگاڑ چکی تھی۔۔
“زارقم تو صبح سے ہی آفس میں ہے وہ سب کچھ بولنا چاہتا ہے اور خاندانی بزنس کو چلانا چاہتا ہے جبکہ مرجان دا جی جیسے وہ موو آن نہیں کرنا چاہتی وہ سارا دن پاگلوں کی طرح اپنے روم میں گھٹنے گھٹنے گزارتی ہیں باہر تو جیسے نکلنا بھول گئی ہے اور زارقم تو اسکا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتا ہے جیسے وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتا۔۔!!
ساری رپورٹ انہیں سنانے کے بعد وہ نظریں انکے پرسوچ چہرے پر گھاڑ کر دیکھنے لگا۔۔
“برخوردار اب ایک ہی حل ہے ہمارے پاس۔۔!!
نظریں اوپر اٹھا کر اپنے پوتے کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے تو وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔
“وہ کیا دا جی۔۔؟؟
نظریں ہنوز ان پر تھکائے پوچھنے لگا۔۔
“انکی شادی۔۔!!
وہ شادی لفظ سن کر جھٹکے سے انہیں دیکھنے لگا جو سامنے دیکھ رہے تھے وہ اچھے سے جانتا تھا کہ دونوں یہ کبھی نہیں مانے گے۔۔
“دا جی وہ کبھی نہیں مانے گے۔۔!!
اپنا خدشہ ان پر ظاہر کرتا وہ نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
“مجھے پتہ ہے مرجان بیٹی اتنی آسانی سے نہیں مانے گی لیکن تم زارقم عباس سلطان کو تو اچھے سے جانتے ہو برخوردار وہ اسکی ناں کو ہاں میں بدلنا اچھے سے جانتا ہے۔!!
وہ پرسرار نظروں سے اپنے بڑے پوتے کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے تو وہ انکی چالاکی پر خوبصورتی سے مسکرایا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“شرجیل یہ زہاک باس سے بھی زیادہ سخت باس ہے سنبھل کر ورنہ تمہاری حقیقت جان کر تمہیں باہر کا راستہ نا دکھا دے۔۔!!
وہ دونوں آہستگی سے اُس شخص کے آفس کی جانب بڑھ رہے تھے جس نے چند روز پہلے اپنا خاندانی بزنس سنبھالنے کا طے کیا تھا اور آفس میں آتے ہی ان سب کا جینا حرام کر دیا تھا اتنی سختی تو زہاک عباس سلطان نے بھی نہیں کی ہوگا جو یہ ظالم باس اُنکے ساتھ کر رہا تھا۔۔
“پتہ ہے راحیل اور تُم بھی ہاتھ تیزی سے چلاؤ اس جلاد کے آنے سے پہلے یہ ڈیٹا ہمیں زیدی انڈسٹری کے اونر تک پہچانا ہے۔۔!!
شرجیل نے آہستگی سے کہتے ہوئے اسے اندھیرے میں گھورا تو وہ جل بھن کر ہاتھ تیزی سے کمپیوٹر پر چلانے لگا یہ جانے بغیر کہ انکے علاؤہ بھی اس روم میں کوئی موجود ہے۔
“ہمممم ہوگیا راحیل آدم تمہارا کام۔۔۔؟؟
اپنے کندھے پر سخت دباؤ اور اُس جلاد کی آواز کانوں میں سور اسرافیل کی طرح سنتا وہ تھر تھر کانپنے لگا۔۔
“سر آپ۔۔!!
وہ لرزتے ہوئے اٹھا اور چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا جو سرخ چہرہ لیے شاید اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا۔۔
“ہاں راحیل آدم میں وہ تمہارا جلاد باس تُم دونوں کو کیا لگا تم دونوں زارقم عباس سلطان کی نظروں سے بچ سکو گے نہیں کبھی بھی نہیں میں دھوکے باز کو دور سے ہی پہنچان لیتا ہوں۔۔!!
وہ نفرت سے ان دونوں کو گھورتا دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر دو قدم پیچھے ہٹا وہ باس کے لُک میں اتنا ہینڈسم لگ رہا تھا جب وہ یہاں پہلی بار آیا تھا تو لڑکیوں کو کام کم اپنی طرف متوجہ زیادہ دیکھ کر غصے سے فی میل ورکز کو ہٹا کر صرف میل ورکز رکھنے پڑے تھے کیونکہ کام میں اُسے لاپرواہی ہرگز منظور نہیں تھا۔۔
“سر ہمیں معاف کر دے ہم سے بہت بڑی بھول ہوگئی آئندہ ہم دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گے۔۔!!
شرجیل نے روتے ہوئے نیچے جھک کر کہا لیکن وہ غصے سے پیر مار کر اسے خود سے دور کرتا دونوں کو آفس سے نکل جانے کا حکم دینے لگا۔۔
“اب یہ غلطی تم دونوں جا کر زیدی انڈسٹری میں کرنا یہاں تم جیسے دھوکے بازوں کے لیے کوئی ویکسین خالی نہیں ہے جاؤ دفعہ ہوجاؤ یہاں سے میرے آفس سے اور آج کے بعد سے تم دونوں ایس انڈسٹری کے آس پاس بھی نظر نہیں آنا ورنہ دیکھنے کے لائق بھی نہیں چھوڑو گا۔۔!!
وہ حقارت سے کہتا تیزی سے اپنے آفس سے باہر نکلا کیونکہ رات کے دو بچ رہے تھے اور سب آفس کے لوگ گھروں کے لیے شام پانچ بجے نکلے تھے وہ آج صرف ان لوگوں کی وجہ سے روکا تھا اسے پتہ تھا یہ آج ہی ڈیٹا نکالے گے۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
چھوٹے صاحب بی بی جی کو بہت تیز بخار ہے اور وہ کچھ نہیں کھا رہی ہیں۔۔!!
وہ آفس سے آتے ہی فریش ہو کر جب نیچے کھانا کھانے کچن میں داخل ہوا تو سامنے ملازمہ کو پریشانی سے دودھ گرم کرتے ہوئے دیکھتا اس سے پوچھنے لگا کیونکہ وہ خاص مرجان کی دیکھ بھال کرنے کیلئے دا جی نے اپنے گاؤں کی حویلی سے بلایا تھا۔۔
“کیا ہوا ہے اسے اور کیوں کھانا نہیں کھایا ہے اسنے اور یہ کب سے چل رہا ہے۔۔؟؟
وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر اس ملازمہ سے پوچھنے لگا اس کا دل تو چاہ رہا تھا اس نمیر کو پھر سے زندہ کر کے جان سے مار ڈالنے کا اس رات اسے بہت زیادہ مارنے کی وجہ سے وہ اسی وقت دم توڑنے کی وجہ سے مر گیا تھا۔۔
“تُم یہ سب رہنے دو میں دیکھتا ہوں۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور فریج سے پانی کی ٹھنڈی بوتل نکال کر لان میں کھلنے والے ڈور کی جانب بڑھا اور سر پر پانی پھینک کر خود پر بمشکل کنٹرول کرتا واپس اندر آیا تو ملازمہ کو گلاس میں دودھ بھرتے ہوئے دیکھتا اسے سخت سپاٹ لہجے میں کہتا آگے بڑھا اور گلاس پکڑ کر کچن سے باہر نکلا پورے ایک ماہ بعد وہ اس دشمنِ جاں کو دیکھنے والا تھا۔۔
“کیوں کھانے سے ضد باندھا ہے تم نے مرجان صاحبہ ہاں اب تمہارے پاس تو کھونے کے لیے صرف یہ بچہ بچا ہے کیا اب تم اسی بھی کھونا چاہتی ہوں۔۔!!
گلاس سامنے ٹیبل پر رکھتا وہ سرد لہجے میں بولا روم میں اندھیرے کی وجہ سے وہ سامنے بیڈ پر بے ترتیب لیٹے وجود کو سہی سے دیکھ نہیں سکا۔۔
“نہیں مم۔میں اپنے بچے کو نہیں کھونا چاہتی ہو بلکل بھی نہیں پر شاید کھو دو صرف تم جیسے مردوں کی وجہ سے ایک نے تو مجھے عشق کرنے کے نام پر برباد کرکے رکھ دیا اور دوسرا عشق نا کرنے کے جرم میں برباد کرنا چاہتا ہے۔۔۔”
اندھیرے میں نم آواز زارقم سلطان کو اپنی سماعتوں میں سنائی دیا تو وہ آواز کی تکلیف کو اپنے دل میں اترتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔
“برباد کسی نے نہیں مرجان بیگم برباد تم خود کو خود کرنا چاہتی ہو یہ ضد باندھ کر اگر خدا ناخواستہ اس معصوم بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے کچھ ہوگیا تو تم آخرت میں کیا جواب دو گے اسے ہاں بولو کیا کہوں گے۔۔!!
وہ اس عورت کی تکلیف کو آج بھی اپنے دل میں شدت سے محسوس کرتا تھا ہاں اب وہ عورت نامی مخلوق پر اعتبار کرنا کھو چکا تھا۔۔
“نہیں مجھے اپنی بربادی منظور ہے لیکن اپنے بچے کو کھونا نہیں چاہتی۔۔!!
وہ تڑپتی سسکتی ہوئی تیزی سے اٹھی اور پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھتی اسکے عین مقابل کھڑی ہو کر شدت سے روتی ہوئی بولی تو دروازے سے اندر ہلکی روشنی میں زارقم سلطان نے اسے دیکھا جو اجڑی ہوئی حالت میں اس کا دل کئی ٹکڑوں میں بانٹ چکی تھی۔۔
“تو آؤ میرے ساتھ اگر اپنے بچے کو کھونا نہیں چاہتی تو چلو میرے ساتھ۔۔!!
اپنا مضبوط ہاتھ اسکے سامنے پھیلا کر وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ ایک ماہ بعد اپنے سامنے کسی ایسے مرد کا ہاتھ پھیلے ہوئے دیکھنے لگی جسے اسنے اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے خود کھویا تھا اور انا کی تسکین کی خاطر اسے نیچا دکھاتے دکھاتے وہ خود گڑے میں گر گئی تھی۔۔
“کک۔کہاں۔۔؟؟
سرمئی آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرتی گھبرا کر بولی تو زارقم سلطان نے آگے بڑھ کر خود سفید نازک ہاتھوں کو اپنی مردانہ گرفت میں لیتا بغور اسکے مرجائے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔۔
“کورٹ۔۔۔!!
چار لفظی کہے کر وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسکے چہرے کے تاثرات کو جانچنے لگا جو خوف کی وجہ سے سخت لٹے کی مانند سفید ہوتا جا رہا تھا۔۔
