No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“میں نے اُس دن کوئی کانٹریک پیپرز پر سائن نہیں کیا تھا تو کیوں میں تُمہارے ساتھ رہوں۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں کہتی اُس ماسٹر مائنڈ انسان کو خون آشام نظروں سے گھورنے لگی جس کے گیم میں وہ پھنس کر اُسکی چال کو سمجھے جانے بنا غصے سے دو دن سے اُس شخص کے حکم مان رہی تھی۔۔
لیکن جب اُسے یاد آیا کہ اُسنے تو وہ کانٹریک پیپرز کو پڑھنے کے بعد غصے سے اُن پر سائن نہیں کیے تھے تو وہ کیوں اُس شخص کو اپنا مالک سمجھ بیٹھی تھی۔۔
“سائن نہیں کیے تو کیا ہوا اب کے کر لوں میں روکو گا نہیں بلکہ میں تو یہی چاہتا ہوں تُم میری میڈ بن جاؤ۔۔!؟
ضنافر حسن زیدی اُسکے نازک وجود کو بغور دیکھتا معنی خیزی سے بولا تو وہ سخت جلتی آنکھوں میں شعلے لیے انگلی اٹھا کر کہنے لگی۔۔۔
“میں تھوکو بھی نا تُم پر میڈ مائے فٹ۔۔!!
اُسکی بات پر ضنافر حسن زیدی اٹھا اور آہستگی سے اُسکی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا اُسکے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے وہ ابھی اسی وقت اُسکا خون کر دینا چاہتا ہوں تو وہ اسکے تاثرات سے ڈرتی تیزی سے پیچھے ہٹنے لگی اور وہ اُسکے پیچھے ہٹنے پر یکدم سے پرُسرار مسکرایا تو وہ اُسکی پرُسرار سی مسکراہٹ پر پیچھے صوفے پر جا گری۔۔
وہ اُسکے بے حد قریب آ کر دونوں ہاتھوں کو صوفے کے ہتھے پر رکھ کر اُسے اپنے حصار میں قید کرتا لبوں پہ وہی پرُسرار مسکراہٹ لیے چمکتی آنکھوں سے اُسکی بری طرح سے کانپ رہے نازک وجود کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔
“تھوکنا بھی سوچ سمجھ کر کیونکہ زبان کاٹنا میں اچھے سے جانتا ہوں مس صالحہ عرفان سلطان اگر زبان نہیں رہے گا تو تُم سب سے منہ چھپاتی پڑوں گی۔۔۔!!
وہ ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکی گلابی ہونٹوں کو چھو کر زومعنی لہجے میں کہتا اُسے سچ میں اپنے خطرناک لہجے سے ڈرا رہا تھا۔
“مم۔۔میں نہیں ڈرتی تُم سے پیچھے ہٹو۔۔!!
وہ بری طرح سے اٹکتی ہوئی کہتی اُسے خود کو نارمل دکھا کر جیسے یقین دلانے لگی کہ وہ اس سے ڈرتی نہیں ہے جبکہ اُسکی آنکھیں خوف سے پھیلی اُسے اسکی ڈر کو صاف ظاہر کروا رہی تھیں۔۔۔
“نہیں ڈرتی ہوں تو یہ چہرہ سفید کیوں پڑ رہا ہے میرے ایک غیر مرد کے قریب آنے پر اور اگر میں نے سچ مچ کچھ غلط کر دیا تو تم کیا کرو گی۔۔۔؟؟
لبوں کو چھیڑنے کے بعد وہ اب اُسی انگلی سے اُسکی شہ رگ کو چھیڑ رہا تھا تبھی مسکرا کر معنی خیز لہجے میں بولا تو وہ خوف سے مانو جیسے صوفے کے ہتھے پر چھڑنے لگی اور اُسکی یہ حرکت دیکھ ضنافر حسن زیدی کے ہونٹ مسکرانے لگے۔۔۔
“ہاں میں نہیں ڈرتی تُم جیسے دھوکے باز شخص سے تُم ایک گیم کھیل کر کیا سمجھ رہے ہو کہ میں بے وقوف بن جاؤ گی نہیں میں اتنی بے وقوف نہیں ہو۔۔۔!!
وہ بہادری سے اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تو ضنافر حسن زیدی اُسے دونوں شانوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر بغور اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“سچ میں تُم مجھ سے ڈرتی نہیں ہوں۔۔۔۔؟؟؟
وہ معنی خیز نظروں سے اُسکے نازک اندام وجود کو بغور دیکھتا پوچھنے لگا تو وہ اپنی وجود پر اسکی تیز نظروں سے خائف ہوتیں بری طرح سے سٹپٹا نے لگی۔۔
“نہیں۔۔!!
سختی سے آنکھوں کو میچتی اُسکی انگلیوں کو اپنی کمر پر سرکتے ہوئے شدت سے محسوس کرتیں ہوئے کپکپاہٹ پر قابو پاتیں نروس ہو کر بس اتنا بول سکیں۔۔
“ابھی پتہ چل جائے گا کہ تُم مجھ سے ڈرتی ہوں یا نہیں ڈرتی ہوں۔۔؟؟
مسکراہٹی آواز پر وہ سختی سے اُسکی کالر کو جکڑنے لگی تو خوف کی وجہ سے نازک سفید مومی صراحی دار گردن پر رگوں کو نمودار ہوتیں ہوئے دیکھ کر وہ اچانک سے نیچے جھکا اور رگوں کو چھو کر پیچھے ہٹا جبکہ اسکی اس بے باک حرکت پر سخت شعلے میں خود کو گرتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔
“ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تمہاری ہاں تُم اتنے بے شرم ہوں یہ تو میں اچھے سے جانتی ہو لیکن اتنے بے غیرت ہوگے یہ پتہ نہیں تھا میں دو دن سے یہاں رہ رہی ہوں تو صرف اس لیے کہ تُم ایک مشرقی مرد ہو عورت کی عزت کرنا اچھے سے جانتے ہو مغربی مردوں کی طرح انہیں ہاتھ لگا کر ناپاک عزائم لے کر انہیں بدنام نہیں کروں گے لیکن تُم تو ان سے بھی نیچ نکلے زلیل انسان۔۔!!
اُسکے چھونے سے تو جیسے وہ پاگل ہو گئی تھی شدید غصے سے اُسے خود سے پیچھے دھکیل کر سخت لہجے میں بولتی چلے گئی۔۔
“میں بے غیرت ہو تو نکاح کر لوں مجھ سے ورنہ میں اکیلے کا فائیدہ اٹھاؤ گا تو تُم روؤ گی اور عورتوں کا رونا مجھے سخت زہر لگتا ہے۔۔!!
آگے چل کر اُسے کمر سے جکڑ کر زور دیتے ہوئے کہنے لگا تو صالحہ اسکے چھونے پر شدید غصے سے سرخ ہوتی الٹے ہاتھ اسے روز سے تھپڑ مار کر پیچھے ہٹی۔۔
“تُم۔۔۔؟؟
اُس تھپڑ پر وہ شدید غصے سے اُسے گھورتے ہوئے غرایا تو وہ اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ پیچھے ہٹنے لگی تو وہ غصے سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر کہنے لگا۔۔۔
“میری نفرت سے مر جاؤ گی لڑکی۔۔؟؟
صالحہ عرفان سلطان اُس بات پر طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگی تو وہ اسکے اسطرح دیکھنے پر غصے سے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے مزید قریب کرتا ایک ہاتھ سے اسکی گردن کو سختی سے دبانے لگا۔۔۔
“تُم حرام موت مرنا چاہتی ہو تو پھر ٹھیک ہے مروں۔۔۔!!
گردن پر دباؤ بڑھا کر وہ سخت لہجے میں بولا اور صالحہ اسی طرح کھڑی اسے دیکھ رہی تھی اسے تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا جیسے وہ پاگل ہے خود سے کہہ رہا تھا۔۔
“اچھا ہے میں مر جاؤ گی تو ایک غیر مرد کے چھونے سے تو بچ سکوں گی۔۔!!
اُسکے چھوڑنے پر وہ کھانستی ہوئی بولی تو وہ غصے سے سرخ ہوتا اسے دیکھنے لگا۔۔
“اتنی آسانی سے تو میں تُمہیں مرنے نہیں دو گا پہلے بدلا پھر تُمہیں ماروں گا۔۔۔!!
پیچھے صوفے کی جانب دھکیل کر وہ سرد لہجے میں کہتا روم سے باہر نکلا تو صالحہ اسکے باہر نکلتے ہی تیزی سے صوفے سے اٹھی اور دروازے کی جانب بھاگی لیکن دروازہ باہر سے بند دیکھ وہ غصے سے زور زور سے دروازے کو پیٹنے لگی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“تُم بڈھی عورت چھوڑ مجھے ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔۔!!
نمیر سخت غصے سے پاگل ہوتا اپنے ہاتھوں کو رسیوں سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے سامنے کھڑی صفحہ حاکم زیدی سے کہنے لگا جو اپنے آدمیوں کی مدد سے اسے یہاں لانے میں کامیاب ہوئیں تھی۔۔۔
وہ سخت غصہ میں تھی کہ اسنے اتنا کچھ کیا اسے برا بنانے کے لیے تاکہ وہ بعد میں اسکے کام آسکے لیکن وہ آج کسی کام نا آیا یہ صفحہ حاکم زیدی کے لیے سخت آگ میں جلنے کا کام کر رہا تھا کہ اسکا یہ پوتا کسی کام نہیں آیا۔۔۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے مرنے کی تمہیں ہاں پہلے اپنی ماں سے تو مل لوں میرے پیارے سے پوتے۔۔!!
وہ طنزیہ انداز میں کہتی آگے بڑھی اور سختی سے اسکی ٹھوڈی کو اوپر اٹھا کر سرد لہجے میں بولیں۔۔
“کیا مطلب بڈھی میں تمہارا پوتا۔۔۔؟؟
نمیر نے حیرت سے اس عورت کو گھورا جو اُسے اس وقت پاگل لگ رہی تھیں۔۔۔
“ہاں میں تمہاری دادی لیکن بہت بری ہو اتنی بری کہ اپنے ہی بیٹے کو دولت کے لیے مار ڈالا اب تُمہیں بھی مار ڈالو گی اسکے بعد تمہارے جڑواں بھائی ضنافر حسن زیدی کو اور تمہاری ماں کے آگے دونوں بہنوں کو جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔!!!
وہ سفاکیت سے بولیں تو نمیر اپنی ماں کا سن کر اس عورت کی جانب غصے سے دیکھنے لگا جو اسکی سگی دادی تھی لیکن اس سے بھی زیادہ بری اُسے نفرت سی ہونے لگی تھیں اس عورت سے جس نے پیسوں کی خاطر اپنے بیٹے کو مار ڈالا اور اسے اور اسکی بہنوں اور جڑواں بھائی کو یتیم کر دیا تھا۔۔۔
“میری ماں کہاں ہے بتاؤ ورنہ میں زندہ نہیں چھوڑو گا تُمہیں بڑھیا۔۔۔!!
سخت درشت لہجے میں کہتا وہ زور زور سے رسیوں سے خود کو آزاد کرنے لگا اور وہ یہ دیکھتی زور زور سے پاگلوں کی طرح قہقہہ لگانے لگی۔۔۔
“ہنسو مت بتاؤ میری ماں کہاں ہے ورنہ میں تمہارے سبھی دانتوں کو ایک ایک کر کے توڑ دو گا ڈائن عورت تم تو مجھ سے بھی گری ہوئی نکلی میں تو اپنی ماں کی ممتا سے ترسنے کی وجہ سلطان سے بدلا لے رہا تھا لیکن تم نے تو ان پیسوں کے لیے اپنے سگے بیٹے کو مار دیا بولو کیا ملا تمہیں ہاں کچھ ہاتھ آیا نہیں ناں اب کیا فائیدہ ان جائداد کا ہاں کسی دن تو مر جاؤ گی یہ سوچا ہے تم نے نہیں کہا سوچا ہوگا جانتا ہوں بدلے کی آگ میں جلنے والا اپنی سوچ بچار کو چھوڑ دیتا ہے جیسے میں نے چھوڑ دیا تھا۔۔۔!!
رسیوں کو جھٹکے سے کھول کر ہٹاتے ہوئے غصے سے صفحہ حاکم زیدی کی طرف بڑھا اور اسے گردن سے دبوچ کر دھار اٹھا۔۔۔
“چھوڑو مجھے بدتمیز میں تمہاری دادی ہو بڑی ہو تُم سے شرم کروں۔۔۔!!
وہ بری طرح سے کانپتی ہوئی رک رک کر بولیں نمیر اسکی بات پر طنزیہ ہنسا اور زور سے دباؤ بڑھانے لگا۔۔
“تُمہیں شرم آیا تھا اپنے بیٹے کو قتل کرتے وقت ہاں بڑھیا۔۔؟؟
نمیر اس کی بات پر سخت غصے سے اسکی گردن کو دباتے ہوئے کہنے لگا تو صفحہ حاکم زیدی سخت پکڑ پر اپنی سانس کو بند ہوتیں ہوئے محسوس کرنے لگی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“اگر نہیں چاہتی کہ میں تُم سے کوئی زبردستی کرو تو جاؤ اور جا کر یہ سوٹ پہن کر آؤں ورنہ تُم اچھے سے جانتی ہو کہ میں کتنا بے شرم ہو شرماؤ گا نہیں اور خود یہ کام کر دو گا۔۔!!!
ایک کریم کلر کی خوبصورت سوٹ اُس کے سامنے پھینکتے ہوئے وہ آخر میں اسکے نازک وجود کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے کہنے لگا تو صالحہ اسکی نظروں سے جلدی سے وہ سوٹ اٹھاتی کچھ بھی کئے بغیر واشروم کی جانب بڑھی۔۔۔
“یہ سوٹ میں نے اس لیے پہنا ہے کیونکہ تُمہاری نیت کو تھوڑی دیر پہلے میں اچھے سے جان چکی ہو کہ تم کتنے بڑے بے غیرت انسان ہو کچھ بھی کر سکتے ہو اسی لیے اپنی عزت کی حفاظت کے لیے میں نے چپ چاپ پہن لیا تمہارا یہ لایا ہوا گھٹیا لباس۔۔!!
لباس تو گھٹیا نہیں تھا بلکہ بہت ہی عمدہ اور لاجواب تھا پردے کا تو خاص خیال رکھا تھا اس نے لیکن وہ جانتی تو نہیں تھی کہ اُس شخص نے اسے یہ سوٹ کو پہننے کے لئے کیوں دیا ہے لیکن اُسکی دھمکی دینے پر وہ ڈر گئی کیونکہ تھوڑی دیر پہلے جو اُسنے بے شرمی کیا تھا اسکے ساتھ وہ اب وہ نہیں چاہتی تھی اسی لیے چپ چاپ وہ سوٹ اٹھا کر واشروم کو چھینج کرنے بڑھی تھی۔۔
“پوچھو گی نہیں کہ میں نے یہ لباس تمہیں کیوں پہننے کے لئے دیا ہے ۔۔؟؟
وہ قدم اُسکی جانب بڑھاتا اپنی بے باک نظروں سے اسکے نازک سراپے کو دیکھنے لگا جو اُس سوٹ میں ملبوس اُسے پھر اکسا رہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ کچھ کرے لیکن وہ خود پر کنٹرول کرتا معنی خیزی سے بولا۔۔
صالحہ عرفان سلطان اُسکے قدموں سے سٹپٹا کر پیچھے ہٹ رہی تھی کہ اسکی نظروں سے نروس ہوکر وہ سر پر اوڑھے سُرخ چُنی کو درست کرنے لگی۔۔
“کیوں پہننے کو دیا ہے اور وہی کھڑے رہو ورنہ قتل کر دو گی میں تمہارا۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں کہتی انگلی اٹھا کر اُسے روکتی ہوئی پاٹ دار آواز میں پوچھنے لگی تو وہ اُسکے روکنے پر مسکراتے ہوئے رکنے کے بجائے آگے بڑھنے لگا۔۔
“چی اپنے ہونے والے شوہر کا قتل کروں گی افسوس۔۔!!
نفی میں سر ہلا کر افسوس کرتا وہ معنی خیزی سے اسے دیکھنے لگا اور اسکے قریب پہنچ کر اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے گیلے بالوں کو چھیڑنے لگا۔۔۔
“ہونے والے شوہر۔۔!!
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی ہوئی بولی تو اسکی پھٹی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معنی خیزی سے سر ہاں میں ہلانے لگا ۔
“ہاں نکاح کرنے والا ہوں تم سے بہت ہوگیا یہ چوہے بلی والا گیم اب شیروں کی طرح کھیلتے ہیں اور اس میں بہت مزا آئے گا۔۔!!
اُسکے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے کہنے لگا لہجہ سخت گیر تھا تو نظریں بے باک اُسکے وجود کو چھو کر اسے ستائے جا رہی تھی اور وہ خود اسکے بری طرح سے سٹپٹانے پر محظوظ ہو رہا تھا۔۔
“شٹ اپ میں تُمہاری میڈ بننے کو تیار نہیں ہو بیوی تو دور کی بات ہے اور تُم جیسے شخص کی بیوی بننے سے تو بہتر ہے کہ میں کسی راہ چلتے سے شادی کر لوں۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اپنے آپکو چھڑانے لگی جبکہ وہ اسکی بات پر سخت غصے سے پاگل ہوتا اسکی کمر پر سختی سے دباؤ بڑھانے لگا تو وہ سخت تکلیف کے باعث اپنی سرخ نم آنکھوں کو اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو بے رحم بنا دباؤ کم کرنے کے بجائے اور زیادہ بڑھا رہا تھا۔
“نہیں مجھے رحم نہیں آ رہا تم پر صالحہ عرفان سلطان جتنا تم معصوم بننے کی کوشش کروں اتنا میری نفرت کو بڑھاؤ گی۔۔!!
غصے سے دوسرے ہاتھ کو آگے بڑھا کر اسکی ٹھوڈی کو سختی سے جکڑ کر سرد لہجے میں بولا جبکہ صالحہ تکلیف سے سرخ چہرہ لیے ایک ہاتھ سے اسکے ہاتھ کو اپنی تھوڈی کے اوپر سے ہٹانے لگی تھی۔۔۔
“تو کس نے کہا ہے رحم کھانے کو مت کھاؤ مجھے تُمہاری رحم بھیک میں بھی نہیں چاہے سنا تُم نے۔۔!!
وہ بے رحم بنا ہوا تھا تو وہ بھی بے رحمی پر اتر آئی تھی اور شدید غصے سے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھتی ہوئی اسے خود سے دور دھکیل کر سرد لہجے میں بولی۔۔۔
“نکاح کے بعد سوچو گا کہ تُمہارے ساتھ کیا کرنا ہے بس نکاح تو ہونے دو۔۔۔!!
وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا تو وہ بھی اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“مبارک ہو صالحہ ضنافر حسن زیدی بننے کے لیے بیگم۔۔۔!!
نکاح نامے پر دستخط کرنے کے بعد وہ سخت نظروں سے سامنے بیٹھے اُس شخص کو گھورنے لگی جو اب اسکی زندگی کا مالک بن بیٹھا تھا اُسے تو ایسا لگ رہا تھا کہ اسنے سائن نکاح نامے پر نہیں بلکہ اپنے آزادی کو اس شخص کے نام کر دیا ہے اور وہ فتح مندی سے بیٹھا اسے گھور رہا تھا مسکرا کر اٹھا اور آگے بڑھ کر اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے دونوں شانوں سے پکڑ کر اُسے اوپر اٹھاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
“تمہیں بھی بہت مبارک ہو اپنی زندگی کو حرام بنانے کے لیے مسٹر ضنافر حسن زیدی۔۔۔!!
وہ بھی طنزیہ ہنستی ہوئی بولی تو وہ اُسے پیچھے دھکیل کر حقارت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“میڈ کی حیثیت رکھتی ہو تُم تمہیں چھونا تو اب میں گناہ سمجھتا ہوں سو میرے پاس بھی مت آنا آج کے بعد ورنہ انجام کی زمہ دار تُم ہوگی۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو پیچھے صوفے پر گری اُسے خون آشام نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔
“مجھے پتہ تھا کہ میری حیثیت تُمہاری نظروں میں یہی ہوگی مجھے افسوس نہیں بلکہ خوشی ہے کہ تُم مجھے بیوی نہیں سمجھتے ورنہ اگر یہ نکاح عشق کے لیے تم نے کیا ہوتا نا تو میں ضرور ڈرتی تُم سے کیونکہ تُم ایک بدتمیز انسان ہو عشق کو پانے کے لیے کچھ کر سکتے ہو تو اپنا بنانے کے لیے پتہ نہیں کیا کیا کرتے پڑتے شکر ہے میں تمہاری پسند نہیں ورنہ اپنے آپ کو تم سے محفوظ رکھنے کے لیے پتہ نہیں کیا کیا مجھے کرنا پڑتا۔۔!!
وہ طنز کرتیں ہوئے بولی تو ضنافر اسکی بات پر سخت شعلے میں خود کو گرتا ہوا شدت سے محسوس کرتا آگے بڑھا اور اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر اوپر اپنے قدموں پر کھڑا کرتے ہوئے اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر اپنی گرفت میں لے کر بری طرح سے جکڑتے ہوئے غصے سے وہ اُسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھانے لگا۔۔۔
“تُم اور میری عاشقی ہاہاہاہاہاہاہا ہاؤ فنی تُم تو میری نفرت کے بھی قابل نہیں ہو سمجھی۔۔۔!!
اُسے بے رحمی سے پیچھے صوفے پر دھکا دیتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا وہ دونوں ہاتھوں کو صوفے کے ہتھے پر رکھ کر اسے دیکھنے لگا جو ہونٹوں کے کنارے سے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی اُسے سخت غصے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“نفرت کے قابل نہیں ہو تو پھر میں یہاں کیا کر رہی ہو ہاں بتاؤ مجھے اگر نفرت بھی نہیں کرتے ہو تو جانے دو ناں۔۔؟؟
وہ اپنی جگہ سے سخت طیش کے عالم میں اٹھی اور اسے سختی سے کالر سے پکڑ تی ہوئیں بُری طرح سے جھنجھوڑ کر پوچھنے لگی۔۔۔
“نفرت نہیں کرتا میں تُم سے نا ہی محبت اور جو یونی ورسٹی میں اظہار کرتا تھا نا تو وہ صرف تُمہیں اپنے جال میں پھانسنے کے لیے کرتا تھا ورنہ ضنافر حسن زیدی اتنا سستا نہیں ہے کہ اپنے دشمنوں سے عاشقی جیسے روگ کو پالتا۔۔۔!!!
وہ اپنے کالر پر رکھے اُسکے دونوں ہاتھوں کو کلائیوں سے جکڑ کر سخت لہجے میں کہتا دونوں کلائیوں کو زور سے جھٹک کر نیچے کرتا ہوا وہاں سے نکلنے ہی والا تھا کہ اُسکے فون کا رنگ ٹون زور وشور سے بچنے لگا تو وہ کال کو نظر انداز کرتا نکاح خواں کو لیے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یہ تُم کیا کہہ رہے ہو آکا بی ٹھیک تو ہے ناں اور یہ سیکورٹی وہ کہا مرے تھے اس وقت جب ان پر اٹیک کیا ہے اس انسان سے ہاں۔۔۔؟؟؟
نکاح خواں کو فارغ کرنے کے بعد وہ کب سے بچتے فون کو اٹینڈ کرنے کے بعد سخت غصے سے کسی سے باتیں کرتے ہوئے گھر سے باہر نکلا جبکہ صالحہ جو ساکت بیٹھی ہوئی تھی اسکی غصیلی آواز پر نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو غصے سے گھر سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔
“میم آپ روم میں جا کر ریسٹ کرے سر ایک کام کے سلسلے پاکستان جا رہے ہیں۔۔۔!!!
اُسکے سیکرٹری کی بات پر وہ سخت نظروں سے اسے گھورنے لگی پھر اپنی جگہ سے اٹھی اور روم میں جانے کے بجائے اسکے سامنے کھڑی ہوئیں۔۔۔
“کیا مطلب وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر کیسے یہاں سے پاکستان بھاگ سکتا ہے ہاں میں تو اب اُسکی بیوی ہو میڈ نہیں جو مرضی وہ کرے گا اب میں اسکی زندگی میں آئی ہو تو اُسے میرے متعلق بھی سوچنا پڑے گا جاؤ اور اُسے کہوں کہ جب تک وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر نہیں جائے گا یہاں سے نکلنے کا سوچے بھی نا ورنہ میں کیس کر دو گی اُس پر اور وہ اچھے سے جانتا ہے کہ یہاں کتنی سختی ہے جب کوئی شوہر بیوی کا خیال نہیں رکھتا تو یہاں کی سرکار اُسے کتنی کڑی سزا دیتے ہیں۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اُسے آخر میں حکم دینے لگی تو سیکرٹری اسکی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگا جو اُسے باس سے بھی سخت لگ رہی تھی۔۔۔
“میم آپ سمجھیے ناں ورنہ باس مجھے جان سے مار ڈالے گے اور جاب سے الگ نکال دے گے پلیز آپ اپنے روم میں جا کر ریسٹ کرے۔۔۔!!
سیکرٹری نے ڈرتے ہوئے اس سے دوبارہ منت بھرے انداز میں کہا۔۔
“تُمہارا باس کیا جلاد ہے جو تُمہیں پھانسی پر چڑھائے گا جو تُم اس سے اتنا ڈر رہے ہو جاؤ اور جاکر اُسے میرا پیغام پہنچاؤ ورنہ اُسکی جگہ میں جلاد بن جاؤ گی۔۔!!
وہ سامنے کے صوفے پر جاکر آرام سے بیٹھتے ہوئے اُسے حکم کے ساتھ ڈرانے بھی لگی تو وہ ڈر کر تیزی سے گھر سے باہر نکلا۔۔۔
