47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“دا جی میں کیسے اُن سے شادی کر سکتی ہوں۔۔؟؟؟
سرخ خوبصورت لہنگے میں ملبوس وہ سامنے صوفے پر بیٹھے داجی سے بولی جو نمیر سلطان کے نکاح والے دن غائب ہونے پر سخت غصے میں لگ رہے تھے۔۔
“جیسے پہلے نمیر سلطان سے کر رہی تھی آپ ژالے بیٹا اسی طرح۔۔۔!!
اُنہوں نے اپنے گلاسز کے پیچھے سے ژالے کو اچٹی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو ژالے سخت غصے سے اپنے پیر پٹک کر سامنے بنے ڈریسنگ روم کے اندر گھسی جبکہ زہاک سلطان جو دا جی سے مہمانوں سے کیسے نبٹنا ہے یہ پوچھنے آئے تھے لیکن یہاں یہ سب دیکھ کر وہ سپاٹ چہرے کے تاثرات کو چھپا کر اندر بڑھے۔۔۔
“دا جی اب مہمانوں سے کیا کہے گے۔۔؟؟
انہوں نے پر سوچ نظروں سے دا جی کو دیکھا تو دا جی نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی اور پھر گویا ہوئے۔۔۔۔
“زہاک بچے ایک اوپشن ہے سلطان خاندان کی عزت کو خاک میں ملانے سے بچانے کے لیے اگر تم راضی ہوئے تو بسم اللہ۔۔!!
داجی کی بات پر وہ نا سمجھی سے اُنہیں دیکھنے لگے جو اب صوفے سے اٹھ رہے تھے۔۔
“وہ کیا۔۔۔؟؟
انہوں نے ترچھی نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکرائے اور اُنکے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“زہاک میرے بچے اب اس خاندان کی عزت صرف تمہارے ہاتھوں ہے بیٹا تم کر لو نا ژالے سے نکاح۔۔۔!!
انکی بات پر زہاک سلطان ساکت رہ گئے جبکہ ژالے کی ماں اور باپ نے شاکڈ نظروں سے دا جی کو دیکھا جبکہ زہاک سلطان کی ماں زویا سلطان نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔۔
“دا جی میں کیسے آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا میرا تین سال کا بیٹا ہے میں کیسے ژالے سے نکاح کر سکتا ہوں اور ژالے بھی مجھ سے عمر میں بہت چھوٹی ہے۔۔۔!!
اُنہوں نے تاسف سے داجی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“صرف چھ سال وہ تم سے چھوٹی ہے اور تمہاری بیوی کو مرے تین سال ہو چکے ہے اور بیٹے کو اسی بہانے ماں کا پیار بھی ملے گا اور آپکو بیوی کا بیٹا مان جاؤ ہمارے پاس کوئی اوپشن نہیں ہے اور زارقم سلطان بھی یہاں نہیں ہے اگر وہ یہاں ہوتا تو ہم سوچتے اسکے بارے میں لیکن وہ یہاں نہیں ہے۔۔!!
انکے بے حد سمجھانے پر آخر کار وہ مان گئے بھی تو صرف اپنے خاندان کی عزت کو بچانے کے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جبکہ اب داجی ایک مشکل کام نبٹانے کے بعد دوسرے کو نبٹنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ۔۔۔
داجی کیا میں ژالے سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں۔۔؟؟
انہوں نے سنجیدگی سے داجی کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو داجی انکی بات پر مسکرا کر سر ہاں میں ہلا کر اپنے پیچھے اپنے بہوں اور بیٹوں کو آنا کا کہتے روم سے باہر نکلے جبکہ وہ انکے باہر نکلتے ہی سامنے صوفے پر شان سے بیٹھے اور ژالے کا ڈریسنگ روم سے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگے۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“دا جی میں نے کہہ دیا تو کہہ دیا کہ میں ان کھڑوس اور اکڑ بکڑ جیسے انسان سے کسی صورت شادی نہیں کرو گی ہاں آپ میرا نکاح کسی راہگیر سے تو کرا سکتے ہیں لیکن ان سے میں مر کر بھی نہیں کروں گی۔۔۔!!!
دوسری جانب رخ موڑ کر کھڑی وہ اندر آنے والے کو دا جی سمجھ کر چٹخ کر بولی جبکہ وہ جو ڈریسنگ روم کے اندر داخل ہو چکے تھے اُس کی راہگیر والی بات پر غصے سے اسے دیکھنے لگے۔۔
“مس ژالے منیب سلطان ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے أپ جیسی بد دماغ بد تمیز لڑکی سے نکاح کرنے کی یہ فیصلہ دا جی کا ہے اور میں صرف انکی وجہ سے کر رہا ہوں اور اپنی خاندان کی عزت بچانے کی خاطر سمجھی آپ۔۔!!
انہوں نے شدید غصے سے کہا تو ژالے انکی آواز پر جھٹکے سے پیچھے مڑی تو انہیں وہاں دیکھتی سخت شاکڈ رہ گئی۔
“آپ۔۔۔؟؟
وہ اب اپنی کہی گئی باتوں سے شرمندہ ہو کر بس اتنا بولی جبکہ وہ شدید سنجیدگی سے غور سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
“ہاں میں کیا۔۔۔؟؟
اُنہوں نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ تھوک نگل کر آگے بڑھی اور سر جھکا کر بولنے لگی۔۔
“کیا آپ نکاح سے انکار کر سکتے ہیں یا مجھے یہاں سے گھر ڈراپ کر سکتے ہیں میں نمیر کے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔۔!!
وہ امید سے انہیں دیکھتی کہنے لگی تو اسکی بات پر وہ سخت نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔
“دماغ خراب تو نہیں ہوگیا ہے تمہارا لڑکی نمیر وہ چلا گیا ہے اور اگر نکاح نہیں ہوا تو سلطان خاندان کی بدنامی ہوگی کیا تم بدنامی چاہتی ہو یا عزت۔۔!!
ایک تو اُنہیں اپنے بھائی پر شدید غصہ آ رہا تھا جو نکاح کے دن پتہ نہیں کہا چلا گیا تھا اور اوپر سے ژالے کی بچکانہ باتیں۔۔۔
“میں کچھ نہیں جانتی آپ بس اس نکاح سے انکار کر دے۔۔!!
وہ ضدی لہجے میں کہتی غصے سے انہیں۔ گھورنے لگی۔۔
“بچی نہیں ہو ژالے منیب سلطان تم جو اس سچویشن کو سمجھ نہیں سکتی۔۔!!
انہوں نے آپے سے اتر کر شدید غصے سے کہا جبکہ اسے ہاتھ لگانے کی وہ گستاخی ہر گز نہیں کرنا چاہتے تھے وہ عورت پر ہاتھ اٹھانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔۔
“اب شرافت سے تیار ہو کر بیٹھ جاؤ مولوی صاحب ابھی آئے گے نکاح پڑھانے تو جواب ہاں میں ہونا چاہیے اگر تمہارے منہ سے ہاں کے بجائے ناں نکلا تو میں اسی وقت تمہیں جان سے مار دو گا۔۔!!!
انہوں نے سختی سے اسے وارن کرتے ہوئے کہا تو وہ بے بسی سے وہی کرسی پر گر سی گئی جبکہ وہ اپنی بات کہہ کر وہاں سے کب کے نکل چکے تھے۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
وہ اسٹیج پر اُنکے ساتھ بیٹھی آنکھوں میں نمی لیے مولوی صاحب کے پوچھنے پر پرشکوہ نظروں سے سامنے صوفے پر بیٹھے دا جی کو دیکھنے لگی جو اُسکو نہیں بلکہ اپنے پوتے کو محبت سے دیکھ رہے تھے۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
مولوی صاحب کے دوباره سے پوچھنے پر ژالے کی خوبصورت سرمئی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر نیچے اُسکی گود میں رکھے سرخ حنائی ہاتھوں پہ جا گرا۔۔
“ژالے منیب سلطان تُم صرف میری ہو صرف اور صرف نمیر عباس سلطان کی اگر کسی نے تُمہیں مجھ سے جدا کیا نا تو میں مر جاؤ گا۔۔!!
ژالے کی کانوں میں کچھ دن پہلے اُس کی کہی بات گونجی تو وہ سر نفی میں ہلاتی کانپتی ہوئی اٹھنے ہی والی تھی کہ۔۔
“ژالے منیب سلطان تُم یہاں سے اٹھی تو سلطان خاندان کی بدنامی ہوگی اور مجھے یقین ہے تُم مر تو جاؤ گی لیکن اپنے خاندان کی عزت کو خراب نہیں کروں گی۔۔!!
اُنہوں نے سرعت سے اُسکی گوری کلائی کو سختی سے اپنی مضبوط مردانہ ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور زور سے دبا کر بھاری آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔
“قبول ہے۔۔!!
تو ژالے نے بے بسی سے اُنکے خوبرو چہرے کی جانب دیکھا جو اِس وقت بلکل سپاٹ تھا اور سرخ بھوری آنکھیں سامنے اپنے بابا عباس سلطان کی گود میں اپنے بیٹے ثمر سلطان کی جانب تھی جو ابھی صرف تین سال کا تھا تبھی سب بڑوں کو دیکھتی وہ آنسوؤں کو بہا کر ہلکی آواز میں کہنے لگی۔۔
“قبول ہے۔۔!!
قبول ہے۔۔!!
دوسری تیسری بار مولوی صاحب کے پوچھنے پر وہ اپنے بابا کو دیکھتی ہوئی نم آواز میں سر ہلانے لگی تو اسکے جواب دینے کے بعد اور سائن کرنے کے بعد مولوی صاحب نے اپنا رخ زہاک سلطان کی جانب کیا اور انکے جواب دینے پر انہوں نے انکے آگے ٹیبل پر نکاح نامہ سائن کرنے کے لیے رکھا تو وہ آگے جھکے اور سنجیدگی سے سائن کرنے لگے۔
“نمیر میرے بچے۔۔!!
اُنکے نکاح نامے پر سائن کرتے ہی اُنکی نظریں جب سامنے ہال کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتیں اپنے چھوٹے بھائی نمیر سلطان پر پڑی جو سر پر پٹی اور ہاتھ پر بینڈچ باندھے لنگڑاتے ہوئے اندر آ رہا تھا وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھے اور اُسکی جانب ڈورے۔۔
“یہ آپکی حالت کس نے کی ہے نمیر میرے شیر۔۔؟؟
وہ پریشانی سے اپنے چھوٹے بھائی نمیر سلطان کو دیکھتے ہوئے اُسکی سر اور ہاتھ پہ لگے بینڈچ کی جانب اشاره کرتے شدید غصے سے بولے تو نمیر سلطان کی نظریں جب سامنے ژالے پر پڑی جو اسٹیج پر صوفے پر سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھیں وہ اُنکے سوال کو نظر انداز کرتا لنگڑا کر اسٹیج کی جانب آہستگی سے بڑھنے لگا۔۔
“ژالے یہ ن۔نکاح نامہ۔۔۔؟؟
وہ جب اسٹیج کے اوپر پہنچا تو سامنے ٹیبل پر رکھے نکاح نامے پر اُسکی نظر پڑی تو وہ اُسے دیکھتے ہوئے اشاره کرتا گھونگھٹ میں چہرہ چھپائے اور سر جھکا کر آنسوؤں بہاتی ژالے سے بے یقینی سے پوچھنے لگا۔۔
“نمیر سلطان ہماری بچی کا نکاح تُمہارے بڑے بھائی زہاک عباس سلطان سے ہوا ہے صرف تُمہاری اِس گھٹیا حرکت کی وجہ سے کیوں بھاگے تُم ہاں۔۔!!
اور اب کیا لینے آئے ہوں دفعہ ہو جاؤ ہماری نظروں کے سامنے سے زہاک بچے اسے نکالو یہاں سے ابھی کے ابھی ورنہ میرا مرا ہوا منہ دیکھوں گے تُم سب۔۔؟؟
دا جی جو اسٹیج پر کھڑے تھے نمیر سلطان کی ابتر حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھے اور سخت غصے سے بولیں۔
“دا جی۔۔!!
نمیر سلطان نے ژالے کا اپنے بھائی کے ساتھ نکاح کا سنا تو وہ داجی کی جانب تڑپ کر آگے بڑھا تو اُنہوں نے غصے سے ہاتھ اٹھا کر اُسے آگے آنے سے روکا۔۔
“نام مت لوں ہمارا اپنی زبان سے مر چکے ہو تُم ہمارے لیے۔۔!!
اُنکی بات پر نمیر سلطان کے ساتھ زہاک سلطان بھی تڑپ کر رہ گئے اور ژالے نے گھونگھٹ کے پیچھے سے نمیر سلطان کو شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔۔
“بھائی آپ سمجھائے ناں دا جی کو میں بھاگا نہیں تھا میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے مجھے ابھی ہوش آیا تو میں اپنی پرواہ کیے بغیر صرف اپنی ژالے کے لیے یہاں آیا لیکن۔۔!!
وہ بے بسی سے زہاک سلطان سے کہتا ژالے کی جانب دیکھنے لگا جو ابھی تک اپنا چہرہ گھونگھٹ میں چھپائے اسٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔
“وہ انجانے میں ہی سہی لیکن اب وہ آپ کی بیوی بن چکی ہے زہاک بھائی میری ژالے صرف ایک ایکسیڈنٹ کی وجہ سے مجھ سے کھو گئی ہے۔۔!!
وہ اپنا ضبط کھو کر نیچے گرا اور سر پر ہاتھ رکھے پاگلوں کی طرح روتے ہوئے کہنے لگا تو زہاک سلطان نے تاسف سے اُسے دیکھا اور پھر پیچھے پلٹ کر ژالے کو دیکھا جو ہچکیاں لے لے کر ہلکی آواز میں شاید گھونگھٹ کے پیچھے رو رہی تھی۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“شششش ثمر بے بی پلیز چپ ہو جائے شششش۔۔!!!
ابھی تھوڑی دیر پہلے جو اُسکے ساتھ ہوا تھا وہ ان سب کو بھلائے صرف اس معصوم کیلئے عیجب حرکتیں کر کے اُسے ہنسانا چاہتی تھی لیکن وہ بے چاره معصوم زور زور سے روتے ہوئے صرف ڈیڈ ڈیڈ کر رہا تھا۔۔
“یہ بنده کیسے اپنے بیٹے کو یہاں اکیلا چھوڑ کر جا سکتا ہے مانتی ہوں کہ اِس وقت نمیر کے پاس اُنکا رہنا زیادہ ضروری ہے لیکن اتنے بھی بھولکڑ نہیں ہے کہ وہ اپنے ہی بیٹے کو بھول جائے اچھے خاصے سمجھدار ہے پھر اپنے ہی خون کو یوں کسی غیر کے ہاتھوں سونپ کر وہ کیسے جا سکتے ہیں۔۔؟؟
وہ اپنی حنائی ہاتھوں سے ثمر کو سنبھالتی ہوئی خود سے بڑبڑائی جو اپنے بیڈ روم کے اندر داخل ہوتے اُنہوں نے سن لیا جس کی وجہ سے اُنکے عنابی لبوں پر ٹیشن کے باوجود بھی تین سالوں بعد ایک خوبصورت مسکراہٹ کھلی۔۔
“کیونکہ محترمہ وہ غیر ہاتھ غیروں کے نہیں اپنوں کے ہیں۔۔!!
وہ اندر داخل ہوکر اپنے بھاری گھمبیر آواز میں سنجیدگی سے کہنے لگے تو ژالے اُنکی آواز پر سخت سٹپٹاتی ہوئی جلدی سے پیچھے مڑی اور سامنے دروازے پہ کھڑے اُنہیں تعجب سے دیکھنے لگی جو سنجیدگی سے اُسے اور ثمر سلطان کو دیکھ رہے تھے۔۔
“آپ کب آئے۔۔؟؟
وہ شرمندہ ہوتی ثمر کو گود میں اٹھاتی ہوئی اٹھی اور اُن سے پوچھنے لگی‌۔
“ابھی جب آپ ثمر کے ساتھ رو رہی تھی۔۔!!
اُنہوں نے سنجیدگی سے کہا اور قدم روم کے بیچ میں روک دئیے تو ثمر سلطان نے اپنے ڈیڈ کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ خوشی سے اُنکی جانب پھیلائے تو وہ تیزی سے آگے بڑھے اور اسکے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو لے کر پیار کرنے لگے۔۔
“اب نمیر وہ کیسا ہے۔۔؟؟
جب اُسے نمیر کا خیال آیا تو وہ ہاتھوں کو آپس میں الجھا کر بے قراری سے اُن سے اُسکے متعلق پوچھنے لگی تو نجانے کیوں اُنہیں اُسکے نمیر سلطان کیلئے فکر مند ہونا پسند نہیں آیا۔۔
“ہممم اب پہلے سے بہتر ہے۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ ثمر کو لیے صوفے کی جانب بڑھے تو وہ تیزی سے اُنکے پیچھے بڑھی اور اُنکے صوفے پر بیٹھتے ہی سر جھکا کر اُن سے کھانے کا پوچھنے لگی۔۔
“اِس وقت تُم اِن کپڑوں میں کچن میں میرے لیے کھانا بنانے جاؤ گی اور کھانا گرم مت کروں کیونکہ جب تک میرا بھائی ٹھیک نہیں ہو جاتا مجھے کچھ بھی نہیں کھا‌نا میں کیسے کھا سکتا ہوں وہاں ہاسپٹل میں میرا بھائی بے ہوش ہے۔!!
ثمر کو ہلکے سے ٹھپکتے ہوئے اُنہوں نے سنجیدگی سے اُسکے سرخ جوڑے میں لپٹے سُندر روپ کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا تو وہ تیزی سے بولی۔۔
“وہ ٹھیک تو ہے ناں۔۔؟؟
وہ اُنہیں دیکھتی خوف سے سفید پڑتی نم آنکھیں لیے بولی تو اُنہوں نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کئے بغیر ثمر کو اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھے۔۔
“آپ کچھ کہتے کیوں نہیں کیا نمیر ٹھیک تو ہے ناں۔۔!!
وہ اُنکے پیچھے بڑھی اور اُنہیں بے ساختہ اُنکے مضبوط بازؤوں سے پکڑتی بے قراری سے پوچھنے لگی تو زہاک عباس سلطان نے اُسے اور پھر اُسکے نازک سرخ حنائی ہاتھوں کو اپنے بازؤوں پر دیکھا تو وہ شرمندہ ہو کر جلدی سے پیچھے ہٹی۔
“”ٹینشن مت لوں وہ کل ڈسچارج ہو کر گھر آ جائے گا اور پلیز زیادہ شور مت کروں ثمر اٹھ جائے گا۔۔!!
اُنہوں نے سنجیدگی سے کہہ کر ثمر کے اوپر کمبل اوڑھا اور خود اُسکے برابر بیٹھ کر اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا جبکہ ژالے سر جھکائے نمیر کی بارے میں سوچتی خاموشی سے آنسو بہانے لگی۔۔