No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“شادی۔۔۔۔۔۔؟؟
سفید رنگت آہستہ آہستہ یہ چار لفظی سن کر زردی مائل ہونے لگی مقابل اُسکے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا اُسکی بڑبڑاہٹ پر آگے بڑھا اور نازک ہاتھوں کو مضبوط گرفت
میں لیتا نرمی سے کہنے لگا۔۔
“ہاں شادی جان میں تُم سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیا کروں گی مجھ سے ابھی اور اِسی وقت شادی۔۔؟؟
گھمبیر آواز میں کہتا اُسے خوفزدہ کر گیا اُوپر سے اسکی پُر حدت مردانہ مضبوط انگلیوں کا لمس سے اُسکو اپنا ہاتھ جھلستا ہوا شدت سے محسوس ہو رہا تھا وہ ڈر رہی تھیں پھر سے کسی ایسے مرد کو اپنے روبرو دیکھ کر جسے دیکھتے ہی اپنے دل میں ایک الگ احساس کو محسوس کر رہی تھی۔۔
“نن۔نہیں کر سکتی میں کسی سے شادی وو ورنہ اُس درندے کی وہ بات سچ ثابت ہوگی اور اگر آپ سے شادی کر لی تو یہ بچے والی بات کو سب سچ سمجھ لیں گے۔۔!!
وہ گھبراتی ہوئی اُس سے دو قدم پیچھے ہٹی تو زارقم سلطان غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا یہ سب کچھ اس گدھ نما انسان کی وجہ سے ہوا تھا۔۔
“تُم اِس ایک وجہ سے مجھے پھر سے ٹھکرا رہی ہو مرجان۔۔!!
سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر شدت سے ڈھار اٹھا تو مرجان اسکی دھار پر خوفزدہ ہوتی ڈر کر سختی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو بھینچتی پیچھے کی جانب قدم لینے لگی۔۔
“ہہ۔ہاں۔۔۔!!
وہ زور سے سر ہلاتی بس اتنا کہہ سکی خوف اُسکی آنکھوں میں مردوں کے لیے زارقم سلطان پڑھ چکا تھا اور یہ خوف صرف نمیر کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔۔
“ٹھیک ہے مرجان میں نہیں کروں گا شادی تُم سے کیا کسی اور سے بھی مگر آج کلیئر کر دو گا سب باتوں کو اُس گدھ نما انسان کی سازشوں کو اور یہ جو نیا ڈراما رچایا ہے وہ ختم کر کے تُم سے بہت دور چلا جاؤ گا واپس نا آنے کے لیے شاید اس طرح تُم پرسکون ہو سکتی ہو۔۔!!
اُسے چھونے کی خواہش تو دل میں ہزاروں تھی لیکن اُسکے خوف کو دیکھتے ہوئے اپنی خواہش کو زہر مار کر ختم کرتا لبوں کو شدت سے بھینچ کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔۔
“کک کونسا سچ اور آپ وہ یہی پر نہیں بتا سکتے۔۔۔؟؟؟
وہ ان دنوں کافی ڈری سہمی رہنے لگی تھی اور ابھی بھی اسکے کہیں لے جانے پر وہ ڈر کر کہنے لگی تو زارقم سلطان اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے ڈر دیکھ کر سختی سے مٹھیاں بھینچنے لگا جانتا تھا یہ ڈر اب اتنی آسانی سے اُن دونوں کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا اور وہ اُس ڈر کو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن مقابل کھڑی نازک لڑکی اِسی ڈر کی وجہ سے اُسے اپنے پاس بھی آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی تھی۔۔
“مرجان وہ سچ میں یہاں کیسے بتا سکتا ہوں اور تُم یقین بھی نہیں کروں گی کیونکہ جس انسان کا بتانا چاہتا ہوں وہ سچ جس پر تُم شاید ابھی بھی یقین کرتی ہو۔۔۔!!
وہ نفرت سے نمیر کو سوچتا کہنے لگا تو مرجان اس درندے نما انسان کی بات پر ڈرتی ہوئی نفی میں سر ہلا کر پیچھے ہٹنے لگی اور یہ دیکھتا زارقم تیزی سے آگے بڑھا اور اسے مضبوط بازوؤں میں بھر کر دیکھنے لگا جو زور زور سے نفی میں سر ہلاتی اب پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔۔
“مرجان مرجان۔۔۔!!
وہ اُسکے ہائپر ہونے پر سختی سے شانوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑ کر کہنے لگا تو مرجان سرمئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ انسان نہیں درندہ ہے میں اُس پر کیسے یقین کر سکتی ہوں بتائیں کیسے جس نے میری زندگی اس طرح برباد کر دی ہے کہ میں اب خود سے نظریں ملانے سے ڈرتی ہوں۔۔!!
ہزیانی انداز میں چیختی وہ ریشمی بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتی چیخ چیخ کر بولی اور زارقم عباس سلطان اسے اس حالت میں دیکھتا لبوں کو سختی سے بھیچنے لگا۔۔
“چلو اٹھو میرے ساتھ چلو کچھ دیکھنا ہے جسے دیکھ کر تُم سمجھوں گی کہ میں کیوں اس وقت تُم سے شادی کا کہہ رہا ہوں۔۔۔!!
وہ اٹھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا اب وہ اصل بات کی طرف آیا کیونکہ وہ اُس دن کے بعد سے
اُسکا منہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا لیکن آج جو اُسے پتہ چلا تھا اسکے بعد وہ اُس سے شادی کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا زبردستی ہی سہی لیکن وہ اب اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔
“کک۔کہاں۔۔؟؟
نم پلکوں کو اٹھا کر لرزتی آواز میں بولی تو زارقم سلطان نے آگے بڑھ کر اُسے کلائی سے پکڑا اور کچھ کئے سنے بغیر اپنے ساتھ کھینچتا ہوا ولا سے باہر نکلا اور پورچ میں کھڑی اپنی کار کی جانب بڑھا۔۔
سارے راستے وہ دونوں خاموش تھے اور جب زارقم سلطان اسے اُس ہاسپٹل پر لے کر آیا جس دن وہ زویا ماما کے ساتھ یہاں چیک اپ کیلئے آئی تھی ہاسپٹل کی عمارت سے نظریں ہٹا کر اب وہ نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
“چلو میرے ساتھ میں یہی پر ڈرامے کا ڈی اینڈ کرنے آیا ہوں مرجان منیب سلطان۔۔۔!!
ہاتھ پکڑ کر کار سے باہر نکالتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
مرجان خاموشی سے باہر نکلی اور ہاسپٹل کی بلند عمارت کو دیکھنے لگی جو باہر سے کسی لگژری سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
“یہ تت۔تو آپ کی دوست ہے۔۔؟؟
سامنے روم سے ڈاکٹر فائزہ کو نکلتے ہوئے دیکھتی وہ حیرت سے زارقم سلطان سے بولی جو اُسکی بات کو نظر انداز کرتا آگے بڑھا اور ڈاکٹر فائزہ کو مسکرا کر کہنے لگا۔۔
“یہ میری وائف ہے کیا آپ ان کا چیک اپ کر سکتے ہیں۔۔؟؟
چہرے پر مرجان کے لیے بے پناہ چاہت سجائے مرجان کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سے کہنے لگا جبکہ مرجان جھوٹ پر پھٹی آنکھوں سے اُس شہزادوں کی آن بان لیے شخص کو دیکھنے لگی جو اب ڈاکٹر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“یا شیور سلطان لیکن میں تُم سے ناراض ہو خاموشی سے شادی کر لیا اور اب بیوی کو چیک اپ کیلئے میرے پاس لے کر آ گئے ہمممم ٹھیک ہے اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے آئے بھابھی چلے اندر چلتے ہیں۔۔۔!!
ڈاکٹر فائزہ پہلے تو مسکرا کر آگے بڑھی پھر زارقم سلطان سے خفگی سے کہنے لگی اور پھر مرجان کو کندھوں سے پکڑ اندر روم کی جانب لے کر جانے لگی اور زارقم عباس سلطان ان دونوں کے جاتے ہی اپنے چہرے پر سختی لا کر جیب سے فون نکالتا کسی کو کال کرنے لگا۔۔
“ہاں پتہ چلا اُس کے بارے میں کیا ابھی تک نہیں چلا سکے کس نے تُمہیں آفیسر بنایا ہے بتانا تاکہ اسے بھی ایک مکا مارو اور تمہارا تو میں وہ حال کروں گا تُم ترسوں گے پانی کے ایک بوند بوند سے مجھے آج رات کو اُسکی ساری انفارمیشن اپنے روم میں چاہیے ورنہ پانی کے لیے ترساؤ گا بھی نہیں سیدھا جہنم بھیج دو گا۔۔!!
دوسری طرف موجود شخص کی بات پر وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے اوپر ہاسپٹل کے چھت کو گھورتا غرایا اور اُسکے غرانے پر وہاں موجود لوگ ڈر گئے تھے جبکہ وہ آس پاس کو بھلائے دوسری طرف موجود اپنے خاص آدمی کی باتوں کو سننے لگا۔۔
“زارقم کیا تم میرے روم میں آ سکتے ہوں۔؟
پیچھے سے ڈاکٹر کی آواز پر وہ مڑا اور مرجان کو بغور دیکھنے لگا جسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا پھر ڈاکٹر فائزہ کے اشارہ کرنے پر وہ مرجان کو سامنے ایک کرسی پر بیٹھا کر ایک نرس کو اسے پانی پلانے کا کہہ کر تیزی سے ڈاکٹر فائزہ کی جانب بڑھا جو اپنے روم میں داخل ہو چکی تھی۔۔
“ہمممم بتا دیا آپ نے اسے ساری بات ڈاکٹر فائزہ۔۔۔؟؟
روم میں داخل ہوتا وہ سامنے بیٹھی ڈاکٹر فائزہ سے مسکرا کر پوچھنے لگا چہرے پر اِس وقت ایک عیجب سی چمک تھی جو وہ چھپانا نہیں چاہتا تھا۔۔
“جی مسٹر زارقم سلطان بتا دیا لیکن آپکی وائف اتنی بے وقوف کیسے ہو سکتی ہے حیرت کی بات ہے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا کہ اتنی جلدی کیسے پریگننسی ہو سکتی ہے آج تک اتنی بے وقوف لڑکی میں نے اپنی پوری لائف میں نہیں دیکھی ہے۔۔!!
وہ مسکرا کر بولی۔۔
“ڈاکٹر فائزہ اُس گدھ نما انسان نے اتنا بڑا ڈراما رچایا یہاں تک آپکے ہاسپٹل میں موجود ایک ڈاکٹر کو اپنے ساتھ ملایا اسنے اور اگر تم نے مجھے نا بتایا ہوتا تو شاید میں یہ بات کبھی نا جانتا کہ یہ سب کھیل اُس گیڈر نے بھاگنے کیلئے کیا ہے کیونکہ پتہ چل گیا تھا اُسے کہ اُسکی ساری انفارمیشن مجھے واپس مل گئی ہیں۔۔!!
وہ نفرت سے مٹھیوں کو کھستا سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“سلطان تمہیں پتہ تھا کہ وہ اتنا بڑا دھوکا دے رہا ہے تم سب کو تو پھر کیوں تُم نے اُسکی سچائی سب کو نہیں بتائی اب دیکھوں وہ معصوم لڑکی اسکی تو زندگی اس درندے نے تباہ و برباد کر دیا۔۔!!
ڈاکٹر فائزہ کو مرجان کی بربادی کا سن کر بہت دکھ ہوا تھا اور وہ اس بات پر شدید غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر سرخ نظروں سے فائزہ کو دیکھنے لگا۔۔
“فائزہ کیسے بتاتا بولو کیسے وہ دا جی اور زہاک بھائی کے آنکھوں میں پٹی باندھ چکا تھا وہ بھی محبت کی بلکہ ژالے بھابھی کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر نکاح کر کے اسکی ساری جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے اسکی یہ چال کامیاب ہونے نہیں دی تو اُسنے میری شے رگ پر چاقو چلا کر مجھے ذبحہ کیا مرجان کی زندگی کو برباد کر کے اسنے مجھے بھی برباد کر دیا اور ایک اہم بات فائزہ سب سمجھ رہے ہیں وہ گدھ مر چکا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس دن ہاسپٹل میں ہم نے اسے مردہ حالت سمجھ کر بھیجا پر جب میں ہاسپٹل پہنچا تو وہ وہاں سے غائب تھا اور اب پتہ نہیں کہا ہے اور یہ سوچ سوچ کر میں مرجان کیلئے بے حد فکر مند ہو رہا ہو وہ اس کی درندگی کی وجہ سے اب مردوں سے ڈرتی ہے اسکے ذہن میں اس گدھ نے مردوں کا یہ روپ ڈالا ہے جسے میں توڑنا چاہتا ہوں۔!!
وہ آخر میں بے بس ہو کر بولا تو ڈاکٹر فائزہ اپنے دوست کو تاسف سے دیکھنے لگی جو یونی کے زمانے سے انکے گروپ کا بہت ہی اسمارٹ اور انٹیلجنٹ نوجوان کی حیثیت رکھتا تھا لیکن آج اپنی زندگی کی بربادی کی وجہ سے وہ فائزہ کو اِس وقت سب سے بڑا بے بس انسان لگ رہا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“میں نے بہت بڑا گناہ کیا اُسے چاہ کر اور اپنے ماں باپ کی عزت سے کھیل کر اور سب سے بڑی بات زارقم سلطان کو ٹھکرا کر اب میں خالی ہاتھ رہ گئی ہو۔۔۔!!
ہاسپٹل سے سیدھا وہ اُسے اپنے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا تاکہ اُسے کچھ کھلا سکے کیونکہ اسنے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اس بات کے بات وہ کیسے کھاتی اب تو وہ یہ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ وہ اپنے ماں باپ کے سامنے کیسے سر اٹھائے گی کیسے نظریں ملا سکے گی۔۔
“میں نے مرجان منیب سلطان تُمہیں معاف کیا اُسی وقت کیا تھا جب تم نے مجھے رد کیا صرف اس انسان کے لیے جو اب تُمہاری عزت کو دوکوڑی کا کر چکا ہے لیکن اب شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ایک بار جو انسان مجھے ٹھکرائے تو میں اُسے اپنانے کی دوبارہ غلطی نہیں کرتا میں نے فیصلہ کیا ہے بہت جلد اُس لڑکی سے شادی کروں گا جو سیرت کے ساتھ پاک دامن ہو۔۔!!
یہ ظالم الفاظ وہ بڑے ہی ضبط سے بولا اس لمحے وہ کسی اونچی چوٹی سے خود کو شدت سے گرتا ہوا محسوس کررہا تھا اور نیلی آنکھیں اُسکی بربادی پر ماتم کرتے ہوئے شدت سے سرخ انگارا بنے اُسکے غصے کو ظاہر کر رہی تھیں۔۔
“میں اِسی قابل ہو کہ کوئی مجھے ٹھکرائے جیسے میں نے زارقم سلطان کبھی تُمہیں ٹھکرایا تھا اچھا فیصلہ کیا ہے سن کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔!!
اُسکے الفاظوں سے وہ اپنے دل میں درد اٹھتی ہوئی شدت سے محسوس کرتی اپنی نم پلکیں اوپر اٹھا کر اُس خوبرو شہزادے کو دیکھنے لگی جسے اُسنے خود اپنی بے وقوفی اور ضد کی وجہ سے کھو دیا تھا۔
“تُم کس قابل ہو یہ تُم اُس وقت میری آنکھوں میں دیکھتی جب تُم مجھے بے دردی سے ٹھکرا رہی تھیں مرجان تب پتہ چلتا کہ تُم زارقم سلطان کیلئے بہت زیادہ قابلِ احترام تھی۔!!
سرخ نیلی آنکھیں سرمئی نم آنکھوں سے جب ٹکرائیں تو جیسے ایک شدید طوفان برپا ہوا جسے وہ دونوں سہہ نا سکے تو تیزی سے نظریں جھکا گئے۔۔۔
“اندھی ہوگئی تھی میں اُس وقت اُس فریبی کے عشق میں تو یہ احساس کیسے نظر آتے مجھے تمہارے زارقم سلطان کیسے میں پڑھتی تُمہاری آنکھوں کے پیغام کو کیسے۔۔۔!!
درد سے پھٹتے سینے پر نازک ہاتھ رکھتی نم آواز میں بولی۔
“یہی تو تُمہاری سب سے بڑی بد قسمتی تھیں مرجان منیب سلطان تُم نے ایک ہیرے کو چھوڑ کر سیاہ کوئلے کو چنا جو ہاتھوں کو صرف سیاہ کر سکتے ہیں لیکن کبھی بھی آپ کو امیر نہیں بناتے۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں کو دوبارہ اٹھاتا سامنے بیٹھے نم سرمئی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھنے لگا جو آج بھی اُسکی زندگی تھیں جو نسو میں خون بن کر ڈورتی تھی لیکن اپنی ضد میں آکر اُس چھوٹی سی لڑکی نے خود کو اُس سے دور کر دیا تھا۔
“یہ مقافاتِ عمل ہے میں نے تُم جیسے ایک اچھے انسان کو ٹھکرایا اور آج دیکھو خود برباد اور بے سکون ہوگئی ہوں۔۔!!
کہتے ہی وہ بری طرح سے ہاتھوں میں سرخ چہرہ لیے رونے لگی تو زارقم سلطان نے گلاس میں پانی ڈال کر اس کے آگے رکھا۔
“سکون چاہیے تو اُس پاک پروردگار کے آگے جھکوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگوں انسان تو معاف کر سکتا ہے مگر اس ہستی سے ڈروں جو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے اور تُم نے ضد میں آکر اُسکے بہت سے بندوں کو دکھ پہنچایا ہے۔۔!!
وہ اُسکے ہلتے وجود کو جلتی آنکھوں سے دیکھتا نم آواز میں بولا تو اُسکی نم آواز پر اپنا سر اٹھا کر گیلی آنکھوں سے سامنے بیٹھے مضبوط چٹانوں کی مانند دھکتے شخص کو دیکھنے لگی جو آج سہی معنوں میں اسے بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“میری جان کیوں رو رہی ہے ثمر بے بی۔۔۔؟؟
زہاک آفس سے لوٹا تو روم میں خوشگوار انداز میں داخل ہوا اور سامنے بیڈ پر ثمر کو ننھے ہاتھوں سے اپنی ماں کے آنسو پونچھتے ہوئے دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔
“ڈیڈ ماما رو رہی ہے اس بیڈ انکل کی وجہ سے جہنوں نے مرجان آنی کو مارا تھا۔۔!!
ثمر نے معصومیت سے ژالے کے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے باپ سے کہا تو حیرت سے اپنے تین سال کے انٹیلجنٹ بیٹے کی جانب دیکھنے لگا جسکے لفظ لفظ میں نمیر کے لیے نفرت شدت سے بول رہا تھا اور کیسے وہ نفرت نا کرتا جس انسان نے بڑوں کا لحاظ نہیں کیا تھا اور انکے سامنے مرجان کو گندی گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ اس معصوم لڑکی پر اتنا گھٹیا الزام لگایا تھا تو ثمر بھی اُس وقت وہی تھا اور اب زہاک یہ سوچ کر فکر مند ہو رہا تھا کہ اُس انسان کی وجہ سے اُسکے بیٹے کے چھوٹے سے ذہن میں منفی خیالات نے جنم لیا ہے۔۔
“ثمر بے بی یہ آپ سے بڑے ہیں نا وہ انکل تو پھر آپ کیوں اس طرح کہہ رہے ہیں۔۔!!
وہ صرف اپنے بیٹے کو بڑوں سے کس طرح مخاطب ہونا ہے وہی سیکھا رہا تھا ورنہ نمیر کے لیے یہ لفظ کہتے ہوئے اسے خود گھن آ رہا تھا۔۔
“بٹ ڈیڈ ان بیڈ انکل نے مرجان آنی کو مارا تھا تو وہ رائٹ کیسے ہوئے۔۔۔؟؟
وہ گالوں پر سرخ سفید نھنی انگلیوں کو رکھتا معصومیت سے کہنے لگا تو اسکے اسطرح کرنے پر زہاک اور بیڈ پر آنسو صاف کرتی ژالے کو وہ بہت زیادہ کیوٹ لگا۔۔۔
“وہ اس لیے میرے انٹیلجنٹ بیٹے کیونکہ وہ برے ہیں تو ہم تو برے نہیں ہے نا تو پھر ہم کیوں انکی طرح انہیں ٹارچر کریں۔۔!!
زہاک عباس سلطان نے بیٹے کو گود میں اٹھاتے ہوئے نرمی سے سمجھا کر ژالے کو دیکھا جو سرمئی آنکھوں میں آنسو لیے اب باپ بیٹے کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔
جب سے نمیر کی اصلیت اس پر کھلی تھی وہ تب سے زہاک سے شرمندگی کے مارے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی کیونکہ اسکی وجہ سے اسنے بھی اس پیارے انسان کو بہت زیادہ تکلیفیں دی تھیں۔۔۔
“یس ڈیڈ ہم بیڈ نہیں ہے تو کیوں ان بیڈ انکل کی طرح کرے ہم تو اچھے ہیں۔۔!!
زہاک عباس سلطان کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہنے لگا تو اُسکی معصومانہ باتوں پر پیار آتے ہی ژالے تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری اور آگے بڑھ کر اُسکے گالوں کو چھونے کیلئے اسکے سرخ پھولے ہوئے گالوں پر جھکی لیکن ثمر کے اچانک سے سر ہٹانے پر اُسکے ہونٹوں نے زہاک عباس سلطان کے گال کو نرمی سے چھوا تو وہ اس اچانک افاد پر شرم سے سرخ ہوتی تیزی سے پیچھے ہٹی جبکہ زہاک اس کی لمس کو اپنے گال پر محسوس کرتا بے باکی سے مسکرانے لگا۔۔
“زوجہ سلطان اگر آپ کو خاوند پر اتنا ہی پیار آ رہا ہے تو بلا جھجک آگے آ کر پیار کرے خاوند کو برا نہیں لگے گا بلکہ وہ بدلے میں آپ سے بھی زیادہ پیار دے گا۔۔!!
معنی خیز نظروں سے دیکھتا وہ ثمر کی پرواہ کئے بغیر بے باکی سے بولا تو ژالے اسے گھورتی جلدی سے ثمر کو لے کر روم سے باہر نکلنے ہی والی تھی کہ ایک ہی جست میں زہاک نے اسے جا کر پکڑا اور ثمر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ثمر بے بی آپ بڑی ماما کے پاس جائے وہ آپ کو بلا رہی تھیں۔۔!!
وہ ژالے کو اسکی نازک کمر سے پکڑتا ثمر سے کہنے لگا تو ثمر سر ہلا کر وہ تیزی سے زویا بیگم کے روم کی جانب بھاگا اور ژالے شرم سے سرخ ہوتی پلکوں کو عارضوں پہ گرا اسکے قربت میں خود کو پگھلتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگی تھی۔۔
“اب کہا بھاگو گی زوجہ سلطان اپنے سلطان سے بچ کر آپ۔۔!
اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرتا وہ بے باکی سے کہتا اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور ژالے اسکی بے باکیوں اور نظروں کے پیغاموں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی اُسکے چوڑے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی تھی اور اسکے شرم سے اس طرح کرنے پر زہاک عباس سلطان مسکرایا اور ہاتھ آگے بڑھا کر سائیڈ لمیپ کو آف کرتا وہ اسکے اوپر جھکا اور اپنی شدتوں اور اپنا لمس اسکے نازک وجود میں چھوڑتا اسے سمٹنے پر مجبور کرنے لگا۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اوئے راجہ تُو یہاں یہ کسرت بازی کر رہا ہے اور وہاں تیری بہن کو شیدے پھر سے گلی کی نکڑ پر روک کر بدمعاشی کر رہا ہے۔۔!!
یہ ایک نچلے طبقے کے لوگوں کا چھوٹے سے محلے کا منظر تھا سامنے ایک خوبصورت نوجوان سپاٹ چہرے کے ساتھ پس اپ کر رہا تھا کہ اپنے دوست کی بات پر چہرہ نیچے فرش پر گرا کر کچھ دیر خود کو کنٹرول کرنے لگا پھر سرخ نیلی آنکھیں کھول کر جھٹکے سے اٹھا اور سامنے کے تار پر لٹکی اپنی سفید پرانی شرٹ کو کھینچ کر سپاٹ تاثرات کے ساتھ اپنے چھت کے ساتھ جوڑی چھت کو پھلانگ کر پھر تیسری اسی طرح سارے چھتوں کو پھلانگنے کے بعد وہ اس گلی میں کودا جہاں ایک لڑکی جو عمر میں 30 سال کی لگ بھگ لگ رہی تھی اُسکی دھال بن کر کھڑا ہوا۔۔
“سالے صاحب آئیے آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے اوئے شوکے جا جا کر کچھ ٹھنڈا گرم لے کر آ اپنا سالہ آیا ہے۔۔۔!!
شیدے مکروہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا کر اپنے سامنے جبکہ اپنی بہن کی دھال بن کر کھڑے راجہ کے سخت اور سپاٹ چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنے دوست شوکت سے ہنس کر کہنے لگا۔۔
“چھوڑو راجہ چلو یہاں سے یہ اِنکا روز کا کام ہے ہر آتی جاتی لڑکی کو چھیڑنا۔۔!!
لڑکی نے خوفزدگی سے سامنے خطرناک نظروں سے شیدے کو گھورتے ہوئے راجہ کے مضبوط شانوں سے ہلا کر کہا۔۔
“وہ آتی جاتی لڑکی کوئی بھی ہوتی مجھے پرواہ نہیں جمام لیکن تُم اِس وقت اس نکڑ میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا وہ شیدے کو سخت نفرت سے دیکھنے لگا جبکہ شیدے اب اُسکی خطرناک ترین لہجے پر کانپ گیا کیونکہ سب جانتے تھے کہ وہ اپنے بہن کے لیے کتنا پوزیسو تھا۔۔
“راجہ میرے لال چلوں یہاں سے مم۔مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے صبح سے بھوکی ہوں۔۔!!
لڑکی نے اب کے اُسکی کمزوری پر ہاتھ رکھا لیکن وہ اُسی طرح کھڑا شیدے کو اپنی جھلستی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“دیدی مجھے بھی اِس وقت سخت پیاس لگی ہے اور وہ پانی کی نہیں بلکہ خون کی اور آپ جانتی ہے کہ آپکا یہ سنکی بھائی جب تک اِس بے غیرت انسان کا خون فرش پر گرا نہیں دیکھے گا تب تک اُسے سکون نہیں ملے گا۔۔!!
ترچھی نگاہوں سے شیدے کے خوف سے سفید پڑتے چہرے کو طنزیہ دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو شیدے خون کا نام سن کر تھرتھرایا۔۔
“خدا کے لیے شیدے یہاں سے بھاگو ورنہ سچ میں آج مارے جاؤ گے جاؤ نکلو یہاں سے راجہ کو جانتے ہو تُم وہ اب نہیں چھوڑنے والا آج جو تُم نے مجھ پر نظر رکھی ہے ناں تو غلط کیا اپنے ساتھ بھی اور اپنی ماں کے ساتھ بھی بھاگو اس سے پہلے کے موت تمہارا مقدر ٹھہرے۔۔!!
لڑکی نے شیدے کو دیکھتے ہوئے زور سے کہا تو شیدے ڈرتے ہوئے قدم پیچھے لینے لگا اور راجہ اسکے قدموں کو پیچھے ہٹتا ہوا دیکھتا آگے بڑھا لیکن بہن کے روکنے پر اُسے رکنا پڑا۔۔
“دیدی آپ نے اگر مجھے ابھی نہیں چھوڑا تو بعد میں مارا جائے گا اور صبح وہ مرا ہوا ملے گا اسی نکڑ پر سب محلے والوں کو تو مجھے ابھی جانے دیں۔۔۔!!
وہ بہن کی کمزور گرفت کو توڑ کر نفرت سے پاگلوں کی طرح بھاگتے شیدے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا لہجہ سخت گیر تھا اور آنکھیں شعلے اگل رہی تھی۔۔
لڑکی نے بے بسی سے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھا جو آج اپنا پہنچان بھول چکا تھا یہاں تک کہ اپنا نام بھی صرف اُن دونوں خاندانوں کی وجہ سے جہنوں نے اُن سے اُنکی ماں کو بچپن میں چھینا تھا۔۔۔
