Dushman E Jaan By Sumyia Baloch Readelle50182 Episode 12 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 Part 2
“یہ پروجیکٹ کیسے اُن زیدی کو ملی ہاں ہمارے آئیڈیا بھی اچھے تھے ان سے پھر کیسے نعمان۔۔؟؟
میٹنگ ختم ہوتے ہی زارقم عباس سلطان اپنی ٹائی کو غصے سے ڈھیلا کرتا روم سے باہر نکلا پیچھے اسکا سیکرٹری تیزی سے بڑھا۔۔
“سر ہمارے آئیڈیا سمٹ کے کمپنی کے اونر کی ڈیمانڈ پر پورا نہیں اتر رہے تھے اور زیڈ آر کے سبھی آئیڈیا اُسکی ڈیمانڈ پر پورے اتر رہے تھے اور سر آپ نے ایک بات غور کی زید آر اس میٹنگ میں نہیں آیا پھر بھی اسکے آئیڈیا کیسے سمٹ کو ملے کیسے۔۔؟؟
زارقم اپنے سیکرٹری کی بات پر یکدم ٹھہرا اور مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“نعمان یہ بات میں نے پہلے کیوں نہیں سوچی۔۔!!
وہ خوبصورتی سے مسکرایا اور میٹنگ روم کی جانب بڑھا تو نعمان بھی اسکے پیچھے بڑھا وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک امریکن بزنس ٹائیکون سربراہی کرسی پر بیٹھا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر کسی سے مسکرا کر باتیں کر رہا تھا جبکہ باقی سبھی لوگ جو میٹنگ میں تھے وہ اب جا چکے تھے۔
“مسٹر سمٹ۔۔!!
وہ عین اسکے سامنے آن کھڑا ہوا تو سمٹ نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکی نیلی آنکھوں میں ایک بار پھر سے یہ اہم پروجیکٹ پا لینی کی چاہ تھی۔
“یس مسٹر سلطان اینی پرابلم۔۔۔؟؟
وہ انگلش میں زارقم عباس سلطان سے پوچھنے لگا تو زارقم مسکرا کر بلکل اسکے ساتھ والی کرسی کو کھینچ کر بیٹھا۔۔
“یس مسٹر سمٹ بہت بڑا پرابلم کہا جاسکتا ہے میرے مسلے کو آپ نے زیڈ آر کے غیر موجودگی میں کیسے یہ پروجیکٹ اسے دیا جبکہ میٹنگ کی پہلی شرط یہاں ہر بزنس ٹائیکون کی موجودگی ہونی چاہیے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اب بولا تو مسٹر سمٹ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“مسٹر سلطان زیڈ آر کی یہاں موجودگی سے زیادہ اہم اُنکا اپنا کام ہے جو وہ اگر یہاں یہ میٹنگ اٹینڈ کرنے آتا تو اُسکا اس پروجیکٹ سے زیادہ نقصان ہو جاتا اسی لیے اسنے خود معزرت کے ساتھ مجھے اپنے آئیڈیاز میٹنگ سے پہلے وڈیو کال کے ذریعے شئیر کر دئیے تھے اور مجھے اسکا ٹائم کی سخت پابندی اور آئیڈیا بہت پسند آئے اسی لیے میں نے یہ پروجیکٹ اسے دے دیا۔۔!!
سمٹ کی بات پر اب زارقم عباس سلطان کو بھی زیڈ آر سے ملنے کا اشتیاق ہونے لگا کیونکہ بہت سنا تھا اسنے زیڈ آر کے متعلق یہاں آکر کہ وہ بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے اسکی صرف ایک نظر یہاں سب کو اوپر سے نیچے تو نیچے سے اوپر پہنچا سکتا تھا۔۔
لیکن اسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کیسا ہے اور کون ہے لیکن جو اسکے ساتھ کام کرتا ہے وہ اسے نا صرف دیکھتا ہے بلکہ اسکے ساتھ اچھا وقت بھی گزارتا ہے اور یہ بھی سنا ہے اسنے کہ وہ شخص ایک گھمنڈی اور غصے کا تیز تھا جس کی وجہ سے اُس سے آج تک کسی نے پنگا نہیں لیا اور بھلا کون لے سکتا تھا اس انسان سے پنگا جو طوفان کی مانند خطرناک تھا۔۔
“مسٹر سمٹ۔۔!!
لیپ ٹاپ سمٹ کی جانب تھا تو زارقم سلطان نے بولنے والے کی صرف گھمبیر بھاری آواز سنی چہرہ نہیں دیکھ سکا تو وہ اٹھا تاکہ دیکھ سکے مگر مسٹر سمٹ کی وجہ سے واپس بیٹھ گیا۔۔
“یس زیڈ آر۔۔؟؟
مسٹر سمٹ مسکرا کر اسکرین کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو زارقم سلطان زیڈ آر نام پر چونکا۔۔
“مجھے مسٹر سلطان سے آج رات دس بجے اپنے کاٹیچ میں ان سے ملنا ہے کیا آپ انکو میرا یہ دعوت نامہ دے سکتے ہیں۔۔؟؟
زیڈ آر کی بھاری آواز سے کہنے پر زارقم سلطان نے مسٹر سمٹ کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“مسٹر سمٹ میں اس وقت فارغ ہو اور رات کو میری فلائٹ ہے کراچی کی سو میں رات کو نہیں مل سکوں گا۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے مسکرا کر کہا تو دوسری طرف زیڈ آر کے ہونٹ اسکی بات پر مسکا اٹھے۔۔
“نو پرابلم میں مینج کر لوں گا آپ ابھی آ سکتے ہیں میرا ٹائم قیمتی ہے بٹ جو میں میٹنگ آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں وہ بھی میرے لیے امورٹنٹ ہے۔۔!!
زیڈ آر کی بات پر زارقم سلطان اٹھا اور نعمان سے کار نکالنے کا کہہ کر مسٹر سمٹ سے مصافحہ کرنے لگا اور پھر تیزی سے روم سے باہر نکلا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
یہ کراچی کا ایک پوش علاقہ تھا مہنگے ترین کاٹیچ دور سے ہی اپنی قیمت کو بیان کر رہے تھے وہ اور نعمان ایک شاندار کاٹیچ کے سامنے پہنچے تو کار سے نکلے تبھی ایک مونچھوں کو تاؤ دیتے خان جو شاید زیڈ آر کے کاٹیچ کا بارودی گارڈ تھا نے ان دونوں کو سر سے پیر تک اپنے عیجب نظروں سے دیکھا۔۔
“صاب سے ملنے کے لیے پہلے اپائنٹمنٹ لینا پڑے گا تم دونوں کو۔۔!!
وہ بھلے ہی ایک پھٹان تھا لیکن اُسکی اردو باقی پھٹانوں کی نسبت بہت صاف تھا جبکہ زارقم عباس سلطان اسکی اپائنٹمنٹ والی بات پر غصے سے سرخ ہونے لگا تو نعمان نے آگے بڑھ کر اسے زیڈ آر کے خود دعوت دینے کا کہا تو وہ مسکرا کر دروازہ کھولنے چلا گیا۔۔
دونوں اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک بہت بڑے لان سے گزر کر رہائشی حصے کی طرف بڑھے تو پیچھے سے خان نے آواز لگا کر ان دونوں کو روکا۔۔
“صاب وہاں شکار کھیل رہے ہیں وہ کیا ہے نا کہ صاب جب بھی اسلام آباد اپنے شہر سے آتے ہیں یہاں تو شکار اور بھی بہت کچھ یہاں اپنے کاٹیچ میں کرتے ہیں۔۔!!
خان کی بات پر وہ دونوں سر ہلاتے ہوئے اس جانب بڑھے جہاں خان نے اشارہ کیا تھا اور جب وہ وہاں پہنچے تو زیڈ آر کی چوڑی پشت انکی جانب تھی جبکہ سامنے ایک لڑکا سر پر انگور لیے کھڑا بری طرح سے کانپ رہا تھا۔
“اب کیوں کانپ رہے ہو ہمممم جب میرا وارڈروب خراب کیا تھا تب کیوں نہیں کانپے بلڈی باسٹرڈ۔۔!!
زیڈ آر کی گھمبیر غصے سے تیز آواز سماعتوں سے ٹکرائی تو نعمان ڈرتے ہوئے اپنے باس کو دیکھنے لگا جو سنجیدگی سے اس لڑکے کی جانب اب قدم بڑھا رہا تھا اس لڑکے کی بری حالت پر اسے زیڈ آر کے اوپر سخت غصہ آگیا تھا۔۔
“ٹھاہ۔۔!!
زارقم عباس سلطان لڑکے کے پاس پہنچا تو اسی وقت زیڈ آر نے فائر کر دیا جس کی وجہ سے نعمان اور اس لڑکے نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر دی جبکہ ڈر کے مارے وہ دونوں بے ہوش ہونے کے قریب ہوگئے تھے زارقم عباس سلطان جو فائر کی آواز پر ٹھہر گیا تھا گولی لڑکے کے سر کے اوپر سے گزرا اور پیچھے بہت سارے لٹکے بوتلوں میں سے ایک بوتل کو چھو کر پیچھے دیوار پر جا کر لگی۔
“ہوں مسٹر سلطان نائس تُم نے بچا لیا میرے سرونٹ کو انٹرسٹنگ۔۔!!
پیچھے سے ایک تمسخرانہ لہجے پر زارقم عباس سلطان پلٹا لیکن سامنے زیڈ آر کے بجائے ضنافر زیدی کو دیکھ وہ ساکت رہ گیا۔۔
“پروفیسر زارقم عباس سلطان تُم صرف پروفیسری کرتے زیادہ ہینڈسم لگتے ہو یہ بزنس صرف ہم جیسے لوگوں پر سوٹ کرتا ہے۔۔!!
طنزیہ نظریں سامنے غصے سے پاگل ہوتے اس لڑکے پر گاڑھے وہ کھڑا تھا اچھے سے جانتا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے اور اسے یہاں کیوں اسنے بلایا ہے وہ کب سے سمجھ رہا تھا کہ زیدی خاندان کے بزنس کو حسن زیدی کی ماں اپنے پوتے کی پڑھائی کی وجہ سے آج بھی دیکھ رہی ہیں لیکن سامنے کھڑے کمینے انسان کو دیکھ وہ سب کچھ سمجھ گیا تھا کہ جب سے زہاک عباس سلطان نے بزنس سنبھالا تھا تب سے کچھ نا کچھ زیدی کی طرف سے انہیں نقصان پہنچتا تھا کبھی اہم پروجیکٹ ہاتھ سے نکلتا تو کبھی انکے اہم ڈاکومنٹ وائرل ہو جاتے زارقم اب سمجھ گیا کہ یہ سب کس کا کام تھا۔۔
“شٹ اپ تم ایک نمبر کے کاپی کیٹ ہو ضنافر زیدی۔۔!!
وہ شدت سے چیختے ہوئے بولا تو ضنافر کاپی کیٹ والی بات پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا۔۔
“ہوں زارقم عباس سلطان کاپی کیٹ نہیں میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کیا ہے کاپی کیٹ تو اسے کہتے ہیں جس دن شرجیل نے کیا تھا تمہارے آئیڈیے کو مجھے بھیجنا چاہا تھا میں چاہتا تو وہی مسٹر سمٹ کو دے دیتا بٹ یہ میرے بزنس کرنے کے طریقے نہیں میں جو بھی کرتا ہوں اپنے دماغی خرافات سے کرتا ہو چوری نو نیور۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا رائفل کو صاف کرنے لگا وہ جو بھی کہہ رہا تھا ٹھیک کہہ رہا تھا کیونکہ مسٹر سمٹ کو جو بھی آئیڈیا اسنے شئیر کیا تھا وہ سب سے الگ اور یونیک تھے ۔
“مسٹر سلطان اگر یہ پروجیکٹ اتنا ہی اہم ہے تو لے لوں مجھ سے اور بدلے میں اپنی کزن صالحہ کو مجھے دے دو۔۔!!
رائفل کی نال کو سامنے لٹکے بوتلوں کی طرف کرتا مصروف سے انداز میں زارقم عباس سلطان کے سر پر زور دار دھماکہ کر گیا۔
“وہاٹ ربش یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو۔۔؟؟
شدید غصے سے آگے بڑھا اور اُسے کالر سے پکڑ کر نفرت سے بولا تو ضنافر زیدی نے اپنے کالر کی جانب سخت غصے سے دیکھا پھر دونوں ہاتھوں کو زارقم عباس سلطان کے ہاتھوں پر رکھا اور جھٹکے سے کالر کو چھڑا کر پیچھے ہٹا۔۔
“سلطان لمٹ کو کراس مت کروں اور یہ مت بولوں تم اس وقت زیڈ آر کی پراپرٹی میں کھڑے ہو۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا ضنافر زیدی اسے گھورنے لگا۔
“زیڈ آر پراپرٹی مائے فٹ میری بہن کے بارے میں اگر سوچا ہے نا تو نکال دو اسے اپنے ذہن سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمہارے لیے سمجھے۔۔!!
وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے اسے دیکھتا نفرت سے بولا تو ضنافر زیدی طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔
“نامکمن سلطان یہ اب سوچ بھی نہیں سکتا صالحہ عرفان سلطان زیڈ آر کے دل میں بس چکی ہے اور اسے کوئی بھی نہیں نکال سکتا تم بھی نہیں اور بہت جلد وہ میرے گھر میں ہوگی۔۔!!
آگے بڑھ کر زارقم عباس سلطان کے سینے پر انگلی رکھ کر وہ سخت لہجے میں کہتا اسے باور کرانے لگا پھر رائفل ٹیبل سے اٹھا کر جو زارقم کے کالر پکڑنے کی وجہ سے غصے میں اسنے وہاں رکھا تھا سامنے بوتلوں کی طرف کرتا فائر کرتے ہوئے پیچھے ہٹا اور ایک نظر زارقم عباس سلطان پر ڈال کر اندر کی جانب بڑھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
بڑی بڑی سنہری آنکھیں آہستگی سے کھولتی وہ کچھ دیر چھت کو ساکت نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کہ آخر اُسے کون اِس طرح یونی ورسٹی سے باہر نکلتے ہی اُسے اغوا کر کے یہاں لا سکتا تھا تبھی ایک نام ذہن میں آتے ہی وہ شدید غصے سے چیخی۔۔
“سارب عرفان سلطان تُم اتنے بڑے کمینے نکلوں گے میں نے سوچا نہیں تھا اپنے ہی گھر کی عزت کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔۔!!
وہ بیڈ سے اٹھی اور غصے سے دروازے کی طرف بڑھ کر زور زور سے دروازہ پیٹتی ہوئی چیخ چیخ کر کہنے لگی تو باہر سے قدموں کی آواز پر وہ تیزی سے پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“آپ۔۔؟؟
دروازہ کھول کر جو شخص اندر آیا تھا اسے دیکھ سیرت کی آنکھیں پھیل گئی جبکہ اندر داخل ہوتے شخص کی آنکھیں چمکی۔۔
“ہاں میں میری پیاری چھوٹی سی معصوم منہ بولی نہیں بلکہ بس پلان کے مطابق ایک بہن تھی تم بٹ آج میں تمہارے لیے صرف اور صرف نمیر لاشاری ہو جو ایک قہر سے کم نہیں تمہارے اس بھائی نے میری محبت کو چھین کر اچھا نہیں کیا اب بھگتو تم سیرت عباس سلطان۔!!
وہ معنی خیزی سے بولا تو سیرت ڈرنے لگی کیونکہ مرجان کے واقعے کے بعد وہ نمیر سے ڈرنے لگی تھی پہلے بھی وہ اسے بہن نہیں سمجھتا تھا اب تو سب سامنے آ چکا تھا نمیر سلطان نہیں بلکہ وہ نمیر لاشاری تھا اور وہ یہاں کیوں آیا تھا یہ کسی کو پتہ نہیں چلا یہاں تک زارقم عباس سلطان کو بھی۔۔
“لڑکی جیسے تُم میری ایک کال پر یہاں ہو نا ویسے ہی ایک کال پر تُمہاری فیملی کو اوپر پہنچا سکتا ہوں سمجھی جاؤ جلدی سے نکاح کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ میں بہت بڑا سنکی ہو جو کہہ رہا ہوں وہ کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤ گا۔۔!!
سامنے فرش پر منہ کے بل گری لڑکی کو سرخ نیلی آنکھوں میں ڈھیر سارا غصہ بھرے نفرت سے دیکھتا سرد لہجے میں کہتا اُسے دھمکا کر بیڈ روم سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ۔۔
“تُم جیسے گھٹیا لوگ کر بھی کیا سکتے ہیں دھمکیاں دینے کے علاؤہ اور تُمہارے مجھے یوز کرنے کے لیے نکاح کی کیا ضرورت ہے ہاں بتاؤ مجھے نکاح کیوں ضروری ہے تُم ایسے ہی۔۔؟؟
سنہری آنکھوں میں کاجل پھیل کر اب خشک ہو گئی تھیں کیونکہ وہ کب سے اپنی بربادی پر آنسو بہا رہی تھی اور یہ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ وہ شخص پتہ نہیں اُسے یہاں کیوں لایا تھا جب اُسے پتہ چلا کہ وہ انسان اسے صرف اپنے انتقام کو پورا کرنے کے لیے یہاں اغوا کر کے لے کر آیا تھا۔۔
“پتہ ہے میں نکاح کیوں کر رہا ہو۔۔؟؟
وہ شخص جو پُشت اُسکی طرف کیے کھڑا تھا یکدم سے پلٹا اور اُسکے مقابل کھڑا ہوا اور معنی خیزی سے اُس نازک گڑیا کو دیکھنے لگا تو اپنے پورے وجود میں اُس شاطر انسان کی گہری نظروں سے شدت سے اپنے جسم میں سرد لہر دوڑتی ہوئی محسوس کرنے لگی۔۔
“کیوں۔۔؟؟
تھوک نگل کر وہ کاجل والی بڑی بڑی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر پوچھنے لگی تو وہ کمینگی سے مسکرایا اور آگے چل کر وہ اُسکے شفاف چہرے پر جھکا اور پھونک مار کر اسکے زلفوں کو پیچھے کرتا گہری نظروں سے اسکے گلابی لبوں کو چھوتا پیچھے ہٹے بغیر زومعنی لہجے میں کہنے لگا۔۔
“کیونکہ نکاح کر کے حلال طریقے سے تُمہیں شکار کرنے میں مجھے بہت مزا آئے گا لڑکی۔۔!!
زومعنی نظریں اپنے اُوپر مرکوز دیکھتی وہ سخت نروس ہو گئی تھی پھر اُسکی بات پر اپنے ہوش کو اڑتے ہوئے شدت سے محسوس کرتی کانپ اٹھیں جبکہ وہ شخص اپنی بات کہتا اُسے خوفزدہ کرتا بیڈ روم سے باہر نکل چکا تھا۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا حلال نمیر لاشاری پتہ ہے حلال کے بارے میں۔۔؟؟
وہ اسکی بات پر زور زور سے ہنستی ہوئی مزاق اڑانے والے انداز میں بولی تو نمیر سخت غصے سے آگے بڑھا اور اسے گردن سے دبوچ کر دھار اٹھا ۔۔
“ہاں پتہ ہے وہ سب جو میں نے کیا تھا انتقام میں جل کر کیا تھا لڑکی اگر آج دل میں ٹھنڈک نا ہوتی ناں تو تمہارا انجام بھی اس بے وقوف لڑکی جیسی ہوتی میرے کمرے سے نکلنے کے بعد پر تم اس معاملے میں لکی ہو کیونکہ وہ بے وقوف آنکھوں میں میری محبت کی پٹی باندھنے کی وجہ سے مجھ پر اپنے ماں باپ سے زیادہ یقین کرنے کی وجہ سے برباد ہوئی جبکہ تم تو اپنی بہادری دکھانے کی وجہ سے برباد ہونا چاہتی ہو۔۔!!
وہ مرجان کی بے وقوفی کو سوچ کر مسکرایا جس نے زارقم عباس سلطان پر یقین نہیں کیا اور ماں باپ کے خلاف جا کے اس سے شادی کرنے کیلئے ہامی بھرلی اور وہ بھی ایک شاطر کھلاڑی تھا اتنی آسانی سے اپنے اور مرجان کے جالی نکاح کی خبر تک کسی کو چلنے نا دیا زارقم عباس سلطان کو بھی ورنہ وہ اسی رات ہنگامہ کھڑا کر دیتا اور اسکی اصلیت سب پر ظاہر کر دیتا مگر وہ بھی سب کچھ سوچ کر بیٹھا ہوا تھا جالی نکاح کر سکتا تھا تو سب کو دکھانے کے لیے کیا جالی نکاح نامہ نہیں بنا سکتا تھا لیکن جب اسنے اسے برباد کیا تو وہ کسی بھی طرح سے پراپرٹی کے پیپرز لے کر جو اسنے شادی کی رات کو مرجان سے سائن کروا کر اپنے نام کر دیئے تھے لیکن وہ بھی پانچویں دن اپنی سچائی کو اس طرح زارقم عباس سلطان کے سامنے لانے پر ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے آج بھی سخت غصے سے پاگل ہوتا تھا۔
“چھوڑ دو مجھے درندے انسان ورنہ میں تمہارا قتل کر دو گی میں تمہیں مجھے مرجان مت سمجھنا یا ژالے بھابھی میں تمہیں ہرانا اچھے سے جانتی ہو۔۔!!
یکدم سے اسکے اپنے اوپر جھکنے پر سیرت نے زور دار پنچ اسکے چہرے پر رسید کرتے ہوئے نفرت سے غرا کر کہا تو نمیر لاشاری یک لمحے پیچھے ہٹا پھر غصے سے اسکے دونوں کلائیوں کو بے دردی سے مروڑ کر بیڈ کراؤن سے لگاتا اسکے اوپر جھکنے لگا جبکہ وہ برابر خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی اور چیخ چیخ کر ہلیپ کے لیے کسی کو بلانے لگی اور دل میں اپنی ناموس کی حفاظت کے لیے دعا گو ہونے لگی۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“پکا یہی لوکیشن ہے صفی۔۔؟؟
آج یونیورسٹی میں صرف وہ دونوں آئے تھے صالحہ طبیعت خرابی کی وجہ سے نہیں آئی تھیں سارب عرفان سلطان جو دوستون کے ساتھ نکل رہا تھا یونی سے کہ سامنے سیرت کو اکیلے ہی یونیورسٹی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتا تیزی سے اسکے پیچھے بڑھا بھلے ہی اسے اگنور کرتا تھا لیکن اُتنا ہی کئیر بھی کرتا تھا ہاں کبھی ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا کہ اسکا وہ کتنا زیادہ کئیر کرتا تھا۔
جب وہ باہر نکلا تو سامنے سیرت کو زبردستی ایک وین میں کچھ لوگ کھینچتے ہوئے نظر آئے تو وہ بھاگا مگر وہ لیٹ ہو چکا تھا پھر اپنی اسپورٹ بائک کی جانب وہ تیزی سے بھاگا تاکہ وہ اس وین کا پیچھا کر کے سیرت تک پہنچ سکے مگر کچھ دیر پیچھا کرنے کے بعد اسکی نظروں سے وہ وین نکل گیا تو اسنے جلدی سے اپنے دوست کو فون کیا جو پولیس آفیسر تھا اس وین کا نمبر جو اسنے نوٹ کیا تھا اسے کہہ کر اس وین کے لوکیشن کو چیک کرنے کا کہتا بائیک کو ریس پر چھوڑ کر روڈ پر بھگانے لگا۔۔
“ڈیم اٹ سیرت کو اگر کچھ ہوا نا تو نہیں چھوڑو گا میں تم لوگوں کو یہ سارب عرفان سلطان کا وعدہ ہے تم لوگوں سے اچھا نہیں کیا اسے اٹھا کر تمہارے باس نے زندہ نہیں بچے گا۔!!
غصے کی سرخی اوشن بلیو آنکھوں میں رقم بائک سڑک کے سینے کو چھیڑتا ہوا اسکے غصے کو صاف ظاہر کر رہا تھا اب کیا ہوگا۔۔
اسکی سیرت کو اگر کچھ ہوگیا تو کیا وہ جی پائے گا بلکل بھی نہیں کیونکہ وہ بہت چاہتا تھا اُسے یہ بات صرف اسنے اپنے دل میں دبائی ہوئیں تھیں کہ وہ اسے چاہتا ہے چھپایا بھی صرف سیرت کے نفرت کی وجہ سے اور وہ بھی ایسے ظاہر کرتا تھا کہ وہ بھی اُس سے بے پناہ نفرت کرتا ہے لیکن سچائی کیا ہے یہ صرف اُسے اور اُسکے دل کو معلوم تھا۔۔
