No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“تُم وہاں سو جاؤ میں نیچے لیٹ جاؤ گی ویسے بھی ٹھنڈ سے مروں گی نہیں تمہاری طرح نازک مزاج نہیں ہوں۔۔۔!!
صالحہ کی نظریں نیچے فرش پر کب سے ادھر ادھر کروٹ بدلتے سونے کی کوشش کرتے ضنافر حسن زیدی کے اوپر پڑی تو وہ بولے بغیر رہ نہ سکی تو وہ اتنی فکر پر مسکرایا۔۔
“یار کبھی تو محبت سے کہا کروں اور میں بھی نہیں مرنے والا ویسے ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔؟؟
وہ اُسے دیکھتے ہوئے آخر میں شریر لہجے میں کہنے لگا تو پہلے تو صالحہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگی لیکن پھر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔۔
“ہاں پوچھو میں نے کب پابندی لگائی ہے۔۔؟؟
وہ اُسے اُسی طرح گھورتی ہوئی بولی تو وہ اٹھا اور بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے ہاتھوں کو تھام کر بغور اسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر سخت سٹپٹانے لگی تھی۔۔۔
“تُم ڈرتی ہوں نا اظہارِ محبت کرنے سے ہے نا ایسا ہی ہے ناں میری شریکِ حیات۔۔۔؟؟
اُسکے ہاتھوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے نرم لہجے میں اس سے پوچھنے لگا تو وہ اپنے ہاتھ اُسکی گرفت سے چھڑانے لگی جو اسنے سخت کرتے ہوئے اسے روکا۔۔۔۔
“میں تم سے محبت نہ آج کروں گی اور نہ کل اور تُم نیچے بیٹھ کر اپنی یہ پریم کہانی سناؤ سمجھے اور مجھے سارب سے بھی بات کرنی ہے وہ وہاں پریشان ہو رہا ہوگا میں اتنے دنوں اس سے ملی نہیں اور گھر پر اگر میں اسے نا ملی تو وہ پریشان ہو جائے گا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے نیچے دھکیل کر خود تکیہ درست کرنے لگی اور وہ نیچے فرش پر گرا صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کب وہ اسکی فیلنگ کو ایکسپیٹ کرے گی اور کب محبت کا اظہار کرے گی۔۔
وہ اسکی نظروں میں صاف پڑھ چکا تھا کہ وہی اکیلا نہیں ہے اِس سفر میں بلکہ اّسکی ہمسفر محبوب بیوی بھی ہے اُسکے ساتھ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں لیکن ایک تو اُسے بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے اور دوسرا اس چاہت کو رد کر کے اُسے مایوس کرنے کے بعد اپنے دل میں بے سکونی سی محسوس کرتی ہے لیکن کچھ کہتی نہیں۔۔۔
“ہوں تو اِسکا مطلب تُمہیں اچھا لگ رہا ہے میری پریم کہانی کو سننا چاہتی ہوں تو وہاں کیوں یہاں آ کر آرام سے میری آغوش میں سن لو میں کچھ نہیں کروں گا۔۔!!
وہ معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے بے حد قریب جگہ بناتے ہوئے کہا تو وہ سخت تاؤ سے اسے گھورنے لگی۔۔
“بدمعاش ٹھرکی چپ کر کے سو جاؤ ورنہ باہر نکال دو گی پھر باہر جا کر کسی شیرنی کو چھیڑنا تب پتہ چلے گا کہ ہم شیرنیوں کو چھیڑنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔!!
وہ سخت جھنجھنا کر کہتی اُسے گھورنے لگی تو وہ اسکی بات پر ڈھیٹوں کی طرح مسکرانے لگا پھر اسکی گھوریوں سے چہرے پر سجے مسکراہٹ کو سمیٹ کر سنجیدہ ہو کر بیٹھا۔۔۔
“ایک شیرنی کافی ہے اس شیر کے لیے شریکِ حیات اور کی چاہ نہیں ہے اور سارب سے بات تو میں ابھی کرنے بلکل بھی نہیں دے سکتا کیونکہ جب تک تُم کوئی فیصلہ نہیں کرتی تب تک تم میرا کہا مانو گی۔۔۔!!
وہ پہلے شریر لہجے میں بولا پھر آخر میں سنجیدگی سے کہتا چادر تان کر سونے لگا تو وہ سخت غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“کیوں میں تمہاری بات مانو ہاں میں تمہاری غلام نہیں ہو دو مجھے اپنا فون مجھے اپنے بھائی کو انفارم کرنا ہے۔۔!!
وہ نیچے آکر تکیے کے نیچے رکھے اسکے فون کو دیکھتی ہوئی چٹخ کر بولی تو ضنافر حسن زیدی اسے اپنے پاس دیکھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اُسنے اسے اپنی طرف کھینچا اور شدت سے اپنے سینے سے لگا کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“میں نے تو اپنا فون گھر پر ہی چھوڑ دیا ہے جاناں اب تُم میرے سالے صاحب کو کیسے انفارم کروں گی یہاں بھی تو نیٹ ورک کا پروبلم ہے۔۔؟؟
چہرے سے بالوں کو ہٹا کر شریر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اسکی پیشانی کو چھو کر آنکھوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پیچھے ہوا اور اسے بغور دیکھنے لگا جو اُسکی لمس پر سختی سے آنکھیں میچے بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
“تُم نہ پیچھے ہٹو ورنہ اِس گلاس سے تمہارا سر پھاڑ دو گی سمجھے کمینے انسان۔۔!!
وہ تیزی سے خود کو چھڑا کر اٹھی اور بیڈ پر بیٹھ کر غصے سے اسے گھورتی ہوئی نقوت سے بولی تو وہ اسکی تیزی پر مسکرایا۔۔۔
“جاناں ان ہاتھوں سے موت بھی منظور ہے۔۔!!
وہ محبت سے کہتا بیڈ پر آیا تو صالحہ تیزی سے نیچے اتری اور فرش سے اسکا تکیہ اٹھا کر اسکے منہ پر پیھنکتی ہوئی ہاتھ آگے بڑھا کر بیڈ کے اوپر سے تکیہ اٹھا کر نیچے فرش پر رکھتی لیٹی کچھ دیر بعد وہ بھی تکیہ نیچے پھینک کر اسکے ساتھ نیچے فرش پر لیٹ گیا اور اسے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے ساتھ لگاتا سونے کی کوشش کرنے لگا اور وہ اسے اپنے بے حد قریب دیکھ کر غصے سے پاگل ہوتی خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی لیکن خود کو اسکی مضبوط گرفت سے چھڑا نا سکی تو بے بسی سے آنکھیں موند گئی تو ضنافر حسن زیدی اسکے ہار مان جانے پر ایک آنکھ کھول کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا اور مزید اپنے حصار کو تنگ کرتا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“تُم کمینے انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں اپنی شکل دیکھانے کی ہاں۔۔؟؟
وہ اپنے آفس میں اُس شخص کو دیکھ کر سخت پاگل ہو گیا تھا جس نے اپنے انتقام میں جل کر اُس سے اسکی زندگی کو چھینا تھا اور آج بے شرموں کی طرح وہ اسکے سامنے آیا تھا۔۔
“میں توبہ کرنے سے پہلے تُم سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں خاص کر مرجان سے ہو سکے تو تم سب مجھے معاف کر دینا میں اپنی ساری زندگی پھچتاؤے کے آگے نہیں گزارنا چاہتا ہوں۔۔!!
وہ اچانک روتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھا اور دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر کہنے لگا تو زراقم عباس سلطان اسکے گڑگڑانے پر بھی موم نہیں ہوا بلکہ اسکے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“تُم مرجان کے گناہ گار ہو اُسکی خوشیوں کے قاتل ہو اُسکی بربادی کا باب ہو تُم۔۔’ تو پھر میں کیسے تُمہیں معاف کر دو جب تک وہ تُمہیں معاف نہیں کردیں گی تب تک میں بھی تُمہیں معافی نہیں دو گا۔۔!!
آنکھوں میں سرخی لیے وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جس میں وہ پہلے والی بات اس میں نہیں رہی تھی جو پہلے کروفر ہوا کرتی تھی اس کے اندر وہ آج غائب تھیں بلکہ آج زارقم عباس سلطان کو اُسکے ہر ہر انداز سے ندامت صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔
“مجھے مرجان سے ملنا ہے کیا میں اس سے مل سکتا ہوں۔۔؟؟
وہ بے بسی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان سے ملنے والی بات پر زراقم عباس سلطان ضبط سے اپنی مٹھیوں کو کھولنے اور بند کرنے لگا تو نمیر اسکی خاموشی پر اٹھا اور اسے دیکھنے لگا جو سخت غصے میں لگ رہا تھا۔۔
“اُسے مجھ سے الگ کر کے اب تُمہیں اس سے ملنا یاد آیا ہے کمینے انسان وہ صرف تُمہاری وجہ سے آج میرے ساتھ نہیں ہے پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے وہ پورا نو ماہ سے میں اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہوں یاد رکھنا اگر اسے کچھ ہوا نا تو میں تُمہیں مار ڈالو گا۔۔۔!!
کالر سے پکڑ کر اسے بُری طرح سے جھنجھوڑ کر غصے سے چیختے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر نمیر خود کو پہاڑ کی بلندی سے گرتا ہوا محسوس کرنے لگا۔۔۔
“پلیز زارقم مجھے معاف کر دو میری وجہ سے تُم آج بہت تکلیف میں ہو یہ درد میں اچھے سے سمجھ سکتا ہوں کہ کسی سے دور ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے اور ہستی بھی وہ جسے آپ بہت زیادہ چاہتے ہو۔۔!!
وہ اپنی ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے آنکھوں کی نمی کو صاف کرتیں ہوئے آہستگی سے کہنے لگا تو زراقم عباس سلطان کو اسکی باتوں سے شدت سے مرجان کی یاد ستانے لگی تو وہ خاموشی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا اور وہ بے بسی سے وہاں سے اٹھا اور ہارے ہوئے جواڑی کی طرح زراقم عباس سلطان کے آفس سے نکلا۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“تُم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو جنگلی انسان۔۔۔؟؟
وہ گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتی ہوئیں چیخ کر بولی تو دبیر خان کا جو صبح سے نسوار کا منہ نہ دیکھنے کی وجہ دماغ سخت گھوم رہا تھا اسکی بات پر سخت غصے سے آگے بڑھا اور کلائیوں سے پکڑ کر گاڑی میں زور سے اُسے دھکیلنے کے بعد خود غصے سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
“لڑکی غصہ مت دلاؤ نسوار کا ذائقہ منہ میں آج نہیں گیا ورنہ تیرے خون کا ذائقہ چکھنا پڑے گا اِس پھٹان کو وہ بھی منہ میں نہیں ہاتھ میں سمجھی چپ کر کے بیٹھ جا۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا سرد لہجے میں بولا وفا زیدی نسوار کا سن کر برے برے منہ بنانے لگی۔۔
“چی تُم نسوار بھی لیتے ہوں۔۔؟؟
منہ کے زاویے بگاڑتی وہ سخت لہجے میں اُس سے پوچھنے لگی تو اسکی بات پر دبیر خان نے اسے خون آشام نظروں سے گھورا۔۔۔
“نہیں چرس سگریٹ اور شراب یہ سب بھی لیتا ہوں واللہ لڑکی تُم کو عقل نہیں ہے کہ پھٹان کا نشہ ہے یہ نسوار کیا وہ نہیں لیں گا تو پھر تیرا ماما لے گا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا نظریں ہنوز سامنے سڑک پر مرکوز کیے ڈرائیونگ پر فوکس کیے ہوئے تھا ورنہ اسے تو لگ رہا تھا کہ یہ لڑکی اسے غصہ دلا کر اسکے ہاتھوں سے ایک ایکسیڈنٹ تو ضرور کروائے گی۔۔
“میرا ماما اگر ہوتا نہ تو وہ یہ گندی عادت کبھی نہ اپناتا چی۔۔۔”
وہ اس لیے کیونکہ تمہارا ماما پھٹان نہیں ہے اور نسوار صرف پھٹانوں کیلئے ہے تُم جیسے برگر بچوں کیلئے نہیں پھٹان نسوار کے لیے اپنی معشوقہ کو بھی چھوڑ سکتے ہیں اور میں بھی چھوڑ سکتا اگر میری بیوی ہوتی ہاہاہاہاہا۔۔۔!!
وہ اسکی بات کو کاٹتے ہوئے طنزیہ انداز میں اسکا مزاق اڑاتے ہوئے آخر میں زور زور سے قہقہہ لگانے لگا۔۔۔
“گاڑی روکو ورنہ میں اِس چلتی گاڑی سے کھود کر اپنی جان لے لوں گی۔۔؟؟
وہ اب تنگ آ کر سخت نظروں سے اسے دیکھتی اسے دھمکی دینے لگی جو اسنے سن کر بھی نظر انداز کر دیا تو وہ شدید غصے سے دروازہ کھولنے لگی لیکن بہت کوششوں کے بعد بھی جب دروازہ اس سے نا کھولا تو وہ ہار کر خاموشی سے بیٹھ گئی اور دبیر خان کے لبوں پر اسکی خاموشی سے ایک خوبصورت مسکراہٹ کھلی جسے اسنے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا۔۔
“ماڑا اب یہ گاڑی تو پشاور میں پہنچ کر ہی روکو گا اور تم اپنا شوق پورا کروں میں تو اب نہیں روکنے والا۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا گاڑی روکے بغیر آگے بڑھانے لگا تو وفا زیدی زور دار مکا اسکے مضبوط بازوؤں پر رسید کرتے ہوئے منہ لٹکا کر سر جھکا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“سلطان آپ سب لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھے ہیں میری بہن کو ڈھونڈے وہ نو مہینے سے غائب ہے اور آپ سب لوگ خاموش ہے کچھ کرتے نہیں اور وہ مجنوں بنا پڑ رہا ہے یہ نہیں سوچتا کہ اسے پوری دنیا میں اپنی بیوی کو ڈھونڈنا چاہیے اس طرح بیٹھنے سے کچھ بھی نہیں ہونے والا لیکن نہیں اگر اسے میری بہن سے محبت ہوتی نا تو وہ ضرور اسے ڈھونڈے کو نکلتا لیکن کہا اسے اس سے محبت تھی اس سے تو شاید آج بھی وہ نفرت کرتا ہے اسکی غلطیوں کو سوچ کر وہ سلطان آج بھی نفرت کرتا ہوگا لیکن میں اپنی بہن سے نفرت نہیں کرتی ہوں مجھے اپنی بہن ہر حال میں چاہیے ورنہ میں کچھ نہیں کھاؤ گی سنا آپ نے میں نہ کچھ کھاؤ گی نا کچھ پیؤ گی۔۔!!
وہ ژالے کو کب سے سوپ پلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ یہ بات کہہ کر بار بار اسے منا کر رہی تھی سوپ پینے سے تو زہاک بے بسی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
اسکی طبیعت دن با دن مرجان کے کھونے کی وجہ سے بگڑتی جا رہی تھیں نا تو وہ سہی سے کچھ کھاتی تھی اور نہ ہی کسی سے بات کرتی تھی۔۔
وہ ایک ہفتے سے زہاک عباس سلطان سے بھی سخت ناراض تھی آجکل وہ اپنے بابا کے پورشن میں رہ رہی تھی اور وہ روز آکر اسے مناتا تھا اور اسے کچھ کھلانے کی کوشش بھی کرتا تھا کیونکہ وہ اسکی حالت کو لے کر سخت پریشان تھا۔۔
ایک تو پریگننسی اور اوپر سے وہ خفگی کی وجہ سے کچھ کھا اور پی بھی نہیں رہی تھیں اسطرح وہ اپنا اور اپنے بچے کا نقصان کر رہی تھی اور یہ زہاک عباس سلطان کو برداشت نہیں ہو رہا تھا تو اسی ٹیشن کی وجہ سے اُسنے بھی آجکل کھانا پینا کم کر دیا تھا۔۔۔
“زوجہ سلطان اگر تُم نے یہ سوپ ابھی کے ابھی ختم نہیں کیا نا تو آئی سیور میں اپنا ہاتھ کاٹ لوں گا۔۔۔!!
سخت نظروں سے اسے گھور کر اپنا ہاتھ اسکی نظروں کے آگے کرتا اسکے اوپر ایک چھری رکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ چھری دیکھ کر ڈری اور سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“سلطان نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔!!
وہ نفی میں سر ہلاتی چھری پر نظریں جما کر کہنے لگی۔۔
“نہیں زوجہ سلطان مجھے ایسا ہی کرنا پڑے گا تُم تو مجھ سے محبت کرتی نہیں ہو تو پھر مجھے جی کر کیا کرنا ہے اور مجھے جینے کا بھی کوئی حق نہیں ہے ارے میں تو اپنی بیوی سے ایک بات تک بھی نہیں منوا سکتا ہوں تو پھر ایسی زندگی کو جینے کا کیا فائدہ۔۔!!
وہ اب اُسے اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ کر نوٹنکی شروع کرنے لگا اور آہستگی سے چھری کو اپنے بازوؤں میں پھیرنے لگا لیکن کٹ لگانے سے پہلے ہی اسنے پریشانی سے اسکے ہاتھوں سے چھری کو لے کر دور پیھنکا اور اُسکے سینے سے لگ کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
“اگر سلطان آپ نے دوبارہ ایسا کیا نا تو میں آپ کو معاف نہیں کروں گی۔۔!!
وہ غصے سے اسے اپنی سرمئی آنکھوں سے گھورتی ہوئی بولی تو زہاک عباس سلطان نے اُسکی پیشانی کو چھو کر اسے دیکھا جو اسکے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی۔۔
“زوجہ اب کیوں آنسو بہہ رہی ہوں کیا مرجان کو نہ ڈھونڈنے کی وجہ سے۔۔؟؟
وہ اسے الگ کرتے ہوئے محبت سے اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرتیں ہوئے پوچھنے لگا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“تو۔۔؟؟
وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو انگلی سے سامنے کھڑے ثمر کی جانب اشارہ کرتی اسے اپنے قریب بلانے لگی جو اسے منانے کے لیے اپنے باپ کے پیچھے پیچھے یہاں تک آیا تھا۔۔
“مجھے اپنے بیٹے کے ساتھ آج جی بھر کر نوڈلز کھانا ہے کیوں ثمر بے بی۔۔؟؟
ثمر سے پوچھتی ہوئی زہاک عباس سلطان کو دیکھنے لگی جو اسکی نوڈلس کی فرمائش پر سخت نظروں سے دونوں ماں بیٹے کو دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ نوڈلز کھانے کے سخت خلاف تھا ۔۔
“نو اینڈ نیور تُم دونوں کو تو میں ہرگز نوڈلز کھانے کی اجازت نہیں دوں گا یہ بھی کوئی کھانے والی چیز ہے نوڈلز میرا تو اس چیز کا نام سن کر ہی دل خراب ہونے لگا ہے پتہ نہیں تُم نوڈلز لورر اُسے کھاتے کیسے ہو۔۔!!
وہ چہرے کے تاثرات کو نوڈلز کا نام سن کر سخت بگاڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“ڈیڈ صرف ایک پیکٹ پلیز۔۔۔!!
ثمر نے معصومیت سے کہا۔۔
“نو۔۔!!
زہاک عباس سلطان نے سخت تیوریاں چڑھا کر انکار میں سر ہلایا تو ژالے نے سرمئی آنکھوں کو معصومیت سے پھتپھتا کر اسے دیکھتے ہوئے پلیز کہا۔۔
پلیز۔۔!!
زہاک عباس سلطان کو سر ہاں میں ہلاتے ہوئے دیکھتی وہ فوراً سے اٹھی اور اسکا سر زور زور سے ہلانے لگی۔۔
“اب تو ہمیں اجازت ہے نا سرکار نوڈلز نوش کرنے کی ثمر بے بی آپ جائے اور نوڈلز وہاں الماری سے نکال کر لانا وہ کیا ہے ناں میں نوڈلز رات کو سخت بھوک لگنے کی وجہ سے آپ سب سے چپ کر رات کے ایک یا دو بجے بنا کر کھاتی ہو اور ویسے بھی اب تو ہمیں اجازت بھی مل گئی ہے۔۔۔!!
وہ زہاک عباس سلطان کو دیکھتی ہوئی ثمر سے اپنی الماری سے نوڈلز کے پیکٹ نکالنے کا کہتی مسکرانے لگی تو اسکے راتوں کو جاگ کر نوڈلز بنانے کا سن کر زہاک عباس سلطان نے سخت تیوریاں چڑھا کر اسے گھورا۔۔
“زوجہ سلطان تُم راتوں کو اٹھ کر اپنے لیے یہ سانپوں کو ابال کر کھاتی ہو۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اسے دیکھنے لگا جو اسکے نوڈلز کو سانپ کہنے پر سخت چڑ کر اسے غصے سے سرخ ہو کر دیکھنے لگی۔۔
“سلطان آپ میرے نوڈلز کو سانپ کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟
وہ اچانک سے آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی جما کرتی نم آواز میں کہنے لگی تو زہاک عباس سلطان اسکی نم آواز پر نرم پڑ گیا اور قریب ہو کر اسے اپنے سے لگا کر پیار سے سمجھانے لگا۔۔
“میں اس لیے تم دونوں کو اجازت نہیں دے رہا تھا کیونکہ یہ نقصان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے اور یہ سانپ نہیں ہے تو پھر کیا ہے ہاں بتاؤ۔۔!!
وہ ثمر کے پاس آنے پر اُسکے ہاتھوں سے نوڈلز کے پیکٹ کو پکڑتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر دونوں نے منہ بنایا۔
“ڈیڈ مما اور مجھے نوڈلز ہی کھانا ہے۔۔!!
ثمر نے ضدی لہجے میں کہا تو وہ آخر کار انہیں اجازت دیتے ہوئے ان دونوں کو بے بسی سے دیکھنے لگا جو اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“وہاٹ ربش اُس بے وقوف نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے اور تم کہا تھے میں نے کہا تھا نا اس پر نظر رکھنا وہ اس وقت خود سے بھی بے زار ہے اسے اب سکون نہیں ہے وہ رات کو جاگ کر یہ حرکت ضرور کرے گا اسی لیے میں نے تمہیں اس کے پاس چھوڑا تھا لیکن تم بے وقوف یہ کام بھی سہی سے نہیں کر سکے۔۔!!
ضنافر کی غصے سے تیز آواز پر اُسکی آنکھیں کھولی تو اسے سامنے سخت غصے سے فون پر کسی پر چیختے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
“اوکے تم اب ہاسپٹل پر نظر رکھنا کہ وہ پھر سے دوبارہ یہ گناہ نہ کرے اگر اس بار تم نے غلطی کیا نا تو میں تمہیں جان سے مار دو گا۔۔!!
وہ مڑا اور اسے دیکھتے ہوئے دوسری طرف موجود شخص سے کہنے لگا جو شاید اسکا خاص آدمی تھا۔۔
“میں آج اسلام آباد جا رہا ہوں تم اپنا خیال رکھنا اور بھاگنے کا بلکل مت سوچنا کیونکہ یہ ہوٹل میرے جاننے والے کا ہے اور وہ تمہیں جانے نہیں دے گا میری اجازت کے بغیر میں اپنے بھائی کو دیکھنے اسلام آباد جا رہا ہوں اسنے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی شکر ہے کچھ نہیں ہوا وہ پاگل ہے پہلے اسنے تمہاری کزن کے ساتھ بہت برا کیا تھا اور اب ایک اور گناہ کرنے چلا تھا اس بے وقوف کو میں نے کتنا سمجھایا تھا لیکن لگتا ہے اب وہ پھر سے میرا لیکچر سننا چاہتا ہے۔۔!!
وہ صالحہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر صالحہ عرفان سلطان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تو اسکی سنجیدگی پر ضنافر حسن زیدی حیرت زدہ رہ گیا کیونکہ اسنے مرجان کے بارے میں سن کر کوئی ری ایکٹ نہیں کیا اور نمیر اسکا بھائی یہ جاننے کے بعد بھی اسنے اسے نفرت سے نہیں دیکھا۔۔
“فکر مت کرو میں اپنی باتوں سے نہیں مکرو گی تم بے فکر ہو کر اپنے بھائی کے پاس جاؤ۔۔!!
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو وہ آگے بڑھا اور اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ٹیمپریچر چیک کرنے لگا جو نارمل تھا۔۔۔
“طبیعت ٹھیک تو ہے جو تم مجھ سے اتنی نرمی سے بات کر رہی ہو جاناں۔۔؟؟
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“میں تو ٹھیک ہو اگر تم نے اور دیر کیا نا تو وہاں ہاسپٹل میں تمہارا پاگل بھائی بے سکونی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پھر سے یہ گناہ کر لیں گا۔۔!!
وہ اب سختی سے بولی تو ضنافر اسے اپنی پرانی جون میں آتا ہوا دیکھتا مسکرایا۔۔
“ہاں جا رہا ہوں پتہ ہے مجھے اُسکا اب وہ کچھ بھی کر سکتا ہے وہ گلٹ میں ہے اور اب صرف میں ہو اسکا تو اب اسے میں نے ہی سنبھالنا ہے۔۔!!
وہ گھڑی بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر تیزی سے کہتا اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے روم سے باہر نکلا تو اسکے باہر نکلتے ہی وہ گہری سانس خارج کرنے لگی وہ اب اسے شاید ایک موقع دینا چاہتی تھی اسی لیے اب وہ اسکے لیے نرم پڑ گئی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“مجھے مرنا ہے اور تم ہوتی کون ہوں مجھے روکنے والی ہاں۔۔۔؟؟
ہاسپٹل کی چھت پر کھڑا وہ سامنے کھڑی لڑکی کو گھورتے ہوئے سخت سرد لہجے میں کہنے لگا جو اُسے خودکشی کرنے سے روک رہی تھی۔۔
“رائٹ میں ہوتی کون ہو لیکن تُم ہوتے کون ہو اُس ذات کی امانت میں خیانت کرنے والے ہاں بتاؤ چلو میں تو اجنبی ہو تو پھر تم کون ہو اپنی جان لینے والے۔۔؟؟
وہ لڑکی اُسے باتوں میں لگا کر اُسے نیچے کرنے کے لیے قدم آگے بڑھانے لگی لیکن وہ اُسکی حرکت کو نوٹ کرتا شدید غصے سے چیخا۔۔
“خبردار جو تُم آگے بڑھی ورنہ میں تُمہیں بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا نیچے پھر دیتی رہنا اپنے جیسوں کو زندہ ہونے کے بعد لیکچرز۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے نیچے ہاسپٹل کی بلڈنگ کی اونچائی کو دیکھنے لگا اور وہ بھی آگے بڑھ کر نیچے جھک کر بلندی کو دیکھتی تھر تھر کانپنے لگی۔۔
“یار تم سچ کہہ رہے ہو مجھے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ورنہ شاید یہاں سے گرنے کے بعد میں سب کو لیکچرر اپنے اور تمہارے جیسے دوزخیوں کو دو گی۔۔!!
وہ سخت جھرجھری لیتی ہوئی غمگین لہجے میں بولی جیسے سچ میں وہ مر گئی ہوں۔۔
“ویسے تُم خودکشی کیوں کرنا چاہتے ہو کیا تمہاری بیوی تمہیں چھوڑ کر میکے چلی گئی ہے یا گرل فرینڈ نے دھوکا دیا ہے۔۔؟؟
اپنے چہرے پر شریر تاثرات لا کر وہ اسے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی تو نمیر سخت گیر نظر اس پر ڈال کر اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُمہیں اگر نہیں مرنا تو وہ رہا راستہ ایک منٹ کے اندر مجھے تہنا نہیں چھوڑا تو اپنے ساتھ نیچے یہاں سے لے کر چلا جاؤ گا۔۔!!
سرخ آنکھوں سے اس شریر لڑکی کو گھورنے لگا جو چمکتی آنکھوں سے اسے کب سے زچ کیے جا رہی تھی۔۔
“نا بابا نا مجھے ابھی نہیں مرنا میری تو ابھی اپنا دلہا بھی نہیں دیکھا ہے پتہ نہیں وہ ظالماں کیسا ہوگا تمہیں کیا لگتا ہے میرا بلما کیسا ہوگا۔۔؟؟
وہ ٹھنڈی آہ بھر کر آخر میں چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتی پوچھنے لگی تو نمیر نے سخت تیوریاں چڑھا کر اسے گھورا۔۔
“پہلے تو میں تمہارے بلما کو ڈھونڈ کر قتل کر دو گا پھر اُسکے بعد آکر تمہیں اگر تم چپ نہ ہوئی لڑکی۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا نیچے اترنے لگا لیکن اسکی بات پر غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔
