No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“دور ہٹو مجھ سے شاطر عورت تُمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی یہ خواہش کبھی پورا نہیں ہونے دو گا۔۔!!
اپنی زندگی چاہت بیوی ژالے کی صورت نیم بند ہوتی سرخ آنکھوں میں بھر کر وہ نشے کی حالت میں بھی پوری طاقت سے اُس شاطر عورت کو دور دھکیل کر اٹھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسکی گردن کو سختی سے پکڑتا دھار اٹھا۔۔
“نہیں ہٹ سکتی اب میں زہاک عباس سلطان تُمہیں حاصل کر کے ہی میں پیچھے ہٹو گی اور تُمہاری اُس بیوی کو مار کر ہی چھوڑو گی۔۔!!
وہ اُسکی تنگ ہوتی سخت گرفت میں پھڑپھڑاتی ہوئی لبوں پے مسکراہٹ لاتی ہوئی بولی۔۔
“میری بیوی کا نام مت لوں اپنی زبان سے ورنہ کاٹ کر رکھ دو گا۔۔!!
غصے اور نشے کی وجہ سے اُسکے ہاتھ بری طرح سے کانپ رہے تھے لیکن سر پر آج سامنے کھڑی عورت کو مار دینے کی چاہ لیے وہ گردن پر گرفت اور بڑھاتے ہوئے نفرت سے بولا۔
“ہاہاہاہاہا اِس حالت میں جان تُم کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہو میرا میں نے جو کرنا ہے وہ تو میں کر کے ہی رہوں گی۔!!
لہجے میں بے باکی تو آنکھوں میں اُسے پانے کی خماری لیے وہ بھوری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی۔۔
“بھول ہے تُمہاری خبیث عورت کہ زہاک عباس سلطان تُمہیں اپنا آپ سونپے گا۔۔!!
وہ بھی اپنے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ لا کر نشے سے بند ہوتی آنکھوں کو اُس ڈائن عورت پر ڈالتا لڑکھڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نہیں بھول تو میں نے تین سال پہلے کیا لیکن اب نہیں اب میں ایسا کچھ نہیں کرو گی زہاک عباس سلطان میں تُمہیں حاصل کر کے ہی رہوں گا۔۔!!
وہ اُسکی نشے والی حالت کا بے حد فائیدہ اٹھا رہی تھی یکدم سے وہ اُسے پیچھے بیڈ پر دھکیل کر اُس پہ جھکنے ہی والی تھی کہ زہاک عباس سلطان شدید غصے سے اُسے بیڈ کی نیچے دھکا دے کر اٹھا اور لڑکھڑاتے چکراتے سر کو پکڑ کر اسے دیکھتے ہوئے غرایا۔۔
“گھٹیا عورت دور رہوں مجھ سے ورنہ طلاق نہیں سیدھا موت دو گا تُمہیں۔۔!!
وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے شدت سے غصے و نشے کی وجہ سے کانپتا ہوا بولا۔۔
“تُم مجھے ایسے طلاق نہیں دے سکتے زہاک عباس سلطان میرا بچہ تُمہارے پاس ہے اگر تُم نے مجھے ابھی اس رات کو اکیلا چھوڑا تو میں کل اسے تم سے دور لے کر چلی جاؤ گی۔!!
وہ شدید غصے سے اُسے آخر میں دھمکی دیتی ہوئی بولی۔
“شٹ اپ جمامہ لاشاری میرے بیٹے کے بارے میں بلکل بھی سوچنا مت اور کیسے لے کر جاؤ گی ہاں کیسے جبکہ وہ تّم سے نفرت کرتا ہے سمجھی تو کیسے لیں کر جاؤ گی۔۔؟؟
وہ اُسے گردن سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے سخت گیر لہجے میں کہتا اسے پیچھے بیڈ پر دھکیل کر لڑکھڑاتے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا جبکہ جمامہ لاشاری اتنی جلدی بازی پلٹتے ہوئے غصے سے پاگل ہوتی اسکے پیچھے بڑھنے لگی لیکن راستے میں گرے اسکے جوتوں سے وہ رپٹ کر نیچے گر گئی۔۔
“نہیں چھوڑو گی ژالے تُمہیں تُم نے مجھ سے میرے بیٹے اور شوہر کو چھینا ہے معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں ہر گز نہیں اب تم مروں گی۔۔!!
زہاک عباس سلطان کے روم سے باہر نکلتے ہی وہ جنونی انداز میں چیختے ہوئے بولی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“زہاک عباس سلطان رک جاؤ ورنہ ورنہ میں اپنی کلائی کاٹ دو گی سنا نہیں تُم نے میں نے کیا کہا ایک قدم بھی مجھ سے دور مت بڑھاؤ ورنہ میں خود کو ختم کر دو گی۔۔؟؟
زہاک اُس عورت سے بہت دور جانا چاہتا اپنی محبت ژالے اور اپنی زندگی اور عشق کی خاطر اُسکی حفاظت کی وجہ سے وہ اپنی پرواہ کئے بغیر لڑکھڑا کر سڑک کے کنارے چل رہا تھا۔۔
آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے وہ کہے بار گرا بھی تھا پر وہ خود کو سنبھل کر اٹھتا اور پھر سے چلنے لگتا لیکن پیچھے سے اُس عورت کی جنونی ضدی آواز پر وہ ٹھہرا اور نفرت سے پلٹ کر اُسے قتل کر دینے والی نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“کاٹ لوں آئی ڈونٹ کئیر پرواہ نہیں ہے مجھے کہ تُم مرو یا جیو جمامہ لاشاری۔۔!!
اپنے لرزتے وجود کو اس سے بہت دور کرتا وہ نفرت سے چیخا تو جمامہ لاشاری اس بات پر شدت پسندی سے اپنی کلائی پر چاقو کی نوک کو زور سے دبانے لگی۔
“سچ میں کہہ رہی ہو اگر تُم آگے بڑھے تو میں خود کو ختم کر دو گی زہاک تُم کسی کے نہیں ہوسکتے میرے علاؤہ مم۔میں کسی کو ہونے بھی نہیں دو گی مار ڈالو گی یا خود مر جاؤ گی۔۔!!
سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتی جنونی انداز میں مسکرا کر کہتی اُس وقت ایک پاگل جنونی دیوانی لگ رہی تھی اپنے اُس شوہر کی جسے اسنے تین سال پہلے اپنی عیاشیوں کی وجہ سے چھوڑا تھا۔۔
“تو اِس سچ کو ثابت کر دو مجھے خوشی ہوگی تُم مر جاؤ گی میرے لیے اُس خوشی سے آج گہری نیند آئی گیں کہ تُم جیسی عورت میری زندگی سے بہت دور چلی گئی ہے اور میرا بیٹا بھی تُم جیسی عورت سے محفوظ رہ سکیں گا۔۔!!
وہ سر کو تھامتے ہوئے نفرت سے سامنے کھڑی جنونی پاگل عورت کو دیکھتا ہوا کہنے لگا تو جمامہ لاشاری اسکی بے رخی پر سخت شعلے میں خود کو گرتی ہوئی محسوس کرنے لگی۔۔
“مجھ سے دور رہنے کی وجہ وہ ژالے تُمہاری دوسری بیوی ہے ناں زہاک عباس سلطان اگر اگر میں اُسے ہی ہماری زندگی سے دور بھیج دو تو کیا تو کیا تُم میرے پاس لوٹوں گے۔۔!!
اب وہ کسی ضدی بچے کی طرح روتی اُسے دیکھتی ہوئی آس سے پوچھنے لگی تو ژالے کو خود سے دور کرنے والی بات پر وہ سخت پاگل ہوگیا اور آگے چل کر اسے گردن سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے سخت نفرت سے دھارا۔۔
“خبردار خبردار میری ژالے کو کچھ بھی کیا تُم نے زندہ زمین میں گاڑ دو گا۔۔!!
سخت درشت لہجے میں کہتا اُسے مزید اوپر کرتا غرایا اس وقت وہ ایک نشے میں چور کمزور مرد نہیں بلکہ ایک سنکی پاگل جنونی انسان لگ رہا تھا۔۔۔
“زہاک بھائی۔۔!!
سب اُسے کب سے ڈھونڈ رہے تھے زارقم عباس سلطان، اور اسکی ماں زویا عباس سلطان اور انکے ساتھ چہرے پر فکر مندی سجائے ژالے جو مین روڈ پر اُسے ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے تو اسے سامنے کسی عورت کو اوپر اٹھائے جنونی پاگل بنے شدید غصے سے کچھ کہتے ہوئے دیکھا تو وہ تینوں جب نزدیک پہنچے تو جمامہ لاشاری کو دیکھ سارا معاملہ سمجھ گئے تو دیری کئے بغیر زارقم عباس سلطان تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے پیچھے سے پکڑا جبکہ زہاک عباس سلطان تو جیسے ابھی جمامہ لاشاری کو قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔
“چھوڑو مجھے میں آج اِس عورت کو نہیں چھوڑو گا اس نے میری ژالے کو مجھ سے دور کرنا چاہا اُسے مارنے کی دھمکی دی نہیں چھوڑو گا میں اسے ختم کر ہی رہوں گا۔۔!!
وہ شدید غصے سے پاگل ہوتا خود کو چھوڑنے کے لیے جدو جہد کرنے لگا مگر نشے کی وجہ سے وہ زارقم عباس سلطان کی مضبوط گرفت میں خود کو ہلا بھی نہیں پا رہا تھا۔۔
“مما آپ پلیز بھائی کو یہاں سے لے کر جائے اِس گھٹیا عورت کو تو میں دیکھتا ہوں دونوں بھائی بہن نے جو کرنا تھا یہ ان دونوں نے کر لیا ہے اب ہماری باری ہے بلکل بھی نہیں چھوڑو گا ان دونوں کو بھائی جتنا بھی چھپ کر بیٹھ جائے نہیں بخشو گا۔۔!!
وہ زویا عباس سلطان سے بولا اور پھر پلٹ کر سخت نظروں سے اس عورت کو گھورتے ہوئے کہنے لگا جو ابھی بھی اسی طرح ڈھیٹوں کی طرح زہاک کو گھورے جا رہی تھی ۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“سیرت آئی ایم سوری۔۔۔!!
سارب صبح سے سیرت سے معافی مانگنے کے لیے پتہ نہیں کتنے چکر لگا چکا تھا اُنکے پورشن کا لیکن زارقم کے منگنی اور پھر نمیر لاشاری والے تماشے کی وجہ سے اور پھر زہاک بھیو کے غائب ہونے کی وجہ سے اُسے سہی سے موقع نہیں ملا تھا اس سے سوری کرنے کا اب وہاں سے زارقم بھیو کے کہنے پر اُسے اور صالحہ کو اپنی کار میں لایا تھا تو صالحہ کے نکلتے ہی جب سیرت کار سے باہر نکلنے لگی تو آگے بڑھ کر سارب نے ہاتھ پکڑ کر شرمندگی سے کہا۔
“سارب عرفان سلطان ہاتھ چھوڑو میرا۔۔؟؟
سیرت اپنی آنکھوں میں غصہ بھرے سرد لہجے میں بولی تو سارب نے ہاتھ چھوڑے بنا اپنے لفظ پھر سے دورائے۔۔
“سیرت آئی ریلی سوری یار دیکھو کل جو کچھ ہوا وہ سب نشے کی وجہ سے پتہ نہیں کیسے میں نے کل ڈرنک کیا اور پتہ نہیں یہ کس نے مجھے پیلایا آئی ڈونٹ نو۔۔!!
وہ سخت شرمندہ لگ رہا تھا اپنے کل کے عمل پے اب اسکا سامنے بیٹھا وہ سوری کر رہا تھا جبکہ سیرت غصے و نفرت سے اسے گھور رہی تھی پھر ایک ہی جھٹکے سے اپنی کلائی کو اسکی گرفت سے جھٹک کر کار سے نکلی اور شیشے پر جھک کر شدید نفرت سے بولی۔۔
“آئی ہیٹ یو سارب عرفان سلطان بہت نفرت کرتی ہو تم سے اور جو کل رات تم نے نشے کی حالت میں میرے ساتھ کرنا چاہا تھا نا وہ میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔!!
وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے اسے دیکھتی بے نفرت سے غرائی۔۔
“سیرت اب تُم آوور ہو رہی ہوں میں تُم سے معافی مانگ تو رہا ہوں ناں اتنا بھی اٹیٹیوڈ مت دیکھاؤ مانتا ہوں کل جو بھی ہوا میں غلط تھا لیکن تم بھی غلط تھی چلوں میں نشے میں تھا تو تُمہیں کیا ضرورت تھیں رات کے ایک یا دو تین بجے سب جگہ گھومتی پھروں اگر آپی نا آتی تو تمہارے ساتھ ساتھ میرے ساتھ بھی بہت کچھ ہوسکتا تھا اور نشہ ایک ایسی چیز ہے جو ایک عقل مند انسان کو تمیز اور عقل تک بھولا دیتی ہیں تم پھر بھی وہی کھڑی رہی انتظار کرتی رہیں کہ کب میں وہ سب سچ کر دیتا فار گاٹ سیک اب کیا ضرورت ہے اتنا زیادہ اٹیٹیوڈ دکھانے کی ہاں جب کہ غلطی میرے ساتھ تمہارا بھی اتنا ہی ہیں۔۔!!
وہ بھی کار سے باہر نکل کر غصے سے آگے بڑھا اور سیرت کو سختی سے دونوں شانوں سے پکڑ کر وہ بری طرح سے اُسے جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اب تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو گھٹیا انسان۔۔۔!!
وہ سرخ آنکھیں مزید پھیلا کر زور سی چیخی تو سارب نے شدید غصے سے اسکی کلائی کو مڑورتے ہوئے اُسے دیکھا وہ دونوں ایسے ہی تھے جب بھی لڑنے پہ آتے تو مرنے مارنے پر اتر آتے تھے۔۔
“ہاں لگاؤ گا سیرت عباس سلطان تُم ہو ہی ایسی کہ تُم سے نرمی نہیں بلکہ نفرت کرنا چاہیے میں نے غلطی کی تُم سے معافی مانگ کر اب جب بھی ایسا ہوگا تو میں تُمہیں قتل کر دو گا اول تو میں شراب جیسی حرام شے کو ہاتھ نہیں لگاتا اور نا ہی اب کبھی لگاؤ گا لیکن اب جب بھی تُم مجھے رات کے وقت نظر آئی نا تو میں تُمہیں قتل کر دو گا رحم نہیں کھاؤ گا میں تُم پر گوٹ اٹ۔۔!!
وہ سخت گیر لہجے میں کہتا سیرت کو ڈرانا لگا جبکہ وہ اب سختی سے اسکی کلائی کو جھٹک کر ولا کے اندر بڑھا اور وہ نظریں کلائی پر گاڑھتی اپنی سرخ کلائی کو دیکھنے لگی جو اسکی سخت پکڑ کی وجہ سے اب سرخ ہوگیا تھا۔
“جنگلی انسان مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تُم سے رات کے وقت ملنے کا اور اب تو توبہ ہے کہ میں کبھی رات کے وقت اپنے کمرے سے باہر نکلوں تُم جیسے درندے کے اس گھر میں ہوتے ہوئے میں کیسے نکل سکتی ہو۔۔!!
اُسکی چوڑی پشت کو سرخ آنکھوں سے گھورتی نفرت سے چیخ کر بولی اور وہ اُسکی باتوں کو اگنور کرتا اپنی پورشن کی طرف بڑھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“یار زارقم تھینکس تُم نے میری فائقہ کو اس درندے سے بچایا اگر آج تم نا ہوتے تو شاید میں اکیلے اس درندے سے نا لڑ پاتا۔۔!!
مہران شاہ نے محبت سے فائقہ کی طرف دیکھتے ہوئے زارقم سلطان سے کہا وہ اسے زارقم عباس سلطان کے آفس میں نظر آئی تو اور یہ نظر کب محبت میں بدلی اسے اندازہ تک نا ہوا پتہ تو تب چلا جب ایک دن اُسکے پیچھے۔۔
ایک بدمعاش کو اُسنے دیکھا تھا تو فائقہ کی عزت کی وجہ سے وہ خاموشی سے یہ بات جا کے زارقم عباس سلطان سے اسنے اسی وقت شئیر کیا۔۔
زارقم عباس سلطان یہ سنتا اسے لے کر تیزی سے باہر نکلا لیکن جب سامنے نمیر لاشاری کو پاگلوں کی طرح فائقہ کی طرف تکتے پاکر وہ خوبصورتی سے مسکایا۔۔
اور مہران شاہ کو بے فکر رہنے کا کہتا اپنے دو تین گارڈز سے اُسکے اُوپر نظر رکھنے کا حکم دیتا واپس آفس کے اندر بڑھا اُسے فائقہ کی سیفٹی کیلئے بہت کچھ کرنا تھا اور اس کے لیے مہران شاہ کے ساتھ مل کر اسنے یہ منگنی والا پلان تیار کیا اور پھر اُسے اپنا بدلا بھی تو لینا تھا اپنی بربادی کا مرجان کو یوز کرنے کا اُسکے ساتھ زیادتی کرنے کا بدلا تو وہ اُسے موت دے کر ہی بہت جلد لے گا۔۔
“نہیں مہران شاہ تُم بھی اُس سے لڑ سکتے ہو کیونکہ تم ایک طاقتور فیملی سے ہو اور وہ ایک غریب چھوٹے سے محلے کا رہائش وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے غور سے مہران شاہ کے پرسکون چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“یار تُم ٹھیک کہہ رہے ہو میں صرف فائقہ کی وجہ سے خاموش تھا ورنہ میں سید خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور ان جیسے بدمعاشوں سے نبٹنا بڑوں نے اچھے سے سیکھایا ہے کہ جب آپکے ماں بہن یا بیوی کو کوئی بدمعاش تنگ کرے تو اسکے ہاتھ پیر توڑ دینا چاہیے بھول گیا تھا میں ان کی نصیحتوں کو صرف ڈر تھا تو فائقہ کے لیے ورنہ اچھے سے اسے بتاتا۔۔!!
وہ فائقہ کے ہاتھ کو اپنی نرم گرم ہاتھ کی گرفت میں لے کر روز سے دباتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اب مجھے گاؤن کے لیے نکلنا چاہیے کیونکہ موسم کے تیور مجھے درست نہیں لگ رہے اور تم لوگ بھی تو کراچی کے لیے نکلنے والے ہوں کل میٹنگ بھی تو اٹینڈ کرنی ہے تمہیں زارقم۔۔!!
وہ اٹھتا ہوا تیزی سے بولا تو زارقم سلطان نے مرجان کو شانوں سے پکڑ کر اٹھایا وہ ان دونوں کی موجودگی کی وجہ سے بری طرح سے ڈر رہی تھی جبکہ فائقہ خاموش نظریں جھکائے ہوئے تھی۔۔
“اوکے تم لوگ خیر سے جاؤ ہم بھی بس نکلنے والے ہیں۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا اور فائقہ کی طرف بڑھا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“فائقہ میں نے تمہیں اس سے اس لیے بچایا کیونکہ تم میری اسٹوڈنٹ کے ساتھ ایک اچھی اور شریف نیک ورکر تھی اسی لیے اس شیطان سے بچایا اب مہران شاہ تمہیں بہت خوش رکھے گا ڈرنا بلکل بھی نہیں کیونکہ شاہ ایسے لوگوں سے روز نبٹتا ہے اور انہیں مات بھی دیتا ہے۔۔!!
وہ نرمی سے کہتا اسے دیکھنے لگا جو نظریں جھکائے شاید آنسو بہہ رہی تھی۔۔
“شکریہ سر آپ نے مجھے اس شیطان سے بچایا اگر آپ لوگ نا ہوتے تو وہ مجھے برباد کر دیتا اور میں جیتے جی مر جاتی۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اپنے میسحا کو دیکھنے لگی جس کی وجہ سے آج وہ محفوظ تھی اس شیطان کے ہاتھوں سے اور ایک شریف انسان کے نام بھی آج وہ اسی کی وجہ سے عزت سے ہوئی تھی وہ خدا کے بات اس کی شکر گزار تھی کہ اسکی وجہ سے آج اسکے بابا بھی زندہ ہے۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
زارقم عباس سلطان اُسکے ڈر کر دور جانے پر آگے بڑھا اور مضبوطی سے اُسے اُسکی نازک کلائی سے پکڑا اور اُسے سامنے چھوٹے سے یاٹ کی جانب لیے بڑھنے لگا جو ساحل کے کنارے اُنکے لیے کھڑی کی گئی تھیں۔۔
مرجان ساحل کی ٹھنڈی ہوائیں چہرے پر پڑنے کی وجہ سے دل میں ڈر جو نمیر لاشاری کو ایک بار پھر سے اپنی زندگی میں دیکھ کر جاگتا ہوا محسوس کیا تھا اب یہاں آکر اس وقت غائب ہوتا ہوا اُسے شدت سے محسوس ہورہی تھیں۔
خوابناک ماحول کی وجہ سے اچھا محسوس کر رہی تھی وہ اپنی ہی خیالوں میں مگن اپنے ہمسفر کے سنگ چل رہی تھی یکدم سے اپنی کمر پر مردانہ لمس کو محسوس کرتیں بری طرح سے کانپنے لگی لیکن اُس بار یہ لمس اُسے تکلیف نہیں پہنچا رہی تھی بلکہ یہ لمس تو نرمی لیے ہوئے تھیں مگر وہ بھی اپنے اس ڈر کا کیا کرتی جو اس شیطان نے اسکے دل میں ڈالا تھا۔۔
اب چاہ کر بھی نہیں نکال سکتی تھی اپنے اندر سے اس ڈر نامی بلا کو جبکہ زارقم عباس سلطان جو اُسے کمر سے پکڑ کر یاٹ کے اندر بیٹھانا چاہتا تھا لیکن اسکے چہرے پر خوف دیکھ وہ ٹھہرا اور لبوں کو سختی سے بھینچ کر اُسکا رخ اپنی طرف کرتا نرمی سے پیشانی کو چھو کر پھر ہاتھ دونوں گالوں پر رکھتا نم آواز میں بولا۔۔
“یہ ڈر دل سے نکال کر اپنے آس پاس دیکھوں جان دیکھو کہ زندگی کتنی حسین ہے یہ چاند اور سمندر کتنے سکون بخش رہے ہیں خدا کی قدرت کو محسوس کرو اور اس شیطان کے ڈر کو دل میں جگہ مت دو اٹس مائے ریکوئسٹ۔۔!
نیلی آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار لیے وہ سامنے بیٹھی خوف سے سفید پڑتی لڑکی کو دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں بولا۔
“آپ پپ۔پلیز مجھے چھوئے مت مم۔میں کمٹبرل فیل نہیں کرتی پلیز مجھے اُس حادثے کے بعد سے ایک ڈر رہتا ہے کہ کہے پھر سے کوئی مرد اس شیطان کی طرح میرے وجود کی دھجیاں نا بکھیر دیں پلیز۔۔!!
چہرے پر خوف رقم کئے نم آنکھوں سے مقابل بیٹھے پیارے سے شخص کو دیکھتی ہلکی آواز میں بولی رونے کی وجہ سے اُس وقت اسکی آواز بیٹھ گئی تھی۔۔
“لُک ایٹ می مرجان یہاں دیکھوں میری طرف۔۔؟؟
زارقم عباس سلطان اسکی بات پر ضبط سے مٹھیاں بھینچتا ہوا آگے ہوا اور دونوں ہاتھوں سے نرمی سے گالوں کو پکڑتا سر اُسکی پیشانی سے لگاتا ہوا سُرخ نظریں سرمئی آنکھوں میں ڈالتا بھاری آواز میں بولا رونے کی وجہ سے اُسکی آواز بھی بھاری ہو رہی تھیں۔۔
“اُس رات اگر مجھے پتہ ہوتا کہ جان تُمہارا نکاح اُس شیطان کے ساتھ نہیں ہوا تھا سب کچھ نقلی اور فریب تھا توم۔میں اُسی رات تُمہیں اُسکے شر سے محفوظ کر لیتا لیکن افسوس کے مجھے اصلیت صبح ہی پتہ چلی اُسکی اصلیت اُسکا نام کیونکہ لندن میں اِسی وجہ سے گیا تھا اُسکی اصلیت معلوم کرنے لیکن ڈیٹا یہاں پہنچنے کے بعد مجھے ملا تھا تب میں گھر لوٹا تو تمہیں کسی اور کا دیکھ کر میں سب کچھ بھول گیا سب کچھ جان نظروں کے سامنے صرف تُم کسی اور کی ہوگئی تھیں یہ دیکھ کر یہاں بہت بہت تکلیف ہوا تھا بہت زیادہ۔اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر مرجان کے گود میں رکھے اُسکے ایک ہاتھ کو اٹھا کر اپنے سینے پر رکھتا وہ ٹوٹے اور بکھرے ہوئے لہجے میں کہتا مرجان کو شرمندگی کے ساتھ ساتھ رولانے پر مجبور کر گیا۔۔
“س۔سوری زر مم۔۔مجھے معاف کر دے میری بب۔بے وقوفی اور ضد کی وجہ سے آپ نے کیا کچھ نہیں سہا اور تکلیف الگ ملی میرے وجہ سے کیوں پتہ نہیں کیوں میں نے اُس جیسے درندے سے محبت کی پتہ نہیں کیوں مم۔۔۔مجھے تو مر جانا چاہیے تھا اسی وقت جب میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ آپکا دل تورا اسی وقت۔۔!!
وہ بری طرح سے روتی چیختی ہوئی ہزیانی انداز میں اپنے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر کہنے لگی تو زارقم نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر تیزی سے اُسے اپنے ساتھ لگاتا نرمی سے اُسکی پشت کو سہلاتے ہوئیں لبوں سے اُِسکے سر کو چھوتا اُسے اپنے ہونے کا احساس شدت سے کرانے لگا۔۔
“بس بہت ہوگیا اب رونا مت اور ہمشیہ یاد رکھنا وہ محبت نہیں ضد تھیں مرجان جو تُم نے مجھے نیچا دکھانے کیلئے اُس شیطان کا سہارا لیا تاکہ تُم مجھ سے جیت سکوں اور میں ہار جاؤ دیکھو ہار ہم دونوں کے حصے میں آئی کوئی بھی نہیں جیتا بلکہ ہم دونوں اس ہار جیت کے کھیل میں برباد ہوگئے۔۔۔!!
آنسوؤں کو اپنی پوروں سے چن کر وہ سخت لہجے میں کہتا آخر میں اسے اپنے ساتھ لگاتا دکھ سے بھری آواز میں کہنے لگا تو مرجان اُسکی سینے سے لگی بری طرح سے آنسوؤں بہانے لگی۔۔۔
دونوں اس چاندی رات کی روشنی میں یاٹ پر بیٹھے ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ رہے تھے ایک دوسرے کو سمیٹ رہے تھے زارقم اسے اپنی اگوش میں لیے مطمئن سا لگ رہا تھا اور چاند کی روشنی میں اور انکے عکس کو سمندر کی شفاف پانیوں نے عکس بند کیا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
