47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“کب سے اِسی موقعے کی تلاش میں تھا زوجہِ سلطان کے کب ہاتھ لگو گی اور دیکھو میری جان تُم ہاتھ لگی بھی ہو تو کس خوبصورت حالت میں بہت حسین لگ رہی ہو اِس لباس میں جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں کیا اجازت ہے۔۔!!
پیازی کلر کے سوٹ میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی اور ہاتھوں میں سرخ مہندی نے تو سونے پہ سہاگا کر دیا تھا
صبح سویرے ہی وہ روم میں اُسے نا پاکر دل میں خوشی محسوس کرتی جب روم سے باہر نکلی تو دا جی کے بے حد اسرار پر اُسنے بے دلی سے یہ مہندی لگائی تھی۔۔
اب سامنے کھڑے بے باک شخص کی نظروں کو وہ شدت سے اپنے پورے وجود پر سفر کرتیں دیکھتی تیزی سے حیا سے اپنی پلکوں کو بار بار عارضوں پر گرانے لگی اور پھر یکدم سے شدت سے کل رات کو اُسکی بے پناہ شدتوں کو سوچنے لگی اور یہ بات سوچتے ہوئے اُسکے ہاتھوں سے پیسنے کے ننھے ننھے قطرے چھوٹنے لگے تھے۔۔
“آپ سس۔سامنے سے ہٹ جائے۔۔!!
وہ لرزتی پلکوں کو مزید عارضوں پر جُھکا کر کانپتی آواز میں بولی زہاک سلطان اُسکی آواز کی کپکپاہٹ پر زومعنی انداز سے مسکایا۔
“نہیں زوجہِ زہاک سلطان اب یہ دیوانہ ہمشیہ صرف آپ کے سامنے ہی پایا جائے گا اور دیکھو کتنا چاہتا ہوں میں اپنی زوجہ کو اور میری چاہت کی گواہی یہ مہندی ہے۔۔!!
آگے بڑھ کر اپنے مضبوط سفید ہاتھوں کی گرفت میں اُسکی مہندی لگے نازک ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر لبوں سے لگاتا وہ مہندی کی خوشبو کو کسی عطر کی طرح سانسوں میں گھول کر اُنہیں اپنی محبت کی گرمائش بخشتا پیچھے ہٹا۔۔
“آپ اتنے بے شرم کیسے ہوسکتے ہیں ایک بچے کے باپ ہو کر ایسی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی۔۔۔!!
اپنے ہاتھوں کے درمیان میں زہاک سلطان کی پُرحدت لمس کو وہ شدت سے ابھی تک محسوس کر رہی تھیں اور اُوپر سے اُسکی معنی خیز بولتی نَظروں سے وہ سخت شرم سے اناری ہوئی جا رہی تھی۔۔
“جس کی بیوی اتنی حسین و جمیل بلا ہو وہ بھلا بے شرمی نہیں کرے گا تو کیا شریف بن کر بیٹھے گا۔۔۔!!
قدم آگے بڑھا کر وہ اُسکی بے پناہ قربت کی وجہ سے بھوری آنکھوں میں خماری ڈالے اُسے بے ساختہ اپنی حصار میں لے کر اُسکے خوبصورت شفاف چہرے کو نگاہوں کی گرفت میں لیتا حفظ کرنے لگا۔۔
“آپ لاجواب کر رہے ہیں اب مجھے یہ سب کر کے کل سے آپ کی وجہ سے میں چھپتی پڑ رہی ہو صرف اِس لیے کہے آپ پھر سے۔۔۔!!
بیچ میں الفاظ دم توڑ گئے کیونکہ مقابل نے اُسے کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دیا وہ چہرے پر جھکا اور خود کو سیراب کرنے لگا جبکہ اُسکی نازک کمر پر ہاتھ سے دباؤ بڑھانے لگا وہ نازک وجود اِس جرات پر دم سادھے کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
زوجہِ سلطان آپ خود ایک لاجواب دواء ہےہمارے لیے تو ہم کیسے اپنی دوا سے فیضیاب نہیں ہوں گے ہم تو اِس دوا سے صحتیاب ہونا اپنا فرض سمجھ کر گھونٹ گھونٹ پیے گے!!!
وہ بھاری بوجھل لہجے میں کہتا نازک سُرخ و سفید صراحی دار گردن پر جُھکا اور نرمی سے چھو کے وہ اپنی محبت کا خراج تحسین پیش کرنے لگا۔۔۔
“آپ کیوں مم۔مجھے پریشان کر رہے ہیں یہ حرکتیں کر کے پپ۔پیچھے ہو جائے پلیز۔۔!!
گردن پر نرم گرم لمس کو شدت سے محسوس کرتی وہ سخت رو دینے کو ہوئی جبکہ وہ سامنے کھڑا ہاتھ پیچھے سیڑھیوں پر رکھے مکمل اُسکے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔
“پریشان تُم زوجہ مجھے پریشان کم شرم سے سرخ زیادہ لگ رہی ہو۔۔!!
معنی خیزی سے اُسکے سُرخ اَنارِی گالوں کا بغور جائز لیتا وہ شریر لہجے میں گویا ہوا پھر تھوڑا سا ٹھہرا اور اُسکی پیشانی پر لمس چھوڑتا اُسے سے بوکھلانے کے بعد دوبارہ گویا ہوا۔۔۔
“اب شرما کیوں رہی ہو۔۔؟؟
صبح سے وہ اُس سے چھپتی پڑ رہی تھی اور وہ کب سے اُسی موقعے کی تلاش میں تھا کہ وہ کسی طرح اسکے ہاتھوں لگ جائے اور آخر کار وہ اسکے ہاتھوں لگ ہی گئی۔۔
“مم۔۔۔میں کیوں شرماؤ گی۔۔؟؟
اُسکی بے باک نظروں کو خود پر مرکوز دیکھتی وہ بری طرح سے سٹپٹا کے جلدی سے وہاں سے جانے کیلئے اپنے لیے راہ فرار ڈھونڈنے لگی۔۔۔
“ہمممم تُو میری چالاک بیوی کل رات کے واقعے کے بعد بھی اپنے بڈھے شوہر سے شرما نہیں رہی ہیں حیرت۔۔؟؟
سفید کاٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس وہ اپنے مضبوط کندھوں پہ سیاہ شال اوڑھے اُسکے بے حد نزدیک کھڑا اُسے اپنی پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اپنی پیشانی پر اُسکی سانسوں کی تپش کو شدت سے محسوس کر رہی تھی۔۔
“مجھے شرم نہیں بلکہ آپ کے اوپر سخت غصہ آ رہا ہے۔۔!!
اُس سے دور ہوتی وہ شدید غصیلی آواز میں کہنے لگی تو اُسکی غصے سے سرخ ہوتی خوبصورت سرمئی آنکھوں کو اپنی خماری لیے آنکھوں سے بغور مطالعہ کرتا آگے بڑھا اور نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے اُسے مزید قریب کرتا بے ساختہ اُسکی پیشانی کو اپنے لبوں سے چھو کر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا نیچے سرخ کانپتے لبوں کی جانب بڑھا۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں چھوڑے مجھے اور دد۔دور رہیں کر مجھ سے مخاطب ہوا کرے۔۔!!
اُسے اپنے لبوں کی جانب سفر کرتے ہوئے دیکھتی دونوں ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر رکھ کر اُسنے اُس مقابل کھڑے بے باک اور چٹان نما انسان کو خود سے بمشکل دور کیا۔۔۔
“شوق ہے ہمیں اپنی چالاک بیوی کو شرم سے سرخ دیکھنے کا لیکن افسوس ہماری چالاک لومڑی زوجہ یہ شوق کبھی پورا کرنے نہیں دے گی۔۔۔!!!
اُسکی سرخ لپ اسٹک سے سجے نازک لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا اور ژالے اُسکی پرحدت انگلیوں کو اپنے لبوں پر سرکتا ہوا شدت سے محسوس کرتی کانپ اٹھی تھی۔۔
“اپنے شوق کو اپنے دل میں دبائے سمجھے آپ ورنہ میں اُنہیں ختم کرنا اچھے سے جانتی ہو۔۔!!
شرم اور اُسکی اتنی زیادہ قربت پر وہ خوف کھاتی لرز کر بولی تو زہاک عباس سلطان اسکے نازک بدن کو کانپتے ہوئے دیکھتا معنی خیزی سے مسکرایا۔۔
“دیکھ چکا ہو بیگم کہ آپ بہت زیادہ ظالم ہے لیکن ہم بھی کم نہیں ہے اور آپ کل رات اچھے سے جان چکی ہے کہ ہم کیا ہیں۔۔!!
زومعنی لہجے میں کہتا وہ نرم و ملائم سرخ اناری گالوں کو محبت سے چھوتا پیچھے ہٹا اور اُسے پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا جو شرم سے سرخ اَنارِی گالوں کو چھو کر شدت سے کانپتی اُس سے پیچھے کھسکنے لگی۔۔
“اچھا خیر یہ بتاؤ ثمر کہاں ہے ہمارا بیٹا۔۔؟؟
اُسے مزید پریشان کرنے سے گریز کرتا ثمر کے متعلق پوچھنے لگا جو اُسے کل خود اپنی ماں کے پاس چھوڑ کر آیا تھا تاکہ وہ اپنے آفس کے ضروری کام نبٹا سکے لیکن ژالے کی بغاوت کرتی نظروں نے اُسے جدائی کے ڈر سے وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جسکے حق میں نا ہی ابھی وہ تھا اور نا ہی ژالے۔۔
“اب یاد آ رہا ہے آپ کو ہمارا بیٹا۔۔!!!
وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی کہنے لگی خوشی لفظ کیا ہوتی ہے آج کوئی زہاک عباس سلطان سے پوچھتا کیونکہ مقابل کے منہ سے ہمارا بیٹا سن کر وہ تو جیسے خود کو ایک خوش نصیب انسان سمجھنے لگا۔۔
“کیا کہا پھر سے کہنا زوجہ۔۔؟؟
اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر خوشی سے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ وہ اِس طرح جھنجھوڑنے پر سٹپٹا کر خود میں سمٹنے لگی۔۔
“میں بار بار اپنی باتیں ڈورانا پسند نہیں کرتی۔۔!!
وہ سخت چڑتی بولی ایک تو اچانک سے وہ شخص اُسکی دھڑکنوں کو تیز کرنے کا باعث بن رہا تھا اور اُوپر سے اُسکی حرکتیں اور زومعنی نظریں تو آج جیسے اُسکی سانسوں کو اپنی قید میں جکڑ کر اپنے بس میں کر رہی ہو۔۔
“زوجہ سلطان پسند کرنا پڑے گا اب آپ کو ہر وہ بات جو آپکے سلطان سے جوڑی ہوئی ہو۔۔!!
گھمبیر آواز میں کہتا وہ اُسے اپنی قید میں جکڑ کر پیشانی کو چھو کر وہ محبت سے اُن سرمئی آنکھوں کو نظروں کی گرفت سے چھونے لگا جو روز اُسکی کمزوری بنتے جا رہے تھے۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“نئی زندگی شروع کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں تُم اِن پیپرز پر سائن کروں مرجان۔۔۔!!
نمیر بیڈ پر عین اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان جو سر جھکائے ہوئے تھی اُسکی گھمبیر آواز پر اپنی گھنیری پلکوں کو اوپر اٹھائے اُسے دیکھنے لگی جو کچھ پیپرز بڑھائے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“یہ کیا ہیں۔۔۔؟؟
وہ لبوں پر زبان پھیرتی پوچھنے لگی تو نمیر کے لب طنزیہ انداز میں مسکرا اٹھے۔۔
“کتنا محبت کرتی ہو تُم مجھ سے۔۔؟؟
وہ الٹا اُسکے سوال پوچھنے پر خود اُس سے عیجب سوال پوچھ بیٹھا جو مرجان نے ناسمجھ نظروں سے اُسے دیکھا۔
“یہ کس طرح کا سوال ہے اور آپ یہ اس وقت مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟؟
وہ خوبصورت قاتل آنکھوں میں بے پناہ الجھن لیے اُسے دیکھتی بولی اُسے ایسا کیوں لگ رہا تھا جیسے وہ بہت بڑی غلطی کررہی ہے اپنی ضد میں آکر یا شاید وہ نمیر کو سہی سے سمجھ نہیں سکی۔۔
“محبت میں جب تک اعتبار شامل نا ہو تو وہ رشتہ بننے سے پہلے ٹوٹ جاتا ہے اور یہ پیپرز اسی اعتبار کی پہلی سیڑھی تھی۔۔!!
میں اپنا پراپرٹی تُمہارے نام کرنا چاہتا تھا تاکہ جب میں تُمہیں اکیلا چھوڑ کر آئی مین میرے ساتھ اگر کچھ ہو جاتا تو یہ پراپرٹی تُمہارے کسی کام کی تو آتی لیکن تُم نے شک کیا مجھ پر اپنے شوہر پر اپنی محبت پر ہاؤ چیپ۔۔۔!!
اُس سے آگے وہ کچھ کہتا مرجان نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں پر اپنے نازک ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔۔
“آپ کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں پلیز آئندہ ایسی باتیں مزاق میں بھی مت کریئے گا۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اُسے دیکھنے لگی جو اب مخمور آنکھیں گلابی مائل ہونٹوں کو فوکس کیے ہوئے تھا اور وہ اُسکی نظروں سے سٹپٹا کے پیچھے کھسکنے لگی۔۔
“کب سے چاہتی ہو تم مجھے۔۔۔؟؟
نظریں ہنوز گلابی ہونٹوں پر گاڑھے بوجھل لہجے میں بولا زارقم عباس سلطان سے انتقام لینا اتنا خوبصورت ثابت ہوگا یہ اُسنے کبھی نہیں سوچا تھا وہ سامنے اُس حُسن کی دیوی کو چھونا چاہتا تھا مروڑنا چاہتا تھا اُسے شدت سے مسل کر زارقم عباس سلطان سے اپنی ایک ایک بات کا بدلا لینا تھا یہی سوچ ذہن میں آتے ہی وہ آگے کھسکا۔۔
“پتہ نہیں۔۔؟؟
وہ اُسکے کھسکنے پر مزید خود میں سمٹتی بیڈ کراؤن سے جا ٹکرائی جبکہ وہ اب مکمل طور پر اُسکے بے جد نذدیک پہنچ کر اُسے دونوں کلائیوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچتا شدت سے کانپتے ہاتھوں کو سختی سے مڑورنے لگا۔۔
“تُو میری قربت میں پتہ کرو جاناں۔۔۔!!
مخمور لہجے میں کہتا ہاتھ سائیڈ لمیپ کی جانب بڑھاتا وہ اُس پر اپنی شدتوں کو کسی محبت کرنے والے شوہر سے ہٹ کر کسی درندے انسان کی طرح لوٹانے لگا اور وہ نازک وجود اِن شدتوں کو روتی نم آنکھوں سے برداشت کرنے لگی۔۔۔
پوری رات اپنی درندگی اُس پہ لٹانے کے بعد اب وہ مکمل پرسکون انداز میں بیڈ پر پھیل کر سو رہا تھا اور وہ نیچے بیڈ پر سر گھٹنوں میں چھپائے بری طرح سے سسکیاں لے لے کر آہستہ آواز میں رو رہی تھی۔۔
پورا وجود جیسے کسی نے چلتی میشن کے آگے رکھ دیا ہو کیونکہ درد کی وجہ سے وہ اٹھ بھی نا پا رہی تھی اور کیسے اٹھتی اور کیسے اپنی کم مائیگی کا سوگ مناتی اُس نے تو خود اُس انسان کے بھیس میں چھپے درندے کو چُنا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اب محبت کا بخار اتر گیا ہو تو جاؤ جا کر میرے لیے ناشتہ بناؤ یا ابھی بھی یہ بخار سر پر اُسی طرح باقی ہے۔۔!!
اُسی طرح بیڈ کے نیچے ساکت وجود لیے بیٹھی تھی دونوں آنکھوں کے کاجل جو کل خود پر نازاں تھے آج اپنی بے قدری پر سوگ منا رہے تھے کیونکہ بہت زیادہ رونے کی وجہ سے وہ پھیل کر اب سوکھ کر اُسے عیجب بنا رہے تھے۔۔۔
“لگتا ہے کل رات کو محترمہ تُم بھول گئی جو اپنے شوہر کو جواب دینا بھی نہیں چاہتی ہو۔۔؟؟
وہ غصے سے سرخ ہوتا جھٹکے سے بیڈ سے نیچے اترا اور اُسے دونوں شانوں سے سختی سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے غرایا۔۔
“صرف اُس رات کو ہی نہیں بھول پا رہی کیوں کیوں کیا ایسا آپ نے بولیں نمیر آپ سے تو میں نے محبت کی تھی اور آپ نے مجھے اُس محبت کی سزا یہ یہ دی۔۔!!
ساکت آنکھوں کو اوپر اٹھا کر وہ شدت سے چیختی اپنا گریبان سختی سے پکڑ کر تھوڑا سا ہٹا کر اُسے شرمندہ کرنے لگی لیکن وہ شخص بھی سخت ڈھیٹ تھا بجائے شرمندہ ہونے کے اُسے عیجب نظروں سے دیکھنے کے بعد گریبان سے نیچے کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
“صبح بھی اب روم میں گزارنا چاہتی ہو کیا تُم جو مجھے اپنا حُسن کھلے عام دکھا کر بہکا رہی ہو۔۔؟؟
قدم آگے بڑھا کر عین روبرو پہنچ کر وہ بے باکی سے اُسے چھوتا پوچھنے لگا تو مرجان اُسکے چھونے پر سخت خوفزدہ ہوتی پیچھے بیڈ پر جا کر گری اور وہ اُسکے اوپر آکر پھونک مار کر اُسکے چہرے سے آوارہ لٹوں کو پیچھے ہٹا کر لبوں پہ اپنی کل رات کی درندگی کے نشانوں کو اپنی انگلیوں سے چھونے لگا اور وہ تکلیف سے اپنے ہونٹوں کو بھینچنے لگی۔۔
“پلیز پیچھے ہٹ جائے بب۔بہت تکلیف ہو رہی ہیں۔۔!!
چٹان نما وجود کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کرتی وہ کراہ کر بولی کیونکہ دباؤ بڑھنے کی وجہ سے پورے بدن میں تکلیف سوا نیزے پر جا پہنچی تھی۔۔
“یہ تکلیف کچھ بھی نہیں ہے اگر تُم نے باہر جاکر اپنے عاشق سے کل رات کی باتیں بے شرموں کی طرح شئیر کی نا تو میں تمہیں تکلیف کے قابل بھی نہیں چھوڑو گا۔۔۔!!
انگلیاں اب لبوں سے نیچے سرک کر نیچے گردن پر آکر ٹھہر گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُسکی گردن کو اپنی سخت گرفت میں جکڑتا وہ نرم لہجے میں کہنے لگا انداز جتنا نرم تھا تو لفظ اتنے سنگین۔۔
“جاؤ میرے کپڑے نکال کر رکھ دو الماری سے اور میرے فریش ہونے سے پہلے مجھے اپنا ناشتہ روم میں چاہیے سمجھی جاؤ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔!!
گردن کو جھٹکے سے چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا تو وہ بری طرح سے کھانستی ہوئی اٹھی اور ڈرتی ڈرتی الماری کی جانب بڑھی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“وہ فائل میں نے یہی تو رکھا تھا۔۔!!
کل رات وہ اپنے بیڈ روم میں فائل لینے کے لیے داخل ہوا غلط تو بہت کچھ ہوا تھا اُسکے ساتھ اور اب وہ مرجان کی بے وقوفیوں کی وجہ سے اُسکے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے نہیں دینا چاہتا تھا وہ اس قصے کو ختم کرنا چاہتا تھا تیزی سے الماری کی جانب بڑھا لیکن جھٹکا تو اُسے تب لگا جب وہ فائل الماری میں کیا اُسے اپنے پورے روم میں نہیں ملا اور اب وہ بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھا غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
“نمیر لاشاری نہیں بچو گے تُم ابھی تو تُم نے وہ کیا ہے جس کا تُمہیں سود سمیت مجھے وقت آنے پر لوٹانا ہیں اور جان تُم نے بھی اپنے ساتھ میرے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا تُمہیں تو سزا ضرور ملے گی لیکن اُس گدھ کی سچائی جاننے کے بعد میں نہیں بتاؤ گا بلکہ اب تُم خود اُسکی سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی۔۔!!
سرخ آنکھیں گلے سے چین نکال کر اُس پر لگی مرجان کی تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
وہ فائل اس گدھ کو سلطان ولا سے باہر نکالنے کا ذریعہ تھا لیکن تھوڑی دیر پہلے جو حادثہ اُسکے ساتھ پیش آیا تھا وہ مضبوط حساب کا مالک ہونے کے باوجود بھی خود کو اس سانحے سے سنبھال نا سکا اور اسی بات کا فائدہ اس گدھ نے اسکے روم میں اس فائل کو نکال کر لیا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ضنافر یار اب تُم ریس میں کیسے جاؤ گے۔۔؟؟
سب گروپ ممبرز پریشانی سے ضنافر زیدی کو دیکھ رہے تھے جو بخار کی سرخی چہرے پر سجائے صوفے کی بیک سے پشت لگا کر آنکھیں موندے ہوئے تھا ۔
“کیا مطلب تم سب کا میں کیسے جاؤ گا جیسے پہلے جاتا تھا یار اسی طرح جاؤ گا سارب جگر بھائی اب تم ہی ان پاگلوں کو سمجھاؤ کہ میں مرا نہیں ہو زندہ ہو بس چھوٹا سا فیور ہے۔۔!!
وہ بخار کی حالت میں اسی طرح چڑچڑا رہتا تھا ابھی بھی سخت چڑ کر سب دوستوں سے کہنے لگا آنکھیں ہنوز اسے طرح بند تھیں۔۔
“یار سہی تو کہہ رہے ہیں تم کیسے اس حالت میں ریس کروں گے جب کہ تم سے سہی سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا۔۔؟؟
سارب نے پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے ان سب کی سائیڈ لیا تو وہ اسکی سائیڈ لینے کے بجائے باقیوں کی سائیڈ لیتے ہوئے دیکھتا سخت غصے سے سرخ آنکھوں کو کھولتا چٹخ کر بولا ۔
“اگر اتنی ہی فکر ہے تمہیں میری تو یہ لوں چابی اور جاؤ آج میری جگہ اور ریس کو جیت کر آؤں۔!!
سارب ساکت نظروں سے سامنے ٹیبل پر اسکی سب سے فیورٹ اسپورٹ بائک کی چابی کو دیکھنے لگا۔۔
“یار ضناف میں کیسے آپی وہ تو زندہ جلا دے گی جب انہیں پتہ چلا بائیک ریس کا۔۔!!
وہ صالحہ کا سوچ کر جھرجھری لیتے ہوئے کہنے لگا تو ضنافر زیدی صالحہ کے نام پر جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر خوبصورتی سے مسکایا صرف اُسی کو دیکھنے کے بعد وہ ٹھیک ہو سکتا تھا پر اسے وہ کیسے دیکھے یہی پر آکر وہ بے بس ہو جاتا تھا ۔
“اُسے کون بتائے گا جگر میں یا یہ لوگ اگر میں نے بتایا تو تُم مجھے شوٹ کرنا اور ان میں سے کسی نے بتایا تو میں خود انہیں شوٹ کر دو گا۔۔۔!!
اپنے سینے پر انگلی بجا کر پھر سب گروپس کے لڑکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو سب لڑکے اپنے گروپ کے شہزادے کی بات پر خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ سچ میں ایسا کر سکتا تھا وہ ضدی کے ساتھ ساتھ ایک سرپھرا انسان بھی تھا۔۔