47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

“تُمہیں اپنی بہن کا خیال نہیں ہے کیا ہاں جو اس ٹرپ میں جا رہے ہو میں تو یہ سوچ کر نہیں جا رہی ہو کہ صالحہ وہاں پتہ نہیں کس حال میں ہوگی۔۔!!
سیرت ڈائننگ ہال میں ٹیبل پر اپنے لیے ناشتہ رکھتی ہوئی سخت غصے سے بولی اپنے روم میں یونی ٹرپ پر جانے کیلئے کچھ سامان دیکھ کر وہ اب سخت غصے میں تھی کیونکہ وہ صالحہ کی وجہ سے پریشان تھی اور یہ صاحب تو صرف ایک بات کو لے کر اپنی بہن سے ناراضگی ظاہر کرنے کیلئے اتنا کچھ کر رہا تھا۔
“میں کیوں فکر کرو اس بہن کی جس نے مجھے بتانا تک سہی نہیں سمجھا اور کیوں پرواہ کروں اسکی جو مجھے اپنا بھائی سمجھتی نہیں۔۔؟؟
وہ پلیٹ سے نظریں اوپر اٹھا کر اُسے سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے کرخت لہجے میں کہنے لگا۔۔
“تُمہیں فکر کرنی چاہیے سب کو پتہ ہے کہ وہ شخص کتنا بدتمیز ہے اور تم بھول گئے اسنے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا دوست کے نام پر تمہیں اسنے دھوکا بھی تو دیا تھا ہو سکتا ہے وہ زبردستی کر رہا ہوں صالحہ کے ساتھ اسے یہ سب بولنے کیلئے اسی نے ہی اکسایا ہوں۔۔!!
سیرت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو سارب نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ غصے سے پلیٹ پر رکھ کر اُسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“اگر تُمہیں نہیں آنا ٹرپ پر تو مجھے اس طرح کی باتوں سے مت الجھاؤ مجھے پتہ ہے اس نے اس شخص کو اپنی خوشی سے چنا ہے مجھے اسکی آواز سے لگا کہ وہ اس شخص کو چاہنے لگی ہے دھوکا وہ شخص نہیں بلکہ میری بہن ہم سب کو دے رہی ہے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا ٹیبل سے اٹھا اور غصے سے اپنے روم کی جانب بڑھا اور سیرت اسے بنا ناشتہ کیے وہاں سے اٹھتے ہوئے تاسف سے دیکھنے لگی اور پھر کندھے آچکا کر ناشتہ کرنے لگی اور سوچنے لگی کہ بھاڑ میں جائے یہ سفید جن اسے کیا۔۔
🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞
“اسٹوڈنٹ ہم لوگ ٹرپ پر ایک آئی لینڈ میں جا رہے ہیں اور ہاں ایک اہم بات اٹلی میں آجکل ایک گروپ سر گرم ہے وہ اپنے مطالبے حکومت سے پورا کروانے کیلئے اسٹوڈنٹ کو کڈنیپ کرتے ہیں سو آپ سب لوگ ایک ساتھ رہے ورنہ ہم ذمے دار نہیں ہونگے وہ لوگ بہت خطرناک ہے۔۔!!
پروفیسر کی بات پر سارب نے سیرت کی جانب دیکھا جو غور سے پروفیسر کی باتوں کو سن رہی تھی وہ تھوڑا سا آگے ہوا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
“چڑیل اپنی حفاظت خود کرنا میں تمہارا کچھ نہیں لگتا تم میرے لیے ٹرپ میں صرف اجنبی کی حیثیت رکھوں گی اس سے آگے کچھ بھی نہیں۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اُسے دیکھتی زرا پیچھے ہوئی تو اس چکر میں وہ کرسی سے نیچے گرنے ہی والی تھی کہ سارب نے اُسے تھاما جس کے نتیجے میں وہ دونوں پیچھے ایک دوسرے کے اوپر جا گرے تھے اور انہیں اس طرح گرتے ہوئیں سب اسٹوڈنٹ اور پروفیسر منہ کھولے دیکھنے لگے تو سیرت اس سچویشن میں شرم سے سرخ ہوتی جلدی سے اس سے الگ ہوئی جبکہ سارب عرفان سلطان اسکی شرم سے سرخ رخساروں
کو بڑے ہی غور سے دیکھنے لگا۔۔
“چڑیل کی سردارنی تُم یہاں خود کو سنبھال نہیں سکتی تو وہاں خاک سنبھالوں گی اور اگر ان لوگوں نے تمہیں پکڑ لیا نا تو میں نے تمہیں نہیں بچانا۔۔!!
وہ اُسے دور کرتا شریر لہجے میں کہنے لگا تو سیرت نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
“سفید جن میں اپنی حفاظت خود کر لوں گی میں تم جیسے جن نما انسانوں سے نہیں ڈرتی دیکھنا ان سب کو انکی نانی یاد دلا دو گی۔۔!!
وہ اس سے کوسوں دور کھڑی ہو کر سخت لہجے میں بولی تو اسکی بات پر سارب عرفان سلطان طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔
“تُم چڑیل ہو تو تُم سے انسان ڈرے گے وہ غنڈے بھی تو آخر کو انسان ہے انکے سینے میں بھی تو دل ہے پھتر نہیں۔۔!!
وہ اُسکی شرارتی نظروں سے سخت چڑتی ہوئی اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“سارب عرفان سلطان اینڈ سیرت عباس سلطان آپ دونوں اپنی یہ لڑائی گھر جا کر کیا کرے یہاں آپ دونوں لڑنے نہیں آتے۔!!
پروفیسر نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا سیرت نے اسے وارن کیا تھا کہ وہ اسکے نام کے ساتھ اپنا نام کبھی نا لگائے اسی لیے یونی میں سب اُسے سیرت عباس سلطان کہتے ہیں۔۔
“سر میں کہا لڑ رہی ہوں وہ تو مجھے اس جن نے غصہ دلایا ہے ورنہ میں جھگڑالو نہیں ہو بہت کیوٹ ہو۔۔!!
سارب اسے خود کی تعریف کرتے ہوئے دیکھ کر چہرہ چھپا کر مسکرانے لگا اور اسکی مسکراہٹ سیرت کی نظروں سے چھپ نہ سکا تو وہ اسے غصے سے گھورنے لگی۔۔
“تُم اور جھگڑالو نہیں ویسے خواب برا نہیں ہے مس چڑیل۔۔!!
وہ اردو میں کہتے ہوئے اُسے شریر نظروں سے دیکھنے لگا تو سیرت جلتی آنکھوں سے اُسے گھورتی اپنا پیر زور سے اسکے پیر پر مارتی ہوئی مسکرا کر اسے ایسے دیکھنے لگی جیسے وہ اسکی بات کو انجوائے کر رہی تھی۔۔
“کیا میں کیوٹ نہیں ہو سفید بندر۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی لبوں پر مسکراہٹ سجا کر اس سے سختی سے پوچھنے لگی تو سارب اسے بغور دیکھنے لگا۔۔
“چڑیل کی خالہ سے کم تُمہیں مجھے کچھ بھی نہیں لگتی مس چڑیل۔۔!!
وہ آنکھوں میں شریر چمک لیے اُسے دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں بولا تو وہ اسکی بات پر اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“سیرت بے بی آج کے دن تو اس ہینڈسم کا پیچھا تو چھوڑ دو ویسے تم دونوں اتنا لڑتے کیوں ہو ویسے کیا کوئی جانی دشمنی ہے تم دونوں کے درمیان۔۔؟؟
ایک لڑکی وہاں آکر ان دونوں کو دیکھتی ہوئی انگلش میں کہنے لگی تو سارب نے اسے خوش ہو کر دیکھا اور سیرت اسکی خوشی سے سخت چڑتی دونوں کو خون آشام نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“خوش تو ایسے ہو رہا ہے جن جیسے سامنے کوئی لڑکی نہیں بہت ہرے ہرے نوٹ کے بنڈلز پڑے ہوئے دیکھ لیے ہوں اسنے ہونہہہ۔۔!!
دل ہی دل میں جلتی سخت نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی بڑبڑانے لگی جو پاس کھڑے سارب نے سن لیا تو وہ اسے مزید چڑانے کے لیے اس لڑکی سے ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگا۔۔۔
“لیلی ویسے تُمہیں کسی چیز کے جلنے کی بو نہیں آ رہی۔۔؟؟
وہ ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے سیرت کو بغور دیکھتے ہوئے سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھنے لگا۔۔
“نہیں تو ہینڈسم مجھے تو کسی چیز کہ جلنے کا اسمیل نہیں آ رہا ۔؟؟
لڑکی نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو سیرت اس بے شرمی پر بری طرح سے کھانسنے لگی تو سارب پریشانی سے آگے بڑھا اور اسکی پشت کو سہلانے لگا۔۔
“آر یو اوکے تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔؟؟
اسکے چہرے پر اپنے لیے پریشانی دیکھتی وہ طنزیہ انداز میں پیچھے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی جو اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔
“تُمہیں کیا سفید جن میں کھانسی سے مر جاؤ یا تمہاری ان گھٹیا حرکتوں سے اور اپنی یہ پپی لو کو نا میرے سامنے جاری مت کیا کروں مجھے انہیں دیکھ کر الٹیاں آتی ہے اففف ابھی تک کسی فلم کی طرح نظروں کے سامنے تم دونوں کی بے شرمیاں چل رہی ہے۔۔!!
سخت لہجے میں کہتی اسے دور کرتی سب اسٹوڈنٹ کے پیچھے بڑھی جو بس میں چڑھنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے تو سارب بھی اسکے پیچھے بڑھا۔۔
“تُم جیلس ہو رہی ہوں میرے پپی لو سے چڑیل۔۔؟؟
ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
وہ بس کے اندر داخل ہو رہی تھی کہ اسکی بات پر سرخ آنکھوں کو اس پر تھکا کر اُسے گھورنے لگی ایک تو دلیری سے لڑکیوں سے باتیں کر رہا تھا اور اوپر سے اسے کہہ رہا ہے کہ تم جیلس تو نہیں ہو رہی ہو یہ اسے غصے دلانے کے لیے کر رہا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکی اور سخت غصے سے اُسکے سینے پر مکا مارتی ہوئی اپنا غصہ نکالنے لگی۔۔
“اہ ظالم چڑیل آرام سے نہیں مار سکتی ۔۔؟؟
وہ سینے پر ہاتھ رکھے بری طرح سے جھنجلا کر بولا تو وہ اسے اگنور کرتی آگے بڑھی اور ایک سیٹ پر جا کر بیٹھی۔۔
🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞
“سارب یار ایک سونگ تو سناؤ۔۔!!
وہ اُسکے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا اپنے گروپ کو نظر انداز کیے اسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا جو ایک کلاس فیلو لڑکے کے ساتھ بیٹھی باتوں میں لگی ہوئی تھی۔۔
“نہیں میرا موڈ نہیں ہے تم لوگ خود مینج کر لوں آج میرا تو دل چاہ رہا ہے یہاں سے بہت دور چلا جاؤ۔۔!!
وہ غصے سے اس لڑکے کو گھورتے ہوئے اپنے دوست سے کہنے لگا جو اٹلی کا ہی شہری تھا۔۔
“کیوں تُمہارے موڈ کو کیا ہوا پہلے تو بہت خوش لگ رہے تھے بلکہ تمہارا موڈ تو بہت اچھا تھا۔۔!!
اپنے دوست کی بات پر اسنے پہلے اسے گھورا پھر سامنے بہت خوشگوار موڈ میں باتیں کرتی سیرت کو غصے سے دیکھنے لگا اور آگے بڑھ کر ایک لڑکے کے ہاتھ سے گٹار لے کر بجانے لگا تو سیرت جو ہنس کر باتیں کر رہی تھی گٹار کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی تو اسے اپنی طرف سرخ نظروں سے گھورتے ہوئے پا کر وہ گھبرائی۔۔
“You’re the light, you’re the night
You’re the color of my blood
You’re the cure, you’re the pain
You’re the only thing I wanna touch
Never knew that it could mean so much, so much”
سیرت کی آنکھیں اِس آواز پر جھک گئی تو سارب عرفان سلطان غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے گٹار پر انگلیاں پھیرنے لگا۔۔
“You’re the fear, I don’t care
‘Cause I’ve never been so high
Follow me to the dark
Let me take you past our satellites
You can see the world you brought to life, to life”
سیرت کی آنکھیں اٹھی تو ساکت رہ گئی کیونکہ سارب عرفان سلطان کی انگلیوں سے اب خون بہہ کر گٹار کے تاروں پر گر رہے تھے جن کی پرواہ کیے بغیر وہ اسی طرح غصے سے دھن چھیڑ رہا تھا۔۔
“So love me like you do, lo-lo-love me like you do
Love me like you do, lo-lo-love me like you do
Touch me like you do, to-to-touch me like you do
What are you waiting for?
سارب عرفان سلطان اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتا مسکرایا اور اپنے اسی ہاتھ کو اٹھا کر جس سے خون بہہ رہا تھا اسکے آگے کرتا دوسرے ہاتھ سے گٹار کے تاروں کو چھیڑنے لگا۔۔۔
“Fading in, fading out
On the edge of paradise
Every inch of your skin is a holy gray I’ve got to find
Only you can set my heart on fire, on fire”
اسکی خوبصورت آواز نے تو جیسے سما باندھ لیا جبکہ سیرت اسکے لفظوں پر اسے اب سخت نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
اُسے پتہ تھا کہ اُسے اس سونگ سے سخت چڑ تھا تو وہ اسے ستانے کیلئے یہ سونگ گنگنائے گا تو وہ اپنے ہیڈ فون کانوں میں ٹھوس لیتی لیکن اسے اپنے کلاس فیلو کی باتوں میں پڑ کر پتہ نہیں تھا کہ پیچھے کیا ہو رہا تھا اب وہ مجبوراً یہ سونگ سن رہی تھی۔۔
“Love me like you do, lo-lo-love me like you do (like you do)
Love me like you do, lo-lo-love me like you do (yeah)
Touch me like you do, to-to-touch me like you do
What are you waiting?
چمکتی کچھ بولتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے گٹار پر آخری دھن چھیڑنے کے بعد گٹار اس لڑکے کو پکڑا کر سیرت کو دیکھنے لگا جو اسے ہی سخت نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
“Wow so nice ۔”
“سارب عرفان سلطان تُم اس سونگ میں اس قدر گم تھے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلا کہ تمہاری انگلیاں کٹ گئی ہے گٹار کے تار سے یار کیا ہو تم۔۔!!
سارب کے اسی دوست نے اسکی تعریف کرتے ہوئے آخر میں پریشانی سے اسکے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے کہا سارب اسکی بات پر مسکرایا اور سیرت کی جانب دیکھنے لگا کہ تبھی جھٹکے سے بس کسی نے روکا تو سب باہر دیکھنے لگے۔۔
سامنے بہت سے سیاہ کپڑوں میں ملبوس لوگ بس کے آگے کھڑے تھے سارب نے ان لوگوں سے نظریں ہٹا کر سیرت کو دیکھا جو ان لوگوں کو دیکھتی بری طرح سے ڈر رہی تھی وہ اپنے ہاتھ کی پرواہ کیے بغیر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس لڑکے کو دھکا دے کر اسے اپنے ساتھ لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگا۔۔۔
“اے یو الگ ہو کر بیٹھو ورنہ دونوں کو سوٹ کر دو گا ۔۔!!
بس میں ہل چل محسوس کرتے ہوئے وہ سیرت کو مزید اپنے سے لگا کر اسکی بری طرح سے لرزتے وجود کو سنبھالنے لگا وہ آنکھیں موندے سیرت کو اپنے ہونے کا احساس کرا رہا تھا کہ اس غصیلی آواز پر اپنی سرخ انگارا بنی آنکھوں کو کھولتے ہوئے گردن موڑ کر اس سیاہ نقاب پہنے شخص کو گھورنے لگا۔۔
“اے سمجھ میں نہیں آ رہا الگ ہو جاؤ اپنی یہ بے غیرتیاں اپنے بیڈ روم کی حد تک رکھوں ۔۔!!
اس شخص نے سخت غصے سے کہا تو وہ بھی سخت غصے سے اسے گھورنے لگا تو سیرت نے اسکی شرٹ کو سختی سے پکڑ کر اسے غصہ کرنے سے روکا۔۔
“چلو شاباش سب ایک ایک کر کے قطار میں لگ کر باہر نکلوں اگر تم میں سے کسی نے ہوشیاری کی ناں تو ہم اسے گولیوں سے چھلنی کر دیں گے ۔!!
ایک شخص نے رائفل کو سب کو دیکھاتے ہوئے سخت گیر لہجے میں کہا تو اسکی بات پر سبھی لڑکیوں کی چیخ نکل گئی جبکہ لڑکے بھی بری طرح سے لڑ رہے تھے سارب عرفان سلطان سیرت کی وجہ سے خاموش تھا ورنہ وہ بلیک بلیڈ اولڈر تھا انہیں مارنا تو اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔
🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞
“سیرت۔۔؟؟
وہ سب کے سونے کا انتظار کر رہا تھا اور سب کے سو جانے پر وہ سنبھل کر لڑکیوں کی جانب بڑھا اور سیرت کے پاس پہنچ کر اُسے آہستگی سے آواز دینے لگا تو وہ آنکھیں کھولتی ابھی کچھ بولنے والی تھی کہ اسنے تیزی سے اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اسے نا میں سر ہلاتے ہوئے اشارہ کرنے لگا۔۔
“میرے پیچھے خاموشی سے آؤ۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے پیچھے مڑا اور سب کو دیکھنے لگا جو سو رہے تھے واپس گردن موڑ کر سیرت کو دیکھنے لگا جو اپنی دوستوں کو اور اسکے دوستوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
“ہم ان سب کو کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں یہ بھی ہمارے دوست ہے میں نہیں آؤ گی تم بہت بے حس ہو یہ بھی تو بے قصور ہے۔۔!!
وہ غصے سے اسے گھورتی ہوئی آہستگی سے بولی تو سارب نے سخت تیوریاں چڑھا کر اس مدر ٹریسا کو گھورا۔۔
“اففففف لڑکی اگر ہم یہاں سے زندہ بچ کر نکل گئے تو پولیس کو انکی لوکیشن بتا دے گے میں خود یہاں سے نکل کر پولیس اسٹیشن جاؤ گا میں بے حسی نہیں بلکہ عقل مندی دکھا رہا ہوں اس وقت اور اگر تم اس وقت اسکا استعمال کر لوں گی تو تمہیں بھی پتہ چل جائے گا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔۔!!
اُسنے آگے بڑھ کر اسے سختی سے ایک ہاتھ سے کلائی سے پکڑ کر اور دوسرے سے اسکے سر پر دستک دیتے ہوئے آہستگی سے بولا۔۔
“پھر بھی۔۔۔!!
وہ کچھ کہنے والی تھی کہ سارب نے غصے سے جھکتے ہوئے اسے بازوؤں میں بھرا اور وہاں سے خاموشی سے نکلا جبکہ سیرت شاکڈ سی اسکے بازوؤں میں اُسے دیکھ رہی تھی۔۔
“اب تو مجھے نیچے اتارو پاگل جن میں بھاگنے والی نہیں ہو۔۔!!
وہ اُسے خاموشی سے چلتے ہوئے دیکھتی سخت چٹخ کر بولی تو سارب نے سخت نظروں سے اسے گھورا اور نیچے اتار کر انگلی اٹھا کر وارن کرنے لگا۔۔
“میرے ساتھ چلنے کے کچھ رولز ہے جسے تم فالو کروں گی اگر تم نے میرے رولز فالو نہیں کئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔!!
سخت گیر لہجے میں کہتا وہ اُسے گھورنے لگا جو اس اندھیرے میں اسے بلکل بھی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن اسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت منہ پھلائے کھڑی ہوگی۔۔
“اب میں تُمہارے بنائے رولز کے مطابق جو تم چاہو گے میں وہی کرو گی انٹرسٹنگ۔۔!!
وہ اُسے سخت شعلے برساتی نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تو سارب نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
“چڑیل اگر میری رولز کے مطابق چلو گی نہیں تو میں تمہیں اس جنگل میں اکیلا چھوڑ کر چلا جاؤ گا۔۔!!
“اچھا ٹھیک ہے میں یہاں سے نکلنے کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہو تو پھر یہ رولز کیا چیز ہے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو سارب نے اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے تو وہ اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتی ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“رول نمبر 1 تمہیں اگر کیڑا کوئی بھی جیسا بھی کیڑا نظر آئے تو چیخ کر میرے پاس مت آنا بلکہ اُسے مارے بغیر آگے بڑھ جانا۔۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو سیرت کیڑے کا سنتی خوف سے اپنے آس پاس دیکھنے لگی۔۔
“رول نمبر 2 اگر تمہارے ہاتھ یا پیر پر کوئی کانٹا چبھا تو خدا کیلئے اپنی چڑیل جیسی آواز سے مجھے مت ڈرانا ورنہ میں تمہیں جنگلی جانوروں کے پاس اکیلا چھوڑ سکتا ہو۔۔!!
اُسے منہ کھولے دیکھ کر اسنے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے منہ کو بند کرتے ہوئے کہا۔۔
“اور اگر رات کو نیند نہ آئے تو مجھے مت جگانا کیونکہ تم جانتی ہو کہ مجھے نیند سے جگانے کا مطلب کیا ہے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور وہ منہ ٹھیرا کرتی اسے دیکھنے لگی کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ اگر اسکو کسی نے نیند سے جگایا تو جیسے اسکے سر کے اوپر جن چمٹ جاتے ہے۔۔
“اور اگر کچھ اور بھی ہے تو بتاؤ میں سننے کیلئے تیار ہو۔۔!!
وہ تیز نظروں سے اسے گھورتی ہوئی بولی تو اسنے اپنا زخمی ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تو وہ ترچھی نگاہوں سے اسے اور اسکے زخمی ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔
“گھور کیا رہی ہو اسے اپنے دوپٹے کو روتے ہوئے پھاڑ کر بینڈچ لگاؤ اس طرح جس طرح تمہارے فیورٹ انڈین ڈراموں میں ہیروئن اپنے ہیرو کو باندھتی ہے۔۔!!
وہ اسکے صرف گھورنے پر سخت چڑتے ہوئے بولا تو سیرت اسکی فرمائش پر اسے دیکھنے لگی۔۔
“میرے فیورٹ انڈین ڈرامے میں کب دیکھتی ہو ایسے واہیات ڈرامے تم دیکھتے ہوگے جو اتنی لیجنڈری انداز میں بول رہے ہو جیسے تم نے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر انکے ہیروئن کو ہیرو کے ہاتھ سر پیر پر دوپٹہ باندھتی ہوئے دیکھا ہوں۔!!
وہ نقوت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی اور غصے سے اپنا دوپٹہ پھاڑتی ہوئی سختی سے اسکے ہاتھ کو پکڑتی ہوئی بینڈچ لگانے لگی۔۔
“آہہہہہ آرام سے چڑیل یہ میرا ہاتھ ہے تمہارے ٹی وی کا ریموٹ نہیں ہے جو تم چینل سمجھ کر اکسائٹڈ ہو کر زور سے بٹن دبا رہی ہو ۔۔!!
وہ تکلیف سے چلاتے ہوئے بولا لیکن وہ اسکی چیخ کی پرواہ کیے بغیر اسی طرح زور سے اسکا ہاتھ کو دبا رہی تھی ۔۔۔
🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞
“آہہہہہہ۔۔۔!!
وہ احتیاط سے اپنے پیر گندے پانی اور کیچڑ میں ڈال رہا تھا جنگل میں ایک تو خونخوار جانوروں کی آواز سے اُسکے ساتھ چپکی وہ سفید چڑیل کی وزن کو بھی مشکل سے برداشت کر رہا تھا اب ان کیچڑ کی وجہ سے وہ بہت چڑچڑا ہو رہا تھا اب اوپر سے اُس بھوتنی کی چیخ پر وہ غصے سے نظریں اُس پر گاڑھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اُسکا بازو مضبوطی سے پکڑے بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
“کیا ہوا چڑیل اب کیوں چلا رہی ہو کیا اپنی بہن کو دیکھ لیا ہمممم۔۔!!
اُسے شانوں سے پکڑ کر کیچڑ میں گرنے سے بچاتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا اُس کی وجہ سے اب اُسے اِس جنگل میں بھی پتہ نہیں کس کس جانور سے سامنا کرنا پڑے گا۔۔
“وہاٹ تت۔تُم آخر خود کو سفید جن سمجھتے کیا ہو میری بہن اب کہاں سے آئی میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہو اور بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں تو پھر یہ میری بہن کہاں سے ٹپک پڑی۔۔!!
سیرت نے مضبوطی سے اُسکے شانے پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے خود کو نیچے گرنے سے بچایا وہ اِس کی بات پر اپنے دونوں ہاتھ اُسکے شانوں کے اوپر سے ہٹا کر زور زور سے ہنسنے لگا اور سیرت اسکے ہاتھ چھوڑنے پر نیچے کیچر میں جا کر منہ کے بل گری۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا ہاؤ سو فنی اب لگ رہی ہو تُم پکی چڑیل میری جان ہاہاہاہا ہاہاہاہا ویسے مجھے پتہ نہیں تھا تُم کیچڑ میں بہت زیادہ حسین لگوں گی اگر پتہ ہوتا تو تمہیں روز کیچر میں دکھا دے کر اپنی آنکھوں کو تمہاری اس کیچر میں لت پت حسین چہرے سے خود کو سیراب کرتا۔۔!!
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا تو سیرت منہ کیچڑ سے باہر نکالتی ہوئی اُسے سخت غصے سے گھورنے لگی اور پھر اچانک سے وہ اٹھی اور قدم اسکی طرف بڑھانے لگی تو سارب عرفان سلطان اسے اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ کر ہنستے ہوئے پیچھے بھاگنے لگا لیکن سیرت نے اسے پکڑ کر سامنے کیچر میں دکھا دیا اور وہی پر کھڑی ہو کر اسکی حالت کو انجوائے کرنے لگی جبکہ وہ کیچڑ سے سر باہر نکال کر اُسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا کہ کیچڑ سے اٹھا اور اسکی جانب سنجیدگی سے بڑھا۔۔
“نہیں سارب آگے مت بڑھنا ورنہ میں تُمہیں مکا مار دو گی میں نے کہا آگے مت بڑھنا۔۔!!
سیرت اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی گھبراہٹ کے مارے اپنے قدم پیچھے لیتی ہوئی کہنے لگی جبکہ سارب اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی طرح آگے بڑھ رہا تھا۔
“میری چڑیل تُم درد کیوں رہی ہوں تمہارا جن تو تُمہیں پیار کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے شاباشی دینا چاہتا ہے اُسے کیچڑ میں نہلانے کیلئے بہت مزا آیا کیچڑ میں اب ہم دونوں کیچڑ میں جا کر پارٹی کرے گے اور خونخوار جانوروں کو بھی انوائیٹ کریں گے تاکہ وہ ہم دونوں کے مزا کرنے کے بعد یہاں آکر ہمیں کھا کر لطف اندوز ہو جائیں ہم دونوں دشمنوں کے گوشت کھا کر۔۔!!
وہ ڈرتی ہوئی پیچھے بہت بڑے سے درخت سے جا ٹکرائی تو سارب نے آکر اُسکے دائیں بائیں جانب اپنا ہاتھ رکھ کر اُسکے اوپر جھکتے ہوئے اسکے چہرے سے ٹپکتے کیچڑ کو صاف کیا کرنے لگا لیکن اسکا چہرہ صاف ہونے کے بجائے مزید کیچڑ سے بھر دیا اسنے اور سیرت کو سخت تاؤ آیا اس کی حرکت پر لیکن اسکے چہرے کو اپنے چہرے کے بے حد قریب ہونے پر وہ خود پر کنٹرول کرتی وہ اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔