47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“تُم یہاں کیسے پہنچے ہاں۔۔۔؟؟
صفحہ حاکم زیدی اپنے سامنے نمیر کو سُرخ خون آشام نظروں سے اپنی جانب گھورتے ہوئے دیکھ کر ڈر کر پوچھنے لگیں۔۔۔
“کیوں بڑھیا تُمہیں کیا لگا تم مجھے پھنسا کر خود میرے باپ دادا کی جائداد پر عیش کروں گی نہیں میں نمیر تُمہیں کبھی یہ کرنا نہیں دو گا یہ سب میرے دادا اور باپ نے اپنی محنت سے کھڑا کیا ہے اور تُم نے کیوں مارا اپنے بیٹے کو ہاں بتاؤ کیوں۔۔۔؟؟
وہ نفرت سے اُس عورت کو دیکھنے لگا جس کے پیر تو قبر پر لٹکے ہوئے تھے لیکن حرکتیں وہ کسی ٹین ایجر کی طرح کر رہی تھی۔۔۔
“اس لیے مارا کیونکہ میرے شوہر نے کبھی مجھے وہ پیار نہیں دیا تھا جو تمہارے باپ کو دیا تھا اور اسکے پیدا ہونے سے پہلے جب وہ میری کوکھ میں تھا تب وہ مجھ سے ایسے بی ہیو کرنے لگا جیسے میں اسکی محبت ہو مجھے جو پیار اپنائیت ملنے چاہیئے تھی وہ تمہارے باپ کے پیدا ہونے کے ٹائم مجھے ملا اور جب یہ اس پراپرٹی کی باری آئی تب حاکم زیدی نے بھی اپنے بیٹے کو چوز کیا اپنی بیوی کو نہیں۔۔۔!!
وہ عورت اس حد تک گر جائے گی صرف اپنی توجہ کے لیے اسنے اپنے بیٹے کی جان لے لی نمیر اپنے دل پر ہاتھ سختی سے رکھتا پیچھے ہٹا۔۔۔
“یہ سب کچھ حسن زیدی کا ہوتا یا آپ کا ایک ہی تو بات تھی پھر کیوں کیا ایسا ہاں کیوں میرے بابا کو ہم سے چھینا ہاں کیوں میرا بھائی کتنا یقین کرتا ہے تم پر اور اگر ڈی این اے سے اُسے پتہ چلا میں اُسکا جڑواں بھائی ہو اور جو باتیں میں نے اسے بتائی ہے تو کیا کروں گی ہاں کیسے خود کو بچا سکوں گی جانتی تو ہو وہ زیدی انڈسٹری کا سی ای او ہے۔۔؟
دل میں درد شدت اختیار کرنے لگا تو وہ پیچھے رکھے صوفے پر جا کر بیٹھا اور اپنے سینے کو بُری طرح سے مسلنے لگا۔۔
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اچھا ہے اُسے میری سچائی مرنے سے پہلے پتہ ہو کہ کسی پر اعتماد کرنا کتنا غلط ہے وہ بھی اس دور میں اور تم بھی اب نہیں بچو گے میرے ہاتھوں۔۔!!
اسکی بات پر نمیر سینے میں اٹھتے تکلیف کے باوجود بھی مسکرایا۔۔
“بڑھیا وہ جو باہر تُمہارے مردے گارڈز پڑے ہیں کیا وہ آ کر مجھے مارے گے چل جلدی سے بتا کہ میری ماں کو کہاں چھپایا ہے تم نے ورنہ موت سے بھی بدتر سزا دو گا۔۔!!
وہ اچانک سے صوفے سے اٹھا اور اسکے مقابل کھڑا ہوا اور اسے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے اپنی ماں کے متعلق پوچھنے لگا۔۔
“نہیں بتاؤ گی جاؤ جو کرنا ہے تُمہیں کروں۔۔۔؟؟
وہ پیچھے ہٹتی ہوئی بولیں تو نمیر نے آگے بڑھتے ہوئے پکڑا اور غصے ونفرت سے اسے گھورا تو وہ سخت خوفزدہ ہوئیں اپنے ہی پوتے سے جبکہ وہ اب اسے سختی سے گردن سے دبوچ کر دھار اٹھا۔۔۔
“تُمہیں تو میں زندہ پھر بھی نہیں چھوڑوں گا چاہے تُم میری ماں کے متعلق بتاؤ یا نہ بتاؤ سمجھی بڑھیا اور مجھے تمہارے قتل کرنے سے کوئی گلٹ بھی نہیں ہوگا کیونکہ میں شیطان تو تمہارے ہی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔!!
وہ کہنے کے ساتھ اپنی گرفت اور مضبوط کرنے لگا تو وہ گرفت سخت ہونے کی وجہ سے ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
“بتا میری بہن وفا زیدی اور ماں کہاں ہے ہاں۔۔؟؟
انگارہ بنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا تو ہاتھ سے اشارہ کرنے لگی تو نمیر اسکے اشارہ کرنے پر اسکے ہاتھوں کے تعاقب میں دیکھنے لگا جو اسی روم کے دیوار کی طرف تھا جہاں ایک پینٹنگ لگا ہوا تھا وہ اسے لیے اپنے ساتھ اس جانب بڑھا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“وہ سچ کہہ رہا تھا نمیر میرا بھائی ہے اور آکا بی نے ایسا کیوں کیا کیوں ہم بہن بھائیوں کو الگ کیا اور ماما بابا کے ساتھ کیوں اتنا برا کیا۔۔؟؟
ضنافر حسن زیدی ہاسپٹل سے باہر نکلا اور اپنے ہاتھوں میں دبی ہوئی ڈی این اے رپورٹ کو دیکھتے ہوئے خود سے کہنے لگا۔۔
“میرا بھائی اتنا چیخ رہا تھا اُس عورت کی سچائی سامنے لا رہا تھا جسنے ایک اچھی دادی بن کر مجھے دھوکا دیا نا صرف مجھے بلکہ اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی دھوکا دیا اور عباس سلطان پر کیوں انہوں نے الزام لگایا یہ مجھے پوچھنا ہے اسکا جواب انہیں دینا ہوگا کیونکہ سب سے زیادہ اُنہوں نے سہا ہے ہماری وجہ سے انکی دونوں بیٹوں کی زندگیوں سے ہم بھائیوں نے کھیلا ہے اور نمیر حسن زیدی اس بات کے لیے تو میں تمہیں ہر گز معاف نہیں کروں گا تم نے بدلے میں ایک معصوم لڑکی کی عزت سے کھیلا۔۔!!
“تو پھر وہ کیا تھا جو تم نے صالحہ عرفان سلطان کے ساتھ کیا تھا اسکی عزت نفس مجروح کر کے رکھ دیا تھا اپنے لفظوں سے اسکا کیا جواب دو گے تم ضنافر حسن زیدی ہاں..؟؟؟
وہ اپنے آپ سے لڑ رہا تھا کہ اچانک سے اّسکے ضمیر نے اُسے شرمندہ کرنا چاہا اور وہ شرمندہ ہو بھی گیا تھا اپنے ان لفظوں کو یاد کرتے ہوئے خود سے نفرت سے محسوس کرنے لگا جو اسنے کل ہی تو صالحہ کے لیے استعمال کیے تھے۔۔۔
“ہاں میں بھی تو ایک درندہ ہو اپنے لفظوں سے ہی تو اس لڑکی کی عزت کو ٹھیس پہنچایا میں تو اسکے قابل بھی نہیں ہو جلد میں اسے خود سے دور کر دو گا اسے طلاق دے کر۔۔وہ سڑک کے کنارے چلتے ہوئے نم آنکھوں سے ایک فیصلہ کرتا بے سکون ہوگیا اور یہ بے سکونی تو اسنے خود اپنے اندر پیدا کیا تھا یہی سوچ سوچتے ہوئے وہ غصے سے چہرہ اوپر اٹھا کر شدت سے چیخنے لگا بارش میں بھیگتا وہ اپنا چہرہ ہاتھوں پر گرا کر بُری طرح سے رو رہا تھا۔۔۔
“صالحہ عرفان سلطان میں اس وقت خود کو تُمہارے قابل سمجھتا نہیں ہوں پھر جانے کیوں میں تُمہیں اِس وقت سوچ رہا ہوں ہاں کیوں مجھے تو تمہیں سوچنا نہیں چاہیے یہ حق بھی میں نے اپنی بے رخی کی وجہ سے کھو دیا ہے۔۔اپنے سر کو اوپر اٹھا کر زور سے برستی بارش کو دیکھتے ہوئے وہ زور سے قہقہہ لگاتا ہوا بولا پھر اچانک سے رونے لگا۔۔اب میں تُمہیں دیکھنا بھی اپنا حق نہیں سمجھتا ہوں تو پھر کیوں یہ دل تُمہیں دیکھنے کا کہہ رہا ہے ہاں کیوں۔۔۔آنکھوں کے گوشے سے بارش کے پانی کے ساتھ ساتھ اسکے آنسوؤں بھی بری طرح سے بہہ رہے تھے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“آکا بی۔۔۔؟؟
زیدی مینشن میں وہ داخل ہوا اور سیدھا آکا بی کے روم کی جانب بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر بڑھا غصے سے سرخ چہرہ لیے وہ اس عورت کو ڈھونڈنے لگا جو اب نفرت کے قابل تھی اور کوئی جذبہ نہیں تھا اسکے دل میں اسکا دل اب اسکے لیے بے رحم ہو گیا تھا۔۔
“کہاں چھپ گئی ہیں آپ باہر نکلے ۔۔؟؟
روم میں غصے سے ادھر ادھر چکر کاٹتے ہوئے انہیں آوازیں دینے لگا کہ تبھی اسکی نظریں سامنے پینٹگ والی دیوار کی طرف بڑھی جہاں سے ایک راستہ اسے نظر آ رہا تھا تو وہ غصے سے وہاں بڑھا اور اندر داخل ہوا۔۔
“میری ماں کی حالت کو دیکھ رہی ہو تم یہ میرے لیے سب کچھ ہے تم نے انہیں ٹارچر بھی کیسا کیا ہاں ہمت بھی کیسے ہوئی انہیں اس حالت تک لانے کی بڑھیا۔۔؟؟
دوسری طرف نمیر اپنی ماں کی حالت دیکھ پاگل ہوگیا تھا اور اسی پاگل پن میں اسنے صفحہ حاکم زیدی کو دور دھکیلا اور سرد لہجے میں بولا ۔۔۔
ضنافر حسن زیدی اپنے بھائی کی سرد آواز پر وہی ٹھہر گیا اور سامنے اپنی ماں کو دیکھنے لگا جو زندہ لاش لگ رہی تھیں وہ تڑپ کر آگے بڑھا اور انہیں اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرتا سرخ آنکھوں سے آکا بی کو گھورنے لگا جبکہ نمیر کا تو دماغ کی شریانیں جیسے پھٹنے کے قریب ہوگئی تھی اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ کر وہ نفرت سے صفحہ حاکم زیدی کی طرف بڑھا اور اس عورت کو گردن سے دبوچ کر اٹھاتے ہوئے ضنافر حسن زیدی سے کہنے لگا ۔۔۔
“یہ ہے وہ عورت جس نے اپنی جلن میں اپنے بیٹے کا قتل کر دیا تُم اس عورت کو سب کچھ مان رہے تھے جس نے ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا تھا ہمارے بابا کو مجھے اور جمامہ دیدی کو دیکھوں ضنافر اس عورت کا مکروہ چہرہ دیکھوں۔!!
صفحہ حاکم زیدی ضنافر کے نام پر اپنے چہرے پر مصنوعی بے بسی لا کر اسے دیکھنے لگی جو اسے ہی خون آشام نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
“دیکھنا نہیں چاہتا میں اس عورت کو لیکن ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں عباس اعظم سلطان پر قتل کا الزام لگایا ہاں جواب دے۔۔۔؟؟
وہ شدید غصے سے سوال پوچھنے لگا تو اتنی تکلیف کے باوجود بھی مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“ضنافر بچے دوستی بہت بری چیز ہے اسی دوستی نے تو عباس اعظم سلطان کو پھنسایا کیونکہ اس وقت تمہاری ماں نے اس سے مدد لیا اور میں نے فائدہ۔۔۔!!
کشمالہ حسن زیدی کو گھورتی ہوئی نقوت سے بولیں تو ضنافر حسن زیدی سخت تاؤ کھا کر اپنی ماں کو اسی جگہ پر آرام سے لیٹا کر اٹھا اور اسکی جانب بڑھا۔۔
“مجھے ایک ایک لفظ سننا ہے صفحہ صاحبہ۔۔۔!!
وہ غصے سے دھار اٹھا تو صفحہ حاکم زیدی ماضی کی یادوں میں کھو کر مقابل کھڑے اپنے دونوں پوتے سے ڈرتی ہوئی کہنا شروع ہوگئیں۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماضی
کشمالہ حسن زیدی اپنے دوسرے نمبر بیٹے کے ساتھ عباس اعظم سلطان کے گھر جو حسن زیدی کا جگری دوست تھا دونوں ایک دوسرے کو بہت زیادہ چاہتے تھے وہ اسکے گھر کے باہر کھڑی اسکا انتظار کر رہی تھی وہ کن مشکلوں سے نکل کر یہاں پہنچی تھی یہ صرف وہ ہی جانتی تھی اس عورت نے اسکی بڑی بیٹی کو تو کسی اور کو دے دیا تھا اور وہ کسی بھی اسکے خاص ملازم تھے ضنافر حسن زیدی کو اسنے اسی دن چھینا تھا جس دن وہ پیدا ہوا تھا لیکن اب وہ اپنے نمیر جو ضنافر حسن زیدی کا جڑواں بھائی تھا اسے اس عورت کے حوالے کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے وہ یہاں آئی تھی۔۔۔
“بھابھی حسن وہ کہاں ہے۔۔؟؟
عباس سلطان باہر نکلا تو اسے اکیلے دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا کیونکہ حسن کو جب اپنی ماں کی اصلیت کا پتہ چلا ہے جب سے وہ سخت پریشان تھا اسنے اپنی ماں کے بارے میں عباس سے بھی ذکر کیا تھا تو اسی وجہ سے وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اسکا دوست اس وقت کن حالاتوں سے گزر رہا ہے۔۔۔
“عباس بھائی آپ پلیز میرے بیٹے کو دنیا والوں کے سامنے اپنا نام دے خدارا۔۔کیونکہ میرے نمیر کے بارے میں اگر اس عورت کو پتہ چلا تو وہ اسکی زندگی کو برباد کر دے گا آپ کچھ کرے میری مدد کرے اس معاملے میں ۔۔۔!!
کشمالہ حسن زیدی کی بات پر آج پھر عباس اعظم سلطان کو اس ماں سے نفرت محسوس ہوئی جو اپنے سگے بیٹے کو اتنا تکلیف ے رہی تھی صرف اپنی اس جلن کی وجہ سے جو اسے اپنے شوہر کو خود کو نہیں بلکہ اپنے بیٹے کو توجہ و پیار دینے پر ہوا تھا۔۔
حسن زیدی کے باپ کی شادی اسکی ماں باپ کی پسند سے صفحہ حاکم زیدی سے ہوئی تھیں تو وہ صفحہ حاکم زیدی کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن جب حسن زیدی اس دنیا میں آیا تب سے وہ مکمل پیار اور محبت اپنی بیوی کو دینے لگے تھے لیکن جب حسن زیدی کی پیدائش ہوئی تو وہ پیار اور توجہ اس سے بھی چھین لیا گیا تھا۔۔۔
“بھابھی نمیر میرا بیٹا ہی ہے میں اسے اس عورت کے سائے سے بھی دور کر دو گا آپ فکر مت کرے بس مجھے ہر وقت رابطے میں رکھے۔۔۔!!
عباس اعظم سلطان نے کشمالہ حسن زیدی کو مطمئن کرنا چاہا اور وہ بھی گئی تھی اسکی حالت اتنی ٹھیک بھی نہیں تھی کہ وہ یہاں اور رکتی اسی لیے نمیر کو دیکھے بغیر وہ باہر نکل تھی اور وہ بچہ اپنی ماں کو پیچھے سے آوازیں دیتا رہا تھا۔۔
چلاتا رہا تھا پھر اس معصوم بچے کی زندگی بہت سی محرومیوں سے گزرتی چلی گئی تھیں اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ زویا عباس سلطان کا تھا جنکی نفرت کو سہتے ہوئے وہ دس سال کے معصوم بچے سے ایک چودہ سال کا درندہ بن گیا تھا
اسکے دل میں سلطان فیملی کے سبھی لوگوں کے لیے نفرت کا بیچ زویا بیگم نے بویا تھا اور جب ایک دن اسکی ماں اسے دیکھنے کے لیے دوبارہ آئیں تو اپنے سبھی بہن بھائی کے بارے میں سن کر وہ بہت رویا تھا اور پھر اپنے بھائی کو دیکھنے کا وہ ان سے ضد باندھ کر بیٹھ گیا لیکن کشمالہ حسن زیدی نے دل میں پھتر رکھ کر اسے بے دردی سے انکار کر دیا کہ وہ تمہیں جانتا ہی نہیں ہے تبھی باتوں کے بیچ انکے پاس ایک فون کال آئی جسے سننے کے بعد وہ کافی پریشان ہوئی اور اسکے اس بار بھی روکنے پر وہ نا رکی اور ہمشیہ ہمشیہ کیلئے وہاں سے چلی گئی اسے چھوڑ کر اور جو نفرت اسکے دل و دماغ میں پروان چڑھ رہی تھی انکے اس طرح سہی سے ملے بغیر چلے جانے پر اسکے دل میں اور بھی زیادہ گہری ہوتی چلی گئی تھی ۔
وہ بچہ نہیں تھا پورے چودہ سال کا تھا کیسے برداشت کرتا کہ اسکی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی ہو وہ جانتا بھی تھا کہ وہ عباس سلطان کا بیٹا نہیں ہے پھر بھی اسکی ماں نے اسے یہاں رکھا تھا اور کیوں رکھا تھا یہ اسکی سمجھ سے باہر تھا لیکن سمجھ تو اسے دوسرے دن ہوگیا تھا جب اسے اپنے سگے باپ کے قتل کا پتہ چلا تھا اور وہ غصے سے پاگل ہوگیا کیونکہ قاتل عباس سلطان تھا تو یکدم سے اسکے دماغ میں سب کلیئر ہوا وہ سمجھنے لگا کہ اسکی ماں اور عباس سلطان کا افیئر چل رہا تھا شاید اسی لیے اسکے باپ کو پتہ چلا اور عباس سلطان نے انہیں قتل کر دیا ہوگا اور وہ اسی دن سے عباس سلطان کو اپنے باپ کے کھونے کا زمہ دار سمجھ کر ان سے انتقام لینے کا سوچنے لگا۔۔
اسنے نفرت میں جل کر پہلا ٹارگٹ زہاک عباس سلطان کو بنایا اس سے ژالے کو چھین کر اور پھر اپنی بہن کی مدد سے زہاک عباس سلطان کی زندگی کو برباد کیا۔۔
زارقم عباس سلطان کے اپنی اور ژالے کے نکاح والے دن ایکسیڈینٹ کروانے پر سخت غصے میں آ کر اسنے مرجان کو یوز کیا اور یہاں پر تو اسنے اپنی لمٹ کراس کر دی مرجان کی عزت کو پامال کر کے اب یہ سب باتیں وہ سوچ کر بہت شرمندہ ہونے لگا تھا۔۔۔
صفحہ حاکم زیدی ماضی کی یادوں سے نکل کر ان دونوں کو دیکھنے لگی جو اپنی اپنی سوچو میں گم اسکی طرف متوجہ نہیں تھے تبھی موقعے کا فائدہ اٹھا کر وہ اٹھی اور سامنے رکھے اپنے ریوالور کو اٹھا کر ہنستی ہوئی کہنے لگیں۔۔
“ہلنے بھی مت ورنہ مار دو گی بلکل تم دونوں کے باپ کی طرح اور تم بھی اتنے پاک نہیں ہو سمجھے بہت کچھ کیا ہے تم نے اس لڑکی کے ساتھ یاد نہیں کیا کیا ہے ہاں۔۔۔؟؟
نمیر کو دیکھتے ہوئے اسے مرجان کے بارے میں کہنے لگی تو نمیر ایک لمحے کو شرمندہ ہوا پھر اپنی ماں اور بھائی کا سوچ کر وہ ریوالور کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے لگا صفحہ حاکم زیدی اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی خوف سے اس کے اوپر گولی چلا گئی تھیں۔۔
“نمیر۔۔۔؟؟
ضنافر جو سب کچھ سننے کے بعد ساکت کھڑا تھا اپنے بھائی کو گولی لگنے کی وجہ سے شدت سے چیخا اور اسکی جانب بھاگ کر اسے گرنے سے اسنے بچایا۔۔۔
“ضنافر میرے بھائی اس بڑھیا کو مت چھوڑنا میری فکر مت کروں اور مار ڈالوں اس گند کو میں اسے دیکھنا نہیں چاہتا شوٹ کر دو۔۔۔!!
نمیر اپنے سینے سے نکلتے خون کو سختی سے دباتے ہوئے اٹک اٹک کر کہنے لگا اور ساتھ میں ایک ریوالور اسنے ضنافر کی جانب بڑھایا اور نفرت سے صفحہ حاکم زیدی کو دیکھنے لگا۔۔۔
“نہیں نمیر میرے بھائی تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا تمہیں اتنا ہوگا میں اس عورت کو اکیلے نہیں مارو گا ہم سب مارے گے کیونکہ یہ ہم سب کی گناہ گار ہے۔۔۔!!
ضنافر نے اسکے سینے پر سختی سے ہاتھ رکھتے ہوئے اسکے خون کو بہنے سے روکتے ہوئے رو کر کہا وہ جیسا بھی تھا تھا تو اسکا بھائی نا۔۔۔۔
“ضنافر تم میری فکر مت کروں میں اتنی جلدی نہیں مروں گا کیونکہ میں صرف مرجان کے ہاتھوں سے مرنا پسند کروں گا اس بڑھیا کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ ان ہاتھوں سے اس بڑھیا کو مارنا پسند کروں گا۔۔۔!!
وہ ضنافر کے ہاتھوں کے اوپر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کھانستے ہوئے کہنے لگا تو ضنافر حسن زیدی اسے بے بسی سے دیکھنے کے بعد اٹھا اور صفحہ حاکم زیدی کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
“آہہہہ۔۔۔!!
ریوالور کو زور سے نیچے پھینکتے ہوئے اسنے سامنے پھلوں کی ٹوکری سے چھری نکالا اور غصے سے اس عورت نما ڈائن کی جانب بڑھا اور چیختے ہوئے پہلے اسکے چہرے پر اسنے وار کیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسنے اسکے گلے کو بے دردی سے کاٹا وہ اس وقت وہ ضنافر حسن زیدی نہیں لگ رہا تھا جو سامنے کھڑی عورت کو چاہتا تھا اس وقت تو وہ کوئی درندہ لگ رہا تھا اسکی نظروں کے سامنے اپنی ماں اور باپ بھائی کے ساتھ بہنوں کی شکلیں آ رہی تھی اور اس سے اسکا غصہ اور بھی زیادہ بڑھ رہا تھا اچانک سے اسے صالحہ کا خیال آیا تو اسنے غصے سے چھری اس کے پیٹ پر گاڑ دیا اور صفحہ حاکم زیدی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی اسے دیکھنے لگیں جو آج وہ پوتا نہیں لگ رہا تھا جو اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا اس وقت وہ ایک خون آشام درندہ لگ رہا تھا۔۔۔
“معافی کے قابل تم نہیں ہو تو زبان سے ایک لفظ بھی معافی کا مت نکالوں ورنہ تمہاری حالت اگر میں اٹھا نا تو ضنافر حسن زیدی سے بھی بڑا درندہ بن کر برا کر دو گا سمجھے۔۔۔؟؟
صفحہ حاکم زیدی کے کچھ بھی کہنے سے پہلے نمیر جو نیچے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے لیٹا ہوا تھا سرد لہجے میں بولا۔۔۔
“اسے کچھ بھی کھانے کو مت دینا سمجھے اگر یہ یہاں سے بھاگی نا تو میں تمہیں زندہ جلا دو گا۔۔۔!!
وہ اسے اتنی آسانی سے تو موت نہیں دے سکتا تھا اس عورت کی سزا وہ موت سے بھی بد تر کرنا چاہتی تھی اسے بلکل اپنی ماں کے جیسے جو اس عورت نے انہیں یہاں اتنے سالوں سے بند کیا تھا وہ بلکل اسی طرح اسے اس جگہ میں بند کر کے بدلا لینا چاہتا تھا جس طرح اس عورت نے اسکی ماں کو ٹارچر کر کے اپنا بدلا پورا کیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ سخت لہجے میں اپنے بھروسہ مند آدمی کو حکم دیتے ہوئے کہہ رہا تھا اور پھر تیزی سے اپنی ماں اور بھائی کی جانب بڑھا۔۔۔
“تم جلدی سے ایمبولینس کو کال ملاؤ جاؤ۔۔۔!!
اپنے سیکرٹری کو اسنے فون کر کے وہاں بلایا تھا اور اسے کہتے ہوئے اپنی ماں کو اٹھا کر باہر نکلا اور بیڈ کی جانب بڑھا اور اپنی ماں کو وہاں لیٹا کر واپس تیزی سے وہاں اپنے بھائی کو دیکھنے کے لیے بڑھا اور اندر داخل ہو کر اسے اٹھا کر باہر نکلا اور دیوانوں کی طرح اسے دیکھتے ہوئے اسے ہوش میں رکھنے کے لیے اسے آوازیں دینے لگا تھا۔۔
“نمیر پلیز آنکھیں بند مت کرنا۔۔۔!!
وہ باہر ایمبولینس کی سائرن سن کر اسے پورچ کی طرف بھاگتے ہوئے لے کر گیا اور دو لوگوں کی مدد سے اسے ایمبولینس میں ڈال کر ایک ملازمہ کو اپنی ماں کے پاس چھوڑ کر وہ ہاسپٹل کے لیے نکلا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“صالحہ کو لے کر آگئے تم۔۔۔؟؟
نمیر کو دو دن ہوئے تھے ہاسپٹل میں اور ان دو دنوں میں وہ ڈاکٹرز کے پیچھے بھاگا تھا صرف اسکی خیریت پوچھنے کے لئے اور آج جب وہ ہوش میں آیا تو اسنے اپنے سیکریٹری کو اٹلی صالحہ کو لانے کے لیے بھیجا اور اب رات کے بارہ بجے اسکے ہاپسٹل میں آنے پر وہ بے قراری سے آگے بڑھا اور اسے دیکھنے لگا۔۔
“جی سر وہ میڈم آپ سے ملنا چاہتی ہے۔۔!!
سیکریٹری کی بات پر وہ پریشانی سے اپنی پیشانی پر گرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا پھر طلاق کے پیپرز کے متعلق اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“یس سر تیار ہے۔۔!!
سیکرٹری کے کہنے پر وہ ایک گہری سانس خارج کرتا ہوا اسے گاڑی نکالنے کا کہتا خود قدم اسنے ہاسپٹل سے باہر نکالے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یہ طلاق کے کاغذات میں نے اِن پر اپنے سائن کر دیئے ہیں اب تُم بھی کر دینا میں اِس رشتے کے قابل خود کو سمجھتا نہیں ہوں اینڈ آئی ایم سوری میرے اُن سبھی سخت لفظوں کا جو میں نے تُمہارے لِئے استعمال کیے تھے تُم چاہے مجھے معاف مت کرنا بلکہ کرنا ہی مت میں اسی قابل ہو جو انتقام میں اتنا اندھا ہوگیا تھا کہ یہ سمجھ نا سکا کہ جس سے میں بدلا لے رہا ہوں وہ تو ایک معصوم لڑکی بے قصور ہے۔۔۔!!
وہ اُسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ اپنی محبت میں بے بس نہیں ہونا چاہتا تھا اسی لیے اپنی نظروں کو نیچے جھکا کر وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لفافہ اس کے آگے بڑھائے کھڑا تھا۔۔۔
“تُم ہر بار کیوں اپنا سوچتے ہوں ہاں وائے۔۔؟؟
وہ اُسکے طلاق لفظ سن کر پھٹ پڑی وہ اپنے اوپر یہ طلاق لفظ کا ٹیگ نہیں سننا چاہتی تھی اسی لیے سخت آگ بگولہ ہو گئی تھی۔۔
“تُم مجھ سے بھی بہتر ڈیزرو کرتی ہو ڈیم اٹ میں اتنا برا ہو تُمہیں خوش نہیں کرسکتا اور وہ لفظ کیوں بھول رہی ہو ہاں جو میں نے تمہارے لیے استعمال کیے تھے ہاں۔۔؟؟
وہ بھی نظریں اوپر اٹھا کر سرخ نظروں سے اسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں ایک ایک بات یاد کرواتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“طلاق کا ٹھپہ میں اپنے ماتھے پر لگتے ہوئے کیسے دیکھوں ہاں بولو کیا کوئی عورت اپنے لیے طلاق یافتہ لفظ کہلانا پسند کرے گی نہیں نا تو پھر میں کیوں برداشت کروں ہاں جواب دو۔۔۔؟؟
وہ شدید غصے سے سرخ ہوتی چیخ کر بولی تو ضنافر حسن زیدی اچانک سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا کر بری طرح سے منتشر کرنے لگا اُسے لگا جیسے صالحہ بھی اس سے دوری نہیں چاہتی ہے وہ بھی اسی طرح تڑپی ہوگی جس طرح وہ طلاق کے پیپرز تیار کرتے وقت ہوا تھا۔۔۔
“چچ۔چھوڑو۔۔۔؟؟
وہ بُری طرح سے تیز چلتی سانسوں کے درمیان بولی اُسکی شدتوں سے تو اُسکا پورا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا اسکے زور سے پیچھے ہٹانے پر ضنافر دو انچ اس سے پیچھے ہوا اور بغور اسکے بھیگے بھیگے ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو اسکی شدتوں کی گواہی دے رہی تھی کہ اس وقت اپنی بیوی سے دوری اسے سوہان روح لگ رہی تھی۔۔۔
“مجھے صرف طلاق نہیں چاہیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تُم سے پیار کرتی ہو ہاں میں ہمشیہ تُم سے نفرت کروں گی مجھے وہ سب باتیں یاد ہے بھولی نہیں ہو۔۔۔!!
وہ اپنے سرخ ہونٹوں کو بے دردی سے رگڑتی ہوئی سخت گیر لہجے میں بولی تو ضنافر حسن زیدی اِس ظالم لڑکی کی بات پر اپنے دل میں درد اٹھتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔۔
“ٹھیک ہے میں تُمہیں روکو گا نہیں تُمہیں جو ٹھیک لگے تم وہی کرنا چاہے میرے ساتھ مت رہنا میں کچھ نہیں کہوں گا بلکہ مجھے کوئی حق نہیں ہے تمہیں کچھ کہنے کی بٹ پلیز آج کی رات مجھے تھوڑا سا وقت دو پلیز آج کی رات شاید میں ان لمحوں کے سحر میں تُمہیں گرفتار کر کے تمہاری بے رخی کو ختم کر دو۔۔!!
وہ آگے قدم بڑھاکر گھمبیر آواز میں کہتا اُس پر جیسے سحر پھوکنے لگا لیکن وہ بھی اس کی ان داؤ پیچ میں نہیں پڑنے کا عہد کئے بیٹھی تھی جو شدید غصے سے اسکی بات سننے کے بعد اس سے دور ہوئی اور پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔
“یہ ایک گھنٹہ ہی تُمہارے لیے کافی تھا اب میں یہاں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی سنا تُم نے۔۔؟؟
وہ سخت نظروں سے اسے ہی گھور تھی اور ضنافر حسن زیدی اسکی بات پر آگے بڑھا اور اُسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتا کچھ دیر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپا کر کھڑا اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگا پھر اچانک سے پیچھے ہٹا اور اپنے آنکھوں کو صاف کرنے لگا۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا میں چلتا ہوں۔۔۔!!
نم آنکھوں سے اس دشمن جاں کو دیکھنے کے بعد اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا کر وہ وہاں سے باہر نکلا تو صالحہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°