47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“اففففففف یہاں میری بہن اپارٹمنٹ سے غائب ہے اور تُمہیں اپنی پڑی ہے۔۔!!
ایک تو تیز بارش اوپر سے اُسکے نعقرے سارب عرفان سلطان نے غصے سے آگے بڑھ کر چھتری اسکے آگے کرتیں ہوئے کہا۔
“وہ اکیلی تُمہاری بہن نہیں ہے میری بھی بہن اور دوست ہے اور تُم مجھ پر غصہ کر رہے ہو پہلے تو موسم کو دیکھوں کیا ہم اس تیز بارش میں اسے ڈھونڈ سکے گے۔۔۔!!
سیرت چھتری کو نظر انداز کرتیں سخت چڑ کر بولی تو اُسکے چھتری کو نظر انداز کرنے پر وہ آپے سے باہر نکلا اور طیش سے آگے بڑھ کر چھتری کھول کر اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا کر اسکے بولنے سے پہلے اسکی منہ پر سختی سے ہاتھ جما کر قدم اپنی کار کی جانب بڑھانے لگا جبکہ سیرت اسکی گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی ہوئی چہرہ اوپر اٹھا کر اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“آہہہہ جنگلی۔۔۔!!
وہ خاموشی سے آگے بڑھ رہا تھا کہ اسکے روز سے ہتھیلی پر کاٹنے کی وجہ سے ٹھہرا اور زور سے چیختے ہوئے اسے غصے سے گھورنے لگا۔۔
“خود اکیلے ہی جاؤ میں تو اس بارش میں اس طرح تو باہر نہیں آؤں گی اور صالحہ کو میں کسی اور طریقے سے ڈھونڈ لوں گی۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اپنے کپڑوں کی جانب اشارہ کرنے لگی جو سرخ فراک اور بلیک کیپری میں ملبوس نازک وجود کو بلیک لانگ کوٹ سے کور کیے بہت زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی لیکن بارش کی وجہ سے سخت اریٹیٹ ہو رہی تھی۔۔
“اِس وقت بھی تّمہیں اپنی فیشن کی پڑی ہے وہاں پتہ نہیں میری بہن کس حال میں ہوگی پتہ نہیں کون لے گیا ہوگا۔۔!!
سخت غصے سے اسے گھورتا وہ سرد لہجے میں بولا تو سیرت بھی اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“تو میں نے کہا تھا گم ہونے کو صالحہ بچی نہیں ہے شاید اپنے کسی فرینڈ کے پاس ہو فون کیوں نہیں کر رہے تم اسے خوامخواہ مجھ پر غصہ نکال رہے ہو جاؤ اور جا کر ڈھونڈو اب اگر اِس وقت میں سردی سے مر گئی تو زمہ دار تم ہوگے ایک نہیں بلکہ دو جانوں کے ایک میں اور دوسرا صالحہ کے اگر بھیو کو پتہ چلا نا کہ تم اچھے سے خیال نہیں رکھ رہے ہمارا تو وہ جان سے مار ڈالے گے تمہیں۔۔۔!!
چھتری کے سائے تلے سے نکل کر وہ سخت غصے سے بولی تو سارب تیز بوچھار سے اُسے بھیگتا ہوا دیکھ شدید غصے سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے واپس اپنے قریب کرتا خونخوار نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“تُم کس قدر سنگدل ہو سیرت صالحہ تمہاری بھی تو دوست ہے اور جب میں تمہیں اسے ڈھونڈے میں میری ہلیپ کرنے کا کہہ رہا ہو تو تم انکار کر رہی ہو۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اس سے دور ہوا لیکن چھتری کو پھر بھی وہ اسکے اوپر کیے ہوئے تھا اور سیرت اسے بیگتے ہوئے دیکھ تیزی سے اسکے نزدیک ہوئی تاکہ اسے بارش کے ٹھنڈے ٹھار پانی سے بچا سکے اور اسی تیزی کے چکر میں وہ سیدھا اسکے شانوں سے ٹکرائی تو شرم سے سرخ ہوتی اپنے ایک ہاتھ سے اپنے شانے کو پکڑ کر نظریں نیچے جھکا کر خاموش کھڑی ہوگئی۔۔۔
“میں صرف اس موسم کی وجہ سے کہہ رہا ہوں تُمہیں بھی ٹھنڈ لگ سکتی ہے آئی مین ہم دونوں کو۔۔۔!!
اُسکے عیجب نظروں سے دیکھنے پر تیزی سے تصحیح کرتی ہوئی بولی مبادا وہ خوش فہمی نا پال لیں کہ وہ اس کے کئیر کرتی ہے۔۔۔
“میرا اتنا خیال ہے تو اپنی دوست کا بھی کر لوں اور چلو یہاں آس پڑوس میں صالحہ کے بارے میں پوچھتے ہیں اس طرح ہمیں ٹھنڈ بھی نہیں لگے گی کیونکہ یہاں اٹلی کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز ہیں۔۔!!
وہ نرمی سے کہتا اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا آگے اپارٹمنٹ کے آس پاس لوگوں کے گھروں میں سے ایک گھر کی طرف بڑھے جو مسٹر جارج کا تھا جو بہت اچھا انسان تھا اور اسکی بیوی بھی بہت اچھی اور مہمان نواز تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“جاؤ اور اپنے باس کو کہوں جب تک مجھے بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر جائے گا وہ پاکستان تو میں اس پر کیس کروں گی.!!
اسکے سیکرٹری کو غصے سے کہہ رہی تھی جبکہ وہ کال سننے کے بعد اندر آیا تو اسکی بات پر سخت غصے سے آگے بڑھا تو سیکرٹری اسے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تو اسے وہاں سے خاموشی سے جاتے ہوئے دیکھ آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ اسکے پیچھے سے کھینچنے پر وہ اسکے سینے سے آ کر لگی۔۔۔
“پاکستان ضرور جائیں گے جاناں لیکن پہلے دو تین تحفے تو ریڈی کرنے دو اپنے سسرال والوں کے لیے اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔!!
ایک ہاتھ پیٹ پر تو دوسرا پیچھے گردن سے بالوں کو ہٹا کر آگے کرتے ہوئے آہستگی سے کہہ کر اسنے گردن کو نرمی سے چھو کر اُسے غصہ دلایا۔۔
“تُم کیوں کر رہے ہوں یہ سب بخش دو مجھے اور میری فیملی کو ورنہ اگر تم نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا تو میں قتل کر دو گی تمہارا سمجھے۔۔۔!!
اُسکی لمس سے پاگل ہوتی وہ اسکی گرفت میں بری طرح سے مچلتی ہوئی سخت لہجے میں بولی تو وہ اُسے چھوڑنے کے بجائے اور سختی سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتا بغور اسکے نازک سراپے کا جائزہ لینے لگا تو وہ اُسکی بے باکی سے دیکھنے پر سلگ کر رہ گئی۔
“پیچھا تو اب قیامت تک نہیں چھوڑو گا قتل کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں میں انتقام مرنے کے بعد بھی لینے آؤں گا لیکن ابھی مجھے جانا ہے میری دادی وہاں زخمی ہے اتنا تو رحم دل تم ہو ایک بوڑھی عورت کا خیال ضرور کر لوں گی۔۔!!
وہ نرمی سے گالوں کو چھو کر آگے کو جھکنے ہی والا تھا کہ اسکے ہٹنے پر مسکرا کر پیچھے ہٹتے آخر میں سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“تو جاؤ میں نے کب روکا ہے میں تو تم پر زبردستی نہیں کر سکتی زبردستی تو تُم مرد کرتے ہو ہم عورتوں پر پتہ نہیں کیا ملتا ہے تم لوگوں کو یہ سب کر کے ہونہہہ۔۔۔!!
سخت نظروں سے گھورتی ہوئی نقوت سے بولی تو ضنافر حسن زیدی اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کمر سے پکڑ کر اسے اپنے قریب کرتا اسکے گالوں کو چھو کر ہونٹوں کو ایک انگلی سے چھونے لگا۔۔۔
“بہت کچھ ملتا ہے اگر ابھی لسٹ بنا کر دیا نا تو سرخ ہو کر نظریں چراتی پڑوں گی۔۔!!
وہ معنی خیزی سے کہتا اسے بے باکی سے دیکھنے لگا تو وہ اسکی نظروں سے سخت چڑتی ہوئیں شرم سے سرخ ہوتی خود کو چھڑانے لگی۔۔
“تم تو ہو ہی بے شرم ویسی سوچ ویسی ذہنیت شرم کب آتا ہے تمہیں ایسی باتوں کو کرتے ہوئے جو اب آئے گا۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی زور سے کہونی سے اسے مارتی ہوئی اب کے اسکی سخت گرفت کو ہلکا کرنے لگی اور وہ اسکی ہوشیاری پر اسے بازوؤں میں اٹھا کے وہ اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ اب اسکی گرفت سے نکل کر دیکھاؤ۔۔
“پتہ ہے میں بے شرم ہو تو کیوں میرے منہ لگنے کا سوچتی ہو پھر یار جب میں بے شرمی سے چہرہ سرخ کر دوگا نا تو غصے سے مجھے گالی دینے مت بیٹھ جانا۔۔۔!!
وہ بے باکی سے بولا تو اسکی بات پر شرم سے پلکوں کو عارضوں پہ گرا کر غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی اور وہ مسکراتے ہوئے اسے خاموش دیکھ کر روم کی جانب اپنے قدموں کو بڑھانے لگا۔۔۔
“حساب برابر تم جب میں پاکستان سے واپس آؤں گا تب کرنا بٹ ابھی ریسٹ کروں میں اتنا بُرا دشمن نہیں بننا چاہتا کہ مرنے کے بعد تم میری تعریف برے لفظوں میں کروں۔۔!!
وہ اسے روم میں لا کر بیڈ پر لیٹا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ سخت نظروں سے اسے گھورنے لگی جبکہ وہ اس وقت جلدی میں تھا ورنہ ضرور اسکی غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں کو قابو کرنے کے لیے کچھ کرتا اسے سیٹ کرتا لیکن اسے آکا بی کا خیال تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“وہ دو دن سے غائب تھی تو آپ لوگوں نے مجھے انفارم کیوں نہیں کیا تھا۔۔؟؟
سارب عرفان سلطان مسٹر جارج کی بات پر سخت پریشانی سے ان سے پوچھنے لگا اور سیرت بھی انکی بات پر سخت پریشان ہوگئی تھی۔۔۔
“ہمارے پاس آپ لوگوں کا نمبر نہیں تھا اگر ہوتا تو ضرور رابطہ کرتا لیکن ہم بھی یہاں نئے ہیں صالحہ کی طرح بیٹا ورنہ ضرور تمہیں انفارم کرتے۔۔!!
مسٹر جارج نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“اففف میں کتنا بُرا بھائی ہو وہ دو دن سے غائب ہے اور میں اپنی پڑھائی اور دوستوں میں بزی ہو کر اُسے بھول ہی گیا تھا۔۔۔!!
وہ سیرت کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے کہا تو سیرت اسے پریشان دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے ہاتھوں کے اوپر رکھتی تھپتھپانے لگی تو وہ پریشانی سے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر الجھانے لگا۔۔
“اٹس اوکے ہم اُسے ابھی ڈھونڈ لے گے نا تم ٹیشن نا لوں۔۔۔!!
وہ اُسے تسلی دینے لگی اور شاید وہ یہ کہہ کر خود کو بھی دے رہی تھی جبکہ وہ اُسکا ہاتھ چھوڑ کر وہاں سے اٹھا اور مسٹر جارج کے گھر سے باہر نکلا۔
“وہ ٹھیک تو ہوگی نا سیرت مجھے معلوم ہے کہ وہ بہت بہادر ہے اپنا خیال اچھے سے رکھ سکتی ہے لیکن میں بھائی ہوں کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ میری بہن کو کچھ ہوں ہوں نو اٹلی میں بہت سے مافیاز کا راج ہے کہے ان۔ انہی میں سے کسی نے تو اسے کڈنیپ نہیں کیا۔۔!!
وہ پیشانی پر گرے بالوں کو پریشانی سے پیچھے کرتا سیرت کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو سیرت بھی اسکی باتوں کو سن کر اب ڈرنے لگی کیونکہ اسے بھی پتہ تھا کہ یہاں مافیاز کا راج ہے۔۔۔
“تو یہ تُمہاری غلطی ہے کیوں اس ملک کو چنا پڑھنے کیلئے ہاں دیکھا نتیجہ اب صالحہ غائب ہے۔۔!!
وہ مافیاز کا سن کر سخت ڈرتی ہوئی اسے زور زور سے جھنجھوڑ کر بولنے لگی تو سارب جو پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اسکی بات پر سخت غصے سے اُسے گھورنے لگا۔۔۔
“اب تُم ہر بات پہ مجھ پر الزام لگاؤ گی اسٹرینج۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے وہاں چھوڑ کر غصے سے اپنی کار کی جانب بڑھا اور اسکے غصے سے کار کی جانب بڑھنے پر وہ بھی پیر پٹک کر اسکے پیچھے غصے سے بڑھی۔۔
“تُم مجھے یہاں چھوڑ کر جا رہے ہوں اگر مم۔۔۔۔مجھے بھی کسی غنڈے نے اغوا کر لیا تو۔۔!!
وہ تیزی سے آ کر اسکی پشت سے لگ کر ڈرتی ہوئی بولی تو سارب عرفان سلطان کو سخت تاؤ آیا اسکی حرکت پر وہ اس وقت اپنی بہن کے لیے پریشان تھا اور یہ اپنی حرکتوں سے اُسے سخت غصہ دلا رہی تھی۔۔۔
“تو یہ میرے لیے سب سے اچھا ہوگا تُم جیسی چڑیل کا پیچھا تو چھوٹ جائے گا۔۔۔!!
وہ جھٹکے سے اپنے پیٹ پر رکھے نازک ہاتھوں کو جھٹک کر پلٹا اور اُسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“وہاٹ تُم اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہوں اپنی بیوی کو کیسے غنڈوں سے اغوا کرنے کا کہہ رہے ہوں اوروں کے شوہر تو کسی غیر مرد کو اپنے بیوی کو دیکھنے پر پاگل ہو جاتے ہیں اور ایک تم ہوں جواپنی بیوی کو اغواء ہونے کا سوچ کر خوش ہو رہے ہوں۔۔!!
وہ سخت ناراضگی سے اُسکے سینے پر مکا مارتی سخت غصے سے بولی تو سارب نے اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے تھاما اور آنکھوں میں غصہ لیے اسے گھورنے لگا۔۔
“میں تُمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا تو شوہر کی طرح کیوں سوچوں ہاں بتاؤ اور یہ اوروں کے شوہر شاید تمہارے ناول میں تُمہیں ملے ہونگے جو اپنی بیوی کے دیکھنے پر بھی ٹیکس لگائے بیٹھے ہوئے ہونگے جو بیوی کو دیکھنے پر پاگل ہو جاتے ہے کم بخت۔۔!!
وہ اسکی بات پر آنکھوں میں حیرت بھرے اسے دیکھنے لگی جو اسے اس وقت سخت ظالم کے ساتھ ساتھ ایک ٹھرکی بھی لگ رہا تھا جبکہ وہ یہ صرف غصے کی وجہ سے کہہ رہا تھا ورنہ اسے کوئی شوق نہیں تھا ان ناولز سے جو سیرت پڑھتی رہتی تھی۔۔۔
وہ سختی سے اسکے ہاتھوں کو جھٹک کر کار کا دروازہ کھول کر کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا جو ساکت نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تُم کیسے کسی اور کی بیوی کے بارے میں ایسا کہہ سکتے ہو ہاں ٹھرکی انسان۔۔۔؟؟
وہ اُسکے منہ سے کسی اور کی بیوی کا سن کر سخت جلن محسوس کر رہی تھی جب کہ وہ جانتی تھی کہ وہ صرف ناول کے کرداروں کی بات کر رہا ہے پھر بھی پتہ نہیں کیوں وہ جل بھن رہی تھی۔۔
“اگر مافیاز کے ہاتھ نہیں لگنا چاہتی تو چپ چاپ گاڑی میں آکر بیٹھوں اور سارے راستے مجھے تنگ مت کرنا ورنہ بیچ راستے چھوڑ دو گا۔۔۔!!
وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہتا اسے دیکھنے لگا تو وہ اسکی سپاٹ آواز پر چونکی اور اسے دیکھنے لگی جو اسے کار کے اندر بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا تو وہ خاموشی سے پیچھے پیسنجر سیٹ کی جانب بڑھنے لگی لیکن اُسکے سختی سے روکنے پر وہ ٹھہری۔۔
“میں کیا ہو تمہارا ہاں۔۔۔؟؟
وہ سخت گیر لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔
“تم اس سوال کا جواب مجھ سے بہتر جانتے ہوں تو پھر کیوں پوچھ رہے ہو۔۔!!
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس سے بولی۔۔
“پیچھے وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کو اپنا ڈرائیور سمجھتے ہیں کیا میں تمہارا ڈرائیور ہوں ہاں جو تم کسی نواب زادی کی طرح پیچھے بیٹھ رہی ہوں۔۔۔؟؟
سخت درشت لہجے میں کہتا اُسے گردن گھما کر گھورنے لگا تو وہ سخت شرمندہ ہوکر جلدی سے آگے کا دروازہ کھول کر خاموشی سے اندر بیٹھ گئی جبکہ وہ اُسے اپنے برابر بیٹھتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“ڈاکٹر نے کیا کہا ہے اور آکا بی اب کیسی ہے۔۔۔؟؟
پاکستان پہنچتے ہی وہ اپنے پرسنل سیکرٹری سے پوچھنے لگا جو اس کی غیر موجودگی میں یہاں سب دیکھ رہا تھا۔۔
“سر وہ اب ٹھیک ہے بس دوا کی وجہ سے سو رہی ہیں۔۔!!
وہ سر جھکا کر کہنے لگا تو وہ یکدم سے سختی سے اسے گریبان سے پکڑ کر سامنے کار سے لگا کر غصے سے اسے گھورنے لگا۔۔۔
“وہ کیسے آیا تھا گھر ہاں اور سب گارڈز کہاں مر گئے تھے جب وہ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔؟؟
سیکرٹری اس کے غصے سے پوچھنے پر ڈرتا اسے دیکھنے سے اجتناب کرتا نظریں نیچے کئے کہنے لگا۔۔۔
“سر وہ اُنہوں نے اُسے وفا میڈم کے ذریعے وہاں بلایا تھا انہیں اس سے کچھ کام تھا بٹ مجھے پتہ نہیں کہ انہیں کونسا کام تھا اس سے اگر پتہ ہوتا تو میں آپ کو انفارم کرتا۔۔۔!!
اپنی سیکرٹری کی بات پر وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ کر کار کی چھت پر زور سے مارتے ہوئے پیچھے ہٹا۔۔
“اب وہ کہاں ہے۔۔۔؟؟
وہ سپاٹ لہجے میں نمیر کے متعلق پوچھنے لگا۔۔۔
“سر میں نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا جب میں میڈم کے روم میں کچھ فائلز سائن کرانے کے لیے گیا تھا تب اسکو انکا گلا دباتے ہوئے دیکھا تو میں نے سب گارڈز کو انفارم کیا اور پھر گارڈز کے اسے روکنے پر وہ ہمارے قابو میں آیا تھا ورنہ سر وہ اتنے غصے میں تھا جیسے وہ میڈم کو جان سے مار دینا چاہتا ہوں اور ایک ضروری بات سر یہ شخص سلطان خاندان کو برباد کر چکا ہے انکی بیٹی کے ساتھ نکاح کا ناٹک کر کے اسکے ساتھ زیادتی کیا ہے اسنے۔۔۔!!!
سیکرٹری کی آخری بات پر وہ تیزی سے پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جو اسکے اب پیچھے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔
“لڑکی کا نام کیا ہے۔۔۔؟؟
وہ اب پریشانی سے اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ لگا کر پیچھے ہٹاتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
اُسے ڈر تھا کہ کئی اُس کمینے نے صالحہ کے ساتھ یہ سوچ اسے اب پریشان کر رہی تھی تو اپنے سیکرٹری سے اس لڑکی کا نام پوچھنے پر مجبور ہوا جس کے ساتھ نمیر نے زیادتی کی تھی۔۔۔
“سر یہ تو مجھے سہی سے پتہ نہیں ہے۔۔!!
سیکرٹری نے کہا تو وہ سخت بے چینی سے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا تو سیکرٹری اسے خاموشی سے کھڑا ادھر ادھر پریشانی سے چکر کاٹتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“مجھے پہلے پولیس اسٹیشن لے کر جاؤ پہلے میں اس انسان سے ملنا چاہتا ہوں بہت کچھ پوچھنا ہے اور اسے حساب دینا ہے ان سب گناہوں کا مجھے جو اسنے کیا ہے میری فیملی کے ساتھ۔۔۔!!
غصے سے مٹھیاں بھینچ کر وہ سخت درشت لہجے میں کہتا کار کی جانب بڑھا تو سیکرٹری تیزی سے آگے بڑھا اور پیچھے کا دروازہ اسکے لیے کھول کر کھڑا ہوا تو وہ سنجیدگی سے اندر بیٹھا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“تُم آ گئے مجھے اپنے بھائی کو دیکھنے بہت یاد کر رہا تھا میں تمہیں کل رات سے میرے بھائی اس عورت نے ہمارے ساتھ بہت ظلم کیا ہمارے بابا اور ماما کو ہم سے جدا کر کے ہم سب کو ٹکروں میں بانٹ کر اس نے اچھا نہیں کیا وہ سگی ہو کر بھی ہماری سگی نہیں وہ تو دشمنوں سے بھی بدتر نکلی ہماری دادی نے ہی ہمارے بابا کو مارا ہے اس عورت نے اپنے سگے بیٹے کو صرف دولت کے لالچ میں آکر مارا ہے۔۔۔!!
جیل کے اندر ضنافر حسن زیدی کو دیکھ نمیر خوشی سے کھڑا ہوا اور کہتے ہوئے آگے بڑھا اور اسے گلے لگا کر اس سے اپنی ماں کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا تبھی ضنافر نے شدید غصے سے اسے خود سے دور کیا۔۔۔
“وہاٹ ربش زبان سنبھال کر میں تمہارا بھائی نہیں ہو تم جیسے ریپسٹ کو تو میں اپنا منہ بولا بھائی نہیں بنا سکتا سگا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا اور آکا بی کو الزام مت دو بھلا ایک ماں اپنی سگی اولاد کو کیوں مارے گی اور کیا ثبوت ہے کہ تم میرے سگے بھائی ہوں۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اسے نفرت سے دیکھنے لگا۔۔۔
“ثبوت یہ ہماری رگوں میں ڈروتا یہ خون ہے اگر یقین نہیں تو جاؤ جا کر ٹیسٹ کروا لوں اور اگر میں تمہارا سگا بھائی ہوا نا تو تمہیں سب کچھ یقین آ جائے گا اور وہ عورت کی اصلیت بھی تم پر کھل جائے گی۔۔۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھ سامنے کرتا شدید غصے سے کہنے لگا اُسے اس عورت پر سخت غصہ آ رہا تھا جس نے اسکے بھائی کے دل میں اپنے لیے بہت محبت پیدا کیا تاکہ بعد میں وہ اس پر یقین کر سکے۔۔۔
“کمینے انسان تُم اپنی باتوں سے اپنی اصلیت کو چھپا نہیں سکتے ہوں سمجھے اور سلطان خاندان کی کونسی لڑکی کو تم نے برباد کیا ہے ہاں نام بتاؤ مجھے اسکی معصوم لڑکی کا جلاد ورنہ سچ میں قتل کر دو گا ۔۔!!
وہ شدید غصے سے آگے بڑھا اور اسکے چہرے پر مکا مارتے ہوئے کرخت لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
“ہوں تو یہ بات بھی تُمہیں اس بڈھی نے مرچ مصالحہ لگا کر پیش کر دیا تمہیں مجھ سے بدگمان کرنے کیلئے۔!!
وہ ہونٹوں سے بہتے خون کی پرواہ کیے بغیر ہنستے ہوئے کہنے لگا تو ضنافر نے اس ڈھیٹ کی بات پر سخت غصے سے دوبارہ اُسے اُسی جگہ پر مکا مارا اور مارتا ہی چلا گیا۔۔
“مجھے پتہ ہے تم بہت بڑے ڈھیٹ ہو ایسے نہیں بتاؤ گے بٹ ڈونٹ وری میں بھی اچھے سے اگلوانے میں ماہر ہو۔۔۔!!
وہ تھک ہار کر پیچھے ہٹا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگا تو نمیر مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا وہ انسان جتنا بھی اچھا بنے لیکن اسکی فطرت کبھی بھی نہیں بدلتی اور اس وقت نمیر بھی اپنی فطرت کے آگے مجبور ہو کر اپنے سگے بھائی سے ایک گیم کھیل رہا تھا اپنے لفظوں کے جال میں اسے پھنسا رہا تھا تاکہ وہ غصے میں سہی انکے خون کے ٹیسٹ سے سچائی معلوم کرے اور اس عورت کی سچائی کو جانے۔۔
“میں ڈھیٹ ہو اور ڈھیٹ انسان بے غیرت بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں تو اپنے مطلب کے لیے تو میں کبھی اس لڑکی کا نام تمہیں نہیں بتاؤ گا ہاں ایک شرط پر اسکا ضرور نام بتاؤ گا اگر تم ڈی این اے ٹیسٹ کرواؤ گے تب۔۔۔؟؟
وہ خباثت سے مسکرا کر ضنافر کی جانب اپنے خون سے بھرے چہرے کو اٹھا کر کہنے لگا تو اسکی بات پر وہ سخت نظروں سے اسے گھورتا رہا پھر مڑا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ نمیر اپنے گیم میں کامیاب ہوا جو اسنے چاہا وہ ہوگیا تو اب وہ منہ میں خون کے ذائقے کی پرواہ کیے زور سے ہنسنے لگا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“زراقم تُم یہاں کیوں بیٹھے ہو بچے۔۔؟؟
دا جی لان میں رکھے چئیر پر خاموش بیٹھے زراقم عباس سلطان سے ہمکلام ہوئے جو موبائل میں اپنی اور مرجان کی پک کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
“اپنی زندگی کی مقصد کو ڈھونڈنے کے لیے دا جی۔۔!!
پک سے نظریں ہٹائے بغیر وہ سپاٹ لہجے میں ان سے بولا وہ مرجان کے غائب ہونے کے بعد سے ہی ان سے خفا تھا۔۔۔
“بچے کب تک ایسے اکیلے اس کے پیچھے بھاگتے رہوں گے جو پتہ نہیں تمہیں کہاں چھوڑ کر جا چکی ہے اب تو شاید وہ اپنی زندگی میں خوش ہوگی وہ یہی تو چاہتی تھی تُم سے دور ہونا اب اسکو بھول کر آگے بڑھوں۔۔۔!!
وہ اُسے سمجھانے لگے تو زارقم عباس سلطان انکی بات پر سخت غصے سے اٹھا اور ضبط سے مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔
“دا جی جب تک وہ مجھے نہیں ملے گی میں تب تک اسکے پیچھے بھاگتا رہو گا اور وہ مجھے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی جو اس شخص کی وجہ سے اسنے میرے ساتھ کیا تھا۔۔
وہ اسکی بے وقوفی تھی ورنہ وہ کبھی اپنے ارقم سے جدا ہونے کا نہ سوچتی اور خوش۔وہ طنزیہ انداز میں ہنس کر دوبارہ گویا ہوا۔۔
میں خوش نہیں ہو تو سمجھ لیں دا جی کہ وہ جہاں چھپ کر بیٹھی ہے نا وہ وہاں پر خوش نہیں ہوگی اس وقت۔۔۔۔
اور وہ کیا چاہتی ہے یہ میں اچھے سے جانتا ہوں رہی بات اُسے بھولنے کی تو جس دن میری لاش سلطان ولا میں آئیں تو آپ اُس دن سمجھ لیں کہ زارقم عباس سلطان اپنی مرجان کو بھول کر آگے بڑھ چکا ہے۔۔!!
وہ ان سے کہتا وہاں سے سیدھا اپنی کار کی جانب بڑھا مرجان کو ڈھونڈتے ہوئے اسے پورا ایک مہینہ ہوگیا تھا لیکن وہ اسے کئی نہیں ملی تھی اسنے اس شہر کے علاؤہ دوسرے شہروں میں بھی اسے ڈھونڈا وہاں پر بھی وہ اسے نہیں ملی تھی۔۔
اب وہ سب کچھ چھوڑ کر ہر وقت موبائل پر اسکی اور اپنی پک میں کھویا رہتا تھا اسے کسی چیز کا ہوش تک نہیں رہتا تھا یہاں تک آفس میں بھی وہ جانا اب بند کر چکا تھا آفس بھی اب زہاک عباس سلطان ہی جاتا تھا زیادہ تر اور ژالے تو اپنی بہن کے گم ہونے کے بعد اب زیادہ خاموش رہنے لگی تھیں ثمر ہی تھا جو اسے ہر وقت اپنی معصوم حرکتوں اور باتوں سے مسکرانے پر مجبور کیا کرتا تھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°