47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

“دور رہوں تُم مجھ سے جتنے دور رہوں گی اتنا تمہارے لیے بہتر ہوگا مس چڑیل اور اپنی یہ گز بھر کی زبان پر بھی قابو رکھوں ورنہ اُسے کاٹنا میرے لیے بہت آسان ہے۔۔!!
درخت پر اُسے چھڑانے کے بجائے اُسنے اپنے دونوں ہاتھ دائیں اور بائیں جانب رکھتے ہوئے کہا جبکہ وہ اپنی
آنکھوں کو سختی سے میچے کھڑی تھی۔۔
“مم۔۔میں تو بہت دور ہو تُم خود قریب آ رہے ہوں۔۔!!
وہ اُسی طرح آنکھیں میچے بولی تو سارب نے اسے سخت نظروں سے گھورا پھر پیچھے ہٹتے ہوئے کھا جانے والے انداز میں کہا۔
“اب یہاں کھڑی کیا مچھروں سے جنگ عظیم ہونے کا انتظار کر رہی ہو چلوں اپنے رہنے کا بندوست بھی کرنا ہے ہمیں رات ہونے سے پہلے کب سے تم سے مغز ماری کر رہا ہوں اور تمہاری زبان اففف اسنے تو الگ سر میں درد کرا دیا ہے اور تُمہیں اپنے ساتھ لانا اتنا بڑا امتحان ہوگا تو میں کبھی یہ نہ کرتا وہی ان سب کے ساتھ تمہیں بھی وہی چھوڑ کر آتا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا مڑا اور آگے بڑھنے لگا جبکہ وہ اسے خاموشی سے آگے بڑھتی ہوئی دیکھتی خوف کے مارے جلدی سے اسکے پیچھے بڑھی اور اسی بیچ وہ سیدھی جا کر اسکی چوڑی پشت سے بری طرح سے ٹکرائی۔۔
“تُم انسانوں کی طرح چل پھر نہیں سکتی ابھی ہم دونوں اس دلدل میں گر جاتے تو یہاں ہمیں کوئی جانور آکر نہیں بچاتا۔۔۔!!
وہ پلٹ کر سخت نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو وہ جنگلی جانوروں کی ڈراؤنی آواز پر ڈرتی ہوئی اُسکے سینے سے لگ کر بری طرح سے کانپنے لگی جبکہ سارب عرفان سلطان کی الفاظ اسکے گلے لگنے پر منہ میں ہی دب گئے۔۔
“پلیز جلدی سے مجھے یہاں سے باہر نکالوں مجھے بب۔بہت ڈر لگ رہا ہے مم۔میں مر جاؤ گی۔۔!!
وہ اُسکی پشت کو سختی سے پکڑے لرزتی ہوئی آواز میں بولی تو سارب عرفان سلطان نے نظریں نیچے جھکا کر اُسے دیکھا جو بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
“اے اے ریلکس ہمیں یہاں کوئی نہ کوئی ٹھکانہ ضرور مل جائے گا تُم پریشان نہ ہو میں ہو نا تمہارے ساتھ۔۔!!
وہ اسکی پشت کو سہلاتے ہوئے اب کے نرم لہجے میں بولا اب اسکے لہجے میں وہ پہلے والی سختی نہیں تھی۔۔
“یہ کس چیز کی آواز تھی سارب مم۔مجھے پلیز یہ آواز نہیں سننی پلیز تم کچھ کروں ورنہ میں ان آوازوں سے ہی ختم ہو جاؤ گی۔۔!!
نزدیک سے انہیں ایک جانور کے غرانے کی آواز سنائی دی تو سیرت اسکی گردن پر اپنے دونوں ہاتھ جکڑتی ہوئی دونوں پیر اسکے پیروں کے اوپر کرتی بری طرح سے کانپنے لگی جبکہ سارب عرفان سلطان کی تو سانسیں بری طرح سے حلق میں اٹکنے لگی اسکی اتنی نزدیکی پر اور اسکی نازک وجود کی کپکپاہٹ پر تو وہ اپنے چہرے پر نمی محسوس کرنے لگا۔۔
“تُم فکر مت کروں یہ یہاں نہیں آئے گے یہ ایریا بہت سیو ہے یہاں وہ گروپ اسی لیے تو آباد ہے کیونکہ یہاں کسی جنگلی جانور کا آنا جانا نہیں ہوتا یہ ایریا دیہاتی لوگوں کا ہے۔۔!!
وہ اُسے اچانک سے اپنے بازوؤں میں بھرتا آگے بڑھتے ہوئے کہنے لگا تو سیرت اسکی گردن پر ہاتھ رکھتی چہرہ اسکے چوڑے سینے میں مکمل چھپانے لگی اور اسکی اس حرکت پر سارب مسکرانے پر مجبور ہوا۔۔
“وہ کیا۔۔؟؟
وہ اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو سارب نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا اور چہرہ بلکل اسکے چہرے کے نزدیک کرتا اسے نظروں ہی نظروں میں کچھ کہنے لگا تو وہ اسکے اشاروں کی زبان میں کہی گئی بات پر سخت سٹپٹا کے رہ گئی جبکہ وہ اسکے سٹپٹا کر جلدی سے پیچھے ہونے پر معنی خیزی سے مسکرایا۔
“ویسے میرے پاس ایک بہت ہی اچھا آئیڈیا ہے ان ڈراؤنی آوازوں سے پیچھا چھڑانے کا۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تو پھر کیا خیال ہے یہ جگہ بھی موزوں ہے اس چیز کے لیے اگر تمہیں پسند ہو تو ہم وہاں جاکر ساتھ میں یہ۔۔؟؟
وہ بے باک نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہہ کر سامنے ایک چھوٹے سے کھوہ (غار)کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تت۔۔۔تُم ہوش میں تو ہو یہ کک۔کیا کہہ رہے ہو شرم تو کروں اتنی بے شرمی سے مجھ سے وہ کرنے کو کہہ رہے ہو جو۔۔!!
وہ اُسکی معنی خیز نظروں اور بے باک باتوں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی اس سے فاصلے پر کھڑی ہو کر کہنے لگی۔
“وہ کیا کا مطلب کیا ہے تم آخر کیا سمجھ رہی تھی ہاں ایکسپلین کرنا پسند کروں گی۔۔؟؟
ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو وہ سٹپٹاتی ہوئی اس سے نظریں چرانے لگی۔۔
“کک۔۔کچھ بھی تو نہیں۔۔!!
وہ نظریں ادھر اُدھر شرم کے مارے کرتی ہوئی بولی۔۔
“کچھ تو غلط ہی سوچا ہوگا جو اتنی لال پیلی ہو رہی ہوں ویٹ ویٹ تُم کہی تُم وہ تو نہیں سوچ رہی تھی استغفرُللہ تُم مجھ سے یہ ایکسپیٹ کر رہی تھی چڑیل کیا میں تُمہیں ٹھرکی لگتا ہوں جو تم میرے بارے میں ایسی ویسی بات سوچ رہی تھی اففف تم مجھے کب سے ایک بات یاد رکھنا میں اگر تمہارے ساتھ کچھ کرتا نا تو وہی فلیٹ میں کرتا اتنے مہینوں سے ہم وہاں سے تنہا رہ رہے تھے کیا میں نے تمہیں ہاتھ لگایا نہیں نا تو پھر تُم نے یہاں کیسے ایکسپیٹ کر لیا کہ میں تّمہیں اففف دل چاہ رہا ہے تمہارا سچ کو میں سچ ثابت کر دو ۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتا اُسے نیچے اتار کر خود اپنے بالوں کو غصے سے مٹھی میں جکڑ کر ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا پھر غصے سے اسکے پاس آکر ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر واپس غصے سے نیچے کرتے ہوئے درشت لہجے میں کہنے لگا۔۔
“”اب یہ شرمیلی بی بی بن کر تم مجھے اریٹیٹ مت کروں دل چاہ رہا ہے تُمہیں یہی چھوڑ کر چلا جاؤ۔۔!!
وہ یکدم سے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو سیرت اسکی بات پر اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔
“ہوگیا تُمہارا یا ابھی اور میرا انسلٹ کرنا باقی رہتا ہے یا اب بھی آگ لگی ہوئی ہے میرے لیے تمہارے دل میں اگر ہاں تو نکال باہر کر دو مجھ پر بھڑک کر ہونہہہ تم خود ایسے ری ایکشن دے رہے تھے میں کیا کوئی اور بھی یہی سوچ اخذ کرتا۔۔!!
وہ منہ تھیڑا کرتی ہوئی بولی تو سارب نے اُسے سخت نظروں سے گھورا اور قدم آگے غار کی جانب بڑھائے تو وہ جنگل میں ہوتے اندھیرے کو تھر تھر کانپتی ہوئی دیکھتی تیزی سے اسکے پیچھے بھاگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اگر تُم نہیں چاہتی کہ میں تُمہارا حال بھی اس بے چارے یا بے چاری کی طرح کردو تو چپ ہو جاؤ۔؟؟
وہ غار کے اندر نظریں ڈورہا رہا تھا سامنے انسانی کھوپڑی کو دیکھتی سیرت زور سے چیخی تو اُسنے اُسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
“ہم اِس ڈراؤنی جگہ پر اسٹے کرے گے۔۔؟؟
وہ تھر تھر کانپتی ہوئی آگے بڑھی اور اُسکے کندھے سے لگ کر خوفزدہ کھوپڑی کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“نہیں میں تُمہارے لیے یہاں اس ویران جنگل میں ایک 5 اسٹار ہوٹل کا انتظام کروں گا پھر ایک عالیشان بیڈ کا اور پھر کینڈل لائٹ ڈنر کا۔۔!!
اُسے طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے طنز کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تّم اتنے ڑودلی کیوں بات کر رہے ہو میں تو صرف تُم سے پوچھ رہی ہو کیونکہ مجھے یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ کسی بھوتوں کا گھر ہے۔۔!!
وہ ڈرتی ہوئی غار کو دیکھتی ہوئی اُسکا کندھا سختی سے پکڑتی ہوئی بولی تو اسکی بات پر سارب زور سے ہنسنے لگا۔۔
“تُمہیں لگتا ہے یہ ایک بھوتوں کا محل ہے واہ کیا بات ہے آج پہلی بار ایک چڑیل کو دیکھ رہا ہوں جو اپنی برداری سے ڈر رہی ہے ہاؤ سو فنی۔۔!!
وہ اپنے آنکھوں سے نمی صاف کرتیں ہوئے کہنے لگا کیونکہ ہنستے ہوئے اسکے آنکھوں کے گوشے سے پانی نکل رہا تھا۔۔
“تُم نا ایک بے کار انسان ہو۔۔!!
وہ اسکی بات پر چڑتی ہوئی اس سے دور ہوتی غصے سے بولی تو سارب اسکی بات پر ہاتھ آگے بڑھا کر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے اسکو دیکھنے لگا۔۔
“تُم اس طرح کی باتیں مت کروں ورنہ میں اپنے اندر کا جن باہر نکال کر تمہیں اپنا آپ دکھا دو گا کہ میں کتنا بڑا خوفناک جن ہوں ائندہ سوچ سمجھ کر الفاظ نکالا کروں چڑیل ورنہ منہ چھپاتی پڑو گی مجھ سے بھی اور خود سے بھی۔۔!!
کمر پر گرفت سخت کرتا وہ اُسے منہ کو لگام لگانے کا کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر سر تیزی سے ہلانے لگی تو اسنے مسکرا کر ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے گالوں کو چھو کر اسے خود سے الگ کیا تو وہ اس سے دور ہٹتے ہی گہری گہری سانسیں لینے لگی۔۔
“یہ لوں اور اسے کھانے کے بعد چپ چاپ وہاں جاکر سو جاؤ ورنہ میں سچ میں جن بن کر تُمہیں کھا جاؤ گا کیونکہ اس وقت مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے۔۔!!
ایک چاکلیٹ آگے بڑھا کر خود سگریٹ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکی بات پر چاکلیٹ کو تھام کر خاموشی سے پیچھے جاکر ایک بڑے سے پھتر پر بیٹھ گئی۔۔
“تُم یہ مت لوں پلیز مجھے اب گھوٹن ہو رہی ہے۔۔!!
وہ دھوئیں کی وجہ سے اپنے حلق میں جیسے کڑوی گولی کو پھنستے ہوئے شدت سے محسوس کرتی ہوئی چٹخ کر بولی تو سارب نے سگریٹ کو زمین پر رکھ کر رگڑتے ہوئے اسے غور سے دیکھا تو اسکے اس طرح دیکھنے پر وہ سٹپٹا کر جلدی سے اپنا چہرہ گھنٹوں میں چھپا گئی اور اسے اسطرح کرتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرانے لگا۔۔
“تُم یہاں ویٹ کروں میں کچھ کھانے پینے کا بندوست کر کے آتا ہوں۔۔؟؟
وہ اچانک سے باہر نکلتے ہوئے کہنے لگا تو سیرت اسکی بات پر ڈرتی ہوئی اٹھی اور اسکی جانب تیزی سے بڑھ کر اسے بازوؤں سے سختی سے پکڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔
“تُم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہو اگر یہاں کوئی سچ مچ میں جن آگیا اور اسنے مجھ پر حملہ کر دیا تو۔!!
وہ اسکے بازوؤں پر اپنا سر رکھتی ہوئی لزرتی ہوئی بولی تو اسکی حرکت پر سارب نے سخت تیوریاں چڑھا کر اسے گھورا۔۔
“تو میں شاباشی دو گا کہ اسنے میری جان اپنی بہن سے چھڑا لیا۔۔!!
وہ سخت چڑتے ہوئے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہنے لگا تو وہ منہ بنا کر دور ہوئی اور اسے گھورنے لگی۔۔
“اب گھور کیا رہی ہو چلوں ورنہ میں سچ میں تُمہیں پین کیک سمجھ کر کھا جاؤ گا۔۔!!
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے من پسند کیک کا نام لینے لگا تو اسے خود کو پین کیک کہنے پر سختی سے دیکھنے لگی اور اسکے باہر نکلنے سے پہلے خود باہر کی جانب بڑھی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ششششش..!!!
وہ اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ بُری طرح سے کانپ رہی تھی تو اُسے آگے بڑھ کر اُسکے ہونٹوں پہ اپنی انگلی رکھنے پر وہ شدید ڈر کے مارے چیخنے ہی والی تھی کہ اُسنے تیز نظروں سے اُسکو دیکھتے ہوئے خاموش رہنے کیلئے اشارہ کرنے لگا لیکن وہ بجائے خاموش ہونے کے آنکھیں سختی سے میچ کر زور سے چلا اٹھی۔۔
“آہہہہہ۔۔۔!!
وہ شدت سے چیخ مار کر اُسے خود سے دور کرتی بُری طرح سے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی جبکہ وہ سامنے کھڑا اُسے اب تیکھی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
“یہ تُم کیا کرنے والے تھے ہاں بدتمیز انسان اور مجھ سے دور رہا کرو وو۔ورنہ میں تُمہیں زندہ گاڑ دو گی اس ویران جنگل میں ۔۔!!
وہ شدید غصے سے اپنی انگلی اٹھا کر اُسے وارن کرتی ہوئی بولی تو اُسکے غصے سے وارن کرنے پر وہ طیش میں آکر آگے بڑھا اور ایک ہاتھ پیچھے لے جا کر درخت سے اُس سانپ کو جو اُسکے سر کے اوپر کھڑا دونوں کو گھور رہا تھا اُسے پکڑ کر دور پھینکنے کے بعد وہ اُسے شدید غصے سے گھورنے لگا۔۔
“مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تُمہارے قریب آنے کا وہ تو میں یہ تمہارے بھائی کو تُم سے دور کرنے کیلئے آگے بڑھ رہا تھا جو تُمہیں ڈسنے والا تھا ڈیم اٹ ہر وقت اپنے بارے میں سوچتی ہو جو دل میں آتا ہے وہی بکتی ہو اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا ہاں بتاؤ مجھے میں جی پاتا تُمہارے بغیر۔۔؟؟
اُسے شانوں سے پکڑ کر بری طرح سے جھنجھوڑ کر شدت پسند لہجے میں گویا ہوا جبکہ وہ منہ کھولے آج دوسری بار اُسے اتنے ہائپر دیکھ رہا تھا پہلی بار اس پروفیسر کو مارتے وقت اور آج وہ ساکت نظروں سے صرف اسے ہی دیکھ رہی تھی ورنہ سانپ کا سنتی تو ڈر کے مارے شاید بے ہوش ہو جاتی۔۔۔
“تو ڈس لیتا تُمہیں اتنا فرق کیوں پڑ رہا ہے ہاں تُم تو میرے دشمن ہو تُمہیں تو میری مدد نہیں بلکہ اُس سانپ کی کرنی چاہیے تھی آخر کو وہ میرا دشمن اور تمہارا دوست ہوا نا۔!!
اُسے غصے سے گھورتی ہوئی نقوت سے بولی تو وہ آگے بڑھا اور اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا بغور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ڈیم اٹ تُم کیسی باتیں کر رہی ہو اگر تُمہیں کچھ ہو جاتا تو مجھے سب سے زیادہ فرق پڑتا میں پاگل ہو جاتا اور تُم اسے میرا دوست کہہ رہی ہو اگر اسنے تمہیں ڈس لیا ہوتا نا تو میں اُسکا گلا اپنا دشمن اول سمجھ کر کاٹ لیتا کیونکہ اسنے میری زندگی کو ڈسا تھا۔۔!!
شدید غصے سے پاگل ہوتا وہ اُسے شدت سے اپنے سینے میں بھینچتا ہوا کہنے لگا تو وہ اسکی گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی ہوئی خود کو نکالنے لگی۔۔
“تُم شاید ایکسپیٹ نہیں کروں گی لیکن آج میں تُم سے اپنے دل کی بات کرنا چاہتا ہوں میں نفرت نہیں مائے لو میں تّم سے بے پناہ محبت بلکہ محبت لفظ بھی چھوٹا ہوگا میری فیلنگ کے آگے میں تو تُم سے دیوانگی کی حد تک عشق کرتا ہوں جاناں تمہارے عشق میں یہ عاشق گوڈے گوڈے ڈوب چکا ہے اب کثر صرف مرنے کی رہ گئی ہے اگر تم بچا لوں گی مطلب میری فیلنگ کی قدر کروں گی تو شاید یہ عاشق بچ جائے۔۔!!
وہ اُسے خود سے الگ کرتا بے قراری سے اُسکے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتا جیسے اُسے اپنی عشق کو قبول کرنے کیلئے راضی کرنے لگا جبکہ وہ آنکھیں پھاڑے اپنے دشمن کو اتنے رومنٹک موڈ میں حیرت سے دیکھنے لگی۔۔
“تُمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے جن صاحب کیا ڈرنک تو نہیں ہو جو تُم مجھ سے ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔۔؟؟
وہ اُسکی پیشانی کو چھو کے اسکی طبیعت کا پوچھنے لگی تو اُسنے اچانک سے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ کسی کٹی پتنگ کی طرح اُسکے چوڑے سینے سے جا کر لگی۔۔
“جاناں میں بِن پیے بہکنا چاہتا ہوں اِن زلفوں کی نرم چھاؤں میں اِن خوبصورت نشیلی آنکھوں کی نمی میں اور اس پاگل لڑکی کی قربت میں کیا تُم مجھے میرے پیار کو ایکسپیٹ کروں گی جاناں کیا میری فیلنگ کی قدر کرنا پسند کروں گی۔۔!!
خماری لیے سّرخ آنکھوں کو وہ اُسکی بری طرح سے لرزتے گلابی ہونٹوں پہ مرکوز کرتا گھمبیر آواز میں کہہ کر اچانک سے اُسکی نازک گردن پر جھکا اور اپنا لمس چھوڑ کر باری باری اُسکے گالوں کو چھونے لگا جبکہ اُسکے ہاتھوں کے دباؤ کو وہ اپنے ہاتھ میں محسوس کر سکتا تھا جو شاید اُسکی گستاخیوں کی وجہ سے اُسنے تھام لیے تھے۔۔
“یہ تُم کیا کک۔کر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔؟؟
اُسے اپنے ہونٹوں کے بے حد قریب جھکتے ہوئے دیکھتی وہ شدت سے کانپ کر بری طرح سے چلاتی ہوئی بولی تو وہ اسکی سنے بغیر نیچے جھکا اور مدہوشی سے اُسکے نرم لبوں کے نچلے حصے کو محبت سے چھو کر اُسکی سانسوں کو بری طرح سے بے قابو کرنے لگا تو اسکی شدتوں سے بری طرح سے کانپ کر اُسکی پشت کو ضبط سے بری طرح سے پکڑتی ہوئی درخت سے جا کر لگی۔۔
“جاناں پیار اپنی بیوی سے اور چھوڑنے کی بات آئندہ کبھی مت کرنا ورنہ مار ڈالوں گا۔۔!!
وہ پیار سے اسکے چہرے کو چھو کر اسے دیکھتے ہوئے انگھوٹے سے اسکے لبوں کو چھونے لگا اور وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی اسکی گستاخیوں پر شرم سے سرخ ہو رہی تھی کہ تبھی اچانک سے وہ زور زور سے ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔!!
اُسکی جانب دیکھتے ہوئے وہ قہقہہ لگاتے ہوئے انگلی سے اسکے چہرے پر لکیریں کھینچتے ہوئے پیچھے ہٹا اور اسکے لرزتے وجود کی کپکپاہٹ کی جانب اشارہ کرنے لگا جبکہ وہ سرخ چہرے کے ساتھ اسے ہنستے ہوئے نا سمجھی سے دیکھ رہی تھی۔۔
“تُمہیں کیا لگا میں اِس کمزور رشتے کو ایکسپیٹ کرنا چاہتا ہوں تُم سے عشق کر بیٹھا ہو ہاؤ سو بورنگ۔۔!!
وہ اچانک سے اُسے شانوں سے سختی سے پکڑتا ہوا بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگا تو وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جو اب پہلے والا سارب عرفان سلطان لگ رہا تھا وہ نہیں جو تھوڑی دیر پہلے تھا۔۔
“تُم نے میرے ساتھ۔۔!!
وہ انگلی اپنے سینے پر رکھتی ہوئی اُسے نم آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی تو سارب عرفان سلطان نے بیچ میں اسکی بات کو کاٹتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔۔
“شوہر والا گیم کھیلا تمہارے ساتھ جاناں تُمہیں چپ کروانے کیلئے کب سے میں تمہاری نان اسٹاپ بھک بھک سن کر سلگ رہا تھا جل رہا تھا اسی لیے مجھے یہ مزاق کرنا پڑا لیکن تمہاری یہ بد صورت چہرے کو مجھے قریب سے دیکھنا پڑ رہا تھا اس لیے مجھے اس رومنٹک گیم کو جلد ختم کرنا پڑا ورنہ آج ساری رات یہ گیم مجھے مجبوراً کھیلنا پڑتا۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا اُسے پیچھے درخت کے ساتھ لگا کر دور ہوا اور پلٹ کر اپنے آنکھوں کے گوشے سے نکلتے نمی کو صاف کرنے جو سیرت دیکھ نا سکی اس وقت جو تکلیف اسکے چہرے پر رقم تھی سیرت اس سے بلکل انجان تھی اور وہ خود بھی اپنی اس تکلیف کو چھپانا چاہتا تھا اس پر ہرگز ظاہر ہونے نہیں دینا چاہتا تھا جبکہ وہ وہی ساکت کھڑی اسے خود سے دور ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اب اتنی بھی خاموشی مجھے برداشت نہیں کچھ تو بولو اور یہاں آؤ اور کچھ کھاؤ۔۔!!
وہ اُسکی خاموشی سے اب چڑ رہا تھا اسی لیے اسے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے آگے بڑھا اور ایک سیب جو اسنے یہی سے ڈھونڈا تھا اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُم نے مجھے ہاتھ کیوں لگایا ہاں۔۔؟؟
وہ اسکا سیب والا ہاتھ دور کرتیں اُسے سُرخ آنکھوں سے دیکھتی ہوئی سختی سے بولی۔۔
“ہاتھوں سے کام نہیں چلایا تھا تم بھول گئی کیا اب تو میں وہ گیم دوبارہ نہیں کھیلنا چاہتا سو خاموشی سے یہ لوں اور کھاؤ۔۔!!
وہ معنی خیزی سے اسے دیکھتے ہوئے کہتا سیب دوبارہ آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر سیرت اٹھی اور غصے سے اسے سختی سے کالر سے جکڑتی ہوئی آخر میں اُسے چھوڑتی ہوئی دور ہوکر رونے لگی تو وہ اسکی آنکھوں میں اپنی وجہ سے آنسو دیکھتا بے چین ہوا اور آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگا کر کھڑا ہوا تو وہ سخت غصے سے اسے خود سے دور کرتی ہوئی پیچھے ہٹی۔
“نہیں مجھے ہاتھ مت لگانا دور ہو جاؤ مجھ سے سنا نہیں تُم نے ہاں دور رہوں مجھ سے تُم نے میرے ساتھ زبردستی کیا ہے میرے ساتھ یہ سب کر کے تُمہیں کیا ملا ہاں۔۔۔؟؟
وہ روتی ہوئی بولی تو سارب نے بے بسی سے اُسے دیکھا وہ اُسے کیسے بتاتا کہ وہ اُس سے دور رہنا چاہتا ہے اگر وہ اسکے قریب آ گیا تو ان دونوں کیلئے اچھا نہیں ہوگا اپنے اندر لڑتے ہوئے وہ اچانک سے اپنے چہرے پر سخت تاثرات سجاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔
“مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تُمہیں ہاتھ لگانے کا چھونے کا اگر میں نے وہ نہیں کیا ہوتا نا اور اپنی سچائی تم سے چھپاتا تو تمہیں مجھ سے محبت ہو جاتی اور میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا کیونکہ میں۔۔!!
وہ کرخت لہجے میں کہتا اسے بری طرح سے شانوں سے پکڑتے ہوئے گھورنے لگا اتنی سختی سے کہنے پر وہ خود اپنے دل میں درد محسوس کر رہا تھا لیکن یہ ضروری تھا ان دونوں کیلئے اگر وہ ایسا نہ کرتا تو سیرت اسے سوچتی اور وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ سیرت اس سے نفرت کرے۔۔
“میں نفرت کرتی ہو تُم سے آج نہیں بلکہ بچپن سے مجھے اپنی شکل مت دیکھاؤ چلے جاؤ یہاں سے جب تک ہم یہاں ہے تو کوشش کرنا اپنی یہ شکل مجھے مت دیکھانا ۔!!
وہ اُسے شعلے برساتی نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تو سارب نے اسے چھوڑا اور قدم پیچھے کی جانب بڑھائے نظریں ہنوز اسکے اوپر تھے۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“یہی تو تُم چاہتے تھے کہ وہ تُم سے نفرت کرے تو پھر یہ آنسو کیوں۔۔؟؟
وہ پانی میں بنتے اپنے عکس کو بولتے ہوئے دیکھنے لگا جو یہ کہہ رہا تھا تو وہ اپنے ہاتھ چہرے پر رکھ کر آنکھوں کے گوشے سے نمی کو صاف کرنے لگا۔۔
“بہت مشکل ہے اس سچائی کو چھپانے سے زیادہ اپنی جان سے دور رہنا اس سے اسطرح سختی سے بات کرنا روؤ تو نہیں تو پھر کیا کروں ہاں جواب دو۔۔!!
دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھتے ہوئے وہ نیچے جھکا اور پانی میں اپنے عکس کو سُرخ نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اگر چاہتے ہو کہ وہ سیو رہے تو تُمہیں یہ کرنا پڑے گا اُسے خود سے دور کرنا پڑے گا اگر اُسے تُمہاری وجہ سے نقصان ہوا تو بعد میں تکلیف تُمہیں ہوگی۔۔!!
وہ اپنے عکس کو سُرخ نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اس آواز پر وہ یکدم سے ڈرنے لگا واقعی اسنے اس بارے میں کیوں نہیں سوچا تھا اگر انجانے میں اسکی وجہ سے اسے نقصان پہنچا تو وہ تو برباد ہو جائے گا۔۔
“نہیں میں اُسے کچھ بھی ہونے نہیں دو گا اُسے نقصان پہنچانے سے پہلے ہی مجھے اس کا کچھ کرنا پڑے گا ورنہ میں اسے کھو دو گا۔۔!!
وہ اٹھا اور اپنے جیب سے اپنا موبائل لرزتے ہوئے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے ایک نمبر ملانے لگا۔۔
“شٹ ڈیم اٹ اسے بھی ابھی ڈیتھ ہونا تھا اب میں کیا کیا کروں یہاں سے کیسے نکلوں مجھے جلد از جلد سیرت کو اس جنگل سے نکلنا ہوگا ورنہ نہیں نہیں مجھے اس سے دور رہنا ہوگا ورنہ۔!!
وہ موبائل کو آف دیکھتے ہوئے سخت غصے سے موبائل کو سامنے پانی کے اندر پیھنکتے ہوئے غرایا اور سخت غصے سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر اپنے اندر کے غصے کو نکالنے سے روکنے لگا ورنہ یہ اسکے ساتھ سیرت کے لیے بھی ٹھیک نہیں تھا۔۔
“میرا بیگ افففف میں نے وہی چھوڑ دیا اب تو میں خود کو روک بھی نہیں سکتا اب کیا کروں کیسے کیسے میں سیرت کو پروٹیک کروں گا اس حالت میں تو میں خود اسکا سب سے بڑا دشمن بن جاؤ گا کیا ضرورت تھی مجھے یہاں آنے کی ہاں مجھے نہیں آنا چاہیے تھا ورنہ سیرت تو سیو رہتی مجھ سے۔۔!!
آنکھوں کے سامنے اپنے لرزتے ہاتھوں کو لا کر وہ سخت بے چین لگ رہا تھا تبھی اسے اپنے بیگ کا خیال آیا تو اسنے تیزی سے اپنی پشت کو چھونے لگا کیونکہ بیگ وہ ہمیشہ سیرت کی نظروں سے چھپا کر اپنی پشت پر شرٹ کے نیچے رکھتا تھا لیکن آج وہ جلدی میں بیگ فلیٹ میں بھول آیا تھا۔۔
اب وہ سخت پریشانی سے اپنے پیشانی پر گرے بالوں کو سختی سے جکڑتے ہوئے اپنے آپ کو ریلکس کرنے لگا اس وقت وہ اگر پرسکون نہیں ہوگا۔تو اُسکے ساتھ ساتھ سیرت بھی خطرے میں رہے گی اور وہ یہی تو نہیں چاہتا تھا کہ سیرت اسکی وجہ سے ہرٹ ہو۔۔
اچانک اُسکی سماعتوں میں عیجب و غریب آوازیں آنے لگی جیسے اُسکو کوئی اپنے پاس بلا رہا ہو اور یہ آوازیں جب مسلسل آنے لگی تو اُسنے اپنی سرخ آنکھیں جنگل کے چاروں اطراف میں ڈورائی تو اسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا تو وہ اپنے کانوں میں سختی سے ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️