No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
آکا بی کی جانب سے شادی دھوم دھام طریقے سے کرنے کا کہنے پر دا جی نے آج گھر میں سارب اور سیرت کے ساتھ ضنافر اور صالحہ لوگوں کی ہلدی اور مہندی کی رسم ایک ساتھ ارینج کرنے کو سب گھر کی خواتین اور مرد سے کہا تو سب کاموں میں لگ گئے۔۔
“زوجہ سلطان تُم دوسروں کے دولہوں کیلئے کیوں اتنی مشقت کر رہی ہو جب کہ تمہارا دولہا یہاں موجود ہے تو کیوں غیروں کیلئے یہ رسموں کا احتمام کر رہی ہوں لاؤ یہ مجھے دو اس ہلدی پر صرف تمہارے سلطان کا حق ہے اور ویسے بھی ہماری شادی کی یہ سبھی رسمیں میں نے مس کیے ہیں اب انکی شادی میں جو رسمیں ہونگی میں وہ سب کروں گا ۔۔؟؟
زہاک عباس سلطان اسے ڈھونڈتا ہوا کچن میں داخل ہوا تو اسے سامنے ٹیبل پر ہلدی میں کچھ ملاتے ہوئے دیکھ وہ آگے بڑھا اور ہاتھ سے باؤل لے کر بھوری آنکھوں میں وہ ژالے کا حسین سراپا بھرتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہتا انگلی ہلدی میں ڈالتے ہوئے ہنوز اسے دیکھتے ہوئے وہ ہلدی لگی چاروں انگلیاں اپنے چہرے کی طرف لے جانے لگا۔
“نہیں سلطان یہ ہلدی آپکے لیے نہیں ہے آپ اسے نہیں لگا سکتے ورنہ۔۔!!
ژالے جو اپنی سنہری آنکھوں میں ڈر جما کیے اُسے دیکھ رہی تھی کیونکہ اسنے ہلدی میں اسکن کو جلانے کے لئے پاؤڈر ملایا تھا۔۔
“کیوں نہیں لگا سکتا زوجہ سلطان کیا تُم نے اس میں کچھ ایڈ کیا ہے جو تُم مجھے منا کر رہی ہو۔۔؟؟
ہلدی کو بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو ژالے تیزی سے باؤل اپنی جانب کرتی اٹھی اور کچن کیبنٹ کی جانب بڑھی۔۔
“کچھ تو ملایا ہے زوجہ سلطان اس ہلدی میں جو مجھے نظر نہیں آ رہا بتاؤ کیا ملایا ہے۔۔؟؟
کیبنٹ کی جانب رخ کئے کھڑی ژالے کو شانوں سے پکڑ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو ژالے شدت سے کانپتی ہوئی اپنے پلکوں زور سے عارضوں پر گراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“اچھا تو کچھ نہیں ملایا ہے تم نے تو پھر ٹھیک ہے میں ایک کام کرتا ہوں تمہیں بھی لگاتا ہو جو ہماری شادی کی رسمیں نہیں ہوئی تھی وہ بھی اسی بہانے ہو جائے گی۔۔!!
وہ اسے پیچھے سے پکڑے ہاتھ باؤل میں ڈالتے ہوئے گردن پر جھکا اور نرمی سے چھوتا ہوا اسکی پیشانی پر اور گالوں پر باری باری ہلدی لگانے لگا پھر آہستگی سے ہاتھ نیچے لے جا کر وہ دونوں ہاتھوں کو لگانے لگا۔۔
“نہیں سلطان مت لگائیں اس مم۔میں میں نے اسکن ریشز کرنے والا پاؤڈر ایڈ کیا ہے پلیز مت لگائیں۔۔!!
ژالے اسکن پر شدت سے جلن محسوس کرتی کانپ کر بولی تو زہاک عباس سلطان پریشانی سے اسکا رخ اپنی طرف کرتا اسے بغور دیکھنے لگا جو بے چینی سے خود کو اسکی گرفت سے چھڑا رہی تھی۔۔
“زوجہ سلطان یہ بچوں والی حرکت کیوں کی ہے اگر انہوں نے کچھ ہو جاتا تو ہاں۔!!
وہ پریشانی اور غصے سے بولا تو ژالے نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو سخت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“سوری سلطان میں نے یہ صرف اس شخص کو سزا دینے کے لیے کیا تھا جس نے میرے سلطان کو اور سب گھر والوں کو ایک ہفتے سے بہت زیادہ پریشان کیا ہے اسے مزا چکھانے کے لیے اور یہ باور کروانے کے لیے کہ ہماری صالحہ کمزور نہیں ہے اس کے ساتھ ہم ہے اور دا جی نے ایسا کیوں کیا ہے سلطان وہ کیوں یہ کر رہے ہیں صالحہ اسکی زندگی کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں۔۔؟؟
وہ سخت غصے سے ضنافر زیدی کا نام لیتی آخر میں دا جی کے عیجب فیصلے پر تاسف سے اُسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو زہاک عباس سلطان نے سنجیدگی سے اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے اور باؤل کو پکڑ کر اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ لیے باہر کی جانب بڑھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“ماما اس ماحول میں کیا یہ سب ضروری ہے۔۔؟؟
سیرت زویا بیگم کی بات پر سخت منہ بناتی ہوئی بولی تو وہ جو پیلے رنگ کی چنری کو سر پر اوڑھ رہی تھیں اسکی بات پر اسے دیکھ رہی تھیں کہ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی عباس اعظم سلطان روم میں داخل ہوئے اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔۔
“کیوں ضروری نہیں ہے سیرت بچے یہ موقعے بار بار نہیں آتے اور ویسے بھی آپ ہماری اکلوتی بیٹی ہے۔۔!!
انکی بات پر وہ نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی تو انہوں نے آگے بڑھ کر اسکے آنسوؤں پونچھے اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے چپ کروانے لگے۔۔
“نو میرا بچہ رونا مت ورنہ میرے بچے اپکی میک اپ خراب ہو جائے گی۔۔!!
وہ ہنستے ہوئے شرارت سے بولے تو وہ انکی بات پر آنکھوں میں نمی لیے ہنسنے لگی تو روم میں داخل ہوتا سارب عرفان سلطان اس خوبصورت ہنسی پر فدا ہوا اور وہی ساکت کھڑا اسے دیکھنے لگا ہوش تو پیچھے سے زارقم عباس سلطان کے ہلانے پر وہ آیا تو جھینپ کر وہ روم کے اندر داخل ہوا۔۔
“بابا فوٹوگرافی کے لیے فوٹو گرافر کی ٹیم آئے ہیں تو ہمیں اب باہر جانا چاہیے۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے عباس سلطان اور زویا بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے فوٹو گرافر ٹیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
“شیور زارقم بچے کیوں نہیں اب ہمیں بچوں کو اکیلا چھوڑ دینا چاہیے آج انکا دن ہے کل ہمارا کیوں بیگم۔۔؟؟
زارقم عباس سلطان سے کہتے ہوئے آخر میں شریر نظروں سے زویا بیگم سے کہنے لگے تو وہ ہنس کر باہر نکلے۔۔
وہ چاہے جتنے بھی ٹیشن میں تھے لیکن اپنی بچی کو پریشان نہیں دیکھ سکتے تھے اسی لئے اسکے سامنے وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر باتیں کر رہے تھے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“اوں جنگلی آرام سے میرا پیر کچل دیا۔۔!!
سارب فوٹوگرافر کے کہنے پر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر سیرت کو بغور دیکھنے لگا کہ تبھی اسکا ایک پیر سیرت کے پیروں پر دباؤ بڑھا گیا تو وہ بلبلا کر غصے سے چیخی۔۔
“اوں لیڈی ڈیانا میں نے کہا کچلا تمہارا ڈھائی کلو کا پیر جو تُم واویلا مچا رہی ہو تُمہیں تو خود افریقہ کی ماڈرن بننے کا بے حد شوق چڑھا ہے اب میں کیا کر سکتا ہوں۔۔!!
وہ بھی کہا پیچھے رہ سکتا تھا غصے سے چڑھ کر گویا ہوا تو اپنے نازک سفید مومی سرخ مہندی سے سجے پیروں کو ساکت نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“یہ یہ تُمہیں ڈھائی کلو کے لگ رہے ہیں او مائی گاڈ سارب عرفان سلطان میرے نازک پیروں سے تُم اتنا جلتے ہو کہ یہ تُمہیں ڈھائی کلو کے نظر آتے ہیں۔۔۔!!
وہ ہنسی دباتی ہوئی بولی تو سارب اسکی بات پر سخت غصے سے پاگل ہوا اور آگے بڑھ کر اُسے سختی سے کمر سے جکڑ کر نیچے کرتا فوٹوگرافر سے اس پوز کو کیپچر کرنے کا اشارہ کرنے لگا جبکہ سیرت اس اچانک سے ردعمل پر شاکڈ اسکی باہوں میں اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“جلتے تو آجکل میرے دشمن ہے میری کامیابیوں سے میری اسمارٹ لُک سے اور میری بہت ساری گرل فرینڈز کو دیکھ کر کیوں سہی کہا نا میں نے دشمن جاں۔۔!!
اُسے پوزیشن میں اسے اپنی باہوں میں قید کیے وہ بوجھل لہجے میں بولا تو سیرت جو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی غصے سے اسے دور دھکیلنے لگی جو ناممکن تھا کیونکہ سامنے کھڑے شخص کی پکڑ اتنی کمزور نہیں تھی کہ ایک نازک ہاتھ سے دور ہو سکے۔۔
“تُم اور تُمہاری کامیابیاں اچھے سے جانتی ہو کہ کیا ہے اور ان لڑکیوں پر ترس آتا ہے جو تُمہاری گرل فرینڈز ہے جنہیں شاید دیکھنے کی بیماری ہے جو تُم جیسے کوجے کو وہ سب اپنا بوائے فرینڈ بنائے ہوئیں ہے۔۔”
وہ نقوت سے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو سارب عرفان سلطان اسکی بات پر معنی خیزی سے ہنسا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے سے بالوں کو ہٹانے لگا۔۔
“اندھی تو تُم بھی ہو مس سفید چڑیل جو مجھ جیسے کوجے سے خوشی خوشی شادی کر رہی ہو۔۔!!
سیرت اسکی بات پر سخت شعلے میں گرتی خود کو شدت سے محسوس کرتی وہ ضبط سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی۔۔
“بہت ہوگیا مجھے نہیں کھینچنا اس کوجے کے ساتھ فوٹو بند کروں یہ سب اور نکل جاؤ میرے روم سے اور تُم جاؤ اپنی ان اندھی گرل فرینڈز کے ساتھ سیلفیاں کھینچوں سمجھے۔۔!!
غصے سے سرخ ہوتی وہ اس وقت سارب کو بہت حسین لگ رہی تھی اور وہ اسے اسی طرح دیکھنا چاہتا تھا لیکن ابھی اسکے کہنے پر اسے روم سے نکلنا پڑا ورنہ کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ کوئی چیز اٹھا کر اسکے سر پر رسید کر دیتی۔۔
ابھی رسم تو باقی تھے اور اسنے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے اچھے سے سبق سیکھانے گی اور دوسری جانب سارب کے بھی ارادے یہی تھے اسے سبق سیکھانے کے وہ اپنی ریئجکٹ کرنے کا بدلا لینا چاہتا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پاس بیٹھی نازک پری بنی سیرت جو مہندی کے فنکشن کے جوڑے میں ملبوس وہ کوئی حور لگ رہی تھی اور سارب اُسکی نرم و ملائم سفید مکروتی انگلیوں کو سختی سے جکڑے صوفے پر بلکل اُسکے نزدیک بیٹھا خاندانی رسم کو منہ بنائے اپنی ماں کی سخت نظروں کی وجہ سے نبھا رہا تھا۔۔
خوبصورت سُرخ رنگ کے مہندی لگے ہاتھوں نے اور اُوپر سے گلاب کی بینی سی خوشبو نے تو جیسے اُسکے حواسوں کو اڑانے میں اپنا فرض نبھانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہوں جو دماغ میں چڑھ کر اُسکے ہوش اڑائے جا رہے تھے۔۔
“ہلوں تو مت جنگلی۔۔!!!
اپنے جذباتوں کو چھپا نہیں پا رہا تھا اسی لیے سخت آگ بگولہ ہو کر سختی سے نازک کلائیوں کو جکڑ کر گجرے پہنانے لگا لیکن اسکے مسلسل ہلنے کی وجہ وہ ہلکی آواز میں غرایا۔۔
“میں کہاں ہل رہی ہو سفید جن۔۔!!
پہلی بار کسی مرد کی گرم انگلیوں سے سٹپٹا رہی تھی مرد وہ جو ہر وقت اُس سے دشمنوں کی طرح لڑا کرتا تھا آج پتہ نہیں کیوں اُسکے چھونے پر سُرخ ہوتی سخت جھینپ رہی تھی تبھی اُسکی جھنجلائی آواز پر وہ تیز آواز میں بولی۔۔
“ادب سے لڑکی میں چوبیس گھنٹے بعد تُمہارا مجازی خدا بننے والا ہوں تو ادب سے ساجن کہا کروں سمجھی۔۔!!
وہ مہندی سے سجے نازک ہاتھوں کو سختی سے دبا کر اُسے جتاتی نظروں سے دیکھتا معنی خیزی سے بولا تو وہ اسکی بات پر ناک بھوں چڑھا کر اُسے غصے سے سرخ ہوتی دیکھنے لگی۔۔
“ہونہہہ تُم سفید جن میرے ساجن تو خواب میں بھی نہیں بن سکتے بڑے آئے ساجن بالم۔۔!!
وہ نظروں میں ناگواری سموئے اسے گھورتی ساجن کو چبا چبا کر بولی تو سارب عرفان سلطان غصے میں آ کر اسکی بات پر ہاتھ پیچھے لے جا کر اُسکے سنہرے لمبے گھنے بالوں پہ لگے موتیوں کو کھینچ کر دور ہوا تو وہ اسکی حرکت پر سخت شعلے برساتی نظروں سے اسے گھورنے لگی۔۔
“یہ جن تمہیں کل اچھے سے بتائیں گا کہ یہ تمہارا بالم جن سفید ہے یا کالا۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا تو سیرت اسے گھور کر دیکھنے لگی۔۔
“اس وقت تم بندر لگ رہے ہو سفید بندر!!
اسکی سفید قمیص شلوار کی جانب ناگواری سے دیکھتے وہ بولی تو سارب عرفان سلطان شریر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“اور تُمہیں پتہ ہے تُم اِس وقت کیا لگ رہی ہو؟
سنہری نَظروں میں نظریں ڈالیں وہ بھاری گھمبیر آواز میں گویا ہوا وہ جو آج شرم سے سرخ ہو رہی تھی اسکی بات پر نظریں تیزی سے نیچے جھکا گئی۔تُم سفید چڑیل سے آج بھوتنی لگ رہی ہو مسسز سارب۔”وہ تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے شریر لہجے میں کہتا اس سے دور ہوا تاکہ متوقع حملے سے بچ سکے۔۔
اس وقت سیرت کا شدت سے دل چاہا کہ اس سفید جن نما بندر کو مہمانوں کی موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس پر مکے کی برسات کر دے جبکہ وہ سامنے کھڑا اسے شریر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“بچوں جتنا ہنسنا ہے ہنسو میں بدلا سود سمیت لوں گی ویٹ اینڈ واچ۔۔”
آنکھوں میں غصہ بھرے اُسے نظروں ہی نظروں میں دھمکی دینے لگی تو وہ وکٹری کا نشان بناتا وہاں سے نکلا اور کچھ سوچتا ہوا مسکرایا اور کچن کی جانب بڑھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“آکا بی یہ شادی ایک بزنس کی طرح آپ نے طے کی ہے تو پھر اتنی تیاریوں کی کیا ضرورت ہے میں ایسے ہی وہاں جا کر نکاح نامے پر سائن کر دو گا۔۔!!
وہ بیڈ روم میں داخل ہوا تو سامنے اپنے بیڈ پر ایک کریم کلر کی شیروانی جو انکی خاندان میں جب کسی کی ہلدی کی رسم ہوتی تھی تو اسی کلر کی شیروانی اس دولہے کے لیے اسکی ماں بڑے چاہوں سے اپنے بیٹے کے لیے بنواتی تھی وہ شیروانی کو سخت غصے سے دیکھتا ہوا روم سے باہر نکلا اور سیدھا آکا بی کے روم میں داخل ہوا اور سخت غصے سے بولا۔۔
“کیوں ضروری نہیں ہے آخر کو میرے اکلوتے پوتے کی شادی ہے تو کیا میں شادی اس طرح روکھے پھیکے سے انداز میں کروں نو مائے چائلڈ میں سب کچھ شاندار طریقے سے کرنا چاہتی ہو اور یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ابھی تو اور بھی سرپرائز آپ کو ملنے والے ہیں آگے سو بی ریلکس۔۔!!
وہ جو ایک اہم فائل دیکھ رہی تھیں نظریں اوپر اٹھا کر غصے سے سرخ ہوتے اپنے پوتے ضنافر حسن زیدی کو اپنے روم میں دیکھ کر بولیں۔۔
“آکا بی یہ آپ سہی نہیں کر رہی اس لڑکی کے ساتھ جانتی بھی ہے کہ میں کتنا۔۔!!
وہ آخری لفظ کہتے کہتے روکا تو آکا بی اپنی جگہ سے اٹھیں اور اسکی جانب انہوں نے پیروی کی اور مقابل کھڑے ہو کر بولیں۔۔
“اچھے سے جانتی ہوں کہ تُم اُس لڑکی کو چاہ کر بھی چوٹ نہیں پہنچاؤ گے اسی لیے میں نے نکاح کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اتنے سالوں سے چلتی آ رہی ہماری اس دشمنی کو میں جڑ سے ختم کر سکوں اور امید ہے کہ تم میرا ساتھ دو گے۔۔!!
وہ سخت مشتعل ہوگیا اُنکی بات پر اور سامنے رکھے ٹیبل کو زور سے اپنی ہتھیلی مارتا اپنا غصہ اس ٹیبل پر نکالنے لگا اور اُسکے زور سے ہتھیلی مارنے پر ایک زور دار دھماکے سے اُس ٹیبل کا شیشہ ٹوٹ کر پورے روم میں پھیل گیا تھا۔۔
“آکا بی کیوں آپ نرمی دکھا رہی ہیں اُنکے اوپر وہ دوست نہیں ہے ہمارے دشمن ہے قاتل ہے وہ میرے بابا کے اور آپکے بیٹے کے اور کیوں رشتہ جوڑنا چاہتی ہے آپ میں اچھے سے جانتا ہوں یہ شادی کوئی ڈیل نہیں ہے بلکہ آپ نے ایک پلان بنایا ہے آپ کچھ اور کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھیے گا اگر اُس لڑکی کو کچھ ہوگیا نا تو اسکا زمہ دار میں نہیں آپ ہوگے۔۔!!
خون قیمتی قالین کو داغ دار کر رہا تھا اور وہ درد کی پرواہ کیے بغیر کہنے کے بعد وہ سخت تیور لیے انکے بیڈروم سے باہر نکلا تو اسکے نکلتے ہی انہوں نے اس جگہ کو دیکھا اور مسکرائی جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا اپنا غصہ نکال رہا تھا اور سوچنی لگی کتنا قریب ہے انکا پوتا بہت اچھے سے جانتا ہے بلکل اپنے باپ کی طرح وہ جانتا ہے مجھے اپنے بیٹے کو یاد کرتی انکی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°′°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دا جی آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں اپنی پوتی کے ساتھ آپ میری شادی اُس انسان کے ساتھ کر رہے ہیں جو ایک جھوٹا فریبی اور فراڈ انسان ہے۔۔!!!
صالحہ عرفان سلطان سامنے کھڑے دا جی سے بولی جو اسے اسکے بیڈ روم میں اسے رسم کے لیے منانے کے لیے آئے تھے لیکن وہ تھی کہ غصے سے بھری بیٹھی تھی جو انکی باتوں کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
“صالحہ بچے وہ جھوٹا فریبی نہیں ہے بس اُسے بدگمان کیا گیا ہے اور آپ ہی اس بدگمانی کا خاتمہ کر سکتی ہیں اس سے نکاح کر کے کیونکہ وہ عورت چھپ کر ہمارے خاندانوں کو برباد کر رہی ہے۔۔!!
انہوں نے سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو صالحہ پہلے ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی پھر سخت غصے سے بولی۔
“دا جی میں اس انسان کے گھر میں اگر گئی ناں تو قتل کر دو گی اور اسکے ذمے دار آپ ہونگے میں نہیں۔۔!!
وہ نفرت سے ضنافر حسن زیدی کو سوچتی ہوئی بولی۔۔
جس نے یونی میں اُسے محبت کا ناٹک کر کر کے اسے بہت غصہ دلایا اب وہ یہ سب کر کے اُسے آخر کیا دیکھانا چاہتا تھا وہ اس سے قاصر تھی۔۔
“صالحہ بچے آپ سمجھتی کیوں نہیں وہ نا سمجھ ہے لڑکا ابھی اُسکے دماغ میں صرف اپنے باپ کے قاتل کو قتل کرنے کا خون سوار ہے اور قاتل وہ ایک بے گناہ انسان کو سمجھ رہا ہے اور ہماری بد قسمتی کے کوئی ثبوت نہیں مل رہا اصل قاتل اور عباس وہی حسن کی ڈیڈ باڈی کے پاس تھا اور وہ اس وجہ سے یقین کر رہا ہے کہ قاتل عباس اعظم سلطان ہے لیکن اب بچے تمہیں یہ سب روکنا ہوگا اُس ناسمجھ لڑکے کو قتل کرنے سے کیونکہ وہ جوان خون ہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔!!!
اُنہوں نے صالحہ کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے جیسے اُس سے التجا کی ہو اور صالحہ انکی بات پر کچھ دیر کو سوچ میں پڑ گئی۔۔
“ٹھیک ہے دا جی لیکن میں اُس انسان کو کبھی معاف نہیں کرو گی اسنے بہت زیادہ تنگ کیا ہے اپنی حرکتوں اور باتوں سے اور چھوڑو گی تو میں بھی اب اسے نہیں ایک ایک چیز کا بدلا لوں گی اگر وہ مرد ہے تو میں بھی ایک بہادر عورت ہو دیکھا کر رہوں گی کہ عورت جب نفرت کرتی ہے تو کس حد تک جاتی ہے دا جی اب وہ انسان خود ایک مہینے بعد یہاں سلطان ولا میں معافی مانگنے آئے گا۔۔!!
وہ مضبوط لہجے میں کہتی انہیں مسکرا کر دیکھنے لگی تو انہوں نے بھی اسے مسکرا کر دیکھا اور انہوں نے ضنافر حسن زیدی اور اُس عورت سے جس نے ضنافر کو بدگمان کیا تھا اپنی باتوں سے اور اب نجانے کہا جا چھپی ہوئی ہے ان دونوں سے مقابلہ کرنے کیلئے انہوں نے صالحہ عرفان سلطان جیسی بہادر اور نڈر اپنی بے باک باتوں سے زیر کرنے والی اس پوتی کو چنا تھا جو مقابل کو اچھے سے ہرانا جانتی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
