47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“ضنافر حسن زیدی تُم گھٹیا انسان کب سدھروں گے تم نے تو ہر چیز کو مزاق بنا کر رکھ دیا ہے یہ طلاق کے پیپرز خالی لے کر آئیں اور صد افسوس اتنی دکھ کے ساتھ اپنے سائن کا کہہ رہے تھے جیسے سچ میں تُم نے ان خالی پیپرز پر اپنے سائن کر دئیے تھے۔!!
وہ سخت غصے سے بیڈ روم میں داخل ہو کر اُسکے چہرے پر پیپرز پیھنکتی ہوئی چلا کر بولی جو تھوڑی دیر پہلے ہی اس شخص نے یہ کہہ کر اسے دیا تھا کہ یہ طلاق کے پیپرز ہے اسنے سائن کر دئیے ہیں جبکہ اسنے جب انہیں کھول کر دیکھا تو پیپرز طلاق کے نہیں بلکہ صاف کاغذ تھے جس پر ایک عرف تک نہیں لکھا تھا۔۔
“میں جانتا ہوں تم یہاں ضرور آؤں گی۔۔۔!!
ضنافر جو بیڈ پر لیٹا لیپ ٹاپ پر آفس کا ورک کر رہا تھا کہ اُسنے اُسے بیڈ روم میں سخت غصے سے داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو مسکرا اٹھا وہ جانتا تھا کہ خالی پیپرز دیکھ کر وہ سخت غصے سے پاگل ہوگی۔۔۔
“کیوں تُم ہر بات ہر معاملے پر جھوٹ بولتے ہوں اگر تُم نے اس رشتے کو مزاق سمجھ کے رکھا ہے تو مجھے ابھی اسی وقت طلاق دے دو اب اور میں تم جیسے جھوٹے کے ساتھ یہ رشتہ نہیں رکھ سکتی۔۔!!
اُسکے قریب کھڑی سخت نظروں سے غصے سے گھور کربولی اور وہ اسکی بات پر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھنے کے بعد ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنے اوپر گرا کر اُسے دیکھنے لگا جو اسکے کھینچنے پر سخت مشتعل ہوگئی تھی۔۔
“تُمہیں تکلیف ہوئی تھی میرے سائن کا سن کر ناں جاناں۔۔؟
اُسے نیچے بیڈ پر لیٹا کر ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے پر سے زلفوں کو چھیڑتا گھمبیر آواز میں اُس سے پوچھنے لگا صالحہ اسکی اتنی نزدیکی پر اپنی آنکھوں کو سختی سے میچ گئی تھی۔۔
“مجھے کیوں تکلیف ہوگی میں تو بہت خوش ہوئی تھی تُم سے چھٹکارے کا سن کر اور دل میں شکر ادا کر رہی تھی کہ اب کبھی تمہارا یہ چہرہ دیکھنا نہیں پڑے گا۔۔۔!!
وہ اپنی گردن پر اُسکی سانسوں کو شدت سے محسوس کر رہی تھیں اور وہ مدہوشی سے اُسکی سفید مومی جیسے صراحی دار گردن پر جھکا اپنا شدتوں بھرا لمس چھوڑ رہا تھا کہ اُسکی بات پر اپنی چمکتی خماری لیے سُرخ آنکھوں کو اُسکے چہرے پر گاڑھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی قربت میں اپنی آنکھوں کو سختی سے میچے شرم سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔
“تو ڈارلنگ تُمہاری آنکھیں کل کیا مجھ سے جھوٹ بول رہی تھی ہاں۔۔۔؟؟
انگلی سے اُسکی پیشانی سے لکیر کھینچ کر نیچے کی طرف بڑھتے ہوئے ہونٹوں کے پاس آ کر وہ نرم لبوں کے نچلے حصے کو چھوتا ہوا بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“جھوٹے تُم ہو میں نہیں اور چھوڑو مجھے۔۔!!
اپنے لبوں کے نچلے حصے پہ اُسکی انگلی کے نرم گرم لمس کو وہ شدت سے محسوس کرتی کانپتی ہوئی زور سے بولی۔
“سوری ڈارلنگ چھوڑ تو میں کبھی نہیں سکتا اگر چھوڑنے کا ارادہ ہوتا نہ تو ان پیپرز پر سائن تُمہیں ملتے مگر میں کبھی چھوڑ نہیں سکتا اگر چھوڑا تو سانسوں کے رخصت ہونے سے ایک دن پہلے چھوڑ دو گا۔۔۔!!
بھاری اور گھمبیر آواز میں کہتا اچانک سے ہاتھ نیچے لے جا کر اُسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے اور نزدیک کرتا وہ شدت سے لبوں سے لبوں کو الجھا کر محبت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا تو وہ اُسکی حرکت پر سختی سے اُسکی کالر کو جکڑ گئی تھی وہ شدتوں سے اُن بھیگے لبوں کے جام کو پی رہا تھا یکدم سے کروٹ بدل کر اُسے اپنے اوپر اُسنے گرایا اور شدتوں بھرے لمس کو اُسکی نازک گردن پر چھوڑنے لگا اور وہ اُسکی شدتوں کو کبھی اپنے لبوں پر تو کبھی اپنی گردن پر محسوس کرتی گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
“چچ۔۔چھوڑو مجھے بے ہودہ انسان۔۔!!
اُسے گردن پر جھکے ہوئے دیکھ کر وہ سختی سے اُسے بالوں سے پکڑ کر اپنے سے دور کرتی شدت سے کانپتی ہوئی زور سے چیختی ہوئی ہزیانی انداز میں بولی۔۔
“Darling This bed behavior..!!
وہ آنکھوں میں مصنوعی سختی لا کر بولا تو وہ ناک بھوں چڑھا کر اسے دیکھنے لگی پھر بیڈ سے اٹھی اور انگلی اٹھا کر اُسے دھمکی دینے لگی۔۔۔
“آئی ڈونٹ کئیر تُم جیسا بھی رویہ سمجھوں مجھے تُم سے طلاق چاہیے ابھی یہ پیپرز تُم نے میرا مزاق اڑانے کیلئے ہی بنائی تھی نا تو اب تُم انہی پر سائن کر کے مجھے آزاد کرو گے۔۔!!
وہ بیڈ پر لیٹا اُسے ہی دیکھ رہا تھا اٹھا اور اُسے سختی سے دونوں شانوں سے پکڑ کر سخت غصے سے دیکھنے لگا۔۔
“جھوٹ تو تُم بول رہی ہوں اور کب سے مجھے جھوٹا کہہ رہی ہو طلاق کا نام سن کر میں نے تُمہاری آنکھوں میں وہ تکلیف دیکھا تھا جو طلاق دینے کا بولتے ہوئے مجھے تکلیف محسوس ہوا تھا تو اب کیوں طلاق مانگ رہی ہو ہاں۔۔؟؟
بری طرح سے جھنجھوڑ کر وہ سرد لہجے میں پوچھنے لگا صالحہ دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھی کھڑی اسکی نیلی سرخ آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کہ اسکی بات پر نظروں کا رخ بدل گئی تھی۔۔
“مجھے تکلیف نہیں ہو رہی ہے سنا تُم نے مجھے طلاق دے دو بس مجھے اب تُمہاری شکل نہیں دیکھنی۔۔۔!!
نظریں غصے سے اسکے چہرے پر گاڑھتے ہوئے اُسے کالر سے پکڑتی بری طرح سے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔۔۔
“ٹھیک ہے بے بی طلاق دے دو گا لیکن ایک شرط پر۔۔؟؟
اُسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر نظروں سے نظریں ملا کر کہنے لگا۔۔
“کیسا شرط۔۔۔؟؟
وہ اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو وہ اُسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگا کر نیچے کرتا مخمور آنکھیں اسکے چہرے پر گاڑھتے ہوئے اسے محبت سے دیکھنے لگا۔۔
“جاناں دو دن کا تمہارا ساتھ چاہیے۔۔!!
بھاری آواز میں اسکے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ اسکی بات پر کچھ دیر سوچنے لگی۔۔
“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے لیکن پھر تیسرے دن مجھے طلاق کے پیپرز پر تمہارے سائن چاہیئے۔!!
وہ اس سے دور ہوتی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر بولی تو اسنے اسکے ہاتھ کو پکڑا اور نرمی سے سہلانے لگا تو اسکی حرکت پر وہ اپنا ہاتھ کھینچ کر اس سے دور ہو کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“تمہارے پاس اڑتالیس گھنٹے ہے تو تُمہیں جو کرنا ہے مجھے جہاں لے کر جانا ہے تو جاؤں لیکن ٹھیک رات کے بارہ بجے مجھے تُم سے طلاق کے پیپرز پر تُمہارے سائن چاہیے۔۔!!
صالحہ کار میں اسکے بیٹھی اور سپاٹ لہجے میں اس سے کہنے لگی تو ضنافر نے مخمور آنکھیں اس کے گلابی چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا۔۔
“دیکھنا یہ ساتھ دو دن کا نہیں ہمشیہ کا ہوگا تُم خود کو روک نہیں پاؤ گی مجھ سے محبت کرنے سے اور تیسرے دن تُم مجھے طلاق کے پیپرز پر نہیں بلکہ میرے دل کے اوپر یہاں اپنے سائن کروں گی وہ بھی اپنے ان خوبصورت لبوں سے۔۔۔!!
اپنے سینے پر انگلی سے دستک دیتے ہوئے بھاری گھمبیر آواز میں کہتا اُسکے گالوں کو سُرخ اناری بنا گیا تھا۔۔۔
“شٹ اپ ایسا کبھی نہیں ہوگا اور یہ تُم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو۔۔؟؟
وہ سخت غصے سے بولتی کار سے باہر دیکھنے لگی تو سڑک پر سائن بورڈ پر لکھے مری لفظ کو پڑھتی حیرت سے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“ڈارلنگ کپل مری کیوں جاتے ہیں ہنی مون کے لیے نا ہم بھی اپنے ہنی مون پر جا رہے ہیں۔۔!!
ایک ہاتھ سے اسکے گالوں کو چھو کر وہ معنی خیزی سے بولا تو اسکی بات پر وہ شرم سے سرخ ہوتی نظریں چرانے لگی۔۔۔
“چلو ابھی کچھ کھا لیتے ہیں ورنہ پھر بعد میں تُمہیں میں موقع نہیں دو گا۔۔۔!!
کار کو ایک کنارے کھڑا کرتے ہوئے اُسے دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہنے لگا تو صالحہ اُسکی معنی خیزی سے کہنے پر وہ سٹپٹا کے پیچھے دروازے سے جا لگی۔۔۔
“مم۔۔۔مجھے پیزا کھانا ہے اور کسی ہوٹل میں نہیں آنلائن آدر کروں گے میں تب کھاؤ گی تمہارے ساتھ ورنہ بھول جاؤ کہ میں تمہارے ساتھ کھانا کھانے اس ہوٹل میں جاؤ گی۔۔!!
وہ دروازے کے ساتھ لگی نظریں نیچے جھکائے ہوئے کہنے لگی تو ضنافر حسن زیدی اسکے پیزا آدر کرنے کا حکم دینے پر شریر مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کار سے باہر نکلا اور آنلائن پیزا آدر کرنے لگا۔۔۔
“اب ایک گھنٹہ ہمارا ڈارلنگ یہی ویسٹ ہو جائے گا تو کیوں نہ کچھ کیا جائے۔۔۔؟؟
وہ کار میں آ کر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر گھبراہٹ کے مارے جلدی سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
“یہ تُم کیا کر رہی ہو میرا وہ مطلب نہیں تھا یار تُم کیوں میری باتوں کا غلط مطلب لیتی ہو۔۔!!
سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اسکے چہرے پر نظریں گاڑھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا اور وہ اسکے اس طرح دیکھنے پر خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی۔۔
“جاناں کیوں بار بار بھاگتی ہو مجھ سے کیا میرا چہرہ اتنا خوفناک ہے کہ تُم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہو پلیز میرے پاس رہوں میں اس وقت بہت ٹوٹ چکا ہوں اپنوں کی وجہ سے صرف اب تم ہو جس پر میں یقین کر سکتا ہوں۔۔۔!!
وہ اپنا چہرہ اُسکے چہرے کے بے حد قریب کرتا پیشانی سے پیشانی کو ٹچ کرتے ہوئے بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“تُم دور رہ کر بات کرنا کیوں پسند نہیں کرتے ہوں ہاں جب دیکھو اپنی طرف کھینچ کر بے شرموں کی طرح حرکتیں کرتے ہوں۔۔۔؟؟
اُسکے تیز ڈھرکنوں کی رقص کو سنتی وہ سخت گھبرا کر اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہوئی درشت لہجے میں کہنے لگی۔
“ڈارلنگ ابھی کہا دیکھی ہے تُم نے اپنے سرکار کی بے شرمی ابھی تو شریف ہو کر وہ اتنا بے شرم تھا تو سوچو بے شرم ہو کر کتنا بے شرم ہوگا۔۔؟؟
اُسکے لبوں کے قریب چہرہ کرتا زومعنی لہجے میں کہنے لگا تو صالحہ اُسے اپنے بے حد قریب دیکھ کر پیچھے ہٹی تو دروازے سے جا کر لگی تبھی اُسکے پاس کال آئی تو اسے سننے کے لیے وہ پیچھے ہوا اور اسے مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کال ریسیو کرتے ہوئے کار سے باہر نکلا۔۔۔
“یہ لوں پیزا۔۔!!
ایک باکس اسکے سامنے رکھتے ہوئے وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا جو اتنا چھوٹا سا پیزا کا باکس دیکھتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“یہ اتنا چھوٹا سا تُم کیا کھاؤ گے۔۔۔؟؟؟
وہ بوکس کو حیرت سے دیکھتی اُسے پوچھنے لگی تو وہ یکدم سے آگے بڑھا اور اسکے اوپر جھکا اُسکے اپنی طرف بڑھنے پر اور پھر جھکنے پر سٹپٹا کے پیچھے ہٹی۔۔۔
“شئیر کر کے کھائے گے ڈارلنگ۔۔۔!!
وہ باکس سے ایک پیس نکال کر پیچھے ہٹا اور ہنستے ہوئے بولا تو وہ اسکے پیچھے ہٹنے پر ایک گہری سانس خارج کرتی واپس ٹھیک ہو کر بیٹھی اور پیزا کھانے لگی۔۔۔
“اب تمہارے دو گھنٹے ویسٹ ہوگئے ہیں اور یہ تُم نے خود ہی برباد کر دیئے ہیں۔۔!!
وہ پیزا کھاتی مصروف انداز میں بولی تو وہ جو پیزا کم کھا رہا تھا اور دیکھ اسے زیادہ رہا کہ اسکی نظریں اُسکے لبوں پر پنیر لگا دیکھکر وہ اچانک سے آگے بڑھا اور اپنے لبوں سے اُسکے لبوں سے پنیر کو صاف کرنے لگا۔۔
“تُم اتنا شرما کیوں رہی ہو تُمہیں تو غصہ آنا چاہیے میری اس حرکت پر بیکاز تمہیں مجھ سے نفرت ہے۔۔؟؟
صالحہ اُسکی اِس حرکت پر گھبرا کر پیچھے ہٹی تو وہ شریر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“تُم کل رات بارہ بج کر ایک منٹ میں طلاق کے پیپرز پر سائن کروں گے تو میں اِس وقت تُم پر کیوں غصہ کروں ویسے بھی تُمہیں اِن سب چیزوں کا رائٹ ہے جو کرنا ہے کروں میں میرے ساتھ میں تُمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گی۔بیکاز میں آج اور کل رات بارہ بج کر ایک منٹ تک تمہاری بیوی رہو گی پھر بعد میں میں تمہاری بیوی نہیں رہوں گی لیکن تم اس وقت اپنی ان بے شرموں والی حرکتوں سے اپنا ہی ٹائم ویسٹ کر رہے ہو مجھے کیا۔۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی واچ اسکی نظروں کے آگے کرتی اسے وقت گزرنے کا احساس کرانے لگی توبجائے سیریس ہونے کے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنی طرف کھینچ کر خماری لیے آنکھوں سے بغور دیکھنے لگا پھر کیچر میں مقید اُسکے بالوں کو دوسرے ہاتھ سے کھولا اور کیپچر کو پیچھے پیسنجر سیٹ پر اچھال کر وہ اُسکے لمبے بالوں کو تھام کر اُنکی خوشبو کو سونگھنے لگا پھر اچانک سے اپنی شرٹ کی جانب ہاتھ بڑھا اُسنے ایک ایک کرکے سارے بٹنوں کو کھولا اور شرٹ اتارا اور پیچھے پیسنجر سیٹ پر پھینکا اور بے خودی سے آگے بڑھا اور اُسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اپنی شدتوں سے اُسکی تیز سانسوں کو اور بھی زیادہ بری طرح سے منتشر کرنے لگا۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہو تُم چھ۔چھوڑو۔۔۔؟؟
اُسکی بڑھتی گستاخیوں سے تڑپ کر خود کو اُسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی چیخ کر بولی جبکہ وہ اُسکے ہلنے پر اُسے سیٹ پر زور سے پس کرتا اسکے گلے سے اسکارف کو نکال کر اُسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے سیٹ پر سختی سے باندھنے کے بعد واپس اُسکے اوپر جھکا اور نرمی سے اُسکی پیشانی کو چھونے لگا۔۔
اوپر اٹھ کر ایک نظر اُسے دیکھتا وہ نیچے اُسکی ستواں ناک کو چھونے کے بعد دوبارہ سے اُسکے لبوں کو نرمی و محبت سے چھونے لگا اور پھر ایک سرشاری سا محسوس کرتا یکدم سے اُسکی انگلیوں میں اپنی انگلیوں کو پھنسا کر بے خودی سے اُسکی سانسوں کو شدت سے اپنی سانسوں میں بسانے لگا۔۔۔
اچانک سے باہر موسم اُسکی گستاخیوں کی طرح گستاخیاں کرنے لگی اور ٹھنڈی بوچھاڑ سے موسم ٹھنڈا ہوگیا تھا جبکہ کار کے اندر کے ماحول میں اسکی جان لیوا قربت میں تپش اپنے پورے انگ انگ میں محسوس کر رہی تھیں کہ یکدم سے وہ تیزی سے چلتی اپنے سانسوں کے درمیان سخت غصے سے اُسے خود سے دور کرتی چیخنے لگی۔۔۔
“تُم۔۔!!میں نے حق اس لیے تو نہیں دیا تھا کہ تُم جو مرضی میرے ساتھ کروں پیچھے ہٹو میرے پاس مت آنا ورنہ میں خود کو مار ڈالوں گی۔۔۔!!
وہ سُرخ آنکھوں اور سرخ چہرے کے ساتھ لبوں کو بری طرح سے رگڑتی ہوئیں نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی کرخت لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
“آئی ایم سوری تُم نے مجھے یاد کروا کر خود مجھے اپنے قریب آنے کو اکسایا اب اس میں میری کیا غلطی ہے میں ٹھہرا ایک مرد ذات اسی لیے تمہاری باتوں میں بہک گیا آئی ریلی سوری اب میں اس چیز کا بے حد خیال رکھوں گا۔!!
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر شرمندگی سے نظریں چرا کر اس سے کہنے لگا پھر ہاتھ پیچھے بڑھا کر اپنی شرٹ کو اٹھا کر پہنتے ہوئے وہ اُسکی طرف دیکھنے لگا تو اُسکے ہونٹوں کو دیکھنے لگا اور نظریں جب نیچے ہونٹوں کے کنارے سے بہتے ہوئے خون پر ٹھہری تو سخت پریشان ہوگیا اور شرٹ کے بٹنوں کو بند کیے بغیر آگے بڑھا اور رومال سے خون کو صاف کرنے لگا۔۔۔
“آئی ایم سوری جاناں میری وجہ سے تُمہیں تکلیف ہوئی۔۔!!
اپنی پیشانی کو اسکی پیشانی سے ٹچ کرتا اسکے دونوں نازک ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر وہ آنکھیں موندے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“مجھے تمہاری سوری کی ضرورت نہیں ہے مجھے نیند آ رہی ہے اور میں اب بہت زیادہ تھک چکی ہو اٹلی سے یہاں میں ابھی چار گھنٹے پہلے آئی تھی اور تم اب مجھے مری لے کر جا رہے ہو میں آج کے دن اتنا زیادہ سفر نہیں کر سکتی رحم کروں مجھ پر بے شرم انسان۔۔۔!!
وہ دونوں ہاتھوں کو اسکے آگے جوڑتی ہوئی کہنے لگی تو وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر نیچے اسکی گود میں رکھنے کے بعد کار اسٹارٹ کرتا اس ہوٹل کی جانب بڑھانے لگا جہاں اسنے اسٹے کرنے کے لیے بکنگ کروائی تھی۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“تُم یہاں کیوں سو رہے ہو جاؤ کہیں اور ٹھکانا ڈھونڈ لو سونے کے لیے بلکہ اس روم سے ہی نکل جاؤ۔۔۔؟؟
اُسے بھی بیڈ کے پاس کھڑے قریب آتے ہوئے دیکھتی وہ اچانک سے تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری اور چٹخ کر بولی۔۔
“یہ بیڈ میرے خیال سے اس کمپنی والوں نے ہم انسانوں کے سونے کیلئے ہی بنائی ہے تو پھر میں یہاں نہیں سوؤں گا تو پھر کہاں سوؤں گا۔۔؟؟
بیڈ کے اوپر گرنے والے انداز لیٹا لیکن بیڈ شاید کمپنی والوں نے اتنی مضبوط نہیں بنائی تھی جو اسکا وزن برداشت کر سکے دھرام سے سیدھا نیچے جا گری اور ضنافر حسن زیدی کو ٹوٹے ہوئے بیڈ پر دیکھتی وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔۔
“ہاہاہاہاہا مجھے تو یہ سوچ کر ہنسی آ رہی ہے مس صالحہ ضنافر حسن زیدی کہ اِس بیڈ کو کل صبح ہوٹل کا منیجر دیکھے گا تو ہمارے بارے میں کیا سوچے گا۔۔؟؟
وہ شریر نظروں سے اُسکے خوشگوار انداز کو دیکھتے ہوئے زومعنی لہجے میں بولا تو صالحہ اسکی باتوں کا مطلب سمجھتی شرم سے سرخ ہوتی ہنسی روک کر اب فکر مند ہوگئی تھی۔۔
“تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے یہ تو ہماری وجہ سے نہیں ٹوٹا بلکہ تمہاری اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے ٹوٹا ہے آئی مین یہ بیڈ جس کمپنی نے بنائی تھی دو نمبر چیزوں سے بنائی ہوگی اسی لیے تمہارا وزن برداشت نا کر سکا اور بے چارہ زمین بوس ہوگیا۔۔!!
وہ سخت پریشانی میں منہ میں جو آتا چلا گیا بولتی چلی گئی ہوش اسے اسکی معنی خیز گھوریوں سے آیا تو وہ ہڑبڑا کر جلدی سے تصحیح کرنے لگی۔۔۔
“یہ تو ہم دونوں جانتے ہیں ڈارلنگ کے کمپنی دو نمبری ہے اس ہوٹل کے لوگ تو نہیں وہ تو سمجھے گے کہ یہ کل رات ہماری خوبصورت نائٹ کو سیلبریٹ کرتے ہوئے ٹوٹا ہے۔۔!!
وہ بے باکی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو صالحہ اسکی بے باک نظروں سے سخت چڑتی ہوئی اسے زور سے پنچ مار کر غصے سے مڑی اور تیزی سے روم سے باہر نکلی اور باہر جا کر تیز برستی بارش میں بھیگنے لگی۔۔۔
“یار اب اس میں ناراض ہونے کی کیا بعد تھی ہاں اور چلو اندر میں نے مینجر سے بات کر لیا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ یہ بیڈ کمزور تھا اور پرانا بھی اسی لیے ٹوٹ گیا پلیز چلو اندر چلتے ہیں بہت تیز بارش ہو رہی ہے تم بیمار پڑ جاؤ گی۔۔۔!!
وہ بھی اسکے پیچھے ہوٹل کے سوئمنگ پول ایریے کی جانب بڑھا اور اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہنے لگا مگر وہ تو اسی طرح خاموش کھڑی دوسری طرف دیکھ رہی تھی تو وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“مجھے اکیلا چھوڑ دو بس اب میں تمہارے ساتھ ایک منٹ بھی رہنا نہیں چاہتی ہو مجھے طلاق چاہیے ابھی اور اسی وقت تم سے سنا۔۔۔!!
وہ یکدم سے پھٹ پڑی اور غصے سے کہتی چلی گئی جبکہ اسکی طلاق والی بات پر اسکے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جو بارش کے پانیوں کے ساتھ نیچے زمین پر ٹپک رہے تھے۔۔۔
“صالحہ میری جان تُم کیوں ضد کر رہی ہو چھوڑ دو یہ ضد پلیز میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر پلیز مجھے بے بس مت کروں۔۔!!
وہ نم آنکھوں سے بغور اسکا جائزہ لینے کے بعد نم آواز میں کہنے لگا جبکہ وہ شاید آج ظالم بننے کا قسم کھا چکی تھی جو بے رخی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میں یہ ضد نہیں چھوڑو گی مجھے طلاق چاہیے تو بس چاہیے۔۔۔!!
وہ سخت ضدی لہجے میں کہتی اسے گھورنے لگی جو سخت بے بس لگ رہا تھا اچانک سے وہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی محبت کی بھیک اس ظالم دشمن جاں سے مانگنے لگا۔۔
“پلیز صالحہ مجھے ایک موقع دو پلیز میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا مجھے اپنا لو مجھ سے زیادہ مجھ سے محبت کروں اپنی زندگی میں صرف مجھے خود تک محدود کر لوں۔۔۔!!
وہ روتے ہوئے گڑگڑا کر اس سے محبت کی بھیک مانگ رہا تھا جبکہ وہ سامنے کھڑی اپنے دل میں درد محسوس کرنے کے باوجود بھی ظالم بن رہی تھی لیکن اسکے لہجے میں نمی محسوس کر کے وہ ہار گئی شاید جو خود بھی بے آواز آنسو بہانے لگی تھی۔۔۔
“پتہ ہے جاناں دنیا کا سب سے خوفناک بھیک محبت کا ہے جو میں آج تُمہارے آگے اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر تمہارے ساتھ کا مانگ رہا ہوں پپ۔۔پلیز مجھے مایوس مت کرنا میں تُمہارا ساتھ اپنی آخری سانسوں تک چاہتا ہوں۔۔!!
دونوں ہاتھوں کو اُس کے آگے جوڑ کر وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے بھاری آواز میں بولا۔۔
صالحہ ضنافر حسن زیدی آج اُس شخص کی آنکھوں میں آنسو اور ہاتھوں کو فقیروں کی طرح اپنے آگے پھیلے ہوئے دیکھ کر آج وہ پہلی بار اپنی آنکھوں کے گوشوں کو بھیگتا ہوا شدت سے محسوس کر رہی تھی اپنا ایک ہاتھ بڑھا کر وہ اپنی آنکھوں کو چھونے لگی۔۔۔
“میں تُمہیں موقع دیتی ہو لیکن کل رات بارہ بج کر ایک منٹ تک کا اگر مجھے تم سے محبت ہوگئی تو میں تمہارا ساتھ قبول کروں گی اگر نہیں تو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی۔۔!!
وہ آگے بڑھی اور اسے شانوں سے پکڑ کر اوپر کھڑا کرتی ہوئی اس کی سانسوں میں ایک نئی روح پھونک کر قدم پیچھے کی جانب بڑھا گئی لیکن اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنی جانب کھینچا اور شدت سے اُسکی سانسوں کو اپنی گرم سانسوں میں مدہوشی سے بسانے لگا اور اس بار صالحہ نے اسے روکا نہیں بلکہ خود سپردگی کے انداز میں اسنے اپنے دونوں ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر رکھ دیئے اور دھرکتے دل کے ساتھ وہ اسکی شدتوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔
“جاناں آئی لو یو سو مچ بہت زیادہ چاہتا ہوں پتہ ہے میری محبت کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھیں ہمارے یونی سے وہاں مجھے تم سے محبت ہوئی تھی میں نے غصے میں اس دن تم سے جھوٹ بولا کہ میں تم سے محبت کا ناٹک کر رہا تھا لیکن وہ ناٹک نہیں تھا سب کچھ سچ تھا میرے جزبات فئیر تھے۔۔!!
اسے الگ کرتے ہوئے وہ بھاری آواز میں کہنے لگا تو صالحہ اسکی بات پر اُسے دیکھنے لگی جو اُسے ہی محبت سے دیکھ رہا تھا وہ پیچھے ہٹی اور ہوٹل کے اندر کی جانب تیزی سے بڑھی تو وہ بھی اُسکے پیچھے بڑھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓