47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
وہ روم میں داخل ہوئی تو سامنے زہاک کو ثمر سلطان کے کپڑے چھینج کرتے ہوئے دیکھتی اپنی ہنسی کو چھپا کر
انکی جانب بڑھی۔۔
“Samar Baby Relax…!!!
ثمر جو ٹی شرٹ نہیں پہن رہا تھا اور زور زور سے رو رہا تھا اپنے بابا کی بات پر اپنی موٹی موٹی آنکھیں ان پر تھکا کر انہیں دیکھنے لگا۔۔
“بابا ماما۔۔۔!!
جب پیچھے کھڑی ژالے پر ثمر کی نظریں پڑی تو وہ چہک کر زہاک سلطان کو پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جبکہ ژالے اُسکے منہ سے اپنے لیے ماما لفظ سن کر ساکت رہ گئی۔۔
“ثمر یہ آپ کی ماما نہیں ہے۔۔!!
زہاک سلطان پیچھے پلٹا تو لبوں کو سختی سے بھینچے سرد لہجے میں بولنے لگا کیونکہ وہ ژالے زہاک سلطان کے چہرے پہ سخت پتھریلی ثاترات دیکھ چکا تھا کہ ثمر کے ماما کہنے پر وہ سخت ناگوار محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“نو نو ڈیڈ یہ میری ماما ہے آپ ہے ناں میری ماما۔۔۔!!!
ثمر اب ضدی لہجے میں کہتا ان سے الگ ہوتا پیچھے ساکت کھڑی ژالے سے چپک کر اُسے پھر سے ماما کہنے لگا۔۔
ژالے اُس معصوم تین سال کے بچے کو دیکھنے لگی جو اپنی بھوری آنکھوں میں ایک آس لیے اُسے دیکھ رہا تھا اور اُس طرح وہ بہت کیوٹ بھی لگ رہا تھا لیکن وہ اُسے کوئی آس نہیں دلانا چاہتی تھیں اور نا ہی اُسے اپنا عادی بنانا چاہتی تھیں اسی لیے وہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس معصوم کو مایوس کرنے چلی ۔۔
“ثمر بی بی میں آپ کی صرف آنٹی ہو ماما نہیں ماما تو صرف ایک ہی ہوتی ہے جو آپ کے پاس ہے وہ دیکھیں۔۔!!
اُسکے سرخ گالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئی وہ سامنے ثمر زہاک سلطان کے روم میں دیوار پر آویزاں تصویر کی طرف اشارہ کرتی کہنے لگی تو ثمر کی نیلی آنکھیں اس تصویر پر جا کر ٹھہر گئی جبکہ زہاک سلطان کی بھوری آنکھیں اُس تصویر پر جا کر اُس عورت کی یاد آتے ہی وہ نفرت سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔
“No no this is not my mama my mama is you only you……”
(نہیں نہیں یہ میری ماما نہیں ہے میری ماما آپ ہے صرف آپ)…”
وہ فقط ابھی صرف تین سال کا تھا لیکن اِس وقت ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے ژالے کو وہ بیس سال کا لگا تھا جو سامنے دیوار پر آویزاں تصویر کو سخت نفرت سے گھور رہا تھا۔
اِس وقت باپ بیٹے کے چہرے پر ایک ہی ثاترات رقم تھے اُس عورت کی تصویر کو دیکھتے ہوئے لیکن ژالے اِن نفرت انگیز تاثرات کو پچھلے تین سالوں سے دیکھتی آ رہی تھیں لیکن آج تک سمجھ نہیں پائی تھیں کہ اگر اُس عورت کے ساتھ انکا رشتہ اب صرف نفرت کا ہے تو پھر اس عورت کی تصویر کو کیوں اُس انسان نے اپنے بیٹے کے بیڈ روم میں ابھی تک لگا رکھ رکھا ہے اور بیٹا بھی اپنی ماں سے اتنا نفرت کرتا ہے کہ وہ اپنے فیورٹ روم میں رہنا اس عورت کی تصویر کی وجہ سے کم کر چکا تھا۔۔
“ثمر مائے چائلڈ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ عورت آپکی ماں نہیں ہے اخر کیسے ہو سکتی ہیں جس نے اپنے معصوم ایک سال کے بیٹے کو اس وقت چھوڑا جب اُسے سب سے زیادہ ضرورت اّسکی تھیں لیکن وہ اپنے بچے کو روتے بلکتے ہوئے چھوڑ کر اپنی ایک نئی دنیا جا بھسائی صرف اسلئے کیونکہ آپکا ڈیڈ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ غیر مردوں کے ساتھ باہر نا جائے پارٹیز اٹینڈ نا کرے صرف اِسی وجہ سے وہ تمہیں اپنے ایک سال کے بیٹے کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔!!
وہ ضبط سے سرخ آنکھوں کو ثمر کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ ژالے ساکت نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو ایسی باتیں بلکہ اسکے سامنے اس کی ماں کے بارے میں سخت الفاظ کہہ رہا تھا۔۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں معصوم بچے کے ذہن میں اُسکی ماں کا خاکہ کیوں خراب کر رہے ہیں جانتے ہیں آگے کیا ہوگا آپ کا بیٹا اپنی ماں سے نفرت کرے گا۔۔۔!!!
ژالے شدید غصے سے آگے بڑھی اور اُس مضبوط شخص کو اُسکے شانوں سے پکڑ کر جھنجوڑ کر تیز آواز میں بولی۔۔
“میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا اُس عورت سے مجھ سے بھی زیادہ نفرت کرے پتہ ہے کیوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ بعد میں میرے جانے کے بعد وہ عورت لالچ میں آ کر میرے بیٹے سے اسکا سب کو نا چھین لیں۔۔۔!!
وہ بھی شدید طیش میں آکر چیخا تو ژالے ڈر کر پیچھے ہوئی جبکہ ثمر سامنے نفرت سے تصویر کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ صرف اس لیے ایک بیٹے کے ذہن میں اسکی ماں کے لیے نفرت ڈال رہے ہیں کیونکہ وہ لالچی ہیں۔۔؟؟
ژالے سرخ آنکھوں سے زہاک سلطان کو دیکھتی ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھنے لگی۔۔
“ہاں میں اسی وجہ سے نفرت پیدا کر رہا ہوں اسکے دل و دماغ میں اور پتہ ہے یہ تصویر میں نے کیوں ثمر کے روم میں لگائی ہے۔۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا سامنے دیوار پر آویزاں تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اس لیے تاکہ میرا بیٹا روز اس عورت کو دیکھ کر عورت کی پہچان کر سکے کے شاطر عورتیں کس طرح کی ہوتی ہیں۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے ژالے کو دیکھنے لگا تو ژالے اُسکے ایسا دیکھنے سے خود کو بھی اُسکی نظروں میں ایک مکار شاطر عورت لگی لیکن زہاک سلطان کے جلدی سے نظریں پھیرنے پر وہ خود کو سنبھالتی ہوئی پیچھے ہٹی۔۔
“آپ ٹھیک نہیں کر رہے ثمر کے ساتھ وہ ابھی چھوٹا بچہ ہے اور آپ اسکی ماں سے نفرت کرانا سیکھا رہے ہیں اور اب تو مجھے لگنے لگا ہے کہ آپ مجھے بھی اسکی طرح سمجھتے ہیں مکار دھوکے باز عورت۔۔!!
وہ نرمی سے بولی تو زہاک عباس سلطان اسکے آخری لفظوں پر ٹھہرا اور پھر سمجھ میں آتے ہی وہ شدید غصے سے ثمر کے سامنے سے اٹھا اور اسے کلائی سے دبوچتے ہوئے اسے لیے روم سے باہر نکلا۔۔
“چھ۔چھوڑے مجھے پلیز مم۔مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
وہ کلائی پر دباؤ کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتی تڑپ کر بولی لیکن وہ اسکی سنے بغیر اسے کھینچتا ایک خالی بیڈ روم میں لے کر آیا اور ژالے اس روم کو دیکھتی حیرت سے زہاک عباس سلطان کو دیکھنے لگی کیونکہ اس روم میں جانے کی آج تک کسی کو اجازت نہیں دی تھی زہاک عباس سلطان نے اور آج وہ خود ہی اسے اس روم میں لے کر آگیا تھا۔۔
“وہ عورت میری ماما کی بھول تھیں اور میرے لیے ایک گالی جبکہ تم ژالے زہاک سلطان تم میری خوبصورت بھول تھیں جو کب نسوں میں نشہ بن کر گھول گئی مجھے پتہ ہی نا چلا۔۔!!
دونوں ہاتھوں کو ژالے کے چہرے پر رکھتے ہوئے وہ سر ماتھے سے لگا کر گھمبیر لہجے میں بولا جبکہ پہلی بیوی کے لیے اسکے لہجے میں صرف نفرت ہی نفرت محسوس کر سکی ژالے۔۔
“ایسا کیا کیا تھا جمائمہ نے آپ کے ساتھ جو آپ اس سے اتنی نفرت کرتے ہیں اور یہ سب۔۔!!
اسکے ہاتھ اپنے گالوں سے ہٹا کر جمائمہ (زہاک سلطان کی پہلی بیوی) کے متعلق پوچھنے کے بعد کمرے میں اپنے بچپن سے لے کر جوانی کی تصویروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“میں اُس عورت کو یاد کرنا نہیں چاہتا میں صرف تمہیں سوچنا چاہتا ہوں چاہنا چاہتا ہوں وہ میری ماضی تھی اور تم میرا حال ہو ژالے زہاک سلطان۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور اُسکے نرم و ملائم سرخ اناری گالوں کو ہاتھ کی پشت سے چھوتا بوجھل لہجے میں بولا جبکہ ژالے اسکے بے ساختہ چھونے پر شدت سے کانپ کر رہ گئی تھی۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
سارب ضنافر زیدی کے ساتھ بیٹھا مسکرا کر اسکے ساتھ بات کر رہا تھا وہ دونوں ابھی ابھی ریس کے ختم ہوتے ہی کینٹین میں کچھ کھانے پینے کے لیے آئے تھے۔۔
“سارب یار ویسے تُم بھی ایک اچھے ریسر ہو پھر تُم جوائن کیوں نہیں کرتے ریس کو ہمممم۔۔۔!!
ضنافر زیدی پیپسی کی بوتل کو منہ سے لگاتے ہوئے ایک گھونٹ بھر کر بوتل سائید پر رکھتے ہوئے اُسے سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
“ضناف یار میرا دل بہت چاہتا ہے بٹ آپی نہیں چاہتی کہ میں کوئی ریس ویس میں حصہ لو اور اگر میں نے لے بھی لیا تو زہاک بھیو زندہ نہیں چھوڑے گے۔۔!!
وہ انرجی ڈرنکس کی بوتل کو سامنے ٹیبل سے اٹھاتا منہ بنا کر بولا جبکہ ضنافر زیدی صالحہ عرفان سلطان کا ذکر سن کر خوبصورتی سے مسکرایا۔۔
“یار سارب یہ سلطان خاندان کیا پیدائشی سنگدل ہے یا ابھی زیدی سے دشمنی کا ہاتھ ملانے کے بعد ہوئے ہیں۔۔!!
بوتل کو گھماتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا تو سارب سلطان اسکی بات پر بری طرح چڑ گیا اور اپنے ہاتھ میں تھمی بوتل کو زور سے ٹیبل پر پٹک کر وہ سامنے پروفیسر زاکر کے آفس کی طرف جاتی سیرت عباس سلطان کو اپنے دونوں بھنویں سکیڑ کر غصے سے دیکھنے لگا اچھے سے جانتا تھا پروفیسر زاکر کس کریکٹر کا انسان ہے۔۔
“ضناف یار تُم میرا تھوڑا سا ویٹ کروں میں ایک کام نبٹا کر ابھی فوراً آتا ہوں۔۔!!
وہ سپاٹ نظروں سے پروفیسر زاکر کے آفس کو گھورتے ہوئے ضنافر زیدی سے کہنے لگا ضنافر جو اُسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ چکا تھا کہ معاملہ کیا ہے اسی لیے مسکرا کر اسے سر ہلا کر جانے کا کہنے لگا اور وہ اب اچھے سے جانتا تھا کہ پروفیسر زاکر جو انکی ہی عمر کا تھا آج یا تو اپنا ناک توڑ کر جائے گا یا پھر پیر۔۔۔
“سارب جگر زرا کم ہاتھ چلانا یہ یونی ورسٹی کا معاملہ ہے کہے مر مرا گیا نا تو یونی سے ڈین دھکے مار مار کر ہمیں باہر نکال دے گے الگ پولیس اسٹیشن کی سیر الگ کروائے گے۔۔!!
ضنافر زیدی نے پیپسی کی بوتل کو دور اچھالتے ہوئے ہنس کر کہا تو سارب عرفان سلطان اسے پہلی بار گھورنے لگا دونوں کلاس فیلو کے ساتھ جگری دوست بھی تھے اور ایسا مزاق تو ہمشیہ سے دونوں کے درمیان چلتا رہتا تھا۔۔
“وہ مر بھی گیا نا آئی ڈونٹ کئیر مجھے کوئی پرواہ نہیں فکر صرف مجھے اپنے خاندان کی عزت کا ہے جو اِس وقت اس مردود کے پاس موجود ہے۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا قدم آفس کی طرف بڑھانے لگا تو ضنافر زیدی نے کندھے پھیلا کر کرسی سے ٹیک لگایا اور پھر ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکا چھوڑا ہوا انرجی ڈرنکس کو وہ پینے لگا۔۔
دوسری طرف سیرت جو پروفیسر زاکر کے بلانے پر اس کے آفس میں صوفے پر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی جو کچھ کام میں مصروف لگ رہا تھا تبھی وہ فائل سے نظریں ہٹا کر اس پر ڈالتا مسکرایا اور اپنی کرسی کو پیچھے کھسکا کر اٹھا اور صوفے کی جانب بڑھا سیرت جو نظریں جھکائے اپنے نوٹس کو دیکھنے میں مگن تھی وہ اُسکی نیت نہیں دیکھ سکی اسکی آنکھوں میں حوس نا پڑھ سکی۔۔
“مس سیرت کلاس میں لیکچر کے دوران آپ کیوں مجھے ڈسٹرب کرتی ہے وائے۔۔۔؟؟
صوفے پر بلکل اسکے ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے وہ کمینگی سے بولا سیرت جو پروفیسر کو اپنے بے حد قریب دیکھتی سٹپٹا کے جلدی سے دور ہوئی۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں کیوں آپ کو ڈسٹرب کروں گی سر۔۔!!
وہ صوفے کے آخری سرے سے لگ کر تھر تھر کانپتی اب پروفیسر کی آنکھوں میں حوس کو شدت سے پڑھنے لگی۔۔
“تُم زور کرتی ہو ڈسٹرب اور اب مکر رہی ہو ناٹ فئیر ڈئیر۔۔!!
وہ سرخ اناری گالوں پر چٹکی بھر کر خباثت سے بولا سیرت اُس گھٹیا حرکت پر غصے سے سرخ ہونے لگی اور سارب جو ابھی آفس کے اندر دندناتے ہوئے غصے سے داخل ہوا اور اسے جا کر زور دار پنچ رسید کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہاؤ ڈئیر یو بچ ہمت کیسے ہوئی تُمہاری ہاں اُسے چھونے کی دیکھنے کی بولو..!!
غصیلی آواز میں کہتا وہ اُسے سیرت سے الگ کرتا اوپر اٹھا کر زور سے ٹیبل پر پٹک کر مارنے لگا اور زاکر زور سے ٹھوکر کھانے کی وجہ سے کراہ کر رہ گیا تھا۔۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے پروفیسر ہے میرا سنا نہیں تُم نے چھوڑو اسے پاگل انسان۔۔!!
سیرت جو کب سے خوفزدہ کھڑی تھی اپنے ہی پروفیسر کی اصلیت جان کر وہ شاکڈ ہوئی تھی لیکن سارب کو اسے بری طرح سے پیٹنے پر وہ اب سچ میں ڈر گئی کیونکہ جو بھی اس پروفیسر نے کیا تھا لیکن تھا تو وہ اس یونی ورسٹی کا پروفیسر اگر اسے کچھ ہو جاتا تو سارب عرفان سلطان کو اس یونی ورسٹی سے باہر نکالنے کے ساتھ ساتھ اسے جیل بھی ہو جاتی اور پھر اسکا سارا کیریئر برباد ہو جاتا صرف اس گھٹیا انسان کے قتل کی وجہ سے اور وہ یہ نہیں چاہتی تھی۔۔
“عزت ہو تُم میری سیرت عباس سلطان سارب عرفان سلطان کی دشمن ہونے کے ساتھ ساتھ تُم عزت بھی ہوں اسکی اگر تُمہیں کوئی غلط نگاہوں سے دیکھے گا تو اُسکی آنکھوں کو اگلے دن سورج دیکھنے کے لائق نہیں چھوڑو گا۔”
سرد منجمد کر دینے والے لہجے میں کہتا وہ اس وقت ایک پاگل اور شدت پسند انسان لگ رہا تھا جو اپنی عزت پر غلط آنچ بھی برداشت نا کر سکتا تھا ایسا پاگل دِھک رہا تھا جو ابھی سب کچھ تہس نہس کر دینا چاہتا ہوں۔۔
“اوکے کول ڈاؤن دیکھو اگر اسے کچھ ہوا تو تُمہیں یونی سے نکال دے گے اور پھر تمہارا کیریئر تباہ ہو جائے گا۔۔!!
سیرت نے آگے بڑھ کر اسے کول ڈاؤن کرنا چاہا لیکن وہ اسکی بات پرسکون ہونے کے بجائے اور زیادہ بگڑنے لگا۔۔۔
“مجھے کوئی پرواہ نہیں نا ہی اپنا اور نا ہی اپنے کیریئر کا اِس نے میرے گھر کی عزت کو بری نظروں سے دیکھا میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔۔!!
وہ اسے مارنے کے لیے دوبارہ آگے بڑھا تو سیرت نے اسے روکا اور کھینچتے ہوئے آفس سے باہر نکلی اور ایک پرسکون گوشے میں لا کر اسے چھوڑتی آرام سے گویا ہوئی۔۔۔
“مجھے پتہ ہے تُم اس وقت ہائپر ہو لیکن ٹھنڈے دماغ سے سوچو بلکہ روکو میں ابھی آتی ہو اب کہے مت جانا ورنہ میں زہاک بھیو سے تُمہاری شکایت لگاؤ گی کہ تُم زیدی خاندان کے سپوت کے ساتھ دوستی نبھاتے پھر رہے ہو۔۔!!
اسے مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے اب اسنے اسی بات کا سہارا لیا کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ ضنافر زیدی کی دوستی کسی قیمت پر نہیں کھو سکتا تھا۔۔
“ہمممم میں نے تُمہیں انگلی کیا پکڑایا تم نے تو میرا پورا ہاتھ پکڑ لیا اب تُم مجھے دھمکی دو گی اس بات کو لے کر میں نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے اور تُمہیں کیا ضرورت تھی اس کے آفس میں اکیلے جانے کی ہاں۔!!
وہ طیش سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر ڈھارا تو سیرت تعمل سے اسکی بات سن رہی تھی آخری لفظ سن کر وہ سخت غصے سے اسے گھورنے لگی۔۔
“مجھے بھی کوئی شوق نہیں تھا اُس پروفیسر کے روم میں اکیلے جانے کا ضروری نوٹس دینے کیلئے گئی تھی اور نوٹس میں کلاس میں دینا چاہتی تھی لیکن اسنے مجھے خود وہاں بلایا تھا۔۔”
وہ سخت چڑتی ہوئی بولی۔۔
“تُم بہری ہو یا پھر اندھی بتاؤ مجھے ہاں پوری یونیورسٹی میں مہشور ہے کہ وہ ایک برا اور گھٹیا انسان ہے پھر بھی اکیلے ہی چلی گئی اور مجھے تو یونی ورسٹی انتظامیہ پر حیرت ہے اس طرح کے پروفیسر کو کیوں باہر نہیں نکالتے جب کہ پتہ ہے کہ وہ کیا کرتا پھر رہا ہے۔۔!!
سختی سے شانوں پہ گرفت مضبوط کرتا وہ اُسے جھنجھوڑ کر غصے سے بولا۔۔
“مجھے کیا پتہ وہ اتنا گھٹیا نکلے گا میں تو اُسے اپنا استاد سمجھ کر وہی درجہ دے رہی تھی لیکن وہ تو استاد کے نام پر دھبہ ہے۔۔!!
حقارت سے پروفیسر زاکر کے بارے میں کہتی وہ اب اُسے گھورنے لگی اور صبح کے زہاک بھیو کی ڈانٹ کو یاد کرتے ہی تھپ کر بولی۔۔
“تُمہیں شاید صبح والی ڈانٹ یاد نہیں ہے بھیو کی اور دھمکی بھی۔۔!!
وہ اُسی یاد کروانے کے ساتھ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگی اب کہ اسکے چہرے پر اسکے لیے فکر مندی نہیں بلکہ تمسخر تھا جو سارب عرفان سلطان سے برداشت نا ہو سکا اور صبح کے کارنامے کو جل کر دوبارہ سے یاد کرنے لگا۔۔
“ماما۔۔۔؟؟؟؟
سیرت جو ٹیبل پر بیٹھی تھی اور سامنے اپنے بھیو اور ژالے بھابھی کو دیکھ کر بڑے ہی معصومیت اور اچھی بچیوں کی طرح ناشتہ کر رہی تھیں لیکن اُس سفید جنگلی بندر کی چیخ سن کر سر مزید جھکا کر شریر مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مزے سے ناشتہ کرنے لگی وہ تینوں آج چھوٹے چاچو کے کہنے پر ناشتہ کرنے انکے پورشن میں آئے تھے۔۔
سارب عرفان سلطان اُس چڑیل کو مزے سے ناشتہ کرتے دیکھ سخت جل بھن گیا مگر زہاک بھیو کی موجودگی میں ضبط کے گھونٹ پی کر مٹھیوں کو بھینچتے ہوئے پیر پٹک کر وہاں سے کچن کی جانب بڑھا۔۔
“ماما میرے روم میں ابھی ایک کالی اور گندے دانتوں والی زہریلی چڑیل آئی تھیں اور اُس چڑیل نے اپنے گندے ناخنوں اور دانتوں سے میری ساری فیورٹ شرٹ کو کاٹ کاٹ کر اپنے لیے شاید ایک ڈریس بنائی ہوگی جو میری ساری شرٹ روم سے غائب ہے۔۔!!
سارب عرفان سلطان نے زور سے کہتے ہوئے باہر ڈائننگ ہال میں ٹیبل پر سر جھکا کر ناشتہ کرتی سفید چڑیل کو سخت گھورا جو اُسکی چڑیل کہنے پر اپنی گرے آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے کچا چبا جانی والی نظروں سے گھورنے لگی بدلے میں سارب نے بھی اُسے تھیکی چتونوں سے گھورا ۔۔
“سارب مجھے ابھی تنگ مت کرو جاؤ شاباش ناشتہ کروں۔۔!!
شرمین سلطان (سارب سلطان کی ماں) نے اپنے بیٹے کی بچوں کی طرح منہ پھولنے پر سخت چڑ کر بولی۔۔
“ماما میں نہیں کر رہا اُس سفید چڑیل کے ساتھ ایک ٹیبل پر ناشتہ۔۔!!
اپنے براؤن آنکھوں سے اُس سفید چڑیل کو گھورتا وہ نخوت سے بولا تو سیرت اُس سفید جنگلی بندر کو ناک بھوں چڑھا کر دیکھنے لگی۔۔
“ماما آج یہ چڑیل اور اسکا بھائی یہاں ہمارے پورشن میں کیوں ناشتہ کرنے آئے ہیں کیا آپ کے دعوت دی ہے انہیں اور یہ آپی کہاں ہے۔۔؟؟
وہ سیب اٹھا کر دانتوں سے کاٹتے ہوئے اپنی ماں سے ہلکی آواز میں پوچھنے لگے کیونکہ سامنے زہاک عباس سلطان جو تھا وہ کیسے اسکے سامنے یہ سب پوچھتا ورنہ وہ ہٹلر کا جانشین اسے کہے مار ہی نا ڈالے۔۔
“بدمعاش یہ تُم کیا کہہ رہے ہو وہ بڑا ہے تم سے اور یہ چڑیل کس کو کہہ رہے ہو وہ چھوٹی بہن ہے تمہاری تمیز سے نام لو اس پیاری بچی کا ورنہ یہ چمٹا تم دیکھ رہے ہو نا میں اس سے تمہاری دھلائی کروں گی۔۔!!
وہ چمٹے سے اسے ڈراتی ہوئی بولیں تو سارب انکی بات پر منہ بنا کر رہ گیا۔۔
“ایک تو سلطان فیملی کے بڑے ظالم تو چھوٹے مظلوم ماما وہ صالحہ آپا بھی تو ہے وہ مجھے جنگلی ریچھ کہتی ہے اور آپ نے تو کبھی انہیں چمٹا یا بیلن کا ڈراوا نہیں دیا یہ ڈراوا صرف میرے ہی لیے وائے۔۔!!
وہ خفگی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“پہاڑی ریچھ وہ اس لیے کیونکہ تم آجکل جس پاک دوست کے ساتھ پھرتے ہو نا اسکی وجہ سے مار کھاتے ہو گھر آکر اب بھی وقت ہے اس انسان سے دوستی ختم کر دو۔۔!!
صالحہ کچن میں داخل ہوتی اسکی بات سننے کے بعد ہلکی آواز میں طنزیہ بولی تو سارب اسکی بات پر اسے تیز نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“آپی آپ اسے کچھ نہیں کہے گے وہ میرا اکلوتا جگر ہے۔۔!؟
وہ غصے سے بولا تبھی پیچھے سے گھمبیر آواز پر وہ دونوں خاموش ہوگئے۔۔
“سارب آجکل تُم بہت بدتمیزی کرنے لگے ہو زرا اپنی عادتوں کو سدھارو ورنہ میں سدھارنے پے آیا تو یہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا اور ہاں تم بھی سیرت دونوں بچوں کی طرح لڑنے سے اب پرہیز کیا کروں ورنہ میں تم دونوں کو ایک ویک تک شرارتی بچوں کے پاس چھوڑ آؤ گا انکی کئیر کرنے کے لیے تم دونوں کو گوٹ اٹ۔۔!!
زہاک سلطان نے سیرت اور سارب دونوں کو دھمکی دیتے ہوئے سخت گیر لہجے میں کہا تو دونوں ادب سے سر جھکا کر سر جلدی سے ہلانے لگے کہ وہ سمجھ گئے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔
“او ہیلو کہا کھو گئے تم۔۔؟؟
چٹکی بچا کر اسے واپس حال میں لوٹا کر سیرت نے تیز نظروں سے اسے گھورا جو کب سے بری بری شکلیں بنا رہا تھا۔۔
“ہاں کیا ہوا۔۔؟؟
چونک کر وہ خالی نظروں سے پہلے تو سیرت کو دیکھنے لگا جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ یہاں کیوں کھڑی ہے۔۔۔۔
پھر کچھ دیر کا پہلے کا واقع یاد آتے ہی وہ اسے سخت شعلے برساتی نظروں سے گھورتا وہاں سے چلا گیا اور وہ پیچھے کھڑی اسکی چوڑی پشت کو گھورتی ہی رہ گئی۔۔